Baaghi TV

Tag: قومی اسمبلی

  • خواجہ آصف کا بہت احترام  لیکن ان کی زبان آگ اگلتی ہے،شیر افضل مروت

    خواجہ آصف کا بہت احترام لیکن ان کی زبان آگ اگلتی ہے،شیر افضل مروت

    قومی اسمبلی اجلاس کے دوران پی ٹی آئی رکن شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ یہاں ہر وقت ایسا ماحول ہوتا جیسے سوتنیں لڑ رہی ہیں ،

    شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ ایک دوسرے کیلئے کبھی کوئی مثبت بات نہیں کی ،میڈیا مذاکرات کی بات کرتا ہے اور یہاں کہتے ہیں مذاکرات نہیں ہورہے ،قوم کے سامنے جھوٹ بولا جاتا ہے،سیاستدانوں میں ٹی او آرز طے ہی نہیں کیے جاتے ،خواجہ آصف کا بہت احترام ہے لیکن ان کی زبان بھی آگ اگلتی ہے ،میں گلہ کرتا ہوں لوگ مرے لیکن وزیر اطلاعات نے غلط بیانی کی ،کیا ممکن نہیں کہ ٹی او آرز اور مسائل کے حل کیلئے ایک کمیٹی بنائیں ،عوام کے مسائل کے ادراک کیلئے یہاں بھیجا ہے،ہمارے علاقوں میں طالبان نے قبضہ کیا ہے
    کل خواجہ صاحب نے کہا کہ پی ٹی آئی کو پہل کرنا پڑے گی ،کیا رانا ثناء اللہ حکومت کے باضابطہ موقف سے ہمیں آگاہ کریں گے ،اس کے بعد اسٹیبلشمنٹ سے بھی بات ہوسکتی ہے

    جب تک حکومت اور اپوزیشن میں ڈائلاگ نہیں ہوگا یہ سسٹم نہیں چل سکتا ،رانا ثناء اللہ
    ن لیگی رہنما، وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ پانچ چھ ہفتے قبل وزیر اعظم ایوان میں آئے تو اپوزیشن سے ہاتھ ملایا،وزیر اعظم نے کہا کہ ہم مذاکرات کیلئے تیار ہیں ،اس کے بعد عمر ایوب نے جو جواب دیا وہ شیر افضل مروت کو معلوم ہوگا ،پچیس نومبر کی رات بھی مذاکرات جیل میں رسائی دی گئی ،اس وقت بھی نہیں تسلیم کیا گیا ،جن کی بھی جان گئی دونوں طرف سے افسوس ہونا چاہیے تھا ،جب تک حکومت اور اپوزیشن ڈائلاگ نہیں ہوگا یہ سسٹم نہیں چل سکتا ،یہ بات اس وقت بھی کہتے تھے جب کہا گیا چھوڑیں گے نہیں ،کہا گیا کمیٹی بنائی ہے جس کا دل چاہے بات کر لے ،سپیکر نے ہمیشہ غیر جانبداری کو برقرار رکھا ،پی ٹی آئی کی کمیٹی حکومت کو پیغام دینے کیلئے بتائیں کہ یہ کمیٹی ہے اور ہم سیاسی مذاکرات کرنا چاہتے ہیں ،ہم بھی اس کیلئے کوشش کریں گے ،مجھے امید ہے کہ اس کا کوئی نہ کوئی نتیجہ ضرور نکلے گا

    رکن قومی اسمبلی پاکستان تحریک انصاف علی محمد خان نے کہا کہ ہم وہ بدقسمت قوم ہیں کہ آج تک ہوش کے ناخن نہیں لیے ،ایک وزیر اعظم کو شہید کیا گیا دوسرا پانچ سو دنوں سے قید میں ہے ،سیاستدان بات کرتا ہے گولی نہیں مارتا ،پاکستان ایک سیاستدان نے بغیر بندوق کے حاصل کیا تھا ،غفار خان اور ولی خان کو عزت دیتا ہوں،
    ہمیں سلیکٹڈ کہا گیا لیکن ہاتھوں پر کسی کا خون نہیں ہے ،وزیر اطلاعات ہمارے کارکنان کے گھروں پر میرے ساتھ جائیں ،رینجرز اور پولیس کے گھروں پر آپ کے ساتھ جانے کو تیار ہوں ،ہمارا ایک مطالبہ ہے ڈی چوک کا انصاف چاہیے ،ایک دن عمران خان بھی جیل سے نکل آئے گا ،آپ نے مجھ پر غداری اور دہشت گردی کا مقدمہ قائم کیا.

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ بیٹھیں،وزیر قانون
    وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ حکومت مولانا فضل الرحمٰن سے بات چیت پر تیار ہے،وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ بیٹھیں،مولانا فضل الرحمٰن سے میرا اور میرے قائد کا احترام کا رشتہ ہے، 26 ویں ترمیم کے ساتھ اس بل کو دونوں ایوانوں نے پاس کیا، آئین کا آرٹیکل پچاس پارلیمنٹ کی تعریف کرتا ہے، صدرِ مملکت اس ایوان کا حصہ ہیں، کوئی بھی قانون سازی صدرِ مملکت کے دستخط کے بغیر مکمل نہیں ہوتی، آرٹیکل 75 کہتا ہے کہ صدر 10دن کے اندر منظوری دیتا ہے یا پھر مجلس شوریٰ کو واپس بھیجتے ہیں، جب صدر بل واپس کرتا ہے تو آئین کے مطابق بل کو مشترکہ اجلاس میں رکھا جاتا ہے، مشترکہ اجلاس میں بل ترامیم کے ساتھ یا ترامیم کے بغیر پاس ہو جاتا ہے، بل کو اسی شکل میں یا ترمیم کے ساتھ جو بھی صورت ہو مشترکہ اجلاس سے منظور کرنا ہو گا۔

