Baaghi TV

Tag: فلسطین

  • اسرائیل کی وحشیانہ بمباری،73فلسطینی شہید

    اسرائیل کی وحشیانہ بمباری،73فلسطینی شہید

    غزہ:غزہ کے شمالی علاقےبیت لاہیہ پر اسرائیلی فوج نے مسلسل بمباری کی جس میں درجنوں عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں جبکہ حملے میں 71 فلسطینی شہید ہو گئے-

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق عمارتوں کے ملبے میں 100 سے زائد خواتین، بچے اور بزرگ دب گئے۔ پورا علاقہ تباہی کا منظر پیش کر رہا ہےامدادی کاموں کے دوران عمارتوں کے ملبے سے کم از کم 73 لاشیں نکالی گئی ہیں جب کہ درجنوں افراد کو شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا ہے، اسرائیلی فوجیوں نے ببیت لاہیہ کا 16 روز سے محاصرہ کیا ہوا ہے خوراک، پانی، ادویات اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قلت پیدا ہوگئی –

    دوسری جانب غزہ کی پٹی میں شہری دفاع نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے محصور شمالی غزہ کو نشانہ بنانے کی مہم شروع کرنے کے بعد گذشتہ دو ہفتوں کے دوران شمالی غزہ کی پٹی میں 400 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو گئے۔

    بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی: ایمریٹس نےایران اور عراق کے لیے اپنی پروازیں منسوخ کر …

    شہری دفاع کے ترجمان محمود بسال نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ ان کی ٹیموں نے شمالی غزہ کی پٹی کی گورنری میں نشانہ بنائے گئے مختلف مقامات سے 400 سے زائد افراد کی لاشیں برآمد کی ہیں، جن میں جبالیہ اور اس کے کیمپ بیت لاہیہ اور بیت حانون شامل ہیں،ان سب کو شمالی غزہ کی پٹی، کمال عدوان، العودہ اور انڈونیشیا ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے، جمعہ تک 386 افراد کی لاشیں برآمدکی گئی تھیں، اس کے علاوہ ہفتے کی صبح جبالیہ پناہ گزین کیمپ پر اسرائیلی بمباری میں مزید میں 33 افراد ہلاک ہوئے۔

    واضح رہے کہ غزہ میں 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی بمباری میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 42 ہزار سے تجاوز کرگئی جب کہ 99 ہزار سے زائد زخمی ہیں۔

    26 ویں آئینی ترمیم: قومی اسمبلی اجلاس میں سکیورٹی کے سخت انتظامات

  • پاکستان کا فلسطین اور لبنان کے لیے سامان بھیجنے کا فیصلہ

    پاکستان کا فلسطین اور لبنان کے لیے سامان بھیجنے کا فیصلہ

    کراچی: پاکستان نے فلسطین اور لبنان کے لیے 200 ٹن امدادی سامان بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی : ایم ڈی این ڈی ایم اے کے مطابق فی طیارے میں 100 ٹن کے لگ بھگ سامان کی فراہمی کو ممکن بنایا جائے گا جس میں اشیائےخور و نوش کے علاوہ کمبل، خیمے اورادویات شامل ہوں گی این ڈی ایم اے نے کارگو ائیرکرافٹ آپریٹ کرنے والی کمپنیزسے پیشکشیں طلب کرلی ہیں، بولی میں شریک ہونے کے درخواست فارم این ڈی ایم اے اور پیپرا کی ویب سائٹ سے ڈاؤن لوڈ کیے جاسکتے ہیں،بولی کی دستاویزات 13 اکتوبر تک جمع کروائی جاسکتی ہیں، ‏درخواستیں بولی دہندگان کی موجودگی میں اسی روز کھولی جائیں گی۔

