Baaghi TV

Tag: قومی اسمبلی

  • فیض کو آپ نے جیل میں ڈالا، اچھا کیا، باجوہ کو بھی ڈالو،شیر افضل مروت

    فیض کو آپ نے جیل میں ڈالا، اچھا کیا، باجوہ کو بھی ڈالو،شیر افضل مروت

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے رکن اسمبلی شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ باجوہ خوشی میں آزاد پھر رہا ہے، کشمیر کا سودا اس شخص نے کیافیض کے ذریعے اس نے آپ کو جیلوں میں ڈلوایا، پی ٹی آئی کی پیٹھ میں بھی اس نے چھرا گھونپا، فیض کو آپ نے جیل میں ڈالا، اچھا کیا، باجوہ کو بھی ڈالو-

    باغی ٹی وی : قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے کہا کہ بلوچستان واقعے کے بعد آج یہاں تقاریر سنیں، بےنظیر بھٹو کی جس دن شہادت ہوئی اس دن بھی انہوں نے ذکر کیا، انہوں نے کہا کہ فوجی آپریشن بلوچستان مسئلہ کا حل نہیں ہے ، ہم اس واقعہ کی مذمت کرتے ہیں، علی وزیر آج بھی سکھر جیل میں ہے، ماہ رنگ بلوچ یہاں آئی تو پانی پھینکا گیا، اگر یہ حالات ایسے ٹھیک ہونے ہوتے تو ہوجاتے، حکومتی مشینری لگی ہوئی ہے کہ پی ٹی آئی نے دہشتگرودں کے حق میں ٹوئٹ کیے۔

    شیر افضل مروت نے کہا کہ باجوہ خوشی میں آزاد پھر رہا ہے، کشمیر کا سودا اس شخص نے کیا، فیض کے ذریعے اس نے آپ کو جیلوں میں ڈلوایا، پی ٹی آئی کی پیٹھ میں بھی اس نےچھرا گھونپا،فیض کو آپ نےجیل میں ڈالا، اچھا کیا، باجوہ کو بھی ڈالو، اس لیے کوئی کچھ نہیں کر سکتا کیونکہ وہ سابق آرمی چیف ہے، جرنیلوں نے اس ملک کا بیڑا غرق کر دیا۔

    ٹانک میں دہشت گردوں کا حملہ ناکام،10 دہشت گرد ہلاک

    شیر افضل مروت نے کہا کہ کب تک صرف مزمتیں اور قراردادیں پیش کرتے رہیں گے، سروسز چیفز کو بلائیں اور ان سے پوچھیں، 2 دو ماہ کے لیے پالیسیاں بناتے ہیں، تمام ایجنسیوں کی جانب سے سیاستدانوں کو ڈرایا دھمکایا جاتا ہے، کشمیر کا سودا کرنے پر قمر جاوید باجوہ کو انصاف کے کٹہرے میں کیوں نہیں لایا جاتا، جرنیلوں کے اثاثوں کی چھان بین کیوں نہیں کی جاتی۔

    انہوں نے کہا کہ طالبان کو واپس بسانے کے ذمے دار تمام سیاسی جماعتیں ہیں، فیض حمید کے ساتھ قمر جاوید باجوہ کو بھی جیل میں ڈالا جائے، جب صوبوں کو ان کے حقوقِ نہ دیئے جائیں گے تو دہشتگردی ہوگی، دہشتگردی کے خاتمے کیلئے طویل مدتی پالیسی لانا ہوگی، پا کستانی عوام کو اداروں کی ناکامی کی وجہ سے ان اداروں سے نفرت ہوگئی ہے۔

    پی آئی اے کی پرواز کا ایک پہیے پر لینڈنگ کا انکشاف

    شیر افضل مروت نےکہا کہ بلوچستان کے لوگوں کو ان کے عزیزوں کی لاشیں بھی نہیں دی جاتی، جب تک عوام فوج کے پیچھے کھڑی نہیں ہوگی فوج جنگ نہیں جیت سکتی، تمام ادارے آئین اور قانون کا حترام کریں، دہشتگردی کیخلاف پالیسی فوج نہیں اس ایوان کو بنا نا ہوں گی، خارجہ پالیسی فوج نہیں اس ایوان کو بنانا ہوگی۔

    انکا کہنا تھا کہ ضرب عزب اور ردالفساد سےہم نےکچھ حاصل نہیں کیاہم کوئی دہشتگردی کےخلاف جنگ نہیں جیتے ہر اسٹیبلشمنٹ نئی پالیسی لاتی ہے، کبھی گڈ طالبان کبھی بیڈ طالبان بن جاتے ہیں، بلوچستان میں ہتھیار اٹھانے والے کہہ رہے ہیں کہ اپنے پیاروں کی ہڈیاں تو دیں۔

    وزیراعلیٰ پنجاب کے رمضان پیکج کے پیسے سرکاری افسران خود ہڑپنے لگے

    پی ٹی آئی رکن اسمبلی نے کہا کہ ان سروسز چیف کو بلائیں اور کٹہرے میں کھڑا کریں، ان کو بتائیں کہ لوگ تنگ آ چکے ہیں، جنگ فوج نے جیتنی ہوتی تو جیت چکے ہوتے، اس دفعہ پالیسی اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں پر نہ چھوڑو، اس ملک کی پالیسی اس ایوان پر چھوڑو، خار جہ پالیسی، داخلہ پالیسی اور افغانستان سے متعلق پالیسیاں وہ بناتے ہیں، آپ کو کہہ دیتے ہیں کہ آپ وزیر ہو اور آپ پھدکتے رہتے ہو۔