    اسحاق ڈار ڈی ایٹ سمٹ میں شرکت کے لئے مصر پہنچ گئے

    سخت زبان استعمال کروگے تو میں بھی سخت زبان استعمال کرونگا۔خواجہ آصف

    خیبر پختونخوا کے بلدیاتی نمائندوں کا گنڈا پور کیخلاف اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج

  • سخت زبان استعمال کروگے تو میں بھی سخت زبان استعمال کرونگا۔خواجہ آصف

    سخت زبان استعمال کروگے تو میں بھی سخت زبان استعمال کرونگا۔خواجہ آصف

    وزیر دفاع خواجہ آصف اور شیر افضل مروت کی پارلیمنٹ ہاؤس میں مختصر ملاقات ہوئی ہے

    خواجہ آصف نے شیر افضل مروت کی نشست کے پاس سے گزرتے ہوئے ان سے مصافحہ کیا،بعد ازاں ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت ابھی تک تحریک انتشار کی ڈالی مشکلات دور کررہی ہے ،تحریک انصاف کے وزیرہوابازی کے ایک بیان نے پی آئی اے کا جو برا حشر کردیا تھا، وہ اب یورپین یونین کی جانب سے بحالی کے بعد پی آئی اے میں بہتری ہونے جارہی ہے، سخت زبان استعمال کروگے تو میں بھی سخت زبان استعمال کرونگا۔میں تسلیم کرتا ہوں، میری زبان زہر اور آگ اُگلتی ہے، آپ بتائیں آپ کی طرف سے کون سے پھول جھڑتے ہیں،دھمکی سے مذاکرات نہیں ہوتے، میرے منہ سے آگ نکلنا چاہتی ہے مگر میں بریک لگا رہا ہوں،شیر افضل مروت کی باتوں سے پہلی بار خوشگوار ٹھنڈی ہوا کا جھونکا آیا ہے،اچھی بات ہے،یہ شروعات کم از کم اس ایوان میں اگر ایسی آوازیں اٹھتی رہیں تو بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں،

    خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ زہر گھولنے والے کو ہمدرد نہیں سمجھا جاتا نا ہی گلے لگایا جاتا ہے۔ سول نافرمانی کی تحریک کا اعلان کیا گیا ہے، اسکے بعد بات چیت کر لیں گے، آپ بالکل سول نافرمانی کریں، دھمکی سے معاملات حل نہیں ہوتے، سیاستدان سیاسی زبان استعمال کرتے ہیں، بہت سی تلخیوں کا بوجھ ہم اٹھائے ہوئے ہیں، اسد قیصر یہاں بیٹھے ہیں وہ بتا دیں.آج بات ہوتی ہے جیل میں یہ سہولت نہیں، جیل میں 6 ٹمپریچر تھا مجھے کمبل دیدیا گیا، میں جنوری کی 12 راتیں جیل میں سویا، 2018 سے اب تک اس ہاؤس نے بہت تلخی دیکھی، کل بھی تصدیق کی تھی باضابطہ مذاکرات کی شروعات نہیں کی گئی، پہلی بار ادھر سے خوشگوار ٹھنڈی ہوا کا جھونکا آیا ہے۔لیکن سیاسی ذمہ داری آئینی ذمہ داری کے بعد آتی ہے

    خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ پارا چنار میں امن اومان کی صورتحال مخدوش ہے، دونوں سائیڈز سے افہام و تفہیم کی باتیں ہونی چاہئیں، مجھے بتایا گیا کہ کرم میں زمین کا جھگڑا ہے جو شیعہ سنی فساد میں تبدیل ہوگیا، آئین کہتا ہے یہ صوبائی حکومت کی ذمے داری ہے، پارا چنار میں پوری طرح آگ نہیں بجھی، ہم نے حلف لیا ہے پہلی ذمہ داری آئین کی ہے،اسلام آباد پر ضرور حملہ کریں لیکن صوبے کے حالات پر بھی غور کریں،

    خیبر پختونخوا کے بلدیاتی نمائندوں کا گنڈا پور کیخلاف اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج

    قومی اسمبلی اجلاس، رانا تنویر اور اسد قیصر میں لفظی جھڑپ

  • قومی اسمبلی اجلاس، رانا تنویر اور اسد قیصر میں لفظی جھڑپ

    قومی اسمبلی اجلاس، رانا تنویر اور اسد قیصر میں لفظی جھڑپ

    اسلام آباد: قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وفاقی وزیر رانا تنویر حسین اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما، سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے درمیان شدید لفظی جھڑپ ہوئی، جس میں دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے پر سنگین الزامات عائد کیے۔ یہ جھڑپ اس وقت ہوئی جب ایوان میں تیز شور و غل کے دوران دونوں کے بیانات میں شدت آئی۔

    رانا تنویر نے اسد قیصر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کا کردار فاشسٹ جماعت کا ہے اور یہ جماعت ہٹلر اور مسولینی کے نقش قدم پر چل رہی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی نے سرکاری وسائل کا غلط استعمال کیا اور وفاقی حکومت پر چڑھائی کی۔ رانا تنویر نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت کو غلط اطلاعات فراہم کی جاتی ہیں، جیسے کہ پنجاب حکومت چھاپے مار رہی ہے، جو کہ حقیقت سے بعید ہیں۔

    اسد قیصر نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ انہیں تحریک انصاف کے خلاف اس قسم کے بے بنیاد الزامات سن کر افسوس ہوتا ہے، تاہم انہوں نے ان الزامات کو مسترد کر دیا اور کہا کہ رانا تنویر کے بیانات حقیقت سے عاری ہیں۔ اسد قیصر کا کہنا تھا کہ رانا تنویر اپنی حکومت کے ادوار میں ہونے والی بدعنوانیوں کا جواب دیں اور عوامی مسائل پر بات کریں۔

