ایران جنگ نے صرف تیل کی قیمتیں نہیں بڑھائیں بلکہ عالمی معیشت کے کام کرنے کا طریقہ بھی بدل دیا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق امریکا میں اس جنگ کے اثرات عام شہریوں تک بھی پہنچے پیٹرول کی قیمت کئی ہفتوں سے 4 ڈالر فی گیلن سے زیادہ رہی، گھر کے قرض کی شرح سود تقریباً 7 فیصد تک پہنچنے لگی جبکہ ڈیزل مہنگا ہونے کے باعث کمپنیوں نے سامان کی ترسیل پر اضا فی چارجز وصول کرنا شروع کردیئے، جنگ کے دوران آبنائے ہرمز پر ایران کا اثر و رسوخ بڑھا، چین نے تیل کی عالمی منڈی میں اپنی طاقت دکھائی جبکہ امریکا، برازیل، گیانا، کینیڈا اور ناروے سمیت کئی ممالک نے تیل کی پیداوار بڑھا دی۔
ماہرین کے مطابق جنگ بندی کے بعد ان میں سے کچھ اثرات کم ہوسکتے ہیں، لیکن عالمی معیشت میں آنے والی بعض تبدیلیاں طویل عرصے تک برقرار رہ سکتی ہیں،جنگ سے پہلے دنیا کے مختلف ممالک کے بحری جہاز آبنائے ہرمز سے آزادانہ گزر کر خلیج فارس اور مشرق وسطیٰ سے سامان اور تیل لے جا تے تھے دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل کی سپلائی روزانہ اسی تنگ سمندری راستے سے گزرتی تھی۔
فروری کے آخر میں امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد صورتِ حال تبدیل ہوگئی ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول ظاہر کرتے ہوئے وہاں سے گزرنے والے بعض بحری جہازوں کو نشانہ بنایا اس کے نتیجے میں عالمی منڈی کو روزانہ تقریباً 1 کروڑ 30 لاکھ بیرل تیل کی سپلائی متاثر ہوئی۔
مئی میں ایران نے مکمل طور پر آبنائے ہرمز بند رکھنے کے بجائے وہاں سے گزرنے والے جہازوں کے لیے نئے قواعد نافذ کردیئے اس مقصد کے لیے ’پرشیئن گلف اسٹریٹ اتھارٹی‘ قائم کی گئی، جس کے تحت جہازوں کو رجسٹریشن، مخصوص راستے کی پابندی اور گزرنے کے لیے فیس ادا کرنا تھی،جون میں امریکا -ایران ایک مفاہمتی معاہدے کے بعد ایران نے 60 دن کے لیے فیس وصول نہ کرنے پر رضامندی ظاہر کی، تاہم رجسٹریشن نہ کرانے والے جہازو ں پر حملے جاری رہے۔
بعد میں امریکا نے رات کے وقت آبنائے ہرمز سے ایسے بحری جہازوں کو فوجی نگرانی اور سکیورٹی فراہم کرنا شروع کردی جن کی شناخت واضح نہیں ہوتی تھی اس کا مقصد خلیج فارس سے تیل کی برآمدات جاری رکھنا اور ایرانی ڈرون حملوں سے بچنا تھا۔
سرمایہ کاری کی حکمت عملی کے ماہر راس فیلڈ نے کہا کہ امکان ہے ایران جنگ کے بعد آبنائے ہرمز پر پہلے سے زیادہ مضبوط پوزیشن میں ہوگا اور مشرق وسطیٰ کے تیل پر انحصار کرنے والے ممالک کو اپنی حکمت عملی تبدیل کرنا پڑے گی،آبنائے ہرمز کی بندش جو پہلے صرف ایک ممکنہ خطرہ سمجھی جاتی تھی، اب ایک عملی اور مؤثر حربے کے طور پر سامنے آچکی ہے۔