    میجر (ر) میثم رضا اعوان نے شہباز گل کو اوقات یاد دلا دی

    پاکستان میں کرپشن ختم کرنے کے لیے تحقیقاتی نظام بہتر بنایا جائے،آئی ایم ایف

    صحرا صحارا میں بارش،50 سال سے خشک جھیل دریا بن گئی

  • فلسطینی عوام کے دکھوں کا مداوا کرنے والا کوئی دکھائی نہیں دیتا،مرتضیٰ وہاب

    فلسطینی عوام کے دکھوں کا مداوا کرنے والا کوئی دکھائی نہیں دیتا،مرتضیٰ وہاب

    میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ اس سے زیادہ المناک بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ آج مظلوم اور بے یارو مدد گار فلسطینی عوام کے دکھوں کا مداوا کرنے والا کوئی دکھائی نہیں دیتا، اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں کو اب خواب غفلت سے جاگ اٹھنا چاہئے، بصورت دیگر عالمی امن کو خطرے میں ڈالنے کی ذمہ داری ان پر بھی عائد ہوگی، جنہوں نے مصلحتوں کے پیش نظر اس اہم اور انتہائی سنگین انسانی مسئلے کو نظر انداز کیا اور اس طرح اسرائیل کو ہر طریقے سے خطے میں اپنی من مانی کی اجازت دی، آج کا دن ہم نے غزہ اور دیگر علاقوں میں مظلوم فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے نام کیا اور یہ امر باعث ستائش ہے کہ سٹی کونسل کی خواتین ممبران نے اس موقع پر اسرائیلی ظلم و بربریت کے خلاف سراپا احتجاج بنتے ہوئے کے ایم سی صدر دفتر کے باہر فلسطینیوں سے یکجہتی کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے ریلی نکالی اور پورے ملک کو اور دنیا کو یہ پیغام پہنچایا کہ سٹی کونسل کراچی فلسطینیوں کے خلاف بدترین ظلم و بربریت کی مذمت کرتی ہے اور اسرائیل کے ظالمانہ اقدامات کے خلاف احتجاج کرتی رہے گی، یہ بات انہوں نے پیر کے روز یوم یکجہتی فلسطین کے موقع پر کے ایم سی ہیڈ آفس کے باہر سٹی کونسل میں پاکستان پیپلزپارٹی کی چیف وہپ مسرت نیازی کی قیادت میں ریلی نکالنے والی خواتین ممبران سے اپنے دفتر میں ملاقات کرتے ہوئے کہی، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کو اس موقع پر محترمہ مسرت نیازی نے فلسطین کا پرچم اور مخصوص فلسطینی مفلر پیش کیا، میئر کراچی نے کہا کہ غزہ اور دیگر فلسطینی علاقوں پر جو مسلسل بمباری ہو رہی ہے اس کے نتیجے میں آج وہاں نہ بچے محفوظ ہیں نہ خواتین اور نہ ہی بزرگ، ہمارا مطالبہ ہے کہ اس علاقے میں فوری طور پر جنگ بندی کی جائے اور فلسطینیوں کو جینے کا حق دیا جائے، انہوں نے کہا کہ عالم اسلام کو غزہ اور فلسطین کی موجودہ قابل رحم صورتحال سے سابق حاصل کرنا چاہئے کہ یہ وقت کبھی بھی کسی پر بھی آسکتا ہے لہٰذا یہ ضروری ہے کہ تمام اسلامی ممالک اپنے باہمی گروہی اور فرقہ وارانہ اختلافات کو فراموش کرکے ایک قوت بنیں اور اسرائیل جیسی ظالم ریاست اور اس کے حمایتی ممالک کو واضح پیغام دیں کہ وہ کسی بھی صورت مسلمانوں کے خلاف دنیا کے کسی بھی حصے میں اس طرح کاظلم و بربریت برداشت نہیں کریں گے، انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم شہید ذوالفقار علی بھٹو نے عالم اسلام کو ایک پرچم تلے اکٹھا کیا تھا اور پاکستان میں اسلامی سربراہی کانفرنس کا شاندار انعقاد کرکے مسلم دنیا کو طاقتور بنانے کی کوشش کی تھی، آج بھی ہمیں اسی طرح بھٹو شہید کے نقش قدم پر چلتے ہوئے عالم اسلام کو متحد اور مضبوط بنانا ہوگا جس کے لئے اسلامی تعاون کی تنظیم او آئی سی اہم کردار ادا کرسکتی ہے، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ دنیا میں جہاں بھی مظلوموں پر ظلم و ستم ڈھایا جائے اس کی مذمت ہی کافی نہیں بلکہ آگے بڑھ کر ظالم کا راستہ روکنے کی بھی ضرورت ہے،کراچی شہر اس معاملے میں انتہائی متحرک ہے اور ظلم خواہ فلسطین میں ہو یا کشمیر یا کسی دوسری جگہ ، کراچی کے شہریوں نے ہمیشہ اس کی مذمت کرتے ہوئے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا ہے، بلدیہ عظمیٰ کراچی کی کونسل بھی مبارکباد کی مستحق ہے کہ اس نے اپنے گزشتہ اجلاس میں فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے بدترین مظالم پر اسرائیل کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کی اور حق کی حمایت اور باطل کی مخالفت پر اپنے یقین کا بہترین انداز میں اظہار کیا۔

    کراچی حملے میں اہم پیشرفت، تفتیش کا دائرہ بلوچستان تک وسیع

  • فلسطین کے معاملے پر تمام ممالک خاموش ہیں،سعیدغنی

    فلسطین کے معاملے پر تمام ممالک خاموش ہیں،سعیدغنی

    وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ دنیا میں کہی بھی چھوٹا واقعہ ہو تو فورا مذمت کی جاتی ہے، مگر فلسطین کے معاملے پر امریکہ سمیت تمام بڑے ممالک خاموش ہیں.