    رانا تنویر نے اس موقع پر کہا، "چار سالوں میں آپ نے ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا، اور اس کے باوجود آپ کو شرم نہیں آئی۔ پنجاب حکومت اگر چاہے تو 10 لاکھ افراد کو سڑکوں پر لا سکتی ہے، لیکن آپ پنجاب سے 5 لوگ بھی نہیں نکال سکے۔” انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت نے عوامی مسائل پر کوئی توجہ نہیں دی، اور ان کی حکومت صرف سیاسی مداخلت اور الزامات کے ذریعے کام کر رہی تھی۔

    اس دوران ایوان میں شور شرابا بڑھ گیا اور دیگر ارکان بھی اس بحث میں شامل ہوگئے، جس کے باعث اجلاس کی کارروائی کچھ دیر کے لیے معطل ہو گئی۔ اسپیکر قومی اسمبلی کو مداخلت کرنا پڑی تاکہ ایوان کی کارروائی دوبارہ بحال ہو سکے۔

    قومی اسمبلی سیکریٹریٹ ترمیمی بل 2024سید نوید قمر نے پیش کیا، پاکستان اینیمل کونسل ترمیمی بل مزید غور کے لے قائمہ کمیٹی کوبھیج دیاگیا ،عالیہ کامران نے کہا کہ بل سینیٹ سے منظور ہوچکا ہے اسے یہاں منظور کیا جائے، وفاقی وزیر رانا تنویر نے کہا کہ جانوروں سے متعلق کونسل کے بل سے اتفاق کرتا ہوں، بل میں کمی ہے جسے دور کرنے کے لیے کمیٹی میں غور کیاجائے.

    سکاٹ لینڈ کے سابق وزیراعظم حمزہ یوسف کا انتخاب نہ لڑنے کا اعلان

    امریکا کے مختلف حصوں میں پراسرار ڈرونز کی اصل حقیقت کیا؟

    ہم صرف تنقید پر توجہ دیتے ہیں تنقید کے ماحول سے نکلنا ہوگا، انوارالحق کاکڑ

  • کیا آئی ایم ایف کی ہدایات پر ہماری قانون سازی ہوگی؟ مولانا فضل الرحمان

    کیا آئی ایم ایف کی ہدایات پر ہماری قانون سازی ہوگی؟ مولانا فضل الرحمان

    جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ سوسائٹیز رجسٹریشن ترمیمی بل ایکٹ بن چکا، گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے،

    قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھاکہ 26 ویں آئینی ترمیم اتفاق رائے سے منظور ہوئی، کوشش ہے تمام معاملات افہام و تفہیم سے حل کریں، دینی مدارس کے مالیاتی ڈھانچے پر بات کی گئی، وہ ایک اتفاق رائے کے ساتھ تھا،اپوزیشن پارٹی نے لاتعلقی ظاہر کی، تمام پارٹیاں حکومتی ،اپوزیشن بنچز پر آن بورڈ تھیں،سیاست میں مذاکرات ہوتے ہیں، دونوں فریق ایک دوسرے کو دلائل سے سمجھاتے ہیں اور مسئلہ حل تک پہنچ جاتا ہے، دینی مدارس کے حوالے سے ایک بل بھی تھا، ایک تاریخ ایوان کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں، 2004 میں حکومت اور دینی مدارس کے درمیان مذاکرات ہوئے، حکومت نے اس وقت مدارس کے حوالے سے تین سوال اٹھائے، مالیاتی نظام،دینی مدارس کا نصاب تعلیم اور تیسرا دینی مدارس کا تنظیمی ڈھانچہ کیا ہوتا ہے، تینوں سوالوں پر مذاکرات کے بعد حکومت مطمئن ہوگئی، کہا گیا دینی مدارس محتاط رہیں گے،شدت پیدا کرنےوالا مواد نہ شائع کیا جائے، 2010 میں ایک پھر معاہدہ ہوا، مہمارے نزدیک معاملات طے تھے، پھر اٹھارہویں ترمیم پاس ہوئی تو خود حکومت نےسوال اٹھایا، حکومت نے کہا مدارس سوسائٹی ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ ہوتے ہیں، یہ ایسا تھا جیسے ایک ڈاکخانہ تبدیل کررہے ہیں دوسرے سے، بعد میں ایک ایجوکیشن بورڈ بنا جس کے تحت 12مراکز بنائے گئے،

    نئے مدارس کی رجسٹریشن کے لئے حکومت تعاون کرے گی، مدارس کے حوالے سے ایکٹ بن چکا ہے، ایاز صادق سپیکر نے ایک انٹرویو میں الفاظ استعمال کیے یہ ایکٹ بن چکا ہے، یہ باتیں کرنا کہ وہ بھی تو مدارس ہیں ،تھوڑی سی تبدیلی کر دی جائے، گنجائش نکالی جائے، ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں، بحث اس پر ہے کہ ایکٹ بن چکا، گزٹ نوٹفکیشن کیوں نہیں ہو رہا، ہم نے ترمیم پر گفتگو کی،ایک ایسی غلط نظیر قائم کریں گے آپ جس سے آنے والے ہر ایوان کے لئے مشکل ہو گی، ایوان کا استحقاق مجروح نہ کیا جائے، دوسرا اعتراض آئینی لحاظ سے بھی درست نہیں ہے، تاویلیں نہیں چلیں گی، ہم بھی اسی مدرسہ سے پڑھے ہوئے، اس ہاؤس میں چند سال گزارے، میں قانون کا طالب علم ہو، عدالت قانون کے مطابق فیصلے دیتی ہے اس قانون کے مطابق جو ہم یہاں سے بنا کر بھیجتے، ہم قانون ساز ہیں، اس حوالہ سے ہمارے اس مطالبے کو تسلیم کیا جائے، یہ متفقہ چیز ہے،

    مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ 26 ویں ترمیم پر ایک ماہ بحث ہوتی رہی، پہلے ابتدائی ڈرافٹ، مذاکرات کے ذریعے حکومت 34 شقوں سے دستبردار ہوئی،22 پر آئی، پھر ہم نے پانچ شقیں اور شامل کیں، میں کراچی بھی گیا، بلاول ہاؤس گیا، لاہور آئے، نواز شریف کے گھر پانچ گھنٹے بیٹھے رہے، مدارس بل پر اتفاق رائے پایا گیا، میں نے پی ٹی آئی کے دوستوں کو اعتماد میں لیا، پارلیمنٹ کے کسی ایک رکن بھی اس سے غافل نہیں رکھا، اب مدارس کو کس چیز کی سزا دی جا رہی ہے، اتفاق رائے ہو چکا تو پھر اعتراضات کیوں، یہ راز آج کھلا کہ ہماری قانون سازی کسی اور کی مرضی کے مطابق ہو گی، کہہ دیا جائے ہم آزاد نہیں ہیں، غلام ہیں، یہ افسوسناک بات ہے، اگر امریکہ کے کانگریس میں کوئی رکن قرارداد پیش کرتا ہے وہ عمران کی رہائی کے لئے تو آپ یہاں قرار داد پیش کرتے ہیں کہ امریکہ کو دخل اندازی کا حق نہیں کیا یہ دخل صرف عمران خان اور پی ٹی آئی کے ساتھ ہے، باقیوں کے ساتھ نہیں، آئی ایم ایف ناراض ہو جائے گا، فلاں ناراض ہو جائے گا یہ تاویلات کیسے قبول کریں، ہم کوشش کر رہے ہیں کہ کسی تلخی کی طرف نہ جائیں کیونکہ پاکستان اس کا متحمل نظر نہیں آ رہا، دینی جماعتیں حکومت کے ساتھ تعاون کر رہی ہیں،دینی مدارس نے ثابت کر دکھا یا ہے کہ ہم پاکستان، آئین،جمہوریت، قانون کے ساتھ کھڑے ہیں، پھر کس بات کا امتحان لیا جا رہا ہے، کس کو تکلیف ہے کہ ملک میں مذہب کی تعلیم کیوں ہے، یہ بات آج سے نہیں بہت پرانی ہے.
    مدارس بل پر حکومت سب سے بڑی رکاوٹ ہے،

  • شہدا کا قرض ادا کرنا چاہتے  تو نیشنل ایکشن پلان پر پوری طرح عمل کیا جائے،سحر کامران

    شہدا کا قرض ادا کرنا چاہتے تو نیشنل ایکشن پلان پر پوری طرح عمل کیا جائے،سحر کامران

    قومی اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران رکن قومی اسمبلی سحر کامران نے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کی جانب سے ڈینگی کے ذمہ داروں کے خلاف لیے گئے اقدامات کے حوالے سے سوال کیا جس پر پارلیمانی سیکرٹری برائے نیشنل فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ نیلسن عظیم نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ابھی تک جن لوگوں کو پکڑا گیا، ان پر مقدمے درج ہوئے ہیں، ڈی ایچ او اسلام آباد کی ٹیم نے چند علاقوں کو وزٹ کیا اور وہاں سے جو کیس آئے، جو ذمہ دار تھے انکے خلاف مقدمات درج ہوئے، عدالتوں میں کیسز زیر سماعت ہیں.

    سحر کامران نے قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ اے پی ایس کے قاتلوں کو معاف کیا جا سکتا ہے نہ ہی سانحہ کو بھلایا جا سکتا ہے نیشنل ایکشن پلان اس واقعہ کے بعد سامنے آیا تھا، میں سمجھتی ہوں اس کی بات کرنا ضروری ہے،ا فواج پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی اور کامیابی ملی، دہشت گردوں کو دوبارہ بسایا گیا جس کی وجہ سے دہشت گردی میں اضافہ ہوا، احتساب ہونا چاہئے کہ کیونکہ پالیسیز کا تسلسل نہیں ہوتا، قربانیوں کو کیوں ضائع ہونے دیا جا رہا، شہید بینظیر بھٹو نے اپنی جان قربان کی، سوات آپریشن ہوا تو وہاں پاکستان کا جھنڈا لہرایا گیا، نیشنل ایکشن پلان کا دوسرا حصہ انتہا پسندی کے خاتمے کا اس پر عمل نہیں ہو سکا، ہمیں اپنا احتساب کرنے کی ضرورت ہے، معاشرے سے نفرت، انتہا پسندی ختم کرنے کی ضرورت ہے، اگر ہم شہدا کا قرض ادا کرنا چاہتے ہیں تو نیشنل ایکشن پلان پر پوری طرح عمل کیا جائے،آرمی پبلک اسکول کے سانحہ کو فراموش نہیں کیا جاسکتا، نہ ہی معصوم بچوں کے قاتلوں کو معاف کیا جاسکتا ہے۔ آرمی پبلک اسکول پشاور کے معصوم شہدا کی قربانی قوم پہ قرض ہے، ملک سے نفرت، تقسیم، انتہا پسند اور دہشتگردی کے خاتمہ کے لئے نیشنل ایکشن پلان پہ عمل درآمد ضروری ہے۔

    سانحہ اے پی ایس، ایسا زخم ہے جو کبھی بھی نہیں بھرے گا،سحر کامران

    عالمی برادری غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے کیلیے کردار ادا کرے،سحر کامران