ماہرین کے مطابق مستقبل میں ایسا معاہدہ بھی ہوسکتا ہے جس کے تحت ایران آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرنے کے لیے فیس وصول کرے،جے پی مورگن کی کموڈیٹیز اینالیسس کی سربراہ نتاشا کانیوا کے مطابق بین الاقوامی سمندری راستوں میں مختلف خدمات کے عوض فیس وصول کرنے کی مثالیں پہلے سے موجود ہیں، اگر ایران ترکی کی جانب سے آبنائے باسفورس اور داردانیلز میں وصول کی جانے والی فیس جیسا نظام اپناتا ہے تو تیل کی قیمت میں تقریباً ایک ڈالر فی بیرل اضافہ ہوسکتا ہے ایک بڑا تیل بردار جہاز دونوں طرف کے سفر کے لیے تقریباً 2 لاکھ 60 ہزار ڈالر ادا کرسکتا ہے۔
سی این این کے مطابق ایران جنگ کا دوسرا بڑا اثر چین کے کردار میں نظر آیا چین خود دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل نہیں، لیکن جنگ کے دوران اس نے ثابت کیا کہ عالمی تیل کی منڈی میں اس کا اثر بہت زیادہ ہے امریکی کاروباری اور مالیاتی مشاورتی ادارے آر ایس ایم یو ایس کے چیف اکانومسٹ جو برسیولاس کے مطابق چین میں تیل کی طلب کو تیزی سے کم یا زیادہ کرنے کی صلاحیت نے اسے خاص اہمیت دی۔
چین نے جنگ سے پہلے تیل کے بڑے ذخائر جمع کرلیے تھے اسی وجہ سے جنگ کے دوران اس نے خام تیل کی درآمد میں تقریباً 50 لاکھ بیرل یومیہ کمی کردی تاہم مستقبل میں ان ذخائر کو دوبارہ بھرنے کے لیے چین کی تیل کی طلب بڑھ سکتی ہے۔
دوسری جانب چین میں لوگوں کے رویے میں بھی ایسی تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں جو طویل مدت تک برقرار رہ سکتی ہیں مئی کی 5روزہ چھٹیوں کے دورا ن چین کی شاہراہوں پر الیکٹرک گاڑیوں کی چارجنگ میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 55.6 فیصد اضافہ ہوا، اسی عرصے میں چین کی شاہراہوں پر سفر کر نے والی تقریباً ہر چار میں سے ایک گاڑی الیکٹرک تھی، جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں 33 فیصد زیادہ تھی۔
سی این این نے بتایا کہ چین نے بجلی بنانے کے لیے تیل اور گیس سے چلنے والے پلانٹس کے بجائے تیزی سے کوئلے کا استعمال بھی بڑھایا، جس سے اسے تیل کی عالمی سپلائی میں بڑی کمی کے باوجود اپنی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملی۔
جے پی مورگن کے مطابق جنگ کے دوران مشرق وسطیٰ سے عالمی منڈی کو ملنے والے تیل میں تقریباً 1.9 ارب بیرل کی کمی ہوئی، لیکن اس میں سے تقریباً 80 کروڑ بیرل یعنی تقریباً نصف حصہ اس طرح پورا ہوا کہ لوگوں اور کاروباروں نے تیل کا استعمال کم کردیا۔
نتاشا کانیوا نے کہا کہ تاریخ بتاتی ہے کہ ماضی میں تیل کی قیمتوں میں بڑے جھٹکوں کے بعد پیٹرول کی طلب میں مستقل کمی دیکھی گئی، اور ممکن ہے اس بار بھی ایسا ہی ہو،اس صورتحال نے یہ بحث بھی چھیڑ دی ہے کہ شاید دنیا تیل کی طلب کی بلند ترین سطح یعنی ’پیک آئل‘ کے قریب پہنچ چکی ہے۔
سی این این کے مطابق ایران جنگ کے دوران ایک اور اہم تبدیلی یہ ہوئی کہ مشرق وسطیٰ سے باہر کئی ممالک نے تیل کی پیداوار بڑھانا شروع کردی۔