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز اسرائیل کی غزہ اور فلسطین پر جارحیت کا ایک سال مکمل ہونے کے خلاف پیپلز پارٹی کے تحت منعقدہ مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مظاہرین سے پیپلز پارٹی سندھ کے جنرل سیکرٹری و وزیر اعلی سندھ کے معاون خصوصی سید وقار مہدی، وزیر اعلی سندھ کے مشیر سید نجمی عالم، پیپلز پارٹی ڈسٹرکٹ سائوتھ کے جنرل سیکرٹری تیمور ٹالپور، پیپلز لائرز فورم کے ارشد نقوی سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا۔اس موقع پر سینکڑوں کی تعداد میں خواتین اور مرد کارکنان نے ہاتھوں میں فلسطین کے پرچم تھامے ہوئے تھے اور وہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف شدید نعرے بازی کررہے تھے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا کہ آج بھی فلسطین اور غزہ میں اسرائیلی جارحیت اور بربریت جاری ہے اور افسوس کہ جو ممالک اپنے آپ کو انسانی حقوق کا چیئمپین کہتے ہیں وہ خاموش ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج پورے پاکستان میں یوم یکجہتی فلسطین منایا جارہا ہے، آج سے ایک سال قبل اسرائیلی جارحیت کا آغاز ہوا تھا اور اب تک اسرائیل نے دہشت گردی کر کے 40 ہزار سے زائد مظلوموں کو شہید کیا ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ اسرائیل کی دہشت گردی سے فلسطین ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے، ایسی دہشت گردی حالیہ ماضی میں نظر نہیں آتی۔ انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ اس جارحیت پر بڑی بڑی طاقتیں خاموش ہیں۔ دنیا میں کہی بھی چھوٹا واقعہ ہو تو فورا مذمت کی جاتی ہے، مگر فلسطین کے معاملے پر امریکہ سمیت تمام بڑے ممالک خاموش ہیں۔ سعید غنی نے مزید کہا کہ آج یوم یکجہتی کا مقصد یہ ہے کہ فلسطینیوں کو پتہ لگے کے پاکستان ان کے ساتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہاں کھڑے ہوکر فلسطین سے ہمدردی کرسکتے ہیں، مگر اسرائیل کو روکنے کے لیے بڑے اقدامات کی ضرورت ہے۔سعید غنی نے کہا کہ جب تک کوئی بڑا اور اجتماعی فیصلہ نہیں ہوگا تب تک اسرائیل رکے گا نہیں، ڈر اس بات کا ہے کہ اسرائیل ایک بھی فلسطینی کو زندہ نہیں رکھنا چاہتا۔ سعید غنی نے کہا کہ ایک سال میں 42000 سے زائد بچے، خواتین و مظلوم فلسطینی اس بربریت کاشکار ہوئے ہیں۔ بلڈنگز، رہائشی علاقے مسلمار کئے گئے ہیں، اج بھی کئی عمارتوں کے ملبے تلے بھی ہزاروں لوگ اجل کاشکار ہیں۔ دنیا بھر میں جہاں ایسے واقعات ہوتے ہیں، آوازیں اٹھتی ہیں۔ لیکن اسرائیلی دھشتگردی پر دنیا کی بڑی طاقتیں خاموش ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ ایران اور لبنان کی طرف سے ردعمل کے طور پر کچھ کیا جاتا ہے، تو دنیا ردعمل کا اظہار کرتی ہے۔ حسن نصراللہ ہو ایرانی صدر کوٹارگیٹ کیاجاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری کی ہدایت پر یہ مظاہرے اس بات کا اظہار ہے کہ ہم اپنے مظلوم فسطینی بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔مسلم دنیا کے بڑے طاقت ور ممالک امریکا ،یورپ سے اب کوئی توقع نہیں۔ اب مسلم دنیا ایک ہوکر ردعمل دے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک بھرپور اور اجتماعی ردعمل نہیں دیا جائے گا، تب تک یہ ظلم فلسطین میں ہوتا رہے گا کیونکہ اسرائیل چوتھی جنگ عظیم چاہتا ہے۔ اب تواس نے جنگ بڑھا دی ہیہمیں اب مذمتوں سے آگے بڑھنا ہوگا اور آل پارٹی کانفرنس طے کرے کہ ہمیں فلسطینیں کے لئے مزید کیا کرنا ہے۔مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی سندھ کے جنرل سیکرٹری سید وقار مہدی نے کہا کہ پیپلز پارٹی فلسطین کے مظلوموں کے ساتھ اظہار یکجہتی منارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج اسرائیلی جارحیت کو پورا ایک سال ہوگیا ہے۔ اس دوران 42000 سے زائد مظلوم فلسطینی شہید ہوچکے ہیں لیکن افسوس کہ اس تمام کے باوجود مسلمان ممالک خاموش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھلے خاموش رہے پاکستان پیپلزپارٹی خاموش نہیں رہ سکتی۔

    کے الیکٹرک صارفین کے لیے بجلی پھر مہنگی

  • سات اکتوبر،حماس کا ایک بار اسرائیل پر راکٹوں سے حملہ

    سات اکتوبر،حماس کا ایک بار اسرائیل پر راکٹوں سے حملہ

    حماس نے غزہ جنگ کو ایک سال مکمل ہونے پر ایک بار پھر اسرائیل پر راکٹوں سے حملہ کر دیا

    حماس کے القسام بریگیڈ نے سرائیلی شہر تل ابیب پر راکٹوں سے حملہ کیا،حماس کے حملوں میں اسرائیل کی دو خواتین زخمی ہوئی ہیں، اس دوران اسرائیلی میں سائرن بجے اور شہری محفوظ بینکروں میں چھپ گئے، اسرائیلی میڈیا کے مطابق خان یونس کے علاقے سے وسطی اسرائیل میں 5 راکٹ فائر کیے گئے،عرب میڈیا کے مطابق اگست کے بعدکسی بڑے اسرائیلی شہرپر فلسطینی گروپ کا یہ پہلاحملہ ہے،

    دوسری جانب حزب اللہ نے بھی شمالی اسرائیل میں اسرائیلی فوجی اورفوجی گاڑیوں کومیزائلوں سےنشانہ بنایا جب کہ حزب اللہ نے آج اسرائیل کے ساحلی شہر حیفا پر راکٹوں سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں 10 اسرائیلی زخمی ہوئے۔

