Baaghi TV

Tag: قومی اسمبلی

  • شہدا کا قرض ادا کرنا چاہتے  تو نیشنل ایکشن پلان پر پوری طرح عمل کیا جائے،سحر کامران

    شہدا کا قرض ادا کرنا چاہتے تو نیشنل ایکشن پلان پر پوری طرح عمل کیا جائے،سحر کامران

    قومی اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران رکن قومی اسمبلی سحر کامران نے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کی جانب سے ڈینگی کے ذمہ داروں کے خلاف لیے گئے اقدامات کے حوالے سے سوال کیا جس پر پارلیمانی سیکرٹری برائے نیشنل فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ نیلسن عظیم نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ابھی تک جن لوگوں کو پکڑا گیا، ان پر مقدمے درج ہوئے ہیں، ڈی ایچ او اسلام آباد کی ٹیم نے چند علاقوں کو وزٹ کیا اور وہاں سے جو کیس آئے، جو ذمہ دار تھے انکے خلاف مقدمات درج ہوئے، عدالتوں میں کیسز زیر سماعت ہیں.

    سحر کامران نے قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ اے پی ایس کے قاتلوں کو معاف کیا جا سکتا ہے نہ ہی سانحہ کو بھلایا جا سکتا ہے نیشنل ایکشن پلان اس واقعہ کے بعد سامنے آیا تھا، میں سمجھتی ہوں اس کی بات کرنا ضروری ہے،ا فواج پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی اور کامیابی ملی، دہشت گردوں کو دوبارہ بسایا گیا جس کی وجہ سے دہشت گردی میں اضافہ ہوا، احتساب ہونا چاہئے کہ کیونکہ پالیسیز کا تسلسل نہیں ہوتا، قربانیوں کو کیوں ضائع ہونے دیا جا رہا، شہید بینظیر بھٹو نے اپنی جان قربان کی، سوات آپریشن ہوا تو وہاں پاکستان کا جھنڈا لہرایا گیا، نیشنل ایکشن پلان کا دوسرا حصہ انتہا پسندی کے خاتمے کا اس پر عمل نہیں ہو سکا، ہمیں اپنا احتساب کرنے کی ضرورت ہے، معاشرے سے نفرت، انتہا پسندی ختم کرنے کی ضرورت ہے، اگر ہم شہدا کا قرض ادا کرنا چاہتے ہیں تو نیشنل ایکشن پلان پر پوری طرح عمل کیا جائے،آرمی پبلک اسکول کے سانحہ کو فراموش نہیں کیا جاسکتا، نہ ہی معصوم بچوں کے قاتلوں کو معاف کیا جاسکتا ہے۔ آرمی پبلک اسکول پشاور کے معصوم شہدا کی قربانی قوم پہ قرض ہے، ملک سے نفرت، تقسیم، انتہا پسند اور دہشتگردی کے خاتمہ کے لئے نیشنل ایکشن پلان پہ عمل درآمد ضروری ہے۔

    سانحہ اے پی ایس، ایسا زخم ہے جو کبھی بھی نہیں بھرے گا،سحر کامران

    عالمی برادری غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے کیلیے کردار ادا کرے،سحر کامران

    یو اے ای کی ترقی،عالمی سطح پر کامیاب حکمرانی ایک مثال ہے، سحر کامران

    پی آئی اے پروازوں کی بحالی پاکستان کے لئے بڑی کامیابی ہے،سحر کامران

    پیپلز پارٹی ایک طاقتور سیاسی قوت کے طور پر موجود ہے۔سحر کامران

  • قومی اسمبلی میں سانحہ اے پی ایس کے 10 سال مکمل ہونے پر متفقہ قرارداد منظور

    قومی اسمبلی میں سانحہ اے پی ایس کے 10 سال مکمل ہونے پر متفقہ قرارداد منظور

    اسلام آباد: قومی اسمبلی اجلاس میں سانحہ اے پی ایس کے 10 سال مکمل ہونے پر متفقہ قرارداد منظور کر لی گئی ۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کے اجلاس میں قرارداد پیپلز پارٹی کی شازیہ مری نے پیش کی، جس میں لکھا گیا ہے کہ یہ ایوان قرار دیتا ہے کہ اے پی ایس کے شہید بچوں کی قربانی نے پورے پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف متحد کیاہے ۔

    قرارداد میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی حکومت ایوان اور عوام اعادہ کرتے ہیں کہ دہشت گردی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا، یہ ایوان دہشتگردی کے خلاف فورسزکی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہے یہ ایوان 16 دسمبر کو قومی دن کے طور پر منانے کی سفارش کرتا ہے ، معصوم بچوں، اسٹاف اور اسکولز نے ناقابل یقین بہادری کا مظاہرہ کیا ،شہداء کی قربانی نے قوم کو دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف یکجا کیا۔

    قرارداد کے مطابق یہ ایوان پاکستان کی آرمڈ فورسز اور مسلحہ افواج کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتا ہے، ایوان معاشرے کے تمام طبقات سے دہشت گردی سے پاک پاکستان کی تعمیر کے لئے یکجا ہونے کا مطالبہ کرتا ہے یہ ایوان پاکستان کو دہشت گردی سے مکمل پاک کرنے کا اعادہ کرتا ہے۔

  • انٹرنیٹ اہم ضرورت لیکن پاکستان میں اس کی اسپیڈ کم ہے،شزہ فاطمہ

    انٹرنیٹ اہم ضرورت لیکن پاکستان میں اس کی اسپیڈ کم ہے،شزہ فاطمہ

    وزیرِ مملکت برائے آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ کا کہنا ہے کہ حکومت معیشت کو ڈیجیٹائز کرنے کے لیے کوشاں ہے،انٹرنیٹ اہم ضرورت ہے لیکن پاکستان میں اس کی اسپیڈ کم ہے،

    اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شزہ فاطمہ خواجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان ڈیجیٹائزیشن کی جانب گامزن ہے، کرنسی کے استحکام نے انڈسٹری کو بہت فائدہ دیا ہے، معیشت بہتر ہو رہی ہے، مسائل حل ہو رہے ہیں، انٹرنیٹ کی اسپیڈ اس طرح نہیں جس طرح ہونی چاہیے، دنیا تیزی سے ڈیجیٹائزیشن کی طرف جا رہی ہے،حکومت ڈیجیٹائزیشن پر قانون سازی کے لیے کام کر رہی ہے، چیلنجز کے باوجود ملک میں ڈیجیٹلائزیشن کو فروغ دیا جارہا ہے، معیشت اب بہتر ہو رہی ہے تو اُمید کرتے ہیں باقی چیزیں بھی بہتر ہوں گی۔

    شزہ فاطمہ کا مزید کہنا تھا کہ امیدہے اگلے 5 سالوں میں ہم فائبرائزیشن کو بہتر بنانے میں کامیاب ہوں گے، رائٹ آف وے پر بڑی توجہ سے کام ہوا ہے،ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرمایہ کاری میں اضافہ نظر آئے گا جبکہ حکومت معیشت کو ڈیجیٹائز کرنے کے لیے کوشاں ہے،آئی ٹی کی تربیت حاصل کرنے والےنوجوانوں کومبارکبادپیش کرتی ہوں،نوجوانوں کے بہترمستقبل کیلئے ٹیکنالوجی سے آراستہ کرناہوگا،آئی ٹی کے فروغ کیلئے حکومت اقدامات کررہی ہے،نوجوانوں کو آئی ٹی کی تعلیم دے کرروزگار کے مواقع مہیا کر رہے ہیں،سائبرسکیورٹی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کئے جارہے ہیں،حکومت آئی ٹی ایکسپورٹ کو بڑھانے کیلئے خصوصی اقدامات کررہی ہے،

    دوسری جانب قومی اسمبلی کا اجلاس آج ہو گا، جس کا ایجنڈا جاری کر دیا گیا ہے، ہر پاکستانی کی ڈیجیٹل شناخت بنانے کے لیے قانون سازی کا بل آج قومی اسمبلی میں پیش ہو گا،بل قومی اسمبلی کے ایجنڈے میں شامل ہے جسے وزیرِ مملکت شزہ فاطمہ خواجہ پیش کریں گی،ڈیجیٹل شناخت بنانے کے بل کا مقصد سماجی، اقتصادی اور گورننس ڈیٹا تیار کرنا ہے،ایجنڈے کے مطابق قانون سازی ’پاکستان کو ڈیجیٹل قوم میں تبدیل کرنے، ڈیجیٹل سوسائٹی، ڈیجیٹل معیشت اور ڈیجیٹل گورننس کو فعال کرنے کے لیے فراہم کرے گی،ذرائع کے مطابق بل کا مقصد معیشت کو ڈیجیٹائز کرنا اور ای گورننس کو فروغ دینا ہے، حکومت 2 نئی باڈیز بنانے کا ارادہ بھی رکھتی ہے۔

    بل کے متن کے مطابق ایک باڈی نیشنل ڈیجیٹل کمیشن این ڈی سی ہو گی جس کی سربراہی وزیرِ اعظم کریں گے، باڈی میں چاروں وزرائے اعلیٰ اور اسٹیٹ بینک، ایف بی آر اور پی ٹی اے کے سربراہان شامل ہوں گے،دوسری باڈی پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی ہو گی جس کی قیادت صنعت کے اعلیٰ ماہرین کریں گے، نئے نظام کے تحت ہر شہری کے لیے ڈیجیٹل شناخت بنائی جائے گی،بل کے متن کے مطابق شناخت میں فرد کی صحت، اثاثوں اور دیگر سماجی اشاریوں کے بارے میں ڈیٹا شامل ہو گا، شناختی کارڈ، لینڈ ریکارڈ، پیدائشی سرٹیفکیٹس اور صحت کے ریکارڈ کا انتظام کرنے والے محکموں تک رسائی بہتر بنانا ہے، ڈیجیٹلائزیشن کی کوشش سرکاری محکموں کی کارکردگی میں بھی بہتری لائے گی، خدمات کو بہتر بنانے کے لیے ہدف پر مبنی منصوبے دیے جائیں گے۔

    تعلیمی اداروں میں منشیات سپلائی میں ملوث نائجیرین گروہ گرفتار

    حکومت اور پی ٹی آئی کے مذاکرات سے کچھ نہیں نکلنا،شیخ رشید

  • لگتا ہے وزرا نے ایوان کی کاروائی کا بائیکاٹ کر دیا، شازیہ مری

    لگتا ہے وزرا نے ایوان کی کاروائی کا بائیکاٹ کر دیا، شازیہ مری

    ڈپٹی اسپیکر سید میر غلام مصطفیٰ شاہ کی صدارت میں قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا
    ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی سید میر غلام مصطفیٰ شاہ نے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران رکن قومی اسمبلی شہریار خان آفریدی کی ہمشیرہ کے لیے فاتحہ خوانی کرائی۔ڈپٹی سپیکر نے وقفہ سوالات سے قبل نکتہ اعتراض دینے سے انکار کردیا ،شازیہ مری نے کہا کہ آپ کی رولنگ کے باوجود آج بھی ایوان میں کوئی وزیر موجود نہیں ہے۔ کیا آپ کی ناراضی یا رولنگ کا حکومت کو کوئی خیال نہیں ہے؟ پارلیمانی سیکرٹری کا میں احترام کرتی ہوں لیکن ایوان پر ،عوام پر مہربانی کریں، وفاقی حکومت ذمہ دار ہے کیا آپ کے رولنگ کی وقعت نہیں، آج بھی کوئی وزیر ایوان میں موجود نہیں،شاید وزیروں نے کاروائی کا بائیکاٹ کیا ہے، ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ وزیراعظم کو اس سارے معاملے پر کل خط لکھا ہے۔پہلے وقفہ سوالات، ایجنڈا اس کے بعد نکتہ اعتراض دیا جاسکتا ہے،

