Baaghi TV

Tag: معشیت

  • زرعی شعبے کا پاکستان کی معیشت کی ترقی اور استحکام میں کلیدی کردار ہے،وزیراعظم

    زرعی شعبے کا پاکستان کی معیشت کی ترقی اور استحکام میں کلیدی کردار ہے،وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے زرعی برآمدات کے فروغ کے لیے پاکستان کے بیرون ملک مشنز میں تعینات کمرشل افسران کو مؤثر کردار ادا کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت زرعی شعبے اور زرعی برآمدات کے فروغ کے حوالے سے اجلاس ہوا،اجلاس میں وزیراعظم نے کسانوں کو فصلوں کی نگرانی کے لیے دستیاب موبائل ایپ کے حوالے سے آگاہی بڑھانے کے لیے مؤثر میڈیا مہم چلانے کی ہدایت کی۔

    وزیراعظم نے کہا ہے کہ زرعی شعبے کا پاکستان کی معیشت کی ترقی اور استحکام میں کلیدی کردار ہےپاکستان کی زرعی مصنوعات کے لیے عالمی منڈیوں میں رسائی بڑھانے اور نئی منڈیاں تلاش کرنے کے لیے مربوط اقدامات لیے جائیں، زرعی شعبے کی برآمدات بڑھانے کے لئے زرعی مصنوعات میں ویلیو ایڈ یشن ناگزیر ہے فی ایکڑ زرعی پیداوار میں اضافے، زراعت میں جدت لانے، لائیو اسٹاک کے شعبے کی ترقی اور زرعی برآمدات کے فروغ کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان مؤثر رابطہ اور شراکت داری ضروری ہے۔

    اجلاس میں زرعی برآمدات میں اضافے کے لئے ویلیو چینز تشکیل دینے کی تجویز دی گئی،اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ پچھلے مالی سال میں پاکستان کے زرعی شعبے سے برآمدات 5.18 بلین امریکی ڈالرز رہیں جن میں چاول، فشریز ، حلال گوشت، آلو، تل، تمباکو ، آم ، مکئی پاکستان کی نمایاں زرعی برآمدات رہیں چین، سعودی عرب ، ایران اور خلیجی ممالک پاکستان کی زراعت برآمدات کے حوالے سے اہم ممالک ہیں ۔

    اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ نیشنل ایگریکلچر اینڈ فوڈ سیکیورٹی کونسل کو فعال کیا جائے گا جس میں وزرائے اعلیٰ اپنے اپنے صوبوں کی نمائندگی کریں گے ،ڈیجیٹل فارمرز ڈائری-ایگری سٹیک کی تشکیل کی تجویز بھی دی گئی جس کے تحت ملک بھر کے کسانوں اور زرعی لینڈ اور پانی کی جانچ کے ریکارڈز کو ڈیجیٹائز کیا جائے گا بہتر نتائج کے حامل زرعی طریقہء کاروں کے فروغ کے لئے پاک-گیپ ( پاکستان ۔گڈ ایگریکلچر پریکٹسز ) نظام بھی تشکیل دیا جائے گا،جبکہ زرعی شعبے کے برآمد کنندگان کے فروغ کے لیے زرعی فنانسنگ کے حوالے سے سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

  • ایران جنگ نے  عالمی معیشت کے کام کرنے کا طریقہ بدل ڈالا ہے،امریکی اخبار

    ایران جنگ نے عالمی معیشت کے کام کرنے کا طریقہ بدل ڈالا ہے،امریکی اخبار

    ایران جنگ نے صرف تیل کی قیمتیں نہیں بڑھائیں بلکہ عالمی معیشت کے کام کرنے کا طریقہ بھی بدل دیا ہے۔

    امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق امریکا میں اس جنگ کے اثرات عام شہریوں تک بھی پہنچے پیٹرول کی قیمت کئی ہفتوں سے 4 ڈالر فی گیلن سے زیادہ رہی، گھر کے قرض کی شرح سود تقریباً 7 فیصد تک پہنچنے لگی جبکہ ڈیزل مہنگا ہونے کے باعث کمپنیوں نے سامان کی ترسیل پر اضا فی چارجز وصول کرنا شروع کردیئے، جنگ کے دوران آبنائے ہرمز پر ایران کا اثر و رسوخ بڑھا، چین نے تیل کی عالمی منڈی میں اپنی طاقت دکھائی جبکہ امریکا، برازیل، گیانا، کینیڈا اور ناروے سمیت کئی ممالک نے تیل کی پیداوار بڑھا دی۔

    ماہرین کے مطابق جنگ بندی کے بعد ان میں سے کچھ اثرات کم ہوسکتے ہیں، لیکن عالمی معیشت میں آنے والی بعض تبدیلیاں طویل عرصے تک برقرار رہ سکتی ہیں،جنگ سے پہلے دنیا کے مختلف ممالک کے بحری جہاز آبنائے ہرمز سے آزادانہ گزر کر خلیج فارس اور مشرق وسطیٰ سے سامان اور تیل لے جا تے تھے دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل کی سپلائی روزانہ اسی تنگ سمندری راستے سے گزرتی تھی۔

