Baaghi TV

Tag: فلسطین

  • اسرائیل میں ہلاکتیں 700،دس نیپالی طلبا بھی ہلاک،ڈانس پارٹی کے مقام سے ملی 260 لاشیں

    اسرائیل میں ہلاکتیں 700،دس نیپالی طلبا بھی ہلاک،ڈانس پارٹی کے مقام سے ملی 260 لاشیں

    ہفتے کو حماس کی جانب سے اسرائیل پر ہونے والے حملوں کے بعد سے لڑائی اب تک جاری ہے، اسرائیل نے بھی جوابی کاروائی کی ہے، حماس کے حملوں میں 700 سے زائد اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں تو وہیں اسرائیلی حملوں میں 450 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں

    اسرائیلی فوج نے غزہ پر حملے کی منصوبہ بندی کر لی ہے، اسرائیلی فوج نے 20 مقامات پر ٹینک اور بھاری توپ خانہ غزہ کے قریب پہنچا دیا ہے، اسرائیلی فوج جب غزہ کے قریب پہنچی تو اسرائیلی شہریوں نے اپنے پرچم اٹھا کر اسرائیلی فوج کا استقبال کیا،

    حماس کے حملے میں نو امریکی شہری بھی مارے گئے ہیں،نو امریکی شہریوں کی موت کی امریکہ نے تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ کئی امریکی شہریوں کو یرغمال بنایا گیا ہے، امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملرکاکہنا تھا کہ تین دن بعد آج ہم نو امریکی شہریوں کے قتل کی تصدیق کر سکتے ہیں

    خواتین اور بچوں کی رہائی،قطر میدان میں آ گیا،حماس سے رابطہ
    اسرائیلی خواتین اور بچوں کی رہائی کے لیے قطر میدان میں آ گیا، قطری ثالثوں نے حماس سے رابطہ کیا ہے تا کہ حماس کے ہاتھوں غزہ میں قید اسرائیلی خواتین اور بچوں کی رہائی کے لیے بات چیت کی جا سکے۔رائٹر نے دعوی کیا ہے کہ حماس سے کہا گیا ہے کہ اسرائیلی خواتین اور بچوں کی رہائی کے بدلے اسرائیلی جیل میں قید 36 فلسطینی خواتین اور بچوں کی رہائی کے لئے بات چیت کی جائے گی،

    قطر کی وزارت خارجہ نے رائٹرز کو تصدیق کی ہے کہ وہ حماس اور اسرائیل کے ساتھ ثالثی کے طور پر کام کر رہے ہیں،ہم مذاکرات کر رہے ہیں جس میں قیدیوں کی رہائی شامل ہے، ہماری ترجحات خونریذی کا خاتمہ بھی ہے، قطری وذارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے یہ بات کہی.

    ہلال احمر کی ایمبولینس گاڑیاں بھی اسرائیلی حملے کا نشانہ
    اسرائیل کی جانب سے ایمبولینسوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہےہلال احمر سوسائٹی کی تین ایمبولینس گاڑیاں اسرائیلی حملے کی زد میں آئی ہیں، ہلال احمر کے ترجمان بشار مراد کا کہنا ہے کہ ایمبولینسوں میں سوار عملے کی بھی موت ہوئی ہے،اب تک ایک لاکھ بیس ہزار سے زائد افراد کو پناہ گاہوں کی ضرورت ہے جو بے گھر ہو چکے ہیں، ہسپتال بھر چکے ہیں،زخمیوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، ایک ہسپتال میں زخمی کو لے کر جاتے ہیں تو وہاں جگہ نہیں ہوتی اسلئے پھر دوسرے کی جانب جانا پڑتا ہے، اسرائیل روزانہ بیس گھنٹے سے زائد عرصے کے لیے بجلی کاٹتا ہے، "جو زخمیوں کے علاج میں رکاوٹ بنتا ہے،

    حماس کے حملے میں ہزاروں اسرائیلی زخمی بھی ہو ئے ہیں، اسرائیل کی جانب سے بھی بھرپور جواب دیا جا رہا ہے، اسرائیلی وزیراعظم نے اتوار کو باضابطہ جنگ کا اعلان کر دیا اور کہا کہ حماس کو اس کی اتنی بھاری قیمت چکانی پڑ گی جس کا اس نے سوچا بھی نہیں ہو گا،امریکہ نے اسرائیل کو ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کاروائی ہے،

    حماس کے حملے میں دس نیپالی طلبا بھی ہلاک
    میڈیا رپورٹس کے مطابق حماس نے حملوں کے بعد اسرائیلی شہریوں‌کو یرغمال بھی بنایا ہے، حماس کے مجاہدین گھروں میں گھسے اور اسرائیلیوں پر حملے کئے، یہ ایسا پہلی بار ہوا کہ حماس نے اتنی طاقت سے حملہ کیا ،کہ اسرائیل سمیت کسی کو بھی حملے سے قبل خبر تک نہ ہوئی،حماس نے اسلامی ممالک اور تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس جنگ میں انکا ساتھ دیں،حماس کے اس حملے میں نیپال کے 10 طلبا بھی ہلاک ہوئے ہیں،یوکرین کی ایک خاتون کی بھی موت ہوئی ہے،

    میڈیا رپورٹس میں کہا جا رہا ہے کہ ایران کی مدد کے بغیر حماس حملہ نہیں کر سکتا ،تا ہم ایران نے تردید کی، اقوام متحدہ میں ایران کے مشن نے اس حوالہ سے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ہم فلسطین کی حمایت میں مضبوطی سے کھڑے ہیں تاہم ہم فلسطین کے اقدام میں شامل نہیں ہیں کیونکہ یہ صرف فلسطین کا فیصلہ ہے،

    اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ حماس کے حملے اور اسرائیل کی جوابی کاروائی کے بعد غزہ میں بے گھر ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، غزہ میں اب تک ایک لاکھ 23 ہزار 538 افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جس کی بڑی وجہ خوف، عدم تحفظ اور گھروں کا تباہ ہونا ہے، اسرائیلی فوج نے بے گھر افراد جہاں مقیم تھے وہان بھی بمباری کی،کئی سکول تباہ ہو چکے ہیں، سکولوں میں بے گھر افراد نے پناہ لی ہوئی تھی ، اب انہیں کھلے آسمان تلے رہنا پڑ رہا ہے،

    ڈانس پارٹی کے مقام سے ملی 260 لاشیں
    ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اسرائیلی فوج اور حماس کے مابین چھ مقامات پر جھڑپیں ہو رہی ہیں،ڈانس پارٹی میں جانے والے بھی حماس کے حملوں کا نشانہ بن گئے ہیں، ڈانس پارٹی پر حماس کے حملے کے وقت موجود ایک عینی شاہد کا کہنا ہے کہ میں نے ہر طرف سے گولیوں کی آواز سنی، وہ دونوں طرف سے فائرنگ کر رہے تھے، سب بھاگ رہے تھے لیکن یہ نہیں جانتے تھے کہ جان بچا کر کہاں جائیں، ہر طرف افراتفری تھی،ہم ایک کار میں سوار ہو کر فرار ہوئے، کئی گھنٹے ایک ہی جگہ پر چھپے رہے،کار میں آگ لگی تو پیدل بھاگنا پڑا، اس ڈانس پارٹی کے مقام سے 260 لاشیں ملی ہیں،

    اتوار کی شب اسرائیلی وزارت صحت نے حماس کے حملوں میں ہونے والے زخمیوں کے بارے میں اعدادوشمار جاری کرتے ہوئے کہا کہ کم ازکم 2243 افراد زخمی ہیں،

    اسرائیل کا دفاعی نظام اس حملے کو روکنے میں کیوں ناکام رہا؟
    ایک بات حیران کن اور ابھی تک کسی کو بھی نہیں سمجھ آ رہی کہ اسرائیل کا دفاعی نظام اس حملے کو روکنے میں کیوں ناکام رہا؟ اسرائیل کو اس حملے کی خبر کیوں نہ ہو سکی، اسرائیلی دفاعی نظام پر سوال اٹھ رہے ہیں ، بی بی سی نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ آئرن ڈوم ان متعدد میزائل شکن نظاموں میں سے ایک ہے جو اسرائیل میں اربوں ڈالر لگا کر نصب کیے گیے ہیں یہ نظام ریڈار کی مدد سے اس کی جانب داغے گئے راکٹس کو ٹریک کرتا ہے اور ان کو روکنے کے لیے انٹرسیپٹ کرنے والے میزائل داغتا ہے۔آئرن ڈوم کی بنیاد سنہ 2006 میں اسرائیل اور جنوبی لبنان میں موجود حزب اللہ کے درمیان کشیدگی کے وقت رکھی گئی تھی حزب اللہ نے ہزاروں راکٹ داغے تھے جس سے اسرائیل میں کافی مالی نقصان ہوا اور درجنوں اسرائیلی بھی مارے گئے ایک سال بعد اسرائیل کی ریاستی دفاعی کمپنی رفائل ایڈوانس سسٹمز نے اعلان کیا تھا کہ وہ ایک نیا میزائل شکن دفاعی ڈھال کا نظام تیار کریں گےاس پروجیکٹ کے لیے امریکہ نے 20 کروز ڈالر بھی دیے تھے کچھ برسوں کی تحقیق کے بعد یہ نظام سنہ 2011 میں پہلی مرتبہ جنگی حالات میں ٹیسٹ کیا گیا جب اس نے جنوبی شہر بیرشیبہ پر داغا گیا ایک راکٹ مار گرایا تھا

    اب سوال اٹھتا ہے کہ سال 2011 سے اسرائیل کی راکٹوں سے حفاظت کرنے والے آئرن ڈوم کے اب ناکام ہونے کا سبب کیا ہے؟ دراصل جدید نظام ہونے کے باوجود آئرن ڈوم کی کچھ کمزوریاں بھی ہیں آئرن ڈوم غزہ سے داغے جانے والے راکٹوں کو 90 فیصد تک ناکام بنا دیتا ہے لیکن اگر بہت زیادہ تعداد میں راکٹ یا میزائل داغے جائیں تو یہ حفاظت میں ناکام بھی ہو سکتا ہے، اور اس بار اسی طرح ہوا، حماس نے حکمت عملی کے تحت ایک ساتھ ہزاروں میزائل داغے جس کی وجہ سے آئرن ڈوم فیل ہو گیا، یہ بھی سوال کیا جارہا ہے کہ موساد کو اس حملے کی کوئی اطلاع کیوں نہ مل سکی؟

    موساد کے سابق سربراہ افرائیم ہیلیوی کا کہنا ہے کہ ہفتے کی صبح غزہ کی پٹی اور اس کے ارد گرد اسرائیلی بستیوں میں ہمیں کچھ اندازہ نہیں تھا کہ کیا ہو رہا ہے؟ انہوں نے تصدیق کی کہ اسرائیلی فورسز کو کسی بھی قسم کی کوئی وارننگ موصول نہیں ہوئی تھی،

