Baaghi TV

Tag: ناسا

  • خلا میں موجود شہابیہ ہر سمت میں پتھر اور چٹانیں پھینک رہا ہے،ماہرین فلکیات

    خلا میں موجود شہابیہ ہر سمت میں پتھر اور چٹانیں پھینک رہا ہے،ماہرین فلکیات

    کیلیفورنیا: ماہرین فلکیات نے انکشاف کیا ہے کہ خلا میں موجود شہابیہ ہر سمت میں پتھر اور چٹانیں پھینک رہا ہے۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ماہر فلکیات نے کہا ہے کہ گزشتہ برس ناسا کا خلائی جہاز ایک شہابیے سے ٹکرایا تھا اور اب معلوم ہوا ہے کہ یہی شہابیہ ہر سمت میں پتھر اور چٹانیں پھینک رہا ہے۔

    تیزرفتار بلیک ہول دریافت، زمین سے چاند تک کا مفاصلہ محض 14 منٹ میں طے …

    ماہرینِ فلکیات کے مطابق یہ شہابی پتھر اس تیزی سےگھوم رہا ہےکہ وہ خلا میں دور دور تک اپنی پتھریلی باقیات بکھیر رہا ہےاس معلومات سے ایک تو شہابی پتھر کے ٹھوس ہونے پر سوال اٹھے ہیں تو دوسری طرف معلوم ہوا کہ آوارہ خلائی چٹانوں کا ملبہ بھی مزید چھوٹے بڑے پتھروں میں تقسیم ہو سکتا ہے۔

    سعودی عرب : پہلی مرتبہ خاتون اور مرد خلابازآئندہ ماہ خلائی مہم پرروانہ ہوں گے

    واضح رہےکہ ایک سال قبل ڈارٹ (ڈبل ایسٹرائڈ ریڈائریکشن ٹیسٹ) مشن نام کا ایک چھوٹا ساخلائی جہاز "ڈائمورفس” شہابیے سے ٹکرایا تھا اور اس میں خلائی چٹان کے بارے میں بہت سی معلومات ملی تھیں۔ لیکن اب انکشاف ہوا ہے کہ ڈائیمورفس ہمارے زمینی چاند کی طرح ایک بڑے شہابی پتھر "ڈائڈیموس” کے گرد گھوم رہا ہے یہ ڈائڈیموس اپنے گھماؤ کے دوران ہر سمت میں پتھر اور شہابی ملبہ بکھیر رہا ہے۔

    دنیا بھر میں سمندروں کی سطح کا درجہ حرارت تاریخ کی بلند ترین سطح پر …

  • تیزرفتار بلیک ہول دریافت، زمین سے چاند تک کا مفاصلہ محض 14 منٹ میں طے کر سکتا ہے

    تیزرفتار بلیک ہول دریافت، زمین سے چاند تک کا مفاصلہ محض 14 منٹ میں طے کر سکتا ہے

    ناسا ماہرین نے خلا میں سورج سے دو کروڑ مرتبہ بڑے ایک نئے اور تیز رفتار بلیک ہول کی موجودگی کا انکشاف کیا ہے-

    باغی ٹی وی : ناسا کے ماہرین نے تیزی سے سفر کرتے ہوئے اس نئے دریافت ہونے والے بلیک ہول کو ’انوزیبل مونسٹر‘ کا نام دیا ہے یہ بلیک ہول کائنات میں غیر معمولی رفتار سے بڑھ رہا ہے انوزیبل مونسٹر کی رفتار اتنی تیز ہے کہ یہ زمین سے چاند تک کا مفاصلہ محض 14 منٹ میں طے کر سکتا ہے-

    سعودی عرب : پہلی مرتبہ خاتون اور مرد خلابازآئندہ ماہ خلائی مہم پرروانہ ہوں گے

    ماہرین کا کہنا ہے کہ نیا دریافت ہونے والا یہ بلیک ہول جہاں سے گذر رہا ہے وہاں اپنے پیچھے نئے پیدا کیے ہوئے ستاروں کی ایک قطار چھوڑ رہا ہے یہ بلیک ہول اپنےسامنے آنے والے ستاروں کو کھانے کے بجائے اپنے راستے میں آنے والی گیسوں سے نئے ستاروں کو جنم دے رہا ہے بلیک ہول کی غیر معمولی رفتار کے باعث ستاروں کی دو لاکھ نوری سال طویل قطار کو دیکھا جا سکتا ہے۔