    فروری کے آخر میں امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد صورتِ حال تبدیل ہوگئی ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول ظاہر کرتے ہوئے وہاں سے گزرنے والے بعض بحری جہازوں کو نشانہ بنایا اس کے نتیجے میں عالمی منڈی کو روزانہ تقریباً 1 کروڑ 30 لاکھ بیرل تیل کی سپلائی متاثر ہوئی۔

    مئی میں ایران نے مکمل طور پر آبنائے ہرمز بند رکھنے کے بجائے وہاں سے گزرنے والے جہازوں کے لیے نئے قواعد نافذ کردیئے اس مقصد کے لیے ’پرشیئن گلف اسٹریٹ اتھارٹی‘ قائم کی گئی، جس کے تحت جہازوں کو رجسٹریشن، مخصوص راستے کی پابندی اور گزرنے کے لیے فیس ادا کرنا تھی،جون میں امریکا -ایران ایک مفاہمتی معاہدے کے بعد ایران نے 60 دن کے لیے فیس وصول نہ کرنے پر رضامندی ظاہر کی، تاہم رجسٹریشن نہ کرانے والے جہازو ں پر حملے جاری رہے۔

    بعد میں امریکا نے رات کے وقت آبنائے ہرمز سے ایسے بحری جہازوں کو فوجی نگرانی اور سکیورٹی فراہم کرنا شروع کردی جن کی شناخت واضح نہیں ہوتی تھی اس کا مقصد خلیج فارس سے تیل کی برآمدات جاری رکھنا اور ایرانی ڈرون حملوں سے بچنا تھا۔

    سرمایہ کاری کی حکمت عملی کے ماہر راس فیلڈ نے کہا کہ امکان ہے ایران جنگ کے بعد آبنائے ہرمز پر پہلے سے زیادہ مضبوط پوزیشن میں ہوگا اور مشرق وسطیٰ کے تیل پر انحصار کرنے والے ممالک کو اپنی حکمت عملی تبدیل کرنا پڑے گی،آبنائے ہرمز کی بندش جو پہلے صرف ایک ممکنہ خطرہ سمجھی جاتی تھی، اب ایک عملی اور مؤثر حربے کے طور پر سامنے آچکی ہے۔

    ماہرین کے مطابق مستقبل میں ایسا معاہدہ بھی ہوسکتا ہے جس کے تحت ایران آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرنے کے لیے فیس وصول کرے،جے پی مورگن کی کموڈیٹیز اینالیسس کی سربراہ نتاشا کانیوا کے مطابق بین الاقوامی سمندری راستوں میں مختلف خدمات کے عوض فیس وصول کرنے کی مثالیں پہلے سے موجود ہیں، اگر ایران ترکی کی جانب سے آبنائے باسفورس اور داردانیلز میں وصول کی جانے والی فیس جیسا نظام اپناتا ہے تو تیل کی قیمت میں تقریباً ایک ڈالر فی بیرل اضافہ ہوسکتا ہے ایک بڑا تیل بردار جہاز دونوں طرف کے سفر کے لیے تقریباً 2 لاکھ 60 ہزار ڈالر ادا کرسکتا ہے۔

    سی این این کے مطابق ایران جنگ کا دوسرا بڑا اثر چین کے کردار میں نظر آیا چین خود دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل نہیں، لیکن جنگ کے دوران اس نے ثابت کیا کہ عالمی تیل کی منڈی میں اس کا اثر بہت زیادہ ہے امریکی کاروباری اور مالیاتی مشاورتی ادارے آر ایس ایم یو ایس کے چیف اکانومسٹ جو برسیولاس کے مطابق چین میں تیل کی طلب کو تیزی سے کم یا زیادہ کرنے کی صلاحیت نے اسے خاص اہمیت دی۔

    چین نے جنگ سے پہلے تیل کے بڑے ذخائر جمع کرلیے تھے اسی وجہ سے جنگ کے دوران اس نے خام تیل کی درآمد میں تقریباً 50 لاکھ بیرل یومیہ کمی کردی تاہم مستقبل میں ان ذخائر کو دوبارہ بھرنے کے لیے چین کی تیل کی طلب بڑھ سکتی ہے۔

    دوسری جانب چین میں لوگوں کے رویے میں بھی ایسی تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں جو طویل مدت تک برقرار رہ سکتی ہیں مئی کی 5روزہ چھٹیوں کے دورا ن چین کی شاہراہوں پر الیکٹرک گاڑیوں کی چارجنگ میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 55.6 فیصد اضافہ ہوا، اسی عرصے میں چین کی شاہراہوں پر سفر کر نے والی تقریباً ہر چار میں سے ایک گاڑی الیکٹرک تھی، جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں 33 فیصد زیادہ تھی۔

    سی این این نے بتایا کہ چین نے بجلی بنانے کے لیے تیل اور گیس سے چلنے والے پلانٹس کے بجائے تیزی سے کوئلے کا استعمال بھی بڑھایا، جس سے اسے تیل کی عالمی سپلائی میں بڑی کمی کے باوجود اپنی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملی۔