    صورتحال کے تمام تر ذمہ دار وزیراعظم نیتن یاہو ہیں،اسرائیلی میڈیا
    حماس کے حملے کو روکنے میں ناکامی پر اسرائیلی میڈیا نے اسرائیلی وزیراعظم پر کڑی تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ اپنے شہریوں کوبچانے میں اسرائیل بطور ریاست اوراسرائیلی فوج اور جاسوسی کے جدید ترین آلات رکھنے کے باوجود انٹیلی جنس بری طرح ناکام ہوئی تاہم لیڈر ذمہ داری لینے کے بجائے الزام فوج پر دھر رہے ہیں،اسرائیلی اخبار کے مطابق 1973 میں یوم کپور کے موقع پر 3 ہزاراسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے تھے اس کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں اموات ہوئی ہیں اور اس بار زیادہ تراموات شہریوں کی ہوئی ہیں جو شرمناک ہے،صورتحال کے تمام تر ذمہ دار وزیراعظم نیتن یاہو ہیں جنگ ختم ہونے کے بعد انہی کواس ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے …

     پرتشدد کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ 

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے جاسکیں گے؟

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس نے قید اسرائیلی فوجیوں کے حوالے سے آڈیو پیغام جاری کیا ہے،حماس کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈ کے ترجمان نے پیغام میں کہا ہے کہ زیر حراست اسرائیلیوں کی تعداد اسرائیلی وزیر اعظم کے بیان کردہ تعداد سے کہیں زیادہ ہےاسرائیلی قیدیوں کو غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں میں رکھا گیا ہےآپریشن باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ کیا گیا اسرائیلی علاقے میں داخلے اور میزائل حملے بھی سوچی سمجھی کارروائی کا حصہ تھے اس آپریشن کے بیشتر نکات ہماری منصوبہ بندی کے مطابق چل رہے ہیں

    اسرائیل سب حملوں کو بھول جائے گا، ایران
    دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیل نے حملہ کیا تو اس پر چاروں اطراف سے اتنا شدید حملہ ہو گا کہ وہ سب حملوں کو بھول جائے گا،دی سپیکٹیٹر انڈکس کے مطابق ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اگر ایران پر حملہ کیا جاتا ہے کہ اسرائیل پر لبنان، یمن اور عراق سے حملہ کیا جائے گا جبکہ شام سے مجاہدین بھیجے جائیں گے

    حماس کی جانب سے تین اسرائیلی شہروں میں راکٹ حملوں کے بعد صیہونی فورسز کی جانب سے جوابی کارروائی نہ ہونے کی وجہ سامنے آئی ہے، ترک میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی فوج کے میزائل اسٹاک میں کمی کی وجہ سے موثر جواب نہیں دیا جا سکا، اسرائیلی فوج آئرن ڈوم سسٹم سے لیس کچھ یونٹوں کو گولہ بارود فراہم نہیں کر رہی، اسرائیلی فوج کے پاس گائیڈڈ اینٹی ائیر کرافٹ میزائل بھی محدود تعداد میں ہیں، اسرائیلی فوج غزہ سے قریب اشکلون، اشدد، سدیرات شہروں پر حماس کے راکٹ حملوں کا جواب نہ دے سکی

    حماس کے حملوں کے بعد ابھی تک اسرائیل کی جوابی کاروائی جاری ہے، حماس کے حملے بھی جاری ہیں،ایسے میں سعودی عرب نے غزہ پٹی اوراردگرد کے علاقوں میں جارحیت اور پرتشدد کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے، سعودی وزارت خارجہ نے بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کی جائے ،

  • مجاھدین فلسطین سے اظہار تشکر ،مدد کی جائے

    مجاھدین فلسطین سے اظہار تشکر ،مدد کی جائے

    قصور
    مسجد اقصیٰ کی آزادی کی جنگ لڑنے والے مجاھدین کے لئے اہلیان قصور کا اظہارِ تشکر ،مجاھدین کیلئے دعائیں،زلزلہ افغانستان میں جانی نقصان پہ اظہار افسوس

    تفصیلات کے مطابق قصور ضلع بھر کے لوگوں نے قبلہ اول مسجد اقصیٰ کی آزادی کی خاطر ظالم درندے اسرائیل کو سبق سکھانے والے فلسطینی مجاھدین سے اظہار تشکر کیا ہے اور گورنمنٹ آف پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ قبلہ اول کی آزادی کی جنگ لڑنے والے مجاھدین کی ہر ممکن حد تک حمایت و مدد کی جائے
    نیز شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ فلسطین کے خلاف اسرائیل کا ساتھ دینے والے ممالک کا بائیکاٹ کیا جائے
    شہریوں کی طرف سے گزشتہ دن افغانستان میں آئے زلزلے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پہ اظہار افسوس کیا اور کہا کہ افغانستان کے زلزلہ متاثرین کی ہر ممکن حد تک مدد کی جائے

  • اسرائیلی  میجر جنرل حماس کے ہاتھوں  یرغمال؛  کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے جاسکیں گے؟

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے جاسکیں گے؟

    حماس کے نائب سربراہ صالح العروری نے دعویٰ کیا ہے کہ ہحماس کے پاس کافی اسرائیلی قیدی ہیں جن کے بدلے وہ اسرائیلی جیلوں میں قید تمام فلسطینی قیدیوں کو آزاد کرا سکتے ہیں جبکہ حماس کے نائب سربراہ نے الجزیرہ کو بتایا کہ ہم بہت سے اسرائیلی فوجیوں کو مارنے اور پکڑنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ لڑائی اب بھی جاری ہے۔ اسرائیل میں موجود اپنے قیدیوں کو کہوں گا کہ آپ کی آزادی بہت قریب آرہی ہے۔ جو ہمارے ہاتھ میں ہے اس کے زریعے آپ خود کو آزاد ہوتے یکھیں گے۔

    علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ جتنی طویل لڑائی جاری رہے گی، قیدیوں کی تعداد اتنی ہی زیادہ ہوتی جائے گی۔ تاہم خیال رہے کہ فلسطین کے علاقے غزہ کی مزاحمتی تنظیم حماس کے جنگجو اسرائیل پر حملوں کے دوران متعدد اسرائیلی فوجی اور شہریوں کو یرغمال بنا کر ساتھ لے گئے ہیں جبکہ آج صبح حماس نے غزہ سے اسرائیل پر زمین، سمندر اور فضا سے حملے کیے جس کے نتیجے میں صیہونی فوجیوں سمیت 40 اسرائیلی ہلاک، 700 سے زائد زخمی ہوگئے جن میں سے درجنوں کی حالت تشویشناک ہے۔

    سوشل میڈیا پر وائرل کئی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حماس کے جنگجوؤں نے کئی اسرائیلی فوجیوں اور شہریوں کو یرغمال بنالیا ہے، اسرائیلی میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ حماس کے جنگجو حملوں کے دوران 50 اسرائیلی فوجیوں اور شہریوں کو یرغمال بنا کر ساتھ لے گئے ہیں جبکہ دوسری جانب عرب میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس کے جنگجو اسرائیلی فوج کے میجر جنرل نمرود الونی کو بھی یرغمال بنا کر ساتھ لے گئے ہیں۔

    تاہم عرب میڈیا نے یہ دعویٰ سوشل میڈیا پر وائرل تصاویر کی بنیاد پر کیا ہے تاہم اسرائیلی فورسز کی جانب سے اس کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی اور اسرائیلی حکام اور حماس کے رہنماؤں دونوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ مغویوں کو غزہ لے جایا گیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے یہ بھی کہا ہے کہ حماس کے جنگجوؤں نے جنوبی اسرائیل کے کم از کم دو مقامات سے لوگوں یرغمال بنایا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    برفانی تودہ گرنے سے 4 افراد ہلاک ہوگئے

    پاگل کتوں کے کاٹنے کے 22 واقعات رپورٹ

    شمالی وزیرستان؛ سکیورٹی فورسز نے دہشتگرد عظیم اللہ عرف غازی کو ہلاک کردیا

    پی ٹی آئی پی تقریب؛ شریک جماعت اسلامی کے رکن کا کھڑے ہوکر انوکھا انکار
    جبکہ حماس کی طرف سے جاری کردہ ویڈیوز میں کم از کم تین اسرائیلیوں کو زندہ پکڑے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ دریں اثنا، ایسوسی ایٹڈ پریس کی تصاویر کے مطابق دو خواتین سمیت کم از کم تین شہریوں کو غزہ لایا گیا ہے۔ اسرائیل نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں اور شہریوں کی نامعلوم تعداد کو غزہ لے جایا گیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان ہجری نے کہا کہ حماس کے جنگجوؤں نے غزہ سے 24 کلومیٹر (15 میل) کے فاصلے پر واقع بیری اور اوفاکیم قصبوں میں بھی یرغمال بنائے ہوئے ہیں۔

    حماس کے ترجمان ابو عبیدہ نے اس دوران کہا کہ جنگجوؤں نے درجنوں اسرائیلی فوجیوں کو جن میں افسران بھی شامل ہیں کو یرغمال بنا لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغویوں کو محفوظ مقامات“ اور سرنگوں میں رکھا جا رہا ہے اور حماس کے نائب سربراہ العروری نے پہلے الجزیرہ کو بتایا تھا کہ قیدیوں کو قیدیوں کے تبادلے کے لیے استعمال کیا جائے گا تاہم اُدھر اسرائیلی فوج نے غزہ پر فضائی حملے شروع کردیے ہیں اور اب تک کی اطلاعات کے مطابق 198 فلسطینی شہید ہوگئے جبکہ ایک ہزار سے زائد زخمی ہیں۔ جبکہ اسرائیلی حکومت نے ایک نوٹس جاری کیا ہے جس میں‌جزیرہ نما سینائی میں تمام اسرائیلی شہریوں سے فوری طور پر علاقہ چھوڑنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    اب دوسری جانب سوال یہ اہم ہے کہ اسرائیل کا جدید ترین آئرن ڈوم ایئر ڈیفنس سسٹم حماس کے راکٹوں کو پرواز کے راستے میں روکنے اور انہیں نشانہ بنانے میں کیسے ناکام رہا؟ نتیجتا 1000 راکٹ ریاست اسرائیل کے اندر گرے ہیں.

    حماس کی ایک بڑی فوج اسرائیل کی مضبوط سرحدی رکاوٹوں کو توڑنے میں کیسے کامیاب رہی؟ اور انہوں نے اسرائیل کی ریاست میں اتنی گہرائی تک مداخلت کیسے کی جس کی بالکل مخالفت نہیں کی گئی؟ کیوں آئی ڈی ایف فوری رد عمل کے ذریعے حماس کے جنگجوؤں کو دراندازی کرنے والے مقامات سے بے دخل کرنے میں ناکام رہا؟ کوئی کیسے یقین کر سکتا ہے کہ آئی ڈی ایف کے پاس اس طرح کے واقعات کے لئے کوئی جوابی منصوبہ نہیں ہے؟

    جبکہ حماس نے اسرائیل کی ناک کے نیچے اتنی بڑی مقدار میں راکٹ کیسے درآمد یا تیار کیے اور ذخیرہ کیے؟ حماس کو لانچنگ سائٹس پر 1000 راکٹ لے جانے کی کھلی چھوٹ کسیے دی گئی؟ اسرائیلی وزیر اعظم کو جنگ کے اعلان کے لئے کابینہ کی منظوری کی ضرورت کیوں نہیں تھی؟ اور تمام صحیح وجوہات کی بنا ء پر، ہم یہودیوں کی لاشوں کو گھسیٹتے ہوئے جشن منانے کے لئے مناسب طور پر خوش ہیں .

  • اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    سینئر صحافی و اینکرپرسن مبشر لقمان کا اپنے یوٹیوب چینل پر ایک ولاگ میں کہنا ہے کہ گزشتہ دنوں حماس نے حزب اللہ کے ساتھ مل کر اسرائیل پر حملہ کردیا ہے جو آج کی تاریخ میں پہلا ایسا حملہ ہے جس سے اسرائیل ہل کر رہ گیا ہے، اور کافی خوف زدہ ہیں۔

    مبشر لقمان نے بتایا کہ اسرائیل کی کل آبادی 50 سے کوئی 55 لاکھ کے قریب ہے، جبکہ ہمارے لاہور لاہور کی آبادی دو کروڑ کے قریب ہے، یہ ان کی تعداد اس لیئے کم ہے کیونکہ جب تک ماں باپ خاندانی طور پر یہودی نہ ہوں تو وہ آپ کو یہودی نہیں مانیں گے۔


    سینئر اینکر پرسن نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ وہ کسی کو جو یہودیت میں آنا چاہتا یا جیسے کہ لوگ مزہب تبدیل کرلیتے تو ایسے شخص کو اصلی یہودی نہیں مانتے ہیں، اور جب ان کا کوئی مرتا ہے تو ان کے ہاں صف ماتم بجھ جاتا ہے، اور اب اسرائیل میں موساد جو انکی خفیہ ایجنسی کے سربراہاں کو ہٹانے کا کہا جارہا ہے۔


    جبکہ اس ایجنسی کو بڑا طاقتور سمجھتا جاتا دنیا میں لیکن ان کے خود کے ملک پر حماس کی طرف سے ایک ساتھ مختلف جگہوں سے سات مقامات پر حملہ ہوا ہے، اور موساد کو اس کا پتہ ہی نہیں چلا ہے۔ جبکہ اسرائیل پر حملہ اصل کہانی کو مکمل سننے کیلئے اس لنک پر کرکے یوٹیوب پر اسے دیکھیں اور سنیں۔

  • سعودی عرب نے فلسطین کے لیےغیر مقیم سفیرنامزد کر دیا

    سعودی عرب نے فلسطین کے لیےغیر مقیم سفیرنامزد کر دیا

    سعودی عرب نے ہفتے کے روز فلسطینی علاقوں کے لیے ایک غیر مقیم سفیرنامزد کیا ہے،سفیر کی تقرری اس وقت ہوئی ہے جب امریکہ اسرائیل سعودی تعلقات کو معمول پر لانے کی کوشش کر رہا ہے۔

    باغی ٹی وی:فلسطینی حکام نے اپنے پہلے سعودی عرب کے سفیر کا خیرمقدم کیا، یہاں تک کہ مملکت اسرائیل کے ساتھ رسمی سفارتی تعلقات قائم کرنے پر غور کر رہی ہے عالمی میڈیا کے مطابق سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اردن میں موجودہ سعودی سفیر نائف السدیری یہ ذمہ داری ادا کریں گے، وہ مقبوضہ بیت المقدس کے لیے بطور قونصل جنرل بھی خدمات انجام دیں گے السدیری نے اردن کے دارالحکومت عمان میں فلسطینی سفارت خانہ کے صدر دفاترمیں فلسطینی صدر محمود عباس کے سفارتی امور کے مشیر مجدی الخالدی کو اپنی اسناد پیش کردی ہیں۔

    انگریز دور کے قوانین کو تبدیل کرنے کا بھارتی پارلیمنٹ میں ترمیمی بل پیش

    عرب میڈیا کے مطابق فلسطینی صدر کے مشیر مجدی الخالدی نےکہا ہےکہ وہ اس تقررکا خیر مقدم کرتے ہیں، اس سے دونوں ملکوں کے مستحکم اور ٹھوس برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں مدد ملےگی-

    رپورٹس کے مطابق یہ تقرر شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی ریاست فلسطین کے بھائیوں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے اور تمام شعبوں میں اسے باضابطہ فروغ دینے کی خواہش کو عملی جامہ پہنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

    واضح رہے کہ فلسطینی علاقوں سے متعلق امور روایتی طور پر عمان میں سعودی عرب کے سفارت خانے کے ذریعے نمٹائے جاتے رہے ہیں۔

    رحیم یارخان میں راہ چلتی خاتون کو ہراساں کرنے کا واقعہ،مقدمہ درج

    الجزیرہ کے مطابق فلسطینی تجزیہ کار طلال اوکل نے کہا کہ نئی تقرری مقبوضہ مغربی کنارے میں سعودی عرب کے سرکاری نمائندہ دفتر کی جانب ایک قدم ہے یہ ایک پیغام بھی ہے کہ سعودی عرب ایک مکمل خودمختار ریاست میں فلسطینیوں کے حقوق کے لیے پرعزم ہے۔

    تاہم، امریکی، اسرائیلی اور سعودی حکام نے کہا ہے کہ ایسا کوئی بھی معاہدہ بہت دور ہے، کیونکہ متعدد کانٹے دار مسائل مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی چھاپوں سے لے کر سعودی جوہری توانائی کی ترقی تک اس کی راہ میں حائل ہیں ریاض نے بارہا کہا ہے کہ وہ فلسطینیوں کے ساتھ تنازع کے حل ہونے تک اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم نہ کرنے کے دہائیوں پرانے موقف پر قائم رہے گا-

