Baaghi TV

Tag: ناسا

  • نوکیا کے موبائل سگنلز اب چاند پر بھی آئیں گے

    نوکیا کے موبائل سگنلز اب چاند پر بھی آئیں گے

    معروف کمپنی نوکیا کے موبائل سگنلز اب چاند پر بھی پہنچیں گے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق خلائی تحقیقات کا ادارہ ناسا آج بروز جمعرات ایتھینا نامی خلائی جہاز لانچ کرنے جارہا ہے یہ چاند پر پہلا سیل فون نیٹ ورک بھیجے گا یہ اہم مشن انٹوئٹو مشینز (Intuitive Machines) اور نوکیا کے درمیان ایک ٹیم کی کوشش ہے، اور یہ کے آئی ایم- ٹو مشن کا حصہ ہے نوکیا کا لونر سرفیس کمیونیکیشن سسٹم چاند کی سطح پر مواصلاتی نیٹ ورک بنانے کے لیے زمین کی طرح سیل فون ٹیکنالوجی کا استعمال کرے گا،یہ نیٹ ورک واضح ویڈیو کالز، کمانڈ اینڈ کنٹرول کمیونیکیشن، چاند پر لینڈر اور وہیکلز کے درمیان اہم ڈیٹا شیئر کرنے کی اجازت دے گا۔

    لڑکی کی قبر کھودنے والا کالے جادو کا ماہرشخص گرفتار

    مذکورہ نیٹ ورک خلا کے سخت حالات بشمول انتہائی گرم اور سرد درجہ حرارت، اور تابکاری کی اعلیٰ سطح سے بچنے کے لیے بنایا گیا ہے،مذکورہ مشن میں دو خصوصی خلائی گاڑیاں شامل کی گئی ہیں جو چاند کی سطح پر سفر کر سکتی ہیں جن میں ایک ہاپنگ رو بوٹ اور ایک روور شامل ہے یہ خلائی گاڑیاں گاڑیاں چاند پر نیٹ ورک سے جڑنے کے لیے نوکیا کے خصوصی آلات استعمال کریں گی۔

    امریکا:ائیر پورٹ پر دو طیارے حادثے سے بال بال بچ گئے

    چاند پر موبائل نیٹ ورک بنانا خلائی مواصلات میں ایک بڑا قدم ہےاس سے مستقبل کے چاند کے مشن کو ممکن بنانے میں مدد ملے گی، جس میں ناسا کا انسانوں کی 2028 تک چاند تک رسائی کا منصوبہ بھی شامل ہے۔

  • ناسا کے خلائی جہاز کی سورج کے انتہائی قریب پرواز

    ناسا کے خلائی جہاز کی سورج کے انتہائی قریب پرواز

    امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کے خلائی جہاز نے سورج کے انتہائی قریب پرواز کر کے تاریخ رقم کر دی۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سائنسدانوں کو پارکر سولر پروب سے گزشتہ رات سگنل موصول ہوا،س سے پہلے خلائی جہاز سورج سے خارج ہونے والے انتہائی شدید درجہ حرارت اور بے تحاشہ تابکاری کو برداشت کرتے ہوئے سورج کی بیرونی فضا میں38 لاکھ میل کے فاصلے پر پرواز کر رہا تھا، اس دوران اس کا زمین سے رابطہ منقطع ہوگیا تھا۔

    اس حوالے سے امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کا کہنا ہے کہ خلائی جہاز محفوظ اور معمول کے مطابق کام کر رہا ہے ناسا کے مشن سے یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ سورج درحقیقت کام کیسے کرتا ہے۔

    پنجاب وائلڈلائف کو لاہور چڑیا گھر کی نیلامی میں بڑی کامیابی

    واضح رہے کہ امریکی خلائی ادارے ناسا کا تیار کردہ پارکر سولر پروب انسانوں کی تیار کردہ تیز ترین سواری ہے اس نے انسانوں کی تیار کردہ تیز ترین چیز کا ریکارڈ 4 لاکھ 30 ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرکے قائم کیا ہے اس سے پہلے بھی یہ ریکارڈ پارکر سولر پروب کے پاس ہی تھا جو اس نے کچھ عرصے قبل 3 لاکھ 97 ہزار 736 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرکے قائم کیا تھاسورج کی حرارت سے تحفظ فراہم کرنے والی شیلڈ سے لیس یہ مشن سورج کی سطح کے 38 لاکھ میل قریب گیا۔