    ماہرین نے بتایا کہ نیا دریافت ہونے والا بیلک ہول اپنی پیرینٹ گیلکسی کےکالم کے اختتام پر موجود ہے اور اس کی بیرونی ٹپ کے گرد آئیو نائیزڈ آکسیجن کا روشن حلقہ موجود ہے ہم جسے دیکھ رہے ہیں وہ ’نتیجہ‘ (Aftermath) ہے، جیسے سمندری جہاز کے گذر جانے کے بعد کی اٹھتی لہر کو دیکھتے ہیں، ہم بلیک ہول کی گذرگاہ میں اس لہر کو دیکھ رہے ہیں جہاں گیسیں ٹھنڈی ہوکر ستارے بنا رہی ہیں۔

    ناسا کے ماہرین کے کہنا ہے کہ ایسی صورتحال کا اس سے قبل کبھی بھی مشاہدہ نہیں کیا گیا اور ٹیلی اسکوپ نے ’انوزیبل مانسٹر‘ کو اتفاق سے دریافت کرلیا تھا۔

    پورا چاند خودکشیوں کے رجحان میں اضافہ کردیتا ہے،تحقیق

    بلیک ہول کیا ہوتا ہے؟

    بلیک ہول کسی ستارے کی زندگی کے خاتمے کے قریب بنتے ہیں۔ یہ ستارے اپنے حجم کی وجہ سے مرتے ہیں تو اپنے وزن اور دباؤ کی وجہ سے اندر سے ہی تباہ ہو جاتے ہیں بلیک ہول خلا میں ایک ایسا علاقہ ہوتا ہے جہاں مادہ لامحدود حد تک کثیف ہو جاتا ہے یہاں کششِ ثقل اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ کوئی بھی چیز یہاں تک کہ روشنی بھی یہاں سے فرار نہیں ہو سکتی۔

    بلیک ہولز کچھ انتہائی بڑے ستاروں کی زندگی کے دھماکہ خیز اختتام سے وجود میں آتے ہیں۔ کچھ بلیک ہولز ہمارے سورج سے اربوں گنا بڑے ہو سکتے ہیں سائنسدان وثوق سے نہیں کہہ سکتے کہ کہکشاؤں کے مرکز میں پائے جانے والے یہ بلیک ہولز کیسے بنے مگر یہ واضح ہے کہ یہ کہکشاں کو توانائی فراہم کرتے ہیں اور متحرک رکھتے ہیں اور ان کی ارتقا پر اثرانداز ہوتے ہیں۔

    جعلی مکھیوں سےاصلی مکھیوں کواپنی طرف راغب کرنے والا پھول

  • ہوائی جہاز جتنے بڑے شہابیے سے زمین کو ایک بار پھر خطرہ

    ہوائی جہاز جتنے بڑے شہابیے سے زمین کو ایک بار پھر خطرہ

    زمین کے قریب آنے والے شہابیے ہمیشہ سرخیوں میں رہتے ہیں کیونکہ کسی کے ساتھ ٹکرانے کے نتیجے میں انسانی زندگی کے لیے بڑے پیمانے پر تباہی ہو سکتی ہے حال ہی میں، نیشنل ایروناٹکس اینڈ اسپیس ایڈمنسٹریشن(ناسا) نے وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہوائی جہاز جتنے بڑے شہابیے سے زمین کو ایک بار پھر خطرہ ہے۔

    باغی ٹی وی : امریکی خلائی ادارے ناسا کے مطابق ایک سو پچاس فِٹ بڑا شہابیہ تیزرفتاری سےزمین کی طرف بڑھ رہا ہےناسا نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ہوائی جہاز کے جتنا بڑا ایف زیڈ تھری نامی سیارچے کا کل زمین کے قریب سے گزرنے کا امکان ہے 150 فِٹ چوڑی چٹان 67656 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے زمین کی طرف بڑھ رہی ہے وہ 4,190,000 کلومیٹر کی دوری پر زمین کے قریب پہنچ جائے گا-

    گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج سےانٹارکٹیکا برف کا پگھلاؤ عالمی سمندری نظام درہم برہم کرسکتا …