    اپوزیشن ارکان کی جانب سے نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کی اجازت مانگی گئی ،ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ اس طرح ایجنڈا رہ جاتا ہے، شازیہ مری نےپارلیمانی سیکرٹری سے اپنے سوال کا جواب لینے سے انکار کر دیا،شازیہ مری نے کہا کہ میرا سوال اتنا اہم ہے، سانگھڑ کے لوگوں کو تیل کے ذخائر کے عوض کیا مل رہا ہے؟ اسد قیصر نے کہا کہ آپ کے مسلسل نوٹس لینے کے باوجود حکومت سنجیدہ نہیں لے رہی۔حکومت مسائل کا حل تلاش کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے۔ اسد قیصر نے پوائنٹ آف آرڈر پربات کرنے کا مطالبہ کر دیا، ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ دس منٹ کا وقفہ لے رہے ہیں۔وقفے کے بعد وزراء کے نے آنے پر ایوان کی کارروائی ملتوی کر دی جائے گی۔

    واضح کرنا چاہتا ہوں کہ حکومت کے ساتھ کوئی بات چیت یا ڈائیلاگ نہیں ہوئی۔اسد قیصر
    وقفے کے بعد دوبارہ اجلاس ہوا،پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے کہا کہ میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ کل میڈیا پر جو خبریں چل رہی ہیں میرے بارے میں کہ کوئی مذاکرات یا ڈائیلاگ ہو رہے ہیں، وہ بالکل غلط ہیں۔ میں اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ہمشیرہ کی وفات پر فاتحہ خوانی کرنے گیا تھا، وہاں کوئی مذاکرات یا ڈائیلاگ نہیں ہوئے۔ کل مزید خبریں چلیں کہ حکومت سے کوئی بات چیت ہوئی ہے، تو میں پھر سے واضح کرنا چاہتا ہوں کہ حکومت کے ساتھ کوئی بات چیت یا ڈائیلاگ نہیں ہوئی۔ ہم نے مذاکرات کے لیے کمیٹی تشکیل دی ہے، اور جب حکومت سنجیدگی دکھائے گی اور عمران خان کی اجازت ہو گی، تب بات چیت کی جائے گی۔

    رکن قومی اسمبلی شازیہ مری نے درآمدی گیس اور مقامی گیس کو ایک قیمت پر دینے کے مضحکہ خیز تجویز کو مسترد کر دیا۔شازیہ مری کا کہنا تھا کہ جہاں ڈومیسٹک کنزیومر کی ڈیمانڈ بڑھ چکی ہے، ہر ایک کو کھانا بنانے کے لئے گیس چاہئے، گیس نہیں مل رہی، ہمارا اور عوام کا درست جواب نہ دے کر ٹائم ضائع کیا جا رہا ہے،آپ کہہ رہے ہیں کہ آر ایل این کے گاہک نہیں، یہ مہنگی گیس ہے،

    حکومت گیس کے نئے ذخائر دریافت کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی،شازیہ مری
    اپوزیشن اراکین کو فلور نا ملنے پر احتجاج کیا گیا، آغا رفیع اللہ نے اسد قیصر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ کو اپنے لیڈر کے حوالے سے بات کرنی ہے پریس کانفرنس کر لیں۔ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر ایران عالمی عدالت میں گیا ہے۔ شازیہ مری نے کہا کہ حکومت گیس کے نئے ذخائر دریافت کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی۔ گیس کی طلب بڑھنے کے باوجود قدرتی گیس کیپٹو پاور پلانٹس کو کیوں دی جا رہی ہے؟وفاقی وزیر مصدق ملک نے کہا کہ مجھے اندازہ نہیں میں نے کیا کہا جس پر اتنی ناراضی ہوگئی۔ آج تو پیپلز پارٹی والے سارے بہت ناراض لگ رہے ہیں۔ کیپٹو پاور پلانٹس کو قدرتی گیس ایل این جی کی قیمت پر فراہم کی جا رہی ہے۔ ہمارے پاس دستیاب ایل این جی کی کی قیمت زیادہ ہے۔ جب تک ہم گیس کی یکساں قیمت نہیں کریں گے تب تک اس کے خریدار نہیں ہوں گے،گیس کی قیمتوں میں کمی گیس کی یکساں قیمتوں پر منحصر ہے ۔ ۔یہ عوامی اور ملکی مقدمہ ہے۔اس حوالے سے پارلیمنٹ کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

    نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین سی پیک کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے پُر عزم ہیں، دونوں ممالک کے اعلیٰ سطح کے دوروں نے برادرانہ تعلقات کو تقویت دی ہے، دوروں اور معاہدوں سے سی پیک کے دوسرے مرحلے کو آگے بڑھانے میں مدد ملی ہے،منصوبے سے دو طرفہ تجارت، سرمایہ کاری، معیشت اور سیکیورٹی تعاون پر تبادلۂ خیال ہوا،سی پیک سے 25 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری آئی، 2 لاکھ 36 ہزار ملازمتیں پیدا ہوئیں، یہ منصوبہ پاکستان کے جغر افیائی محلِ وقوع کو اقتصادی فائدے میں بدل رہا ہے۔

    گوجرہ: چوری کی کوشش ناکام، چور روشن دان میں پھنس کر ہلاک

    ڈیرہ غازیخان:انسدادِ پولیو مہم,8 لاکھ سے زائد بچوں کو حفاظتی قطرے پلائے جائیں گے

    دہلی،شامی سفارتخانے پر باغیوں کا پرچم لہرا دیا گیا

  • ہمیں ٹارگٹ ملتا فنڈ نہیں ملتے، ڈی جی پاسپورٹس قائمہ کمیٹی میں پھٹ پڑے

    ہمیں ٹارگٹ ملتا فنڈ نہیں ملتے، ڈی جی پاسپورٹس قائمہ کمیٹی میں پھٹ پڑے

    قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی داخلہ کا اجلاس ہوا، اجلاس میں پاسپورٹس کی فراہمی میں تاخیر کا معاملہ زیرِ بحث آیا۔

