Baaghi TV

Tag: مہنگائی

  • آئیں ہم سب ملکرمہنگائی کے خلاف مارچ کریں:عثمان ڈارکی بلاول اورمریم کودعوت

    آئیں ہم سب ملکرمہنگائی کے خلاف مارچ کریں:عثمان ڈارکی بلاول اورمریم کودعوت

    لاہور:آئیں ہم سب ملکرمہنگائی کے خلاف مارچ کریں:عثمان ڈارکی بلاول اورمریم کودعوت ،اطلاعات کے مطابق ملک میں بڑھتی ہوئی شدید مہنگائی کے‌خلاف پیدا ہونے والے فطری ردعمل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما عثمان ڈار نے پی پی چیئرمین بلاول بھٹو اور مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کو مہنگائی کے خلاف مارچ میں شرکت کی دعوت دیدی۔

    پاکستان میں‌ ہوشربا مہنگائی کے خلاف بات کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما عثمان ڈار نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم اور پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان موجودہ مہنگائی، پٹرول، ڈیزل، بجلی قیمتوں میں اضافے کے خلاف مارچ کرنے لگے ہیں۔

    جماعت اسلامی کا مہنگائی کیخلاف 19 جولائی کو عوامی مارچ کا اعلان

    عثمان ڈار نے چئیرمین پی پی بلاول بھٹو زرداری اورن لیگ کی نائب صدر مریم نوازکومذکورہ مارچ میں دعوت دینے کا انداز اپناتے ہوئے اپنے ٹویٹ میں آگے طنزیہ انداز اختیار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ امید ہے کہ مریم نواز اور بلاول کانپیں ٹانگیں مارچ کا حصہ ہونگے۔

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے دور حکومت میں جب پٹرول 150 روپے لیٹرتھاتو اس وقت بلاول بھٹو زرداری نے کراچی سے اسلام آباد تک مہنگائی مارچ کیا تھا جب کہ مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے بھی مہنگائی کے خلاف مارچ کیا تھا۔اس کےساتھ ساتھ مختلف علاقوں میں بھی ان کی قیادت میں مہنگائی مارچ چلتے رہے

    مہنگائی مکاؤ مارچ، مریم اور حمزہ کریں گے قیادت، شیڈول طے ہو گیا

    جبکہ دوسری طرف شہبازشریف کی حکومت ملک میں پٹرول کی قیمت 233 روپے سے زائد اور ڈیزل کی قیمت 263 روپے سے زائد ہوچکی ہے، موجودہ حکومت نے 15 دن میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں بالترتیب 84 روپے اور 115 روپے کا اضافہ کیا ہے۔

    لانگ مارچ کو مہنگائی مارچ کا نام دیں گے توپھراصل مقصد حل ہوگا:پی ڈی ایم

    عمران خان موجودہ پیٹرول، ڈیزل، بجلی اور مہنگائی کے خلاف مارچ کرنے لگا ہے امید کرتا ہوں مریم نواز جھوٹی اور بلاول زرداری کانپیں ٹانگیں امپورٹڈ حکومت کیخلاف اس مارچ کا حصہ ہونگے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ملک میں مہنگائی کا ایک طوفان آچکا ہے۔

  • رابی پیرزادہ ہوئیں پریشان

    رابی پیرزادہ ہوئیں پریشان

    رابی پیردازہ جن کی وجہ شہرت ان کی گلوکاری ہے انہوں نے اداکاری بھی لیکن اب وہ شوبز کو خیرباد کہہ چکی ہیں تاہم سوشل میڈیا پر کافی متحرک رہتی ہیں۔ رابی پیرزادہ نے سوشل میڈیا پر کافی پریشانی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ملک میں اس وقت بہت مہنگائی ہو چکی ہے اتنی مہنگائی تو پچھلے چار سال میں نہیں ہوئی جتنی ان چار مہینوں میں ہوئی ہے، پیٹرول کی قیمتیں بجلی کی قمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں لیکن کوئی بول ہی نہیں رہا۔ کیا اب کسی کو مہنگائی نظر نہیں آرہی۔ رابی پیرزادہ نے کہا کہ اس مہنگائی کے عال۱قم میں اخراجات پورے کرنے ہیں تو پھر گھر کے ہر فرد کو کام کرنا ہو گا اس کے بغیر گزارہ ناممکن ہے۔جو عورتیں ان پڑھ ہیں یا گھر سے باہر نہیں نکلتیں ان کو چاہیے کہ وہ گھر میں سلائی کڑھائی کا کام کریں نہیں آتا تو سیکھ لیں اور جو بچوں کو گھر میں ٹیوشن پڑھا سکتی ہیں وہ ٹیوشن پڑھا لیں لیکن کام ضرور کریں اور گھر کا ہرفرد

