Baaghi TV

Tag: فلسطین

  • جنگ بندی،اسرائیل نے90 فلسطینی قیدی رہا کر دیئے

    جنگ بندی،اسرائیل نے90 فلسطینی قیدی رہا کر دیئے

    غزہ میں 15 ماہ سے جاری اسرائیلی جارحیت کے بعد اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدہ طے پایا ہے، جس کے بعد دونوں طرف کی میڈیا رپورٹس نے مختلف پہلوؤں پر تبصرہ کیا ہے۔

    اسرائیلی میڈیا میں اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ اسرائیلی فوج نے حماس کی 20 بٹالینز کو مکمل طور پر ختم کرنے کا دعویٰ کیا، لیکن یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ بٹالینز کس حد تک تباہ ہوئیں۔ دوسری جانب فلسطینی اور حماس کے میڈیا نے جنگ بندی کو حماس کی فتح کے طور پر پیش کیا ہے اور غزہ میں حماس کے کنٹرول کے قیام کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں۔حماس کے عسکری ونگ "القسام بریگیڈ” کے ترجمان ابو عبیدہ نے جنگ بندی معاہدے پر اپنے موقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حماس اس معاہدے کا احترام کرنے کے لیے پُرعزم ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کی کامیابی کا انحصار اسرائیل کے عمل پر ہے۔ ابو عبیدہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ بھی معاہدے کا احترام کرے، کیونکہ اسرائیل کی طرف سے کسی بھی قسم کی خلاف ورزی پورے معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ غزہ پر اسرائیلی قبضہ تمام برائیوں کی جڑ ہے اور حماس اس قبضے کو ختم کرنے کے لیے اپنی تمام تر طاقت کے ساتھ مزاحمت جاری رکھے گی۔ ان کے مطابق، غزہ پر اسرائیل کا قبضہ ہی فلسطینی عوام کی مشکلات کی وجہ ہے، اور حماس اس قبضے کے خاتمے کے لیے مسلسل جدوجہد کرے گی۔

    قیدیوں کا تبادلہ: حماس اور اسرائیل کے اقدامات
    جنگ بندی کے تحت دونوں فریقوں نے قیدیوں کا تبادلہ کیا۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، حماس نے 3 اسرائیلی خواتین قیدیوں کو ریڈ کراس کے حوالے کیا، جنہیں اسرائیلی فوج کے خصوصی یونٹ تک پہنچایا گیا اور پھر اسرائیلی فوجی اسپتال میں منتقل کیا گیا۔ اس کے بعد اسرائیل نے جنگ بندی معاہدے کے تحت اپنے جیلوں سے 90 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا، جن میں 69 خواتین اور 21 بچے شامل تھے۔یہ قیدی اسرائیلی جیلوں میں طویل عرصے سے قید تھے، اور ان کی رہائی کے بعد مغربی کنارے میں ان کا والہانہ استقبال کیا گیا۔ رہائی پانے والے فلسطینی قیدیوں کا قافلہ دو بسوں میں مغربی کنارے کے شہر بیتونیہ پہنچا، جہاں ان کا فلسطینی عوام کی جانب سے استقبال کیا گیا۔ ایک فلسطینی طالبہ نے جو ان قیدیوں میں شامل تھی، بتایا کہ اسرائیلی حراست کے دوران انہیں خوراک اور پانی کی کمی کا سامنا تھا، اور حالات انتہائی خوفناک تھے۔حماس نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ قیدیوں کا اگلا تبادلہ 25 جنوری کو ہوگا، جس میں غزہ سے 4 اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کی جائے گی۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق، اس تبادلے میں حماس سے رہائی پانے والے 4 اسرائیلی یرغمالی ہوں گے۔