    یو اے ای کی ترقی،عالمی سطح پر کامیاب حکمرانی ایک مثال ہے، سحر کامران

    پی آئی اے پروازوں کی بحالی پاکستان کے لئے بڑی کامیابی ہے،سحر کامران

    پیپلز پارٹی ایک طاقتور سیاسی قوت کے طور پر موجود ہے۔سحر کامران

  • قومی اسمبلی میں سانحہ اے پی ایس کے 10 سال مکمل ہونے پر متفقہ قرارداد منظور

    قومی اسمبلی میں سانحہ اے پی ایس کے 10 سال مکمل ہونے پر متفقہ قرارداد منظور

    اسلام آباد: قومی اسمبلی اجلاس میں سانحہ اے پی ایس کے 10 سال مکمل ہونے پر متفقہ قرارداد منظور کر لی گئی ۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کے اجلاس میں قرارداد پیپلز پارٹی کی شازیہ مری نے پیش کی، جس میں لکھا گیا ہے کہ یہ ایوان قرار دیتا ہے کہ اے پی ایس کے شہید بچوں کی قربانی نے پورے پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف متحد کیاہے ۔

    قرارداد میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی حکومت ایوان اور عوام اعادہ کرتے ہیں کہ دہشت گردی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا، یہ ایوان دہشتگردی کے خلاف فورسزکی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہے یہ ایوان 16 دسمبر کو قومی دن کے طور پر منانے کی سفارش کرتا ہے ، معصوم بچوں، اسٹاف اور اسکولز نے ناقابل یقین بہادری کا مظاہرہ کیا ،شہداء کی قربانی نے قوم کو دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف یکجا کیا۔

    قرارداد کے مطابق یہ ایوان پاکستان کی آرمڈ فورسز اور مسلحہ افواج کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتا ہے، ایوان معاشرے کے تمام طبقات سے دہشت گردی سے پاک پاکستان کی تعمیر کے لئے یکجا ہونے کا مطالبہ کرتا ہے یہ ایوان پاکستان کو دہشت گردی سے مکمل پاک کرنے کا اعادہ کرتا ہے۔

  • انٹرنیٹ اہم ضرورت لیکن پاکستان میں اس کی اسپیڈ کم ہے،شزہ فاطمہ

    انٹرنیٹ اہم ضرورت لیکن پاکستان میں اس کی اسپیڈ کم ہے،شزہ فاطمہ

    وزیرِ مملکت برائے آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ کا کہنا ہے کہ حکومت معیشت کو ڈیجیٹائز کرنے کے لیے کوشاں ہے،انٹرنیٹ اہم ضرورت ہے لیکن پاکستان میں اس کی اسپیڈ کم ہے،

    اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شزہ فاطمہ خواجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان ڈیجیٹائزیشن کی جانب گامزن ہے، کرنسی کے استحکام نے انڈسٹری کو بہت فائدہ دیا ہے، معیشت بہتر ہو رہی ہے، مسائل حل ہو رہے ہیں، انٹرنیٹ کی اسپیڈ اس طرح نہیں جس طرح ہونی چاہیے، دنیا تیزی سے ڈیجیٹائزیشن کی طرف جا رہی ہے،حکومت ڈیجیٹائزیشن پر قانون سازی کے لیے کام کر رہی ہے، چیلنجز کے باوجود ملک میں ڈیجیٹلائزیشن کو فروغ دیا جارہا ہے، معیشت اب بہتر ہو رہی ہے تو اُمید کرتے ہیں باقی چیزیں بھی بہتر ہوں گی۔

    شزہ فاطمہ کا مزید کہنا تھا کہ امیدہے اگلے 5 سالوں میں ہم فائبرائزیشن کو بہتر بنانے میں کامیاب ہوں گے، رائٹ آف وے پر بڑی توجہ سے کام ہوا ہے،ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرمایہ کاری میں اضافہ نظر آئے گا جبکہ حکومت معیشت کو ڈیجیٹائز کرنے کے لیے کوشاں ہے،آئی ٹی کی تربیت حاصل کرنے والےنوجوانوں کومبارکبادپیش کرتی ہوں،نوجوانوں کے بہترمستقبل کیلئے ٹیکنالوجی سے آراستہ کرناہوگا،آئی ٹی کے فروغ کیلئے حکومت اقدامات کررہی ہے،نوجوانوں کو آئی ٹی کی تعلیم دے کرروزگار کے مواقع مہیا کر رہے ہیں،سائبرسکیورٹی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کئے جارہے ہیں،حکومت آئی ٹی ایکسپورٹ کو بڑھانے کیلئے خصوصی اقدامات کررہی ہے،

    دوسری جانب قومی اسمبلی کا اجلاس آج ہو گا، جس کا ایجنڈا جاری کر دیا گیا ہے، ہر پاکستانی کی ڈیجیٹل شناخت بنانے کے لیے قانون سازی کا بل آج قومی اسمبلی میں پیش ہو گا،بل قومی اسمبلی کے ایجنڈے میں شامل ہے جسے وزیرِ مملکت شزہ فاطمہ خواجہ پیش کریں گی،ڈیجیٹل شناخت بنانے کے بل کا مقصد سماجی، اقتصادی اور گورننس ڈیٹا تیار کرنا ہے،ایجنڈے کے مطابق قانون سازی ’پاکستان کو ڈیجیٹل قوم میں تبدیل کرنے، ڈیجیٹل سوسائٹی، ڈیجیٹل معیشت اور ڈیجیٹل گورننس کو فعال کرنے کے لیے فراہم کرے گی،ذرائع کے مطابق بل کا مقصد معیشت کو ڈیجیٹائز کرنا اور ای گورننس کو فروغ دینا ہے، حکومت 2 نئی باڈیز بنانے کا ارادہ بھی رکھتی ہے۔