امریکا کی ایک نجی آئل اینڈ انرجی کنسلٹنگ فرم لپاؤ آئل ایسوسی ایٹس کے صدر اینڈی لپاؤ کے مطابق مشرق وسطیٰ سے باہر تیل کی تلاش اور متبادل توانائی کے منصوبوں میں تیزی آرہی ہے جبکہ پہلے سے موجود تیل کے منصوبوں میں بھی پیداوار بڑھائی جارہی ہے۔
جے پی مورگن کے اعداد و شمار کے مطابق برازیل نے اپنی تیل کی پیداوار میں روزانہ 8 لاکھ بیرل، گیانا نے 3 لاکھ بیرل، کینیڈا نے 2 لاکھ بیرل اور ناروے نے ڈیڑھ لاکھ بیرل یومیہ اضافہ کیا۔
امریکا نے بھی گزشتہ برس کے اسی عرصے کے مقابلے میں تقریباً 9 لاکھ بیرل یومیہ زیادہ تیل پیدا کرنا شروع کردیا ہے۔
امریکا میں اضافی پیداوار کا بڑا حصہ نجی کمپنیوں کے زیر انتظام کنوؤں سے آیا، جہاں سے تیل ریفائنریوں کو بھیجا گیا تاکہ یورپی مارکیٹ کے لیے جیٹ فیول اور قدرتی گیس کی ضروریات پوری کی جاسکیں۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھلنے کے بعد امریکا کی پیداوار میں معمولی کمی آسکتی ہے، لیکن جے پی مورگن کا خیال ہے کہ امریکی پیداوار موجودہ سطح کے قریب برقرار رہ سکتی ہے برازیل نے بھی ماہرین کو حیران کیا اور توقع سے کہیں زیادہ تیل پیدا کیا دوسری جانب گیانا میں ایک نیا سمندری پیداواری جہاز پہنچنے والا ہے، جس سے وہاں تیل کی پیداوار مزید تیز ہونے کی توقع ہے۔
سعودی عرب نے آبنائے ہرمز سے بچنے کے لیے بڑی تعداد میں ٹرکوں کے ذریعے تیل اور دیگر سامان بحیرہ احمر تک پہنچانے کا انتظام کیا جبکہ اس کی مشرق سے مغرب تک جانے والی پائپ لائن کو بھی مکمل صلاحیت کے ساتھ استعمال کیا گیا عراق بھی خلیج فارس سے نکلنے والے تیل کے لیے ایک نیا راستہ بنانے پر غور کررہا ہے اور بحیرہ روم تک پائپ لائن کی تعمیر کے لیے امریکی کمپنی شیورون سے بات چیت جاری ہے۔
جنگ کے بعد تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کو بھی نئے چیلنج کا سامنا ہے متحدہ عرب امارات نے اپریل میں اوپیک چھوڑنے کا اعلان کیا تھا، جبکہ عراق بھی مستقبل میں تنظیم سے الگ ہونے پر غور کرسکتا ہے۔
عراق کے وزیر تیل کے مطابق اگر اوپیک نے پیداوار کے اہداف میں بڑا اضافہ نہ کیا تو عراق کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ اسے تنظیم میں رہنا ہے یا نہیں،عراق جنگ کے بعد روزانہ 50 لاکھ بیرل تیل پیدا کرنے کی اجازت چاہتا ہے جبکہ طویل مدت میں اس کا ہدف 70 لاکھ بیرل یومیہ پیداوار تک پہنچنا ہے۔
اگر عراق اور دیگر ممالک کو زیادہ تیل پیدا کرنے کی اجازت مل جاتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی مقدار طلب سے زیادہ ہوسکتی ہے، اس کا ایک فائدہ یہ ہوگا کہ صارفین کے لیے تیل کی قیمتیں کم ہوسکتی ہیں، تاہم دوسری جانب عالمی سطح پر تیل کی اضافی پیداوار مستقل ہوگئی تو تیل کمپنیوں کے منافع میں بڑی کمی بھی آسکتی ہے۔