    جنگ بندی کے بعد اسرائیلی میڈیا نے غزہ کی صورتحال پر اپنی رپورٹس میں کہا ہے کہ حماس کے کارکن سڑکوں پر دوبارہ سرگرم نظر آ رہے ہیں، اور یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ حماس نے غزہ میں اپنا کنٹرول دوبارہ قائم کر لیا ہے۔ اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ حماس کی پولیس دوبارہ منظم ہو رہی ہے اور غزہ کا انتظام سنبھال رہی ہے۔ غزہ میں امن و امان کی بحالی میں حماس کی پولیس آگے نظر آ رہی ہے۔اسرائیلی میڈیا نے اس بات کا بھی ذکر کیا ہے کہ حماس نے غزہ میں سرنگوں سے نکل کر اپنی موجودگی کو دوبارہ ظاہر کیا ہے، اور اس کی مزاحمتی فورسز ٹرکوں میں گشت کرتی نظر آ رہی ہیں۔ اسرائیلی اخبار نے کہا کہ فلسطینی میڈیا جنگ بندی کو حماس کی فتح کے طور پر پیش کر رہا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ حماس نے غزہ پر اپنے کنٹرول کو برقرار رکھنے کی حکمت عملی اختیار کی ہے۔اسرائیل نے اپنی جنگی حکمت عملی میں دعویٰ کیا کہ اس نے حماس کی 20 بٹالینز کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔ تاہم اسرائیلی میڈیا نے واضح کیا کہ یہ بٹالینز تباہ نہیں ہوئیں بلکہ ان کے آپریشنل اثرات کو کم کیا گیا ہے۔ اس کے باوجود، حماس نے غزہ میں اپنی حکمت عملی کو برقرار رکھا ہے اور جنگ بندی کے دوران بھی غزہ کے انتظام میں اہم کردار ادا کیا ہے۔حماس کی مزاحمتی فورسز اب بھی غزہ کے مختلف علاقوں میں گشت کرتی نظر آ رہی ہیں اور اس کا عزم ظاہر کر رہی ہیں کہ وہ اسرائیل کی جارحیت کے خلاف مزاحمت جاری رکھیں گے۔

    غزہ پر اسرائیل کی جارحیت گزشتہ 15 ماہ سے جاری تھی جس میں ہزاروں فلسطینی شہید اور زخمی ہوئے۔ فلسطینی محکمہ صحت کے مطابق، اسرائیل کی کارروائیوں میں 47,899 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں بچے اور خواتین شامل ہیں۔ ایک لاکھ 10 ہزار سے زائد فلسطینی زخمی ہوئے ہیں اور ہزاروں افراد لاپتا ہیں۔ اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں غزہ میں وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی اور شہری انفراسٹرکچر بھی شدید متاثر ہوا۔ جنگ بندی معاہدہ اس طویل اور تباہ کن جنگ کا خاتمہ کرنے کی کوشش ہے، لیکن اس کی کامیابی کا دارومدار دونوں طرف کی سیاسی اور عسکری حکمت عملیوں پر ہے۔

    غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدہ ایک اہم موڑ ہے، لیکن اس کے بعد کی صورتحال پیچیدہ اور غیر یقینی نظر آ رہی ہے۔ حماس نے اپنی مزاحمت اور غزہ پر کنٹرول کو دوبارہ مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے، جبکہ اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے حماس کی عسکری طاقت کو کمزور کیا ہے۔ دونوں فریقوں کی جانب سے اپنے موقف اور اقدامات کا سلسلہ جاری ہے، اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ جنگ بندی معاہدہ پائیدار امن کا باعث بنے گا یا نہیں۔

  • جنگ بندی معاہدہ:اسرائیل نے95 فلسطینی قیدیوں کی فہرست جاری کردی

    جنگ بندی معاہدہ:اسرائیل نے95 فلسطینی قیدیوں کی فہرست جاری کردی

    تل ابیب: اسرائیل نے جنگ بندی معاہدے کے تحت رہا ہونے والے 95 فلسطینی قیدیوں کی فہرست جاری کردی ہے –