    جے پی مورگن کے مطابق جنگ کے دوران مشرق وسطیٰ سے عالمی منڈی کو ملنے والے تیل میں تقریباً 1.9 ارب بیرل کی کمی ہوئی، لیکن اس میں سے تقریباً 80 کروڑ بیرل یعنی تقریباً نصف حصہ اس طرح پورا ہوا کہ لوگوں اور کاروباروں نے تیل کا استعمال کم کردیا۔

    نتاشا کانیوا نے کہا کہ تاریخ بتاتی ہے کہ ماضی میں تیل کی قیمتوں میں بڑے جھٹکوں کے بعد پیٹرول کی طلب میں مستقل کمی دیکھی گئی، اور ممکن ہے اس بار بھی ایسا ہی ہو،اس صورتحال نے یہ بحث بھی چھیڑ دی ہے کہ شاید دنیا تیل کی طلب کی بلند ترین سطح یعنی ’پیک آئل‘ کے قریب پہنچ چکی ہے۔

    سی این این کے مطابق ایران جنگ کے دوران ایک اور اہم تبدیلی یہ ہوئی کہ مشرق وسطیٰ سے باہر کئی ممالک نے تیل کی پیداوار بڑھانا شروع کردی۔

    امریکا کی ایک نجی آئل اینڈ انرجی کنسلٹنگ فرم لپاؤ آئل ایسوسی ایٹس کے صدر اینڈی لپاؤ کے مطابق مشرق وسطیٰ سے باہر تیل کی تلاش اور متبادل توانائی کے منصوبوں میں تیزی آرہی ہے جبکہ پہلے سے موجود تیل کے منصوبوں میں بھی پیداوار بڑھائی جارہی ہے۔

    جے پی مورگن کے اعداد و شمار کے مطابق برازیل نے اپنی تیل کی پیداوار میں روزانہ 8 لاکھ بیرل، گیانا نے 3 لاکھ بیرل، کینیڈا نے 2 لاکھ بیرل اور ناروے نے ڈیڑھ لاکھ بیرل یومیہ اضافہ کیا۔

    امریکا نے بھی گزشتہ برس کے اسی عرصے کے مقابلے میں تقریباً 9 لاکھ بیرل یومیہ زیادہ تیل پیدا کرنا شروع کردیا ہے۔

    امریکا میں اضافی پیداوار کا بڑا حصہ نجی کمپنیوں کے زیر انتظام کنوؤں سے آیا، جہاں سے تیل ریفائنریوں کو بھیجا گیا تاکہ یورپی مارکیٹ کے لیے جیٹ فیول اور قدرتی گیس کی ضروریات پوری کی جاسکیں۔

    ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھلنے کے بعد امریکا کی پیداوار میں معمولی کمی آسکتی ہے، لیکن جے پی مورگن کا خیال ہے کہ امریکی پیداوار موجودہ سطح کے قریب برقرار رہ سکتی ہے برازیل نے بھی ماہرین کو حیران کیا اور توقع سے کہیں زیادہ تیل پیدا کیا دوسری جانب گیانا میں ایک نیا سمندری پیداواری جہاز پہنچنے والا ہے، جس سے وہاں تیل کی پیداوار مزید تیز ہونے کی توقع ہے۔

    سعودی عرب نے آبنائے ہرمز سے بچنے کے لیے بڑی تعداد میں ٹرکوں کے ذریعے تیل اور دیگر سامان بحیرہ احمر تک پہنچانے کا انتظام کیا جبکہ اس کی مشرق سے مغرب تک جانے والی پائپ لائن کو بھی مکمل صلاحیت کے ساتھ استعمال کیا گیا عراق بھی خلیج فارس سے نکلنے والے تیل کے لیے ایک نیا راستہ بنانے پر غور کررہا ہے اور بحیرہ روم تک پائپ لائن کی تعمیر کے لیے امریکی کمپنی شیورون سے بات چیت جاری ہے۔

    جنگ کے بعد تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کو بھی نئے چیلنج کا سامنا ہے متحدہ عرب امارات نے اپریل میں اوپیک چھوڑنے کا اعلان کیا تھا، جبکہ عراق بھی مستقبل میں تنظیم سے الگ ہونے پر غور کرسکتا ہے۔

    عراق کے وزیر تیل کے مطابق اگر اوپیک نے پیداوار کے اہداف میں بڑا اضافہ نہ کیا تو عراق کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ اسے تنظیم میں رہنا ہے یا نہیں،عراق جنگ کے بعد روزانہ 50 لاکھ بیرل تیل پیدا کرنے کی اجازت چاہتا ہے جبکہ طویل مدت میں اس کا ہدف 70 لاکھ بیرل یومیہ پیداوار تک پہنچنا ہے۔

    اگر عراق اور دیگر ممالک کو زیادہ تیل پیدا کرنے کی اجازت مل جاتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی مقدار طلب سے زیادہ ہوسکتی ہے، اس کا ایک فائدہ یہ ہوگا کہ صارفین کے لیے تیل کی قیمتیں کم ہوسکتی ہیں، تاہم دوسری جانب عالمی سطح پر تیل کی اضافی پیداوار مستقل ہوگئی تو تیل کمپنیوں کے منافع میں بڑی کمی بھی آسکتی ہے۔

