Baaghi TV

Tag: قومی اسمبلی

  • قومی ایئرلائن کی تباہی کی وجوہات زیر بحث آگئیں

    قومی ایئرلائن کی تباہی کی وجوہات زیر بحث آگئیں

    قومی اسمبلی کی نجکاری کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں قومی ایئرلائن کی تباہی کی وجوہات زیر بحث آگئیں۔

    باغی ٹی وی کے مطابق کمیٹی کی کنوینر سحر کامران کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں قومی ایئرلائن کے حکام نے بتایا کہ مینجمنٹ اور ملازمین کے درمیان گیپ بھی ایک بڑی وجہ ہے۔ قومی ایئرلائن کے ملازمین کی ٹریولنگ بہت ہی محدود ہے، یورپ کے سفر کےلیے ہمیں وائٹ باڈیز ایئرکرافٹ چاہئیں۔ اس وقت قومی ایئرلائن کے پاس 777 بوئنگ 12 طیارے ہیں، ان12 طیاروں میں سے 6 گراؤنڈ ہیں۔قومی ایئرلائن حکام کا ذیلی کمیٹی کے روبرو کہنا تھا کہ ابھی اسمگلنگ میں لوگ پکڑے گئے، اتنی سفارشیں آئیں کہ بتا نہیں سکتے، پیرس کےلیے فلائٹ بحال ہونا بڑا لمحہ تھا لیکن منفی مہم چلی۔

    دوران اجلاس سحر کامران نے کہا کہ منفی مہم اس لیے ہوئی کہ ایڈورٹائزمنٹ غلط طریقے سے کی گئی، اشتہار میں مینار پاکستان اور ایفل ٹاور دکھا دیتے۔ آپ نے ایسی ایڈورٹائزمنٹ کی کہ جس کا غلط پیغام گیا، آپ پیرس کی فلائٹ میں مسافروں کو بٹھا کر لے جاتے۔ پی آئی اے نے لوگوں کو تنگ کیا، سیٹیں بھی ڈھیلی ہونا شروع ہوگئیں، سہولیات کم ہونے سے لوگ قومی ایئرلائن سے دوسری طرف چلے گئے۔اس پر حکام قومی ایئرلائن نے بتایا کہ کہا جاتا ہے پی آئی سے میں اووراسٹاف ہے یہ تاثر درست نہیں، ہمیں 2010ء میں مزید ملازمین بھرتی کرنے سے روک دیا گیا تھا۔

    حکام نے مزید کہا کہ پی آئی اے کے اسٹاف میں نوجوان ملازمین کی کمی ہے، قومی ایئرلائن میں ایک سال میں 8 سی ای اوز بھی تبدیل ہوئے تھے۔قومی ایئرلائن حکام نے یہ بھی کہا کہ جو لوگ پالیسی میکرز تھے انہیں بھی بار بار تبدیل کیا گیا، قومی ایئرلائن کے فلیٹ کی لائف بہت جلد ختم ہونے والی ہے۔ نئے جہازوں کی خریداری پر اتنا جی ایس ٹی تھا کہ خرید نہیں سکتے تھے، عدلیہ کی مداخلت کی وجہ سے بھی قومی ایئرلائن کےلیے کئی مسائل بنے۔جب بھی جہاز آتا تھا تو اس پر ہمیں سیلز ٹیکس ادا کرنا پڑتا تھا، ہمیں کبھی جہازوں پر جی ایس ٹی چھوٹ کی نوید نہیں سنائی گئی تھی۔

    اس پر سحر کامران نے کہا کہ آپ نے کبھی سیلز ٹیکس چھوٹ لینے کی کوشش ہی نہیں کی، نئے جہازوں پر سیلز ٹیکس کو ختم کرایا بھی تو ہم نے کرایا ہے۔حکام نے مزید کہا کہ قومی ایئرلائن کی طرف سے پریمئر سروس شروع کی گئی تھی، فزیبلٹی رپورٹ میں بتایا گیا کہ سروس نقصان میں جائے گی پھر بھی شروع کی گئی۔ذیلی کمیٹی نے اس موقع پر سالانہ بنیاد پر قومی ایئرلائن کو پہنچنے والے نقصانات کی تفصیلات طلب کرلیں۔نمائندہ پی آئی اے یونین نے کہا کہ گزشتہ دنوں قومی ایئرلائن میں ایک ایک دن میں سیکڑوں استعفے آنا شروع ہوگئے، ایک روز میں تو 200 ملازمین نے اپنے استعفے دے دیے، نجکاری دوبارہ شروع ہونے سے پھر ملازمین کے استعفے آنا شروع ہوگئے ہیں۔

    الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ اسٹیشنز ، بجلی نرخ میں کمی متوقع

    یوکرین جنگ کے خاتمے کے لئےفوری مذاکرات ہوں گے،ٹرمپ

    ترک صدر پاکستان پہنچ گئے، صدر، وزیراعظم نے کیا استقبال

    کراچی : ٹریفک پولیس ڈمپر اور ٹرک مافیا کے سامنے بے بس

    صائم ایوب کے ساتھ خاتون مداح کی بدتمیزی ،ویڈیو وائرل

  • قومی اسمبلی میں پھر ہنگامہ آرائی ، اپوزیشن نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں

    قومی اسمبلی میں پھر ہنگامہ آرائی ، اپوزیشن نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں

    اسلام آباد: قومی اسمبلی کا اجلاس پھر ہنگامہ آرائی کی نذر ہو گیا ، پی ٹی آئی ارکان نے احتجاج کرتے ہوئے نعرے بازی کی جس کے بعد اپوزیشن ارکان واک آؤٹ کر گئے۔

    باغی ٹی وی : اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیرصدارت قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوتے ہی اپوزیشن نے احتجاج شروع کر دیا، اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے نکتہ اعتراض پر مائیک مانگا، تاہم اسپیکر نے انہیں اجازت نہیں دی۔

    عمر ایوب کو اجازت نہ ملنے پر پی ٹی آئی کے ارکان نے ڈیسک بجا کر احتجاج کیا، جس سے ایوان کی کارروائی شدید متاثر ہوئی اور اسپیکر نے کان پر ہیڈ فون لگا لیے حکومتی وزراء اور پارلیمانی سیکرٹریز نے ہیڈ فون لگا کر کارروائی جاری رکھنے کی کوشش کی۔

    پی ٹی آئی ارکان نے ظالمو جواب دو خون کا حساب دو کے نعرے لگائے گئے پی ٹی آئی ارکان نے ایجنڈے کی کاپیاں بھی پھاڑ کر پھینک دیں اور اجلاس سے واک آؤٹ کر دیا۔

  • سحر کامران کا پی آئی اے کی نجکاری میں ناقص مارکیٹنگ پر تشویش کا اظہار

    سحر کامران کا پی آئی اے کی نجکاری میں ناقص مارکیٹنگ پر تشویش کا اظہار

    پاکستان کی قومی ائیر لائن، پی آئی اے (پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائنز) کی نجکاری کی پہلی کوشش ناکامی سے دوچار ہوئی ہے جس پر حکومتی اتحادیوں نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ حکومتی اتحادیوں نے نجکاری کی اس کوشش کو ناکامی قرار دیتے ہوئے موجودہ حکومت کو سخت الفاظ میں آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ وہ دوسری بار پی آئی اے کی نجکاری میں کامیابی کے لیے پرعزم ہے اور جلد ہی اس عمل میں کامیاب ہوگی۔

    قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے حکومت کی جانب سے پی آئی اے کی نجکاری کی پہلی کوشش پر کڑی تنقید کی۔ پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی، سحر کامران نے کہا کہ "اب تک جو کچھ بھی پرائیوٹائزیشن کے نام پر ہوا، وہ صرف ناکامی ہی ثابت ہوا۔ پی آئی اے کو کچھ حاصل نہیں ہوا، صرف 6.8 ملین ڈالر کی رقم ادا کی گئی، لیکن قومی ائیر لائن کے لیے کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ مارکیٹنگ پر بھی کوئی توجہ نہیں دی گئی۔”انہوں نے مزید کہا کہ "یہ 2015 سے مسلسل کہا جا رہا ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری کی جائے گی،پیپلز پارٹی کی تنقید کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری ، آسیہ اسحاق صدیقی نے کہا کہ حکومت ہر پہلو پر نظر ڈال کر فیصلہ کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ "ہم فنانشل ایڈوائزر کی مدد سے تمام حالات کا جائزہ لے کر فیصلہ کرتے ہیں۔ ہر فنانشل ایڈوائزر کی اپنی شرائط اور ٹرمز ہوتی ہیں، اور ہم ان کو مدنظر رکھتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔”

    پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما نوید قمر نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری میں ناکامی "انتظامیہ کی نااہلی” کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "اگر انتظامیہ نے صحیح طریقے سے کام کیا ہوتا تو یہ ناکامی نہ ہوتی۔”دوسری جانب نبیل گبول نے کہا کہ "پی آئی اے کی نجکاری کی کوشش نہایت غیر پیشہ ورانہ اور عجلت میں کی گئی تھی، جس کی وجہ سے یہ ناکام ہوئی۔”پی آئی اے کی جتنی بولی دی گئی، اتنی تو کراچی اسلام آباد بس سروس کے لائسنس کی بھی نہیں ہوتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ بولی اس بات کا ثبوت ہے کہ نجکاری میں شفافیت کی کمی ہے۔

    وفاقی وزیر برائے قانون، اعظم نذیر تارڑ نے پیپلز پارٹی کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ "اب یورپ اور دیگر اہم روٹس بحال ہو چکے ہیں، جس سے پی آئی اے کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے۔ نجکاری کمیٹی بھی تشکیل دی جا چکی ہے، اور ہمیں امید ہے کہ مستقبل میں پی آئی اے کی نجکاری کے لیے مزید آفرز آئیں گی۔”حکومت کی جانب سے 85 ارب روپے کی توقع کی گئی تھی، لیکن جب پی آئی اے کی نجکاری کی بولی کی گئی، تو صرف 10 ارب روپے کی پیشکش ملی۔ ہم اس بات کو سمجھتے ہیں اور آئندہ کی کوششوں میں مزید بہتری لانے کے لیے پرعزم ہیں۔

