Baaghi TV

Tag: لوڈشیڈنگ

  • عید پر بھی بدترین لوڈشیڈنگ جاری،لوگ پریشان

    عید پر بھی بدترین لوڈشیڈنگ جاری،لوگ پریشان

    قصور
    ضلع بھر میں عید پر بھی بدترین لوڈ شیڈنگ رہی،لوگ عرفہ کا روزہ و نماز عید پڑھنے سے بھی قاصر رہے ،ضلع بھر کے بیشتر ٹرانسفارمرز جل گئے

    تفصیلات کے مطابق ضلع قصور میں گرمی بھی اپنے پورے جوبن پر ہے اور لوڈشیڈنگ نے لوگوں کا جینا محال کر دیا ہے
    یوم عرفہ و عید کے دنوں میں بھی بدترین لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری رہا جس کے باعث لوگ یوم عرفہ کا روزہ اور عید الاضحیٰ کی نماز پڑھنے سے بھی قاصر رہے
    ضلع بھر کے بیشتر ٹرانسفارمرز جل گئے ہیں جس سے لوگوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے
    لوڈشیڈنگ اس قدر ہے کہ یو پی ایس بھی مکمل چارج نہیں ہو رہے جس سے رات کے وقت مکمل تاریکی چھا جاتی ہے
    لوڈشیڈنگ کا یہ سلسلہ عید کے تیسرے دن بھی جاری ہے

  • حکومت نے بجلی کی قیمیت میں فی یونٹ 7 روپے91 پیسے مزید اضافہ کردیا

    حکومت نے بجلی کی قیمیت میں فی یونٹ 7 روپے91 پیسے مزید اضافہ کردیا

    اسلام آباد:حکومت نے بجلی کی قیمیت میں فی یونٹ 7 روپے91 پیسے مزید اضافہ کردیا،اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت نے عوام پرمزید بوجھ ڈالتے ہوئے بجلی کی قیمیت میں مزید اضافہ کردیا ہے، یہ بھی معلوم ہواہے کہ اس سلسلے میں حکومت نے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے سامنے سرنڈر کرتے ہوئے ایک اور شرط پوری کردی، بحلی کا بنیادی ٹیرف 7 روپے 91 پیسے فی یونٹ بڑھانے کی مرحلہ وار منظوری دے دی۔

    ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے وزارت توانائی کی سمری پر منظوری دی، وفاقی کابینہ میں بجلی کے بنیادی ٹیرف میں اضافے کی سمری ٹیک اپ نہیں ہو سکی تھی، بجلی کا بنیادی ٹیرف مرحلہ وار بڑھایا جائے گا۔

    اس حوالے سے ذرائع کا بتانا تھا کہ پہلا اضافہ 3 روپے 50 پیسےکا ہے، یکم جولائی سے بجلی 3 روپے 50 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی منظوری دی گئی، اگست سے بجلی مزید 3 روپے 50 پیسے فی یونٹ مہنگی ہو گی، اکتوب

    صدر ایف پی سی سی آئی عرفان اقبال شیخ نے کہا ہے کہ کراچی کے کاروباری ادارے 10 سے 15 گھنٹے کی بجلی بندش کا شکار ہیں جس کی مذمت کرتے ہیں۔

    کراچی کے کاروباری ادارے 10 سے 15 گھنٹے بجلی کی بندش کا شکار ہیں جس کی صدر ایف پی سی سی آئی عرفان اقبال شیخ نے شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ سے نہ صرف مقامی اقتصادی اور تجارتی سرگرمیاں تباہ ہورہی ہیں بلکہ برآمدات کرنے والی صنعتوں کیلیے بھی بحران کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے کیونکہ مختلف صنعتیں اور شعبے آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔

    صدر ایف پی سی سی آئی عرفان اقبال شیخ نے مزید کہا کہ کراچی میں کاروباری، صنعتی اور تاجر برادری کو گزشتہ 4 سے 6 ہفتوں کے دوران غیر معمولی لوڈ شیڈنگ سے اربوں روپے کا مالی نقصان ہوچکا ہے اور سینکڑوں کاروباری مالکان نے ایف پی سی سی آئی سے اپنے ناقابل برداشت نقصانات اورممکنہ دیوالیہ ہونے کے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ر سے بجلی کا بنیادی ٹیرف 91 پیسے فی یونٹ بڑھایا جائے گا، نیپرا نے بجلی کا بنیادی ٹیرف بڑھانے کا فیصلہ وفاقی حکومت کو بھجوایا تھا۔