  • قومی ترقی کے دشمن کون؟،تجزیہ:  شہزاد قریشی

    قومی ترقی کے دشمن کون؟،تجزیہ: شہزاد قریشی

    قومی ترقی کے دشمن کون؟

    قومی منصوبوں کا قتلِ عام کب تک؟

    سیاست کی قیمت قوم کب تک چکاتی رہے گی؟

    تجزیہ شہزاد قریشی

    پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ ملک وسائل سے محروم ہے، بلکہ یہ ہے کہ جب بھی قومی مفاد کا کوئی دروازہ کھلتا ہے، سیاست کی تنگ نظری اس کے سامنے دیوار بن کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ افسوس کہ ہمارے بعض سیاسی حلقوں نے اختلافِ رائے کو اس مقام تک پہنچا دیا ہے جہاں قومی مفاد، جماعتی مفاد کے سامنے بے حیثیت دکھائی دیتا ہے۔

    دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ ریاستیں اپنی معیشت، دفاع، سفارت کاری اور انتظامی ڈھانچوں کو جدید تقاضوں کے مطابق استوار کر رہی ہیں، جبکہ ہم آج بھی انہی بحثوں میں الجھے ہوئے ہیں جنہوں نے گزشتہ کئی دہائیوں میں پاکستان کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔ کالا باغ ڈیم اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ ایک ایسا منصوبہ جو پانی، بجلی اور زراعت کے شعبوں میں انقلاب لا سکتا تھا، اسے سیاسی نعروں، علاقائی تعصبات اور اقتدار کی سیاست کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔ آج جب قوم لوڈشیڈنگ، آبی قلت اور زرعی مشکلات کا سامنا کر رہی ہے تو سوال یہ ہے کہ اس نقصان کی ذمہ داری کون قبول کرے گا؟

    حیرت کی بات یہ ہے کہ تاریخ سے سبق سیکھنے کے بجائے بعض سیاسی قوتیں آج بھی نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام جیسے معاملات پر وہی پرانی سیاست دہرا رہی ہیں۔ عوام کو حقائق بتانے کے بجائے جذباتی نعروں کے ذریعے خوف اور بداعتمادی پیدا کی جا رہی ہے۔ حالانکہ دنیا کا ہر کامیاب ملک انتظامی اصلاحات کو ریاستی استحکام اور عوامی سہولت کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ بڑے علاقوں کو بہتر نظم و نسق کے لیے نئے انتظامی ڈھانچوں میں تقسیم کرنا کوئی جرم نہیں بلکہ جدید ریاستی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔

    سوال یہ ہے کہ جب بھی پاکستان کے مفاد کی کوئی بات ہوتی ہے تو مخالفت کی یہ آگ کیوں بھڑک اٹھتی ہے؟ آخر کیوں قومی ترقی کے منصوبے سیاسی انا کی نذر ہو جاتے ہیں؟ کیوں ہر وہ اقدام جو عوام کی زندگی آسان بنا سکتا ہے، اسے سیاسی معرکہ بنا دیا جاتا ہے؟ قوم ان سوالات کے جواب چاہتی ہے۔
    دوسری جانب پاکستان نے حالیہ برسوں میں بین الاقوامی سطح پر اپنی اہمیت اور وقار میں اضافہ کیا ہے۔ علاقائی تعاون، سفارتی روابط اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہونے والی پیش رفت اس حقیقت کی عکاس ہے کہ دنیا پاکستان کو ایک اہم ریاست کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ ایسے وقت میں داخلی انتشار، بے بنیاد پروپیگنڈا اور قومی معاملات پر سیاست دراصل پاکستان کے اجتماعی مفاد کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔

    وقت آ گیا ہے کہ قوم جذباتی نعروں اور سیاسی شور سے آگے بڑھے۔ پاکستان کو ایسی قیادت، ایسی سوچ اور ایسی سیاست درکار ہے جو آنے والی نسلوں کے مفاد کو مقدم سمجھے۔ جو منصوبوں کو ووٹ کی عینک سے نہیں بلکہ قومی ضرورت کی نظر سے دیکھے۔ جو عوام کو تقسیم نہیں بلکہ متحد کرےتاریخ ہمیشہ ان لوگوں کو یاد رکھتی ہے جو قوموں کی تعمیر کرتے ہیں، اور وہ بھی تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں جو ذاتی مفادات کی خاطر قومی مواقع کو ضائع کر دیتے ہیں۔ فیصلہ آج بھی ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم ترقی کے راستے پر چلنا چاہتے ہیں یا ماضی کی غلطیوں کو دہراتے رہنا چاہتے ہیں۔

  • وزیراعظم کی بیرونِ ملک سے آنے والی ترسیلاتِ زر کو 100 فیصد ڈیجیٹل بنانے کی ہدایت