    مہنگائی کے اس عالم میں کام کرے یہ بہت ضروری ہے۔ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی نے سب کا جینا دو بھر کر دیا ہے۔
    یاد رہے کہ صرف رابی پیرزادہ ہی نہیں ہر کوئی مہنگائی اور لوڈ شیڈنگ سے کافی پریشان ہے۔

  • سابق حکومت کی نالائقی سے عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں،مریم اورنگزیب

    سابق حکومت کی نالائقی سے عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں،مریم اورنگزیب

    سابق حکومت کی نالائقی سے عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں،مریم اورنگزیب

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا کہ سابق حکومت کی نالائقی، نااہلی، چوری، کرپشن اور لوٹ مار کی وجہ سے پاکستان کے عوام آج مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں،

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جن کمزور بنیادوں پر نالائقوں اور نااہلوں نے آئی ایم ایف معاہدے پر دستخط کئے اس کی وجہ سے ملک میں مہنگائی کا عالم ہے، پاکستان کے عوام کو مہنگائی کے بوجھ سے بچانے کے لئے موجودہ اتحادی حکومت اور وزیراعظم شہباز شریف دن رات کام کر رہے ہیں، گزشتہ چار سال کے دوران توانائی اور موٹر وے جیسے رکے ہوئے منصوبوں کو ہم دوبارہ بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،

    وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ یہ وہ منصوبے ہیں جو 2018ء میں شروع ہو چکے تھے لیکن پچھلے چار سال کے دوران نااہل اور کرپٹ ٹولے نے اس پر کوئی کام نہیں کیا، ان کی نیت منصوبوں پر کام کرنا نہیں بلکہ ملک سے لوٹ مار کرنا تھی، لوٹ مار سے عمران خان اور فرح گوگی کے اثاثوں میں اضافہ کیا گیا۔عمران خان نے فارن فنڈنگ کی، چندے کے پیسے کی منی لانڈرنگ کی اور اپنے اکائونٹس کو ڈیکلیئر نہیں کیا.

    مریم اورنگزیب نے کہا کہ جب اسٹیٹ بینک نے الیکشن کمیشن میں ان اکائونٹس کو ڈیکلیئر کیا تو انہوں نے الیکشن کمیشن پر حملے کی کوشش کی، جو خبر ان کے اسکینڈل اور کرتوتوں کو عوام کے سامنے بے نقاب کرے تو یہ اس پر ایسا بیانیہ لاتے ہیں جو تباہی پر مبنی ہوتا ہے، فرح گوگی عمران خان کی فرنٹ مین تھی جس نے پنجاب میں دونوں ہاتھوں سے لوٹ مار کی، فرح گوگی کے خلاف بات کریں تو عمران خان تڑپنا شروع ہو جاتے ہیں.

    وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پچھلے چار سال بنی گالا درحقیقت منی گالا بنا ہوا تھا، عمران خان کے فرنٹ مین پرسنز نے ان کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے ملک اور عوام کا پیسہ لوٹا۔ ان کے ترجمان کہہ رہے ہیں کہ ہمیں تحریک عدم اعتماد کا پہلے سے پتہ تھا.ایک موصوف نے یہ بھی کہا کہ ہمیں تحریک عدم اعتماد کا پتہ تھا ہم نے اس لئے معیشت کی بارودی سرنگیں بچھائیں، ایک طرف یہ کہہ رہے ہیں کہ بیرونی سازش ہوئی اور دوسری طرف یہ کہہ رہے ہیں کہ عدم اعتماد کا ہمیں پہلے سے پتہ تھا، یہ اپنے جھوٹے بیانیے کی ترتیب تو ٹھیک کرلیں.

  • مہنگائی اورسخت کاروباری شرائط کے باوجود گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد اضافہ

    مہنگائی اورسخت کاروباری شرائط کے باوجود گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد اضافہ

    کراچی: قیمتوں میں بڑے پیمانے پر اضافے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے آٹو فنانسنگ پر پابندی اور بلند شرح سود کے باوجود مالی سال22 میں کاروں کی فروخت گزشتہ مالی سال میں ایک لاکھ 39 ہزار 613 یونٹس کے مقابلے میں 51 فیصد بڑھ کر 2 لاکھ 10ہزار 633 یونٹس ہو گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق عیدالفطر کی تعطیلات سے قبل مئی 2022 میں کاروں کی فروخت بڑھ کر 19ہزار 395 یونٹس تک پہنچ گئی جو اپریل 2022 میں 18ہزار 626 یونٹس تھی۔