    شیر افضل نے کہا کہ بلوچستان میں ہتھیار اٹھانے والے کہہ رہے ہیں کہ اپنے پیاروں کی ہڈیاں تو دیں، پاکستانی ہونے کی وجہ جان کے لالےپڑے ہوتے ہیں انکو بتائیں کہ لوگ تنگ آ چکے ہیں، جنگ فوج نےجیتنی ہوتی تو جیت چکےہوتےاس دفعہ پالیسی اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں پر نہ چھوڑو اس ملک کی پالیسی اس ایوان پر چھوڑو۔

    پی ٹی آئی اقتدار کی بھوکی، ملک دشمن پروپیگنڈا کر رہی ہے: خواجہ آصف

    بعد ازاں پارلیمنٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج اسمبلی میں تقریر کی ہے جس میں دل کی باتیں کیں، 24 سال ہوگئے پاکستانی مر رہے ہیں ، بے گناہ لوگ مر رہے ہیں، اس جنگ کو ختم کرنا ہے بڑھانا نہیں ہے، دہشت گردی کی یہ جنگ افواجِ پاکستان کی جنگ نہیں ہے پورے پاکستان کی جنگ ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کے لوگ اتنے پریشان نہیں ہوں گے کیونکہ اس وقت کے پی اور بلوچستان میں خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے، جب انسان اتنا گر جائے کہ اے پی ایس کے بچوں کو مارنا جذبہ ہو تو یہ سفاکیت کی مثال نہیں ملتی، دہشتگردوں نے اس وقت قلعہ قمع کیا ہوا ہےاختر مینگل اس ایوان سے مستعفی ہوگیا ، علی وزیر کا خاندان طالبان نے مار دیا، پاکستانی سوچ رہے ہیں کہ فوجی شہید ہوگئے ہمارا کیا، یہ جنگ آپ کے گھر تک پہنچنے والی ہے، یہ کیسی جیت ہے جس میں لوگ مر رہے ہیں۔

    وزیراعلیٰ پنجاب کے رمضان پیکج کے پیسے سرکاری افسران خود ہڑپنے لگے

    شیر افضل مروت نے کہا کہ میں نے آج تجویز دی ہے کہ پاکستانی قوم جنگ میں فوج کے ساتھ کھڑے ہوں، ایک پالیسی بناؤ جس میں واپسی کا راستہ نہ ہو، ہفتہ وار پالیسی ملک کی سلامتی کے لیے مثبت ثابت نہیں ہوگی۔

  • قومی اسمبلی کااجلاس کل ہوگا، ایجنڈا جار ی

    قومی اسمبلی کااجلاس کل ہوگا، ایجنڈا جار ی

    قومی اسمبلی کااجلاس کل ساڑھے11بجے ہوگا جس کے لئے 17 نکاتی ایجنڈا بھی جاری کردیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ٹیکس ڈیجیٹلائزیشن کیلئے میکنسی فرم کی خدمات حاصل کرنے پرتوجہ دلاؤ نوٹس ایجنڈےکا حصہ ہوگا،وزیر تجارت جام کمال مانع اغراق محصولات ترمیمی بل 2025 قومی اسمبلی میں پیش کرینگے۔وزیرداخلہ محسن نقوی تحویل ملزمان ترمیمی بل 2024،پاکستان شہریت ترمیمی بل 2024 ایوان میں پیش کریں گے،اس کے علاوہ مختلف قائمہ کمیٹیوں کی معیادی رپورٹس بھی قومی اسمبلی اجلاس میں پیش کی جائیں گی،قومی اسمبلی میں صدر مملکت کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کی نقول بھی پیش کی جائیں گی۔

    وزیر پارلیمانی امور صدر مملکت کے مشترکہ اجلاس پر اظہار تشکر کی تحریک پیش کرینگے،این اے 86 میں نئے گیس کنکشنز کی عدم فراہمی سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس ایجنڈے کاحصہ ہوگا۔

    بھارت کا انٹرنیٹ کیلئے اسپیس ایکس کے ساتھ معاہدہجعفر ایکسپریس حملہ، 13دہشت گردوں کو ہلاک ، 80 مسافر بازیاب

  • سولہویں قومی اسمبلی کا پہلا پارلیمانی سال مکمل

    سولہویں قومی اسمبلی کا پہلا پارلیمانی سال مکمل

    اسلام آباد: سولہویں قومی اسمبلی کا پہلا پارلیمانی سال مکمل ہو گیا-

    باغی ٹی وی: ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی دانشمندانہ قیادت میں پہلے پارلیمانی سال میں کئی اہم سنگ میل عبور کر لیا اسپیکر قومی اسمبلی نے اپنے آفس اور گھر کے دروازے اراکین کےلیے کھول دئیے ، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے حکومت اور اپوزیشن کو ایک میز پر بٹھانے کے لیے پل کا کردار ادا کیا ۔

    ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق حکومت اپوزیشن اختلافات کم کرنے میں بھی سپیکر کا کردار غیر معمولی تھا ، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کےلیے قائم خصوصی کمیٹی کے چار اجلاسوں کی صدارت کی ،سپیکر سردار ایاز صادق نے جمہوریت اور پارلیمانی اقدار کے فروغ کےلیے مسلسل کوششیں جاری رکھیں ۔

    رمضان المبارک:شاہ سلمان نے بڑے اعلانات کر دیئے

    ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانے کی خاطر سپیکر نے خصوصی کمیٹی کو برقرار رکھنے کے احکامات جاری کیے،اسپیکر قومی اسمبلی کی صدرات میں ایوان کی کارروائی کو غیر جانبداری اور خوش اسلوبی سے چلایا گیا، پارلیمانی سفارتکاری کے ذریعے علاقائی اور عالمی سطح پر رابطوں کو فروغ اور پاکستان کا سافٹ امیج اجاگر کیا گیا-

    ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی کی سربراہی میں کفایت شعاری مہم کے تحت قومی اسمبلی کے اخراجات میں نمایاں کمی لائی گئی، قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے اخراجات میں کمی لا کر قومی خزانے کیلئے ایک ارب روپے کی بچت کی گئی اسپیکر قومی اسمبلی کی قیادت میں ہی پہلے پارلیمانی سال کے دوران 18 ویں اسپیکرز کانفرنس کامیاب انعقاد ہوا-

    گورنر سندھ کا ڈمپرز حادثات میں جاں بحق ہونیوالوں کے اہلخانہ کو پلاٹ دینے کا اعلان

    قومی اسمبلی کے پہلے پارلیمانی سال میں 13 اجلاس منعقد ہوئے اور پارلیمانی سال کے 130 لازمی دن مکمل کیے گئے، پہلے پارلیمانی سال میں اپوزیشن اراکین کو 66 جبکہ حکومتی اراکین کو 71 گھنٹے بولنے کا موقع ملا،پہلے پارلیمانی سال کے دوران51 بلز منظور کیے گیے جن میں 40 حکومتی اور 11 پرائیویٹ ممبر بلز شامل تھے،پہلے پارلیمانی سال کے دوران 51 میں سے 42 بلز باقاعدہ قانون کی شکل اختیار کر گئے –

    ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق پہلے پارلیمانی سال کے دوران 26 قراردادیں بھی منظور کی کی گئی ،پارلیمانی سال کے دوران 1059 نشاندار جبکہ 264 غیر نشان دار سوالات کے جوابات دیے گئے، پہلے پارلیمانی سال میں 69 توجہ دلاؤ نوٹس کے جواب دیے گئے جبکہ 4 تحریکوں کو قاعدہ 258 کے تحت زیر بحث لایا گیا، پہلے پارلیمانی سال میں قائمہ کمیٹیوں کی تشکیل کے بعد ان کے 213 اجلاس منعقد ہوئے-

    اپنی موت کی پیشگوئی کرنیوالے نجومی کو محبوبہ نے زہر دے دیا

    پارلیمانی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین کا معاملہ بھی خوش اسلوبی سے حل کیا گیا اسپیکر قومی اسمبلی کی ہدایت پر سیکرٹریٹ کی تزئین و آرائش اور صفائی کے لیے خصوصی اقدامات اٹھائے گئے، قومی اسمبلی کی ڈیجٹلائزیشن اور عملے کی تربیت کے ذریعے استعداد کار کو بڑھانے کیلئے اقدامات اٹھائے گئے۔

  • انسانی اسمگلرز کے گرد گھیرا مزید تنگ کیا جا رہا ہے،عطااللہ تارڑ

    انسانی اسمگلرز کے گرد گھیرا مزید تنگ کیا جا رہا ہے،عطااللہ تارڑ

    اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ انسانی اسمگلنگ میں ملوث ملزمان کسی رعایت کے مستحق نہیں-

    باغی ٹی وی : وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ منڈی بہاؤالدین، سیالکوٹ اور گجرات میں انسانی اسمگلنگ کا مسئلہ زیادہ ہے، 3 کشتیاں حادثے کا شکار ہوئیں اور لوگ اپنے پیاروں کے جنازوں کا انتظار کرتے رہے۔

    عطا تارڑ نے کہا کہ انسانی اسمگلنگ کو روکنے کے لیے اقدامات کررہے ہیں، وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) میں اصلاحات کی جا رہی ہیں اور انسانی اسمگلرز کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے، اب تک 436 انسانی اسمگلرز گرفتار ہوچکے ہیں۔

    وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے انسانی اسمگلنگ کے حوالے سے سخت ایکشن لیا، اسمگلرز کی جائیدادیں ضبط اور بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیئے گئے ہیں، انسانی اسمگلنگ میں ملوث ملزمان کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں انسانی اسمگلرز کو چھپنے کی جگہ کہیں نہیں ملے گی اور ایف آئی اے میں اصلاحات انسانی اسمگلنگ روکنے کا ہی ایک حصہ ہے، انسانی اسمگلنگ میں منظم گینگز شامل تھے انسانی اسمگلرز کے گرد گھیرا مزید تنگ کیا جا رہا ہے، انسانی اسمگلرز کو قرارواقعی سزا دی جائے گی۔

    دوسری جانب وفاقی دارالحکومت میں گزشتہ 2 سالوں میں جرائم کی شرح میں کمی کا انکشاف ہوا ہے، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے تحریری جواب قومی اسمبلی میں جمع کرا دیا، جس میں بتایا کہ 2023 کے مقابلے میں 2024 میں 11 فیصد کم جرائم ہوئے۔

    قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کا تحریری جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بتایا کہ سال 2024 میں 1596 مجرموں پر مشتمل 686 گینگز کو پکڑا گیا، 2024 میں 80 کروڑ 26 لاکھ سے زائد مالیت کی چوری شدہ اشیا کو برآمد کیا گیا، ڈالفن فورس، موبائل پیٹرولنگ یونٹس اور 15 کے زریعے شہریوں کو محفوظ بنایا جا رہا ہے۔

    وزیر داخلہ نے بتایا کہ سال 2024 میں کل 231 سرچ آپریشنز منعقد کیے گئے، ہوٹل آئی ایپ کے ذریعے 200 ملزمان کی گرفتاری عمل میں لائی گئی، اس وقت دارالحکومت میں مختلف لوکیشنز پر 3159 سی سی ٹی وی کیمرہ لگائے گئے ہیں جبکہ 2024 میں مشتبہ افراد کے خلاف 5000 سی ڈی آرز کا تجزیہ کیا گیا۔

    علاوہ ازیں قومی اسمبلی میں حکومت نے 12 منٹ میں پانچ بل منظور کروا لیے۔

    قومی اسمبلی کے اجلاس میں وفاقی وزیر قانون نے سب سے پہلے سول سرونٹ ترمیمی بل 2025 پیش کیا جس کو قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا اس کے علاوہ قومی اسمبلی میں دیوانی عدالتیں ترمیمی بل 2024، پاکستان کوسٹ گارڑ ترمیمی بل 2024، انسانی اسمگلنگ کی روک تھام ترمیمی بل 2025 بھی منظور ہوگیا۔

    قومی اسمبلی میں مہاجرین کی اسمگلنگ کا تدارک ترمیمی بل 2025 منظوری کیلئے قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا، جس کو ایوان نے منظور کرلیا اس کے علاوہ امیگریشن ترمیمی بل 2025 بھی منظور کرلیا گیا۔ بلوں کی منظوری کے دوران اپوزیشن جماعتوں نے احتجاج کیا، پی ٹی آئی کے یوسف خان نے کورم کی نشاندہی کی جس پر اجلاس روکا گیا اور پھر کورم پورا ہونے پر اجلاس کی کاروائی دوبارہ شروع ہوئی۔

  • قومی ایئرلائن کی تباہی کی وجوہات زیر بحث آگئیں

    قومی ایئرلائن کی تباہی کی وجوہات زیر بحث آگئیں

    قومی اسمبلی کی نجکاری کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں قومی ایئرلائن کی تباہی کی وجوہات زیر بحث آگئیں۔

    باغی ٹی وی کے مطابق کمیٹی کی کنوینر سحر کامران کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں قومی ایئرلائن کے حکام نے بتایا کہ مینجمنٹ اور ملازمین کے درمیان گیپ بھی ایک بڑی وجہ ہے۔ قومی ایئرلائن کے ملازمین کی ٹریولنگ بہت ہی محدود ہے، یورپ کے سفر کےلیے ہمیں وائٹ باڈیز ایئرکرافٹ چاہئیں۔ اس وقت قومی ایئرلائن کے پاس 777 بوئنگ 12 طیارے ہیں، ان12 طیاروں میں سے 6 گراؤنڈ ہیں۔قومی ایئرلائن حکام کا ذیلی کمیٹی کے روبرو کہنا تھا کہ ابھی اسمگلنگ میں لوگ پکڑے گئے، اتنی سفارشیں آئیں کہ بتا نہیں سکتے، پیرس کےلیے فلائٹ بحال ہونا بڑا لمحہ تھا لیکن منفی مہم چلی۔

    دوران اجلاس سحر کامران نے کہا کہ منفی مہم اس لیے ہوئی کہ ایڈورٹائزمنٹ غلط طریقے سے کی گئی، اشتہار میں مینار پاکستان اور ایفل ٹاور دکھا دیتے۔ آپ نے ایسی ایڈورٹائزمنٹ کی کہ جس کا غلط پیغام گیا، آپ پیرس کی فلائٹ میں مسافروں کو بٹھا کر لے جاتے۔ پی آئی اے نے لوگوں کو تنگ کیا، سیٹیں بھی ڈھیلی ہونا شروع ہوگئیں، سہولیات کم ہونے سے لوگ قومی ایئرلائن سے دوسری طرف چلے گئے۔اس پر حکام قومی ایئرلائن نے بتایا کہ کہا جاتا ہے پی آئی سے میں اووراسٹاف ہے یہ تاثر درست نہیں، ہمیں 2010ء میں مزید ملازمین بھرتی کرنے سے روک دیا گیا تھا۔

    حکام نے مزید کہا کہ پی آئی اے کے اسٹاف میں نوجوان ملازمین کی کمی ہے، قومی ایئرلائن میں ایک سال میں 8 سی ای اوز بھی تبدیل ہوئے تھے۔قومی ایئرلائن حکام نے یہ بھی کہا کہ جو لوگ پالیسی میکرز تھے انہیں بھی بار بار تبدیل کیا گیا، قومی ایئرلائن کے فلیٹ کی لائف بہت جلد ختم ہونے والی ہے۔ نئے جہازوں کی خریداری پر اتنا جی ایس ٹی تھا کہ خرید نہیں سکتے تھے، عدلیہ کی مداخلت کی وجہ سے بھی قومی ایئرلائن کےلیے کئی مسائل بنے۔جب بھی جہاز آتا تھا تو اس پر ہمیں سیلز ٹیکس ادا کرنا پڑتا تھا، ہمیں کبھی جہازوں پر جی ایس ٹی چھوٹ کی نوید نہیں سنائی گئی تھی۔

    اس پر سحر کامران نے کہا کہ آپ نے کبھی سیلز ٹیکس چھوٹ لینے کی کوشش ہی نہیں کی، نئے جہازوں پر سیلز ٹیکس کو ختم کرایا بھی تو ہم نے کرایا ہے۔حکام نے مزید کہا کہ قومی ایئرلائن کی طرف سے پریمئر سروس شروع کی گئی تھی، فزیبلٹی رپورٹ میں بتایا گیا کہ سروس نقصان میں جائے گی پھر بھی شروع کی گئی۔ذیلی کمیٹی نے اس موقع پر سالانہ بنیاد پر قومی ایئرلائن کو پہنچنے والے نقصانات کی تفصیلات طلب کرلیں۔نمائندہ پی آئی اے یونین نے کہا کہ گزشتہ دنوں قومی ایئرلائن میں ایک ایک دن میں سیکڑوں استعفے آنا شروع ہوگئے، ایک روز میں تو 200 ملازمین نے اپنے استعفے دے دیے، نجکاری دوبارہ شروع ہونے سے پھر ملازمین کے استعفے آنا شروع ہوگئے ہیں۔

    الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ اسٹیشنز ، بجلی نرخ میں کمی متوقع

    یوکرین جنگ کے خاتمے کے لئےفوری مذاکرات ہوں گے،ٹرمپ

    ترک صدر پاکستان پہنچ گئے، صدر، وزیراعظم نے کیا استقبال

    کراچی : ٹریفک پولیس ڈمپر اور ٹرک مافیا کے سامنے بے بس

    صائم ایوب کے ساتھ خاتون مداح کی بدتمیزی ،ویڈیو وائرل

  • قومی اسمبلی میں پھر ہنگامہ آرائی ، اپوزیشن نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں

    قومی اسمبلی میں پھر ہنگامہ آرائی ، اپوزیشن نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں

    اسلام آباد: قومی اسمبلی کا اجلاس پھر ہنگامہ آرائی کی نذر ہو گیا ، پی ٹی آئی ارکان نے احتجاج کرتے ہوئے نعرے بازی کی جس کے بعد اپوزیشن ارکان واک آؤٹ کر گئے۔

    باغی ٹی وی : اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیرصدارت قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوتے ہی اپوزیشن نے احتجاج شروع کر دیا، اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے نکتہ اعتراض پر مائیک مانگا، تاہم اسپیکر نے انہیں اجازت نہیں دی۔

    عمر ایوب کو اجازت نہ ملنے پر پی ٹی آئی کے ارکان نے ڈیسک بجا کر احتجاج کیا، جس سے ایوان کی کارروائی شدید متاثر ہوئی اور اسپیکر نے کان پر ہیڈ فون لگا لیے حکومتی وزراء اور پارلیمانی سیکرٹریز نے ہیڈ فون لگا کر کارروائی جاری رکھنے کی کوشش کی۔

    پی ٹی آئی ارکان نے ظالمو جواب دو خون کا حساب دو کے نعرے لگائے گئے پی ٹی آئی ارکان نے ایجنڈے کی کاپیاں بھی پھاڑ کر پھینک دیں اور اجلاس سے واک آؤٹ کر دیا۔

  • سحر کامران کا پی آئی اے کی نجکاری میں ناقص مارکیٹنگ پر تشویش کا اظہار

    سحر کامران کا پی آئی اے کی نجکاری میں ناقص مارکیٹنگ پر تشویش کا اظہار

    پاکستان کی قومی ائیر لائن، پی آئی اے (پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائنز) کی نجکاری کی پہلی کوشش ناکامی سے دوچار ہوئی ہے جس پر حکومتی اتحادیوں نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ حکومتی اتحادیوں نے نجکاری کی اس کوشش کو ناکامی قرار دیتے ہوئے موجودہ حکومت کو سخت الفاظ میں آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ وہ دوسری بار پی آئی اے کی نجکاری میں کامیابی کے لیے پرعزم ہے اور جلد ہی اس عمل میں کامیاب ہوگی۔

    قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے حکومت کی جانب سے پی آئی اے کی نجکاری کی پہلی کوشش پر کڑی تنقید کی۔ پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی، سحر کامران نے کہا کہ "اب تک جو کچھ بھی پرائیوٹائزیشن کے نام پر ہوا، وہ صرف ناکامی ہی ثابت ہوا۔ پی آئی اے کو کچھ حاصل نہیں ہوا، صرف 6.8 ملین ڈالر کی رقم ادا کی گئی، لیکن قومی ائیر لائن کے لیے کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ مارکیٹنگ پر بھی کوئی توجہ نہیں دی گئی۔”انہوں نے مزید کہا کہ "یہ 2015 سے مسلسل کہا جا رہا ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری کی جائے گی،پیپلز پارٹی کی تنقید کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری ، آسیہ اسحاق صدیقی نے کہا کہ حکومت ہر پہلو پر نظر ڈال کر فیصلہ کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ "ہم فنانشل ایڈوائزر کی مدد سے تمام حالات کا جائزہ لے کر فیصلہ کرتے ہیں۔ ہر فنانشل ایڈوائزر کی اپنی شرائط اور ٹرمز ہوتی ہیں، اور ہم ان کو مدنظر رکھتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔”

    پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما نوید قمر نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری میں ناکامی "انتظامیہ کی نااہلی” کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "اگر انتظامیہ نے صحیح طریقے سے کام کیا ہوتا تو یہ ناکامی نہ ہوتی۔”دوسری جانب نبیل گبول نے کہا کہ "پی آئی اے کی نجکاری کی کوشش نہایت غیر پیشہ ورانہ اور عجلت میں کی گئی تھی، جس کی وجہ سے یہ ناکام ہوئی۔”پی آئی اے کی جتنی بولی دی گئی، اتنی تو کراچی اسلام آباد بس سروس کے لائسنس کی بھی نہیں ہوتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ بولی اس بات کا ثبوت ہے کہ نجکاری میں شفافیت کی کمی ہے۔

    وفاقی وزیر برائے قانون، اعظم نذیر تارڑ نے پیپلز پارٹی کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ "اب یورپ اور دیگر اہم روٹس بحال ہو چکے ہیں، جس سے پی آئی اے کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے۔ نجکاری کمیٹی بھی تشکیل دی جا چکی ہے، اور ہمیں امید ہے کہ مستقبل میں پی آئی اے کی نجکاری کے لیے مزید آفرز آئیں گی۔”حکومت کی جانب سے 85 ارب روپے کی توقع کی گئی تھی، لیکن جب پی آئی اے کی نجکاری کی بولی کی گئی، تو صرف 10 ارب روپے کی پیشکش ملی۔ ہم اس بات کو سمجھتے ہیں اور آئندہ کی کوششوں میں مزید بہتری لانے کے لیے پرعزم ہیں۔

    پاکستان کی قومی ائیر لائن پی آئی اے کی نجکاری کا معاملہ حکومت کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکا ہے۔ پہلی کوشش میں ناکامی کے باوجود حکومت اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ نجکاری کے عمل میں ایک دن کامیابی حاصل کی جائے گی۔ تاہم اس ناکامی نے حکومت کے اتحادیوں میں اضطراب پیدا کیا ہے، اور یہ معاملہ قومی سیاست میں ایک نیا تنازعہ بن چکا ہے۔حکومت کی جانب سے پی آئی اے کی نجکاری کی دوسری کوشش پر اب تمام نظریں ہیں۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ آئندہ کی کوششیں زیادہ کامیاب ثابت ہوں گی اور اس میں عوامی مفاد کو بھی پیش نظر رکھا جائے گا۔ تاہم اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ حکومت کس طرح اپنے اتحادیوں کو ساتھ لے کر اس مشکل عمل کو مکمل کرتی ہے۔نجکاری کے اس پیچیدہ عمل میں کامیابی نہ صرف پی آئی اے کی مالی حالت کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے بلکہ حکومت کی نجکاری کی پالیسی کے لیے بھی ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔

    قائد بینظیر،آصف زرداری کی شادی،یادگارلمحہ تھی،سحرکامران

    شہدا کا قرض ادا کرنا چاہتے تو نیشنل ایکشن پلان پر پوری طرح عمل کیا جائے،سحر کامران

    سانحہ اے پی ایس، ایسا زخم ہے جو کبھی بھی نہیں بھرے گا،سحر کامران

    عالمی برادری غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے کیلیے کردار ادا کرے،سحر کامران

  • مل جل کر تلخیوں کا خاتمہ، مسائل کاحل مذاکرات سے ہی ممکن ہے،ایاز صادق

    مل جل کر تلخیوں کا خاتمہ، مسائل کاحل مذاکرات سے ہی ممکن ہے،ایاز صادق

    18ویں 2روزہ سپیکرز کانفرنس پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آبادمیں جاری ہے

    سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کانفرنس کی صدارت کررہے ہیں.اپنے خطاب میں سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کا کہنا تھا کہ تمام سپیکرزکوکانفرنس میں خوش آمدیدکہتا ہوں.ہماری ہر کانفرنس اور فورم پر کشمیرایجنڈے کاحصہ ہوگا.سپیکرکانفرنس میں مستقبل کے لائحہ عمل کو بہتربنانے کیلئے تجاویزپر غور ہو گا.سپیکرکاکام ہے کہ وہ ایوان کی کارروائی متوازن اندا ز میں چلائے.سپیکرکی نگاہ میں اپوزیشن اور حکومتی ارکان برابرہیں.بغیرکسی دباؤ کے ایوان کو چلانا سپیکرکی ذمہ داری ہے .سپیکرز کانفرنس سے اتحاد کا پیغام جا رہاہے.2013ء میں اسمبلی کے دروازے طلبہ کیلئے کھولے اور مہمان گیلری میں بٹھایا.یونیورسٹی ،کالجز اور سکولوں کے طلبہ کیلئے ایوان کی کارروائی دکھانا ضروری ہے. نوجوانوں کے لیے اسمبلی میں انٹرن شپ ضروری ہے.قومی اسمبلی میں وہپ کا کردار وزراء سے بھی زیادہ مضبوط ہے.اسمبلی میں احتجاج اخلاقیات کے دائرے میں رہتے ہوئے ہونا چاہئے.پارلیمانی عمل میں قائمہ کمیٹیوں کا کردارانتہائی اہمیت رکھتاہے.پارلیمنٹرینزکی تربیت اور آگاہی کیلئے پپس فورم کاکردار اہم ہے. مل جل کر تلخیوں کا خاتمہ کرنا ہو گا.تمام مسائل کاحل مذاکرات سے ہی ممکن ہے. اختلاف رائے جمہوریت کاحسن ،مذاکرات تلخیاں مٹانے کا ذریعہ ہیں،

    کانفرنس میں چاروں صوبائی اسمبلیوں کے سپیکرز شریک ہیں،سپیکرپنجاب اسمبلی ملک محمد احمدخان نے کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ سپیکرزکانفرنس کا انعقادخوش آئندہے. کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر سپیکر ایاز صادق کومبارکبادپیش کرتاہوں.سپیکرزکانفرنس کاانعقادہرسال ہوناچاہئے.تمام سیاسی پارٹیوں کے ورکرزکی قربانیاں ملک میں جمہوری استحکام کیلئے ہیں.پنجاب ایک بڑاصوبہ ہے.تمام صوبائی اکائیاں مرکزکی مضبوطی میں اہم کرداراداکرتی ہیں.صوبائی وزراء اداروں کی بہتری کیلئے کام کرتے ہیں،

    سوشل میڈیا پر نازیبا تصاویر کے ذریعےخاتون کو بلیک میل کرنیوالا گرفتار

    بیرسٹر سیف کا مذاکرات کا مشورہ،حکومت دلچسپی نہیں دکھا رہی،عمر ایوب

  • قومی اسمبلی اجلاس،پیپلز پارٹی اراکین  کی سست انٹرنیٹ پر حکومت پر سخت تنقید

    قومی اسمبلی اجلاس،پیپلز پارٹی اراکین کی سست انٹرنیٹ پر حکومت پر سخت تنقید

    قومی اسمبلی اجلاس میں ایکس سمیت سوشل میڈیا ایپس، انٹرنیٹ کی سست روی پر آج بحث کی گئی

    قومی فرانزک ایجنسی بل 2024 پر پیپلز پارٹی کی شازیہ مری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بل میں کچھ تکنیکی مسائل ہیں جنہیں دور ہونا چاہیے۔ بل کے تحت ایک ایسی سزا تجویز کی گئی ہے جو قابل اعتراض ہے۔شق 25 میں ایجنسی کے ماہر کو غلطی پر جرمانہ محض ایک لاکھ روپے تجویز کیا گیا۔ شازیہ مری نے جرمانے میں اضافے کی تجویز دے دی۔شازیہ مری نے فرانزک ایجنسی بل 2024 میں ترامیم کی تجویز دے دی۔وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ آج اگر بل منظور کر دیا جائے تو ترامیم کو بعد میں منظور کر لیا جائے گا۔ شازیہ مری نے اپنی تجویز کردہ ترامیم واپس لے لیں۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کی بندش کی قومی اسمبلی میں گونج دکھائی دی، زہرہ ودود فاطمی نے کہا کہ کیاایکس کو دوبارہ کھولنے کی کوئی امید ہے؟ سید نوید قمر نے کہا کہ وزیر مملکت کی موجودگی میں پارلیمانی سیکریٹری جواب نہیں دے سکتا۔وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پی ٹی اے کابینہ ڈویژن کا ذیلی ادارہ ہے۔وزیر مملکت برائے آئی ٹی کو جواب دینے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ کابینہ ڈویژن کا چارج وزیراعظم کے پاس ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ ریگولیٹری باڈیز کی اکثریت کابینہ ڈویژن کے زیر انتظام ہیں۔

    وزارت بدحالی کا شکار ہے،انٹرنیٹ کا اتنا ستیاناس کیوں کیاگیا ،عبدالقادر پٹیل
    سست انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی بندش پر حکومتی اتحادی پیپلز پارٹی نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔پیپلز پارٹی اراکین نےسست انٹرنیٹ اور فائروال پر حکومت پر سخت تنقید کی، شازیہ مری نے کہا کہ یہ کونسی فائروال ہے ہم کس سے جواب لیں۔ عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ انٹرنیٹ کی رفتار کا ستیاناس کر دیا گیا۔ وزارت بدحالی کا شکار ہے،انٹرنیٹ کا اتنا ستیاناس کیوں کیاگیا ہے۔ آئی ٹی سے جڑے لوگوں کا اربوں روپے کا نقصان ہو گیا ہے۔اتنی بدحالی کبھی کسی وزارت کی نہیں دیکھی جتنی اب ہے۔ پارلیمانی سیکریٹری برائے کابینہ ڈویژن نے کہا کہ وزارت داخلہ جونہی کہے گی حالات ٹھیک ہیں ہم ایکس کھول دیں گے۔

    اظہار رائے کی آزادی نہ ہوتی تو ٹک ٹاک اور فیس بک بھی بند ہوتے،شزا فاطمہ
    وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وقفہ برائے سوالات میں سوشل میڈیا ایپ کی بندش سے متعلق جواب دیا اور کہا کہ پاکستان میں جتنی آزادی رائے ہے کسی اور ملک میں نہیں ہے.اگر اظہار رائے کی آزادی نہ ہوتی تو ٹک ٹاک اور فیس بک بھی بند ہوتے.پاکستان میں 2 فیصد سے بھی کم لوگ ایکس استعمال کرتے ہیں.ہمارے متعلق نازیبا زبان استعمال کی جاتی ہے.پی ٹی اے ایک خودمختار ادارہ ہے. پی ٹی اے ریگولیٹر کے طور پر کانٹینٹ کاذمہ دار ہے.ایکس کی بندش کے حوالے سے وزارت داخلہ نے پی ٹی اے کو سفارشات ارسال کی تھیں.قومی سلامتی کیلئے ڈیجیٹل حملوں سے بچنا ہوگا.دشمن ہروقت سوشل میڈیا کےذریعے سائبر حملوں کیلئے تیارب یٹھاہوتاہے.قومی سلامتی سے آگے کچھ نہیں ہونا چاہیے.ملک کی معیشت سنبھل چکی ہے.حکومت مہنگائی کی شرح میں کمی لانے کیلئے کوشاں ہے.مسلم لیگ ن نے چھ سالوں میں 10لاکھ سےزائد لیپ ٹاپ طلبہ میں تقسیم کیے،

    ڈیجیٹل نیشن پاکستان پر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں وزیر مملکت شزا فاطمہ خواجہ سیخ پا ہو گئیں، بولیں، اگر یہ بل نہیں پاس کرانا چاہتے تو واپس پتھر کے زمانے میں چلے جاتے ہیں اپنی گاڑیاں اور ٹی وی بند کریں،

    معروف کبڈی پلئیرسمیت چارنوجوان انسانی سمگلرزکے ہتھے چڑھ گئے

    میٹرو سٹی گوجر خان کی تقریب،گولیاں چل گئیں،ایک شخص کی موت

    میٹرو سٹی گوجر خان کی تقریب،گولیاں چل گئیں،ایک شخص کی موت

  • سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کی روایت بانی چیئرمین پی ٹی آئی نے رکھی،عطا تارڑ

    سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کی روایت بانی چیئرمین پی ٹی آئی نے رکھی،عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ اس ملک کے عام آدمی کا مسئلہ غربت اور مہنگائی ہے، اسے حل کرنا ہمارا فرض ہے،

    میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے اس ملک کے مفاد کی خاطر دوستی کا ہاتھ بڑھایا، نواز شریف کے اس اچھے پیغام کو بھی کمزوری سمجھا گیا، ہماری سیاسی روایت ہے کہ ہم سیاسی مخالفین کی خوشی غمی میں شرکت کرتے ہیں، ہمارے سیاسی قائدین نے ہمیں اخلاق کے دائرہ میں رہ کر تنقید کرنے کی تلقین کی، مگر کنٹینر سے روزانہ گالم گلوچ کی سیاست کی جاتی تھی، نواز شریف نے ملک میں ٹرین مارچ بھی کیا، بڑے جلسے بھی کئے لیکن کبھی کسی کو تو کر کے نہیں بلایا، بانی چیئرمین پی ٹی آئی کو بھی خان صاحب کہہ کر پکارتے تھے، نواز شریف نے سیاست میں ہمیشہ دور اندیشی کا مظاہرہ کیا، یہ اپنے سیاسی مفاد کو تعصب کی نظر سے سوچتے ہیں، ملتان میں قاسم باغ کے جلسے میں بھگدڑ مچنے سے تحریک انصاف کے آٹھ سے دس کارکن ہلاک ہوئے، کیا یہ ان کے گھر تعزیت کے لئے گئے؟ پی ٹی آئی نے اموات کا جھوٹا بیانیہ بنایا، انہوں نے مصنوعی ذہانت کے استعمال سے اسلام آباد کی پوری سڑک کو خون میں لت پت دکھایا،اگر یہ سچے ہیں تو ان کے اعداد و شمار کیوں مختلف ہیں،اگر ان کا بیانیہ سچ پر مبنی تھا تو پوری پارٹی ایک بات کرتی، مائوں، بہنوں، بیٹیوں کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کی روایت بھی بانی چیئرمین پی ٹی آئی نے رکھی،

    خواجہ آصف کا بہت احترام لیکن ان کی زبان آگ اگلتی ہے،شیر افضل مروت

    اسحاق ڈار ڈی ایٹ سمٹ میں شرکت کے لئے مصر پہنچ گئے

    سخت زبان استعمال کروگے تو میں بھی سخت زبان استعمال کرونگا۔خواجہ آصف