    وزیراعظم کی بیرونِ ملک سے آنے والی ترسیلاتِ زر کو 100 فیصد ڈیجیٹل بنانے کی ہدایت

    وزیراعظم نے کہا کہ موبائل بینکنگ ایپ استعمال کرنے والوں کی تعداد کا ایک سال میں 9 کروڑ 50 لاکھ سے بڑھ کر 13 کروڑ 70 لاکھ تک پہنچ جانا ایک اہم کامیابی ہے، جبکہ بینکوں اور مالیاتی اداروں کو کیش لیس معیشت کے فروغ میں مزید فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت کیش لیس معیشت اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ سے متعلق اجلاس میں گزشتہ سال کے دوران ہونے والی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا، وزیراعظم نے معاشی ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے کیے گئے اقدامات مثبت نتائج د ے رہے ہیں۔

    انہوں نے ایک سال کے دوران کیو آر (QR) کوڈ کے ذریعے ڈیجیٹل ادائیگیاں وصول کرنے والے فعال مرچنٹس کی تعداد میں 300 فیصد اضافے پر معاشی ٹیم کو خراجِ تحسین پیش کیا اور ہدایت کی کہ تاجروں کو ڈیجیٹل ادائیگیوں کی جانب راغب کرنے کے لیے آگاہی مہم کو مزید مؤثر بنایا جائے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ موبائل بینکنگ ایپ استعمال کرنے والوں کی تعداد کا ایک سال میں 9 کروڑ 50 لاکھ سے بڑھ کر 13 کروڑ 70 لاکھ تک پہنچ جانا ایک اہم کامیابی ہے، جبکہ بینکوں اور مالیاتی اداروں کو کیش لیس معیشت کے فروغ میں مزید فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔

    انہوں نے بیرونِ ملک سے آنے والی ترسیلاتِ زر کو 100 فیصد ڈیجیٹل بنانے کی ہدایت بھی جاری کی اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی ادائیگیوں کو ڈیجیٹل نظام پر منتقل کرنے کے اقدام کو شفاف، تیز رفتار اور مستحقین کے لیے سہل قرار دیتے ہوئے سراہا۔

    اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ جون 2025 سے جون 2026 کے دوران ڈیجیٹل ادائیگیاں وصول کرنے والے مرچنٹس کی تعداد 300 فیصد اضافے کے بعد 20 لاکھ 3 ہزار ہو چکی ہے، جبکہ نادرا کی 99 فیصد ادائیگیاں ڈیجیٹل ہو چکی ہیں اور نقد ادائیگیوں کا تناسب 71 فیصد سے کم ہو کر صرف ایک فیصد رہ گیا ہے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ایک کروڑ مستحقین کو تمام ادائیگیاں ڈیجیٹل والٹ کے ذریعے کی جا رہی ہیں، جبکہ ملک میں موبائل بینکنگ ایپ استعما ل کرنے والوں کی تعداد 13 کروڑ 70 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔

    اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ جولائی 2025 سے جون 2026 کے دوران 11.9 ارب ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز ریکارڈ کی گئیں، جبکہ گزشتہ سال بیرونِ ملک سے آنے والی 92 فیصد ترسیلاتِ زر ڈیجیٹل ذرائع سے موصول ہوئیں کیش لیس معیشت کے حوالے سے تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کا عمل جاری ہے اور اس کی حتمی رپورٹ سفارشات سمیت نومبر 2026 میں پیش کی جائے گی، جبکہ پاکستان بینکنگ ایسوسی ایشن نے بھی رکن بینکوں کو راست (RAAST) سمیت ڈیجیٹل اد ا ئیگیوں کے فروغ کے لیے اہداف دے دیے ہیں۔

    اجلاس میں وفاقی وزرا احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطا اللہ تارڑ، شزا فاطمہ خواجہ، علی پرویز ملک، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، چیئرمین نادرا اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

  • پاکستان کو معاشی خود کفالت کی طرف بڑھنا ہوگا،محمد اورنگزیب

    پاکستان کو معاشی خود کفالت کی طرف بڑھنا ہوگا،محمد اورنگزیب

    پاکستان میں سرمایہ مارکیٹ کو مضبوط بنانے اور سرمایہ کاروں کی شمولیت بڑھانے کے لیے کیپیٹل مارکیٹ ڈویلپمنٹ فنڈ قائم کر دیا گیا ہے، یہ اقدام پاکستان کی مالیاتی منڈیوں کو جدید بنانے اور معیشت کو مستحکم بنیادوں پر آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

    یہ فنڈ بدھ کے روز اسلام آباد میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران باضابطہ طور پر تشکیل دیا گیا، جس کا مقصد مالیاتی خواندگی کو فروغ دینا، مالی شمولیت کو وسعت دینا اور ریٹیل سرمایہ کاروں کی تعداد میں اضافہ کرنا ہے اس موقع پر محمد اورنگزیب نے کہا کہ حالیہ علاقائی کشیدگی نے اس بات کو واضح کیا ہے کہ پاکستان کو اپنے وسائل پر انحصار بڑھانا ہوگا اور معاشی خود کفالت کی طرف بڑھنا ہوگا،سرمایہ مارکیٹ ملکی ترقی کے لیے مالی وسائل فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔

    تقریب میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج، سینٹرل ڈپازٹری کمپنی، نیشنل کلیئرنگ کمپنی، پاکستان مرکنٹائل ایکسچینج اور انسٹی ٹیوٹ آف فنانشل مارکیٹس آف پاکستان سمیت اہم اداروں نے اس فنڈ میں شمولیت اختیار کی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے کہا کہ ملک میں سرمایہ کاروں کی شرح اب بھی ایک فیصد سے کم ہے، تاہم آئندہ برسوں میں اسے 25 لاکھ تک بڑھانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

    منتظمین کے مطابق فنڈ کو ابتدائی طور پر 12 کروڑ روپے سے فعال کیا جائے گا جبکہ شریک ادارے اپنی سالانہ آمدن کا ایک فیصد اس میں شامل کریں گے تاکہ یہ پائیدار بنیادوں پر کام کر سکے،اپریل 2026 میں تقریباً 24 ہزار نئے سرمایہ کار مارکیٹ میں شامل ہوئے، جو سرمایہ کاری کے بڑھتے رجحان کی علا مت ہے۔

  • ایران کے ساتھ مذاکرات میں تعطل اور دھمکیاں،ٹرمپ انتظامیہ پریشان

    ایران کے ساتھ مذاکرات میں تعطل اور دھمکیاں،ٹرمپ انتظامیہ پریشان

    ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں تعطل برقرار ہے اس دوران امریکا میں بھی پیٹرول مہنگا ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے جس پر ٹرمپ انتظامیہ پریشان ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی وہ تازہ ترین پیشکش مسترد کر دی ہے جس میں تہران نے ایٹمی پروگرام پر بات چیت کو کچھ عرصے کے لیے موخر کرنے اور اس کے بدلے آبنائے ہرمز کو مشروط طور پر کھولنے کی تجویز دی تھی صدر ٹرمپ نے اپنی قومی سلامتی کی ٹیم کے ساتھ ایک اہم ملاقات میں واضح اشارہ دیا کہ وہ ایران کے اس نئے منصوبے کو قبول کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔

    امریکی صدر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنے ایک پیغام میں دعویٰ کیا کہ ایران اس وقت تباہی کے دہانے پر ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ جتنی جلدی ممکن ہو آبنائے ہرمز کو کھول دیا جائے کیونکہ ایرانی قیادت اس وقت اپنے مستقبل کے حوالے سے بھی شدید دباؤ میں ہے۔

    وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے اس حوالے سے بتایا کہ ایران کی نئی تجاویز پر غور ضرور کیا گیا ہے لیکن صدر ٹرمپ نے اپنی شرائط اور ڈیڈ لائنز سے ایرانی حکام کو واضح طور پر آگاہ کر دیا ہے۔

    دوسری جانب امریکی انتظامیہ کو اندرونی محاذ پر پریشانی کا سامنا ہے، کیونکہ سی این این کی رپورٹ کے مطابق اگر آبنائے ہرمز کا بحری راستہ بند رہا تو امریکا میں پیٹرول کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں گی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ دھونس، دھمکیوں یا طاقت کے زور پر بین الاقوامی بحری راستوں کو بند کرنا کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔

    ایران کی جانب سے بھی ان دھمکیوں کا بھرپور جواب دیا گیا ہے ایرانی نائب وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل رضا طلائی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ امریکا اب اس پوزیشن میں نہیں رہا کہ وہ آزاد ممالک پر اپنی من مانی پالیسیاں مسلط کر سکے امریکا کو بالآخر یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ اسے اپنے غیر قانونی اور غیر معقول مطا لبات ترک کرنے ہوں گے۔

  • معاشی اشاریے بہتری کی جانب گامزن ہیں،وفاقی وزیر خزانہ

    معاشی اشاریے بہتری کی جانب گامزن ہیں،وفاقی وزیر خزانہ

    وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ یورو بانڈز کی ادائیگی مکمل کر دی گئی ہے جبکہ ایک اور پارٹنر کو بھی اسی مہینے ادائیگی کی گئی ہے۔

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں ترسیلات زر میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور معاشی اشاریے بہتری کی جانب گامزن ہیں مارچ کے دوران مجموعی ترسیلات 3.8 ارب امریکی ڈالر ریکارڈ کی گئیں، جبکہ معمول کے مطابق ماہانہ ترسیلات کا حجم 3.2 ارب امریکی ڈالر ہے،رمضان اور عید کے باعث ترسیلات میں اضافہ ہوا۔

    انہوں نے کہا کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کے ذریعے مارچ میں 260 ملین امریکی ڈالر موصول ہوئے، جبکہ اپریل میں مزید اضافہ متوقع ہےروشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس میں ماہانہ 180 سے 200 ملین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری ہو رہی ہے اور بیرون ملک پاکستانیوں کی دلچسپی بڑھ رہی ہے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ سے رقم نکالنے کے لیے اسٹیٹ بینک کی منظوری لازم نہیں ہےرواں مالی سال میں معاشی شرح نمو 4 فیصد تک رہنے کا امکان ہے جبکہ قرضوں پر سود کی ادائیگی مقررہ ہدف سے کم رہے گی یورو بانڈز کی ادائیگی مکمل کر دی گئی ہے جبکہ ایک اور پارٹنر کو بھی اسی مہینے ادائیگی کی گئی ہے۔