    صارفین کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کے نتیجے میں پک اپ اور جیپوں کی فروخت میں 43 فیصد اضافہ ہوا جو 28 ہزار 34 یونٹس کے مقابلے میں 40 ہزار 255 یونٹس تک پہنچ گئی، ان مہنگی گاڑیوں کی ماہانہ فروخت مئی 2022 میں گر کر 3 ہزار 498 یونٹس پر آ گئی جو اپریل 2022 میں 3 ہزار 917 یونٹس تھی۔گزشتہ مہینوں میں اسمبلرز کی طرف سے کی گئی بڑی ایڈوانس بکنگ کی وجہ سے کار، پک اپ اور جیپ اسمبلرز انتہائی خوش ہیں۔تاہم ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے سنی کمار کا ماننا ہے کہ معاشی سست روی، شرح سود میں اضافے اور اسٹیٹ بینک کی جانب سے مالی معاونت مزید سخت کرنے سے گاڑیوں کی فروخت پر نمایاں اثر پڑے گا۔

    پاکستان آٹو موٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے مطابق ہونڈا سوک اور سٹی کی مشترکہ فروخت مالی سال 2022 کے 11 ماہ میں 42 فیصد بڑھ کر 31ہزار 776 یونٹس ہو گئی جبکہ مالی سال 2021 کی اسی مدت میں یہ تعداد 22ہزار 450 یونٹس تھی۔

     

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”505854″ /]

    اکتوبر2021 سے مارچ 2022 تک ماڈل میں مکمل تبدیلی کی وجہ سے ٹویوٹا کرولا اور یارِس کی فروخت 42 ہزار 912 یونٹس سے 114 فیصد بڑھ کر 52 ہزار 75 یونٹس ہوگئی جبکہ سوزوکی سوئفٹ کی فروخت 2 ہزار 108 یونٹس سے 114 فیصد بڑھ کر 4 ہزار 514 یونٹس تک جا پہنچی۔

    مالی سال 2022 کے 11 ماہ میں مارکیٹ میں نئی آنے والی ہنڈائی الینٹرا اور سوناٹا کی فروخت بالترتیب 3 ہزار 120 اور 2 ہزار 581 یونٹس رہی۔

    سوزوکی کلٹس اور ویگن آر کی فروخت مالی سال 2022 کے 11 ماہ میں بالترتیب 36 فیصد اور 78 فیصد بڑھ کر 20 ہزار 701 اور 20 ہزار 997 یونٹس ہو گئی جو کہ مالی سال 2021 کے 11 ماہ میں بالترتیب 15 ہزار 240 اور 11 ہزار 805 یونٹس تھی۔

    اسی طرح رواں مالی سال کے 11 ماہ میں سوزوکی بولان 800 سی سی اور آلٹو 660 سی سی کی فروخت بالترتیب 33 فیصد اور 75 فیصد بڑھ کر 11 ہزار 145 اور 63 ہزار 711 یونٹس ہو گئی جہاں گزشتہ سال دونوں گاڑیوں کے بالترتیب 8 ہزار 9 اور 36 ہزار 504 یونٹس سے زائد فروخت ہوئے تھے۔

    ٹرکوں کی کل فروخت (ہینو، ماسٹر، اسوزو، اور جے اے سی) 3 ہزار 343 یونٹس سے 59.6 فیصد بڑھ کر 5 ہزار 337 یونٹس ہو گئی جو مقامی طور پر تیار کردہ اور درآمد شدہ سامان کی نقل و حمل میں اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔علاوہ ازیں ماسٹر کی سیلز میں 4 فیصد اضافے کے باوجود بسوں کی فروخت 599 یونٹس سے 4.5 فیصد کم ہوکر 572 یونٹ رہ گئی۔

    ٹویوٹا فارچیونر اور جدید ملٹی پرپز گاڑیوں کی مشترکہ فروخت مالی سال 2021 کے 11 ماہ میں 9 ہزار 789 یونٹس سے بڑھ کر 16 ہزار 149 ہو گئی، 14فیصد کی چھلانگ کے ساتھ ہنڈائی ٹسکن کی فروخت 3 ہزار 517 یونٹس کے مقابلے میں 3 ہزار 998 یونٹس رہی اور ہونڈا بی آر۔وی کی فروخت 3ہزار 536 یونٹس سے 7 فیصد بڑھ کر 3ہزار 773 یونٹس ہو گئی۔

  • مہنگائی،غربت اور بیروزگاری،محنت کش بھوک مٹانےتھانہ پہنچ گیا،حوالات رہنے پر اصرار

    مہنگائی،غربت اور بیروزگاری،محنت کش بھوک مٹانےتھانہ پہنچ گیا،حوالات رہنے پر اصرار

    بلوچستان کے علاقہ ڈیرہ اللہ یار کا محنت کش آسمان کو چھوتی مہنگائی ،غربت اور بیروزگاری سے تنگ آکر تھانہ پہنچ گیا.