    باغی ٹی وی : اسرائیلی روزنامہ ہاریٹز کی رپورٹ کے مطابق فہرست میں 69 خواتین، 16 مرد اور 10 نابالغ شامل ہیں وزارت کے مطابق فہرست میں سب سے کم عمر قیدی 16 سال کا ہے، ان قیدیوں کو اسرائیلی یرغمالیوں کے بدلے اتوار سے رہا کیا جائے گا فہرست میں فلسطینی پارلیمنٹ کی رکن اور قانون ساز خالدہ جرار بھی شامل ہیں، جنہیں جنگ کے آغاز میں گرفتار کیا گیا تھا اور اس کے بعد سے وہ بغیر کسی مقدمے کے حراست میں ہیں۔

    اس سے قبل اسرائیل کی سکیورٹی کابینہ اور حکومت نے جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کی منظوری دی تھی، اسرائیل کی سیکیورٹی کابینہ نے حماس کے ساتھ طے پانے والے سیز فائر معاہدے کی توثیق کر دی۔

    موریطانیہ کشتی حادثہ ،انسانی اسمگلرگینگ کی مبینہ رکن خاتون گرفتار

    قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ کابینہ نے سیاسی، سیکیورٹی اور انسانی ہمدردی کے پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد اس معاہدے کی توثیق کی۔بیان کے مطابق سیکیورٹی کابینہ نے حکومت کو اسے منظور کرنے کی سفارش کی ہے، اس معاہدے کو اب مکمل کابینہ کے سامنے ووٹ کے لیے پیش کیا جائے گا۔واضح رہے کہ 15 جنوری کو اسرائیل اور حماس کے درمیان یرغمالیوں اور قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ طے پا گیا تھا۔

    سیف علی خان حملہ،ملزم نے کپڑے بدلے،ننگے پاؤں آیا،جوتے پہن کر گیا

    قطری وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی نے پریس کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ مشترکہ میڈیا کوششوں کی کامیابی اور اس حقیقت کا اعلان کرتے ہوئے بہت خوشی ہے کہ غزہ میں فریق قیدیوں اور یرغمالیوں کے تبادلے کے ایک معاہدے پر پہنچ گئے ہیں اور فریقین نے مستقل جنگ بندی کی امید پر معاہدے کیا ہے۔انہوں نے کہا تھا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان اعلان کردہ جنگ بندی معاہدہ غزہ تک امداد کی فراہمی کی راہیں کھولے گا۔قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی نے کہا تھا کہ غزہ جنگ بندی معاہدہ 19 جنوری (اتوار) سے نافذ العمل ہوگا۔ پہلا مرحلہ 42 دن تک جاری رہے گا، اس میں جنگ بندی اور آبادی والے علاقوں سے اسرائیلی افواج کا انخلا شامل ہے۔

    پاکستانی عدالتیں کسی بھی ٹرمپ کارڈ پر نہیں چلیں گی۔شرجیل میمن

    انہوں نے کہا کہ اسرائیلی افواج غزہ کی پٹی کی سرحد پر تعینات رہیں گی، جبکہ قیدیوں اور یرغمالیوں کے تبادلے کے ساتھ بے گھر افراد کو ان کی رہائش گاہوں پر واپس جانے کی اجازت دی جائے گی۔شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی کا مزید کہنا تھا کہ جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں غزہ کی پٹی کے تمام حصوں میں امدادی سامان کی فراہمی میں اضافہ کے علاوہ ہسپتالوں، صحت کے مراکز اور بیکریوں کی بحالی بھی شامل ہےبے گھر افراد کے لیے ایندھن، شہری دفاع کے آلات اور بنیادی ضروریات کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔

    عافیہ صدیقی کی بائیڈن کی رخصتی سے قبل معافی کی اپیل

  • میکسیکو:فلسطین زندہ باد کا نعرہ لگا کر ایک شخص نےاسرائیلی وزیراعظم کا مجسمہ توڑ دیا

    میکسیکو:فلسطین زندہ باد کا نعرہ لگا کر ایک شخص نےاسرائیلی وزیراعظم کا مجسمہ توڑ دیا

    میکسیکو میں احتجاج کرنے والے ایک شخص نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا موم کا مجسمہ توڑ دیا۔