    محمد اورنگزیب کے مطابق حکومت نجکاری پروگرام کو آگے بڑھا رہی ہے اور پی آئی اے کی کامیاب نجکاری کی گئی ہےلاہور اور اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپور ٹس کی نجکاری کو ہنگامی بنیادوں پر آگے بڑھایا جائے گا بڑے کاروباری گروپس کنسورشیم کی شکل میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتے ہیں ڈیبٹ مینجمنٹ آفس کی تنظیم نو کی گئی ہے جبکہ پنشن نظام میں اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں، آئندہ سال سے مسلح افواج کا کنٹری بیوٹری پنشن نظام شروع ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تقریباً 4 کروڑ کرپٹو صارفین موجود ہیں اور اس شعبے کے لیے ریگولیٹری فریم ورک متعارف کرا دیا گیا ہے کرپٹو ایکسچینجز کو لائسنس جاری کیے جا رہے ہیں جبکہ ٹوکنائزیشن کا نظام بھی متعارف کرایا جا رہا ہے،جون تک زرمبادلہ کے ذخائر 18 ارب امریکی ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جو معیشت کے استحکام کی جانب اہم پیش رفت ہ

  • ایران جنگ کے اثرات:دنیا کے امیر ترین افراد کی دولت کم ہو گئی

    ایران جنگ کے اثرات:دنیا کے امیر ترین افراد کی دولت کم ہو گئی

    ایران جنگ کے باعث مارچ 2026 ارب پتیوں کے لیے نقصان دہ مہینہ ثابت ہوا۔

    امریکی جریدے فوربز کے مطابق کے مطابق اس دوران اسٹاک مارکیٹ کے بڑے اشاریے ایس اینڈ پی 500 اور نیکسڈیک تقریباً 5 فیصد گر گئے، جس سے دنیا کے امیر ترین افراد کی دولت کم ہو گئی دنیا کے 10 امیر ترین افراد میں سے 9 اپریل کے آغاز پر پہلے کے مقابلےمیں کم دولت کےساتھ داخل ہوئے مجموعی طور پر ان کی دولت 100 ارب ڈالر سے زائد کم ہو کر 2.5 ٹریلین ڈالر رہ گئی۔

    درجہ بندی میں بھی ٹاپ 10 میں شامل افراد میں سے صرف 4 اپنی پوزیشن برقرار رکھ سکے، جن میں ایلون مسک بدستور پہلے اور سرگئی برن دوسرے نمبر پر موجود ہیں تاہم مسک اور لیری پیج سمیت 5 بڑے ارب پتی ایسے رہے جن کی دولت میں کم از کم 20 ارب ڈالر کی کمی ہوئی ایلون مسک کی دولت 22 ارب ڈالر کم ہو کر 817 ارب ڈالر رہ گئی، جبکہ لیری پیج کی دولت 20 ارب ڈالر کمی کے بعد 237 ارب ڈالر تک آ گئی۔

    سب سے زیادہ نقصان فرانس کے برنارڈ آرنو کو ہوا، جو ساتویں نمبر سے دسویں نمبر پر آ گئے اور ان کی دولت 28 ارب ڈالر کم ہو گئی اسی طرح اسپین کے امانسیو اورٹیگا بھی نمایاں طور پر نیچے آئے اور ان کی دولت میں 20 ارب ڈالر کی کمی ہوئی وارن بفیٹ بھی ٹاپ 10 سے باہر ہو گئے اور نویں سے گیارہویں نمبر پر چلے گئے۔ دوسری جانب وال مارٹ کے وارث راب والٹن معمولی نقصان کے باوجود تین سال بعد دوبارہ ٹاپ 10 میں شامل ہو گئے۔

    اس فہرست میں واحد اضافہ مائیکل ڈیل کی دولت میں دیکھنے میں آیا، جو 13ویں نمبر سے آٹھویں نمبر پر پہنچ گئے جبکہ جیف بیزوس بھی تیسرے نمبر پر آ گئے، حالانکہ ان کی دولت میں معمولی کمی ہوئی مارچ 2026 میں دنیا بھر میں 3,428 ارب پتی افراد موجود تھے یہ اعداد و شمار یکم اپریل 2026 کے مطابق ہیں، جبکہ اسٹاک مارکیٹ میں روزانہ اتار چڑھاؤ کے باعث دولت میں بھی مسلسل تبدیلی آتی رہتی ہے۔

  • یہود وہنود گٹھ جوڑ کے بھارتی معیشت پر بدترین منفی اثرات

    یہود وہنود گٹھ جوڑ کے بھارتی معیشت پر بدترین منفی اثرات

    بھارت کے زوال پذیر معاشی اشاریے،روئٹرز نے یہود وہنود گٹھ جوڑ کے بھارتی معیشت پر بدترین منفی اثرات کا پول کھول دیا۔