    ڈیرہ اللہ یار کا رہائشی محنت کش آئے روز بڑھتی ہوئی مہنگائی سے بہت پریشان تھا اوپر سے غربت اور بیروزگاری نے بھی اس کا گھر دیکھ رکھا تھا. مہنگائی، غربت اور بیروزگاری سے تنگ آکر محنت کش تھانے پہنچ گیا اور تھانہ والوں سے التجا کرنے لگا کہ اسے تھانہ میں بند کر دیا جائے، جبکہ تھانے کا عملہ اسے تھانے سے باہر جانے کے لئے کہتا رہا مگر وہ تھانہ سے باہر نہ جانے پر بضد رہا.

    تھانے کے عملے نے مزدور سے دریافت کیا کہ وہ تھانہ میں کیوں بند ہونا چاہتا ہے؟ تو مزدور نے جواب دیا کہ اس کے پاس کرنے کو کوئی کام نہیں ہے اور بیروزگار ہے. آسمان کو چھوتی اشیاء خورونوش کی قیمتوں کے باعث وہ ایک وقت کی روٹی کھانے سے بھی قاصر ہے اس لئے اسے تھانہ کی حوالات میں بند کر دیا جائے .

    اس کا کہنا تھا کہ تھانہ کی حوالات میں کم از کم کھانا تو مفت دیا جاتا ہے، اس کا مزید کہنا تھا کہ جب تک میں تھانہ کی حوالات میں رہوں گا تب تک زندہ رہوں گا، اگر مجھے حوالات میں بند نہ کیا تو میں تھانہ سے باہر مہنگائی ،غربت اور بیروزگاری کے ہاتھوں مارا جاوں گا. بلوچستان کے بیروزگار مزدور کی آہ وبکار حکمرانوں کیلئے لمحہ فکریہ ہے.بلوچستان کا صوبہ ہر دور میں ہی ترقیاتی منصوبوں کے لحاظ سے ملک کے باقی صوبوں کی نسبت پیچھے رہا ہے .

    تھانہ میں سکونت اختیار کرنے کے خواہاں مزدورکی حالت زار نے بلوچستان کے حکمرانوں کے دعوں کی قلی کھول دی ہے .حکمران عوام کی فلاح اور بھلائی کیلئے منتخب ہو کر آتے ہیں مگر ایوانوں کے ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کرحکومتی خزانے پر بوجھ بنے ہوئے ہیں اور عوام کی حالت یہ ہوگئی ہے کہ وہ مہنگائی ، بیروزگاری اور غربت سے تنگ آکر تھانوں میں رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں

  • حکومت کا عوام کو بڑا ریلیف، گھی کی قیمتوں پر فی کلو 250 کی سبسڈی دے دی،مریم اورنگزیب

    حکومت کا عوام کو بڑا ریلیف، گھی کی قیمتوں پر فی کلو 250 کی سبسڈی دے دی،مریم اورنگزیب

    حکومت کا عوام کو بڑا ریلیف، گھی کی قیمتوں پر فی کلو 250 کی سبسڈی دے دی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ 2018 میں آٹے کی قیمت 35 روپے تھی،

    مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ 4 سال میں آٹے کی قیمت 90 سے 100روپے کلو کی گئی،وزیراعظم شہباز شریف نے 10 کلو تھیلے کو 400 روپے کردیا ،سابقہ دورمیں آٹا اسمگل کیا گیا،یکم جون سے خیبر پختونخوا کے یوٹیلیٹی اسٹورز پرآٹا کم قیمت پر مل رہا ہے خیبر پختونخوا کے یوٹیلیٹی اسٹورز پر آٹا 40 روپے فی کلو مل رہا ہے،خیبر پختونخوا کے لیے 100 موبائی یو ٹیلیٹی سٹورز کا آغاز کر دیا گیا ،خیبر پختونخوا کوآٹے کی فراہمی کے لیے مزید 100 پوائنٹس بنائے جارہے ہیں، آٹے کی قیمت میں اضافہ یا معیار میں فرق دیکھیں تو مطلع کر سکتے ہیں، وزیراعظم کی ہدایت پرسستا آٹا اورگھی اسکیم شروع کی گئی،گھی پر سبسڈی دی جائے گی،مارکیٹ میں گھی کی قیمت 550 روپے پر پہنچ گئی ،گھی سبسڈائز کر کے 300 روپے فی کلو کر دی گئی ہے، گھی پر 250 روپے کی سبسڈی بنتی ہے،

    مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ آج بیرونی ملک سازش پیچھے رہ گئی ،مہنگائی پر زور دیا جارہا ہے،اشیائے ورونوش پر17ارب روپے کی سبسڈی رکھی گئی ہے،تمام اقدامات 4 سال کی نااہلی کو مد نظررکھتے ہوئے اٹھائے جارہے ہیں مشکل فیصلے عوام سمجھ رہےہیں ، بجٹ کا بہت بڑا حصہ زراعت پر مشتمل ہے، آٹے سے متعلق شکایت کیلئے 05111123570 ٹول فری نمبرہے،سابق وزیراعظم کہتے تھے میں آٹااورپیازسستا کرنے نہیں آیا،بہت جلد بہتری کی طرف جائیں گے،پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں اضافہ عمران خان حکومت کے آئی ایم ایف سے معاہدے کا حصہ ہے،ن لیگ نے 2015 میں آئی ایم ایف کا معاہدہ مکمل کیا،2018میں معیشت 6 فیصد ترقی اور مہنگائی کم ترین سطح پر تھی عمران خان نے مجرمانہ فیصلہ کیاتھا، سابقہ حکومت کو عدم اعتماد کا پتہ چلا تو پیٹرول 10 روپے سستا کر کے بارودی سرنگ بچھائی،پیٹرول سستا کرنے پر کابینہ کے کوئی دستخط بھی نہیں حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے 2000 روپے دینے کا اقدام کیا، ہمارے ملک میں پیٹرول مہنگا خرید کر سستا بیچا جارہا ہے،اگر مہنگائی یا بوجھ بڑھ رہا ہے، تو اسے ریلیف سے کم کرنے کی کوشش کی گئی،روس سے سستا تیل کی خبریں بے بنیاد ہیں،

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

    پولیس پہنچی تو میاں محمود الرشید گرفتاری کے ڈر سے سٹور میں چھپ گئے

    لانگ مارچ میں فیاض الحسن چوہان کتنے بندے لے کر نکلے،ویڈیو وائرل

    دوسری جانب سابق وفاقی وزیر اسد عمر نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کیا شاندار بجٹ پیش کیا گیا عوام ناراض، اسٹاک مارکیٹ میں منفی رجحان ، روپے کی قدر میں مزید کمی امپورٹڈ وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ آئی ای ایف اب بھی خوش نہیں پھرکینڈی بنانے والی کمپنیوں کے علاوہ بجٹ سے ہے کون خوش ہے؟

  • پیٹرول کی ترسیل روک دی گئی،شہری پریشان

    پیٹرول کی ترسیل روک دی گئی،شہری پریشان

    قصور
    بلیک مارکیٹنگ مافیا نے ابھی سے پیٹرول کی مصنوعی قلت پیدا کر دی،ضلعی انتظامیہ سے سخت کاروائی کا مطالبہ

    تفصیلات کے مطابق قصور ضلع بھر کے بیشتر پیٹرول پمپوں نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں متوقع اضافہ کے پیش نظر ابھی سے ترسیل روک کر مصنوعی قلت پیدا کر دی ہے
    15 جون کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ متوقع ہے جس کے پیش نظر لالچی بے ضمیر بلیک مارکیٹنگ کے ماہر لوگ متحرک ہو چکے ہیں
    محض جان پہچان والوں کو ہی پیٹرول دیا جا رہا ہے اور دوسروں کو نہیں دیا جا رہا ہے جس کے باعث شہری سخت مشکلات کا شکار ہیں
    جب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہونا شروع ہوا ہے تب سے پیٹرول پمپ مالکان نے تیل کا ذخیرہ کرنا معمول بنا لیا ہے اور لاکھوں روپیہ منافع جمع شدہ پیٹرول سے لینا اپنا حق سمجھ لیا ہے
    شہریوں نے ڈی سی قصور سے ازخود نوٹس لے کر کاروائی کا مطالبہ کیا ہے

  • ملک میں مہنگائی 23.98 فیصد کی بلند شرح پر پہنچ گئی

    ملک میں مہنگائی 23.98 فیصد کی بلند شرح پر پہنچ گئی

    اسلام آباد: حالیہ ایک ہفتے کے دوران ملک میں میں مہنگائی کی شرح 2.67 فیصد اضافے کے ساتھ 23.98 فیصد کی بلند شرح پر پہنچ گئی ہے۔

    باغی ٹی وی : وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد مہنگائی کو مزید پر لگ گئے جس کے بعد ملک میں ایک ہفتے کے دوران مہنگائی میں ریکارڈ اضافہ ہوگیا ہے۔

    وفاقی ادارہ شماریات کی طرف سے جاری کردہ مہنگائی کی ہفتہ وار رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ ہفتے کے دوران 33 اشیاء ضروریات مہنگی ہوئیں صرف 5 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی اور 13 اشیاء کی قیمتوں میں استحکام رہا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق مہنگائی کے ہفتہ وار اعدادوشمار کے مطابق ملک میں مہنگائی کی شرح 2.67 فیصد اضافے کے ساتھ 23.98 فیصد کی بلند شرح پر پہنچ گئی ہے-

    ملک بھر میں موسم کی صورتحال

    رپورٹ میں کہا گیا کہ ایک ہفتے میں آلو کی فی کلو قیمت 3 روپے 10 پیسے اور ٹماٹر کی فی کلو قیمت میں 4 روپے سے زائد کا اضافہ ہوا اس کے علاوہ گھی فی کلو 28 روپے اور کوکنگ آئل کی فی لیٹر قیمت میں37 روپے تک اضافہ ہوا۔

