Baaghi TV

بالائی علاقوں میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کاخطرہ ، الرٹ جاری

pdma

پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) نے ملک کے بالائی علاقوں، خصوصاً گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا میں آئندہ ہفتے متوقع نئی مغربی ہواؤں کے سلسلے کے باعث گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے خطرے سے متعلق الرٹ جاری کردیا۔

ہفتہ کے روز جاری کیے گئے الرٹ میں محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا کی گلیشیائی وادیوں میں جزوی سے مکمل ابر آلود موسم کے ساتھ معتدل سے شدید بارش اور گرج چمک کا امکان ہے ان علاقوں میں دن کے اوقات میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جبکہ زیادہ درجہ حرارت اور بارشوں کا امتزاج برف اور گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کا سبب بن سکتا ہے۔

برف اور گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کے باعث دریاؤں میں پانی کی سطح بلند رہ سکتی ہے، موجودہ گلیشیائی جھیلیں مزید پھیل سکتی ہیں جبکہ پگھلتے ہو ئے پانی کی بڑی مقدار کے باعث نئی گلیشیائی جھیلیں بھی وجود میں آ سکتی ہیں محکمہ موسمیات نے خبردار کیاکہ دریاؤں کے کنارے آباد نشیبی علاقے اور زیریں بستیاں اچانک سیلابی صورتحال کا شکار ہو سکتی ہیں، جبکہ حساس مقامات پر فلیش فلڈ کا بھی نمایاں خطرہ موجود ہے۔

الرٹ میں کہا گیا ہے کہ گلیشیائی جھیلوں کے تیزی سے پھیلاؤ کے باعث قدرتی برفانی یا مورین ڈیم غیر مستحکم ہو سکتے ہیں، جس سے گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے واقعات رونما ہونے کا خدشہ ہےمستقل منجمد زمین (پرما فراسٹ) کے پگھلنے اور سطحی پانی کی زیادتی کے باعث پہاڑی ڈھلوانوں سے مٹی اور ملبے کے بڑے ریلے بھی آ سکتے ہیں۔

محکمہ موسمیات نے برف پوش اور گلیشیائی وادیوں میں رہنے والے شہریوں اور سیاحوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ دریاؤں، ندی نالوں اور مقامی برساتی نالوں کے کناروں سے دور رہیں اور پانی کی سطح میں اچانک یا بتدریج ہونے والی تبدیلیوں پر مسلسل نظر رکھیں۔

ادارے نے مشورہ دیا کہ پیش گوئی کے دوران دریاؤں، ندیوں، گلیشیائی جھیلوں اور تنگ پہاڑی وادیوں کے قریب کیمپنگ، ٹریکنگ یا قیام سے گریز کیا جائے، جبکہ ایسی غیر مستحکم ڈھلوانوں سے بھی دور رہا جائے جہاں برف پگھلنے کے باعث لینڈ سلائیڈنگ یا ملبے کے ریلوں کا خطرہ ہو رہائشیوں کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری کیے جانے والے موسم کی پیش گوئیوں اور انتباہات پر مسلسل نظر رکھیں محکمہ موسمیات نے قومی و صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اداروں اور متعلقہ محکموں کو ہدایت کی ہے کہ وہ 24 گھنٹے الرٹ رہیں اور تمام ضروری احتیاطی اقدامات یقینی بنائیں۔

پاکستان میں 13 ہزار 32 سے زیادہ گلیشیئرز موجود ہیں، جو قطبی خطوں کے بعد دنیا میں گلیشیئرز کا سب سے بڑا ذخیرہ سمجھے جاتے ہیں تاہم ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے باعث درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے چترال اور گلگت بلتستان کے قریباً 10 ہزار گلیشیئرز سکڑنے کے عمل سے گزر رہے ہیں۔

گلوف سے مراد گلیشیائی جھیل سے پانی اور ملبے کا اچانک اخراج ہے، جس کے نتیجے میں پہاڑی علاقوں میں انسانی جانوں، املاک اور لوگوں کے روزگار کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے، وزارت موسمیاتی تبدیلی کے مطابق گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا میں 71 لاکھ سے زیادہ افراد اس خطرے سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

More posts