    ناسا کے مطابق، پانچ شہابیے ہمارے سیارے کے قریب پہنچیں گے، ان میں سے دو آج زمین کے قریب ترین پہنچیں گے،

    ناسا کے مطابق شہابیہ 2023 ایف یو 6: 45 فٹ کا ایک چھوٹا سیارچہ آج زمین کے قریب 1,870,000 کلومیٹر کے فاصلے پر پہنچ رہا ہے۔

    شہابیہ ایف ایس 11 :82 فٹ ہوائی جہاز کے سائز کا سیارچہ آج 6,610,000 کلومیٹر کے قریب سے زمین سے گزرے گا۔

    شہابیہ ایف اے 7: ایک ہوائی جہاز کے سائز کا 92 فٹ کا سیارچہ 4 اپریل کو 2,250,000 کلومیٹر کی دوری پر زمین کے قریب ترین قریب پہنچے گا۔

    28 مارچ کوآسمان پر پانچ سیارے ایک ساتھ نظر آئیں گے

    شہابیہ ایف کیو 7: اپریل کو، ایک 65 فٹ گھر کے سائز کا سیارچہ 5,750,000 کلومیٹر کی دوری پر زمین کے قریب ترین قریب پہنچے گا۔

    شہابیہ ایف زیڈ 3: اگلے آنے والے سیارچوں میں سب سے بڑا سیارچہ جو کہ ہوائی جہاز کے سائز کا ہے 6 اپریل کو زمین کے قریب سے گزرنے کا امکان ہے۔ 150 فٹ چوڑی چٹان جو 67656 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے زمین کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اس کا زمین سے قریب ترین نقطہ نظر 4,190,000 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے تاہم زمین کے لیے ممکنہ طور پر خطرناک خطرہ نہیں ہے-

    اس سے قبل 2020 میں بھی ناسا نے وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘لندن آئی’ سے بڑا ایک پتھر خلا سے بَرق رفتاری کے ساتھ زمین کی جانب بڑھ رہا ہے اور یہ ممکنہ طور پر خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

    40 نوری سال کے فاصلے پر15کروڑ سال قبل وجود میں آنیوالا نیا سیارہ دریافت

  • ناسا نے چاند پرجانےکیلئے پہلی بارخاتون اورسیاہ فام خلانوردوں کومنتخب کرلیا

    ناسا نے چاند پرجانےکیلئے پہلی بارخاتون اورسیاہ فام خلانوردوں کومنتخب کرلیا

    امریکی خلائی ادارے ناسا نے انسانوں کو چاند پر بھیجنے کے اپنے مشن میں پہلی بار ایک خاتون خلانورد کو منتخب کرلیا۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی خلانورد کرسٹینا کوچ ناسا کے آرٹیمس ٹو مشن کی چار رکنی خلانوردوں کی ٹیم میں شامل ہیں کرسٹینا کوچ کو سب سے طویل مسلسل خلائی پرواز کرنے والی خاتون کا اعزاز بھی حاصل ہے، تاہم اب وہ ناسا کی جانب سے چاند پر جانے والی پہلی خاتون خلانورد کا اعزاز بھی اپنے نام کرلیں گی۔

    سعودی عرب کا پہلی خاتون خلاباز کو خلائی مشن پر بھیجنےکا اعلان

    ناسا کے آرٹیمس ٹو مشن کی ٹیم میں پہلی بار ایک افریقی امریکن اور کینیڈین خلانورد کا بھی انتخاب کیا گیا ہے آرٹیمس ٹو مشن کی ٹیم میں کرسٹینا کوچ کے ساتھ افریقی امریکن وکٹر گلوور، ریڈ وائزمین، جیریمی ہینسن شامل ہیں اور منصوبے کے تحت 2025 کے اوائل میں یہ چار خلاباز چاند کے گرد کیپسول (خلائی گاڑی) اڑائیں گے۔

    کرسٹینا کوچ چاند کے سفر پر جانے والی پہلی خاتون خلاباز ہوں گی جبکہ وکٹر گلوور ایسا کرنے والے پہلے سیاہ فام خلاباز ہوں گے۔