    اعدادو شمار کے مطابق ایک ہفتے کے دوران دالیں، نمک، بیف، مٹن، چینی، پیاز، دودھ بھی مہنگے ہونے والے آئٹمز میں شامل ہیں جبکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 30 روپے کا اضافہ ہوا۔

    بجٹ میں نئے ٹیکس ؟ عام شہری کتنے متاثر ہوں گے؟مبشر لقمان نے اصلیت بتا دی

  • مہنگائی کی اوسط شرح 8فیصد کے ہدف کی نسبت 13.3 فیصد تک پہنچ گئی

    مہنگائی کی اوسط شرح 8فیصد کے ہدف کی نسبت 13.3 فیصد تک پہنچ گئی

    وزارت خزانہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اقتصادی سروے آج سہ پہر 4 بجے جاری کیا جائے گا –

    باغی ٹی وی :وزارت خزانہ کے ترجمان کا کہنا ہےکہ وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل اقتصادی سروے کےاہم نکات پر بریفنگ دیں گے- دوسری جانب جی ڈی پی،زراعت،خدمات اور صنعتی شعبے کے اہداف حاصل کر لیے گئے ہیں مہنگائی،کرنٹ اکاؤنٹ اور تجارتی خسارہ ، درآمدات کے اہداف حاصل نہ ہوسکے-

    2022-23 بجٹ، 10 ہزار ارب روپے اور خسارہ 500 ارب روپے

    بچت ، سرمایہ کاری سمیت گندم اور کپاس کے پیداواری اہداف بھی حاصل نہیں ہوسکے رواں مالی سال2021-22 جی ڈی پی کی شرح 6 فیصد ریکارڈ کی گئی رواں مالی سال2021-22 جی ڈی پی کا ہدف 4.8 فیصد مقرر کیا گیا تھا زرعی شعبے کی پیداوار3.5فیصد کے ہدف کی نسبت 4.4 فیصد ریکارڈ کی گئی-

    صنعتی شعبے کی پیداوار 6.6فیصد کی ہدف کی نسبت 7.2فیصد ریکارڈ کی گئی،خدمات کے شعبے کی بڑھوتی 4.7فیصد ہدف کی نسبت 6.2 فیصد ریکارڈ کی گئی،مہنگائی کی اوسط شرح 8فیصد کے ہدف کی نسبت 13.3 فیصد تک پہنچ گئی،مجموعی سرمایہ کاری16.1 فیصد ہدف کے مقابلے15.1 فیصد رہی نیشنل سیونگز کی بڑھوتی 15.4 فیصد ہدف کے مقابلے11.1 فیصد رہی-

    عالمی بینک کی طرف سے پاکستان کو 258ملین ڈالر دینے کی منظوری

    کپاس کی پیداوار 8.3 ملین بیلز اور چاول کی پیداوار 9.3 ملین میٹرک ٹن رہی،رواں مالی سال2021-22 میں گنے کی پیداوار 88.7 ملین میٹرک ٹن ریکارڈ کی گئی گندم کی پیداوار 27.5 ملین سے کم ہوکر 26.4 ملین میٹرک ٹن ہوگئی،رواں مالی سال2021-22 ملکی معیشت کا حجم 383 ارب ڈالرز تک پہنچ گیا فی کس آمدن 1676 ڈالرز سے بڑھ کر 1798 ڈالر ہوگئی-

    جولائی تا اپریل کے دوران کرنٹ اکاوٴنٹ خسارہ 13 ارب 80 کروڑ ڈالرز تک پہنچ گیا،کرنٹ اکاوٴنٹ خسارے کا ہدف2ارب 27 کروڑ 60 لاکھ ڈالرز مقرر کیا گیا تھا،جولائی تا مئی تجارتی خسارہ 43ارب 33 کروڑ ڈالرز سے تجاوز کر گیا،تجارتی خسارے کا ہدف 28 ارب 43 کروڑ 60 لاکھ ڈالرز مقرر تھا،جولائی تا مئی کے دوران درآمدات 72 ارب18کروڑڈالرز تک پہنچ گئیں-

    غذائی قلت کے نتیجے میں قحط پھیلنےکا شدید خطرہ ہے،صدر عالمی بینک

    درآمدات کاہدف 55ارب 26 کروڑ60لاکھ ڈالرز مقرر کیا گیا تھا،جولائی تا مئی میں برآمدات 28ارب84 کروڑ ڈالرز رہیں،برآمدات کا ہدف26 ارب83 کروڑ ڈالرز مقرر کیا گیا تھا،گندم کی پیداوار 27.5 ملین سے کم ہوکر 26.4 ملین میٹرک ٹن ہوگئی-