    روئٹرز کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جنگ کے باعث بھارتی شیئرز مارچ 2020 کے بعد بدترین سطح پر پہنچ گئے پاک بھارت کشیدگی، امریکی تجارتی دباؤاور ایرا ن جنگ کے اثرات کی وجہ سے بھارتی بینکوں کے حصص 2.5 فیصد تک گر گئے، مشرق وسطیٰ تنازع کے باعث بھارت کا نجی شعبہ 3 سال کی کمزور ترین شرح نمو پر پہنچ گیا، بھارت کی جی ڈی پی نمو 8.4 فیصد سے کم ہو کر 7.8 فیصد، جبکہ آبنائے ہرمز کی بندش سے تیل کی قیمتوں میں 40 فیصد سے زائد اضافہ ہوا۔

    بھارتی حکام نے 1.3 فیصد تک بڑھ جانے والے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں مزید اضافہ کی پیش گوئی کر دی عالمی ماہرین کے مطابق مودی کی نااہلی نے بھارتی معیشت کو توانائی، کرنسی اور ترسیلات زر کے بحران میں دھکیل دیا ہے،مودی کی بدترین حکمت عملی اور دوغلی پالیسیوں کے باعث بھارت غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد کھو چکا ہے۔

  • مشکل کی اس گھڑی میں معاشی طور پر کمزور طبقے کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے،وزیراعظم

    مشکل کی اس گھڑی میں معاشی طور پر کمزور طبقے کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے،وزیراعظم

    وزیراعظم کی زیر صدارت خلیجی بحران کے پیٹرولیم مصنوعات پر اثر، پاکستان میں موجودہ ذخائر اور عوامی ریلیف کے اقدامات پر جائزہ اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا.

    وزیر اعظم آفس کے مطابق اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ کمزور اور متوسط طبقے کے لوگوں کو مزید ریلیف فراہم کرنے کیلئے کوشاں ہیں، مشکل کی اس گھڑی میں معاشی طور پر کمزور طبقے کو اکیلا نہیں چھوڑیں گےاجلاس کو بتایا گیا کہ صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر ممکنہ ریلیف سے استفادے کیلئے موٹرسائیکل اور رکشوں کے حامل افراد کی ملکیتی رجسٹریشن کو جلد از جلد مکمل کرنے کیلئے روابط مربوط کئے جار ہے ہیں.

    وزیرِ اعظم نے کہا کہ سرکاری اخراجات میں کمی، ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی اور 60 فیصد سرکاری گاڑیوں کو فی الفور بند کیا موجودہ حالات میں قربانی کا سلسلہ حکومتی اخراجات میں کٹوتی سے شروع کیا. تیل کی قیمتوں میں اضافے کی تجاویز کو بارہا مسترد کرکے، بچت کے اقدمات سے حاصل شدہ رقم عوامی ریلیف کیلئے بروئے کار لائی گئی. ڈیجیٹل نظام کو بروئے کار لاتے ہوئے عوامی ریلیف کے اقدامات عام آدمی تک پہنچائیں گے. عالمی سطح پر بحران کے باوجود بروقت فیصلوں کی بدولت اللہ کے فضل و کرم سے ایندھن کی فراہمی میں کسی قسم کا تعطل نہیں آنے دیا گیا. پاکستان خطے میں امن کے حوالے سے سفارتی محاذ پر بھرپور کوششیں کر رہا ہے.

    اجلاس کو ایندھن کی بچت کیلئے حکومتی اقدامات پر عملدرآمد، آئندہ کے لائحہ عمل پر تجاویز اور موجودہ اسٹاک پر تفصیلی بریفنگ دی گئی. اجلاس کو وزیرِ اعظم کے ایندھن کی بچت کے اقدامات پر عملدرآمد اور سادگی مہم پر پیش رفت پر انٹیلیجینس بیورو کی آڈٹ رپورٹ بھی پیش کی گئی.

    اجلاس کو بتایا گیا کہ وزیرِ اعظم کی بچت و سادگی مہم پر عملدرآمد یقینی بنایا جارہا ہے. ملکی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے ایندھن کے مناسب ذخائر موجود اور آئندہ کیلئے بھی انتظامات کئے جا رہے ہیں. اشرافیہ کی بڑی گاڑیوں میں استعمال ہونے والے ہائی آکٹین ایندھن پر لیوی میں اضافے سے جیٹ فیول کی قیمتو ں میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں آئی. بریفنگ. وزیرِ اعظم کی بچت مہم کے اقدامات پر عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے ملکی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے ادویا ت کا وافر ذخیرہ موجود ہے،اجلاس کو آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے تجاویز بھی پیش کی گئیں.

    اجلاس میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزراء محمد آصف، احسن اقبال، ڈاکٹر مصدق ملک، احد خان چیمہ، سید مصطفی کمال، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، علی پرویز ملک، شزہ فاطمہ خواجہ، رانا مبشر اقبال، سردار اویس خان لغاری، مشیر وزیرِ اعظم رانا ثناء اللہ، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، معاونین خصوصی طارق فاطمی، طلحہ برکی، ارکان قومی اسمبلی انجینئیر قمر الاسلام، ریاض الحق، حافظ محمد نعمان اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی.