فرانس نے اپنے طیارہ بردار بحری جہاز ‘شارل ڈی گول’(Charles de Gaulle) کو مشرق وسطیٰ کی جانب روانہ کر دیا ہے،تاکہ آبنائے ہرمز میں ممکنہ مشن کے لیے پیشگی تیاری کی جا سکے –
فرانسیسی حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ فرانس نہ صرف آبنائے ہرمز میں بحری گزرگاہ کی حفاظت کے لیے تیار ہے بلکہ اس صلاحیت کا عملی مظاہرہ بھی کر سکتا ہے صدر امانوئل میکرون کے ایک معاون نے صحافیوں کو بتایا کہ اس تعیناتی کا مقصد خطے میں کشیدگی کے باوجود سمندر ی راستوں کی آزادی کو یقینی بنانا ہے۔
بحیرہ احمر کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے یہ بحری بیڑہ نہر سویز سے گزرتے ہوئے اپنے مشن کی طرف بڑھ رہا ہے فرانسیسی وزارت دفاع کے مطابق یہ اقدام اس لیے کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ آپریشن کو بروقت شروع کیا جا سکے ‘شارل ڈی گول’ اور اس کے ساتھ موجود جنگی جہاز بحیرہ احمر کے جنوبی حصے میں تعینات ہوں گے۔
اس مشن میں برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر اور صدر میکرون کی قیادت میں متعدد ممالک کی شمولیت متوقع ہے یہ مشن صرف دفاعی نوعیت کا ہوگا اور اس کا مقصد جنگ کے خاتمے کے بعد بحری تجارت کی بحالی بتایا جا رہا ہے۔ فرانسیسی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث عالمی معیشت کو شدید خطرات لاحق ہیں اسی وجہ سے تقریباً 40ممالک اس ممکنہ مشن کی منصوبہ بندی میں شریک ہیں امریکا اور ایران کو بھی الگ الگ مذاکرات کی پیشکش کی گئی ہے تاکہ خطے میں تناؤ کم کیا جا سکے اور تیل کی عالمی ترسیل دو بارہ معمول پر آ سکے-