  • مہنگائی مارگئی:33 فیصد برطانوی شہری اگلے پانچ سالوں میں اپنے آپکوبے گھرہوتےدیکھ رہے ہیں

    مہنگائی مارگئی:33 فیصد برطانوی شہری اگلے پانچ سالوں میں اپنے آپکوبے گھرہوتےدیکھ رہے ہیں

    لندن :مہنگائی مارگئی:33 فیصد برطانوی شہری اگلے پانچ سالوں میں اپنے آپکوبے گھردیکھ رہے ہیں،اطلاعات کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل کی طرف سے کیے گئے ایک سروے میں بتایا گیا ہے کہ تقریباً تین میں سے ایک یعنی 33 فیصد بالغ برطانوی رہائشی اخراجات میں اضافے کے نتیجے میں اگلے پانچ سالوں میں بے گھر ہونے کی فکر میں ہے۔

    اسی چیز کو معروف برطانوی اخبار دی انڈپنڈینٹ نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ محققین نے کہا کہ اکتیس فیصد سے زائد لوگ فکر مند ہیں کہ وہ مستقبل قریب میں صوفے پر سرفنگ یا عارضی رہائش اختیار کر سکتے ہیں۔

     

     

    ملکہ برطانیہ کی تخت نشینی کی 70ویں سالگرہ کی شاندار تقریبات کا اختتام

    یاد رہے کہ یہ سروے 2,264 بالغوں پرایک حقوق کے خیراتی ادارے کی طرف سے بے گھر ہونے کی ایک نئی تحقیق کے ساتھ رپورٹ کیا گیا تھا۔دوسری طرف یہ ادارہ مستبقل کے خطرات کےپیش نظرحکومت سے مطالبہ کر رہا ہے کہ عارضی رہائش تک رسائی کو آسان بنایا جائے اور امیگریشن کی پابندیوں سے چھٹکارا حاصل کیا جائے۔

    اس ادارے کے چیف ایگزیکٹیو سچا دیشمکھ کہتے ہیں کہ "رہائش ایک انسانی حق ہے، عیش و آرام کی نہیں اور اسے قانون میں تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ انگلینڈ میں موجودہ ہاؤسنگ سسٹم مقصد کے لیے موزوں نہیں ہے۔ انصاف اور ہمدردی کو بحال کرنے کے لیے اسے تھوک میں اصلاحات کی ضرورت ہے،‘‘

    برطانیہ نے یوکرین کو راکٹ لانچرز فراہم کرنے کی رضامندی ظاہر کردی

    اس خیراتی ادارے نے سروے کے دوران یہ پایا کہ پانچ میں سے مزید دو بالغوں نے کہا کہ وہ فکر مند ہیں کہ جس کو وہ جانتے ہیں وہ بغیر گھر کے ختم ہو جائے گا۔رپورٹ میں دلیل دی گئی کہ ہزاروں افراد کو برطانیہ میں پناہ کے حقوق تک رسائی سے محروم رکھا جا رہا ہے۔اس نے یہ بھی پایا کہ وسیع پیمانے پر اور طویل عرصے تک بے گھر ہونے کی ایک اہم وجہ سستی رہائش کی کمی تھی۔اس میں کہا گیا ہے کہ اکتوبر 2020 سے ستمبر 2021 کے درمیان انگلینڈ میں 283,440 گھرانوں نے بے گھر ہونے کی امداد کے لیے درخواست دی تھی۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقامی حکام کا کوئی فرض نہیں ہے کہ وہ بہت سے لوگوں کو بے گھر پناہ گاہ فراہم کریں جو امیگریشن کنٹرول کے تابع ہیں۔ جن لوگوں کے پاس "عوامی فنڈز کا کوئی سہارا نہیں ہے” اور غیر دستاویزی تارکین وطن ان گروہوں میں سے دو ہیں۔

    اس ادارے کے چیف ایگزیکٹیو سچا دیشمکھ کہتے ہیں کہ "بہت سے لوگ جن کو امیگریشن پابندیوں کا سامنا ہے انہیں عوامی فنڈز اور کام کرنے کی اجازت دونوں سے خارج کر دیا جاتا ہے،” انہوں نے مزید کہا، "اپنی کفالت کرنے سے قاصر ہو کر اور رہائش سے متعلق مدد سے انکار کر دیا گیا، وہ لامحالہ نیند کی نیند سوتے ہیں۔ ان کے خلاف نظام دھاندلی کا شکار ہے۔کونسلوں کا یہ فرض بھی نہیں ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو فراہم کریں جنہیں رہائش کے لیے "ترجیحی ضرورت” کے طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا ہے، یا ان لوگوں کے لیے جنہیں "جان بوجھ کر بے گھر” سمجھا جاتا ہے۔

