Baaghi TV

Tag: فلسطین

  • اسرائیل کا دمشق کے قریب فضائی حملہ، 9 افراد ہلاک

    اسرائیل کا دمشق کے قریب فضائی حملہ، 9 افراد ہلاک

    تل ابیب :اسرائیل کا دمشق کے قریب فضائی حملہ، 9 افراد ہلاک،اطلاعات کے مطابق اسرائیل نے شام کے دارالحکومت دمشق کے قریب فضائی حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں 9 افراد ہلاک ہو گئے۔

    غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق دمشق کے قریب کیے گئے اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک ہونے والے افراد میں 5 شامی فوجی بھی شامل ہیں۔

    سیریئن آبزویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق اسرائیل نے فضائی حملے میں اسلحہ ڈپو سمیت متعدد فوجی پوزیشنز کو نشانہ بنایا ہے۔

    سیریئن آبزویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے 2022ء کے دوران شام میں یہ مہلک ترین حملے ہیں۔

    سیریئن آبزویٹری فار ہیومن رائٹس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان فضائی حملوں میں ایک اسلحہ ڈپو اور شام میں موجود ایرانی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    ادھر چند دن پہلے شام کے مشرقی علاقے میں امریکی فوجی اڈے پر راکٹ حملے میں دو امریکی فوجی اہلکار زخمی ہوگئےتھے

    امریکی حکام کے مطابق راکٹ حملے میں دونوں اہلکاروں کو معمولی زخم آئے ۔ اس علاقے میں یہ امریکی افواج پر اس سال تیسرا حملہ تھا ۔

    ادھر فلسطین کے مقبوضہ علاقے مغربی کنارے میں ایک اور فلسطینی نوجوان اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے شہید ہو گیا ہے۔

    فلسطینی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی فوجیوں نے آج علی الصبح عقبة جابر نامی مہاجر کیمپ پر ہلہ بولا۔ اس دوران اسرائیلی فوج کے جارحانہ رویے کے باعث ہونے والی ایک جھڑپ میں 20 سالہ فلسطینی نوجوان احمد ابراہیم اوویدات سر میں گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا جو بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گیا۔

    اسرائیلی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے اس واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

    واضح رہے کہ ماہِ مقدس رمضان المبارک کی آمد سے قبل ہی مارچ کے اختتام سے اب تک اسرائیل کی جانب سے مختلف کارروائیوں میں 25 فسلطینی شہید کیے جا چکے ہیں۔

    رمضان المبارک کے مہینے میں اسرائیلی پولیس اہلکار کئی بار مسجد الاقصیٰ پر ہلا بول کر نمازیوں کو نماز کی ادائیگی سے روکنے کے علاوہ پرتشدد کارروائیوں جیسے نہتے فلسطینیوں پر ربڑ کی گولیاں برسانے اور آنسو گیس کے شیل فائر کرنے کا ارتکاب بھی کر چکے ہیں۔

    فلسطینیوں اور اسرائیلی فوجیوں کے درمیان مسجد الاقصیٰ کے باہر بھی حال ہی میں متعدد مرتبہ پرتشدد جھڑپیں ہو چکی ہیں۔

  • مقبوضہ بیت المقدس:مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے نوجوان شہید

    مقبوضہ بیت المقدس:مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے نوجوان شہید

    مقبوضہ بیت المقدس: مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے ایک اور نوجوان شہید ،اطلاعات کے مطابق فلسطین کے مقبوضہ علاقے مغربی کنارے میں ایک اور فلسطینی نوجوان اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے شہید ہو گیا ہے۔

    فلسطینی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی فوجیوں نے آج علی الصبح عقبة جابر نامی مہاجر کیمپ پر ہلہ بولا۔ اس دوران اسرائیلی فوج کے جارحانہ رویے کے باعث ہونے والی ایک جھڑپ میں 20 سالہ فلسطینی نوجوان احمد ابراہیم اوویدات سر میں گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا جو بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گیا۔

    ادھر ذرائع کاکہنا ہےکہ اس حوالے سے اسرائیلی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے اس واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

    واضح رہے کہ ماہِ مقدس رمضان المبارک کی آمد سے قبل ہی مارچ کے اختتام سے اب تک اسرائیل کی جانب سے مختلف کارروائیوں میں 25 فسلطینی شہید کیے جا چکے ہیں۔

    رمضان المبارک کے مہینے میں اسرائیلی پولیس اہلکار کئی بار مسجد الاقصیٰ پر ہلا بول کر نمازیوں کو نماز کی ادائیگی سے روکنے کے علاوہ پرتشدد کارروائیوں جیسے نہتے فلسطینیوں پر ربڑ کی گولیاں برسانے اور آنسو گیس کے شیل فائر کرنے کا ارتکاب بھی کر چکے ہیں۔

    فلسطینیوں اور اسرائیلی فوجیوں کے درمیان مسجد الاقصیٰ کے باہر بھی حال ہی میں متعدد مرتبہ پرتشدد جھڑپیں ہو چکی ہیں۔

  • وزیراعظم کی افطار ڈنر میں بڑی خبر:بتایا کہ مقبوضہ کشمیر اور فلسطین میں مظالم ڈھائےجارہے ہیں

    وزیراعظم کی افطار ڈنر میں بڑی خبر:بتایا کہ مقبوضہ کشمیر اور فلسطین میں مظالم ڈھائےجارہے ہیں

    اسلام آباد:مقبوضہ کشمیر اور فلسطین میں مظالم ڈھائے جارہے: وزیراعظم نے افطار ڈنر میں مذمت کردی ا،طلاعات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے مسلم ممالک کے سفیروں کے اعزاز میں افطار ڈنر دیا اور اس موقع پر کہا کہ غربت کے خاتمے کیلئے مشترکہ کاوشیں کرنا ہوں گی، مقبوضہ کشمیر اور فلسطین میں مظالم ڈھائے جارہے ہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے مسلم ملکوں کے سفیروں کے اعزاز میں افطار ڈنر دیا، خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلم ملکوں کے سفیروں کے اعزاز میں افطار ڈنر باعث مسرت ہے، ماہ مقدس مسلم امہ کے لیے رحمتوں اور برکتوں کے نزول کا باعث ہے، برادر مسلم ملکوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں، مسلم ملکوں میں غربت اور بے روزگاری کے خاتمے کے لیے مشترکہ کاوشیں کرنا ہونگی، ہم مل کرغربت اور بے روزگاری کا خاتمہ کر سکتے ہیں، ہمیں یورپی یونین کی طرز پرمتحد ہونے کی ضرورت ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ مسلم امہ میں اخوت، بھائی چارے اور ہم آہنگی کو فروغ دینے کی ضرورت ہے، اجتماعی دانش کو بروئے کار لا کر مسلم ملکوں میں غربت اور بے روزگاری کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے، ترقی اور عالمی امن کے لیے مسلمان ملکوں کو عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا، قدرتی وسائل سے مالا مال برادر اسلامی ملک ترقی پذیر ملکوں کی مدد کریں، مسلم امہ کے حقوق کے لیے او آئی سی کو مزید موثر اور متحرک کرنے کی ضرورت ہے۔

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ فلسطین اور مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں پر مظالم ڈھائے جا رہے ہیں، مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے سلامتی کونسل کی متعدد قراردادیں موجود ہیں، قراردادوں میں کشمیریوں کو حق خودارادیت دینے کا وعدہ کیا گیا ہے، نہرو نے بھارتی پارلیمان میں کھڑے ہو کر کشمیریوں کے حق خود ارادیت کا وعدہ کیا تھا، افغانستان میں امن خطے کے امن واستحکام کے لیے ناگزیر ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب عوامی سطح پر اسلامی بھائی چارے کے لازوال رشتے میں بندھے ہیں، ریاض کے ساتھ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

    حکومتی دباؤ مسترد:امریکا میں سابق پاکستانی سفیر ڈٹ گئے:عمران خان کے موقف کی تائید…

  • یہودیوں کی مسجد اقصیٰ میں عبادت اورفلسطینیوں پرمظالم کی انتہا:عرب لیگ نے سخت ردعمل دے دیا

    یہودیوں کی مسجد اقصیٰ میں عبادت اورفلسطینیوں پرمظالم کی انتہا:عرب لیگ نے سخت ردعمل دے دیا

    مقبوضہ بیت المقدس :یہودیوں کی مسجد اقصیٰ میں عبادت اورفلسطینیوں پرمظالم کی انتہا:عرب لیگ نے سخت ردعمل دے دیا ،اطلاعات کے مطابق عرب لیگ نے متنبہ کیا ہے کہ ایسے اقدام سے مسلمانوں کے جذبات کی کھلی تضحیک ہوتی ہے جس سے وسیع تر تنازع پیدا ہو سکتا ہے۔

    دوسری جانب، اسرائیل کا کہنا ہے وہ مسجد اقصیٰ کے احاطے میں یہودیوں کی عبادت پر پابندی کو نافذ کررہا ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیل نے اکیس اپریل جمعرات کے روز عرب لیگ کے ان الزامات کو مسترد کر دیا کہ وہ مسجد اقصی یا حرم الشریف کے احاطے میں یہودیوں کو عبادت کرنے کی اجازت دے رہا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ یروشلم میں مسجد اقصیٰ کے احاطے میں یہودیوں کی عبادت پر ایک طویل عرصے سے جو پابندی عائد ہے اس پر وہ عمل پیرا ہے۔

    اسرائیلی وزارت خارجہ کے ترجمان لیور ہیات کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے اس صورت حال کو برقرار رکھا ہوا ہے جس کے تحت وہاں مسلمانوں کو نماز کی آزادی ہے اور غیر مسلموں کو وہاں آنے جانے کا حق حاصل ہے۔ وہاں یہودیوں کے عبادت کرنے پر جو پابندی عائد ہے پولیس اس کو نافذ کرتی ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران اسرائیل رمضان کے آخری دس دنوں میں یہودیوں کو ٹیمپل ماؤنٹ کا دورہ کرنے کی اجازت نہیں دے رہا ہے تاکہ وہاں کسی قسم کے تصادم کو روکا جا سکے

    اس ضمن میں اردن کے وزیر خارجہ ایمن صفادی نے عمان میں عرب لیگ کے ایک ہنگامی اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات چیت میں کہا کہ ہمارے مطالبات واضح ہیں کہ اس کے تمام علاقے میں الاقصیٰ اور حرم شریف صرف اور صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے۔

    عرب لیگ کے سربراہ احمد ابو الغیث نے کہا کہ اسرائیل صدیوں پرانی پالیسی کی خلاف ورزی کر رہا ہے جس کے مطابق غیر مسلم مسجد اقصیٰ کا دورہ تو کر سکتے ہیں، تاہم انہیں وہاں عبادت کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

    یاد رہے، گزشتہ ہفتے اسرائیلی پولیس نے مسجد اقصیٰ کے احاطے پر دھاوا بول دیا تھا جس کے دوران کم از کم 158 فلسطینی زخمی ہوگئے تھے اور حکام نے سینکڑوں فلسطینیوں کو حراست میں لے لیا تھا۔

    یروشلم کا مستقبل ہی اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازعے کا اہم مرکز ہے۔ پرانے شہر مشرقی یروشلم پر اسرائیل نے سن 1967 کی جنگ میں قبضہ کر لیا تھا اور پھر اسے اپنے میں الحاق کرنے کا اعلان کر دیا تاہم بین الاقوامی قوانین کے تحت یہ اقدام غیر قانونی ہے جسے تسلیم نہیں کیا گیا۔

    زبانی نکاح،پھر حق زوجیت ادا،پھر شادی سے انکار،خاتون پولیس اہلکار بھی ہوئی زیادتی کا شکار

    10 سالہ بچے کے ساتھ مسجد کے حجرے میں برہنہ حالت میں امام مسجد گرفتار

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ڈیجیٹل میڈیا ونگ ختم،ملک میں جاری انتشار اب بند ہونا چاہیے،وفاقی وزیر اطلاعات

    پارلیمنٹ لاجز میں صفائی کرنے والے لڑکے کو مؤذن بنا دیا گیا تھا،شگفتہ جمانی

  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی فوج کا فلسطینیوں پر حملہ:سعودی عرب اور امریکا کی شدید مذمت

    مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی فوج کا فلسطینیوں پر حملہ:سعودی عرب اور امریکا کی شدید مذمت

    یروشلم: امریکا نے جمعہ کے روز مسجد اقصیٰ کے صحن میں فلسطینی مظاہرین اور اسرائیلی پولیس کے درمیان جھڑپوں میں 150 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کے بعد "گہری تشویش” کا اظہار کیا-

    باغی ٹی وی : امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے ایک بیان میں کہا کہ ہم تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور اشتعال انگیز کارروائیوں اور بیان بازی سے گریز کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

    اسرائیلی فوج کا فلسطینیوں پرتشدد انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، وزیراعظم

    انہوں نے مزید کہا کہ ہم فلسطینیوں اور اسرائیلی حکام سے تناؤ کو کم کرنے اور سب کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے تعاون سے کام کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

    دوسری جانب سعودی عرب نے جمعے کے روز بیت المقدس میں مسجد الاقصی پر دھاوا بولنے، اس کے دروازے بند کرنے اور مسجد کے اندر اور اس کے بیرونی صحن میں نہتے نمازیوں پر حملہ کرنے پر اسرائیلی قابض افواج کی مذمت کی ہے۔

    سعودی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ وہ اس منظم دھاوے کو مسجد اقصیٰ کے تقدس اور اسلامی ملت کے لیے اس کی اہمیت پر ایک صریح حملہ اور متعلقہ بین الاقوامی قراردادوں اور معاہدوں کی خلاف ورزی سمجھتی ہے۔

    سعودی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ ’مملکت نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی قابض افواج کو نہتے فلسطینی عوام، ان کی سرزمین اور ان کے مقدس مقامات پر ہونے والے ان جاری جرائم اور خلاف ورزیوں کے لیے پوری طرح ذمہ دار ٹھہرائے۔

    صیہونی فوج کا مسجد اقصیٰ پر دھاوا: افغان طالبان کا شدید ردعمل

    یاد رہے جمعے کو طلوع فجر سے قبل اسرائیلی سکیورٹی فورسز مقبوضہ بیت المقدس میں واقع مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہو گئیں تھیں جہاں ہزاروں فلسطینی رمضان کے مقدس مہینے میں جمعہ کی نماز کے لیے جمع تھے اسرائیلی پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں 150 سے زائد فلسطینی زخمی ہو گئے یہ ماہ رمضان کے آغاز کے بعد اپنی نوعیت کی پہلی جھڑپیں ہیں یہ جھڑپیں اسرائیل اور مقبوضہ مغربی کنارے میں جان لیوا تشدد کی لہر کے تیسرے ہفتے رونما ہوئیں جب یہودیوں کا تہوار پاس اوور، عیسائیوں کا تہوار ایسٹر اور مسلمانوں کا مقدس مہینہ رمضان تینوں اکٹھے وقوع پذیر ہو رہے ہیں۔

    قابل ذکر ہے کہ یہ کشیدگی اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے میں اضافی فوجی نفری تعینات کرنے اور دیوار فاصل کو مضبوط کرنے کے اقدامات کے بعد سامنے آئی ہے حال ہی میں فلسطینیوں کے حملوں میں 14 اسرائیلی ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد اسرائیل غرب اردن میں اضافی فوج تعینات کی ہے-

    مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینیوں پرصہیونیوں کے مظالم پاکستان کاردعمل بھی آگیا

  • اسرائیلی فوج کا فلسطینیوں پرتشدد انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، وزیراعظم

    اسرائیلی فوج کا فلسطینیوں پرتشدد انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، وزیراعظم

    اسلام آباد: وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں پر تشدد میں اضافہ انسانی حقوق اور انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنی ٹویٹ میں وزیراعظم شہبازشریف نے مسجد اقصیٰ پر اسرائیلی فوجیوں کے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں پر تشدد میں اضافہ انسانی حقوق اور انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

    صیہونی فوج کا مسجد اقصیٰ پر دھاوا: افغان طالبان کا شدید ردعمل

    وزیراعظم نے کہا کہ ہم فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کے ساتھ کھڑے ہیں، وقت آگیا ہے کہ بین الاقوامی برادری معصوم فلسطینیوں کی جانوں کے تحفظ، بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کو برقرار رکھے۔

    قبل ازیں ترجمان دفترخارجہ عاصم افتخار احمد نے کہا تھا کہ پاکستان فلسطین کے مختلف مقبوضہ علاقوں میں موجودہ صورتحال پر شدید تحفظات کا اظہار کرتا ہے آج مسجد الاقصی پر اسرائیلی افواج کے حملوں میں 152 افراد کے زخمی اور 300 فلسطینیوں کو گرفتار کیا گیا، یہ عبادت گزاروں پر بالخصوص رمضان المبارک میں قابل مذمت حملہ تمام انسانی اقدار اور انسانی حقوق قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

    مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینیوں پرصہیونیوں کے مظالم پاکستان کاردعمل بھی آگیا

    عاصم افتخار احمد کا کہنا تھا کہ حالیہ چند ہفتوں میں اسرائیلی افواج نے مشرقی یروشلم و دیگر علاقوں میں درجنوں افراد کا قتل عام کیا جبکہ حالیہ چند ہفتوں میں اسرائیلی افواج نے مشرقی یروشلم و دیگر علاقوں میں بے شمار فلسطینیوں کو زخمی بھی کیااسرائیلی افواج کی جانب سے فلسطینی علاقوں میں تشدد میں اضافہ کی بھرپور مذمت کرتے ہیں، فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی فوج کے تشدد میں حالیہ اضافہ افسوسناک ہے۔

    قبل ازیں افغانستان میں طالبان حکومت نے صیہونی فوج کی جانب سے ماہ رمضان میں مسجد اقصیٰ پر دھاوا بولنے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا تھا افغان وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ افغان حکومت مسجد اقصیٰ میں فلسطینیوں پر تشدد کی شدید مذمت کرتی ہے عالمی برادری بالخصوص اسلامی ممالک فلسطینیوں کے انسانی حقوق کی بحالی اور اسرائیلی مظالم کو روکنے کیلئے عملی اقدامات کریں۔

    مقبوضہ بیت المقدس:اسرائیلی پولیس کی مسجد اقصیٰ میں ہوائی فائرنگ اور شیلنگ؛ 152…

    واضح رہے کہ گزشتہ روز اسرائیلی سیکیورٹی فورسز نے نماز فجر کے بعد مسجد اقصیٰ میں داخل ہوکر ہوائی فائرنگ اور آنسو گیس کی شیلنگ کی جس کے نتیجے میں 152 نمازی زخمی ہوگئے۔

    مسجد اقصیٰ میں نماز فجر کے بعد نمازیوں اور اسرائیلی سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپ ہوئی، اسرائیلی سیکیورٹی فورسز نے آنسو گیس کا بے دریغ استعمال کیا اور ہوائی فائرنگ بھی کی۔ اسرائیلی سیکیورٹی فورسز نے نمازیوں کو زدوکوب کیا اور تشدد کا نشانہ بنایا۔

    فلسطینی ہلال احمر نے بتایا تھا کہ اسرائیلی فورسز کی کارروائی میں 152 نمازی زخمی حالت میں لائے گئے جن میں درجن بھر کی حالت تشویشناک ہے۔

    اسرائیلی فوج کی کارروائیاں،17 روزے دار فلسطینی زخمی

  • مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینیوں پرصہیونیوں کے مظالم پاکستان کاردعمل بھی آگیا

    مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینیوں پرصہیونیوں کے مظالم پاکستان کاردعمل بھی آگیا

    پاکستان نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔اس حوالے سے اطلاعات ہیں‌کہ مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینیوں پرصہیونیوں کے مظالم پاکستان کاردعمل بھی آگیاہے

    اپنے ایک بیان میں ترجمان دفترخارجہ عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان فلسطین کے مختلف مقبوضہ علاقوں میں موجودہ صورتحال پر شدید تحفظات کا اظہار کرتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ آج مسجد الاقصی پر اسرائیلی افواج کے حملوں میں 152 افراد کے زخمی اور 300 فلسطینیوں کو گرفتار کیا گیا، یہ عبادت گزاروں پر بالخصوص رمضان المبارک میں قابل مذمت حملہ تمام انسانی اقدار اور انسانی حقوق قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

    عاصم افتخار احمد کا کہنا تھا کہ حالیہ چند ہفتوں میں اسرائیلی افواج نے مشرقی یروشلم و دیگر علاقوں میں درجنوں افراد کا قتل عام کیا جبکہ حالیہ چند ہفتوں میں اسرائیلی افواج نے مشرقی یروشلم و دیگر علاقوں میں بے شمار فلسطینیوں کو زخمی بھی کیا۔

    ترجمان دفترخارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسرائیلی افواج کی جانب سے فلسطینی علاقوں میں تشدد میں اضافہ کی بھرپور مذمت کرتے ہیں، فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی فوج کے تشدد میں حالیہ اضافہ افسوسناک ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی برادری سے بھی مطالبہ کرتا ہے کہ وہ بے گناہ فلسطینیوں کی جانوں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کرے۔

    عاصم افتخار احمد نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل پر زور دیا جائے کہ وہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کو برقرار رکھے، پاکستان فلسطینی کاز کے لیے اپنی مستقل اور بلا روک ٹوک حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہم فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کے حصول اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے ساتھ ساتھ دو ریاستی حل کی حمایت کرتے ہیں۔

    ترجمان دفترخارجہ عاصم افتخار احمد کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اقوام متحدہ اور او آئی سی کی قراردادوں کے مطابق 1967 سے پہلے کی سرحدوں کو تسلیم کرتا ہے جبکہ پاکستان القدس شریف کو ایک قابل عمل، خود مختار فلسطینی ریاست کا دارالحکومت تسلیم کرتا ہے۔

  • صیہونی فوج کا مسجد اقصیٰ پر دھاوا: افغان طالبان کا شدید ردعمل

    صیہونی فوج کا مسجد اقصیٰ پر دھاوا: افغان طالبان کا شدید ردعمل

    کابل :صیہونی فوج کا مسجد اقصیٰ پر دھاوا : افغان طالبان کا شدید ردعمل،اطلاعات کے مطابق افغانستان میں طالبان حکومت نے صیہونی فوج کی جانب سے ماہ رمضان میں مسجد اقصیٰ پر دھاوا بولنے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

    مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی فورسز نے جعمہ کی صبح مسجد اقصیٰ پر اچانک دھاوا بولتے ہوئے کمپاؤنڈ میں موجود نمازیوں پر آنسو گیس کی شیلنگ کی اور ان پر ربڑ کی گولیاں بھی برسائیں۔یاد رہے کہ اس واقعہ میں مسجد اقصیٰ کے کمپاؤنڈ میں اسرائیلی فورسز کی بربریت کے باعث 152 فلسطینی زخمی ہو ئے۔

    مسجد اقصیٰ پر اسرائیلی فوج کے دھاوے پر طالبان حکومت نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ افغان وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان حکومت مسجد اقصیٰ میں فلسطینیوں پر تشدد کی شدید مذمت کرتی ہے۔

    افغان وزارت خارجہ نے مطالبہ کیا کہ عالمی برادری بالخصوص اسلامی ممالک فلسطینیوں کے انسانی حقوق کی بحالی اور اسرائیلی مظالم کو روکنے کیلئے عملی اقدامات کریں۔

    یاد رہے کہ اس واقعہ میں اسرائیلی سیکیورٹی فورسز نے نماز فجر کے بعد مسجد اقصیٰ میں داخل ہوکر ہوائی فائرنگ اور آنسو گیس کی شیلنگ کی جس کے نتیجے میں 152 نمازی زخمی ہوگئے۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق مسجد اقصیٰ میں نماز فجر کے بعد نمازیوں اور اسرائیلی سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپ ہوئی، اسرائیلی سیکیورٹی فورسز نے آنسو گیس کا بے دریغ استعمال کیا اور ہوائی فائرنگ بھی کی۔

    اسرائیلی سیکیورٹی فورسز نے نمازیوں کو زدوکوب کیا اور تشدد کا نشانہ بنایا۔ فلسطینی ہلال احمر نے بتایا کہ اسرائیلی فورسز کی کارروائی میں 152 نمازی زخمی حالت میں لائے گئے جن میں درجن بھر کی حالت تشویشناک ہے۔

    دوسری جانب اسرائیلی پولیس کا کہنا تھا کہ چند نمازیوں نے یہودیوں کے لیے مختص جگہ پر پتھر برسائے جب انھیں روکا گیا تو سیکیورٹی فورسز پر بھی فائر کریکر پھینکے گئے جس کے جواب میں آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی۔

     

    رمضان المبارک کے مہینے میں ہزاروں کی تعداد میں مسلمان عبادت کے لیے مقدس مسجد آتے ہیں اور کسی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے مسجد اقصیٰ کے کسٹوڈین اردن اور اسرائیلی حکومت کے درمیان ضابطہ اخلاق بھی طے پایا تھا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ 2 ہفتوں کے دوران اسرائیل میں چار مختلف حملوں میں ایک درجن یہودیوں کی ہلاکت کے بعد سے اسرائیلی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 25 فلسطنی شہید ہوگئے ہیں۔

  • اسرائیلی فوج کی کارروائیاں،17 روزے دار فلسطینی زخمی

    اسرائیلی فوج کی کارروائیاں،17 روزے دار فلسطینی زخمی

    مقبوضہ بیت المقدس: اسرائیلی فوج کی کارروائیاں،17 روزے دار فلسطینی زخمی ،اطلاعات کے مطابق مقبوضہ دریائے اردن کے مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجیوں اور فلسطینی مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے مختلف واقعات میں 17 فلسطینی زخمی ہو گئے ہیں۔

    فلسطین کی ہلال احمر کے جاری کردہ تحریری بیان کے مطابق مغربی کنارے کے شمالی شہر تل کریم میں واقع ہادوری یونیورسٹی میں اسرائیلی فوجیوں اور فلسطینی مظاہرین کے درمیان پیش آنے والے تصادم کے واقعات میں 51 متاثرہ فلسطینیوں کو ابتدائی طبّی امداد فراہم کر دی گئی ہے۔

    بیان کے مطابق اسرائیلی فوجیوں کی کارروائی میں 17 فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں میں سے 2 کو اصلی گولیاں ماری گئی ہیں جبکہ 34 افراد کو گیس بموں کی وجہ سے دم گھٹنے کے خطرے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    موقع پر موجود افراد سے حاصل کی جانے والی معلومات کے مطابق اسرائیلی فوجیوں نے ہادوری یونیورسٹی کے طالبعلموں کے خلاف اصلی اور ربڑ کی گولیوں اور آنسو گیس کا استعمال کیا ہے۔

    واضح رہے کہ ماہِ رمضان سے پہلے ہی اسرائیلی فورسز اور فلسطینیوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران اسرائیل میں ہونے والے چار حملوں میں اب تک 14 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جس کے بعد اسرائیلی فوج نے اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ اب تک اسرائیلی فوج کی جانب سے دو خواتین سمیت کم از کم 10 فلسطینی شہید اور درجنوں زخمی کیے جا چکے ہیں۔

  • اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے دو فلسطینی خواتین شہید ،ایک شہری زخمی

    اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے دو فلسطینی خواتین شہید ،ایک شہری زخمی

    مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ سے دو فلسطینی خواتین ماری گئیں جبکہ ایک فلسطینی شہری زخمی بھی ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی : یہ واقعات اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ کی جانب سے اسرائیلی اہلکاروں کو ’جارحانہ‘ رویہ اختیار کرنے کی ہدایت کے بعد پیش آئے ہیں۔ عرب نیوز کے مطابق اسرائیلی فائرنگ سے ہلاک ہونے والی ایک خاتون مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوبی علاقے حسان میں جان سے گئیں۔

    یوکرین میں روسی جنگ برسوں تک چل سکتی ہے،امریکی جنرل

    اس واقعے کے عینی شاہدین کے مطابق اسرائیلی سپاہیوں نے حسان کے چیک پوائنٹ پر غدیر سبطین نامی خاتون کو گولی مار دی۔ غدیر چھ بچوں کی والدہ اور ایک بیوہ خاتون تھیں۔

    عینی شاہدین کے مطابق گلی میں سے گزرتے ہوئے ایک اسرائیلی فوجی نے انہیں رکنے کا کہا لیکن اسی دوران ایک اور فوجی نے انہیں دو بار گولی مار دی، بظاہر ان کی جانب سے ان فوجیوں کو کوئی خطرہ لاحق نہیں تھا اور وہ غیر مسلح تھیں۔

    ان خاتون کو جن کا نام نہیں ظاہر کیا گیا مبینہ طور پر ایک اسرائیلی پولیس اہلکار پر چاقو کے وار کرنے کے بعد گولی ماری گئی ہے۔

    اسرائیلی پولیس کے ترجمان کے مطابق مذکورہ خاتون نے ایک پولیس اہل کار پر چاقو سے وار کیا تھا پولیس کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ فلسطینی خاتون نے حرمِ ابراہیمی کے قریب سرحدی پولیس کی ایک چیک پوسٹ کا رخ کیا اور ایک پولیس اہل کار پر چاقو سے حملہ کیا۔ اس کے نتیجے میں پولیس اہل کار معمولی طور پر زخمی ہو گیا بعد ازاں حملہ آور خاتون کو ختم کر دیا گیا۔

    سری لنکن صدر کے خلاف سب سے بڑا تاریخی احتجاج ،’گو گوٹا ہوم‘ کے نعرے

    الخلیل شہر میں تقریبا ایک ہزار یہودی آباد کار سخت فوجی حفاظت کے سائے میں مقیم ہیں۔ شہر میں دو لاکھ فلسطینی بستے ہیں فلسطینی وزارت صحت نے اتوار کے روز مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوب میں اسرائیلی فورسز کی فائرنگ سے ایک فلسطینی خاتون کے جاں بحق ہونے کا اعلان کیا تھا۔

    رمضان کے مہینے میں اسرائیلی جارحیت کے بعد کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کے ایک ترجمان نے نفتالی بینیٹ کی حکومت پر ’اپنی گرتی ہوئی حکومت کو بچانے اور شدت پسندوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے فلسطینی خون استعمال کرنے‘ کا الزام عائد کیا ہے۔

    فلسطینی اتھارٹی کے ترجمان ابراہیم ملہم کا کہنا ہے کہ ’اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ کی ایما پر فلسطینی خاتون غدیر سبطین کا قتل سوچا سمجھا قتل تھا جو قابض افواج کی قاتلانہ سوچ کو ظاہر کرتا ہے کیا بینیٹ کو لگتا ہے کہ وہ روس سے لڑ رہے ہیں کہ وہ جارحیت اپنانے کی بات کرتے ہیں؟ وہ غیر مسلح فلسطینیوں پر حملہ کر رہے ہیں۔‘ فلسطینی وزیراعظم محمد اشتیہ نے بھی ’اسرائیلی جرائم‘ کی مذمت کی ہے۔

    روس میں افغان سفارت خانہ طالبان کے مقرر کردہ سفیر کے حوالے

    انہوں نے اسرائیلی حکومت کو ان واقعات کے نتائج کا مکمل ذمہ دار قرار دیا ہے انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیلی غیر قانونیت کو روکنے کے لیے دباؤ ڈالے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ غدیر سبطین اسرائیلی فوجیوں کے پاس ’مشکوک انداز‘ میں پہنچی تھیں۔

    سبطین غدیر کے قتل کے حوالے سے فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی بصارت متاثر ہو چکی تھی اور وہ ایک آنکھ سے دیکھ نہیں سکتی تھیں۔ فائرنگ سے زخمی ہونے کے بعد فلسطینی شہریوں کو انہیں ہسپتال لے جانے کی اجازت بھی نہیں دی گئی اور وہ زیادہ خون بہنے کی وجہ سے دم توڑ گئیں۔ اسرائیلی جارحیت میں جان سے جانے والی دوسری خاتون مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر ہیبرون سے تعلق رکھتی تھیں-

    روس نے بین الاقوامی تنظیموں”ایمنیسٹی انٹرنیشنل” اور "ہیومن رائٹس…

    قبل ازیں فلسطینی وزارت صحت نے ہفتے کے روز بتایا تھا کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں واقع جنین پناہ گزین کیمپ میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے ایک فلسطینی شہیداور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ وہ جنین پناہ گزین کیمپ میں عسکری کارروائی کر رہی ہے اس لیے کہ تل ابیب میں فائرنگ کرنے والا حملہ آور یہاں سے آیا تھا جمعرات کی شام اس حملے میں دو اسرائیلی ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔

    اسرائیلی فوج کے ترجمان افیخائی ادرعی نے جمعے کے روز بتایا تھا کہ اسرائیلی چیف آف اسٹاف ایویو کوچاوی نے فوری طور پر سیکورٹی مضبوط بنانے اور شمالی مغربی کنارے میں الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ ٹویٹر پر ادرعی نے بتایا کہ ان ہدایات میں شمالی مغربی کنارے میں فوجی مہموں کی توسیع شامل ہے۔

    ایران نے مزید 24 امریکی آفیشلز پر پابندیاں عائد کردیں