    باغی ٹی وی : دارالحکومت میکسیکو سٹی کے ایک میوزیم میں پیش آنے والے اس واقعے کی سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں احتجاج کرنے والے نے مجسمے کو ہتھوڑے سے نقصان پہنچانے سے قبل اس پر سرخ رنگ پھینکا ویڈیو میں مجسمے کے نیچے فلسطین کا جھنڈا بھی دیکھا گیا،بعد ازاں اس شخص نے کیمرے میں فلسطین زندہ باد، سوڈان زندہ باد، یمن زندہ باد، پورٹو ریکو زندہ باد کے نعرے لگائے۔

    بی ڈی ایس میکسیکو کی جانب سے پوسٹ کی جانے ویڈیو میں کارکن نے لکھا کہ وہ اس جنگی مجرم کا مجسمہ گرانے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں کیوں کہ میکسیکو سٹی کا ویکس میوزیم اس کو 40 ہزار فلسطینیوں کےخون سے رنگنا بھول گیا تھا انہوں نے یہ امر یہودی لوگو ں(جن سے وہ بہت محبت کرتے ہیں) کی رضا مندی سے کیا ہے اور ان کی شناخت پر ان قاتلوں نے زبردستی قبضہ جما لیا ہے۔

  • حماس کی 34 یرغمالیوں کی رہائی پر رضامندی

    حماس کی 34 یرغمالیوں کی رہائی پر رضامندی

    غزہ میں جنگ بندی معاہدے کی امید، حماس نے 34 یرغمالیوں کی رہائی پر رضامندی ظاہر کر دی

    غیر ملکی خبر ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس نے ممکنہ جنگ بندی معاہدے کے تحت 34 یرغمالیوں کی رہائی پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ اس اہم پیشرفت کے بارے میں اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ دوحہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے بات چیت کا عمل دوبارہ شروع ہو چکا ہے، جس میں قطر، مصر اور امریکہ کی ثالثی میں کئی ماہ سے کوششیں جاری ہیں۔خبر ایجنسی کے مطابق حماس کے ایک رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اسرائیل کی جانب سے قیدیوں کے تبادلے کے لیے جو فہرست فراہم کی گئی ہے، اس میں سے 34 یرغمالیوں کی رہائی کے لیے حماس تیار ہے۔ حماس رہنما نے مزید کہا کہ ابتدائی تبادلے میں تمام خواتین، بچے، عمر رسیدہ اور بیمار افراد شامل ہو سکتے ہیں جو غزہ میں اسرائیلی فوج کے قبضے میں ہیں۔حماس رہنما نے یہ بھی کہا کہ یہ ممکن ہے کہ کچھ یرغمالی ہلاک ہو چکے ہوں، لیکن ان کی حالت کا تعین کرنے کے لیے حماس کو مزید وقت درکار ہے۔ ان کے مطابق غزہ میں موجود حماس کے جنگجوؤں سے رابطے اور زندہ یا ہلاک یرغمالیوں کی شناخت کے لیے کم از کم ایک ہفتے کا امن ضروری ہوگا۔

    خبر رساں ایجنسی کے مطابق دوحہ میں فریقین کے نمائندہ وفود کے درمیان بات چیت دوبارہ شروع ہونے کی توقع تھی، جو ہفتے کے اختتام تک جاری رہنی تھی۔ تاہم، حماس رہنما کے بیان کے سوا اس بات چیت کی مزید تفصیل سامنے نہیں آ سکی۔ فرانس کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ فریقین پر معاہدے پر پہنچنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے تاکہ جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی کے لیے ایک معاہدہ طے پائے۔

    یاد رہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کی جانب سے اسرائیل پر کیے گئے حملے کے نتیجے میں 251 افراد کو یرغمال بنایا گیا تھا۔ بعد میں ایک عارضی معاہدے کے تحت 80 اسرائیلی یرغمالی اور 240 فلسطینی قیدیوں کو اسرائیلی جیلوں سے رہا کر دیا گیا تھا۔ تاہم، اس وقت بھی غزہ میں 96 یرغمالی حماس کے قبضے میں ہیں، جب کہ اسرائیلی فوج کے مطابق 34 یرغمالی ہلاک ہو چکے ہیں۔

    دوسری جانب، غزہ پٹی پر اسرائیلی حملے جاری ہیں اور صرف گزشتہ تین دنوں میں ہونے والے اسرائیلی حملوں میں تقریباً 100 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کے بعد سے غزہ پٹی پر اسرائیلی حملوں میں اب تک 45,805 فلسطینی شہید اور 98,000 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

    دونوں فریقین کے درمیان جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے لیے مسلسل کوششیں جاری ہیں، تاہم غزہ کی موجودہ صورتحال اور اسرائیلی حملوں کے باعث فوری طور پر امن قائم ہونے کی کوئی واضح امید نظر نہیں آ رہی۔ جنگ بندی کے معاہدے کے کامیاب ہونے کا انحصار فریقین کے درمیان مذاکرات اور عالمی دباؤ پر ہوگا۔

    بھارتی ہیلی کاپٹرز حادثات، فضائی عملے کی صلاحیتوں پر سنگین سوال

    کراچی،تاجر پر حملے کا مقدمہ ترجمان میئر کے خلاف درج

  • اسرائیل 200 فلسطینیوں کو رہا کرنے پر رضامند

    اسرائیل 200 فلسطینیوں کو رہا کرنے پر رضامند

    اتوار کے روز اسرائیل نے عمر قید کی سزا پانے والے تقریباً 200 فلسطینیوں کو رہا کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے، تاہم ان قیدیوں کی شناخت پر تنازع پیدا ہو گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : العربیہ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی براڈکاسٹ اتھارٹی نے اطلاع دی ہے کہ تنازع کا ایک اہم نکتہ فلسطینی قیدیوں کی تعداد سے متعلق ہے جن کا اسرائیل مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اس معاہدے سے نکل جائیں اسرائیل نے 65 فلسطینی سکیورٹی قیدیوں کی رہائی کو ویٹو کرنے کے حق کا مطالبہ کیا حماس کو یہ لگتا ہے کہ اسرائیل کا یہ مطالبہ مذاکرات میں بڑی رکاوٹ ہے۔

    اسرائیلی براڈکاسٹنگ اتھارٹی نے اسرائیل کے ایک باخبر سیاسی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ مروان برغوثی جو فلسطینی رہنماوں میں سے ایک سمجھے جاتے ہیں کو حتمی معاہدہ ہونے کے باوجود رہا نہیں کیا جائے گا۔

    قبل ازیں اسرائیلی اخبار ’’یدیعوت احرونوت‘‘ نے اسرائیلی حکام کے حوالے سے خبر دی تھی کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی مدت ختم ہونے سے پہلے قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے تک پہنچنے کے امکانات کم ہیں کیونکہ اسرائیل جامع معاہدے کے بجائے جزوی معاہدے پر غور کر رہا ہے، اسرائیل اور حماس کے مابین جاری جنگ کو روکنے کے اشارے موجود ہیں جس کے لیے کئی دنوں سے مذاکرات جاری ہیں لیکن ایک حتمی معاہدہ ابھی تک واضح طور پر سامنے نہیں آیا –

    حماس نے ان فلسطینی قیدیوں کی فہرست حوالے کی ہے جن کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے جس میں پہلے مرحلے میں 250 قیدی شامل ہیں جبکہ اسرائیل نے 34 اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے،اسرائیل کچھ شخصیات کی رہائی سے انکار کرتا آ رہا ہے جن میں تحریک الفتح کے رہنما مروان برغوثی شامل ہیں۔ اسی طرح جن دیگر مسائل پر تنازع جاری ہے ان میں رفح کراسنگ سے اسرائیلی فوج کے ہٹنے کا معاملہ بھی ہے۔

    اخبار کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکام نے امریکی صدر جو بائیڈن کی مدت ختم ہونے سے قبل ایک جامع ڈیل طے پانے کے امکان کو مسترد کر دیا انہوں نے زور دے کر کہا کہ اسرائیل ایک جزوی معاہدے کے ساتھ آگے بڑھنے کے آپشن پر غور کر رہا ہے جس میں معلومات یا ضمانتوں کے بدلے کچھ قیدیوں کو رہا کرنا بھی شامل ہے

  • پریانکا گاندھی کی پارلیمنٹ میں فلسطین کے بیگ کیساتھ آمد،بی جے پی آگ بگولہ

    پریانکا گاندھی کی پارلیمنٹ میں فلسطین کے بیگ کیساتھ آمد،بی جے پی آگ بگولہ

    نئی دہلی: بھارت میں کانگریس کی نو منتخب رکن پارلیمنٹ پریانکا گاندھی نے بھی فلسطینیوں سے یکجہتی کا اظہار کردیا،جس نے حکمران جماعت بی جے پی کو آگ بگولہ کر دیا-

    باغی ٹی وی: پریانکا گاندھی رکن منتخب ہونے کے بعد پارلیمنٹ کے اپنے پہلے ہی اجلاس میں فلسطین لکھا ہوا بیگ لے کر پہنچ گئیں،پریانکا گاندھی نے گزشتہ ہفتے بھارت میں فلسطینی ناظم الامور سے بھی ملاقات کی تھی۔

    کانگریس کی جنرل سکریٹری پریانکا گاندھی کھل کر غزہ میں اسرائیل کی کارروائیوں کے خلاف آواز اٹھا رہی ہیں اور فلسطینی عوام کی حمایت کا اظہار کر رہی ہیں نئی دہلی میں فلسطینی سفارت خانے کے چارج ڈی افیئرز عابد الرازگ ابو جزر نے پریانکا گاندھی سے ملاقات کی اور انہیں کیرالہ کے وایناڈ حلقہ سے انتخاب جیتنے پر مبارکباد دی۔

    بی جے پی لیڈر سمبت پاترا نے پریانکا گاندھی کی وائرل تصویر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ لوگ ایسی حرکتیں خبروں میں رہنے کے لیے کرتے ہیں،گاندھی خاندان ہمیشہ دوسروں کو خوش کرنے کی کوشش کرتا ہے، چاہے اس کا مطلب ملک کے مفادات کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔

    اس سے قبل جون میں پریانکا گاندھی نے غزہ میں اسرائیلی حکومت کی بربریت پر اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو پر سخت تنقید کی تھی،انہوں نے کہا تھا کہ غزہ کے معصوم لوگوں بشمول بچوں، خاندانوں اور کارکنوں کے لیے صرف بولنا ہی کافی نہیں ہے غزہ میں خوفناک تشدد اور قتل و غارت پر مزید سخت کارروائی عمل میں لانے کی ضرورت ہے۔

  • اسرائیل کا  فلسطین کے مغربی کنارے پر  خود کار ہتھیار نصب کرنے کا فیصلہ

    اسرائیل کا فلسطین کے مغربی کنارے پر خود کار ہتھیار نصب کرنے کا فیصلہ

    تل ابیب: اسرائیل نے غزہ کے بعد اب فلسطین کے مغربی کنارے پر بھی خود کار ہتھیار نصب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی:مڈل ایسٹ کے مطابق اسرائیل نے فلسطین کے مغربی کنارے میں آباد کی گئی غیر قانونی آبادیوں کی حفاظت کے نام پر خودکار ہتھیار نصب کرنے کا فیصلہ کیا ہے؛اسرائیلی فوج مغربی کنارے پر دور سے کنٹرول کیے جانے والے خودکار ہتھیار نصب کرنے کی تیاری کررہی ہے، اس خودکار سسٹم کو ‘See-Fires’ بھی کہا جاتا ہے جس میں ایک ٹاور، نگرانی کے جدید آلات اور مہلک آگ نکالنے والے ہتھیاروں سمیت دیگر ہتھیار شامل ہیں-