    امبانی خاندان گائے کی کس خاص نسل کا دودھ پیتا ہے؟

    اس مشن کو سورج کی باہری کرہ ہوائی یا کورونا کے سفر کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جو طاقتور شمسی طوفانوں کے ذریعے زمین پر اثرات مرتب کرتا ہے،ہمارے نظام شمسی کے ستارے کو سمجھنے کے لیے یہ ائیر کرافٹ سورج کے قریب ترین گیا۔

    24 دسمبر کو یہ مشن سورج کے قریب گیا مگر اس کی جانب سے 27 دسمبر کو زمین پر ایک beacon tone بھیج کر محفوظ ہونے کی تصدیق کی جائے گی سورج کے قریب ترین جانے کے لیے لگ بھگ 10 فٹ لمبے ائیر کرافٹ نے سورج کے مدار میں 22 چکر لگائے، ہر چکر کے ساتھ یہ سورج کے کورونا کے قریب تر ہوگیا اور اس دوران پارکر سولر پروب کی رفتار میں بھی مسلسل اضافہ ہوتا گیا۔

    چاہتے ہیں اگلے چار سال میں توانائی کا شعبہ بحران سے نکل آئے،اویس لغاری

    خیال رہے کہ حجم کے لحاظ سے سورج ہمارے سیارے سے 3 لاکھ 33 ہزار گنا زیادہ بڑا ہے، تو اس کے گرد چکر لگانے کے لیے بہت زیادہ رفتار کی ضرورت ہوتی ہے تو سورج کے قریب جاتے ہوئے اس مشن نے 4 لاکھ 30 ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرکے نیا ریکارڈ بنایا۔

    4 لاکھ 30 ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن زمین کے گرد 17 ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چکر لگا رہا ہےاسی طرح اسپیس ایکس کے فالکن 9 راکٹ نے 2021 میں لگ بھگ 21 ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کیا تھاسورج کے قریب ترین جانے کے سفر کے دوران اس مشن نے سورج کے کورونا کے بارے میں اہم ڈیٹا بھی اکٹھا کیا۔

    نیو ایئر نائٹ: پنجاب پولیس کا سکیورٹی پلان مکمل

  • خلاء  میں دو آنکھوں جیسی کہکشاؤں کی تصویر جاری

    خلاء میں دو آنکھوں جیسی کہکشاؤں کی تصویر جاری

    امریکی خلائی ادارے ناسا نے دور دراز خلاء میں دو گھورتی آنکھوں جیسی ڈراؤنی کہکشاؤں کی تصویر جاری کردی۔

    باغی ٹی وی : ناساکے مطابق تصویر میں دیکھی جانے والی یہ اسپائرل کہکشائیں زمین سے 11 کروڑ 40 لاکھ نوری سال فاصلے پر موجود ہیں جن کے نام آئی سی 2163 اور این جی سی 2207 ہیں جاری کی گئی تصویر میں سرخ اور گلابی چمکیلے رنگوں کے پس منظر میں تاریک کائنات اور دور دراز موجود کئی کہکشائیں موجود ہیں،ناسا کے مطابق دائیں جانب موجود آئی سی 2163 کروڑوں برس قبل آہستہ آہستہ این جی سی 2207 کے پیچھے سرک گئی ہے۔

    ناسا کی جیٹ پروپلژن لیبارٹری کے مطابق کہکشاؤں کے رنگوں کی وضاحت جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کی مِڈ-انفرا ریڈ لائٹ اور قابلِ دید اور الٹرا وائلٹ روشنی ناسا کی ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ کی مدد سے ممکن ہوئییمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ میں نصب مِڈ انفرا ریڈ آلا (جس کو MIRI بھی کہا جاتا ہے) ایسا آلہ ہے جو کہکشاؤں کی نئی خصوصیات سامنے لانے میں مدد دیتا ہے۔

