Baaghi TV

Tag: قطر

  • ایلون مسک کا ٹوئٹر پر فٹبال ورلڈ کپ کی کوریج کا اعلان

    ایلون مسک کا ٹوئٹر پر فٹبال ورلڈ کپ کی کوریج کا اعلان

    واشنگٹن:سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر نے فٹ بال ورلڈ کپ کی کوریج کا اعلان کردیا۔فٹ بال ورلڈ کپ کا آغاز اتوار20 نومبر سے قطر میں ہورہا ہے اور کل افتتاحی میچ پاکستانی وقت کے مطابق رات 9 بجے قطر اور ایکواڈور کے مابین کھیلا جائے گا۔

    دنیا بھر میں لاکھوں شائقین کی طرح ٹوئٹر کے مالک ایلون مسک بھی فٹبال ورلڈ کپ کے بخار میں مبتلا ہوگئے ہیں اور انہوں نے ایونٹ کی بھرپور کوریج کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    ایلون مسک نے کہا کہ پہلا ورلڈ کپ میچ اتوار کو ہے، جسے ٹوئٹر پر بہترین کوریج کے لیے دیکھیں اور براہ راست کمنٹری سنیں۔

    واضح رہے کہ پہلی بار کوئی عرب ملک فٹبال ورلڈ کپ کی میزبانی کررہا ہے اور دنیا بھر سے لاکھوں فٹبال فینز عالمی میلے کیلئے قطر کا رخ کررہے ہیں، ٹورنامنٹ میں فرانس عالمی چیمپیئن کے اعزاز کا دفاع کرے گا۔

    دوسری طرف آکسفورڈ نے ریاضیاتی (میتھا میٹیکل) ماڈل کے ذریعے قطر میں شروع ہونے والے فیفا ورلڈکپ کے فاتح کے بارے میں بتا دیا ہے۔آکسفورڈ نے حساب کتاب کے بعد برازیل کے فیفا ورلڈکپ کا فاتح بننے کی پیش گوئی کر دی ہے۔

    ماڈل کے مطابق انگلینڈ کوارٹر فائنل ہار جائے گا جبکہ ارجنٹائن کو سیمی فائنل میں شکست کا سامنا کرنا پڑے گا اور برازیل ایونٹ جیت جائے گا۔

    یاد رہے کہ فیفا ورلڈکپ میں 32 ممالک حصہ لے رہے ہیں، فٹبال ورلڈکپ کا آغاز 20 نومبر کو میزبان ملک قطر اور ایکواڈور کے درمیان میچ سے ہو گا۔

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

  • فیفا فٹبال ورلڈکپ : قطرمیں شائقین کو مختصر لباس پہن کرمیچ دیکھنےکی اجازت نہیں ہوگی

    فیفا فٹبال ورلڈکپ : قطرمیں شائقین کو مختصر لباس پہن کرمیچ دیکھنےکی اجازت نہیں ہوگی

    دوحا: قطر میں شروع ہونے والے فیفا فٹبال ورلڈکپ کے دوران شائقین کو مختصر لباس یعنی (کندھوں کو کُھلا رکھنے یا گھٹنے سے اوپر) کپڑے پہن کر میچ دیکھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

    باغی ٹی وی :ورلڈ کپ کےدوران فٹبال فینز اپنی ٹیموں کو سپورٹ کرنے کے لیے مختلف روپ اختیار کرتے ہیں جبکہ کچھ افراد مختصر لباس پہن کر میچ دیکھنے آتے ہیں تاہم قطر میں ایسے کپٹرے سرعام پہننے پر پابندی ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ملک میں مسلم قوانین کے تحت ورلڈکپ کے دوران شائقین کو بھی مختصر لباس پہننے پر جرمانہ یا جیل بھیجا جاسکتا ہےغیر قطری خواتین سے ملک کے سخت مسلم ڈریس کوڈ کی پیروی کرنے اور عبایا پہننے کی توقع نہیں کی جارہی تاہم کندھوں اور گھٹنوں کو ڈھانپ کررکھنا لازمی ہوگا۔

    منافع بخش پاکستان کرکٹ بورڈ بھی خسارے کا شکارہوگیا

    دوسری جانب قطراور فیفا آرگنائزنگ کمیٹی نے ایک معاہدہ کیا ہے جس کے تحت چند سیاحتی علاقوں میں شراب نوشی کی اجازت بھی دی جائے گی اسی طرح ٹورنامنٹ کے دوران بھی کوڑا کرکٹ پھینکنے پر شائقین کو £2,400 تک کا جرمانہ ہو سکتا ہے۔

    واضح رہے کہ فٹبال ورلڈکپ کے میچز قطر کے کل 8 اسٹیڈیمز میں کھیلے جائیں گے، جن میں 32 ٹیمیں ایک دوسرے کے مدمقابل آئیں گی قطر میں 20 نومبر سے شروع ہونے والا فیفا ورلڈکپ تاریخ کا مہنگا ترین ورلڈکپ ہوگا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق قطر نے ملک میں فٹبال ورلڈکپ کے انعقاد کے لیے انفراسٹرکچر پر 200 بلین ڈالر سے زائد خرچ کیے ہیں اور اسٹیڈیمز کو ائیر کنڈیشنڈ بنایا گیا ہے تاکہ شائقین لطف اندوز ہوسکیں۔سال 2002 میں کوریا اور جاپان کی میزبانی کے بعد رواں سال کھیلا جانے والا فیفا فٹبال ورلڈکپ دوسری بار ایشیائی سرزمین پر منعقد ہورہا ہے۔

    سیالکوٹ کے بنے فٹبال فیفا ورلڈ کپ میں استعمال ہوں گے

  • قطرنے بھارتی حکومت کےحمایت یافتہ ہندوستانی نیوی افسران کاجاسوس گروہ پکڑلیا

    قطرنے بھارتی حکومت کےحمایت یافتہ ہندوستانی نیوی افسران کاجاسوس گروہ پکڑلیا

    دوحہ: بین الاقوامی دہشت گردی میں ہندوستان کے ملوث ہونے کا پردہ فاش کرتے ہوئے، قطر نے حال ہی میں ہندوستانی بحریہ کے آٹھ سابق افسران کو جاسوسی اور ہندوستانی ریاستی سرپرستی، ریاستی مالی معاونت اور ریاستی حمایت یافتہ دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔

    بھارتی خفیہ ایجنسیوں اورحکومت کے حمایت یافتہ جاسوس قطر میں ایک نجی فرم کے ساتھ کام کر رہے تھے اور قطری امیری بحریہ کو تربیت اور دیگر خدمات فراہم کر رہے تھے اور اگست 2022 کے مہینے میں جاسوسی اور بین الاقوامی دہشت گردی میں ملوث ہونے پر پکڑے گئے تھے۔

    قطری حکام کا کہنا ہے کہ کمانڈر (ریٹائرڈ) پورنیندو تیواری (بحری افسر) نے ان سرگرمیوں میں کلیدی کردار ادا کیا اور وہ سرکردہ خلیجی مسلم ممالک کا ڈیٹا اسرائیل اور ہندوستان کو منتقل کرنے میں سرگرم رہے۔

    قطرکی جاسوسی کرنے والے گروہ کے سربراہ ریٹائرڈ افسر کو 2019 میں ہندوستانی صدر رام ناتھ کووند کی طرف سے ‘پرواسی سمان ایوارڈ’ (سب سے زیادہ اعزاز یافتہ اوورسیز انڈین ایوارڈ) سے نوازا گیا۔

    قطر کے دفاع، سیکورٹی اور دیگر سرکاری اداروں کے ساتھ کام کرتے ہوئے؛ افسران کو خفیہ ڈیٹا تک رسائی حاصل تھی اور وہ حساس معلومات قطر کے مخالفین کو شیئر کر رہے تھے۔

    کہا جارہا ہے کہ بھارت کلبھوشن یادیو کی طرح انکار کی حالت میں ہے اور اب تک اس نے ان 8 ایکس افسران کو قبول یا ملکیت نہیں دی ہے۔

    گرفتاری کی خبر 25 اکتوبر 2022 کو ایک افسر کی اہلیہ نے سوشل میڈیا پر جاری کی جس میں اس نے بھارتی حکام سے انہیں رہا کرنے کی درخواست کی۔

    دوحہ میں ہندوستانی سفارتخانہ ہندوستانی بحریہ کے افسران کے اس شرمناک فعل سے واقف ہے لیکن اس نے آج تک اس واقعہ پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ ویب ڈیسک

  • قطر میں بھارتی بحریہ کے 8 ریٹائرڈ افسران کی پُراسرار گرفتاری

    قطر میں بھارتی بحریہ کے 8 ریٹائرڈ افسران کی پُراسرار گرفتاری

    خلیجی ملک قطر میں بھارتی بحریہ کے 8 ریٹائرڈ افسران کو گرفتار کیا گیا ہے، تاہم اس گرفتاری کی وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی ہے۔

    باغی ٹی وی : قطر میں انڈین بحریہ کے سابق کمانڈر پورنندو تیواری سمیت جنہوں نے صدر رام ناتھ کووند کی جانب سے پراواسی بھارتیہ سمان وصول کیا تھا سمیت 8 افسران کو گرفتار کیا گیا ہے-

    چین سے مقابلے کے لیے امریکا کا بھارت کو دفاعی اتحادی بنانے کا فیصلہ

    یہ تمام افسران قطر کی ایک نجی کمپنی ’الظاہرہ العالمی کنسلٹینسی اینڈ سروسز‘ میں کام کر رہے تھے یہ کمپنی قطر کی بحریہ کو تربیت اور ساز و سامان فراہم کرتی ہے اس کمپنی کے سربراہ خمیص العجمی رائل عمان ایئر فورس کے سبکدوش سکواڈرن لیڈر ہیں۔

    ذرائع کے مطابق قطر میں بھارتی سفارت خانہ بھی ان سابق افسران کی گرفتاری سے آگاہ ہے –

    انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق دوحہ میں ان افسران کی گرفتاری کی اطلاع ایک خاتون ڈاکٹر میتو بھارگوا کی پوسٹ سے سامنے آئی۔ اپنے پیغام میں، ڈاکٹر بھارگوا، جو خود کو ایک معلم اور روحانی شخص بتاتی ہیں، نے منگل کو پوسٹ کیا لکھا ہے کہ وطن کی خدمت کرنے والے 8 تجربہ کار نیوی افسران 57 دنوں سے دوحہ میں غیر قانونی حراست میں ہیں۔

    انہوں نے لکھا کہ میں حکومت اور متعلقہ حکام سے درخواست کرتی ہوں کہ وہ جلد ضروری اقدامات کرے اور ان اہلکاروں کو کسی تاخیر کے بغیر قطر سے رہا کروا کر انڈیا لائے-

    دنیا کی پانچ بڑی جوہری طاقتوں کا ٹکراؤ تباہ کن ہو سکتا ہے،روس کا انتباہ

    ڈاکٹر بھارگوا نے پوسٹ میں وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر خارجہ ایس جے شنکر، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور وزیر پٹرولیم ہردیپ پوری اور بہت سے دوسرے لوگوں کو ٹیگ کیا ان سب پر زور دیا کہ ملک کے سابق عہدیداروں کو بغیر کسی تاخیر کےبھارت واپس لایا جائے تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ان کا دوحہ میں بحریہ کے سابق اہلکاروں کی گرفتاری سے کیا تعلق ہے۔

    بھارتی وزارت خارجہ نے اس معاملے پر ابتدائی خاموشی کے بعد اب بتایا ہے کہ انڈیا کا سفارتخانہ گرفتار افراد کو قونصل سروس فراہم کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاہم وزارت خارجہ نے یہ وضاحت نہیں دی کہ اِن اہلکاروں کو کس معاملے میں گرفتار کیا گیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ ان تمام افسران کو کیوں حراست میں لیا گیا ہے اور ان پر کیا الزامات ہیں۔ تاہم، اس ماہ کے شروع میں، دوحہ میں ہندوستانی سفارت خانے کے اہلکاروں کو ان سب سے ملنے کے لیے قونصلر دورہ دیا گیا تھا۔

    بی بی سی کے مطابق بھارتی وزارت خارجہ بحریہ کے سابق اہلکاروں کی گرفتاری پر ابھی تک خاموش تھی لیکن جمعرات کو معمول کی نیوز کانفرنس میں ایک سوال کے جواب میں وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باگچی نے ان اہلکاروں کی گرفتاری کی تصدیق کی۔

    ٹی 20 ورلڈ کپ: پہلے پاکستان اب بنگلہ دیش،کوہلی کے اشارے پردو متنازعہ نو…

    انھوں نے کہا کہ ہم آٹھ بھارتی شہریوں کی گرفتاری کے بارے میں واقف ہیں جو قطر میں کسی پرائیویٹ کمپنی کے ساتھ کام کرتے تھے۔ قطر میں انڈیا کا سفارتخانہ قطری حکام سے رابطے میں ہے۔ سفارتخانے کے اہلکاروں کو مقید بھارتی شہریوں سے ملنے کی اجازت دی گئی تھی۔

    باگچی نے مزید بتایا کہ بحریہ کے ان سابق اہلکاروں کو اپنے گھر والوں سے بات کرنے کی بھی اجازت دی گئی تھی ہم نے ان شہریوں سے ملنے کے لیے ایک اور قونصلر رسائی کی درخواست کی ہے۔ ہمارا سفارتخانہ اور وزارت ان اہلکاروں کی فیملیز سے رابطے میں ہے۔ ہم ان کی جلد رہائی اور بھارت واپسی کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔

    تاہم وزارت خارجہ کے ترجمان نےتاحال یہ نہیں بتایا کہ ان اہلکاروں کو قطر میں کس جرم میں گرفتار کیا گیا ہے۔

    بھارتی بحریہ کے جن آٹھ اہلکاروں کو گرفتار کیا گیا ان میں سابق کمانڈر پورنیندو تیواری بھی شامل ہیں جو کمپنی کے مینیجنگ ڈائریکٹر ہیں۔ انھیں 2019 میں ایک تقریب میں اس وقت کے صدر مملکت نے ’پرواسی بھاتیہ سمان‘ ایورڈ دیا تھا۔

    الظاہرہ کے لنکڈ ان پیج کے مطابق کمانڈر پور نیندو تیواری (ریٹائرڈ)، کمانڈر اجے تیواری (ریٹائرڈ)، کمانڈر انیش ٹھاکر (ریٹائرڈ) اور ساجن بابو نے انڈیا کے یوم آزادی کے موقع پر 15 اگست کو دوحہ میں واقع انڈیا کے تقافتی مرکز میں پرچم کشائی اور ثقافتی تقریب میں شرکت کی تھی۔

    بھارتی دارالحکومت میں خطرناک اسموگ کے باعث اسکول بند

    قطر میں انڈیا کے ان سابق اہلکاروں کی گرفتاری پُراسرار بنی ہوئی ہے۔ ان کے بارے میں قطر اور متحدہ عرب امارات کے اخبارات میں بھی کہیں کوئی خبر نظر نہیں آئی ایک کو چھوڑ کر باقی سات اہلکاروں کے نام بھی سامنے نہیں آئے ہیں۔

    گرفتار کیے گئے اہلکاروں کے رشتے دار بھی خاموش ہیں۔ انڈیا کی وزارت خارجہ جس طرح ان اہلکاروں کی رہائی اور انھیں انڈیا واپس لانے کی کوشش کر رہی ہے اس سے واضح ہے کہ یہ پُراسرار معاملہ اہم نوعیت کا ہے۔

    متعدد زرائع کے مطابق یہ افراد جاسوسی کا ایک ریکٹ چلاتے تھے جس کے تحت خفیہ معلومات بھارت، اسرائیل اور متعدد ممالک کو دیں جاتی تھیں- بھارتی کمانڈر کلںبھوشن یادیو کے پکڑے جانے کے بعد یہ دوسرا بڑا موقعہ ہے کہ بھارتی انٹیلیجنس کا ریکٹ اس بڑے پیمانے پر پکڑا جائے-

  • قطرچینی پانڈوں کا تحفہ حاصل کرنے والا مشرق وسطیٰ کا پہلا ملک بن گیا

    قطرچینی پانڈوں کا تحفہ حاصل کرنے والا مشرق وسطیٰ کا پہلا ملک بن گیا

    دوحہ : قطر بدھ کے روز چینی پانڈوں کا تحفہ حاصل کرنے والا مشرق وسطیٰ کا پہلا ملک بن گیا۔

    باغی ٹی وی : "دی نیوز” کے مطابق چین کی جانب سے قطر کا پانڈوں کا جوڑا تحفے میں دیا گیا ہے جن کا نام سہیل اور ثریا ہے۔ پانڈے کے اس جوڑے کو لگژری ایئر کنڈیشنڈ حصے میں رکھا گیا ہے-

    سرکاری راشن کے لیے گاؤں والوں نے30 فٹ اونچا پہاڑ کاٹ کر راستہ بنالیا

    قطر میں 20 نومبر سے فیفا ورلڈکپ 2022 کا آغاز ہو رہا ہے جس کی خوشی میں چین کی جانب سے پانڈوں کا جوڑا تحفے میں دیا گیا ہے۔

    چین ورلڈ کپ کے ایونٹ میں شریک نہیں لیکن اس کے قطر سے اچھے تعلقات ہیں اور وہ قطر سے قدرتی گیس کا بڑا خریدار ہےقطر مشرق وسطیٰ کا پہلا ملک ہے جسے چین کی جانب سے پانڈوں کا تحفہ دیا گیا ہے۔

    الخور کے زولوجیکل ڈائریکٹر ٹم بوٹس نے کہا کہ قطر کے دارالحکومت دوحہ سے تقریباً 50 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع الخور پارک میں پانڈوں کو عارضی طور پر رکھا گیا ہے۔ جن میں نر پانڈے کی عمر 4 سال اور وزن 130 کلوگرام ہے جبکہ مادہ پانڈے کی عمر 3 سال اور وزن 70 کلو گرام ہے۔ پانڈوں کی الخور پارک میں منتقلی کی باقاعدہ تقریب رکھی گئی تھی جس میں زیادہ سے زیادہ بچوں کو شریک کرایا گیا۔

    گاؤں جہاں 32 ایکڑ اراضی بندروں کے نام

    بوٹس نے کہا کہ پانڈوں کے اس جوڑے کی دیکھ بھال کے لیے 2 چینی ٹرینر بھی ساتھ آئے ہیں جو پانڈوں کے ہمراہ 21 روز قرنطینہ میں رہیں گے جس کے بعد عوام انہیں دیکھ سکیں گے۔

    پانڈا ہاؤس میں سہیل اور ثریا کے اپنے الگ الگ کوارٹر ہوں گے۔ قطر میں چین کے سفیر ژو جیان نے کہا کہ نیا کمپلیکس "عالمی معیار کا، شاندار اور آرام دہ” ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ مجھے یقین ہے کہ یہ دو خوبصورت پانڈے جلد ہی قطری عوام اور مشرق وسطیٰ کی محبت کا مرکز بن جائیں گے۔ سہیل خلیجی خطے میں نظر آنے والے روشن ترین ستاروں میں سے ایک کا نام ہے، جبکہ ثریا Pleiades ستاروں کے جھرمٹ کا عربی نام ہے قطر چین اور تائیوان سے باہر پانڈوں کو دیئے جانے والا 20 واں ملک ہے-

    بی جے پی ایم ایل اے کے ہندو دیوی، دیوتاؤں سے متعلق عقائد پر سوالات نے تنازعہ کھڑا کر دیا

  • معروف مبلغ اور مذہبی اسکالر شیخ یوسف القرضاوی قطر میں انتقال کرگئے

    معروف مبلغ اور مذہبی اسکالر شیخ یوسف القرضاوی قطر میں انتقال کرگئے

    دوحہ: عالم اسلام کےمعروف مبلغ اور مذہبی اسکالر شیخ یوسف القرضاوی قطر میں انتقال کرگئے۔

    باغی ٹی وی :عرب میڈیا کے مطابق ان کے بیٹے عبدالرحمن یوسف القرضاوی نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر اس خبر کی تصدیق کی شیخ یوسف القرضاوی کی عمر 96 سال تھی، ان کا شمار عالم اسلام کے بااثر ترین علماء میں ہوتا تھا۔
    https://twitter.com/labeedaliya/status/1574387520208769025?s=20&t=YNqFLY7nWo_Q5wlIi-4tcQ
    1926 میں مصر میں پیدا ہونے والے القرضاوی 2013 سے قطر میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے اور انہیں قطری شہریت دی گئی تھی وہ عرب دنیا کی معروف اسلامی تنظیم اخوان المسلمین کے فکری رہنما سمجھے جاتے تھے۔


    القرضاوی کے خطبات نے خطے کے دیگر حصوں میں عسکریت پسند تحریکوں کی حمایت کرتے ہوئے القاعدہ اور آئی ایس آئی ایس کی طرف سے حمایت یافتہ بنیاد پرست نظریات کا مقابلہ کیا۔


    مصر کی ایک عدالت نے اسے 2015 میں اخوان کے دیگر رہنماؤں کے ساتھ غیر حاضری میں موت کی سزا سنائی تھی القرضاوی 2004 میں قائم ہونے کے بعد سے انٹرنیشنل یونین آف مسلم اسکالرز کے چیئرمین بھی تھے اور 14 سال تک اس عہدے پر فائز رہے۔

    عرب دنیا میں انہیں غیر معمولی مقبولیت حاصل تھی، انہوں نے 50 سے زیادہ کتابیں تصنیف کیں، اسلامی قانون اور فقہ ان کا خاص موضوع تھا جب کہ وہ عالم اسلام میں جمہوری نظام کے بڑے حامی سمجھے جاتے تھے۔

  • قطر کے ساتھ تعلقات اپ گریڈ کرنا چاہتے ہیں،شہباز شریف

    قطر کے ساتھ تعلقات اپ گریڈ کرنا چاہتے ہیں،شہباز شریف

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے دوحہ میں "پاکستان قطر تجارت اور سرمایہ کاری راؤنڈ ٹیبل 2022” کے موقع پر ممتاز قطری اور پاکستانی تاجر رہنماؤں سے بات چیت کی۔ قطر فنانشل سینٹر (QFC)، پاکستان بزنس کونسل قطر، اور دوحہ میں پاکستانی سفارت خانے نے مشترکہ طور پر گول میز کانفرنس کا اہتمام کیا۔ ایچ ای علی بن احمد الکواری، قطر کے وزیر خزانہ؛ ایچ ای سلطان بن راشد، انڈر سیکرٹری وزارت تجارت و صنعت قطر؛ اور یوسف الخطر جیدا، سی ای او، قطر فنانشل کنٹر نے بھی اس تقریب میں شرکت کی۔

    کانفرنس میں قطر کے سرکردہ کاروباری اور کارپوریٹ ایگزیکٹوز کے ساتھ ساتھ دوحہ, قطر میں مقیم پاکستانی تاجر برادری کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔


    اپنے خطاب میں وزیراعظم نے پاکستان اور قطر کے درمیان باہمی احترام، اعتماد اور حمایت پر مبنی تعلقات کی خصوصی نوعیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے قطر کو ایک قابل اعتماد پارٹنر قرار دیا جس کی حمایت کو انہوں نے خلوص دل سے سراہا. وزیر اعظم نے ملک میں کاروبار اور سرمایہ کاری کے لیے دوستانہ ماحول فراہم کرنے کے لیے اپنی حکومت کے پختہ عزم کو اجاگر کیا۔ وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو بے پناہ قدرتی اور انسانی وسائل سے نوازا گیا ہے اور پاکستان کے جغرافیائی محل وقوع نے اسے خطے کا اولین تجارتی، توانائی اور ٹرانسپورٹ کوریڈور بننے کے قابل بنایا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس منفرد فائدے نے پاکستان کو وعدوں اور مواقع سے بھرپور مارکیٹ بنا دیا ہے ۔ وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ایک بڑی صارف منڈی ہونے کے باعث پاکستان میں غذائی تحفظ، توانائی سمیت قابل تجدید ذرائع، زراعت اور لائیو سٹاک، انفارمیشن ٹیکنالوجی، مہمان نوازی اور سیاحت کے شعبوں میں سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش کاروباری مواقع فراہم موجود ہیں۔
    وزیراعظم نے قطری سرمایہ کاروں کو پاکستان میں اپنے قدم بڑھانے کے لیے حکومت کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے پاکستانی اور قطری تاجروں کے ساتھ گول میز کانفرنس کے انعقاد میں منتظمین کی کاوشوں کو سراہا۔

    قبل ازیں قطر میں پاکستان کے سفیر نے اپنے خطاب میں اس اعتماد کا اظہار کیا کہ وزیراعظم کا دورہ دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعلقات میں خاطر خواہ اضافہ کا باعث بنے گا۔ گول میز کے دوران، ایک معزز پینل نے دو طرفہ تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا۔ پینل ڈسکشن میں بنیادی طور پر تعاون کے نئے شعبوں کو تلاش کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی تاکہ دونوں ممالک میں کاروباری روابط مزید مضبوط قائم ہوں۔ پینلسٹس میں سید نوید قمر، وزیر تجارت؛ محترمہ حنا ربانی کھر، وزیر مملکت برائے خارجہ امور؛ محترمہ الانود بن حمد الثانی، QFC کی چیف بزنس آفیسر؛ محسن مجتبیٰ، اعزازی سرمایہ کاری کونسلر؛ اور پاکستان بزنس کونسل کے صدر ڈاکٹر جاوید اقبال شامل تھے

    اس سے پہلے وزیراعظم محمد شہبازشریف سے دوحہ میں قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی (کیو آئی اے) کے وفدنے ملاقات کی.
    قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی دنیا کے سب سے بڑے خو دمختار دولت فنڈز میں سے ایک ہے۔ H.E منصور بن ابراہیم المحمود، CEO، اور H.E. شیخ فیصل تھانی الثانی، چیف انویسٹمنٹ آفیسر آف افریقہ اور ایشیا پیسیفک ریجنز نے قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی کی نمائندگی کی۔ دو روزہ سرکاری دورے پر دوحہ پہنچنے کے فوراً بعد وزیراعظم کی یہ پہلی مصروفیت تھی۔

    وزیراعظم کے ہمراہ کابینہ کے اہم ارکان اور اعلیٰ حکام بھی تھے۔ عزت مآب امیر کی وژنری قیادت میں قطر کی تیز رفتار اقتصادی ترقی کو سراہتے ہوئے وزیراعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان قطر کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان روایتی طور پر بہترین سیاسی تعلقات کو ایک جامع اقتصادی شراکت داری میں اپ گریڈ(upgrade) کرنا چاہتا ہے۔

    وزیراعظم نے دوطرفہ اقتصادی اور سرمایہ کاری کی مصروفیات خاص طور پر قابل تجدید توانائی بشمول شمسی اور ہوا سے بجلی کی پیداوار، ہوا بازی، سمندری، صنعتی اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور مہمان نوازی کے شعبوں میں تعاون کو مزید بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا.

    وزیراعظم نے پاکستان کے منفرد جغرافیائی اور آبادیاتی فوائد کو اجاگر کیا۔ پاکستان کی لبرل اور کاروبار دوست سرمایہ کاری کی پالیسیوں کو اجاگر کرتے ہوئے وزیراعظم نے قطرکو پاکستان کے توانائی، ہوا بازی، زراعت اور لائیو سٹاک، میری ٹائم، سیاحت اور hospitality کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ انہوں نے قطری سرمایہ کاروں پر بھی زور دیا کہ وہ علاقائی روابط اور باہمی خوشحالی کو فروغ دینے کے لیے چین پاکستان اقتصادی راہداری کے ذریعے پیش کیے گئے مواقع تلاش کریں۔ وزیر اعظم نے شفاف اور تیز رفتار عمل کے ذریعے QIA کو مکمل سہولت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

    تقریب کے ایک حصے کے طور پر، متعلقہ وزارتوں کی جانب سے متعدد پریزنٹیشنز پیش کی گئیں جن میں غذائی تحفظ، توانائی، میری ٹائم، ہوا بازی، hospitality اورسیاحت کے شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات کو اجاگر کیا گیا۔

    وزیراعظم نے پاکستان میں سرمایہ کاری میں کیو آئی اے کی دلچسپی کو سراہا۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ دونوں اطراف کے نامزد فوکل پرسنز سرمایہ کاری کے لیے اہم تجاویز پر قریبی مشاورت کریں گے۔ وزیراعظم نے H.E منصور بن ابراہیم المحمود اورH.E شیخ فیصل تھانوی الثانی کو پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت دی تاکہ دورہءِ قطرسے پیدا ہونے والی پیش رفت کو آگے بڑھایا جا سکے۔ پاکستان کو ایک ترجیحی ملک قرار دیتے ہوئے، کیو آئی اے کے وفد نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع کو فعال طور پر تلاش کرنے کے لیے کیو آئی اے کی گہری دلچسپی اور تیاری کا اظہار کیا۔

  • وزیراعظم کل جائیں گے دو روزہ دورے پر قطر

    وزیراعظم کل جائیں گے دو روزہ دورے پر قطر

    قطر کے امیر عزت مآب شیخ تمیم بن حمد الثانی کی دعوت پر وزیراعظم محمد شہباز شریف 23 سے 24 اگست 2022 تک قطر کا دو روزہ سرکاری دورہ کریں گے۔یہ وزیراعظم شہباز شریف کا پہلا دورہ قطر ہوگا۔

    وزیر اعظم کے ساتھ وفاقی کابینہ کے اہم ارکان سمیت ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی قطر جائے گا۔ دورے کے دوران وزیراعظم قطری قیادت کے ساتھ مختلف امور پر مشاورت کریں گے۔ دونوں فریقین دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیں گے، خاص طور پر توانائی سے متعلق تعاون کو آگے بڑھانے، تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو گہرا کرنے اور قطر میں پاکستانیوں کے لیے روزگار کے وسیع مواقع تلاش کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے گی. علاوہ ازیں باہمی دلچسپی کے متعدد علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا ۔

    وزیراعظم دوحہ میں قطری اور پاکستانی تاجروں، سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔ وزیر اعظم دوحہ میں "سٹیڈیم 974” کا بھی دورہ کریں گے جہاں انہیں فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی کے لیے قطر کی حکومت کی جانب سے کی گئی وسیع تیاریوں کے بارے میں بریفنگ دی جائے گی۔

    پاکستان اور قطر کے درمیان قریبی اور خوشگوار برادرانہ تعلقات ہیں، جن کی جڑیں باہمی اعتماد اور افہام و تفہیم اور قریبی تعاون پر مبنی ہیں۔ یہ تعلقات دو طرفہ دلچسپی کے تمام شعبوں میں بڑھتے ہوئے تعاون کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر قریبی ہم آہنگی سے جڑے ہوئے ہیں۔ قطر میں موجود 200,000 سے زائد پاکستانی دونوں برادر ممالک کی ترقی، خوشحالی اور اقتصادی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ قیادت کی سطح پر باقاعدہ تبادلے پاکستان قطر شراکت داری کی پہچان ہیں۔ وزیراعظم کے دورہ قطر سے دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا کرنے اور ان کی بڑھتی ہوئی اقتصادی شراکت داری کو مزید تقویت ملے گی.

    شہباز گل پالپا پر برس پڑے،کہا جب غلطی پکڑی جاتی ہے تو یونین آ جاتی ہے بچانے

    وزیراعظم کا عزم ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری نہیں ری سٹکچرنگ کرنی ہے،وفاقی وزیر ہوا بازی

    860 پائلٹ میں سے 262 ایسے جنہوں نے خود امتحان ہی نہیں دیا،اب کہتے ہیں معاف کرو، وفاقی وزیر ہوا بازی

  • قطر:فٹبال ورلڈ کپ:12 لاکھ شائقین کی روایتی ٹینٹوں میں میزبانی کرنے کے لیے تیار

    قطر:فٹبال ورلڈ کپ:12 لاکھ شائقین کی روایتی ٹینٹوں میں میزبانی کرنے کے لیے تیار

    دوحہ:فٹبال ورلڈ کپ:12 لاکھ شائقین کی روایتی ٹینٹوں میں میزبانی کرنے کے لیے تیارقطر،اطلاعات کے مطابق رواں سال ہونے والے فیفا ورلڈ کپ میں 12 لاکھ شائقین کی میزبانی کرے گا اور ایک لاکھ روایتی ٹینٹوں میں ان کو ٹھہرانے کا انتظام کیا گیا ہے۔

    قطر میں ٹورنامنٹ کی اعلیٰ انتظامی کمیٹی میں رہائش کے انتظامات کے ذمے دار عہدیدار عمر الجبر نے بتایا کہ شائقین کو خیموں میں ٹھہرانے کے آپشن کی آئندہ دو ہفتوں میں آزمائش شروع کر دی جائے گی۔

    انہوں نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ یہ شائقین کو کیمپنگ کا مزہ دے گی، ہم لوگوں کو روایتی بدوی انداز میں صحرا اور ٹینٹ کے تجربے سے لطف اندوز کرانا چاہتے ہیں، اس ٹینٹ میں پانی، بجلی اور باتھ روم کا انتظام بھی ہوگا البتہ شدید گرم موسم کے حامل اس ملک میں ٹینٹ میں ایئرکنڈیشنر کا کوئی انتظام نہ ہوگا۔

    عالمی کپ رواں سال 21 نومبر سے 18 دسمبر تک قطر میں منعقد ہوگا اور یہ تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ ورلڈ کپ جون, جولائی کے روایتی سیزن کے بجائے سردیوں کے موسم میں منعقد ہو رہا ہے کیونکہ اکثر کھلاڑی جون اور جولائی میں عرب ملک میں کھیلنے سے انکار کر چکے تھے جہاں اکثر درجہ حرارت 45 ڈگری سے تجاوز کر جاتا ہے۔عمر الجبر کے مطابق ٹورنامنٹ کے موقع پر رہائش کے لیے ایک لاکھ کمرے دستیاب ہوں گے۔

  • ایران اور قطر کے وزراء خارجہ کے درمیان بات چیت:سعودی عرب بھی متحرک

    ایران اور قطر کے وزراء خارجہ کے درمیان بات چیت:سعودی عرب بھی متحرک

    دوحہ:ایران اور قطر کے وزراء خارجہ کے درمیان بات چیت:سعودی عرب بھی متحرک ،اطلاعات ہیں کہ دوحہ مذاکرات اصل میں سعودی عرب کی خواہش کے مطابق ہورہےہیں اوراس کا مقصد ایران اور سعودی عرب کے درمیان حالات کومعمول پرلانا ہے ، ادھر اس سلسلے میں یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ اسلامی جمہوریہ ایران اور ان کے قطری ہم منصب نے ہونے والی ٹیلی فونی گفتگو کے دوران دوحہ مذاکرات سمیت باہمی اور علاقائی مسائل پر بات چیت کی۔

    قطر کے محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ ملک کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ "محمد بن عبدالرحمن آل ثانی” اور وزیر خارجہ ایران "حسین امیر عبداللہیان” نے گزشتہ شب ٹیلی فونی گفتگو کے دوران باہمی اور علاقائی مسائل سمیت ایران جوہری مذاکرات پر بات چیت کی۔ یہ ٹیلی فونی گفتگو ایسے وقت ہوئی ہے کہ جب دوحہ میں پابندیوں کے خاتمے اور ایٹمی معاہدے کے حوالے سے مذاکرات کا نیا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔

    ایران کے نائب وزیر خارجہ علی باقری کنی نے بدھ کی صبح کو قطر کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سے ایک ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور علاقائی تبدیلیوں پر گفتگو کی۔

    علی باقری کنی نے دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات کو تہران-دوحہ کے درمیان تعلقات کے لیے ایک قیمتی سرمایہ قرار دیا گیا ہے کہ ان کا ملک قطر سے تعاون کے لیے پُرعزم ہے۔

    دریں اثناء قطری وزیر خارجہ نے ایرانی صدر اور امیر دونوں ممالک کے درمیان متعدد دوروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کے باہمی تعلقات کو بڑھانے میں ایران اور قطر کے صوبے پختہ عزم کا اظہار کیا۔

    ایران کے اعلی مذاکرات کار نے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر قطر کی تعمیر کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ دوحہ میں رضامندی کی منسوخی پر بات چیت کی میزبانی اور بات چیت کے فروغ کے لیے قطر کی نیک نیتی ظاہر کرتی ہے۔