Baaghi TV

Tag: ناسا

  • سورج پر ہونے والے طاقتور دھماکوں کی تصاویر جاری

    سورج پر ہونے والے طاقتور دھماکوں کی تصاویر جاری

    سورج پر حال ہی میں ایک خوفناک دھماکہ ہوا ہے، جس کی تصاویر نے سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں-

    باغی ٹی وی : عالمی میڈیا کے مطابق امریکی خلائی ادارے ناسا کی جانب سے سورج پر ہونے والے دھماکوں کی تصاویر کو شئیر کیا گیا تھا، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک انتہائی شدید گولڈن رنگ کی شعائیں نکل رہی ہیں، جمعے اور ہفتے کے روز سورج پر دو شدید دھماکے ہوئے ہیں، جن کی تصاویر ناسا کی جانب سے جاری کی گئی ہیں، ان دھماکوں کے باعث برقی مقناطیسی توانائی کی لہریں زمین کی طرف آئی ہیں-
    https://x.com/NASASun/status/1789389072093360135
    ناسا کے مطابق سورج کی جانب سے 10 مئی کی رات 9 بج 23 منٹ پر 2 طاقتور سولر فلئیرز جاری کی گئی ہیں جبکہ دوسری مرتبہ صبح 7 بج کر 44 منٹ پر 11 مئی کو ہوئی،جسے ناسا کی جانب سے ایکس 5 اعشاریہ 8 اور ایکش 1 اعشاریہ 5 کی کلاس فلئیرز میں شمار کیا گیا ہے۔
    https://x.com/NASASun/status/1789287437908271615
    آئرلینڈ کے میٹ آفس ائیران میٹ کی جانب سے تصاویر پوسٹ کی گئی تھیں، جس میں ڈبلن شہر اور شینن ائیرپورٹ پر یہ روشنیاں دیکھی گئی تھیں،میٹ آفس کے ترجمان اسٹیفن ڈکسن کا کہنا تھا کہ کم دورانیے کی راتوں کے باعث یہ روشنیاں کم وقت کے لیے ہی وقوع پذیر ہوں گی

    روس کا یوکرین پر ڈرونز اور میزائلوں سے حملہ ،12 پاور گرڈز مکمل تباہ

    جبکہ جمعے کی رات کو اسکاٹ لینڈ، آئرلینڈ، ویلز اور برطانیہ کے شمالی علاقوں میں دیکھی گئیں پیشگوئی کرتے ہوئے میٹ آفس نے بتایا کہ یہ صورتحال ہفتے کی رات تک جاری رہ سکتی ہے، تاہم اس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے کہ یہ کہاں کہاں نظر آئیں گی، تاہم نیشنل اوشینک اینڈ اٹماسفیریک ایڈمنسٹریشن (نووا) کی جانب سے خبردار کیا گیا تھا کہ پہلے چند کورونل ماس اجیکشنز ہمارے سیارے کی جانب گامزن ہیں۔

    گزشتہ 21 سالوں میں سب سے طاقتور شمسی طوفان زمین کی فضا سے ٹکرا گیا

  • ناسا کا چاند پر ایڈوانس "ریلوے”  سسٹم بنانے کا منصوبہ

    ناسا کا چاند پر ایڈوانس "ریلوے” سسٹم بنانے کا منصوبہ

    واشنگٹن: امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے چاند پر ایڈوانس "ریلوے” بنانے اور انسانوں اور سامان کو مریخ پر منتقل کرنے کے منصوبے کیلئے فنڈنگ شروع کر دی ۔

    باغی ٹی وی:عالمی میڈیا کے مطابق واشنگٹن میں ناسا کے ہیڈ کوارٹر میں ایجنسی کے خصوصی نمائندے اور ناسا اینویٹیو ایڈوانس کانسیپٹس (این آئی اے سی) پروگرام کے ایگزیکٹو جان نیلسن نے کہا کہ ناسا ایسے منصوبوں پر کام کرے گا جو سائنس فکشن جیسے تصورات ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ اگرچہ اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ وہ جلد ہی عمل میں لائے جائیں گے لیکن یہ ممکن ہے کہ کسی دن مستقبل میں یہ حقیقت کا روپ دھار لیں ان منصوبوں میں چاند پر جدید ریلوے کا نظام، مائع پر مبنی دوربین اور انسانوں اور سامان کو مریخ تک لے جانے کے لئے ٹرانزٹ سسٹم شامل ہیں یہ ان منصوبوں میں سے ہیں جن پر ناسا کا این آئی اے سی پروگرام تحقیق جاری رکھنے کے لئے فنڈز وصول کررہا ہے۔

    جان نیلسن نے کہا کہ کل چھ منصوبے ہیں جن میں سے ہر ایک این آئی اے سی کے ابتدائی مرحلے سے گزرچکا ہے اب دوسرے مرحلے میں یہ منصوبے مزید تحقیق کے لئے اگلے دو سال تک 600,000 ڈالرز جمع کریں گے، ہمارا این اآئی اے سی عملہ کچھ نہ کچھ حیران کن اور حوصلہ افزا آئیڈیا متعارف کراتا رہتا ہے اور یہ منصوبے یقینی طور پر ناسا کو مستقبل میں ممکنات کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرتے ہیں ۔

  • امریکی شہری کے گھر پر  گرنے والے خلائی کچرے کے بارے میں "ناسا”نے وضاحت دیدی

    امریکی شہری کے گھر پر گرنے والے خلائی کچرے کے بارے میں "ناسا”نے وضاحت دیدی

    فلوریڈا: امریکی ریاست فلوریڈا میں ایک شہری کے گھر پر گزشتہ ماہ گرنے والی چیز بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کا ایک حصہ نکلی۔

    باغی ٹی وی : نیپلز میں 8 مارچ کو گھر کی چھت پر گرنے والی سلنڈر نما چیز تجزیے کے لیے کینیڈی اسپیس سینٹر، کیپ کینیورل لے جائی گئی خلائی تحقیق کے امریکی ادارے ’ناسا‘ نے تصدیق کی ہے کہ فلوریڈا میں مکام پر گرنے والا آئٹم بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کا حصہ تھا-

    کینیڈی اسپیس سینٹر نے بتایا کہ دھات کا بنا ہوا یہ آئٹم پرانی بیٹریز کو ٹھکانے لگانے کے لیے کارگو پیلیٹ سے جوڑنے والے سپورٹ سسٹم کا حصہ تھا اس پیلیٹ کو 2021 میں بین الاقوامی خلائی اسٹیشن سے الگ کردیا گیا تھا، خیال تھا کہ یہ کرہ ارض کی فضا میں داخل ہونے ہی جل جائے گا تاہم اس میں سے یہ حصہ بچ گیادھات کے بنے ہوئے 10 سینٹی میٹر لمبے اور 4 سینٹی میٹر چوڑے اس پُرزے کا زن 700 گرام تھا، جب یہ پُرزہ گرا تب مکان کا مالک ایلیجیندرو آٹیرو تعطیلات کے لیے گیا ہوا تھا۔

    پاکستان اور سعودی وزرائے خزانہ کی امریکا میں ملاقات

    معذور لڑکی سے زیادتی ، باپ اور 2 بیٹے گرفتار

    پاکستان ایشیا اور عالمی سطح پر والی بال کا ایک مضبوط ملک ہے، کوچ …

  • “ناسا“ نے چاند کے گرد چکر لگانے والی پراسرار چیز کی تصویر جاری کردی

    “ناسا“ نے چاند کے گرد چکر لگانے والی پراسرار چیز کی تصویر جاری کردی

    واشنگٹن: امریکی خلائی ایجنسی“ناسا“ نے چاند کے گرد چکر لگانے والی پراسرار چیز کی تصاویر جاری کی ہیں-

    باغی ٹی وی: یہ تصاویر ناسا کے Lunar Reconnaissance Orbiter (LRO) نے لی ہیں جن میں مارول کے معروف تخیلاتی کردار ”سلور سرفر“ کے بورڈ سے مشابہت رکھتی پتلی افقی لکیر دکھائی دے رہی ہےسلور سرفر دراصل مارول کامکس کا ایک کردار ہے جو مکمل طور پر سلور رنگ کا ہوتا ہے اور اپنے سرف بورڈ پر خلا میں گھومتا ہے اور اپنے مالک کیلئے خوراک کا انتظام کرتا ہے، جو پورے پورے سیارے نگل جاتا ہے۔

    خلائی ایجنسی نے کہا کہ یہ پراسرار شے کوئی کامک بک کیریکٹر، سپر ہیرو فلموں یا خلائی مخلوق کا جہاز نہیں، بلکہ ناسا کے ایل آر او نے دراصل وہاں سے گزرتے جنوبی کوریائی سیٹلائٹ کو اس وقت کیمرے میں قید کیا جب دونوں مدار میں ایک دوسرے کے قریب سے گزر رہے تھے۔

    سائنسدانوں کا زمین کی حدت کو بڑھنے سے روکنے کیلئے خفیہ تجربہ

    ناسا کے مطابق ، ایل آر او نے کوریا ایرو اسپیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی طرف سے بھیجے گئے ”دانوری لونر آربیٹر“ کی متعدد تصاویر اس وقت حاصل کیں، جب دونوں 5 اور 6 مارچ کے درمیان متوازی لیکن مخالف سمتوں میں ایک دوسرے کے پاس سے گزر رہے تھے،دانوری جو 2022 سے چاند کے گرد چکر لگا رہا ہے، اس کے اور ایل آر او کے درمیان انتہائی تیز رفتار کی وجہ سے تصویر مسخ ہوتی دکھائی دیتی ہے۔

    رواں سال کراچی میں 425 مقابلوں میں 55 ڈاکو مارے گئے، سندھ پولیس

    دانوری چاند پر جنوبی کوریا کا پہلا خلائی جہاز ہے اور دسمبر 2022 سے چاند کے مدار میں ہے ایل آر او کو 2009 میں شروع کیا گیا تھا تب سے، اس نے اپنے سات طاقتور آلات کے ساتھ اہم ڈیٹا اکٹھا کیا ہے، یہ چاند کے مطالعہ میں ایک انمول شراکت دار کے طور پر سامنے آیا ہے۔

    شرجیل میمن کی منشیات فروشوں کیخلاف کارروائیوں کا سیکرٹری انفارمیشن کو آگاہ کرنے …

  • امریکی ایوانِ صدر  کا  ناسا کو چاند کے معیاری وقت کے تعین کا حکم

    امریکی ایوانِ صدر کا ناسا کو چاند کے معیاری وقت کے تعین کا حکم

    واشنگٹن: امریکی ایوانِ صدر نے خلائی تحقیق کے امریکی ادارے ناسا کو چاند کے معیاری وقت کے تعین کا حکم دیا ہے۔

    باغی ٹی وی :"دی گارڈین” کے مطابق وائٹ ہاؤس چاہتا ہے کہ ناسا چاند پر وقت بتانے کا طریقہ معلوم کرے،اس حوالے سے امریکی ایوانِ صدر نے چاند پر پہنچنے اور وہاں بستیاں بسانے کی سرکاری اور نجی اداروں کی دوڑ تیز ہونے کے پیشِ نظر ناسا سے کہا ہے کہ چاند اور دیگر اجسامِ فلکی کے لیے معیاری وقت کا تعین کرے۔

    امریکی ایوانِ صدر کے آفس آف دی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پالیسی نے ایک میمورینڈم کے ذریعے کہا ہے کہ یو ایس آفس آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پالیسی (OSTP) کے سربراہ کی جانب سے منگل کو بھیجے گئے ایک میمو میں خلائی ایجنسی سے کہا گیا ہے کہ وہ دیگر امریکی ایجنسیوں اور بین الاقوامی ایجنسیوں کے ساتھ مل کر چاند پر مرکوز ٹائم ریفرنس سسٹم قائم کرے 2026 کے آخر تک کوآرڈینیٹیڈ لیونر ٹائم (سی ایل ٹی) کا تعین کیا جائے-

    کششِ ثقل کے فرق اور دیگر عوامل کے باعث چاند اور نظامِ شمسی میں شامل دیگر اجسامِ فللکی پر وقت کا ادراک زمین پر وقت کے ادراک سے مختلف ہوتا ہے سی ایل ٹی چاند کے وقت کے حوالے سے خلائی جہازوں اور مصنوعی سیاروں کو ایک واضح بینچ مارک فراہم کرے گا۔ خلائی جہازوں اور مصنوعی سیاروں کو اپنے مشنز کے لیے وقت کے معاملے میں قطعیت درکار ہوگی۔

    وائٹ ہاؤس کے آفس آف دی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پالیسیز کی سربراہ آرتی پربھاکر کے میمو میں بتایا گیا ہے کہ چاند پر موجود کسی شخص کے لیے زمین پر کسی بھی گھڑی میں پایا جانے والا وقت اوسطاً 58.7 مائیکرو سیکنڈ کم ہوگا اور وقتاً فوقتاً رونما ہونے والے دیگر تغیرات کے نتیجے میں چاند کا وقت زمین کے وقت سے مزید دور ہوتا جائے گا۔

    ناسا کے کمیونی کیشن اینڈ نیویگیشن چیف کیوِن کوگنز کہتے ہیں کہ زمین پر کام کرنے والی گھڑیاں چاند پر مختلف رفتار سے کام کریں گی، واشنگٹن میں امریکی بحریہ کی رصدگاہ میں نصب ایٹمی گھڑیوں کا سوچیے، وہ قوم کے دل کی دھڑکن ہیں اور ہر چیز کو ہم آہنگ بناتی ہیں، اب ہم چاند پر بھی ہارٹ بیٹ چاہتے ہیں۔

    ناسا نے اپنے آرٹیمس پروگرام کے ذریعے ستمبر 2026 میں چاند کی سطح پر خلانورد مشن بھیجنے کا منصوبہ بنایا ہے، جو آخر کار ایک سائنسی قمری اڈہ بھی قائم کرے گا جو مریخ پر مستقبل کے مشنوں کے لیے مرحلہ طے کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ اس کوشش میں درجنوں کمپنیاں، خلائی جہاز اور ممالک شامل ہیں۔

    آرٹیمس پروگرام کے تحت ناسا چند برسوں میں چاند پر انسان بردار مشن بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے اور وہاں ایک مستقل بیس قائم کرنے کی منصوبہ سازی کر رہا ہے کہ مستقبل میں مریخ کے لیے مشن آسانی سے روانہ کیے جاسکیں۔ اس کام میں درجنوں کمپنیاں، خلائی جہاز اور ممالک شریک ہیں۔

    او ایس ٹی پی کے ایک افسر نے بتایا کہ خلائی جہازوں کے درمیان ڈیٹا کے تبادلے اور زمین، مصنوعی سیاروں، چاند پر بیس اور خلا بازوں کے درمیان رابطوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے چاند کا قطعی معیاری وقت جاننا لازم ہے۔

    وقت کی پیمائش کے معاملے میں گڑبڑ مپینگ اور لوکیٹنگ پوزیشنز یقینی بنانا بہت مشکل ہوگا، غلطیاں بھی ہوسکتی ہیں۔

    زمین پر مختلف خطوں کا مختلف وقت ہوتا ہے۔ بیشتر گھڑیاں اور ٹائم زون کوآرڈینیٹیڈ یونیورسل ٹائم (یو ٹی سی) سے مطابقت رکھتے ہیں۔ عالمی سطح پر تسلیم شدہ معیارات ایٹمی گھڑیوں کے نیٹ ورک پر منحصر ہیں۔ یہ گھڑیاں دنیا بھر مختلف مقامات پر نصب ہیں۔ یہ گھڑیاں ایک ایسا معیاری وقت ترتیب دیتی ہیں جو سب کے لیے مکمل طور پر قابلِ قبول ہوتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ چاند پر بھی ایٹمی گھڑی نصب کرنے کی ضرورت محسوس ہو۔

  • ناسا نے خلا میں جانیوالوں کو درخواستیں جمع کرانے کی حتمی تاریخ دیدی

    ناسا نے خلا میں جانیوالوں کو درخواستیں جمع کرانے کی حتمی تاریخ دیدی

    واشنگٹن: امریکی خلائی ادارے ناسا نے خلا میں جانے کی خواہش رکھنے والے شہریوں کو 2 اپریل تک درخواستیں جمع کرانے کا وقت دیدیا ہے –

    باغی ٹی وی : امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق درخواست 10 نئے خلاباز گریجویٹس کی جانب سے ابتدائی دو سال کی تربیت مکمل کرنے کے ساتھ مشروط ہے خلاباز بننے کے لیے درخواست دہندگان کو امریکی شہری ہونا چاہیے جس کے پاس پہلے سے ہی کسی تسلیم شدہ ادارے سے انجینئرنگ، بائیولوجیکل سائنس، فزیکل سائنس، کمپیوٹر سائنس یا ریاضی میں ماسٹر ڈگری اور ڈاکٹریٹ ڈگری ہو جبکہ اس کے ساتھ ساتھ متعلقہ شعبے میں دو سال کا تجربہ بھی ہو۔

    درخواست گزار کی قابلیتوں کا جائزہ ناسا کا ایسٹروناٹ سلیکشن بورڈ لے گا جو ہیوسٹن کے جانسن اسپیس سینٹر میں انتہائی قابل درخواست دہندگان کے گروپ کو پہلے انٹرویو کے مرحلے کیلئے بلائے گا، بعدازاں اس گروپ میں سے بھی باصلاحیت ترین نصف کو انٹرویو کے دوسرے دور کے لیے چنا جائے گا، پھر اگر درخواست دہندگان انٹرویو کے دوسرے مرحلے کو بھی پاس کرلیتے ہیں تو وہ خلابازی کی بنیادی مہارتوں جیسے کہ اسپیس اسٹیشن کے نظام اور آپریشنز، T-38 جیٹ طیارے کو اڑانے، روبوٹکس اور خلا میں چہل قدمی کی ٹریننگ کیلئے واپس جانسن اسپیس سینٹر میں جا کر تربیت حاصل کریں گے۔

    ناسا کے مطابق اس کا مقصد انہیں مستقبل میں انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن، چاند یا کمرشل اسپیس فلائیٹ کے لیے اہل بنانا ہے،جہاں تک مریخ کے مشن کا تعلق ہے، تو وہ 2030 کی دہائی میں ہی کسی وقت ممکن ہوسکے گا۔

  • خلا سے نظر آنے والے ”کیووم بادلوں“ کا دلکش نظارہ

    خلا سے نظر آنے والے ”کیووم بادلوں“ کا دلکش نظارہ

    واشنگٹن:ناسانے ایک مظہر کی دلکش لیکن نایاب تصاویر شیئر کی ہیں، جس میں خلا سے نظر آنے والے ”کیووم بادلوں“ کا دلکش نظارہ دکھایا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ”نیشنل ایروناٹکس اینڈ اسپیس ایڈمنسٹریشن“ (ناسا) کی جانب سے انسٹاگرام پر شئیر کی گئی ان تصاویر کے ساتھ کیپشن میں لکھا گیا، ’بادلوں میں وہ شکلیں کیا ہیں؟ ساتھ ہی وضاحت کی گئی کہ سائنسدانوں کے درمیان طویل عرصے سے کیووم بادلوں کے بارے میں قیاس آرائیاں رہی ہیں، جنہیں ہول پنچ کلاؤڈز یا فال اسٹریک ہولز بھی کہا جاتا ہے، لیکن اب واضح ہوگیا ہے کہ بادلوں کی یہ عجیب شکلیں ہوائی جہازوں کی وجہ سے ہوتی ہیں،’کیووم بادل اس وقت بنتے ہیں جب ہوائی جہاز آلٹوکیومولس بادلوں کے کنارے سے گزرتے ہیں، یہ درمیانی درجے کے بادل انتہائی ٹھنڈے ہوتے ہیں جو پانی کے نقطہ انجماد تک پہنچنے کے باوجود مائع کی شکل میں ہوتے ہیں۔

    چینی صدر ،وزیراعظم ،ایران کی شہباز شریف کو پاکستان کا وزیر اعظم منتخب ہونے پر …

    پانی کی یہ بوندیں جیسے جیسے ہوا ہوائی جہاز کے گرد گھومتی ہیں، اڈیبیٹک توسیع نامی ایک عمل ان بوندوں کو برف کے کرسٹل میں جما دیتا ہے، برف کے یہ کرسٹل آخرکار بھاری ہو جاتے ہیں اور آسمان سے گرتے ہیں اور بادل کی تہہ میں ایک سوراخ چھوڑ دیتے ہیں۔