    برطانوی خبررساں ادارے ” بی بی سی ” کے مطابق ناسا کا کہنا ہے کہ خاتون اور غیر سفید فام شخص کے انتخاب کا مقصد خلائی تحقیق کو متنوع بنانا ہے۔ چاند پر جانے والے گذشتہ منصوبوں میں صرف سفید فام عملے کا انتخاب کیا گیا تھا۔

    مشن میں شامل 47 سالہ رِیڈ وائزمین امریکی بحریہ کے پائلٹ جو ایک عرصے تک ناسا میں خلابازوں کے دفتر کے سربراہ رہے۔ اس سے قبل وہ ایک بار 2015 میں انٹرنیشنل سپیس سٹیشن تک کا خلائی دورہ کر چکے ہیں۔

    سعودی عرب میں نبطی دور کی حنوط شدہ خاتون کا چہرہ بحال

    46 سالہ وکٹر گلوور امریکی بحریہ کے ٹیسٹ پائلٹ۔ انہوں نے 2013 میں ناسا میں شمولیت اختیار کی اور 2020 میں خلا کی پہلی اُڑان بھری۔ وہ چھ ماہ تک کے لمبے عرصے تک سپیس سٹیشن پر رہنے والے پہلے افریقی نژاد امریکی تھے۔

    44 سالہ کرسٹینا کوچ ایک الیکٹریکل انجینیئر۔ انہوں نے لگاتار 328 دن خلا میں گزارے اور یہ کسی خاتون کے لیے خلا میں سب سے طویل وقت گزارنے کا ریکارڈ ہے۔ اکتوبر 2019 میں پہلی بار صرف خواتین کا ایک مشن خلا کی سیر کو گیا جس میں کرسٹینا کا ساتھ ناسا کی خلاباز جیسیکا میئر نے دیا تھا۔

    47 سالہ جیرمی ہینسن کینیڈا کی خلائی ایجنسی میں شمولیت سے قبل وہ رائل کینیڈین ایئر فورس میں فائٹر پائلٹ تھے۔ یہ خلا میں ان کی پہلی اُڑان ہوگی۔

    زمین کی اندرونی تہہ نے الٹی جانب گھومنا شروع کردیا ہے،تحقیق

    واضح رہے کہ ناسا کا خلائی مشن چاروں خلانوردوں کو لے کر اگلے سال کے اوائل میں چاند پر جائے گا، جس کے لیے اس ٹیم کی سخت ٹریننگ شروع ہوگئی ہے ناسا کے آرٹیمس ٹو مشن میں خلانوردوں کی یہ 4 رکنی ٹیم چاند پر نہیں اُترے گی لیکن ان کا یہ مشن بعد میں جانے والے خلابازوں کے لیے چاند پر اترنے کی راہ ہموار کرے گا۔

    چاند پر آخری بار انسانی خلائی پرواز مشن اپولو 17کے ذریعے دسمبر 1972 میں گئی تھی، یاد رہے کہ چاند پر پہلی بار انسانی قدم 1969 میں اپولو مشن 11 کے تحت رکھا گیا تھا۔

  • ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی نوکیا چاند پر 4 جی نیٹ ورک لگانے کے لیے تیار

    ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی نوکیا چاند پر 4 جی نیٹ ورک لگانے کے لیے تیار

    ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی نوکیا کی جانب سے 2023 کے دوران کسی وقت 4 جی کنکٹویٹی کی سہولت فراہم کرنے والے سیٹلائیٹ کو چاند پر بھیجا جائے گا۔

    باغی ٹی وی: "سی این بی سی” کی رپورٹ کے مطابق امریکی خلائی ادارے ناسا کے آرٹیمس 3 مشن کے تحت جو انسان 5 دہائیوں بعد پہلی بار چاند کی سرزمین پر قدم رکھیں گے، وہ وہاں 4 جی نیٹ ورک کی بدولت سوشل میڈیا سائٹس پر سیلفی شیئر کر سکیں گے۔

    بل گیٹس کا آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے متعلق خطرناک خدشے کا اظہار

    فن لینڈ کی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی نوکیااس سال کے آخر میں چاند پر ایک 4G موبائل نیٹ ورک شروع کرنے کی تیاری کر رہا ہے، چاند کی دریافتوں کو بڑھانے کی امید میں اور سیٹلائٹ سیارے پر انسانی موجودگی کے لیے راہ ہموار کر رہا ہے نوکیا کی جانب سے 2023 کے دوران کسی وقت 4 جی کنکٹویٹی کی سہولت فراہم کرنے والے سیٹلائیٹ کو چاند پر بھیجا جائے گاکمپنی کی جانب سے اس کا عندیہ فروری 2023 کے آخر میں موبائل ورلڈ کانگریس کے دوران دیا گیا تھا۔

