Baaghi TV

قومی ترقی کے دشمن کون؟،تجزیہ: شہزاد قریشی

قومی ترقی کے دشمن کون؟

قومی منصوبوں کا قتلِ عام کب تک؟

سیاست کی قیمت قوم کب تک چکاتی رہے گی؟

تجزیہ شہزاد قریشی

پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ ملک وسائل سے محروم ہے، بلکہ یہ ہے کہ جب بھی قومی مفاد کا کوئی دروازہ کھلتا ہے، سیاست کی تنگ نظری اس کے سامنے دیوار بن کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ افسوس کہ ہمارے بعض سیاسی حلقوں نے اختلافِ رائے کو اس مقام تک پہنچا دیا ہے جہاں قومی مفاد، جماعتی مفاد کے سامنے بے حیثیت دکھائی دیتا ہے۔

دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ ریاستیں اپنی معیشت، دفاع، سفارت کاری اور انتظامی ڈھانچوں کو جدید تقاضوں کے مطابق استوار کر رہی ہیں، جبکہ ہم آج بھی انہی بحثوں میں الجھے ہوئے ہیں جنہوں نے گزشتہ کئی دہائیوں میں پاکستان کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔ کالا باغ ڈیم اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ ایک ایسا منصوبہ جو پانی، بجلی اور زراعت کے شعبوں میں انقلاب لا سکتا تھا، اسے سیاسی نعروں، علاقائی تعصبات اور اقتدار کی سیاست کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔ آج جب قوم لوڈشیڈنگ، آبی قلت اور زرعی مشکلات کا سامنا کر رہی ہے تو سوال یہ ہے کہ اس نقصان کی ذمہ داری کون قبول کرے گا؟

حیرت کی بات یہ ہے کہ تاریخ سے سبق سیکھنے کے بجائے بعض سیاسی قوتیں آج بھی نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام جیسے معاملات پر وہی پرانی سیاست دہرا رہی ہیں۔ عوام کو حقائق بتانے کے بجائے جذباتی نعروں کے ذریعے خوف اور بداعتمادی پیدا کی جا رہی ہے۔ حالانکہ دنیا کا ہر کامیاب ملک انتظامی اصلاحات کو ریاستی استحکام اور عوامی سہولت کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ بڑے علاقوں کو بہتر نظم و نسق کے لیے نئے انتظامی ڈھانچوں میں تقسیم کرنا کوئی جرم نہیں بلکہ جدید ریاستی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔

سوال یہ ہے کہ جب بھی پاکستان کے مفاد کی کوئی بات ہوتی ہے تو مخالفت کی یہ آگ کیوں بھڑک اٹھتی ہے؟ آخر کیوں قومی ترقی کے منصوبے سیاسی انا کی نذر ہو جاتے ہیں؟ کیوں ہر وہ اقدام جو عوام کی زندگی آسان بنا سکتا ہے، اسے سیاسی معرکہ بنا دیا جاتا ہے؟ قوم ان سوالات کے جواب چاہتی ہے۔
دوسری جانب پاکستان نے حالیہ برسوں میں بین الاقوامی سطح پر اپنی اہمیت اور وقار میں اضافہ کیا ہے۔ علاقائی تعاون، سفارتی روابط اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہونے والی پیش رفت اس حقیقت کی عکاس ہے کہ دنیا پاکستان کو ایک اہم ریاست کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ ایسے وقت میں داخلی انتشار، بے بنیاد پروپیگنڈا اور قومی معاملات پر سیاست دراصل پاکستان کے اجتماعی مفاد کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔

وقت آ گیا ہے کہ قوم جذباتی نعروں اور سیاسی شور سے آگے بڑھے۔ پاکستان کو ایسی قیادت، ایسی سوچ اور ایسی سیاست درکار ہے جو آنے والی نسلوں کے مفاد کو مقدم سمجھے۔ جو منصوبوں کو ووٹ کی عینک سے نہیں بلکہ قومی ضرورت کی نظر سے دیکھے۔ جو عوام کو تقسیم نہیں بلکہ متحد کرےتاریخ ہمیشہ ان لوگوں کو یاد رکھتی ہے جو قوموں کی تعمیر کرتے ہیں، اور وہ بھی تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں جو ذاتی مفادات کی خاطر قومی مواقع کو ضائع کر دیتے ہیں۔ فیصلہ آج بھی ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم ترقی کے راستے پر چلنا چاہتے ہیں یا ماضی کی غلطیوں کو دہراتے رہنا چاہتے ہیں۔

More posts