    واہگہ بارڈر پر پرچم اتارنے کی تقریب،بھارتی اہلکار کی بندوق گر گئی

  • اسرائیلی وزیراعظم کی سعودی عرب اور  ایران کے درمیان معاہدے پر تنقید

    اسرائیلی وزیراعظم کی سعودی عرب اور ایران کے درمیان معاہدے پر تنقید

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان معاہدے پر تنقید کی ہے۔

    باغی ٹی وی: سی این بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویومیں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہےکہ سعودی عرب کے ساتھ امن کئی طریقوں سے عرب اسرائیل تنازع کا خاتمہ کرسکتا ہے سعودی عرب نے یمن میں جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کے ساتھ حالیہ معاہدہ کیا ہے۔

    یمن میں چیریٹی فنڈ کی تقسیم کے دوران بھگدڑ ،79 افراد ہلاک 100 سے زائد …

    اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا ہےکہ ’میرے خیال میں اس معاہدے کا تعلق یمن میں دیرینہ تنازع کو کم کرنے یا ختم کرنے کی خواہش سے ہے جو ملک ایران سے پارٹنرشپ کرتے ہیں وہ مصائب کا شکار ہوجاتے ہیں، مشرق وسطیٰ میں 95 فیصد مسائل ایران کے پیدا کردہ ہیں۔

    نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ ہم سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے لیے پر امید ہیں، یمن تنازع کے خاتمے کے لیے میرے خیال میں بہت کچھ کرناباقی ہے، سعودی عرب کی قیادت کو معلوم ہےکہ دوست کون ہے اور دشمن کون۔

    نیتن یاہو نے ایران کے ساتھ شراکت داری پر خبردارکیا اور کہا کہ جولوگ ایران کے ساتھ شراکت داری کرتے ہیں،وہ بدحالی کے ساتھ شراکت دار ہیں۔لبنان کو دیکھو، یمن کو دیکھو، شام کو دیکھو، عراق کو دیکھو-

    لاعلاج سمجھے جانیوالے مرض ذیابیطس ٹائپ 2 سے نجات ممکن

    اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اسرائیل فلسطین تنازع سے متعلق چین کی ثالثی کا علم نہیں، چین کے ساتھ اچھے تعلقات کااحترام کرتے ہیں۔

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں چین نے فلسطین اور اسرائیل کے درمیان امن مذاکرات کے لیے سہولت کاری کی پیشکش کی تھی چینی وزیر خارجہ چن گانگ نے اسرائیل اور فلسطین کے اعلیٰ سفارت کاروں کے ساتھ علیحدہ علیحدہ ٹیلی فونک گفتگو کی اور کہا کہ چین فریقین کے درمیان امن مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

    دوسری جانب اسرائیلی وزیرخارجہ نے سعودی عرب کے دورے کا عندیہ دیا ہے اسرائیلی وزیرخارجہ ایلی کوہن نے اسرائیلی فوجی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کا دورہ ٹیبل پر ہے،البتہ ابھی تاریخ طے نہیں ہوئی۔

    عیدالفطر کی چھٹیوں میں عمران خان کو ہراساں نہ کرنے کا حکم

    اسرائیلی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ رواں سال بھی ایک عرب ملک اسرائیل سے تعلقات معمول پر لائے گا، امریکی سینیٹر لنزےگراہم کی سعودی ولی عہد سے سعودی اسرائیل تعلقات پربات ہوئی تھی سعودی عرب کا دشمن اسرائیل نہیں ایران ہے، سعودی ایران تعلقات میں پیش رفت اسرائیل کیلئے خوش آئند ہو سکتی ہےسعودی ایران تعلقات،سعودی اسرائیل کے قریب آنے کا باعث بن سکتے ہیں۔

    خیال رہے کہ رواں ہفتے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے بھی سعودی اسرائیل تعلقات کو عرب اسرائیل تنازع کے خاتمے میں بڑا قدم قرار دیا تھااسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے امریکی سینیٹرلنزےگراہم نے ملاقات کی جس میں نیتن یاہو نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ معمول کے تعلقات اور امن چاہتے ہیں، ہم تعلقات کو عرب اسرائیل تنازع کےخاتمےکی جانب بڑےاقدام کےطورپردیکھتے ہیں۔

    ایک ہی دن انتخابات پر مشاورت کیلئےحکمراں جماعتوں کاعید کے بعد سربراہی اجلاس بلانے کا فیصلہ

  • اسرائیل اورفلسطین کےدرمیان امن مذاکرات میں سہولت فراہم کرنےکیلئےتیارہیں،چین

    اسرائیل اورفلسطین کےدرمیان امن مذاکرات میں سہولت فراہم کرنےکیلئےتیارہیں،چین

    چین کے وزیر خارجہ کِن گینگ نے پیر کو اپنے اسرائیلی اور فلسطینی ہم منصبوں کو بتایا کہ چین اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

    باغی ٹی وی: چینی خبر رساں ادارے ’’ ژنہوا‘‘ نے ب تایا کہ کِن گینگ نے کہا ہے کہ چین اسرائیل اور فلسطین دونوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ وہ سیاسی جرات کا مظاہرہ کریں اور امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے اقدامات کریں۔ چین اس میں سہولت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے ۔

    سوڈان جھڑپیں: امریکی سفارتی قافلے پربھی فائرنگ

    کن گینگ نے اپنے اسرائیلی ہم منصب ایلی کوہن سے ٹیلفونک گفتگو میں کہا ہے کہ چین اسرائیل اور فلسطین کے درمیان موجودہ کشیدگی پر فکر مند ہے چین کی اولین ترجیح صورت حال کو کنٹرول میں لانا اور تنازع کو بڑھنے یا کنٹرول سے باہر ہونے سے روکنا ہے۔