    بل کے متن کے مطابق ایک باڈی نیشنل ڈیجیٹل کمیشن این ڈی سی ہو گی جس کی سربراہی وزیرِ اعظم کریں گے، باڈی میں چاروں وزرائے اعلیٰ اور اسٹیٹ بینک، ایف بی آر اور پی ٹی اے کے سربراہان شامل ہوں گے،دوسری باڈی پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی ہو گی جس کی قیادت صنعت کے اعلیٰ ماہرین کریں گے، نئے نظام کے تحت ہر شہری کے لیے ڈیجیٹل شناخت بنائی جائے گی،بل کے متن کے مطابق شناخت میں فرد کی صحت، اثاثوں اور دیگر سماجی اشاریوں کے بارے میں ڈیٹا شامل ہو گا، شناختی کارڈ، لینڈ ریکارڈ، پیدائشی سرٹیفکیٹس اور صحت کے ریکارڈ کا انتظام کرنے والے محکموں تک رسائی بہتر بنانا ہے، ڈیجیٹلائزیشن کی کوشش سرکاری محکموں کی کارکردگی میں بھی بہتری لائے گی، خدمات کو بہتر بنانے کے لیے ہدف پر مبنی منصوبے دیے جائیں گے۔

    تعلیمی اداروں میں منشیات سپلائی میں ملوث نائجیرین گروہ گرفتار

    حکومت اور پی ٹی آئی کے مذاکرات سے کچھ نہیں نکلنا،شیخ رشید

  • لگتا ہے وزرا نے ایوان کی کاروائی کا بائیکاٹ کر دیا، شازیہ مری

    لگتا ہے وزرا نے ایوان کی کاروائی کا بائیکاٹ کر دیا، شازیہ مری

    ڈپٹی اسپیکر سید میر غلام مصطفیٰ شاہ کی صدارت میں قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا
    ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی سید میر غلام مصطفیٰ شاہ نے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران رکن قومی اسمبلی شہریار خان آفریدی کی ہمشیرہ کے لیے فاتحہ خوانی کرائی۔ڈپٹی سپیکر نے وقفہ سوالات سے قبل نکتہ اعتراض دینے سے انکار کردیا ،شازیہ مری نے کہا کہ آپ کی رولنگ کے باوجود آج بھی ایوان میں کوئی وزیر موجود نہیں ہے۔ کیا آپ کی ناراضی یا رولنگ کا حکومت کو کوئی خیال نہیں ہے؟ پارلیمانی سیکرٹری کا میں احترام کرتی ہوں لیکن ایوان پر ،عوام پر مہربانی کریں، وفاقی حکومت ذمہ دار ہے کیا آپ کے رولنگ کی وقعت نہیں، آج بھی کوئی وزیر ایوان میں موجود نہیں،شاید وزیروں نے کاروائی کا بائیکاٹ کیا ہے، ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ وزیراعظم کو اس سارے معاملے پر کل خط لکھا ہے۔پہلے وقفہ سوالات، ایجنڈا اس کے بعد نکتہ اعتراض دیا جاسکتا ہے،

    اپوزیشن ارکان کی جانب سے نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کی اجازت مانگی گئی ،ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ اس طرح ایجنڈا رہ جاتا ہے، شازیہ مری نےپارلیمانی سیکرٹری سے اپنے سوال کا جواب لینے سے انکار کر دیا،شازیہ مری نے کہا کہ میرا سوال اتنا اہم ہے، سانگھڑ کے لوگوں کو تیل کے ذخائر کے عوض کیا مل رہا ہے؟ اسد قیصر نے کہا کہ آپ کے مسلسل نوٹس لینے کے باوجود حکومت سنجیدہ نہیں لے رہی۔حکومت مسائل کا حل تلاش کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے۔ اسد قیصر نے پوائنٹ آف آرڈر پربات کرنے کا مطالبہ کر دیا، ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ دس منٹ کا وقفہ لے رہے ہیں۔وقفے کے بعد وزراء کے نے آنے پر ایوان کی کارروائی ملتوی کر دی جائے گی۔

    واضح کرنا چاہتا ہوں کہ حکومت کے ساتھ کوئی بات چیت یا ڈائیلاگ نہیں ہوئی۔اسد قیصر
    وقفے کے بعد دوبارہ اجلاس ہوا،پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے کہا کہ میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ کل میڈیا پر جو خبریں چل رہی ہیں میرے بارے میں کہ کوئی مذاکرات یا ڈائیلاگ ہو رہے ہیں، وہ بالکل غلط ہیں۔ میں اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ہمشیرہ کی وفات پر فاتحہ خوانی کرنے گیا تھا، وہاں کوئی مذاکرات یا ڈائیلاگ نہیں ہوئے۔ کل مزید خبریں چلیں کہ حکومت سے کوئی بات چیت ہوئی ہے، تو میں پھر سے واضح کرنا چاہتا ہوں کہ حکومت کے ساتھ کوئی بات چیت یا ڈائیلاگ نہیں ہوئی۔ ہم نے مذاکرات کے لیے کمیٹی تشکیل دی ہے، اور جب حکومت سنجیدگی دکھائے گی اور عمران خان کی اجازت ہو گی، تب بات چیت کی جائے گی۔

    رکن قومی اسمبلی شازیہ مری نے درآمدی گیس اور مقامی گیس کو ایک قیمت پر دینے کے مضحکہ خیز تجویز کو مسترد کر دیا۔شازیہ مری کا کہنا تھا کہ جہاں ڈومیسٹک کنزیومر کی ڈیمانڈ بڑھ چکی ہے، ہر ایک کو کھانا بنانے کے لئے گیس چاہئے، گیس نہیں مل رہی، ہمارا اور عوام کا درست جواب نہ دے کر ٹائم ضائع کیا جا رہا ہے،آپ کہہ رہے ہیں کہ آر ایل این کے گاہک نہیں، یہ مہنگی گیس ہے،