    واضح رہے کہ غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کا ایک سال مکمل ہوچکا ہے اسرائیلی جنگ کی صورت غزہ میں گزرنے والے اس سال کا ہر لمحہ غزہ کے معصوم شہریوں کے لہو سے لا ل ہوتا رہا،شاید ہی اس ایک سا ل میں کوئی صبح یا کوئی شام ایسی گزری ہوجب معصوم فلسطینیوں کے خون سے اس سرزمین کو سیراب نہ کیا گیا ہو،غزہ جنگ نہتے اور زیر محاصرہ فلسطینیوں کے خلاف طویل ترین جنگ کا ریکارڈ بھی ہے اور اسرائیلی جنگی جرائم کی بدترین مثالوں کا حوالہ بھی،یہ جنگ نسل کشی کی جیتی جاگتی مثال بھی ہے ،غزہ کی جنگ کے حوالے سے اسرائیلی فوج کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ اس نے ایک سال کے اندر غزہ کی پٹی میں 40 ہزار سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا، راکٹ داغنے کے ایک ہزار مقامات تباہ کر دیے اور سرنگوں کے 4700 دہانے دریافت کر لیے۔سات اکتوبر 2023 سے اب تک 726 اسرائیلی فوج ہلاک ہو چکے ہیں، ان میں 380 فوجی سات اکتوبر کو شروع ہونے والی عسکری مہم میں اور 346 فوجی 27 اکتوبر 2023 کو غزہ کے اندر شروع ہونے والی لڑائی میں مارے گئے،ایک سال کے اندر 4576 فوجی زخمی بھی ہوئے ،

    اسرائیل کی وزارت خزانہ کی جانب سے جاری معلومات کے مطابق رواں سال اگست تک غزہ کی پٹی میں جاری جنگ کی براہ راست لاگت 100 ارب شیکل (26.3 ارب ڈالر) تک پہنچ چکی ہے۔ بینک آف اسرائیل کے اندازے کے مطابق 2025 کے اختتام تک اس لاگت کا حجم 250 ارب شیکل تک پہنچ جائے گا۔

    حماس کا حملہ اور اسرائیل کی کاروائی،ایک برس مکمل،یرغمالی رہا نہ ہو سکے

    اسرائیل نیازی گٹھ جوڑ بے نقاب،صیہونی لابی عمران کو بچانے کیلئے متحرک

    عمران خان بطور وزیراعظم اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کیلئے تیار تھے،دعویٰ آ گیا

    عمران خان اور پی ٹی آئی نے ملک دشمنی میں تمام حدیں پار کر دیں

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کی کمر ٹوٹ گئی،انتشاری ٹولہ ایڑھیاں رگڑے گا

    تحریک انصاف کی ملک دشمنی ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی

    14 سال سے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی سرکار،اربوں بجٹ وصول،کارکردگی زیرو

    عمران پر جیل میں تشدد ہوا،مجھے مرد اہلکار نے…بشریٰ بی بی نے سنگین الزام عائد کر دیا

    ہر نئے ریلیف کے بعد اک نیا کیس،عمران خان کی رہائی ناممکن

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    اسرائیل کی عمران خان سے امیدیں ،گولڈسمتھ خاندان کااہم کردار

  • فلسطین پر اے پی سی،صدرمملکت،وزیراعظم،نواز شریف و دیگر شریک

    فلسطین پر اے پی سی،صدرمملکت،وزیراعظم،نواز شریف و دیگر شریک

    صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہبازشریف کی جانب سے مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور غزہ کے عوام سے اظہار یکجہتی کیلئے آل پارٹیز کانفرنس آج 7 اکتوبر سوموار کو ایوان صدر میں ہو رہی ہے

    آل پارٹیز کانفرنس میں صدر مملکت آصف علی زرداری اور شہبازشریف شریک ہیں، سابق وزیراعظم نواز شریف بھی اے پی سی میں شریک ہیں،مولانا فضل الرحمان، ایاز صادق، بلاول زرداری،چوہدری سالک حسین، امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان، خالد مقبول صدیقی، راجہ پرویز اشرف،سید یوسف رضا گیلانی ،عبدالعلیم خان،سمیت دیگر شریک ہیں. ثروت اعجاز قادری، انوار الحق کاکڑ، لیاقت بلوچ، احسن اقبال ،خواجہ سعد رفیق، شاہ غلام قادر، امیر مقام، نیئر بخاری، شیری رحمان، نوید قمر بھی اے پی سی میں شریک ہیں.