  • ناسا نے مشتری اور اس کےچاند یوروپا کی جانچ کیلئے خلائی مشن  روانہ کر دیا

    ناسا نے مشتری اور اس کےچاند یوروپا کی جانچ کیلئے خلائی مشن روانہ کر دیا

    فلوریڈا: امریکی خلائی ادارے ناسا کا خلائی جہاز مشتری اور اس کےچاند Europa کے سفرپر روانہ ہوگیا،جو تقریباً 6 سال بعد 2030 میں مشتری پرپہنچےگا-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق خلائی مشن تقریباً 6 سال بعد 2030 میں مشتری پرپہنچےگا اور یوروپا کی سطح کے16 میل کے علاقےکے اندر تحقیق کرےگا،خلائی جہاز مشتری چاندکی برفیلی پرت کی نچلی سطح کا جائزہ لےگا اور تعین کرے گا کہ کیا واقعی وہاں ایسےحالات ہیں جوزندگی کے لیے موافق ہوں اس خلائی مشن کو زمین سے باہر زندگی کی تلاش کی ایک بہترین مہم قرار دیا جارہا ہے جو وہاں زندگی کا پتا لگانے کے بجائے زندگی کو سپورٹ کرنے والے حالات کا تعین کرے گا۔

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی، پولیس واقعہ سے انکاری،طلبا کا آج پھر احتجاج

    امریکی خلائی ایجنسی کا یوروپا کلپر خلائی جہاز کیپ کیناورل کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے اسپیس ایکس فالکن ہیوی راکٹ پر فلوریڈا سے لانچ کیا گیاروبوٹک شمسی توانائی سے چلنے والا یہ پروب 2030 میں تقریباً 1.8 بلین میل (2.9 بلین کلومیٹر) کا سفر کرنے کے بعد مشتری کے گرد مدار میں داخل ہوجائے گالانچ کی منصوبہ بندی گزشتہ ہفتے کے لیے کی گئی تھی لیکن سمندری طوفان ملٹن کی وجہ سے اسے روک دیا گیا تھا۔یہ سب سے بڑا خلائی جہاز ہے جو ناسا نے سیاروں کے مشن کے لیے بنایا ہے یہ تقریباً 100 فٹ (30.5 میٹر) لمبا اور تقریباً 58 فٹ (17.6 میٹر) چوڑا ہے جو اینٹینا اور شمسی پلیٹوں کے ساتھ مکمل طور پر نصب کیا گیا ہے۔ اس کا وزن تقریباً 13,000 پاؤنڈ (6,000 کلوگرام) ہے۔

    ایس سی او اجلاس، بھارتی وزیر خارجہ پاکستان پہنچ گئے

  • ناسا کا عملہ  کس طرح ووٹ ڈالے گا؟

    ناسا کا عملہ کس طرح ووٹ ڈالے گا؟

    واشنگٹن: امریکا میں نومبر کو ہونے والے عام انتخابات میں 46 کلومیٹر کی اونچائی پر خلا میں موجود ناسا کا عملہ اسپیس کمیونیکیشن اینڈ نیویگیشن (SCaN) پروگرام کے ذریعے ووٹ ڈالے گا-

    باغی ٹی وی: بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) پر ناسا کے خلابازوں کو امریکا میں حالیہ عام انتخابات میں absentee ballot یا ابتدائی ووٹنگ کے ذریعے کاؤنٹی کلرک کے دفتر کے تعاون سے ووٹ ڈال سکے گاخلا سے ووٹنگ ناسا کے اسپیس کمیونیکیشن اینڈ نیویگیشن (SCaN) پروگرام کے ذریعے ممکن بنائی گئی ہے۔

    ناسا کے نیئر اسپیس نیٹ ورک کے ذریعے خلائی سفر میں ڈالے گئے ووٹ کا عمل، جس کا انتظام میری لینڈ میں گوڈارڈ اسپیس فلائٹ سینٹر میں ناسا کے گرین بیلٹ کے ذریعے کیا جاتا ہے، خلائی اسٹیشن اور ہیوسٹن میں ناسا کے جانسن اسپیس سینٹر میں مشن کنٹرول سینٹر کے درمیان منتقل ہونے والے ڈیٹا جیسا ہے۔