    نوکیا کے پرنسپل انجینئر لوئس ماسٹرو روئز ڈی ٹیمینو نے اس ماہ کے شروع میں بارسلونا میں موبائل ورلڈ کانگریس ٹریڈ شو میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ فینیش ٹیلی کمیونیکیشن گروپ آنے والے مہینوں میں اسپیس ایکس راکٹ پر نیٹ ورک کو لانچ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

    28 مارچ کوآسمان پر پانچ سیارے ایک ساتھ نظر آئیں گے

    لینڈر اور روور کے درمیان ایک LTE کنکشن قائم کیا جائے گابنیادی ڈھانچہ شیکلٹن کریٹر پر اترے گا، جو چاند کے جنوبی حصے کے ساتھ واقع ہےنوکیا کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو خلا کے انتہائی حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے اس نیٹ ورک کو ناسا کے آرٹیمس 1 مشن کے اندر استعمال کیا جائے گا، جس کا مقصد 1972 کے بعد چاند کی سطح پر چلنے کے لیے پہلے انسانی خلابازوں کو بھیجنا ہے۔

    امریکی اسپیس کمپنی Intuitive Machines کی جانب سے رواں سال اسپیس ایکس راکٹ کے ذریعے نووا سی لینڈر چاند پر بھیجا جائے گا جس کے ساتھ نوکیا کا 4 جی بیس اسٹیشن بھی ہوگا لینڈر اور بیس اسٹیشن کے ساتھ ایک سولر پاور سے کام کرنے والا روور بھی اس مشن کا حصہ ہوگا۔

    پاکستان میں فیس بک اور انسٹاگرام کو ویریفائیڈ کروانے کی فیس کتنی اور کن شرائط …

    جب یہ بیس اسٹیشن چاند کے Shackleton crater پر پہنچ جائے گا تو روور اور لینڈر کی جانب سے 4 جی ایل ٹی ای کنکشن کو قائم کیا جائے گاکمپنی کو توقع ہے کہ اس نیٹ ورک سے چاند پر مستقبل کے انسانی تحقیقی مشن کو معاونت ملے گی آرٹیمس مشن میں شامل افراد ایک دوسرے سے اس نیٹ ورک کے ذریعے رابطے میں رہ سکیں گے جبکہ رئیل ٹائم میں زمین پر ویڈیو اسٹریمنگ کے ساتھ ساتھ ڈیٹا بھیج سکیں گے۔

    ابھی چاند پر اس 4 جی سیٹلائیٹ کو بھیجنے کی تاریخ طے نہیں ہوئی مگر ماہرین کے خیال میں 2023 میں ایسا ہونے کا قوی امکان ہے اگر چاند پر یہ موبائل نیٹ ورک کام کرنے لگتا ہے تو یہ خلا میں پہلا 4 جی سسٹم ہوگا جس سے چاند کی سطح پر رہتے ہوئے بھی رابطوں، تیز انٹرنیٹ اور دیگر کاموں میں مدد مل سکے گی۔

    ناسا کی جانب سے 2020 میں فن لینڈ کی کمپنی کو چاند پر 4 جی نیٹ ورک کی تنصیب کا کام سونپا تھا اور جب سے اس کی تیاریاں کی جا رہی تھیں یہ نیٹ ورک بہت زیادہ درجہ حرارت، ریڈی ایشن اور خلائی ماحول میں کام کرنے کے لیے ڈیزائن کیا جائے گا۔

    واٹس ایپ میں وائس چیٹ اور کال میں تبدیلیاں متوقع

  • 40 نوری سال کے فاصلے پر15کروڑ سال قبل وجود میں آنیوالا نیا سیارہ دریافت

    40 نوری سال کے فاصلے پر15کروڑ سال قبل وجود میں آنیوالا نیا سیارہ دریافت

    ناسا کی 10 ارب ڈالرز کی لاگت سے بنائی جانے والی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے ایک ایسا سیارہ دریافت کیا ہے-