  • سابقہ حکومت نے بجلی کی پیداوار نہ بڑھا کر مجرمانہ غفلت کی،وفاقی وزراء

    سابقہ حکومت نے بجلی کی پیداوار نہ بڑھا کر مجرمانہ غفلت کی،وفاقی وزراء

    سابقہ حکومت نے بجلی کی پیداوار نہ بڑھا کر مجرمانہ غفلت کی،وفاقی وزراء

    وفاقی کابینہ نے ملک میں بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کیلئے مستقبل میں صرف ایندھن پر چلنے والے ملکی بجلی گھر قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے

    وزیراعظم شہبازشریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ اجلاس میں ملک میں حالیہ لوڈشیڈنگ کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی ،کابینہ اجلاس کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ لوڈشیڈنگ کےمعاملے پرکابینہ کو تفصیلی بریفنگ دی گئی وفاقی کابینہ نے سکیورٹی ایکس چینج پروگرام کے آڈٹ کی منظوری دی لوڈمینجمنٹ پلان پرکابینہ کو بریفنگ دی گئی،اس وقت بجلی کی پیداوار کی گنجائش 23ہزار نوسو میگاواٹ ہے جبکہ گزشتہ ماہ بجلی کی طلب 30 ہزار میگاواٹ کی تاریخی سطح پر پہنچ گئی ہے پی ٹی آئی حکومت نے توانائی منصوبوں میں تاخیر کی ،وفاقی کابینہ نے وزارت داخلہ کی سفارش پر پانچ افراد کے نام ای سی ایل سے ہٹانے کی منظوری دی ہے، بجلی کی قیمت میں 7 روپے 90 پیسے اضافے کی سمری موخر کر دی گئی

    وفاقی وزیر قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اپنے دور میں کارخانے لگاتی تو آج لوڈشیڈنگ کم ہوتی، بجلی کے شعبے میں 383ارب روپے کا گردشی قرضہ ہے ڈیموں میں پانی کی مقداربڑھنےسے 2ہزارمیگاواٹ بجلی سسٹم میں آئےگی،پن بجلی سسٹم میں آنےسےلوڈشیڈنگ میں کمی ہوگی،لائن لاسزوالے علاقوں میں 16گھنٹےکی لوڈشیڈنگ ہوسکتی ہے، 283ارب روپے کا سرکلر ڈیٹ بڑھا ہے، سابق حکومت نےبجلی کے کارخانے نہ لگا کرمجرمانہ غفلت کی،اگر تمام کارخانے بھی چلا دیں تو بجلی کی ڈیمانڈ پوری نہیں کر سکتے، آئندہ کوئی ایسا پلانٹ نہیں لگائیں گے جس میں امپورٹڈ ایندھن استعمال ہو،عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ جائیں گی کسی کے علم میں نہیں تھا۔ روس یوکرین جنگ سے ایندھن کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا۔

    وزیرتوانائی خرم دستگیر نے کہا کہ سی پیک کے تحت سات سو بیس میگاواٹ کا کروٹ پن بجلی منصوبہ فعال کردیا گیا ہے۔ دوہزار تیرہ سے اٹھارہ تک مسلم لیگ ن کے دور میں شروع کئے گئے چارہزار چھ سو تئیس میگاواٹ کے توانائی منصوبے اگلے سال تک پیداوار دینا شروع کردیں گے اگلے سال تک شمسی توانائی اور نجی نیٹ میٹرنگ کے ذریعے مجموعی طورپر سات ہزار میگاواٹ بجلی آنے والے سال تک سسٹم میں شامل ہوجائیگی جس سے لوڈشیڈنگ کے مسئلہ پر قابو پانے میں مدد ملے گی

    جعلی چیک دینے پر ملک ریاض کے بیٹے پرمقدمہ درج

    شادی شدہ کامیاب مرد سے پیسے کی خاطر جسمانی تعلق رکھنا عورت کی تذلیل ہے۔ فرح سعدیہ

    ‏خواتین کو جب اعتکاف کی مبارکباد دینے جائیں تو صرف مٹھائی لے کر جائیں. شفاعت علی

    عظمیٰ تشدد کیس میں تاحال کوئی گرفتاری نہیں، کہیں انہیں فرار تو نہیں کروا دیا ؟ حسان نیازی

    میں نے کوئی ڈیل نہیں کی اور نا ہی دبئی گئی، لاہور ہی ہوں تو انصاف لے کر رہوں گی، عظمیٰ خان

  • گیس پر چلنے والے کارخانوں کے لئے گیس لوڈ شیڈنگ کی پالیسی پر نظر ثانی کی ہدایت

    گیس پر چلنے والے کارخانوں کے لئے گیس لوڈ شیڈنگ کی پالیسی پر نظر ثانی کی ہدایت

    گیس پر چلنے والے کارخانوں کے لئے گیس لوڈ شیڈنگ کی پالیسی پر نظر ثانی کی ہدایت

    وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ میں معاون انڈسڑیل اور ایکسپورٹ سیکٹر کے مسائل کے حل کے لئے جائزہ اجلاس ہوا

    اجلاس میں وفاقی وزیر برائے انرجی ڈویژن انجینئر خرم دستگیر، وفاقی وزیر بورڈ آف انویسٹمنٹ چوہدری سالک حسین، وفاقی وزیر برائے کامرس سید نوید قمر، وفاقی وزیر برائے انڈسٹریز سید مرتضی محمود، وزیر مملکت برائے پٹرولیم مصدق ملک، ممبر قومی اسمبلی شاہد خاقان عباسی، صوبائی وزیر قانون ملک احمد خان, متعلقہ وزارتوں کے اعلی حکام اور ٹیکسٹائل سیکٹر کے نامور بزنس مین نے شرکت کی۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے انڈسٹریل اور بالخصوص ٹیکسٹائل سیکٹر کے انرجی سپلائی کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے بزنس مین کے نمائندہ گروپ کو متعلقہ وزرا سے فوری طور پر ملاقات میں تفصیلا مسائل پر تبادلہ خیال کی ہدایت کی.

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کے انڈسٹریل اور برآمدی سیکٹر کے مسائل کے موافق اور موضوع اقدامات کے ذریعے فوری حل میں ہی پاکستان کی معاشی بقاء پوشیدہ ہے۔۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ معاشی طور پر غیر معمولی صورتحال میں انڈسٹریل اور برآمدی سیکٹر کی ہرممکن مدد سے ہی پاکستان کی برآمدی مصنوعات کو عالمی مارکیٹ میں بہتر طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔

    مزید برآں وزیراعظم شہباز شریف نے صرف گیس پر چلنے والے کارخانوں کے لئے گیس لوڈ شیڈنگ کی پالیسی پر نظر ثانی کی ہدایت کی تاکہ برآمدات کی پیداواری ترسیل کو یقینی بنایا جا سکے۔

    سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کی دیرینہ دوست فرح گوگی کا ایک اور بڑا سکینڈل منظر عام پر آ

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

    نوجوان جوڑے پر تشدد کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کے بارے میں اہم انکشافات

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

  • لوڈ شیڈنگ کی وجوہات سامنے آگئیں،سابق حکومت نے پاور پلانٹس کیلئے بروقت فیول کا انتظام نہیں کیا

    لوڈ شیڈنگ کی وجوہات سامنے آگئیں،سابق حکومت نے پاور پلانٹس کیلئے بروقت فیول کا انتظام نہیں کیا

    سابق حکومت کی نااہلی کی وجہ سے پاکستان کے عوام اور ملک کو شدید گرمی میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے، سابق حکومت نے پاور پلانٹس کیلئے بروقت فیول کا انتظام نہیں کیا، سستے اور مقامی بجلی گھروں پر کام میں دانستہ تاخیر کی، عالمی سطح پر ایل این جی کی کم قیمتوں کے وقت طویل المدتی معاہدے نہ کرنے، ڈالر کی قدر میں اضافہ اور سرکلر ڈیٹ بھی لوڈشیڈنگ کی وجوہات ہیں، موجودہ حکومت نے بروقت اقدامات اٹھاتے ہوئے اگست 2022 تک 70 ملین کیوبک فٹ یومیہ آر ایل این جی کا بندوبست کیا ہے،سابق حکومت کی سستی کی وجہ سے کروٹ ہائیڈرو، شنگھائی الیکٹرک اور پنجاب تھرل آر ایل این جی کے 3197 میگاواٹ کے منصوبے اپنی معین مدت میں مکمل نہ ہوسکے۔

    دستیاب اعدادوشمار کے مطابق اس وقت ملک بھر میں لوڈشیڈنگ کی زیادہ تر وجوہات سابقہ حکومت کی 2018 سے 2022 کے دوران غفلت اور کمیشن ہے، بین الاقوامی مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی توانائی کی قیمتوں کے باعث پاکستان کے پاور سیکٹر کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، مالیاتی بندش میں تاخیر بھی سابق حکومت کی نااہلی تھی، حکومت پاکستان کی جانب سے ساہیوال کول اور حب جیسے مکمل شدہ منصوبوں کیلئے ریوالونگ اکائونٹ کھولنے میں ناکامی کا نتیجہ یہ نکلا کہ سی پیک کے تحت بجلی کی تیاری کے سلسلہ میں توانائی کے شعبہ کیلئے مزید فنانسنگ نہیں ہے۔

    سابق حکومت یا تو سی پیک کے توانائی کے فریم ورک کو سمجھ نہیں سکی یا یہ فریم ورک اس کی سمجھ سے باہر تھا۔ اس سستی کی وجہ سے بجلی کی لوڈشیڈنگ کا مکمل خاتمہ نہیں ہوسکا اور اس شعبہ کاگلہ گھونٹا گیا۔ 720 میگاواٹ کا حامل کروٹ ہائیڈرو پراجیکٹ فروری 2022ء میں مکمل ہونا تھا تاہم یہ منصوبہ اب جولائی میں مکمل ہوا ہے۔ 1214 میگاواٹ کا تھرکول بلاک اور معدنیاتی شنگھائی الیکٹرک منصوبہ کی تکمیل مئی 2022ء میں ہونا تھی تاہم اب یہ مئی 2023ء میں مکمل ہونا ہے۔

    اسی طرح اعلیٰ کارکردگی کا حامل 1263 میگاواٹ کا پنجاب تھرمل آر ایل این جی پاور پلانٹ جھنگ پی ٹی آئی کی حکومت کی وجہ سے تین سال سے زیادہ تاخیرکا شکار رہا۔ دستیاب اعدادوشمار کے مطابق فیول مکس کی عدم دستیابی کی وجوہات میں آر ایف او کی عدم دستیابی ہے۔ 30 جون 2022 تک آئل انڈسٹری (او ایم سیز اور ریفائنریز) کے پاس دستیاب آر ایف او کے موجودہ ذخائر دو لاکھ 77 ہزار میٹرک ٹن ہیں جبکہ ایک لاکھ 30 ہزار میٹرک ٹن آر ایف او کے دو کارگو اس وقت بندرگاہ سے باہر ہیں ۔

    جولائی 2022 کیلئے تقریبا ایک لاکھ 80 ہزار میٹرک ٹن کی درآمد کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ یہ انتظامات جولائی 2022 کے دوران پاور ڈویژن کی طرف سے رکھی گئی چار لاکھ 36 ہزار میٹرک ٹن کی طلب کو پورا کرنے کیلئے کافی ہیں۔ اس کے علاوہ تیل کی صنعت نے پراڈکٹ کا بندوبست کیا ہے لیکن پاور پلانٹس کی طرف سے پاور ڈویژن کے کم آرڈرز اور ادائیگیوں کے مسائل کی وجہ سے اس کی حقیقی اپ لفٹمنٹ کم رہی۔ پٹرولیم ڈویژن پاور سیکٹر کیلئے مطلوبہ آر ایف او انتظام کرنے کیلئے تمام کوششیں کر رہا ہے اور متعلقہ پاور پلانٹس کی جانب سے بروقت آرڈر دینے اور پیشگی ادائیگیوں سے مشروط آر ایف او کی ضروریات کو آرام سے پورا کرسکتا ہے۔

    اعداد وشمار کے مطابق 21 اپریل 2022 کو مئی اور جون کیلئے تین کارگو کے ٹینڈر دیئے گئے تاہم جون کے کارگو کیلئے کوئی بڈ موصول نہیں ہوئی جبکہ مارکیٹ کی قیمت سے زائد قیمت کی وجہ سے دو کارگو ایوارڈ نہیں کئے گئے۔3 جون 2022 کو جولائی 2022 کیلئے ایک کارگو کے ٹینڈر کی آخری تاریخ تھی۔ تاہم ایل سی کنفرمیشن مسائل کی وجہ سے اس میں شرکت کم رہی۔10 جون کو جولائی کے ماہ کیلئے ایک کارگو، اور 23 جون 2022 کو چار کارگو کے ٹینڈر کی آخری تاریخ تھی اس میں بھی یہی مسائل رہے۔ 16 سے 30 اپریل 2022 کے دوران ایک لاکھ 39 ہزار میٹرک ٹن کی ڈیمانڈ دی گئی جبکہ ایک لاکھ 68 ہزار میٹرک ٹن آر ایف او اپ لفٹ کیا گیا۔ مئی 2022 میں تین لاکھ چار ہزار میٹرک ٹن کی ڈیمانڈ کے مقابلہ میں دو لاکھ 58 ہزار میٹرک ٹن اپ لفٹ کیا گیا جبکہ جون 2022 کیلئے چار لاکھ 42 ہزار میٹرک ٹن ڈیمانڈ کے مقابلہ میں تین لاکھ چھ ہزار میٹرک ٹن اپ لفٹ کیا گیا۔

    موجودہ حکومت نے اپریل میں 8 ملین ، مئی میں 12ملین، جون میں 12 ملین، جولائی میں 8 ملین اور اگست 2022 میں 7 ملین کیوبک فٹ یومیہ آر ایل این جی کا انتظام کیا ہے۔ موجودہ حکومت نے اپریل سے جون 2022 کے دوران ایل این جی کی سپاٹ خریداری شروع کی۔ اس دوان 573 ملین ڈالر کی ایل این جی کی خریداری کی گئی۔ گوکہ پی ایس او اور پی ایل ایل کے ایس این جی پی ایل اور پاور سیکٹر کی طرف بڑی مقدار میں بقایا جات ہیں لیکن اس کے باوجود بجلی کیلئے سپلائی جاری رکھی گئی۔ جون میں ایل این جی کی ادائیگی میں پی ایس او کا شارٹ فال 285 ارب جبکہ پی پی ایل کا 119 ارب قابل وصول ہے۔ پی ایس او اور پی ایل ایل، ایل این جی درآمد کیلئے مصروف عمل ہیں۔

    سابق حکومت کی جانب سے ایل این جی کی عالمی مارکیٹ میں قیمت کم ہونے پر طویل المدتی کنٹریکٹ نہیں کئے گئے جس کی وجہ سے اب زائد قیمت پر ایل این جی مل رہی ہے جوکہ آر ایل این جی کی خریداری کے طویل المدتی معاہدوں میں کمی ہے۔ 2020 کے وسط میں آر ایل این جی 3 سے 5 ڈالر ایم ایم بی ٹی یو دستیاب تھی تاہم اس موقع سے فائدہ نہیں اٹھایا گیا اگر اس وقت یہ معاہدہ کرلیا جاتا تو آج صارفین کو بجلی کے بل کم ملتے۔2018 سے 2022 کے دوران مسلم لیگ ن کی گزشتہ حکومت کے معاہدہ کی وجہ سے ایل این جی 8 ڈالر پر دستیاب تھی جبکہ اس وقت اس کی قیمت 9 ڈالر 44 سینٹ تھی جبکہ حالیہ مہینوں میں آر ایل این جی 38 ڈالر ایم ایم بی ٹی یو سے تجاوز کرچکی ہے۔

    دستاویز کے مطابق جو 2018 میں سرکلر ڈیٹ 1152 ارب روپے تھا جبکہ مارچ 2022 میں اس میں 114 فیصد اضافہ کے ساتھ 2467 ارب تک پہنچ گیا۔ سرکلر ڈیٹ بڑھنے کی ایک بڑی وجہ پی ٹی آئی کے دور میں ڈالر کی قدر 115 کے مقابلہ میں 191 روپے تک بڑھ جانا بھی ہے۔ اس کے علاوہ بڑھتے ہوئے سرکلر ڈیٹ نے پرائیویٹ پاور پلانٹس کو حکومتی ادائیگیوں کو بھی متاثر کیا۔ 3900 میگاواٹ کے کوئلہ کے تین بڑے پاور پلانٹس کوئلہ کی عدم دستیابی کی وجہ سے اپنی استعداد کے مطابق نہیں چل رہے۔

    ایک کول پاور پلانٹ کا کوئلہ پیسے نہ ہونے کی وجہ سے کراچی پورٹ سے واگزار نہیں ہوسکا۔عالمی مارکیٹ میں توانائی کی قیمتوں میں گزشتہ 18 ماہ میں 300 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ 2018 میں آر ایف او فی میٹرک ٹن 58 ہزار 85 روپے سے تھی جو اپریل 2022 میں ایک لاکھ 28 ہزار 210 میٹرک ٹن ہوگئی اسی طرح آر ایل این جی 1250 ایم ایم بی ٹی یو دستیاب تھی جو اپریل 2022 میں 2671 روپے تک پہنچ گئی۔2018 میں کول 18107 روپے ٹن تھا جو اپریل 2022 میں 63775 روپے ہوگیا۔

  • طلب بڑھنےکی وجہ سےملک میں زیادہ لوڈ شیڈنگ کا سامنا ہے:خرم دستگیر

    طلب بڑھنےکی وجہ سےملک میں زیادہ لوڈ شیڈنگ کا سامنا ہے:خرم دستگیر

    اسلام آباد:وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں لوڈشیڈنگ کی بڑی وجہ پچھلی حکومت کی پالیسیاں ہیں ،ملک میں گرمی میں اضافہ بھی ایک وجہ ہے۔

    انہوں نے کہا کہ وسط اپریل سے گرمی کی شدت کی وجہ سے بجلی کی طلب میں ایک تہائی اضافہ ہوا ہے، 30 ہزار میگاواٹ طلب جمعرات کو نوٹ کی گئی، حکومتی تخمینہ سے پانچ سے چھ ہزار میگاواٹ طلب زیادہ ہے۔

    خرم دستگیر نے کہا ہے کہ طلب بڑھنے کی وجہ سے ملک میں زیادہ لوڈ شیڈنگ کا سامنا ہے، بجلی کی پیداوار وہی ہے جس کا افتتاح نواز شریف نے کیا تھا۔

    وفاقی وزیر توانائی نے کہا کہ ہم نے گزشتہ سال کے مقابلے میں بیس فیصد بجلی کی زیادہ پیداوار کی، آئندہ مالی سال میں پانچ ہزار میگاواٹ کی مزید کپیسٹی پیدا ہوگی۔

    انہوں نے کہا کہ عمرانی جھوٹ کا عوام روزانہ سامنا کر رہی ہے، کورونا کے دوران بجلی کی طلب میں کمی ہوئی،جہلم پن بجلی منصوبہ 969 میگاواٹ کی پیداوار دے رہا ہے،مقامی کوئلے سے چلنے والا شنگھائی پاور پلانٹ نومبر تک پیداوار شروع کردے گا

    وفاقی وزیر توانائی نے کہاہے کہ سابقہ حکومت کی نااہلی ، سی پیک دشمنی اور نیب گردی کے باعث مسائل درپیش ہیں،گزشتہ حکومت نے عالمی منڈی سے سستے فیول کی خریداری کا موقع ضائع کرکے مجرمانہ غفلت کی ،گردشی قرضے میں 250 فیصد اضافے سے شعبہ توانائی کو مالی مشکلات ہیں ، مسلم لیگ ن 2013 کی طرح ایک بار پھر ملک کو بجلی کے بحران سے نجات دلائے گی، نومبر سے بجلی کی قیمت میں کمی آئے گی،

  • ڈی ایچ کیو میں بجلی کا نیا کھیل جاری

    ڈی ایچ کیو میں بجلی کا نیا کھیل جاری

    قصور
    ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال قصور میں بجلی کی آنکھ مچولی،ایمرجنسی و حساس ترین وارڈ،کارڈیالوجی کے مریض سخت پریشان

    تفصیلات کے مطابق قصور ضلع بھر میں لوڈشیڈنگ کا راج ہے حتی کہ 35 لاکھ افراد کے لئے واحد اکلوتا ہسپتال ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال قصور بھی لوڈشیڈنگ سے محفوظ نہیں
    کئی دنوں سے ہسپتال میں بجلی کی آنکھ مچولی جاری ہے خاص کر کل رات سے لوڈشیڈنگ نے ایک نیا کھیل شروع کیا ہوا ہے جس کے دوران ہر پانچ میں دو سے تین مرتبہ بجلی آتی جاتی ہے
    اس ساری صورتحال کے پیش نظر ہسپتال کی ایمرجنسی و انتہائی حساس وارڈ کارڈیالوجی کے مریض سخت پریشان ہیں اور انتظامیہ سے درخواست گزار ہیں کہ خداراہ ہسپتال میں آئے مریضوں کو تو سکون سے رہنے دیا جائے پہلے ہی اس بہت بڑے ضلع کے واحد ڈی ایچ کیو میں کون سی نمایاں سہولیات موجود ہیں؟
    شہریوں نے وزیراعظم پاکستان سے نوٹس کی اپیل کی ہے

  • جاپان: ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر،بجلی کا سنگین بحران

    جاپان: ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر،بجلی کا سنگین بحران

    ٹوکیو:توانائی کا بحرانی عالمی صورتحال اختیارکرگیا ہے اور یہ بھی پشین گوئی کی جارہی ہے کہ یہ بحران ابھی مزید بڑھے گا جس کی صورت میں عالمی سطح پرایک بہت ہیجانی کی کیفیت پیدا ہوجائے گی،ترقی پزیرممالک میں تویہ تصورتھاکہ بجلی کی لوڈشیڈنگ ہوسکتی ہے لیکن جاپان جیسے ملک کے بارے میں سوچنا احمقانہ تصورکیاجاتا تھا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جاپان میں بھی لوڈشیڈنگ یا بجلی کا بحران ہومگراب یہ سب کچھ ہورہا ہے ، جاپان کو اس وقت جون کی ریکارڈ توڑ ’بدترین‘ گرمی کی لہر کا سامنا ہے جہاں بجلی کے بحران نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ کچھ مینوفیکچررز نے بجلی کی بچت کے لیے پیداوار کو کم کرنے کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے

    گرمی کی لہر کے پانچویں دن ٹوکیو کے قریبی علاقوں میں 40 سینٹی گریڈ کے درجہ حرارت کی پیش گوئی کی گئی تھی۔

    جاپان کے محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ دارالحکومت ٹوکیو کا درجہ حرارت 5 جولائی تک 30 سینٹی گریڈ سے نیچے نہیں آئے گا۔ صنعت کی وزارت کے ایک اہلکار نے صحافیوں کو بتایا کہ ’بجلی کی طلب اور رسد کی صورت حال گزشتہ تین دنوں میں (رواں ہفتے کے) سنگین ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹوکیو اور اس کے قریبی علاقوں میں بدھ کی دوپہر کے اوائل میں بجلی کی طلب گزشتہ چند سالوں کے موسم گرما کی بلند ترین سطح کے برابر ہو سکتی ہے

    نیشنل گرڈ مانیٹر کے مطابق منصوبہ بند بجلی کی سپلائی میں پہلے سے ہی وہ سب کچھ شامل کر لیا گیا ہے جو بدھ تک اضافی اقدامات کے طور پر کیا جا سکتا ہے۔

    آرگنائزیشن فار کراس ریجنل کوآرڈینیشن آف ٹرانسمیشن آپریٹرز (او سی سی ٹی او) کے مطابق دوپہر تخمینے نے ظاہر کیا ہے کہ ٹوکیو کے علاقے کے لیے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کا ریزرو تناسب شام ساڑھے چار اور پانچ بجے کے درمیان 2.6 فیصد تک گر سکتا ہے۔ جاپان کے وزیراعظم فومیو کیشیدا نے گروپ آف سیون کے سربراہی اجلاس کے بعد ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ وہ جاپان میں بجلی کی وافر فراہمی کو محفوظ بنانے کے لیے اپنی پوری کوشش کریں گے۔

    دریں اثنا، پاور کمپنیاں تھرمل پاور پلانٹس کو دوبارہ شروع کرنے کی تیاری کر رہی ہیں جو بن کر دیے گئے تھے جبکہ ری ایکٹرز کو دوبارہ فعال کرنے سمیت متبادل توانائی کے ذرائع کے اضافی استعمال کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

  • لوڈشیڈنگ کرکے آخرت کی گرمی یاد نا کروائی جائے

    لوڈشیڈنگ کرکے آخرت کی گرمی یاد نا کروائی جائے

    قصور
    شدید ترین گرمی کیساتھ لوڈشیڈنگ بھی بڑھ گئی،لو وولٹیج کے باعث شہریوں کی الیکٹرانکس اشیا خراب ہونا معمول،حکام خواب خرگوش میں مصروف

    تفصیلات کے مطابق ایک بار پھر قصور کا درجہ حرارت انتہاہ کو پہنچ گیا ہے جس کے باعث گرمی کی شدت میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا ہے جیسے ہی گرمی کی شدت میں اضافہ ہوا ہے ویسے ہی واپڈا والوں نے لوڈشیڈنگ میں اضافہ کر دیا ہے
    ہر گھنٹہ بعد بجلی جانا فرض عین قرار پا چکا ہے جبکہ بجلی آنے پر بھی وولٹیج پورے نہیں ملتے بلکہ انتہائی لو وولٹیج آتے ہیں جس کے باعث لوگوں کی قیمتی الیکٹرانکس اشیا خراب ہونا معمول بن چکا ہے
    موجودہ گورنمنٹ کے لوڈشیڈنگ پر کئے گئے تمام دعوے دھرے رہ گئے ہیں
    لوگوں نے وزیراعظم پاکستان سے رحم کی اپیل کی ہے کہ اس گرمی میں لوڈشیڈنگ کرکے آخرت کی گرمی یاد نا کروائی جائے بلکہ اسے رب کونین پر چھوڑ دیا جائے اور عوام پر رحم کھاتے ہوئے لوڈشیڈنگ کو ختم کیا جائے تاکہ حکمرانوں کو شاید اس آخرت میں رب الہی کا رحم نصیب ہو

  • رات نو بجے لاہور میں دکانیں بند، خلاف ورزی پر کاروائی کا فیصلہ

    رات نو بجے لاہور میں دکانیں بند، خلاف ورزی پر کاروائی کا فیصلہ

    رات نو بجے لاہور میں دکانیں بند، خلاف ورزی پر کاروائی کا فیصلہ

    توانائی بحران کے پیش نظر لاہور میں آج سے کاروباری اوقات محدود کرنے کے فیصلے پر سختی سے عملدرآمد کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے

    ڈپٹی کمشنر لاہور عمر شیر چٹھہ کی زیرصدارت توانائی بحران سے نمٹنے کے لیے کاروباری اوقات میں ردو بدل کے فیصلے پرعملدرآمد کے حوالے سے ایک اجلاس ہوا جس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنرز اور دیگر متعلقہ افسران شریک ہوئے ڈی سی لاہور نے کہا کہ شہر میں تمام کاروباری مراکز کو آج رات 9 بجے بند کرانے کے فیصلے پر عملدرآمد کرایا جائے گا سرکاری عملے، لیبر انسپکٹرز اور دیگر ادروں کے تعاون سے کاروباری مراز کو مقررہ وقت پر بند کرایا جائے گا

    ضلعی انتظامیہ لاہور نے آج رات سے مقرر کردہ اوقات کے مطابق دکانیں بند کرانے کے لئے ٹیمیں تشکیل دے دیں. پانچ تحصیلوں میں اٹھارہ کلسٹر بنا دئیے گئے ہیں. اسسٹنٹ کمشنرز، ریونیو ، لیبر اور ایم سی ایل کے افسران پر مشتمل ٹیم عملدرآمد کروائے گی. ٹیموں کو کلسٹر کے مطابق ذمہ داریاں تفویض کر دی گئی ہیں.

    1_ تحصیل رائیونڈ میں تین کلسٹر بنائے گئے ہیں. مانگا منڈی، رائیونڈ، بحریہ ٹاؤن، چوہنگ بازار، آرائیاں، سندر ملتان روڈ کی مارکیٹس شامل ہیں. 2_ تحصیل شالیمار میں تین کلسٹر بنائے گئے ہیں.مغل پورہ مارکیٹ، مغلپورہ لنک روڈ، سکھ بازار، غازی آباد بازار، نقشبندی بازار ، فیصل پارک جلو موڑ، کرول بازار، شالیمار لنک روڈ، رام گڑھ بازار اور مین جی ٹی روڈ شامل ہیں. 3_ تحصیل کینٹ میں چار کلسٹر بنائے گئے ہیں.پی اے ایف مارکیٹ، آر اے بازار، ڈی ایچ اے وائے بلاک فیز 5، کیولری گراؤنڈ، والٹن روڈ، مال آف لاہور، گرجا چوک، لالک جان روڈ، لدھر بیدیاں روڈ، برکی روڈ، ڈی ایچ اے فیز06 ، بھٹہ چوک اور ایونیو شامل ہیں. 4_ تحصیل سٹی میں چار کلسٹر بنائے گئے ہیں.انار کلی بازار، مال روڈ، پینوراما، بیڈن روڈ، ہال روڈ، شاہ عالم مارکیٹ، اعظم مارکیٹ، عابد مارکیٹ، مین مزنگ بازار، سمن آباد مارکیٹ، اسلام پورہ، یتیم خانہ، فرنیچر مارکیٹ، بند روڈ، کریم پارک، ملک پارک شامل ہیں. 05_ تحصیل ماڈل ٹاؤن میں چار کلسٹر بنائے گئے ہیں. لبرٹی مارکیٹ، برکت مارکیٹ، مین مارکیٹ ، غالب مارکیٹ، اوریگا سنٹر، حفیظ سنٹر، ایم ایم عالم روڈ، نور جہاں روڈ، محمود قصوری روڈ، جیل روڈ، شادمان مارکیٹ ، فیروز پور روڈ، اچھرہ، کریم بلاک مارکیٹ، مون مارکیٹ، ٹائر مارکیٹ، فردوس مارکیٹ، ٹاؤن شپ، کاہنہ نو بازار، نشتر کالونی، یوحنا آباد اور کالج روڈشامل ہیں.

    ڈی سی لاہور عمر شیر چٹھہ کا کہنا ہے کہ پہلے مرحلہ میں خلاف ورزی پر وارننگ دی جائے گی.دوسرے مرحلہ میں ایک دن کے لئے دکان کو بند کیا جائے گا.تیسرے مرحلہ میں تین روز کے لئے دکان کو بند کر کے عدالت میں کیس ریفر کیا جائے گا.

    چینی بحران رپورٹ، جہانگیر ترین کے خلاف بڑا ایکشن،سب حیران، ترین نے کی تصدیق

    چینی بحران کا ذمہ دار جہانگیر ترین نہیں بلکہ شریف برادران،اہم انکشافات سامنے آ گئے

    چینی کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹ میں بھی تحقیقات کا مطالبہ