    پاکستان کی قومی ائیر لائن پی آئی اے کی نجکاری کا معاملہ حکومت کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکا ہے۔ پہلی کوشش میں ناکامی کے باوجود حکومت اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ نجکاری کے عمل میں ایک دن کامیابی حاصل کی جائے گی۔ تاہم اس ناکامی نے حکومت کے اتحادیوں میں اضطراب پیدا کیا ہے، اور یہ معاملہ قومی سیاست میں ایک نیا تنازعہ بن چکا ہے۔حکومت کی جانب سے پی آئی اے کی نجکاری کی دوسری کوشش پر اب تمام نظریں ہیں۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ آئندہ کی کوششیں زیادہ کامیاب ثابت ہوں گی اور اس میں عوامی مفاد کو بھی پیش نظر رکھا جائے گا۔ تاہم اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ حکومت کس طرح اپنے اتحادیوں کو ساتھ لے کر اس مشکل عمل کو مکمل کرتی ہے۔نجکاری کے اس پیچیدہ عمل میں کامیابی نہ صرف پی آئی اے کی مالی حالت کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے بلکہ حکومت کی نجکاری کی پالیسی کے لیے بھی ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔

    قائد بینظیر،آصف زرداری کی شادی،یادگارلمحہ تھی،سحرکامران

    شہدا کا قرض ادا کرنا چاہتے تو نیشنل ایکشن پلان پر پوری طرح عمل کیا جائے،سحر کامران

    سانحہ اے پی ایس، ایسا زخم ہے جو کبھی بھی نہیں بھرے گا،سحر کامران

    عالمی برادری غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے کیلیے کردار ادا کرے،سحر کامران

  • مل جل کر تلخیوں کا خاتمہ، مسائل کاحل مذاکرات سے ہی ممکن ہے،ایاز صادق

    مل جل کر تلخیوں کا خاتمہ، مسائل کاحل مذاکرات سے ہی ممکن ہے،ایاز صادق

    18ویں 2روزہ سپیکرز کانفرنس پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آبادمیں جاری ہے

    سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کانفرنس کی صدارت کررہے ہیں.اپنے خطاب میں سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کا کہنا تھا کہ تمام سپیکرزکوکانفرنس میں خوش آمدیدکہتا ہوں.ہماری ہر کانفرنس اور فورم پر کشمیرایجنڈے کاحصہ ہوگا.سپیکرکانفرنس میں مستقبل کے لائحہ عمل کو بہتربنانے کیلئے تجاویزپر غور ہو گا.سپیکرکاکام ہے کہ وہ ایوان کی کارروائی متوازن اندا ز میں چلائے.سپیکرکی نگاہ میں اپوزیشن اور حکومتی ارکان برابرہیں.بغیرکسی دباؤ کے ایوان کو چلانا سپیکرکی ذمہ داری ہے .سپیکرز کانفرنس سے اتحاد کا پیغام جا رہاہے.2013ء میں اسمبلی کے دروازے طلبہ کیلئے کھولے اور مہمان گیلری میں بٹھایا.یونیورسٹی ،کالجز اور سکولوں کے طلبہ کیلئے ایوان کی کارروائی دکھانا ضروری ہے. نوجوانوں کے لیے اسمبلی میں انٹرن شپ ضروری ہے.قومی اسمبلی میں وہپ کا کردار وزراء سے بھی زیادہ مضبوط ہے.اسمبلی میں احتجاج اخلاقیات کے دائرے میں رہتے ہوئے ہونا چاہئے.پارلیمانی عمل میں قائمہ کمیٹیوں کا کردارانتہائی اہمیت رکھتاہے.پارلیمنٹرینزکی تربیت اور آگاہی کیلئے پپس فورم کاکردار اہم ہے. مل جل کر تلخیوں کا خاتمہ کرنا ہو گا.تمام مسائل کاحل مذاکرات سے ہی ممکن ہے. اختلاف رائے جمہوریت کاحسن ،مذاکرات تلخیاں مٹانے کا ذریعہ ہیں،

    کانفرنس میں چاروں صوبائی اسمبلیوں کے سپیکرز شریک ہیں،سپیکرپنجاب اسمبلی ملک محمد احمدخان نے کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ سپیکرزکانفرنس کا انعقادخوش آئندہے. کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر سپیکر ایاز صادق کومبارکبادپیش کرتاہوں.سپیکرزکانفرنس کاانعقادہرسال ہوناچاہئے.تمام سیاسی پارٹیوں کے ورکرزکی قربانیاں ملک میں جمہوری استحکام کیلئے ہیں.پنجاب ایک بڑاصوبہ ہے.تمام صوبائی اکائیاں مرکزکی مضبوطی میں اہم کرداراداکرتی ہیں.صوبائی وزراء اداروں کی بہتری کیلئے کام کرتے ہیں،

    سوشل میڈیا پر نازیبا تصاویر کے ذریعےخاتون کو بلیک میل کرنیوالا گرفتار

    بیرسٹر سیف کا مذاکرات کا مشورہ،حکومت دلچسپی نہیں دکھا رہی،عمر ایوب

  • قومی اسمبلی اجلاس،پیپلز پارٹی اراکین  کی سست انٹرنیٹ پر حکومت پر سخت تنقید

    قومی اسمبلی اجلاس،پیپلز پارٹی اراکین کی سست انٹرنیٹ پر حکومت پر سخت تنقید

    قومی اسمبلی اجلاس میں ایکس سمیت سوشل میڈیا ایپس، انٹرنیٹ کی سست روی پر آج بحث کی گئی