    باغی ٹی وی: ناسا کے سائنسدانوں کے مطابق جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے زمین سے تقریباً 40 نوری سال کے فاصلے پر موجود VHS 1256b کا مشاہدہ کیا ہے سائنس دانوں کا دعویٰ ہے کہ فلکیات کی تاریخ میں اس سے قبل ایسا سیارہ نہیں دیکھا گیا ہے 815 ڈگری سیلسیس درجہ حرارت رکھنے والے اس سیارے کا ماحول گرم مٹی کے بادلوں پر مشتمل ہے جو مستقل ابھرتے ہیں، ملتے ہیں اور 22 گھنٹے کے دن کے دوران حرکت میں رہتے ہیں۔


    یونیورسٹی آف ایریزونا کی برِٹنی مائلز کی رہنمائی میں کام کرنے والی سائنس دانوں کی ٹیم نے ٹیلی اسکوپ سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کی مدد سے سیارے میں صاف پانی، میتھین اور کاربن مونو آکسائیڈ کی شناخت بھی کی۔ سیارے میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی موجودگی کے شواہد بھی ملے ہیں۔


    صرف 15 کروڑ سال قبل وجود میں آنے والے اس سیارے کے متعلق سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ اس کی کم عمری بتاتی ہے کہ اس سیارے کاآسمان اتنا طوفانی کیوں ہے۔


    یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سانتا کروز سے تعلق رکھنےوالے تحقیق کے شریک مصنف اینڈریو اسکیمر کے ایک بیان کے مطابق کسی دوسری ٹیلی اسکوپ نے آج تک ایک جِرم میں بیک وقت اتنی خصوصیات کی نشان دہی نہیں کی ہے۔

  • کاربن ڈائی آکسائیڈ اخراج کرنے والے ممالک کی فہرست جاری

    کاربن ڈائی آکسائیڈ اخراج کرنے والے ممالک کی فہرست جاری

    امریکی خلائی ادارے ناسا نے اپنے ارضی مشاہداتی سیٹلائٹ اور زمینی ڈیٹا کی مدد سے 60 کے قریب سائنسدانوں نے ان مقامات کی نشاندہی کی ہے جو کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں –

    باغی ٹی وی : ناسا کے مطابق مطالعے میں زمین کے گرد زیرِ گردش، ناسا کاربن آبزرویٹری (رصدگاہ) یعنی او سی او ٹو اور زمین پر نصب آلات سے بھی مدد لی گئی ہے۔ یہ سروے 2015 سے 2020 تک جاری رہا تھا۔ اس تحقیق میں سائنسدانوں نے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج اور انجذاب دونوں کے فرق کو بھی معلوم کیاگیا ہے۔

    اس فہرست میں مجموعی طور پر 100 ممالک کا جائزہ لیا گیا ہے جو صنعتی عمل، سواریوں اور دیگر ٹیکنالوجی کی بدولت فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی غیرمعمولی مقدار خارج کررہے ہیں۔

    کاربن ڈائی آکسائیڈ ایک گرین ہاؤس گیس ہے جو کرہِ ارض پر عالمی تپش یعنی گلوبل وارمنگ کی وجہ بھی بن رہی ہے۔ نقشے میں کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرنے والے خطے سرخ رنگ میں نمایاں ہیں جبکہ کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے والے خطوں کو سبز رنگ میں دکھایا گیا ہے کاربن ڈائی آکسائیڈ اخراج کرنے والے ممالک میں سرِ فہرست چین اور امریکہ شامل ہیں۔

    کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے والے خطوں میں جنگلات، سبزے کے مقامات اور دیگر مقامات شامل ہیں ناسا نے کہا ہے کہ وہ حکومتوں کو زور دیں گے کہ وہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کو روکنے میں اپنا اہم کردار ادا کریں کیونکہ ہم بہت تیزی سے مشکل ترین صورتحال کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

    تاہم سائنسدانوں نے بھی کہا ہے کہ قریباً 50 ممالک ایسے ہیں جنہوں نے گزشتہ 10 برس سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے لیے اپنا ڈیٹا نہیں دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ناسا نے سیٹلائٹ سے اس کا جائزہ لینے کی کوشش کی ہے-