    ایسی اقوام متحدہ کا کیا فائدہ جو دنیا کو انصاف نہ دے سکے،نواز شریف
    سابق وزیراعظم نواز شریف نے اے پی سی سے خطاب میں کہاکہ دنیا کے اندر خوفناک قسم کی بربریت والا کیس ہے، جس طرح سے غریب فلسطینیوں کا جن کے پاس کوئی ہتھیار نہیں ہے، کوئی سازو سامان نہیں ہے، کوئی ملٹری طاقت نہیں ہے، اس پر جس بے دردی سے ظلم ڈھایا جا رہا ہے،یہ تاریخ کی بدترین مثال ہے، ہم سب کا دن خون کے آنسو روتا ہے جب ہم بچوں کی خون آلودہ تصاویر دیکھتے ہیں، پورے کا پورا شہر اور انکے علاقے کھنڈرات میں تبدیل ہو رہے ہیں، معصوم بچوں کو والدین کے سامنے شہید کیا جا رہا، ماؤں کی گود سے بچے چھین کر شہید کیئے جا رہے ایسا زندگی میں کبھی نہیں دیکھا، دنیا نے اس پر خاموشی اختیار کی ہوئی ہے، اس میں انسانی مسئلہ نہیں سمجھتے بہت سا طبقہ مذہبی مسئلے کے طور پر بیان کرتا ہے اور سمجھتا بھی ہے، جس طرح کا غاصبانہ قبضہ اسرائیل نے کیا اور پھر اقوام متحدہ بے بس بیٹھی ہوئی ہے، انکی پاس کردہ قرارداد پر کوئی عمل نہیں ہو رہا، شہباز شریف نے جنرل اسمبلی میں مسئلہ اٹھایا میں نے تقریر کا ایک ایک لفظ سنا، وہ باتیں کیں جو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے لوگوں نے سراہا،یہ صورتحال افسوسناک ہے،اقوام متحدہ کی قراردادوں کے باوجود مظالم جاری ہیں ،وہ بڑی ڈھٹائی سے مظالم کر رہے ہیں، اقوام متحدہ کوبھی کوئی فکر نہیں، کشمیر پر اقوام متحدہ کی قرارداد پر آج تک عمل نہ ہو سکا، ایسی اقوام متحدہ کا کیا فائدہ جو دنیا کو انصاف نہ دے سکے،مجھے یاد ہے کہ یاسر عرفات جب پاکستان آئے تو میری ان سے دوبار ملاقات ہوئی میں نے انکے جذبات سنے ہوئے، انہوں نے بڑی جدوجہد کی فلسطینی عوام کے لئے، فلسطینیوں کا خون رنگ لا کر رہے گا، اللہ بھی دیکھتا ہے، انسانیت کچھ نہیں کر رہی،اس سلسلے میں شہباز شریف جو روڈ میپ دیا اس پر غورو خوض ہونا چاہئے، اسلامی ممالک کو اکٹھے بیٹھ کر فیصلہ کن اقدامات کرنے چاہئے، اسلامی ممالک کی قوت کا استعمال کب کریں گے، ایک پالیسی بنانا پڑے گی ورنہ ہم اسی طرح بچوں کا خون ہوتا دیکھتے رہیں گے، کچھ نہیں کر پائیں گے، اسرائیل کیوں دندناتا پھرتا ہے اسکے پیچھے عالمی طاقتیں ہیں، انکو بھی سوچنا چاہئے کہ کب تک فلسطین کے لوگوں کے صبر کا امتحان لیں گے.ہمیں عوامی توقعات پر بھی پورا اترنا ہے، جلدی اقدامات کئے جائیں، تاخیر نہیں ہونی چاہئے،پاکستان ہمیشہ فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑا رہا ہے، اسرائیلی جارحیت کے سامنے خاموشی اختیار کرنا انسانیت کی ناکامی ہے

    فلسطین کے دو ریاستی حل کو تسلیم نہیں کرتے،مولانا فضل الرحمان
    اے پی سی میں سٹیج سیکرٹری کےفرائض شیری رحمان نے سرانجام دیئے، اے پی سی سے جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے ناسور کا سب سے اولین فیصلہ 1917 میں برطانیہ کے وزیر خارجہ کے جبری معاہدے کے تحت ہوا، اس وقت سے فلسطین کی سرزمین پر بستیاں قائم کرنے کا سلسلہ شروع ہوا، ہمیں پاکستان کی پوزیشن معلوم کرنی چاہئے،پاکستان مین 1940 کی قرارداد میں فلسطین میں یہودیوں کی بستیوں کے خلاف کھڑے ہونے کا اعلان کیا تھا، جب اسرائل قائم ہوا تو قائداعظم نے اسے ناجائز بچہ کہا، بانی پاکستان نے اسرائیل کے حوالہ سے پہلا تبصرہ کیا کیا اور اسرائیل کے صدر نے پہلا بیان کیا دیا کہ دنیا کے نقشے پر نوزائدہ اسلامی ملک کا خاتمہ ہمارا مقصد ہو گا، اب ہمین سوچنا چاہئے کہ کس بنیاد پر ہم نے لوگوں کو مواقع فراہم کئے کہ وہ لوگوں کو ٹی وی پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لئے حمایت کریں ایسا کیوں ہوا، اسرائیل کو تسلیم کرنے کی باتیں کیوں ہوئیں؟ حماس نے 7 اکتوبر کو حملہ کیا جس نے فلسطین کے مسئلے پر نوعیت ہی تبدیل کر دی، آج فلسطینی ریاست یا دو ریاستی حل کی بات ہو رہی، ہم دو ریاستی حل کو تسلیم نہیں کرتے، یہ عرب کی زمین ہے،یہاں یہودیوں کی بستیوں کا کوئی جواز نہیں ہے، سات اکتوبر کو آج ہم بیٹھے ہیں، کہ فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کا دن منائیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ یکجہتی کا مظاہرہ کریں، سیاسی معاملات پر اختلافات رائے ہے لیکن فلسطین پر ہم سب ایک ہیں، شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کے موقع پر بھی ہمیں یکجہتی دکھانی چاہئے، دنیا کے اعتماد کے لئے داخلی یکجہتی ضروری ہے.50 ہزار مسلمان شہید ہو چکے ہیں، بچے، خواتین، غیر مسلح ، بے گناہ شہری شہید ہوئے، جن کے جنازے پڑھے گئے یہ وہ تعداد ہے، دس ہزار کے قریب اب بھی ملبوں تلے دبے ہوئے،جن کے جنازے نہ ہو سکے، امت مسلمہ نے ایک سال میں غفلت دکھائی وہ جرم ہے اور ہم اس جرم میں برابر کے شریک ہیں،کیوں مسلمانوں نے انکی مدد کیوں نہیں کی، کیا ہمیں احساس ہے،ہم سے تو جنوبی افریقہ اچھا ثابت ہوا جو عالمی عدالت چلا گیا، اقوام متحدہ نے قرارداد پاس کی تو اسرائیل نے سیکرٹری جنرل کو اسرائیل آنے سے روک دیا، یہ ساری صورتحال لمحہ فکریہ ہے، ایک کانفرنس،قرارداد،اعلامیہ سے فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم کا حق ادا نہیں کر سکتے، ہم سب مصلحتوں کا شکار ہیں کہیں ایسا، ویسا نہ ہو جائے، ہمیں اس کیفیت سے نکلنا ہو گا،سعودیہ ،ترکیہ، ایران ،مصر کے ساتھ ملکر گروپ بنایا جائے اسلامی ممالک کا، جو اس معاملے کو اٹھائے،