    چیئرمین کمیٹی راجہ خرم نواز نےاجلاس کی صدارت کی،اجلاس میں اہم ترین قانون سازی کے علاوہ ملک میں جاری پاسپورٹ اجراء میں تاخیر،اسلام آباد میں امن و امان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا،

    کسی بھی غیر ملکی کے بچے کی پیدائش پر بھی اسے پاکستانی شہریت نہیں دی جائیگی، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے شہریت کے قانون میں ترمیم کا بل پاس کر لیا،قائمہ کمیٹی اجلاس میں ڈی جی امیگریشن اینڈ پاسپورٹس مصطفیٰ قاضی نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پورا سال کوشش کی کہ کسی طرح وزارت خزانہ سے پیسے لے لیں، 20 سال پرانی مشینوں کو استعمال کیا جا رہا تھا،پہلے ہر روز 75 ہزار پاسپورٹس بننے آتے تھے، صلاحیت 22 ہزار کی تھی، اب ہمارے پاس 25 پرنٹرز ہونے سے صلاحیت میں اضافہ ہو گیا ہے،فاسٹ ٹریک کیٹیگری میں بیگ لاک مکمل طور پر ختم کر دیاہے، ارجنٹ کیٹیگری میں ایک لاکھ 70 ہزار کا بیگ لاک ہے، آئندہ دو سے تین ہفتوں میں بیگ لاک ختم ہو جائے گا، ای پاسپورٹس کی دو نئی مشینیں بھی آرہی ہیں، گزشتہ سال 50 ارب اور اس سال اب تک 20 ارب روپے کما کر دیے ہیں، موبائل فون بھی آج کل اپ گریڈ ہوتے رہتے ہیں، ہمارے پاس فنڈز کی شدید قلت ہے،ہم نے اتھارٹی کی کوشش کی لیکن وزارت خزانہ نے مخالفت کی، ہمیں ٹارگٹ تو دیا جاتا ہے لیکن فنڈز نہیں دیے جاتے، ریونیو شیئرنگ فارمولا میں ہماری مدد کریں۔

    بیگ لاک ختم کرنے کے لیے کیا حکمت عملی ہے؟ سحر کامران کا ڈی جی پاسپورٹ سے سوال
    قائمہ کمیٹی اجلاس کے دوران رکن سحر کامران نے سوال کیا کہ بیگ لاک ختم کرنے کے لیے آپ کے پاس کیا حکمت عملی ہے؟ کبھی آپ کے پاس پیپرز کی، کبھی سیاہی کی قلت رہتی ہے،عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ لگتا ہے ڈی جی پاسپورٹ کے خلاف کوئی سازش ہوئی ہے، آپ کے آتے ہی یہ بیگ لاک کیوں سامنے آگیا؟ مشینری لینے کے لیے پیپرا رولز میں ادارے پھنسے رہتے ہیں، مشینوں کی خریداری کی لاگت سے متعلق بھی آگاہ کریں۔ڈی جی پاسپورٹس نے کہا کہ کورونا کے بعد پاسپورٹس کی ڈیمانڈ میں اضافہ ہوا، پرنٹرز کے لیے ہم نے لوکل نہیں انٹرنیشنل ٹینڈر کیا، جرمنی کے پرنٹرز دنیا میں سب سے جدید ہیں، ایک گھنٹے میں 4 ہزار پاسپورٹس پراسس کیے جا سکتے ہیں، جب میں نے عہدہ سنبھالا تو 15 لاکھ کا بیک لاگ تھا، ہم نے آ کر بیگ لاک ختم کیا، جرمنی کے پرنٹرز سستے اور ان کی پرنٹنگ صلاحیت زیادہ ہے

    قائمہ کمیٹی اجلاس میں آئی جی اسلام آباد اور چیئرمین کمیٹی میں تلخ کلامی
    قائمہ کمیٹی نے اسلام آباد پولیس کی کارکردگی کا ڈیٹا طلب کیا، آئی جی پولیس اسلام آباد نے کارکردگی رپورٹ پیش کی،اجلاس میں پیپلز پارٹی کے رکن قادر پٹیل نے پوچھا سزا دلوانے کے اعداد و شمار کیا ہیں؟ چیئرمین کمیٹی نے استفسار کیا ڈاکوو ں کو 2 چار ماہ سے زیادہ سزا نہیں ہوتی،کمیٹی اجلاس میں آئی جی اسلام آباد نے بتایا پولیس وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پر ہونے والی یلغار اور حملوں کو روکنے میں لگی رہی، اس پر چیئرمین کمیٹی نے یلغار کا لفظ کہنے سے روکا تو آئی جی غصے میں آگئے اور کہا کیا وہ سوالوں کے جواب نہ دیں؟ چیئرمین کمیٹی نے جواب دیا یونیفارم نہ پہنا ہوتا تو اجلاس سے اٹھا کر باہر بھیج دیتا لیکن وردی پر لگے جھنڈے کی عزت کی پروا ہے۔چیئرمین کمیٹی راجہ خرم نواز نے کہا کہ لڑائی کیوں کر رہے ہیں، اس وقت تھانوں میں جانے سے ڈر لگتا ہے، آئی جی اسلام آباد نے کہا کیا اس بیان کوآبزرویشن سمجھا جائے؟ چیئرمین کمیٹی نے جواب دیا بالکل سمجھا جائے، یہ رویہ شرم کی بات ہے، سچ یہ ہے کہ اسلام آباد میں جرائم کے کئی واقعات کی ایف آئی آر تک نہیں ہوتی۔

    سارے مقدمات آئینی بینچز میں نہ لے کر جائیں،جسٹس منصور علی شاہ

    ملک بھر کی جیلوں کی صورتحال تشویشناک ہے،چیف جسٹس پاکستان

    ایسا کچھ نہیں لکھیں گے جس سے دوبارہ سول کورٹ میں کیس شروع ہو جائے،چیف جسٹس

    چیف جسٹس کے دفتر میں اہم افسران تعینات

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا پہلا دن،سوا گھنٹے میں 24 مقدموں کی سماعت

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے نماز کے دوران تصویر بنانے پر ایس پی سیکیورٹی کا تبادلہ کر دیا

  • آرمی ایکٹ بل، مختلف ممالک میں سروسز چیفس کی مدت ملازمت کا دورانیہ

    آرمی ایکٹ بل، مختلف ممالک میں سروسز چیفس کی مدت ملازمت کا دورانیہ

    قومی اسمبلی نے آرمی ایکٹ میں ترمیم کا بل منظور کر لیا ہے

    بل کے تحت مسلح افواج کے سربراہان کی مدت ملازمت تین سال سے بڑھا کر پانچ سال کر دی گئی ہے۔ اس ترمیمی بل کو اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت اجلاس میں پیش کیا گیا اور ووٹنگ کے بعد منظور کر لیا گیا۔وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے یہ بل قومی اسمبلی میں پیش کیا اور بتایا کہ اس کا مقصد عسکری قیادت کے تسلسل کو برقرار رکھنا اور قومی سلامتی کے چیلنجز کا موثر مقابلہ کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "سروسز چیفس کی مدت ملازمت میں توسیع سے فوج کی قیادت کو زیادہ استحکام ملے گا اور قومی سلامتی کے معاملات میں تسلسل کو یقینی بنایا جا سکے گا۔”

    چیف آف آرمی، نیوی اور ایئر فورس کی تعیناتی کے مختلف ملکوں میں مختلف دورانیہ ہیں: مثلا امریکہ میں چار سال انگلینڈ میں تین سے چار سال، بھارت میں تین سال چائنہ میں پانچ سال، فرانس میں چار سال روس میں غیر معینہ مدت، جرمنی میں تین سے پانچ سال، جبکہ آسٹریلیا میں چار سال ہیں۔ ایسے میں اگر پاکستان میں سروسز چیفس کی مدت تعیناتی میں اضافہ کر کے پانچ سال کر دیا گیا ہے "تو اس میں کوئی نئی بات نہیں، ملکی مفاد میں حکومت کو اچھے فیصلے کرنے کا اختیار ہے، حکومت کا یہ فیصلہ ملکی سلامتی و دفاع کے لئے بہترین اور شاندار ہے

    کسی بھی ملک کے سروسز چیفس مختلف ممالک میں اپنی اپنی روایات اور چیلنجز کا سامنا کر تے ہیں،ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے ضروری ہے کہ سروسز چیفس کی مدت ملازمت کم از کم پانچ برس ہو،

    سروسز چیف کی مدت ملازمت تین سے پانچ سال بڑھانے کا خوش آئند فیصلہ

  • سروسز چیف کی مدت ملازمت  تین سے پانچ سال بڑھانے کا خوش آئند فیصلہ

    سروسز چیف کی مدت ملازمت تین سے پانچ سال بڑھانے کا خوش آئند فیصلہ

    آرمی ایکٹ میں ترمیم لا کر سروسز چیف کی مدت ملازمت کو تین سے پانچ سال بڑھانے کا خوش آئند فیصلہ ہے

    آرمی ایکٹ کے مطابق سروسز چیف کی مَدت ملازمت تین سال مقرر تھی جسکو قومی اسمبلی میں با ذریعہ ترمیمی بل تین سال سے بڑھا کر پانچ سال کر دیا گیا ہے یہ ایک انتہائی اہم اور خوش آئند فیصلہ ہے کیونکہ پالیسیوں کے تسلسل اور استحکام کی خاطر یہ قدم انتہائی ضروری تھا،سروسز میں اور نیشنل پالیسی لیول پر تین سال کے قلیل عرصے میں کسی بھی بڑی پالیسی فیصلہ سازی اور انیشییٹو کو منطقی انجام تک پہنچانا کافی مشکل کام تھا کیونکہ بڑے فیصلوں کی تکمیل وقت مانگتی ہے اور دوسری بات یہ ہے کے ایک پالیسی پر عمل داری کے درمیاں جب مُدت ملازمت ختم ہونے کے بعد نئی لیڈرشپ آتی ہے اُس سے جاری پالیسی بھی اثر انداز ہوتی ہے اور نئے سرے سے کام از سرے نو  شروع ہو جاتا ہے اور نتیجتاً سروس اور ملک دونوں اُس تبدیلی سے متاثر ہوتے ہیں اب سروسز چیف کی مُدت ملازمت پانچ سال ہو چکی ہے جس سے پالیسیوں کے تسلسل میں اور استحکام میں کافی فائدہ ہوگا

    واضح رہے کہ قومی اسمبلی نے آرمی ایکٹ میں اہم ترمیم کا بل منظور کر لیا ہے، جس کے تحت مسلح افواج کے سربراہان کی مدت ملازمت تین سال سے بڑھا کر پانچ سال کر دی گئی ہے۔وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے یہ بل قومی اسمبلی میں پیش کیا اور بتایا کہ اس کا مقصد عسکری قیادت کے تسلسل کو برقرار رکھنا اور قومی سلامتی کے چیلنجز کا موثر مقابلہ کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "سروسز چیفس کی مدت ملازمت میں توسیع سے فوج کی قیادت کو زیادہ استحکام ملے گا اور قومی سلامتی کے معاملات میں تسلسل کو یقینی بنایا جا سکے گا۔”

  • قومی اسمبلی  اور سینیٹ  کے اہم اجلاس آج ہوں گے

    قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اہم اجلاس آج ہوں گے

    اسلام آباد: قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اہم اجلاس آج ہوں گے۔

    باغی ٹی وی : قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت آج شام 4 بجے ہوگا، جس کا 7 نکاتی ایجنڈا جاری کردیا گیا، اجلاس میں انسداد دہشت گردی ترمیمی بل اور ججز کی تعداد بڑھانے کا بل منظور کرائے جانے کا امکان ہے۔