    روس کی برطانیہ پر 4 منٹ سے بھی کم وقت میں جوہری حملے کی دھمکی

    خیراتی ادارے نے خدشات کا اظہار کیا کہ لوگ دراڑوں سے گر رہے ہیں۔ چونکہ کونسلیں ایسے بے گھر لوگوں کی مدد کرتی ہیں جنہیں "ترجیحی ضرورت” سمجھا جاتا ہے، جیسے کہ حاملہ خواتین یا وہ بچے جن پر انحصار کیا جاتا ہے، ان میں سے بہت سے لوگ جنہیں "سنگل بے گھر” کے طور پر درجہ بندی کیا گیا ہے، بغیر کسی مدد کے چھوڑ دیا جا سکتا ہے۔

    ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا کہ اس نے کم از کم چھ خواتین کا انٹرویو کیا ہے جنہوں نے اپنے بچوں کو سماجی خدمات کے ذریعے سنبھالا تھا اور اس لیے انہیں "سنگل بے گھر” سمجھا جاتا تھا اور یہ ترجیح نہیں تھی۔

    دی انڈیپنڈنٹ کے مطابق یوجین نے، جو اس کا اصل نام نہیں ہےکہتے ہیں‌کہ 2021 کے وسط میں اس کے اور اس کے بچوں کو عارضی رہائش سے بے دخل کیے جانے کے بعد ان کے لیے کوئی انتظامات نہ کیے جانے کے بعد اسے بے گھر کر دیا گیا۔”میں سڑک پر اپنے چھ سال کے بچے اور اپنے تمام سامان کے ساتھ کھڑی تھی،”

    ایک خیراتی ادارے سے مدد حاصل کرنے کے بعد، وہ مقامی اتھارٹی سے تعاون حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی جنہوں نے اسے ایک ہوٹل اور پھر عارضی رہائش میں رکھا۔محققین نے رپورٹ کے لیے بے گھر ہونے کے تجربات والے 82 افراد سے بات کی۔

    ایڈورڈ، ایک 55 سالہ فوجی تجربہ کار، جس کا نام اس کی شناخت کے تحفظ کے لیے تبدیل کیا گیا ہے، جب اس کا انٹرویو لیا گیا تو وہ ایک اونچی گلی کے دروازوں میں کھردرے سو رہے تھے۔ اس نے ایمنسٹی کو بتایا کہ اسے دائمی رکاوٹ پلمونری بیماری اور فائبرومیالجیا کی تشخیص ہوئی ہے۔

    ’’میں خیمے میں نہیں سونا چاہتا، میرا سلیپنگ بیگ اور کمبل کافی ہے،‘‘ اس نے کہا۔

    اس نے مزید کہا کہ اس نے بے گھر ہوسٹل "طاعون کی طرح” سے گریز کیا کیونکہ اس نے سنا تھا کہ یہ "بہت زیادہ منشیات استعمال کرنے والوں کے ساتھ” چلا گیا تھا۔فلپ، جس کا نام بھی تبدیل کیا گیا تھا، نے بتایا کہ ہاسٹلز میں منشیات اور شراب کا استعمال عام ہے۔انہوں نے ایمنسٹی کو بتایا، "یہ کسی کو ناکام ہونے کے لیے ترتیب دے رہا ہے،” انہوں نے مزید کہا، "یہ پھنسے ہوئے محسوس ہو رہا ہے، یہ سب سے بری چیز ہے۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ آپ کے پاس منشیات کی طرف واپس نہ جانے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔”

    2021 میں، کچے سوتے یا بے گھر رہنے والے لوگوں کی موت کی اوسط عمر مردوں کے لیے 45.9 سال اور خواتین کے لیے 41.6 سال تھی۔

    سروے میں آدھے سے زیادہ بالغوں، 54 فیصد نے کہا کہ انہوں نے فرض کیا تھا کہ انفرادی حالات کی وجہ سے کوئی شخص بے گھر ہے۔ صرف 36 فیصد نے کہا کہ وہ حکومت کو مناسب رہائش فراہم کرنے میں ناکامی کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔

    لیولنگ اپ، ہاؤسنگ اور کمیونٹیز کے محکمے کے ترجمان نے اس رپورٹ کا جواب دیتے ہوئے کہا، "اگلے تین سالوں میں، ہم کونسلوں کو بے گھر ہونے اور سخت نیند سے نمٹنے کے لیے £2 بلین دے رہے ہیں جو کسی کی بھی مدد کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں، ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں۔ محدود اہلیت، جب تک کونسل ایسا کرنے میں قانون کے اندر کام کر رہی ہے۔”

    ترجمان نے مزید کہا کہ "کمزور تارکین وطن کو یقینی بنانے کے لیے حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں جو کہ بے سہارا ہیں اور ان کو دیگر ضروریات ہیں، جیسے بچوں کی مدد کرنا، مدد حاصل کر سکتے ہیں اور عوامی فنڈز کی شرائط کو ختم کرنے کے لیے بھی درخواست دے سکتے ہیں۔”