    وزیرِ اعلیٰ مریم نواز کا منتخب وزیرِ اعظم شہباز شریف کے لیے نیک خواہشات …

    ناسا کے ٹیرا سیٹلائٹ کی اس تصویر میں، گرتے ہوئے برف کے کرسٹل سوراخوں کے بیچ میں بارش کے ایسے پگڈنڈوں کے طور پر دکھائی دے رہے ہیں جو کبھی زمین تک نہیں پہنچ پاتے، انہیں ورگا کہتے ہیں،یعنی جہازوں کے گزرنے پر بادلوں میں موجود کچھ جم کر نیچے گرجاتا ہے اور بادل وہاں سے خالی نظر آتا ہے۔

    اسرائیل تیار،اگر حماس راضی ہو جائے تو غزہ میں جنگ بندی جلد ممکن،امریکا

  • چاند پر امریکی خلائی مشن روانہ ،ناسا نے ماؤنٹ ایورسٹ کے ٹکڑے چاند پر بھیج دئیے

    چاند پر امریکی خلائی مشن روانہ ،ناسا نے ماؤنٹ ایورسٹ کے ٹکڑے چاند پر بھیج دئیے

    50 سال سے زائد عرصے بعد پہلی بار ایسا امریکی خلائی مشن روانہ کیا گیا ہے جو چاند پر اترے گا یہ مشن امریکا کے سرکاری خلائی ادارے ناسا کی بجائے نجی کمپنیوں نے روانہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی: 50 سال سے زائد عرصے بعد پہلی بار ایسا امریکی خلائی مشن روانہ کیا گیا ہے جو چاند پر اترے گا یہ مشن امریکا کے سرکاری خلائی ادارے ناسا کی بجائے نجی کمپنیوں نے روانہ کیا ہے یونائیٹڈ لانچ الائنس نامی کمپنی کے راکٹ والکن کے ذریعے ایک اور کمپنی آسٹرو بائیوٹک ٹیکنالوجی کے لینڈر کو فلوریڈا سے لانچ کیا گیا۔

    اس راکٹ نے اسپیس کرافٹ کو چاند کی جانب روانہ کیا جو 23 فروری کو وہاں لینڈ کرنے کی کوشش کرے گا آسٹرو بائیوٹک چاند پر کامیابی سے مشن لینڈ کرانے والی پہلی نجی کمپنی بننے کی خواہشمند ہے، اب تک صرف 4 ممالک ایسا کرسکے ہیں جن میں امریکا، روس، چین اور بھارت شامل ہیں۔

    یہ 1972 کے بعد امریکا کا پہلا مشن ہے جو چاند پر اترنے کی کوشش کرے گا ناسا کی جانب سے ان دونوں کمپنیوں کو کروڑوں ڈالرز فراہم کیے گئے تھے اور اس کا مقصد چاند پر امریکی موجودگی کا احساس دلانا ہے، کیونکہ دیگر ممالک کی جانب سے اس حوالے سے 2023 میں کافی کام کیا گیا ہے،امریکی خلائی ادارے کو توقع ہے کہ اس مشن سے ناسا کی چاند کی کھوج کی کوششوں کو نئی زندگی ملے گی۔

    واضح رہے کہ ناسا کی جانب سے 2025 میں آرٹیمس 3 مشن کے ذریعے انسانوں کو چاند پر پہنچایا جائے گا والکن راکٹ کی یہ ابتدائی آزمائشی پرواز بھی ہے جو کافی عرصے سے تاخیر کا شکار تھی فروری میں اسپیس ایکس کی جانب سے ایک نجی کمپنی کے لینڈر کو ایک ہفتے کے اندر چاند پر لینڈ کرانے کی کوشش کی جائے گی۔

    دوسری جانب ”ناسا“ نے دنیا کی بلند ترین پہاڑی چوٹی ایوریسٹ کے ٹکڑے چاند کی سطح پر رکھنے کے لیے روانہ کردئیے ہیں خلائی جہاز پر 20 پے لوڈز ہیں جن میں ناسا کے پانچ آلات بھی شامل ہیں، پے لوڈز میں مائونٹ ایوریسٹ کے ٹکڑے بھی شامل ہیں، ان تمام پے لوڈز کا مجموعی وزن 90 کلوگر ام ہے۔