    ایجنڈے کے مطابق سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس ایوان میں پیش ہوگا، پریکٹس اینڈ پروسیجر بل میں سیکشن ٹو، ایکٹ 17 میں ترمیم کی گئی ہے، ہر مقدمہ چیف جسٹس کی زیر نگرانی مخصوص بینچ کے سامنے پیش ہوگا رول آف لا انڈیکس میں پاکستان کا 129 واں نمبر آنے کا توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا جائے گا، صدر مملکت کے مشترکہ اجلاس سے خطاب پر اظہار تشکر کی تحریک ایجنڈے کا حصہ ہےعالیہ کامران کا پی آئی اے کےطیاروں کو گراؤنڈ کیےجانےپر توجہ دلاؤ نوٹس شامل ہےجبکہ وقفہ سوالات اور نکتہ اعتراض بھی ایجنڈے میں موجود ہے۔

    دوسری جانب سینیٹ اجلاس کے لیے 39 نکاتی ایجنڈا بھی جاری کر دیا گیا جس کے مطابق آج کے اجلاس میں 3 نئے بل ایوان میں پیش کئے جائیں گے جبکہ 11 بلوں کی قائمہ کمیٹی کی رپورٹس اور منظوری بھی ایجنڈے میں شامل ہے، حکومت کی جانب سے تمام اراکین پارلیمنٹ کو ایوانوں میں حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

  • قومی اسمبلی ،دوسروں کیلئے گڑھاکھودنے والے خوداسی میں گرجاتے ہیں،وزیر قانون

    قومی اسمبلی ،دوسروں کیلئے گڑھاکھودنے والے خوداسی میں گرجاتے ہیں،وزیر قانون

    وزیرقانون اعظم نذیرتارڑ نےقومی اسمبلی میں اظہارخیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت قانون سازی کیلئے مکمل ذمہ داری سے کام کرتی ہے.

    وزیر قانون اعظم نذیر تارر کا کہنا تھا کہ ای سی ایل قانون پرسپریم کورٹ اورہائیکورٹس کے فیصلے موجودہیں.ای سی ایل کاایک باقاعدہ طریقہ کارہے. ای سی ایل کاجائزہ لے کربعض نام نکال دیئے تھے.ای سی ایل میں مختلف جرائم میں ملوث افراد4 سے5 ہزارلوگوں کے نام موجودہوتے ہیں.پی این آئی ایل کیلئے رولزبن چکے ہیں.دوسروں کیلئے گڑھاکھودنے والے خوداسی میں گرجاتے ہیں،

    قومی اسمبلی اجلاس، انسداد دہشت گردی ترمیمی بل 1997 پیش،بل میں ہے کیا؟
    قومی اسمبلی اجلاس کے دوران انسداد دہشت گردی ترمیمی بل 1997 پیش کیا گیا، بل وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے پیش کیا جسے اسپیکر قومی اسمبلی نے غور کے لیے قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا،سیکیورٹی فورسز کو کسی بھی فرد کو تحویل میں لینے کے اختیارات دینے کے لئے قانون سازی کا آغاز کر دیا گیا۔ قومی اسمبلی میں آج پیش کئے گئے انسداد دہشتگری ترمیمی بل کے مطابق آرمڈ فورسز ٹھوس وجوہات کی بنیاد پر کسی بھی فرد کو تین ماہ کی تحویل میں لے سکیں گی۔آرمڈ ، سول آرمڈ فورسز کو دہشتگرد سرگرمیوں میں ملوث فرد کو گرفتار کرنے کا اختیار دیا جائے گا،دہشتگرد سرگرمیوں میں ملوث شخص کو تین ماہ کی تحویل میں لیا جا سکے گا،قابل گرفت معلومات اور وجوہات کی بنا پر کسی بھی فرد کو تین ماہ کی تحویل میں لیا جائے گا،گرفتار شخص پر الزامات کی تحقیقات کے لئے اعلی سطح جے آئی ٹی بنائی جائے گی، جے آئی ٹی میں سپرنٹینڈنٹ پولیس افسر، انٹیلی جنس حکام، سول آرمڈ فورسز اور دوسری فورسز کے نمائندگان شامل ہوں گے

    بحری جہازوں کے ذریعے عازمین حج کو بھجوانے کے سوال پر وفاقی وزیر کا جواب
    قومی اسمبلی کے اجلاس میں وقفۂ سوالات میں شگفتہ جمانی نے پوچھا کہ کیا بحری جہازوں کے ذریعے عازمین کو حجاز بھیجنے کی پالیسی زیرِ غور ہے،وفاقی وزیرِ بحری امور قیصر احمد شیخ نے ایوان میں شگفتہ جمانی کے سوال کے جواب میں کہا کہ بحری جہازوں کے سفری نرخ بہت زیادہ رعایتی نہیں، اس پر غور کر رہے ہیں، بحری جہازوں پر عازمین کو لے جانا اتنا قابلِ عمل نہیں،

    مریم نواز بھارتی پنجاب سے بات کرے تو ٹھیک،گنڈا پور افغانستان سے بات کرے تو شور،ایسا کیوں، اسد قیصر
    وقفۂ سوالات میں پی ٹی آئی کے رکن اسد قیصر نے کہا کہ حکومتی سنجیدگی کا عالم دیکھ لیں کہ نہ تو وزراء آئے ہیں، نہ حکومتی ارکان،کل ہم اڈیالہ جیل گئے تھے،کل اڈیالہ جیل میں ہماری ملاقات کا اہتمام سپیکر قومی اسمبلی نے کیا تھا ہماری جیل حکام نے بے عزتی کی ہے یہ بے عزتی ہماری نہیں،اسپیکر نے اسد قیصر کو بات کرنے سے روکتے ہوئے کہا کہ اس پر وقفۂ سوالات کے بعد بات کریں پلیز۔اسد قیصر کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھارتی پنجاب سے مل کر بات کرنے کی بات کی، وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا نے افغانستان سے بات چیت کا کہا تو شور مچایا گیا، معیار سب کے لیے ایک ہونا چاہیے،

    جب تک ہم پک اینڈچوز رکھیں گے، میرا لیڈر تیرا لیڈر،پارلیمنٹ بے توقیرہوتی رہے گی،علی محمد خان
    پی ٹی آئی کے علی محمد خان نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مثالیں دی گئیں بھٹو صاحب کی پھانسی کی، بے نظیر صاحبہ کی شہادت کی، نوازشریف کو تین بار گھر بھیجنے کی،یہ سب حقیقت ہے لیکن جب تک ہم میرے لیڈر اور تمہارے لیڈر کی بحث میں پڑے رہیں کہ پارلیمنٹ بے توقیر ہوتی رہے گی، لوگ اُٹھائے جاتے رہیں گے اور زبردستی آئینی ترمیم آتی رہیں گی،ہماری ذمہ داری اس ایوان کے لئے بھی بنتی ہے،ایوان 25 کروڑ عوام کی امیدوں کا مرکز ہے، ہماری جماعتوں سے زیادہ ایوان کی ساتھ کمٹمنٹ ہونی چاہئے،26 ویں ترمیم لاتے وقت کہا گیا کہ ہم ایوان کو توانا کرنا چاہتے ہیں، کبھی کسی جج کو چھ ماہ کی سزا تک نہیں ملی،میرا سوال پارلیمنٹ سے ہے کہ جب تک ہم پک اینڈچوز رکھیں گے، میرا لیڈر تیرا لیڈر،پارلیمنٹ بے توقیرہوتی رہے گی، ترامیم مسلط ہوتی رہیں گی،جیل میں عمران کان کے کمرے کی بجلی 5 دن بند رکھی گئی ہے،بجلی بند ہونے کی وجہ سےجیل کے سیل میں اتنا اندھیرا تھا کہ عمران خان کو جائے نماز پر سجدے کی جگہ تک نظر نہیں آتی تھی، میں کسی سے رحم کی اپیل نہیں کر رہا، ملک کو آگے لے کر جانا ہے تو عمران خان کو باہر لانا ہو گا۔

    مؤکلوں کا رخ زمان پارک کی طرف،بشریٰ بی بی بھی پہنچ گئیں

    وکیلوں پر کبھی اعتبار نہیں کرنا چاہیے،عمران خان پھٹ پڑے

    شیر افضل مروت نے علی امین گنڈاپور کی سب”چالیں”عمران خان کو بتا دیں

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے خلاف شیر افضل مروت عمران خان کے سامنے بول پڑے

    عمران خان نے کہا کہ وہ ہر گز ڈیل نہیں کرینگے،علیمہ خان

  • پٹرولیم کمپنیاں کام کی بجائےبینک میں رقم رکھ کر سود کھارہیں،قائمہ کمیٹی میں انکشاف

    پٹرولیم کمپنیاں کام کی بجائےبینک میں رقم رکھ کر سود کھارہیں،قائمہ کمیٹی میں انکشاف

    اسلام آباد (محمد اویس) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی پیٹرولیم میں انکشاف ہوا ہے کہ پیٹرولیم کمپنیوں کا سی ایس آر کے پیسے بینکوں میں پڑے ہوئے ہیں اور ڈسٹرکٹ ویلفیر کمیٹی غیر فعال ہونے کی وجہ سے کوئی فلاحی کام تیل وگیس نکلنے والے اضلاع میں نہیں ہورہاہے،بینکوں میں 6ارب روپے سے زائد رقم پڑی ہے فلاحی کام نہ ہونے کی وجہ سے متعلقہ علاقوں میں تیل و گیس کا کام کرنے والی کمپنیوں کو آپریشن میں شدید مشکلات ہیں مقامی لوگ ہم سے خوش نہیں ہیں ،ممبر کمیٹی شاہد خٹک نے کمیٹی میں انکشاف کیا کہ کمپنیاں خود کام نہیں کرتی اور بینک میں یہ رقم رکھ کر سود کھارہی ہیں۔

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی پیٹرولیم کا اجلاس چیئرمین سید مصطفی محمود کی زیر صدرات ہوا ۔اجلاس میں ممبر کمیٹی سردار غلام عباس،شیزرا منصب،انور الحق ،صلاح الدین جونیجو، شاہد خٹک ،ودیگرممبران نے شرکت کی ۔ اجلاس میں سیکرٹری پیٹرولیم سمیت ملکی و غیر ملکی تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں کے سربراہان و نمائندوں نے شرکت کی ۔سی ایس آر فنڈز کے حوالے سے حکام نے بریفنگ دی گئی ۔ تیل کی تلاش کے دوران کمپنی کو سی ایس آر کی مد میں زون ون ٹو اور تری میں 30ہزار ڈالر سالانہ دینے ہوتے ہیں ،2ہزار بیرل تک پرڈکشن شروع ہوجائے تو پرانے پالیسی کے تحت سالانہ 20ہزار ڈالر اور نئی پالیسی 2009اور 2012کے تحت زون ون میں 50ہزار اور زون ٹو اور تری میں 37ہزار پانچ سو دینے ہوتے ہیں ،سی ایس آر کے استعمال کے لیے 2021کی پالیسی کے لیے ڈسٹرکٹ سوشل ویلفیئر کمیٹی بنائی جاتی ہے جس کا چیئرمین وفاقی وزیر لگاتا ہے جو ایم این اے یا ایم پی اے ہوتا ہے سی ایس آر کے تحت فلاحی منصوبوں کی منظوری کی کمیٹی وزیر کے ماتحت اور اس کمیٹی میں متعلقہ ایم این اے شامل ہوگا ۔ممبر کمیٹی نے کہاکہ سی ایس آر میں پیسے جمع ہوئے ہیں مگر استعمال نہیں ہورہاہے ۔پی پی ایل کمپنی کے حکام نے بتایا کہ کمیٹی کی عدم تشکیل کی وجہ سے پیسے جمع ہیں مگر استعمال نہیں ہورہے کمیٹی فعال ہوجائے تو اس سے پیسے لگنا شروع ہوجائیں گے ۔ پیسے خرچ نہ ہونے کی وجہ سے مقامی لوگ کمپنی کے آپریشن میں رکاوٹ ڈالتے ہیں ۔