    چینی وزیر نے دونوں فریقوں پر زور دیا کہ وہ پرسکون رہیں تحمل سے کام لیں اور اشتعال انگیز بیانات یا اقدامات سے گریز کریں انہوں نے زور دیا کہ تنازع کے حل کی کلید امن مذاکرات کا دوبارہ آغاز اور دو ریاستی حل پر عمل درآمد کرنے میں ہے۔

    سعودی عرب کے ساتھ معمول کے تعلقات اور امن چاہتے ہیں،اسرائیلی وزیراعظم

  • اسرائیل نے صرف 2 ڈالر میں میزائلوں کو روکنے والا جدید ترین ائیر ڈیفنس سسٹم تیارکرلیا

    اسرائیل نے صرف 2 ڈالر میں میزائلوں کو روکنے والا جدید ترین ائیر ڈیفنس سسٹم تیارکرلیا

    تل ابیب :اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے کہا ہے کہ لیزر پرمبنی فضائی دفاعی نظام، جسے اسرائیل دشمن کے راکٹوں اور ڈرونز کو بے اثر کرنے کے لیے اگلے سال سے نصب کرنے کی امید رکھتا ہے،کی قیمت صرف 2 ڈالر فی ’روک‘ ہوگی۔

    اسرائیل اس وقت مار گرانے کے دفاعی نظاموں پرانحصار کرتا ہے جو اس طرح کے میزائلوں اور راکٹوں کا سراغ لگانے کے لیے ہزاروں سے لاکھوں ڈالر کی لاگت کے حامل روک اور مارگرانے والے میزائل داغتے ہیں۔لیکن آئرن بیم سسٹم فضائی خطرات کو سُپرہیٹ اور غیر فعال کرنے کے لیے لیزر کا استعمال کرتا ہے۔اس کا ایک پروٹو ٹائپ گذشتہ سال منظرعام پر آیا تھا۔

    بینیٹ نے پیشین گوئی کی ہے کہ یہ 2023ء کے اوائل تک فعال ہوجائے گا۔انھوں نے اس نظام کو تیار کرنے والی سرکاری فرم رافیل ایڈوانسڈ ڈیفنس سسٹمز کے دورے کے موقع پرکہا کہ ’’یہ کھیل کا پانسہ پلٹنے والا نظام ہے، نہ صرف اس لیے کہ ہم دشمن فوج پرحملہ کررہے ہوں گے بلکہ اس لیے بھی کہ اس کے ذریعے ہم اسے دیوالیہ کرنے والے ہیں‘‘۔

    فلسطینی مزاحمتی تنظیموں اور لبنانی حزب اللہ نے ماضی کی جنگوں میں اسرائیل پرہزاروں راکٹ اور مارٹر بم داغے تھے۔اسرائیل کے میزائل دفاعی نظاموں نے حالیہ برسوں میں ان ڈرونز کو بھی روکا ہے جن کے بارے میں اسے شُبہ ہے کہ انھیں ایرانی حمایت یافتہ جنگجوؤں نے اس کی سرحدوں کے قریب داغا تھا۔

    بینیٹ نے اپنے دفترکی جانب سے جاری کردہ ایک ویڈیو میں کہا کہ ’’آج تک ہر راکٹ کو روکنے کے لیے ہمیں بہت زیادہ رقم خرچ کرنا پڑتی تھی۔ آج وہ (دشمن) ایک راکٹ میں ہزاروں ڈالرکی سرمایہ کاری کرسکتے ہیں اور ہم اس راکٹ کو روکنے کے لیے بجلی پرصرف 2 ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گے‘‘۔اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیغ نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک کا نیا لیزر پر مبنی فضائی دفاعی نظام (ائیر ڈینفس سسٹم) کوئی بھی میزائل روکے گا تو اس پر صرف دو ڈالرز خرچ ہوں گے۔

    خیال رہے کہ اسرائیل کو فلسطینی اتھارٹی اور لبنان کی طرف سے راکٹ اور بم حملوں کا متواتر نشانہ بنایا جاتا ہے، جس میں ارد گرد کے ممالک سے بھی کئی راکٹ بیراج شامل ہیں۔
    اسرائیلی حکام نے اپریل میں کامیاب تجربات کی اطلاع دی، جس میں سسٹم کی جانب سے مارٹر، راکٹ اور بغیر پائلٹ کے ڈرونز کو مار گرانے کی ویڈیو پوسٹ کی گئی۔

    بینیٹ نے ایک ٹویٹ میں لکھا، “یہ دنیا کا پہلا توانائی پر مبنی ہتھیاروں کا نظام ہے جو آنے والے UAVs، راکٹوں اور مارٹرز کو مار گرانے کے لیے ایک لیزر کا استعمال کرتا ہے جس کی قیمت 3.50 ڈالرز فی شاٹ ہے۔”فی الحال یہ واضح نہیں کہ اپریل میں بینیٹ کی تخمینہ لاگت 3.50 ڈالرز فی وقفہ ان کے بدھ کے ریمارکس میں کم ہوکر دو ڈالرز کیوں ہوگئی۔

    واضح رہے کہ اسرائیلی حکام 2016 سے آئرن بیم تیار کر رہے ہیں۔

  • ترک وزیر خارجہ کا 15 سال بعد اسرائیل کا دوہ ، اسرائیلی ہم منصب سے ملاقات

    ترک وزیر خارجہ کا 15 سال بعد اسرائیل کا دوہ ، اسرائیلی ہم منصب سے ملاقات

    اسرائیلی وزیر خارجہ یائیر لاپد اور ان کے ترک ہم منصب مولوت کاوسوگلو نے آج یروشلم میں ملاقات کی۔