    اعلامیہ سے دو ریاستی حل نکالیں،آزاد فلسطینی ریاست چاہئے، حافظ نعیم کا اے پی سی میں مطالبہ
    حماس کا دفتر پاکستان میں ہونا چاہئے، امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کا مطالبہ
    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے اے پی سی سے خطاب میں کہا کہ اسرائیل نے ایک سال میں‌85 ہزار ٹن بارود پھینکا ہے، اسی فیصد عمارتیں متاثر ہوئی ہیں، 42 ہزار شہادتیں ہوئی، صحافیوں، ڈاکٹر ،پیرا میڈیکس کی موت ہوئی، ہسپتال تباہ کئے گئے، اسکولوں، مسجدوں، چرچوں کو نشانہ بنایا گیا، یہ انسانیت کے خلاف بدترین عمل ہے جو اسرائیل کر رہا ہے، ہمیں اس پلیٹ فارم سے فلسطین کی آزاد ریاست کا پیغام جانا چاہئے، دو ریاستی حل درست نہیں، ہم اسرائیل کی سٹیٹ کو قابض گروہ سمجھتے ہیں، سٹیٹ سمجھتے ہی نہیں، بانی پاکستان نے بھی یہی کہا تھا،اسرائیل اب خیموں پر حملے کر رہا، فاسفورس بم پھینک رہا ہے، کل ہمارے بچے بھی محفوظ نہیں ہوں گے، انکی بنیاد دہشت گردی پر ہے، امریکہ اسرائیل کا سب سے بڑا پشت بان ہے، امریکہ اسرائیل کو نقد امدا د دے رہا ہے تو وہیں اسلحہ بھی فراہم کر رہا ہے، وہی اسلحہ ہمارے بچوں پر ہو رہا انسانیت کی توہین ہو رہی،امریکا نے کتنے لوگوں کا قتل عام کیا، پاکستان کو حماس بارے واضح مؤقف اپنا چاہئے، میرا مطالبہ ہے کہ حماس کا دفتر پاکستان میں ہونا چاہئے، حماس نے الیکشن جیتا ہے،حماس سیاسی جماعت ہے اسکو اختیار نہیں دیا گیا، وہ الیکشن جیتے ہیں،ہمیں کس بات کا ڈر لگتا ہے، امریکا نے ہمیں ابھی تک دیا کیا ہے؟ ہمیں واضح طور پر ان قوتوں کو جو انسانیت کا نام لے کر قتل کرتے ہیں انکو ایکسپوز کرنا چاہئے، وائیٹ ہاؤس کے باہر احتجاج ہو سکتا ہے ہمیں کہا جاتا ہے ایمبیسی کی طرف نہ جائیں، ان رویوں پر غور کرنا ہو گا.دو ریاستی حل کسی صورت قبول نہیں، صرف فلسطین کی آزاد ریاست کی بات کرنی چاہئے،اتحاد میں ہی ہماری نجات ہے، حسن نصر اللہ، اسماعیل ہنیہ کو اسرائیل کا میزائل لگا ہے، انہوں نے شیعہ سنی نہیں دیکھا، ہمیں اس تقسیم کو ختم کرنا ہے، سعودی عرب ایران کو آگے بڑھنے کی ضرورت ہے،پاکستان میں اسرائیل کے حق میں جو آواز ہو گی وہ نہیں ہونی چاہئے، کونسا اسرائیل دو ریاستی حل کو مانتا ہے، اعلامیہ سے دو ریاستی حل والی بات نکالنی چاہئے، اگر آپ کے اوپر کوئی پریشر بھی ہے تو نکال دیں، اگر نہیں نکالتے تو ہمارا مؤقف لکھیں کہ ہمیں فلسطین کی آزاد ریاست چاہئے،دو ریاستی حل کو نہیں مانتے.

    تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے غزہ کے حوالہ سے منعقدہ اے پی سی میں شرکت سے انکار کر دیا اور کہا کہ پی ٹی آئی ان حالات میں اے پی سی میں شریک نہیں ہو گی،ہمیں فلسطین پر اے پی سی میں شرکت کی دعوت مل گئی تھی، موجودہ حالات میں پارٹی رہنما اور کارکن گرفتار ہیں اور ان حالات میں اے پی سی میں شرکت نہ کرنےکافیصلہ کیا ہے، پی ٹی آئی کی عدم شرکت سے انکا دوہرا معیار واضح ہو گیا ہے، پی ٹی آئی کو فلسطین کے معصوم بچوں سے نہیں بلکہ اسرائیل سے ہمدردیاں ہیں، یہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی اس اے پی سی میں شرکت نہیں کر رہی.