    ناسا کے جدید ترین آلات مستقبل کے مون مشنز کے لیے لوکیشنز کا تعین کریں گے اس خلائی جہاز پر معروف ٹی وی سیریل اسٹار ٹریک کے خالق جین روڈنبری کی باقیات اور ڈی این اے سیمپل بھی شامل ہیں، باقیات اور ڈی این اے سیمپل جہاز پر اپ لوڈ کرنے پر متعدد تنظیموں نے شدید اعتراضات کیے ہیں ان کا کہنا ہے کہ چاند کی سرزمین کا احترام کیا جانا چاہیے، وہاں ایسا کچھ بھی نہیں بھیجا جانا چاہے جس سے ماحول خراب ہو اور اخلاقی جواز کا سوال اٹھے۔

  • انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن میں رہنے والے نئے سال کا استقبال 16 بار  کریں گے

    انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن میں رہنے والے نئے سال کا استقبال 16 بار کریں گے

    انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن میں رہنے والے نئے سال کا استقبال 16 بار کرتے ہیں-

    باغی ٹی وی: دنیا بھر میں 2024 کا آغاز ہو رہا ہے اور ہر ملک میں لوگوں کو صرف ایک بار پھر سال نو کا جشن منانے کا موقع ملے گامگر انٹر نیشنل اسپیس اسٹیشن (آئی ایس ایس) میں رہنے والے 16 بار نیا سال مناتے ہیں، اس کی وجہ بھی کافی دلچسپ ہے انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن زمین کے گرد 17 ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گھوم رہا ہے اور وہاں رہنے والوں کو روزانہ 16 بار سورج طلوع اور غروب ہو تے ہوئے نظر آتا ہے۔

    امریکی خلائی ادارے ناسا کے مطابق آئی ایس ایس ہر ڈیڑھ گھنٹے میں زمین کے گرد چکر مکمل کرتا ہے اور اسی وجہ سے وہاں رہنے والے 16 بار سورج طلوع اور غروب ہوتے دیکھتے ہیں اس سفر کے دوران وہ دنیا کے متعدد ٹائم زونز سے گزرتے ہیں اور خلا بازوں کو نئے سال کو کئی بار خوش آمدید کہنے کا موقع ملتا ہے خلا باز 45 گھنٹے سورج کی روشنی اور 45 منٹ اندھیرے کا مشاہدہ کرتے ہیں اور بار بار دن رات کی تبدیلی کو مختلف تجربات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے 24 گھنٹے میں متعدد بار دن رات کے مشاہدے سے خلا بازوں کی جسمانی گھڑی پر بھی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

    باجوڑ میں پاک افغان سرحد پر سکیورٹی فورسز کی کارروائی،3 دہشتگرد ہلاک

    ممالک جہاں 2024 کا آغاز ہوچکا ہے

    سال 2023 ایوی ایشن سیکٹر کے لیے تباہ کن رہا

  • ناسا نے  کرسمس ٹری سے ملتے جلتے ستاروں  کے جھرمٹ کی تصویر جاری کر دی

    ناسا نے کرسمس ٹری سے ملتے جلتے ستاروں کے جھرمٹ کی تصویر جاری کر دی

    سینکڑوں نوری سال دور ستاروں کا ایک جھرمٹ دیکھا گیا ہے جس کی شکل بالکل کرسمس کے درخت سے ملتی ہے۔

    باغی ٹی وی : عالمی میڈیا کے مطابق عیسائیوں کے تہوار کرسمس کے موقع پر ناسا نے سبز رنگ کے ’نوجوان‘ ستاروں کے جھرمٹ NGC 2264 کی تصویر جاری کی ہے جسے Christmas Tree Cluster بھی کہا جاتا ہے، کسی کرسمس کے درخت کی طرح دکھنے والا ستاروں کا یہ جھرمٹ 2500 نوری سال کے فاصلے پر ہے ستاروں کے جھرمٹ کی یہ تصویر ناسا کی چاندرا ایکس رے آبزرویٹری کی جانب سے لی گئی ہے۔

    اس ’کرسمس درخت‘ میں کچھ ستارے ہمارے سورج کے سائز کا صرف دسواں حصہ ہیں جبکہ دیگر کئی گنا بڑے ہیں ناسا کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ اس جھرمٹ میں بہت سے ستارے صرف 1 سے 5 ملین سال پرانے ہیں جو اربوں سال زندہ رہنے والے دیگر ستاروں کے مقابلے میں انہیں ’شیرخوار‘ بنا دیتے ہیں-