    اسرائیل بہت احتیاط سے ایرانی حملےکے جواب کا سوچ رہا ہے،سی آئی اے سربراہ

    اس کے علاوہ یہ نیٹ ورک زمین کے 1.2 ملین میل کے فاصلے پر موجود خلائی مشنوں کو مواصلات اور نیویگیشن خدمات کو بشمول خلائی اسٹیسشن کے ایک ساتھ جوڑتا ہے خلاباز امریکا میں اپنے گھر سے دور رہنے والے کسی دوسرے امریکی کی طرح ہی ایبسنٹی بیلٹ کی درخواست کرنے کے لیے فیڈرل پوسٹ کارڈ کی درخواست بھرتے ہیں جس کے بعد وہ ووٹ کے اہل ہوجاتے ہیں۔

    شنگھائی تنظیم پر منظم طریقے سے کھیل کھیلا جا رہا ہے،جاوید لطیف

  • مریخ پر مکڑیوں جیسی عجیب و غریب شکلیں دریافت

    مریخ پر مکڑیوں جیسی عجیب و غریب شکلیں دریافت

    امریکی خلائی ایجنسی ناسا کے سائنس دانوں نے مریخ پر مکڑیوں جیسی عجیب و غریب شکلیں دریافت کی ہیں-

    باغی ٹی وی : ناسا کے مطابق یہ کوئی حقیقی مکڑیاں نہیں بلکہ کچھ ارضیاتی خصوصیات ہیں مریخ کے شمالی نصف کرہ میں پائی گئی ہیں، ناسا کے روورز اور دیگر سیٹلائٹ ٹیکنالوجی نے ان زمینی اشکال کا پتا لگایامکڑی نما یہ شکلیں سیارے کی سطح پر کھدی ہوئی نظر آتی ہیں اور ایک کلومیٹر سے زیادہ رقبے میں پھیلی ہوئی ہیں،ان اشکال کا قریب سے معائنہ کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ دراصل مکڑیاں نہیں بلکہ وقت کے ساتھ بننے والی دراڑیں اور شکلیں ہیں۔

    سائنسدانوں کو معلوم نہیں ہے کہ ان کی وجہ کیا ہے، لیکن حال ہی میں کچھ نظریات سامنے آئے ہیں،فی الحال سب سے مشہور نظریہ یہ ہے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ آئس کے ماحول کے ساتھ تعامل پر پیدا ہونے والے ردعمل کے باعث یہ ابھری ہوئی خصوصیات پیدا ہوئیں،سائنس دانوں نے زمین پر سیارہ مریخ کو دوبارہ بنا کر اس نظریے کو جانچا انہوں نے پیچیدہ مشینری کے ساتھ مریخ کے درجہ حرارت اور ماحول کا دباؤ بنانے کے لیے مل کر کام کیا۔

  • اسٹیڈیم کے سائز جتنا بڑا سیارچہ زمین کے قریب سے گزرے گا

    اسٹیڈیم کے سائز جتنا بڑا سیارچہ زمین کے قریب سے گزرے گا

    امریکی خلائی ادارے ( ناسا) کا کہنا ہے کہ ایک اسٹیڈیم کے سائز جتنا بڑا سیارچہ آج (منگل) کو زمین کے قریب سے گزرے گا۔

    باغی ٹی وی : امریکی خلائی ایجنسی کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری کے مطابق 2024 ON سیارچہ 290 میٹر (950 فٹ) چوڑا ہے اور زمین سے 10 لاکھ کلومیٹر قریب سے گزرے گا،خلا کا یہ پتھر آخری بار 2013 میں زمین کے قریب سے گزرا تھا اور 2035 میں دوبارہ اس کے قریب سے گزرے گا۔

    یہ سیارچہ پہلی بار ناسا کے نیئر ارتھ آبجیکٹ (این ای او) مشاہدات پروگرام کے ذریعے دیکھا گیا تھا، جو دنیا بھر میں موجود آبزر ویٹریز کا استعمال کرتے ہوئے غیر دریافت شدہ این ای اوز کا پتہ لگاتا ہے،اس کو ورچوئل ٹیلی سکوپ پروجیکٹ کے ذریعے ٹریک کیا جا رہا ہے، جس نے نو ستمبر کو ’ممکنہ طور پر خطرناک‘ سیارچے کی تصویر لی، جو تقریباً 40 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کر رہا تھا۔

  • ناسا کی متعدد یونیورسٹی اور اداروں کے اشتراک سے مصنوعی ستارہ خلا میں لانچ کرنے کی تیاری

    ناسا کی متعدد یونیورسٹی اور اداروں کے اشتراک سے مصنوعی ستارہ خلا میں لانچ کرنے کی تیاری

    واشنگٹن: امریکی خلائی ادارہ ناسا متعدد یونیورسٹی اور اداروں کے اشتراک سے ایک مصنوعی ستارہ خلا میں لانچ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

    باغی ٹی وی :ناسا کے مطابق جوتے کے ڈبے کے برابر لینڈولٹ نامی یہ اسپیس مشن 2029 میں زمین سے 35 ہزار 785 کلومیٹر فاصلے پر بھیجا جائے گا جو زمین کے گرد گھومے گا،8 لیزر کا حامل یہ مصنوعی ستارہ محدود مقدار میں شعاعیں خارج کرے گا جس کی چمک کا موازنہ سائنس دان اصلی ستاروں کی چمک سے کریں گے اور خلائی اجرام کی چمک کے متعلق مزید بہتر کیٹلاگ تشکیل دیں گے۔

    یہ کیٹلاگ زمین پر موجود ٹیلی اسکوپ کی کارکردگی کو ستاروں کی روشنی کی پیمائش، ہماری کہکشاں اور اس سے باہر موجود اجرام، ستاروں کی ارتقاء، ڈارک انرجی، کائنات کے پھیلاؤ اور زندگی کے اثرات رکھنے والے ایگزو پلینٹ کا فہم بہتر بنانے میں مدد دے سکے گا،1 کروڑ 95 لاکھ ڈالر مالیت کے اس مصنوعی ستارے کا سائز ایک جوتے کے ڈبے کے برابر ہے اور اس کو ٹیلی اسکوپ سے آسانی کے ساتھ دیکھا جا سکے گا، مشن کے متعلق یہ توقع کی جا رہی ہے کہ یہ ممکنہ طور پر علم فلکیات پر واضح اثرات ڈالے گا،مشن کا گراؤنڈ سینیٹر امریکی ریاست ورجینیا میں قائم جورج میسن یونیورسٹی میں بنایا جائے گا۔

    راجن پور: ڈاکوؤں کی فائرنگ سے ایک پولیس اہلکار شہید اور ایک زخمی

    سی پیک کے حوالے سے بھارت عالمی برادری کو گمراہ نہ کرے،دفتر خارجہ

    تنگوانی:پولیس نےکچےکی طرف جانے والے 4 افراد کو بچالیا گیا

  • اب تک کا سب سے کم وزن سیارہ دریافت

    اب تک کا سب سے کم وزن سیارہ دریافت

    واشنگٹن: سائنسدانوں نے اب تک کا سب سے کم وزن سیارہ دریافت کیا ہے-

    باغی ٹی وی : کچھ سیارے اتنے گرم ہوتے ہیں کہ ان کی فضا میں پگھلے پتھروں کی بارشیں ہوتی رہتی ہیں جبکہ کچھ اتنے ٹھنڈے ہوتے ہیں کہ انہیں برف کا دیو کہا جاتا ہے اب سائنسدانوں نے WASP-193b نامی نیا سیارہ دریافت کیا ہے یہ دنیا سے بھی کئی گنا بڑا سیارہ ہے لیکن اس کی کثافت اتنی کم ہے کہ سائنسدانوں نے اسے گُڑیا کے بال (cotton candy) سے تشبیہ دی ہے۔

    نیچر فلکیات کے جریدے میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق سیارہ ہماری زمین سے 1,200 نوری سال کے فاصلے پر ہےیہ مشتری سے تقریباً 1.5 گنا بڑا ہے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ حساب کتاب کے بعد اس کی کثافت کی پیمائش 0.059 گرام فی کیوبک سینٹی میٹر کی گئی ہے جو کہ فومز، کم کثافت والے پلاسٹک اور ایروجیلز کی طرح ہے۔

    جسٹس بابر ستارکیخلاف مہم ، وزارت دفاع کی رپورٹ مسترد، دوبارہ جمع کرانے کا حکم

    رپورٹ کے مصنف جولین ڈی ویٹ نے کہا کہ اس سیارے کو کاٹن کینڈی کہنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ بنیادی طور پر بہت ہی ہلکا ہے سیارے کا ماحول بنیادی طور پر ہائیڈروجن اور ہیلیم جیسے ہلکے عناصر سے بنا ہوا ہے جو اسے تیرتے ہوئے پھولے ہوئے ابر آلود کرہ کی شکل دیتا ہے۔

    ناسا کے مطابق اس سیارے کا سائز ان ماڈلز پر لاگو نہیں کیا جا سکتا جو تابکاری گیسوں سے بھرے ہوتے ہیں اور دیو ہیکل سیاروں کی شکل اختیار کرلیتے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سیارے میں کوئی ٹھوس سطح موجود نہیں ہے۔

    اپنی پسند کی شادی کے لیے 8 سال تک مشکلات سے گزرنا پڑا ،محمد رضوان

  • کائنات کی قدیم ترین اور سب سے دور واقع کہکشاں دریافت

    کائنات کی قدیم ترین اور سب سے دور واقع کہکشاں دریافت

    واشنگٹن: امریکی خلائی ادارے ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے کائنات کی قدیم ترین اور سب سے دور واقع کہکشاں کو دریافت کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ماہرین کے مطابق JADES-GS-z14-0 نامی کہکشاں کا قیام بگ بینگ کے 29 کروڑ سال بعد عمل میں آیا تھا، کائنات کی ابتدا میں تشکیل پانے والی یہ کہکشاں بہت بڑی ہے اور 1600 نوری برسوں کے فاصلے تک پھیلی ہوئی ہے جبکہ یہ بہت زیادہ روشن بھی ہے۔

    اس کہکشاں سے خارج ہونے والی روشنی کو جیمز ویب کے مڈ انفراریڈ انسٹرومنٹ نے دیکھا تھا جس سے ionized گیس کے اخراج کا عندیہ ملتا ہے،سائنسدانوں کے خیال میں یہ گیس ہائیڈروجن اور آکسیجن کا امتزاج ہو سکتی ہے اور یہ دریافت بھی حیران کن ہے، کیونکہ یہ مانا جاتا ہے کہ کائنات کی ابتدا میں آکسیجن موجود نہیں تھی۔

    ملالہ یوسفزئی کی برطانوی میوزیکل ویب سیریز کی پہلی جھلک وائرل

    اس حوالے سے ہونے والی تحقیق میں شامل سائنسدانوں نے بتایا کہ تمام تر نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کہکشاں دیگر کہکشاؤں جیسی نہیں ، ایسا امکان ہے کہ مستقبل میں اس ٹیلی اسکوپ کی مدد سے ماہرین ایسی مزید روشن کہکشاؤں کو دریافت کریں جو اس سے بھی زیادہ قدیم ہوں۔

    اس سے قبل جیمز ویب اسپیس نے کائنات کا قدیم ترین بلیک ہول بھی دریافت کیا تھا،نومبر 2023 میں ناسا کی جانب سے جاری ایک بیان میں اس بلیک ہول کے بارے میں بتایا گیا تھا جو بگ بینگ کے 47 کروڑ سال بعد وجود میں آیا تھا کائنات کی ابتدا میں تشکیل پانے والے بلیک ہول کا مشاہدہ پہلے کبھی نہیں کیا گیا تھا، جس کی عمر 13 ارب 20 کروڑ سال ہو سکتی ہے۔

    کار حملے سمیت حماس کے ساتھ جھڑپ میں 3 صہیونی فوجی ہلاک

    اس بلیک ہول کو UHZ1 نامی کہکشاں میں دریافت کیا گیایہ بلیک ہول ہمارے سورج سے 10 سے 100 کروڑ گنا زیادہ بڑا ہو سکتا ہے، سائنسدانوں نے کہا کہ یہ کائنات کا سب سے بڑا بلیک ہول تو نہیں مگر ابتدائی عہد میں بننے والے بلیک ہول کا اتنا بڑا حجم غیر معمولی ہے۔