    حکومت گیس کے نئے ذخائر دریافت کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی،شازیہ مری
    اپوزیشن اراکین کو فلور نا ملنے پر احتجاج کیا گیا، آغا رفیع اللہ نے اسد قیصر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ کو اپنے لیڈر کے حوالے سے بات کرنی ہے پریس کانفرنس کر لیں۔ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر ایران عالمی عدالت میں گیا ہے۔ شازیہ مری نے کہا کہ حکومت گیس کے نئے ذخائر دریافت کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی۔ گیس کی طلب بڑھنے کے باوجود قدرتی گیس کیپٹو پاور پلانٹس کو کیوں دی جا رہی ہے؟وفاقی وزیر مصدق ملک نے کہا کہ مجھے اندازہ نہیں میں نے کیا کہا جس پر اتنی ناراضی ہوگئی۔ آج تو پیپلز پارٹی والے سارے بہت ناراض لگ رہے ہیں۔ کیپٹو پاور پلانٹس کو قدرتی گیس ایل این جی کی قیمت پر فراہم کی جا رہی ہے۔ ہمارے پاس دستیاب ایل این جی کی کی قیمت زیادہ ہے۔ جب تک ہم گیس کی یکساں قیمت نہیں کریں گے تب تک اس کے خریدار نہیں ہوں گے،گیس کی قیمتوں میں کمی گیس کی یکساں قیمتوں پر منحصر ہے ۔ ۔یہ عوامی اور ملکی مقدمہ ہے۔اس حوالے سے پارلیمنٹ کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

    نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین سی پیک کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے پُر عزم ہیں، دونوں ممالک کے اعلیٰ سطح کے دوروں نے برادرانہ تعلقات کو تقویت دی ہے، دوروں اور معاہدوں سے سی پیک کے دوسرے مرحلے کو آگے بڑھانے میں مدد ملی ہے،منصوبے سے دو طرفہ تجارت، سرمایہ کاری، معیشت اور سیکیورٹی تعاون پر تبادلۂ خیال ہوا،سی پیک سے 25 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری آئی، 2 لاکھ 36 ہزار ملازمتیں پیدا ہوئیں، یہ منصوبہ پاکستان کے جغر افیائی محلِ وقوع کو اقتصادی فائدے میں بدل رہا ہے۔

    گوجرہ: چوری کی کوشش ناکام، چور روشن دان میں پھنس کر ہلاک

    ڈیرہ غازیخان:انسدادِ پولیو مہم,8 لاکھ سے زائد بچوں کو حفاظتی قطرے پلائے جائیں گے

    دہلی،شامی سفارتخانے پر باغیوں کا پرچم لہرا دیا گیا

  • ہمیں ٹارگٹ ملتا فنڈ نہیں ملتے، ڈی جی پاسپورٹس قائمہ کمیٹی میں پھٹ پڑے

    ہمیں ٹارگٹ ملتا فنڈ نہیں ملتے، ڈی جی پاسپورٹس قائمہ کمیٹی میں پھٹ پڑے

    قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی داخلہ کا اجلاس ہوا، اجلاس میں پاسپورٹس کی فراہمی میں تاخیر کا معاملہ زیرِ بحث آیا۔

    چیئرمین کمیٹی راجہ خرم نواز نےاجلاس کی صدارت کی،اجلاس میں اہم ترین قانون سازی کے علاوہ ملک میں جاری پاسپورٹ اجراء میں تاخیر،اسلام آباد میں امن و امان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا،

    کسی بھی غیر ملکی کے بچے کی پیدائش پر بھی اسے پاکستانی شہریت نہیں دی جائیگی، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے شہریت کے قانون میں ترمیم کا بل پاس کر لیا،قائمہ کمیٹی اجلاس میں ڈی جی امیگریشن اینڈ پاسپورٹس مصطفیٰ قاضی نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پورا سال کوشش کی کہ کسی طرح وزارت خزانہ سے پیسے لے لیں، 20 سال پرانی مشینوں کو استعمال کیا جا رہا تھا،پہلے ہر روز 75 ہزار پاسپورٹس بننے آتے تھے، صلاحیت 22 ہزار کی تھی، اب ہمارے پاس 25 پرنٹرز ہونے سے صلاحیت میں اضافہ ہو گیا ہے،فاسٹ ٹریک کیٹیگری میں بیگ لاک مکمل طور پر ختم کر دیاہے، ارجنٹ کیٹیگری میں ایک لاکھ 70 ہزار کا بیگ لاک ہے، آئندہ دو سے تین ہفتوں میں بیگ لاک ختم ہو جائے گا، ای پاسپورٹس کی دو نئی مشینیں بھی آرہی ہیں، گزشتہ سال 50 ارب اور اس سال اب تک 20 ارب روپے کما کر دیے ہیں، موبائل فون بھی آج کل اپ گریڈ ہوتے رہتے ہیں، ہمارے پاس فنڈز کی شدید قلت ہے،ہم نے اتھارٹی کی کوشش کی لیکن وزارت خزانہ نے مخالفت کی، ہمیں ٹارگٹ تو دیا جاتا ہے لیکن فنڈز نہیں دیے جاتے، ریونیو شیئرنگ فارمولا میں ہماری مدد کریں۔