    قومی فرانزک ایجنسی بل 2024 پر پیپلز پارٹی کی شازیہ مری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بل میں کچھ تکنیکی مسائل ہیں جنہیں دور ہونا چاہیے۔ بل کے تحت ایک ایسی سزا تجویز کی گئی ہے جو قابل اعتراض ہے۔شق 25 میں ایجنسی کے ماہر کو غلطی پر جرمانہ محض ایک لاکھ روپے تجویز کیا گیا۔ شازیہ مری نے جرمانے میں اضافے کی تجویز دے دی۔شازیہ مری نے فرانزک ایجنسی بل 2024 میں ترامیم کی تجویز دے دی۔وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ آج اگر بل منظور کر دیا جائے تو ترامیم کو بعد میں منظور کر لیا جائے گا۔ شازیہ مری نے اپنی تجویز کردہ ترامیم واپس لے لیں۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کی بندش کی قومی اسمبلی میں گونج دکھائی دی، زہرہ ودود فاطمی نے کہا کہ کیاایکس کو دوبارہ کھولنے کی کوئی امید ہے؟ سید نوید قمر نے کہا کہ وزیر مملکت کی موجودگی میں پارلیمانی سیکریٹری جواب نہیں دے سکتا۔وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پی ٹی اے کابینہ ڈویژن کا ذیلی ادارہ ہے۔وزیر مملکت برائے آئی ٹی کو جواب دینے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ کابینہ ڈویژن کا چارج وزیراعظم کے پاس ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ ریگولیٹری باڈیز کی اکثریت کابینہ ڈویژن کے زیر انتظام ہیں۔

    وزارت بدحالی کا شکار ہے،انٹرنیٹ کا اتنا ستیاناس کیوں کیاگیا ،عبدالقادر پٹیل
    سست انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی بندش پر حکومتی اتحادی پیپلز پارٹی نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔پیپلز پارٹی اراکین نےسست انٹرنیٹ اور فائروال پر حکومت پر سخت تنقید کی، شازیہ مری نے کہا کہ یہ کونسی فائروال ہے ہم کس سے جواب لیں۔ عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ انٹرنیٹ کی رفتار کا ستیاناس کر دیا گیا۔ وزارت بدحالی کا شکار ہے،انٹرنیٹ کا اتنا ستیاناس کیوں کیاگیا ہے۔ آئی ٹی سے جڑے لوگوں کا اربوں روپے کا نقصان ہو گیا ہے۔اتنی بدحالی کبھی کسی وزارت کی نہیں دیکھی جتنی اب ہے۔ پارلیمانی سیکریٹری برائے کابینہ ڈویژن نے کہا کہ وزارت داخلہ جونہی کہے گی حالات ٹھیک ہیں ہم ایکس کھول دیں گے۔

    اظہار رائے کی آزادی نہ ہوتی تو ٹک ٹاک اور فیس بک بھی بند ہوتے،شزا فاطمہ
    وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وقفہ برائے سوالات میں سوشل میڈیا ایپ کی بندش سے متعلق جواب دیا اور کہا کہ پاکستان میں جتنی آزادی رائے ہے کسی اور ملک میں نہیں ہے.اگر اظہار رائے کی آزادی نہ ہوتی تو ٹک ٹاک اور فیس بک بھی بند ہوتے.پاکستان میں 2 فیصد سے بھی کم لوگ ایکس استعمال کرتے ہیں.ہمارے متعلق نازیبا زبان استعمال کی جاتی ہے.پی ٹی اے ایک خودمختار ادارہ ہے. پی ٹی اے ریگولیٹر کے طور پر کانٹینٹ کاذمہ دار ہے.ایکس کی بندش کے حوالے سے وزارت داخلہ نے پی ٹی اے کو سفارشات ارسال کی تھیں.قومی سلامتی کیلئے ڈیجیٹل حملوں سے بچنا ہوگا.دشمن ہروقت سوشل میڈیا کےذریعے سائبر حملوں کیلئے تیارب یٹھاہوتاہے.قومی سلامتی سے آگے کچھ نہیں ہونا چاہیے.ملک کی معیشت سنبھل چکی ہے.حکومت مہنگائی کی شرح میں کمی لانے کیلئے کوشاں ہے.مسلم لیگ ن نے چھ سالوں میں 10لاکھ سےزائد لیپ ٹاپ طلبہ میں تقسیم کیے،

    ڈیجیٹل نیشن پاکستان پر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں وزیر مملکت شزا فاطمہ خواجہ سیخ پا ہو گئیں، بولیں، اگر یہ بل نہیں پاس کرانا چاہتے تو واپس پتھر کے زمانے میں چلے جاتے ہیں اپنی گاڑیاں اور ٹی وی بند کریں،

    معروف کبڈی پلئیرسمیت چارنوجوان انسانی سمگلرزکے ہتھے چڑھ گئے

    میٹرو سٹی گوجر خان کی تقریب،گولیاں چل گئیں،ایک شخص کی موت

    میٹرو سٹی گوجر خان کی تقریب،گولیاں چل گئیں،ایک شخص کی موت

  • سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کی روایت بانی چیئرمین پی ٹی آئی نے رکھی،عطا تارڑ

    سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کی روایت بانی چیئرمین پی ٹی آئی نے رکھی،عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ اس ملک کے عام آدمی کا مسئلہ غربت اور مہنگائی ہے، اسے حل کرنا ہمارا فرض ہے،

    میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے اس ملک کے مفاد کی خاطر دوستی کا ہاتھ بڑھایا، نواز شریف کے اس اچھے پیغام کو بھی کمزوری سمجھا گیا، ہماری سیاسی روایت ہے کہ ہم سیاسی مخالفین کی خوشی غمی میں شرکت کرتے ہیں، ہمارے سیاسی قائدین نے ہمیں اخلاق کے دائرہ میں رہ کر تنقید کرنے کی تلقین کی، مگر کنٹینر سے روزانہ گالم گلوچ کی سیاست کی جاتی تھی، نواز شریف نے ملک میں ٹرین مارچ بھی کیا، بڑے جلسے بھی کئے لیکن کبھی کسی کو تو کر کے نہیں بلایا، بانی چیئرمین پی ٹی آئی کو بھی خان صاحب کہہ کر پکارتے تھے، نواز شریف نے سیاست میں ہمیشہ دور اندیشی کا مظاہرہ کیا، یہ اپنے سیاسی مفاد کو تعصب کی نظر سے سوچتے ہیں، ملتان میں قاسم باغ کے جلسے میں بھگدڑ مچنے سے تحریک انصاف کے آٹھ سے دس کارکن ہلاک ہوئے، کیا یہ ان کے گھر تعزیت کے لئے گئے؟ پی ٹی آئی نے اموات کا جھوٹا بیانیہ بنایا، انہوں نے مصنوعی ذہانت کے استعمال سے اسلام آباد کی پوری سڑک کو خون میں لت پت دکھایا،اگر یہ سچے ہیں تو ان کے اعداد و شمار کیوں مختلف ہیں،اگر ان کا بیانیہ سچ پر مبنی تھا تو پوری پارٹی ایک بات کرتی، مائوں، بہنوں، بیٹیوں کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کی روایت بھی بانی چیئرمین پی ٹی آئی نے رکھی،

    خواجہ آصف کا بہت احترام لیکن ان کی زبان آگ اگلتی ہے،شیر افضل مروت

    اسحاق ڈار ڈی ایٹ سمٹ میں شرکت کے لئے مصر پہنچ گئے

    سخت زبان استعمال کروگے تو میں بھی سخت زبان استعمال کرونگا۔خواجہ آصف

  • خواجہ آصف کا بہت احترام  لیکن ان کی زبان آگ اگلتی ہے،شیر افضل مروت

    خواجہ آصف کا بہت احترام لیکن ان کی زبان آگ اگلتی ہے،شیر افضل مروت

    قومی اسمبلی اجلاس کے دوران پی ٹی آئی رکن شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ یہاں ہر وقت ایسا ماحول ہوتا جیسے سوتنیں لڑ رہی ہیں ،

    شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ ایک دوسرے کیلئے کبھی کوئی مثبت بات نہیں کی ،میڈیا مذاکرات کی بات کرتا ہے اور یہاں کہتے ہیں مذاکرات نہیں ہورہے ،قوم کے سامنے جھوٹ بولا جاتا ہے،سیاستدانوں میں ٹی او آرز طے ہی نہیں کیے جاتے ،خواجہ آصف کا بہت احترام ہے لیکن ان کی زبان بھی آگ اگلتی ہے ،میں گلہ کرتا ہوں لوگ مرے لیکن وزیر اطلاعات نے غلط بیانی کی ،کیا ممکن نہیں کہ ٹی او آرز اور مسائل کے حل کیلئے ایک کمیٹی بنائیں ،عوام کے مسائل کے ادراک کیلئے یہاں بھیجا ہے،ہمارے علاقوں میں طالبان نے قبضہ کیا ہے
    کل خواجہ صاحب نے کہا کہ پی ٹی آئی کو پہل کرنا پڑے گی ،کیا رانا ثناء اللہ حکومت کے باضابطہ موقف سے ہمیں آگاہ کریں گے ،اس کے بعد اسٹیبلشمنٹ سے بھی بات ہوسکتی ہے

    جب تک حکومت اور اپوزیشن میں ڈائلاگ نہیں ہوگا یہ سسٹم نہیں چل سکتا ،رانا ثناء اللہ
    ن لیگی رہنما، وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ پانچ چھ ہفتے قبل وزیر اعظم ایوان میں آئے تو اپوزیشن سے ہاتھ ملایا،وزیر اعظم نے کہا کہ ہم مذاکرات کیلئے تیار ہیں ،اس کے بعد عمر ایوب نے جو جواب دیا وہ شیر افضل مروت کو معلوم ہوگا ،پچیس نومبر کی رات بھی مذاکرات جیل میں رسائی دی گئی ،اس وقت بھی نہیں تسلیم کیا گیا ،جن کی بھی جان گئی دونوں طرف سے افسوس ہونا چاہیے تھا ،جب تک حکومت اور اپوزیشن ڈائلاگ نہیں ہوگا یہ سسٹم نہیں چل سکتا ،یہ بات اس وقت بھی کہتے تھے جب کہا گیا چھوڑیں گے نہیں ،کہا گیا کمیٹی بنائی ہے جس کا دل چاہے بات کر لے ،سپیکر نے ہمیشہ غیر جانبداری کو برقرار رکھا ،پی ٹی آئی کی کمیٹی حکومت کو پیغام دینے کیلئے بتائیں کہ یہ کمیٹی ہے اور ہم سیاسی مذاکرات کرنا چاہتے ہیں ،ہم بھی اس کیلئے کوشش کریں گے ،مجھے امید ہے کہ اس کا کوئی نہ کوئی نتیجہ ضرور نکلے گا