  • ناسا کا  قیمتی دھاتوں پر مشتمل سیارچے پر خلائی جہاز بھیجنے کا اعلان

    ناسا کا قیمتی دھاتوں پر مشتمل سیارچے پر خلائی جہاز بھیجنے کا اعلان

    کیلیفورنیا: ناسا نے ایک اہم سیارچے (ایسٹرائڈ) کی جانب خلائی جہاز بھیجنے کا اعلان کیا ہے-

    باغی ٹی وی: ناسا سال 2017 سے اس سیارچے کے قریب اپنا خلائی جہاز بھیجنے کا خواہاں ہے یہ منصوبہ کئی مرتبہ تعطل کا شکار رہا۔ اس شہابیے کا نام 16 سائیکے ہے اور توقع ہے کہ اس سال اکتوبر میں ایک خلائی جہاز سائیکے کی جانب روانہ کیا جائے گا ایک طویل سفر کے بعد اگست 2029 میں وہ سیارچے تک اترجائے گا۔

    بلیو اوریجن صرف خواتین عملے پر مشتمل مشن خلا میں روانہ کرے گی

    اطالوی فلکیات داں اینی بیل ڈی گیسپارس نے اسے 1852 میں دریافت کیا تھا جو آلو کی شکل کا ایک ناکام سیارہ بھی ہے اس کا رقبہ 140 میل ہے کہا جا رہا ہے کہ اس سیارچے پر قیمتی دھاتوں کی کل قدر پورے کرہ ارض کی مجموعی سالانہ معیشت سے بھی 70 ہزار گنا زائد ہے یہ مریخ اور مشتری کے درمیان مشہور سیارچی پٹی کے درمیان موجود ہے۔

    2020 میں امریکی تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ جست (نکل) اور فولاد سے بنا ہے اور دیگر قیمتی دھاتیں بھی موجود ہیں جبکہ اکثر سیارچے چٹان اور برف سے بنے ہوتے ہیں۔

    ناسا نےزمین سے 1450 نوری سال کےفاصلے پرموجود ویری ایبل ستاروں کی تصویر جاری کر دی

    ناسا کی ماہر لِنڈی ایلکنس کے مطابق اس میں موجود فولاد اور دیگر قیمتی دھاتوں کی قیمت دس ہزار کواڈریلیئن ڈالر کے برابر ہے۔ تاہم سائنسدانوں کا ایک دوسرا گروہ اسے اتنا قیمتی نہیں کہتا۔

    یہی وجہ ہے کہ ناسا نے اس بحث کو ختم کرنے کے لیے اس کی جانب خلائی جہاز بھیجنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ لیکن ماہرین نے نزدیک سونے چاندی سے زیادہ اس کی سائنسی راز اہمیت رکھتے ہیں 16 سائیکے پر تحقیق سے خود ہمیں نظامِ شمسی کے ارتقا اور اس کے دیگر پہلوؤں کو جاننے میں مدد ملے گی۔

    4.6 ارب سال قبل نظام شمسی سے آنے والےبڑے بڑے آگ کے گولوں نے زمین پر زندگی کی…

  • ناسا نےزمین سے 1450 نوری سال کےفاصلے پرموجود ویری ایبل ستاروں کی تصویر جاری کر دی

    ناسا نےزمین سے 1450 نوری سال کےفاصلے پرموجود ویری ایبل ستاروں کی تصویر جاری کر دی

    واشنگٹن: ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ نے دو ویری ایبل ستاروں کی تصویر لی ہے جو زمین سے 1450 نوری سال کے فاصلے پر موجود ستارہ ساز خطے اورائن نیبیولا میں موجود ہیں۔

    باغی ٹی وی : ناسا اور یوروپین اسپیس ایجنسی کی ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ کی جاری کی گئی تصویر کے درمیان میں وی 372 اورائنِس نامی ستارہ موجود ہے جبکہ بائیں جانب اوپر کی طرف ایک چھوٹا ویری ایبل ستارہ موجود ہے،ویری ایبل ستارے وہ ستارے ہوتے ہیں جن کی روشنی وقت کے ساتھ تبدیل ہوتی ہے۔