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک صارف نے لکھا کہ شرمناک! تحریک انصاف نے ایک بار پھر اسرائیل نوازی کا ثبوت دیا ہے۔ غزہ پر حملوں کے خلاف حکومتی میزبانی میں ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس کا بائیکاٹ کر کے پی ٹی آئی نے اپنی حقیقت واضح کر دی۔ پاکستان کے دشمنوں کے یار اب بے نقاب ہو چکے ہیں!

    https://x.com/Ghulam1082345/status/1843244613009854550

    فہمیدہ یوسفی ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ تحریک انصاف سے کسی قسم کی اچھائی کی امید رکھنا ایسے ہی جیسے آپ شیطان سے کہیں کہ وہ تائب ہوگیا ہے ،پی ٹی آئی نے فلسطین پر حکومت کی منعقدہ اے پی سی میں شرکت سے متعلق فیصلہ تبدیل کرلیا، بیرسٹر گوہر نے اے پی سی میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ موجودہ سیاسی حالات میں آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت نہیں کریں گے، اس وقت پی ٹی آئی کا کوئی مرکزی رہنما اسلام آباد میں موجود نہیں۔واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے پہلے اے پی سی میں شریک ہونے کا فیصلہ کیا تھا مگر اب فیصلہ تبدیل کرلیا ہے۔

    https://x.com/fahmidahyousfi/status/1843236281687662889

    واضح رہے کہ عمران خان کی حمایت میں حالیہ دنوں میں اسرائیلی اخبارات میں مضامین بھی شائع ہو چکے ہیں.

    حماس کا حملہ اور اسرائیل کی کاروائی،ایک برس مکمل،یرغمالی رہا نہ ہو سکے

    اسرائیل نیازی گٹھ جوڑ بے نقاب،صیہونی لابی عمران کو بچانے کیلئے متحرک

    عمران خان بطور وزیراعظم اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کیلئے تیار تھے،دعویٰ آ گیا

    عمران خان اور پی ٹی آئی نے ملک دشمنی میں تمام حدیں پار کر دیں

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کی کمر ٹوٹ گئی،انتشاری ٹولہ ایڑھیاں رگڑے گا

    تحریک انصاف کی ملک دشمنی ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی

    14 سال سے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی سرکار،اربوں بجٹ وصول،کارکردگی زیرو

    عمران پر جیل میں تشدد ہوا،مجھے مرد اہلکار نے…بشریٰ بی بی نے سنگین الزام عائد کر دیا

    ہر نئے ریلیف کے بعد اک نیا کیس،عمران خان کی رہائی ناممکن

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    اسرائیل کی عمران خان سے امیدیں ،گولڈسمتھ خاندان کااہم کردار

  • فلسطین سے اظہار یکجہتی کیلئے آل پارٹیز کانفرنس کل منعقد ہوگی

    فلسطین سے اظہار یکجہتی کیلئے آل پارٹیز کانفرنس کل منعقد ہوگی

    فلسطین اور غزہ کی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلیے آل پارٹی کانفرنس کل ایوان صدر میں ہوگی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے بلائی گئی آل پارٹی کانفرنس کل سہہ پہر 3 بجے ایوان صدر میں منعقد ہوگی۔واضح رہے کہ 4 اکتوبر کو وزیر اعظم شہباز شریف نے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن سے وزیر اعظم ہاؤس میں ملاقات کے بعد 7 اکتوبر کو فلسطینیوں کےساتھ یوم یکجہتی منانے اور آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان کیا تھا۔ملاقات میں غزہ اور فلسطین میں نہتے فلسطینیوں پر جاری ظلم و ستم کے خلاف آواز اٹھانے اور فلسطینی بہن بھائیوں کے حق میں آواز اٹھانے کے لیے وزیرِ اعظم کی میزبانی میں آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ملاقات کے بعد یوم یکجہتیِ فلسطین اور آل پارٹیز کانفرنس کے لیے کمیٹی کے قیام کی منظوری دی گئی تھی،کمیٹی میں نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحٰق ڈار، شیری رحمٰن، خواجہ سعد رفیق اور نیئر بخاری شامل ہوں گے۔

    قبل ازیں حکومتی وفد نے ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کی سربراہی میں اسلام آباد میں جے یوآئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سے ان کی رہائشگاہ پر ملاقات کی۔حکومتی وفد میں خواجہ سعدرفیق، نئیر بخاری، نوید قمر اور شیری رحمان شامل تھے جبکہ جے یو آئی (ف) کی جانب سے مولاناعبدالغفورحیدری، مولاناصلاح الدین ایوبی، محمداسلم غوری بھی ملاقات میں شریک تھے۔اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال پر گفتگو کی گئی اور سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمٰن کو کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کی دعوت بھی دی گئی۔

    بلوائیوں کے تشدد سے 50 اہلکار زخمی ہوئے، اٹک پولیس

  • اقوام متحدہ کی اسرائیل کی طولکرم پر بمباری میں 18افراد قتل کی مذمت

    اقوام متحدہ کی اسرائیل کی طولکرم پر بمباری میں 18افراد قتل کی مذمت

    اقوام متحدہ نے اسرائیلی فوج کے لڑاکا طیاروں کے ذریعے مغربی کنارے کے شہر طولکرم میں بمباری کر کے 18فلسطینیوں کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے اسے ”غیر قانونی“ حملہ قرار دیا ہے اورآزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے.

    باغی ٹی وی کو موصول غیرملکی نشریاتی ادارے کے مطابق انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کے دفتر نے ایک بیان میں کہا کہ یہ حملہ مغربی کنارے میں فوجی کارروائیوں کے دوران اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی طرف سے طاقت کے غیر قانونی استعمال کا ایک پریشان کن نمونہ ہے ان حملوں سے فلسطینیوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے جانی نقصان کے ساتھ فلسطینیوں کی عمارتیں اور بنیادی ڈھانچہ تباہ ہوگیا ہے.بیان کے مطابق یہ اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی جانب سے مغربی کنارے میں منظم طریقے سے مہلک طاقت کا سہارا لینے کی ایک اور واضح مثال ہے بیان میں اس حملے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا گیا دفتر نے کہا کہ فضائی بمباری سے رہائشیوں سے بھری ہوئی ایک پوری عمارت کی تباہی اسرائیل کی اپنی ذمہ داریوں کے حوالے سے بڑی غفلت کو ظاہر کرتی ہے.