    مغربی کنارے کے لیے ان سسٹمز کی تیاری شروع ہو چکی ہے،ابتدائی طور پر، انہیں اسرائیلی فوج کی طرف سے اعلی خطرے والے مقامات پر نصب کیا جائے گا، فلسطینی مغربی کنارے میں 300 غیر قانونی اسرائیلی آبادیاں قائم ہیں جن میں تقریباً 7 لاکھ اسرائیلی آبادکار رہائش پذیر ہیں، جنہیں 1967 کی جنگ میں اسرائیل کے قبضے کے بعد سے تعمیر کیا گیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق، علاقے میں بڑھتے ہوئے سیکورٹی خطرات کے بارے میں اسرائیل کے بڑھتے ہوئے خدشات کے درمیان، مغربی کنارے کے ڈویژن کا 636 Reconn

    واضح رہے کہ اسرائیلی فوج خود کار ہتھیاروں کے اس سسٹم کو 2008 سے استعمال کررہی ہے اور یہ سسٹم اس سے قبل غزہ کے بارڈر کے ساتھ لگائی گئی اسرائیلی باڑ کے ساتھ بھی نصب کیا گیا تھا تاکہ غزہ سے ہونے والے حملوں کو روکا جائے۔

  • ٹر مپ کے رویے کیخلاف  اورفلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کیلئےملین مارچ کا اعلان

    ٹر مپ کے رویے کیخلاف اورفلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کیلئےملین مارچ کا اعلان

    لاہور: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کےلئے 29دسمبر کوملین مارچ کا اعلان کردیا۔

    باغی ٹی وی : منصورہ لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کی شدید مذمت کرتے ہیں، اسرائیل کو امریکا کی پشت پناہی حاصل ہے، امریکا لاکھوں مسلمانوں کو قتل کرنے والا ملک ہے اب تک 45 ہزار فلسطینیوں کو اسرائیل قتل کر چکا ہےامریکی نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ قتل عام نظر نہیں آرہا، جماعت اسلامی فلسطینیوں کے ساتھ کھڑی ہے۔

    امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ چاہتے ہیں عوام متحد ہوکر ملک کی بہتری کیلئے آگے بڑھیں، حکومت غیر قانونی اقدامات کرکے عوام کو تقسیم کررہی ہے، ملک کے خلاف کسی بھی قسم کی کوئی سازش قابل قبول نہیں،ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی کہ صدارت سنبھالنے تک تمام اسرائیلی یرغمالیوں کو چھوڑ دیا جائے وگرنہ وہ قتل عام کریں گے جو قابل مذمت ہے، جماعت اسلامی نے فیصلہ کیا ہے کہ ٹر مپ کے رویے کے خلاف اور فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کےلئے29دسمبر کو اسلام آباد میں ملین مار چ ہوگا۔

  • وزیر اعظم  کی  پاکستان میں فلسطین کے سفیر سے ملاقات

    وزیر اعظم کی پاکستان میں فلسطین کے سفیر سے ملاقات

    اسلام آباد: وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے پاکستان میں فلسطین کے سفیر ڈاکٹر ظہیر محمد حمد اللہ زید نے آج وزیر اعظم ہاؤس میں ملاقات کی۔

    باغی ٹی وی : فلسطینی سفیر کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیراعظم نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت، آزادی اور انصاف کے حصول کے لیے ان کی منصفانہ جدوجہد کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا،انہوں نے معصوم فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کی نسل کشی خصوصاً 7 اکتوبر 2023 کے بعد سے بگڑتی ہوئی صورتحال جس کے نتیجے میں 43,000 سے زائد جانیں ضائع ہوئیں اور 105,000 سے زائد زخمی ہوئے، کے اقدامات کی پاکستان کی شدید مذمت کا اعادہ کیا.

    وزیراعظم نے اقوام عالم کی جانب سے اسرائیل کا سخت احتساب نہ ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور غزہ میں فوری اور غیر مشروط جنگ بندی اور مقبوضہ علاقوں میں مصیبت زدہ فلسطینی عوام کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی بلا روک ٹوک فراہمی کے مطالبے کا اعادہ کیا۔

    وزیراعظم نے فلسطینی سفیر کو یقین دلایا کہ پوری پاکستانی قوم بہادر فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کی ہر ممکن حمایت جاری رکھے گی،وزیر اعظم نے اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل پر مبنی منصفانہ اور دیرپا حل کی ضرورت پر بھی زور دیا جس کی سرحدوں کا تعین 1967 سے پہلے کی بنیاد پر ہو اور جس کا دارالحکومت القدس ہو۔

    سفیر ڈاکٹر ظہیر محمد حمد اللہ زید نے فلسطینی عوام کی موجودہ مشکلات میں پاکستان کی ثابت قدم حمایت کے ساتھ ساتھ مسئلہ فلسطین پر پاکستان کے اصولی موقف کو سراہا انہوں نے وزیراعظم کی ذاتی قیادت اور فلسطین کے لیے حمایت کے ساتھ ساتھ انتہائی ضروری انسانی امداد فراہم کرنے اور فلسطینی میڈیکل طلباء کو پاکستان میں تعلیم مکمل کرنے کے لیے وظائف کی فراہمی پر شکریہ ادا کیا۔

    وزیر اعظم نے فلسطینی سفیر کی پاکستان میں تعیناتی کے حوالے سے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور انہیں ہر وقت اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔

  • فلسطینی ریاست کے قیام کیلئے فرانس اور سعودی عرب ایک پیج پر

    فلسطینی ریاست کے قیام کیلئے فرانس اور سعودی عرب ایک پیج پر

    فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے اعلان کیا ہے کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ مل کر فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے ایک مشترکہ کانفرنس کا انعقاد کریں گے۔ اس کانفرنس کا مقصد اسرائیل اور ممکنہ فلسطینی ریاست کے درمیان دو ریاستی حل کے لیے مذاکرات کی راہ ہموار کرنا ہے۔

    صدر میکرون کا کہنا تھا کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور وہ اس کانفرنس کی مشترکہ صدارت کریں گے، جو جون میں بلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ فرانسیسی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ فلسطین کا مسئلہ ایک طویل عرصے سے عالمی سطح پر توجہ کا مرکز رہا ہے، اور اب وقت آگیا ہے کہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر مزید سفارتی کوششیں کی جائیں۔صدر میکرون نے کہا کہ وہ اور سعودی ولی عہد فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے اپنے سفارتی کوششوں کو مزید بڑھائیں گے، تاکہ اس بحران کو حل کرنے کی راہ پر گامزن ہوا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کانفرنس کا مقصد عالمی شراکت داروں کو اس معاملے کے حل کی جانب متوجہ کرنا ہے۔

    صحافیوں کی جانب سے سوال کیا گیا کہ آیا فرانس فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا؟ تو میکرون نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس وقت فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے پر غور کریں گے جب یہ قدم دو طرفہ تسلیم کی تحریک کے آغاز کے طور پر اٹھایا جائے گا۔صدر میکرون نے مزید وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ فرانس اس بات کا خواہاں ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان دو ریاستی حل کی جانب قدم بڑھایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ فرانس یورپی اور غیر یورپی اتحادیوں کو اس معاملے میں شامل کرنا چاہتا ہے جو اس دو ریاستی حل کی سمت میں قدم بڑھانے کے لیے تیار ہیں۔

    دوسری جانب سعودی عرب نے اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا۔ سعودی عرب کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے فلسطینی عوام کے حقوق کی پامالی اور فلسطین کے مکمل آزاد ہونے تک اس کے ساتھ کسی بھی نوعیت کے تعلقات قائم نہیں کیے جا سکتے۔ یورپی یونین کے بعض نمائندوں نے فرانس اور سعودی عرب کی مشترکہ سفارتکاری کو سراہا ہے، تاہم بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ بات چیت کے بغیر فلسطینی ریاست کے قیام کی بات کرنا پیچیدہ مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔

    فرانسیسی صدر کا یہ اعلان عالمی سیاست میں اہم تبدیلیوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اگر یہ کانفرنس کامیاب ہوتی ہے اور دونوں طرف سے مذاکرات کی راہ ہموار ہوتی ہے، تو یہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان دیرینہ تنازعہ کے حل کی سمت میں ایک سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