    رکن قومی اسمبلی پاکستان تحریک انصاف علی محمد خان نے کہا کہ ہم وہ بدقسمت قوم ہیں کہ آج تک ہوش کے ناخن نہیں لیے ،ایک وزیر اعظم کو شہید کیا گیا دوسرا پانچ سو دنوں سے قید میں ہے ،سیاستدان بات کرتا ہے گولی نہیں مارتا ،پاکستان ایک سیاستدان نے بغیر بندوق کے حاصل کیا تھا ،غفار خان اور ولی خان کو عزت دیتا ہوں،
    ہمیں سلیکٹڈ کہا گیا لیکن ہاتھوں پر کسی کا خون نہیں ہے ،وزیر اطلاعات ہمارے کارکنان کے گھروں پر میرے ساتھ جائیں ،رینجرز اور پولیس کے گھروں پر آپ کے ساتھ جانے کو تیار ہوں ،ہمارا ایک مطالبہ ہے ڈی چوک کا انصاف چاہیے ،ایک دن عمران خان بھی جیل سے نکل آئے گا ،آپ نے مجھ پر غداری اور دہشت گردی کا مقدمہ قائم کیا.

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ بیٹھیں،وزیر قانون
    وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ حکومت مولانا فضل الرحمٰن سے بات چیت پر تیار ہے،وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ بیٹھیں،مولانا فضل الرحمٰن سے میرا اور میرے قائد کا احترام کا رشتہ ہے، 26 ویں ترمیم کے ساتھ اس بل کو دونوں ایوانوں نے پاس کیا، آئین کا آرٹیکل پچاس پارلیمنٹ کی تعریف کرتا ہے، صدرِ مملکت اس ایوان کا حصہ ہیں، کوئی بھی قانون سازی صدرِ مملکت کے دستخط کے بغیر مکمل نہیں ہوتی، آرٹیکل 75 کہتا ہے کہ صدر 10دن کے اندر منظوری دیتا ہے یا پھر مجلس شوریٰ کو واپس بھیجتے ہیں، جب صدر بل واپس کرتا ہے تو آئین کے مطابق بل کو مشترکہ اجلاس میں رکھا جاتا ہے، مشترکہ اجلاس میں بل ترامیم کے ساتھ یا ترامیم کے بغیر پاس ہو جاتا ہے، بل کو اسی شکل میں یا ترمیم کے ساتھ جو بھی صورت ہو مشترکہ اجلاس سے منظور کرنا ہو گا۔

    اسحاق ڈار ڈی ایٹ سمٹ میں شرکت کے لئے مصر پہنچ گئے

    سخت زبان استعمال کروگے تو میں بھی سخت زبان استعمال کرونگا۔خواجہ آصف

    خیبر پختونخوا کے بلدیاتی نمائندوں کا گنڈا پور کیخلاف اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج

  • سخت زبان استعمال کروگے تو میں بھی سخت زبان استعمال کرونگا۔خواجہ آصف

    سخت زبان استعمال کروگے تو میں بھی سخت زبان استعمال کرونگا۔خواجہ آصف

    وزیر دفاع خواجہ آصف اور شیر افضل مروت کی پارلیمنٹ ہاؤس میں مختصر ملاقات ہوئی ہے

    خواجہ آصف نے شیر افضل مروت کی نشست کے پاس سے گزرتے ہوئے ان سے مصافحہ کیا،بعد ازاں ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت ابھی تک تحریک انتشار کی ڈالی مشکلات دور کررہی ہے ،تحریک انصاف کے وزیرہوابازی کے ایک بیان نے پی آئی اے کا جو برا حشر کردیا تھا، وہ اب یورپین یونین کی جانب سے بحالی کے بعد پی آئی اے میں بہتری ہونے جارہی ہے، سخت زبان استعمال کروگے تو میں بھی سخت زبان استعمال کرونگا۔میں تسلیم کرتا ہوں، میری زبان زہر اور آگ اُگلتی ہے، آپ بتائیں آپ کی طرف سے کون سے پھول جھڑتے ہیں،دھمکی سے مذاکرات نہیں ہوتے، میرے منہ سے آگ نکلنا چاہتی ہے مگر میں بریک لگا رہا ہوں،شیر افضل مروت کی باتوں سے پہلی بار خوشگوار ٹھنڈی ہوا کا جھونکا آیا ہے،اچھی بات ہے،یہ شروعات کم از کم اس ایوان میں اگر ایسی آوازیں اٹھتی رہیں تو بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں،

    خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ زہر گھولنے والے کو ہمدرد نہیں سمجھا جاتا نا ہی گلے لگایا جاتا ہے۔ سول نافرمانی کی تحریک کا اعلان کیا گیا ہے، اسکے بعد بات چیت کر لیں گے، آپ بالکل سول نافرمانی کریں، دھمکی سے معاملات حل نہیں ہوتے، سیاستدان سیاسی زبان استعمال کرتے ہیں، بہت سی تلخیوں کا بوجھ ہم اٹھائے ہوئے ہیں، اسد قیصر یہاں بیٹھے ہیں وہ بتا دیں.آج بات ہوتی ہے جیل میں یہ سہولت نہیں، جیل میں 6 ٹمپریچر تھا مجھے کمبل دیدیا گیا، میں جنوری کی 12 راتیں جیل میں سویا، 2018 سے اب تک اس ہاؤس نے بہت تلخی دیکھی، کل بھی تصدیق کی تھی باضابطہ مذاکرات کی شروعات نہیں کی گئی، پہلی بار ادھر سے خوشگوار ٹھنڈی ہوا کا جھونکا آیا ہے۔لیکن سیاسی ذمہ داری آئینی ذمہ داری کے بعد آتی ہے

    خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ پارا چنار میں امن اومان کی صورتحال مخدوش ہے، دونوں سائیڈز سے افہام و تفہیم کی باتیں ہونی چاہئیں، مجھے بتایا گیا کہ کرم میں زمین کا جھگڑا ہے جو شیعہ سنی فساد میں تبدیل ہوگیا، آئین کہتا ہے یہ صوبائی حکومت کی ذمے داری ہے، پارا چنار میں پوری طرح آگ نہیں بجھی، ہم نے حلف لیا ہے پہلی ذمہ داری آئین کی ہے،اسلام آباد پر ضرور حملہ کریں لیکن صوبے کے حالات پر بھی غور کریں،

    خیبر پختونخوا کے بلدیاتی نمائندوں کا گنڈا پور کیخلاف اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج

    قومی اسمبلی اجلاس، رانا تنویر اور اسد قیصر میں لفظی جھڑپ

  • قومی اسمبلی اجلاس، رانا تنویر اور اسد قیصر میں لفظی جھڑپ

    قومی اسمبلی اجلاس، رانا تنویر اور اسد قیصر میں لفظی جھڑپ

    اسلام آباد: قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وفاقی وزیر رانا تنویر حسین اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما، سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے درمیان شدید لفظی جھڑپ ہوئی، جس میں دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے پر سنگین الزامات عائد کیے۔ یہ جھڑپ اس وقت ہوئی جب ایوان میں تیز شور و غل کے دوران دونوں کے بیانات میں شدت آئی۔

    رانا تنویر نے اسد قیصر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کا کردار فاشسٹ جماعت کا ہے اور یہ جماعت ہٹلر اور مسولینی کے نقش قدم پر چل رہی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی نے سرکاری وسائل کا غلط استعمال کیا اور وفاقی حکومت پر چڑھائی کی۔ رانا تنویر نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت کو غلط اطلاعات فراہم کی جاتی ہیں، جیسے کہ پنجاب حکومت چھاپے مار رہی ہے، جو کہ حقیقت سے بعید ہیں۔

    اسد قیصر نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ انہیں تحریک انصاف کے خلاف اس قسم کے بے بنیاد الزامات سن کر افسوس ہوتا ہے، تاہم انہوں نے ان الزامات کو مسترد کر دیا اور کہا کہ رانا تنویر کے بیانات حقیقت سے عاری ہیں۔ اسد قیصر کا کہنا تھا کہ رانا تنویر اپنی حکومت کے ادوار میں ہونے والی بدعنوانیوں کا جواب دیں اور عوامی مسائل پر بات کریں۔

    رانا تنویر نے اس موقع پر کہا، "چار سالوں میں آپ نے ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا، اور اس کے باوجود آپ کو شرم نہیں آئی۔ پنجاب حکومت اگر چاہے تو 10 لاکھ افراد کو سڑکوں پر لا سکتی ہے، لیکن آپ پنجاب سے 5 لوگ بھی نہیں نکال سکے۔” انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت نے عوامی مسائل پر کوئی توجہ نہیں دی، اور ان کی حکومت صرف سیاسی مداخلت اور الزامات کے ذریعے کام کر رہی تھی۔

    اس دوران ایوان میں شور شرابا بڑھ گیا اور دیگر ارکان بھی اس بحث میں شامل ہوگئے، جس کے باعث اجلاس کی کارروائی کچھ دیر کے لیے معطل ہو گئی۔ اسپیکر قومی اسمبلی کو مداخلت کرنا پڑی تاکہ ایوان کی کارروائی دوبارہ بحال ہو سکے۔

    قومی اسمبلی سیکریٹریٹ ترمیمی بل 2024سید نوید قمر نے پیش کیا، پاکستان اینیمل کونسل ترمیمی بل مزید غور کے لے قائمہ کمیٹی کوبھیج دیاگیا ،عالیہ کامران نے کہا کہ بل سینیٹ سے منظور ہوچکا ہے اسے یہاں منظور کیا جائے، وفاقی وزیر رانا تنویر نے کہا کہ جانوروں سے متعلق کونسل کے بل سے اتفاق کرتا ہوں، بل میں کمی ہے جسے دور کرنے کے لیے کمیٹی میں غور کیاجائے.

    سکاٹ لینڈ کے سابق وزیراعظم حمزہ یوسف کا انتخاب نہ لڑنے کا اعلان

    امریکا کے مختلف حصوں میں پراسرار ڈرونز کی اصل حقیقت کیا؟

    ہم صرف تنقید پر توجہ دیتے ہیں تنقید کے ماحول سے نکلنا ہوگا، انوارالحق کاکڑ

  • کیا آئی ایم ایف کی ہدایات پر ہماری قانون سازی ہوگی؟ مولانا فضل الرحمان

    کیا آئی ایم ایف کی ہدایات پر ہماری قانون سازی ہوگی؟ مولانا فضل الرحمان

    جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ سوسائٹیز رجسٹریشن ترمیمی بل ایکٹ بن چکا، گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے،

    قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھاکہ 26 ویں آئینی ترمیم اتفاق رائے سے منظور ہوئی، کوشش ہے تمام معاملات افہام و تفہیم سے حل کریں، دینی مدارس کے مالیاتی ڈھانچے پر بات کی گئی، وہ ایک اتفاق رائے کے ساتھ تھا،اپوزیشن پارٹی نے لاتعلقی ظاہر کی، تمام پارٹیاں حکومتی ،اپوزیشن بنچز پر آن بورڈ تھیں،سیاست میں مذاکرات ہوتے ہیں، دونوں فریق ایک دوسرے کو دلائل سے سمجھاتے ہیں اور مسئلہ حل تک پہنچ جاتا ہے، دینی مدارس کے حوالے سے ایک بل بھی تھا، ایک تاریخ ایوان کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں، 2004 میں حکومت اور دینی مدارس کے درمیان مذاکرات ہوئے، حکومت نے اس وقت مدارس کے حوالے سے تین سوال اٹھائے، مالیاتی نظام،دینی مدارس کا نصاب تعلیم اور تیسرا دینی مدارس کا تنظیمی ڈھانچہ کیا ہوتا ہے، تینوں سوالوں پر مذاکرات کے بعد حکومت مطمئن ہوگئی، کہا گیا دینی مدارس محتاط رہیں گے،شدت پیدا کرنےوالا مواد نہ شائع کیا جائے، 2010 میں ایک پھر معاہدہ ہوا، مہمارے نزدیک معاملات طے تھے، پھر اٹھارہویں ترمیم پاس ہوئی تو خود حکومت نےسوال اٹھایا، حکومت نے کہا مدارس سوسائٹی ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ ہوتے ہیں، یہ ایسا تھا جیسے ایک ڈاکخانہ تبدیل کررہے ہیں دوسرے سے، بعد میں ایک ایجوکیشن بورڈ بنا جس کے تحت 12مراکز بنائے گئے،

    نئے مدارس کی رجسٹریشن کے لئے حکومت تعاون کرے گی، مدارس کے حوالے سے ایکٹ بن چکا ہے، ایاز صادق سپیکر نے ایک انٹرویو میں الفاظ استعمال کیے یہ ایکٹ بن چکا ہے، یہ باتیں کرنا کہ وہ بھی تو مدارس ہیں ،تھوڑی سی تبدیلی کر دی جائے، گنجائش نکالی جائے، ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں، بحث اس پر ہے کہ ایکٹ بن چکا، گزٹ نوٹفکیشن کیوں نہیں ہو رہا، ہم نے ترمیم پر گفتگو کی،ایک ایسی غلط نظیر قائم کریں گے آپ جس سے آنے والے ہر ایوان کے لئے مشکل ہو گی، ایوان کا استحقاق مجروح نہ کیا جائے، دوسرا اعتراض آئینی لحاظ سے بھی درست نہیں ہے، تاویلیں نہیں چلیں گی، ہم بھی اسی مدرسہ سے پڑھے ہوئے، اس ہاؤس میں چند سال گزارے، میں قانون کا طالب علم ہو، عدالت قانون کے مطابق فیصلے دیتی ہے اس قانون کے مطابق جو ہم یہاں سے بنا کر بھیجتے، ہم قانون ساز ہیں، اس حوالہ سے ہمارے اس مطالبے کو تسلیم کیا جائے، یہ متفقہ چیز ہے،

    مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ 26 ویں ترمیم پر ایک ماہ بحث ہوتی رہی، پہلے ابتدائی ڈرافٹ، مذاکرات کے ذریعے حکومت 34 شقوں سے دستبردار ہوئی،22 پر آئی، پھر ہم نے پانچ شقیں اور شامل کیں، میں کراچی بھی گیا، بلاول ہاؤس گیا، لاہور آئے، نواز شریف کے گھر پانچ گھنٹے بیٹھے رہے، مدارس بل پر اتفاق رائے پایا گیا، میں نے پی ٹی آئی کے دوستوں کو اعتماد میں لیا، پارلیمنٹ کے کسی ایک رکن بھی اس سے غافل نہیں رکھا، اب مدارس کو کس چیز کی سزا دی جا رہی ہے، اتفاق رائے ہو چکا تو پھر اعتراضات کیوں، یہ راز آج کھلا کہ ہماری قانون سازی کسی اور کی مرضی کے مطابق ہو گی، کہہ دیا جائے ہم آزاد نہیں ہیں، غلام ہیں، یہ افسوسناک بات ہے، اگر امریکہ کے کانگریس میں کوئی رکن قرارداد پیش کرتا ہے وہ عمران کی رہائی کے لئے تو آپ یہاں قرار داد پیش کرتے ہیں کہ امریکہ کو دخل اندازی کا حق نہیں کیا یہ دخل صرف عمران خان اور پی ٹی آئی کے ساتھ ہے، باقیوں کے ساتھ نہیں، آئی ایم ایف ناراض ہو جائے گا، فلاں ناراض ہو جائے گا یہ تاویلات کیسے قبول کریں، ہم کوشش کر رہے ہیں کہ کسی تلخی کی طرف نہ جائیں کیونکہ پاکستان اس کا متحمل نظر نہیں آ رہا، دینی جماعتیں حکومت کے ساتھ تعاون کر رہی ہیں،دینی مدارس نے ثابت کر دکھا یا ہے کہ ہم پاکستان، آئین،جمہوریت، قانون کے ساتھ کھڑے ہیں، پھر کس بات کا امتحان لیا جا رہا ہے، کس کو تکلیف ہے کہ ملک میں مذہب کی تعلیم کیوں ہے، یہ بات آج سے نہیں بہت پرانی ہے.
    مدارس بل پر حکومت سب سے بڑی رکاوٹ ہے،