    اقوام متحدہ نے کہا کہ یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا جب اس مقام پر کوئی جھڑپیں یا تصادم نہیں ہو رہا تھا فضائی حملے نے نشانہ بننے والی عمارت کو مکمل طور پرتباہ کر دیا اور پڑوسی گھروں کو بھی نقصان پہنچایا بیان میں کہا گیا کہ ملبے کے نیچے مزید افراد کی میتیں ہوسکتی ہیں لیکن دھماکے کے بڑے اثرات کی روشنی میں ان کی شناخت بھی مشکل ہوجائے گی.واضح رہے کہ حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز نے گزشتہ روز ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ تحریک کے رہنما زاھی یاسر عوفی سات دیگر جنگجوﺅں کے ساتھ مغربی کنارے کے شہر طولکرم پر اسرائیلی حملے میں مارے گئے ہیں دوسری جانب س جرمنی نے بھی طولکرم میں پناہ گزین کیمپ پر اسرائیلی فضائی حملے پر صدمے کا اظہار کیا ہے.

    پی ٹی آئی کے دھرنے کیخلاف درخواستیں 10سال بعد سماعت کیلئے مقرر

  • حماس نے اسرائیلی فوج کے متعدد ٹینک تباہ کردیے

    حماس نے اسرائیلی فوج کے متعدد ٹینک تباہ کردیے

    فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ نے اسرائیلی فوج کے متعدد ٹینک تباہ کردیے۔

    باغٰ ٹٰی وی کو موصول غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق حماس کے عسکری ونگ القسام کی جانب سے اسرائیلی فوج کے ٹینکوں کو تباہ کرنے کی ویڈیو بھی جاری کردی گئی ہے، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ القسام نے جنوبی غزہ کے علاقے رفح کے مشرق میں متعدد اسرائیلی ٹینکوں کو نشانہ بنایا ہے۔ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ القسام نے راکٹ لانچرز سے مختلف مقامات پر اسرائیلی ٹینکوں کو نشانہ بنایا ہے، جس میں ٹینکوں کو تباہ ہوتے بھی دکھایا گیا ہے۔دوسری جانب غزہ کے پناہ گزین اسکولوں پر بھی اسرائیلی بمباری جاری ہے، رات سے اب تک مزید 70 سے زیادہ فلسطینی شہید ہوگئے ہیں۔

    یاد رہے کہ غزہ میں 7 اکتوبر 2023 سے اسرائیلی حملوں میں کم از کم 41,689 افراد شہید اور 96,625 زخمی ہو چکے ہیں۔اسرائیل میں 7 اکتوبر 2023 کو حماس کی قیادت میں کیے گئے حملوں میں کم از کم 1,139 افراد ہلاک ہوئے اور 200 سے زائد افراد کو یرغمال بنایا گیا تھا۔

    حزب اللّٰہ نے اسرائیل پر 100 راکٹس مارنے کا دعویٰ کر دیا

  • حزب اللّٰہ نے اسرائیل پر 100 راکٹس مارنے کا دعویٰ کر دیا

    حزب اللّٰہ نے اسرائیل پر 100 راکٹس مارنے کا دعویٰ کر دیا

    لبنان کی مزاحمتی تحریک حزب اللّٰہ نے اسرائیلی فوجیوں کے خلاف راکٹ حملے کا دعویٰ کیا ہے۔

    باغی ٹٰی وی کو موصول غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق لبنانی تنظیم کا کہنا ہے کہ اس نے شمالی اسرائیل کے قصبے میں اسرائیلی فوجیوں کے ایک گروپ پر "بڑی تعداد میں” راکٹ داغے ہیں۔حزب اللّٰہ نے گائیڈڈ میزائلوں سے اسرائیل کے جدید ترین مرکاوا ٹینکس تباہ کرنے اور اسرائیلی ہیلی کاپٹر پر شیلنگ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔دوسری جانب جنوبی لبنان میں حزب اللّٰہ کی اسرائیلی فوج سے شدید جھڑپیں جاری ہیں، اسرائیلی فوج نے جھڑپوں میں ڈویژن کمانڈر سمیت 8 فوجیوں کی ہلاکت کا اعتراف کر لیا۔

    لبنان پر اسرائیلی حملوں میں مزید 60 افراد شہید ہوگئے، اب تک 1800 سے زیادہ جاں بحق اور 12 لاکھ سے زیادہ لبنانی بے گھر ہوگئے، اسرائیلی فوج نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں کے رہائشیوں کو بھی علاقہ خالی کرنے کا الٹی میٹم دے دیا.غزہ کے پناہ گزین اسکولوں پر بھی اسرائیلی بمباری جاری ہے، رات سے اب تک مزید 70 سے زیادہ فلسطینی شہید ہوگئے۔اسرائیلی فوج نے شام کے دارالحکومت دمشق میں بھی فضائی حملہ کیا، جس میں 3 شامی شہری جاں بحق اور 3 زخمی ہوگئے۔

    مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے کردار ادا کریں،پاکستان کی بین الاقوامی برادری سے اپیل