    وی 372 اورائنِس ایک مخصوص قسم کا ویری ایبل ستارہ ہے جو اورائن واری ایبل کی نام سے جانا جاتا ہےیہ کم عمر ستارے طوفانی کیفیت میں مبتلا ہیں جس کا مشاہدہ ماہرینِ فلکیات نے ان ستاروں کی بے ترتیب روشنی کی مدد سے کیا اورائن ویری ایبل ستاروں کا تعلق عموماً گیس اور غبار کے بادلوں پر مشتمل اورائن نیبیولا سے جوڑا جاتا ہے۔


    یہ تصویر ہبل کے دو آلات کو استعمال کرتے ہوئے بنائی گئی ہے۔ تفصیلی تصویر کے لیے ڈیٹا ایڈوانس کیمرا فار سروے اور وائڈ فیلڈ کیمرا 3 سے انفرا ریڈ اور قابلِ دید طول امواج پر حاصل کیا گیا ہے۔

  • نیا دریافت شدہ سیارچہ زمین کے قریب سے گزرے گا،ناسا

    نیا دریافت شدہ سیارچہ زمین کے قریب سے گزرے گا،ناسا

    ایک نیا دریافت شدہ سیارچہ اس ہفتے زمین کے بہت قریب سے گزرے گا-

    باغی ٹی وی: امریکی خلائی ادارے ناسا کی جانب سے جاری بیان کے مطابق 2023 بی یو (2023 BU) نامی سیارچہ زمین کے سب سے زیادہ گزرنے والے سیارچوں میں سے ایک ہوگا۔

    شہابی پتھر سے دو نئی معدنیات دریافت

    2023 BU کی پیمائش 12 اور 28 فٹ چوڑائی (3.8 سے 8.5 میٹر) کے درمیان ہے، اور اسے ابھی ہفتہ (21 جنوری) کو ماہر فلکیات Gennadiy Borisov نے کریمیا میں MARGO آبزرویٹری میں دریافت کیا تھا۔

    ای ایس ٹی (2117 GMT)، خلائی چٹان زمین کی سطح سے صرف 2,178 میل (3,506 کلومیٹر) کی اونچائی پر زمین سے چاند کے اوسط فاصلے کے 3 فیصد سے بھی کم کے اندر ہوگی مقابلے کے لیے، زیادہ تر جیو سٹیشنری سیٹلائٹ تقریباً 22,200 میل (35,800 کلومیٹر) مدار میں گردش کرتے ہیں-

    ناسا نے چاند کی ایک نئی تصویر جاری کر دی

    یہ سیارچہ پاکستانی وقت کے مطابق 27 جنوری کو صبح ساڑھے 5 بجے جنوبی امریکا کے اوپر سے گزرے گا اور اس وقت ہمارے سیارے کی سطح سے محض 3600 کلومیٹر اوپر ہوگا، یعنی سیٹلائیٹس کے قریب ہوگا زمین کے اکثر سیٹلائیٹس 160 سے 2 ہزار کلومیٹر کی بلندی پر گردش کرتے ہیں مگر ناسا کے مطابق سیارچے کا ہمارے سیارے سے ٹکرانے کا خطرہ نہیں۔

    ناسا نے کہا کہ اگر سیارچہ زمین کے بہت زیادہ قریب آگیا تو یہ جل جائے گا اور اس کے چھوٹے ٹکڑے شہاب ثاقب کی شکل میں سطح تک پہنچیں گےناسا کی جیٹ Propulsion لیبارٹری کے ماہر Davide Farnocchia نے بتایا کہ یہ سیارچہ زمین کے بہت زیادہ قریب آنے والا ہے، درحقیقت یہ زمین کے سب سے زیادہ قریب آنے والے چند سیارچوں میں سے ایک ثابت ہوگا۔

    ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نےزندگی کیلئے موافق سیاروں کا ایک جتھہ دریافت کر…

    یہ سیارچہ حجم کے لحاظ سے کسی ڈیلیوری ٹرک (delivery truck) جتنا بڑا ہے اور اسے سب سے پہلے کریمیا کے شوقیہ خلا باز Gennady Borisov نے دیکھا تھا جس کے بعد ناسا کے ماہرین کی جانب سے اس کے راستے کا تعین کیا گیا۔

    ناسا کے مطابق اس سیارچے کا راستہ زمین کے قریب سے گزرنے کے دوران کشش ثقل سے نمایاں طور پر متاثر ہوا۔