    باغی ٹی وی : ترک وزیر خارجہ مولوت چاوش اوغلو اسرائیل کے دورے پر ہیں ترک وزیر خارجہ گزشتہ روز اسرائیل پہنچے تھے 15 سال بعد یہ کسی بھی ترک وزیر خارجہ کا پہلا دورہ اسرائیل ہے دورے کے دوران آج دونوں ممالک کے وزرائے خآرجہ کے درمیان ملاقات ہوئی-

    وزرائے خارجہ نے دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ معاشی کمیٹی کے کام کا ازسر نو جائزہ لینے اور سول ایوی ایشن معاہدے کے لیے بات چیت کا آغاز کرنے پر اتفاق کیا۔

    اسرائیلی وزیر خارجہ نے ترک ہم منصب سے ملاقات کے بعد مشترکہ بیان میں کہا کہ ’ہم یہ بناوٹ نہیں کرسکتے کہ ہمارے تعلقات میں کوئی اتار چڑھاؤ نہیں آئے لیکن ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ باہمی تعلقات میں ایک باب بند اور نیا باب کیسے کھولا جاتا ہے‘۔

    ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم یروشلم اور مسجد اقصیٰ سے متعلق فکرمند ہیں، انہوں نے امید ظاہر کی کہ ترکی اور اسرائیل کے درمیان تعلقات معمول پر آگئے تو اس کا مثبت اثر ہوگا۔

    تاہم اس اہم ملاقات میں دونوں وزرائے خارجہ نے انقرہ اور تل ابیب میں دوبارہ سفیر تعینات کرنے کے حوالے سے کوئی اعلان نہیں کیا۔

    قبل ازیں ترک وزیر خارجہ نے فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات کے لیے مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے رملّا کا سفر کیا ملاقات میں فلسطین کی آزادی کی غیر مشروط حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا، باہمی تعلقات سمیت یروشلم اور مسجد اقصیٰ پر اسرائیل کے حالیہ حملے پر بات چیت کی


    ترک وزیر خارجہ نے فلسطینی صدر کو یقین دہانی کروائی کہ اسرائیل کے ساتھ ترکی کے بڑھتے تعلقات سے فلسطینیوں کی حمایت میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔

    ترک وزیر خارجہ نے مسجدِ اقصیٰ اور یروشلم کے پرانے علاقوں کا بھی دورہ کیا جبکہ اسرائیل میں رہائش پذیر ترک شہریوں سے بھی ملاقات کی۔

    یاد رہے کہ رواں سال مارچ میں اسرائیلی صدر آئیزیک ہرزوگ نے ترکی کا دورہ کیا تھا اور صدر طیب اردوان سے ملاقات کی تھی۔

  • اسرائیل فوج کے ہاتھوں شہید ہونے صحافی کے جنازے پر حملہ،شرکاء پر تشدد

    اسرائیل فوج کے ہاتھوں شہید ہونے صحافی کے جنازے پر حملہ،شرکاء پر تشدد

    تل ابیب: اسرائیل میں سیکیورٹی فورسز کی براہ راست فائرنگ سے قتل ہونے والی خاتون صحافی شیرین ابو اقلہ کے جنازے پراسرائیلی پولیس نے حملہ کردیا –

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی پولیس نے خاتون صحافی شیرین ابو اقلہ کے جنازے کے شرکاء پر حملہ کردیا اور تشدد کا نشانہ بنایا جس سے بھگدڑ اور افراتفری مچ گئی۔


    سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مقتول صحافی کے جنازے میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی، پولیس نے نوجوانوں کو جنازے میں شرکت کرنے سے روکا جس پر نوجوانوں نے شدید نعرے بازی کی پولیس نے نوجوانوں پر لاٹھی چارج کیا اور دھکے دیئے پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ بھی کی۔

    اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے الجزیرہ کی صحافی شہید ، کیمرہ مین زخمی

    واضح رہے کہ ابو اقلہ نے کئی ایجنسیوں جیسے کہ UNRWA، ریڈیو وائس آف فلسطین، عمان سیٹلائٹ چینل، مفتاح فاؤنڈیشن، اور ریڈیو مونٹی کارلو کے لیے کام کیا، آخر کار 1997 میں الجزیرہ کا رخ کیا۔ وہ عرب دنیا میں بڑے پیمانے پر جانی جاتی اور عزت کی جاتی تھیں

    الجزیرہ سے تعلق رکھنے والی فلسطینی نژاد خاتون صحافی شہرین ابو اقلہ کو اسرائیلی فورسز نے اس وقت گولی ماری تھی جب وہ جینن میں چھاپہ مار کارروائی کی کوریج کر رہی تھیں دہائی سے زیادہ عرصے تک صحافت کے میدان میں خدمت انجام دینے والی خاتون صحافی کے بہیمانہ قتل پر عالمی سطح پر مذمت کی گئی تھی اور اسرائیل کو تنقید کا سامنا تھا۔

    بھارت:زندگی سے تنگ مسلمان ماہی گیروں کی موت کے لیے درخواست

    برطانیہ میں فلسطینی سفیر حسام نےکہا تھا کہ اسرائیلی قابض افواج نے جنین میں ان کی بربریت کی کوریج کرتے ہوئے صحافی شیرین ابو اقلہ کو قتل کر دیا۔ شیریں سب سے ممتاز فلسطینی صحافی اور ایک قریبی دوست تھیں۔ اور اب ہم برطانوی اور عالمی برادری سے صرف حالات پر تشویش کے اظہار جیسے الفاظ سنیں گے۔

    افغانستان :کابل کی ایک مسجد میں بم دھماکہ، 3 افراد زخمی