    حکام نے کہاکہ ملک میں تیل و گیس کی تلاش کرنے والی 10غیر ملکی اور 9ملکی کمپنیاں کام کررہی ہیں ۔ کمیٹی نے تیل اور گیس کی تلاش و پیداواری علاقوں میں فنڈز کا استعمال نہ ہونے کا انکشاف ہوا ۔متعلقہ علاقوں میں فنڈز استعمال پر فیصلہ سازی کرنے والی کمیٹیاں فعال نہیں ۔جلد ہی یہ کمیٹیاں بن جائیں گی ۔رکن کمیٹی اسدعالم نیازی نے کہاکہ کمیٹیاں نہ ہونے سے تیل و گیس کی پیداواری کمپنیوں کی طرف سے فلاحی منصوبوں پر فندنگ رک چکی ۔پٹرولیم کمپنیوں کے سوشل ویلفیئر فنڈز صرف 22 فیصد استعمال ہونے کا انکشاف ہوا۔حکام نے بتایا کہ کے پی کے سوشل ویلفیئر اکاونٹ میں 1 ارب 44 کروڑ روپے پڑے ہیں، پنجاب کے سوشل ویلفیئر اکاونٹ میں 1 ارب 31 کروڑ پڑے ہیں، پنجاب میں اس وقت تک 42 کروڑ 74 لاکھ فنڈز خرچ کیے گئے ہیں، 19 پٹرولیم کمپنیاں سی ایس آر میں اپنے فنڈز جمع کرا دیتی ہیں، سی ایس آر فنڈز استعمال کرنے کی ذمہ داری ضلعی انتظامیہ کی ہوتی ہے، ضلعی سطح پر کمیٹیاں تشکیل نہ دینے کے باعث فنڈز استعمال نہیں ہوئے، سی ایس آر فنڈز اگر متعلقہ شہروں میں لگے تو نمایاں ترقی ہوگی،

    ممبران کمیٹی نے کہاکہ سی ایس آر فنڈز متعلقہ شہروں کے عوام کی فلاح پر خرچ ہونا چاہئیں، ممبر شاہد خٹک نے کہاکہ فنڈز کے پیسے اس لیے نہیں ہوتے کمپنیاں سود پر پیسے لے رہی ہیں، یہ فنڈز سے پیسے نکال کر ٹرسٹ اکاونٹ میں ڈال دیتے ہیں، ممبر کمیٹی نے کہاکہ فنڈز کے استعمال میں رکاوٹ مقامی نمائندوں کی آپس کی مخالفت ہے، کیوں نہ کمپنیوں کو سی ایس آر فنڈز خرچ کرنے کا اختیار دیا جائے، شہروں میں سوشل ویلفیئر کے کئی منصوبے ہوتے ہیں یہ رقم استعمال کیوں نہیں ہوئی، حکام نے بتایا کہ کمپینوں نے اس وقت سی ایس أر فنڈز کی مدمیں 9ارب 95کروڑ جمع کرائے ہیں اس وقت مختص رقم میں سے محض 3ارب 70کروڑ استعمال ہوسکے ۔6 ارب 24کروڑ کی رقم اب تک خرچ نہیں ہوسکی،قائمہ کمیٹی نےسی ایس آر کے معاملے پر سب کمیٹی بنانے کافیصلہ کرلیا. جس کی باقاعدہ منظوری اگلے کمیٹی اجلاس میں دی جائے گئی ۔ذیلی کمیٹی سوشل ویلفیئر فنڈز کے استعمال میں رکاوٹوں کا تعین کرے گی کمیٹی سی ایس آر فنڈز کے استعمال سے متعلق سفارشات بھی دے گی،ممبر کمیٹی شاہد خٹک نے کہاکہ کمپنیاں سی ایس آر کے پیسے بینکوں میں رکھتے ہیں اور اس پر سود لے رہے ہیں اور عوام پر نہیں لگارہے ہیں۔ پیسوں کے خرچ نہ ہونے پر سب سے زیادہ قصور کمپنیوں کا ہے جو پیسے جاری نہیں کرتے ۔

    کمپنیوں کے نمائندوں نے کمیٹی سے سے اپیل کی کہ سی ایس آر کے پیسے پڑے ہوئے ہیں کمیٹی ہو جلد ازجلد فعال کیا جائے تو ہی پیسے خرچ ہوسکیں گے ۔ مول کے نمائندے نے کہاکہ کوہاٹ میں پیسے جاری نہیں ہورہے کیس کاپریشر کم ہوتا ہے تو مقامی لوگ ہمارے گیٹ بند کردیتے ہیں۔ کمپنیوں کے نمائندے نے موقف دیتے ہوئے کہاکہ پیٹرولیم کمپنیوں کے لیے سیکورٹی کے مسائل شدید ہو رہے ہیں ،سیکورٹی مسائل کی وجہ سے ہمارے مالی معاملات متاثر ہو رہے ہیں ،جب سے فنڈز کمپنیوں سے کمیٹیوں کے پاس گئے ہیں فنڈز استعمال نہیں ہو پا رہے،جب فنڈز کمپنیوں کے کنٹرول میں تھے ہم نے علاقے میں میگا پراجیکٹس کیے،ممبر کمیٹی شاہد احمد نے کہاکہ کمپنیاں تاثر دے رہی ہیں کہ تمام مسائل سیاستدانوں کی وجہ سے ہیں ، ان کے سی ایس آر فنڈ کا آڈٹ کیا جائے،عوامی نمائندوں کی مشاورت کے بغیر منصوبے کامیاب نہیں ہو سکتے، پولش پیٹرولیم کمپنی کے سربراہ نے کہاکہ لوگ ہم سے خوش نہیں ہیں ، ہم لوگوں پر خرچ کر رہے ہیں ، سی ایس آر کی رقم خرچ نہیں ہو رہی،دو سال سے رقم خرچ نہیں کی گئی ہے، لوگوں کے مطالبات روز بروز بڑھ رہے ہیں