    بیگ لاک ختم کرنے کے لیے کیا حکمت عملی ہے؟ سحر کامران کا ڈی جی پاسپورٹ سے سوال
    قائمہ کمیٹی اجلاس کے دوران رکن سحر کامران نے سوال کیا کہ بیگ لاک ختم کرنے کے لیے آپ کے پاس کیا حکمت عملی ہے؟ کبھی آپ کے پاس پیپرز کی، کبھی سیاہی کی قلت رہتی ہے،عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ لگتا ہے ڈی جی پاسپورٹ کے خلاف کوئی سازش ہوئی ہے، آپ کے آتے ہی یہ بیگ لاک کیوں سامنے آگیا؟ مشینری لینے کے لیے پیپرا رولز میں ادارے پھنسے رہتے ہیں، مشینوں کی خریداری کی لاگت سے متعلق بھی آگاہ کریں۔ڈی جی پاسپورٹس نے کہا کہ کورونا کے بعد پاسپورٹس کی ڈیمانڈ میں اضافہ ہوا، پرنٹرز کے لیے ہم نے لوکل نہیں انٹرنیشنل ٹینڈر کیا، جرمنی کے پرنٹرز دنیا میں سب سے جدید ہیں، ایک گھنٹے میں 4 ہزار پاسپورٹس پراسس کیے جا سکتے ہیں، جب میں نے عہدہ سنبھالا تو 15 لاکھ کا بیک لاگ تھا، ہم نے آ کر بیگ لاک ختم کیا، جرمنی کے پرنٹرز سستے اور ان کی پرنٹنگ صلاحیت زیادہ ہے

    قائمہ کمیٹی اجلاس میں آئی جی اسلام آباد اور چیئرمین کمیٹی میں تلخ کلامی
    قائمہ کمیٹی نے اسلام آباد پولیس کی کارکردگی کا ڈیٹا طلب کیا، آئی جی پولیس اسلام آباد نے کارکردگی رپورٹ پیش کی،اجلاس میں پیپلز پارٹی کے رکن قادر پٹیل نے پوچھا سزا دلوانے کے اعداد و شمار کیا ہیں؟ چیئرمین کمیٹی نے استفسار کیا ڈاکوو ں کو 2 چار ماہ سے زیادہ سزا نہیں ہوتی،کمیٹی اجلاس میں آئی جی اسلام آباد نے بتایا پولیس وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پر ہونے والی یلغار اور حملوں کو روکنے میں لگی رہی، اس پر چیئرمین کمیٹی نے یلغار کا لفظ کہنے سے روکا تو آئی جی غصے میں آگئے اور کہا کیا وہ سوالوں کے جواب نہ دیں؟ چیئرمین کمیٹی نے جواب دیا یونیفارم نہ پہنا ہوتا تو اجلاس سے اٹھا کر باہر بھیج دیتا لیکن وردی پر لگے جھنڈے کی عزت کی پروا ہے۔چیئرمین کمیٹی راجہ خرم نواز نے کہا کہ لڑائی کیوں کر رہے ہیں، اس وقت تھانوں میں جانے سے ڈر لگتا ہے، آئی جی اسلام آباد نے کہا کیا اس بیان کوآبزرویشن سمجھا جائے؟ چیئرمین کمیٹی نے جواب دیا بالکل سمجھا جائے، یہ رویہ شرم کی بات ہے، سچ یہ ہے کہ اسلام آباد میں جرائم کے کئی واقعات کی ایف آئی آر تک نہیں ہوتی۔

    سارے مقدمات آئینی بینچز میں نہ لے کر جائیں،جسٹس منصور علی شاہ

    ملک بھر کی جیلوں کی صورتحال تشویشناک ہے،چیف جسٹس پاکستان

    ایسا کچھ نہیں لکھیں گے جس سے دوبارہ سول کورٹ میں کیس شروع ہو جائے،چیف جسٹس

    چیف جسٹس کے دفتر میں اہم افسران تعینات

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا پہلا دن،سوا گھنٹے میں 24 مقدموں کی سماعت

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے نماز کے دوران تصویر بنانے پر ایس پی سیکیورٹی کا تبادلہ کر دیا

  • آرمی ایکٹ بل، مختلف ممالک میں سروسز چیفس کی مدت ملازمت کا دورانیہ

    آرمی ایکٹ بل، مختلف ممالک میں سروسز چیفس کی مدت ملازمت کا دورانیہ

    قومی اسمبلی نے آرمی ایکٹ میں ترمیم کا بل منظور کر لیا ہے

    بل کے تحت مسلح افواج کے سربراہان کی مدت ملازمت تین سال سے بڑھا کر پانچ سال کر دی گئی ہے۔ اس ترمیمی بل کو اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت اجلاس میں پیش کیا گیا اور ووٹنگ کے بعد منظور کر لیا گیا۔وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے یہ بل قومی اسمبلی میں پیش کیا اور بتایا کہ اس کا مقصد عسکری قیادت کے تسلسل کو برقرار رکھنا اور قومی سلامتی کے چیلنجز کا موثر مقابلہ کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "سروسز چیفس کی مدت ملازمت میں توسیع سے فوج کی قیادت کو زیادہ استحکام ملے گا اور قومی سلامتی کے معاملات میں تسلسل کو یقینی بنایا جا سکے گا۔”

    چیف آف آرمی، نیوی اور ایئر فورس کی تعیناتی کے مختلف ملکوں میں مختلف دورانیہ ہیں: مثلا امریکہ میں چار سال انگلینڈ میں تین سے چار سال، بھارت میں تین سال چائنہ میں پانچ سال، فرانس میں چار سال روس میں غیر معینہ مدت، جرمنی میں تین سے پانچ سال، جبکہ آسٹریلیا میں چار سال ہیں۔ ایسے میں اگر پاکستان میں سروسز چیفس کی مدت تعیناتی میں اضافہ کر کے پانچ سال کر دیا گیا ہے "تو اس میں کوئی نئی بات نہیں، ملکی مفاد میں حکومت کو اچھے فیصلے کرنے کا اختیار ہے، حکومت کا یہ فیصلہ ملکی سلامتی و دفاع کے لئے بہترین اور شاندار ہے

    کسی بھی ملک کے سروسز چیفس مختلف ممالک میں اپنی اپنی روایات اور چیلنجز کا سامنا کر تے ہیں،ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے ضروری ہے کہ سروسز چیفس کی مدت ملازمت کم از کم پانچ برس ہو،

    سروسز چیف کی مدت ملازمت تین سے پانچ سال بڑھانے کا خوش آئند فیصلہ