Baaghi TV

Tag: ناسا

  • 40 نوری سال کے فاصلے پر15کروڑ سال قبل وجود میں آنیوالا نیا سیارہ دریافت

    40 نوری سال کے فاصلے پر15کروڑ سال قبل وجود میں آنیوالا نیا سیارہ دریافت

    ناسا کی 10 ارب ڈالرز کی لاگت سے بنائی جانے والی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے ایک ایسا سیارہ دریافت کیا ہے-

    باغی ٹی وی: ناسا کے سائنسدانوں کے مطابق جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے زمین سے تقریباً 40 نوری سال کے فاصلے پر موجود VHS 1256b کا مشاہدہ کیا ہے سائنس دانوں کا دعویٰ ہے کہ فلکیات کی تاریخ میں اس سے قبل ایسا سیارہ نہیں دیکھا گیا ہے 815 ڈگری سیلسیس درجہ حرارت رکھنے والے اس سیارے کا ماحول گرم مٹی کے بادلوں پر مشتمل ہے جو مستقل ابھرتے ہیں، ملتے ہیں اور 22 گھنٹے کے دن کے دوران حرکت میں رہتے ہیں۔


    یونیورسٹی آف ایریزونا کی برِٹنی مائلز کی رہنمائی میں کام کرنے والی سائنس دانوں کی ٹیم نے ٹیلی اسکوپ سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کی مدد سے سیارے میں صاف پانی، میتھین اور کاربن مونو آکسائیڈ کی شناخت بھی کی۔ سیارے میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی موجودگی کے شواہد بھی ملے ہیں۔


    صرف 15 کروڑ سال قبل وجود میں آنے والے اس سیارے کے متعلق سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ اس کی کم عمری بتاتی ہے کہ اس سیارے کاآسمان اتنا طوفانی کیوں ہے۔


    یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سانتا کروز سے تعلق رکھنےوالے تحقیق کے شریک مصنف اینڈریو اسکیمر کے ایک بیان کے مطابق کسی دوسری ٹیلی اسکوپ نے آج تک ایک جِرم میں بیک وقت اتنی خصوصیات کی نشان دہی نہیں کی ہے۔

  • کاربن ڈائی آکسائیڈ اخراج کرنے والے ممالک کی فہرست جاری

    کاربن ڈائی آکسائیڈ اخراج کرنے والے ممالک کی فہرست جاری

    امریکی خلائی ادارے ناسا نے اپنے ارضی مشاہداتی سیٹلائٹ اور زمینی ڈیٹا کی مدد سے 60 کے قریب سائنسدانوں نے ان مقامات کی نشاندہی کی ہے جو کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں –

    باغی ٹی وی : ناسا کے مطابق مطالعے میں زمین کے گرد زیرِ گردش، ناسا کاربن آبزرویٹری (رصدگاہ) یعنی او سی او ٹو اور زمین پر نصب آلات سے بھی مدد لی گئی ہے۔ یہ سروے 2015 سے 2020 تک جاری رہا تھا۔ اس تحقیق میں سائنسدانوں نے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج اور انجذاب دونوں کے فرق کو بھی معلوم کیاگیا ہے۔

    اس فہرست میں مجموعی طور پر 100 ممالک کا جائزہ لیا گیا ہے جو صنعتی عمل، سواریوں اور دیگر ٹیکنالوجی کی بدولت فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی غیرمعمولی مقدار خارج کررہے ہیں۔

    کاربن ڈائی آکسائیڈ ایک گرین ہاؤس گیس ہے جو کرہِ ارض پر عالمی تپش یعنی گلوبل وارمنگ کی وجہ بھی بن رہی ہے۔ نقشے میں کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرنے والے خطے سرخ رنگ میں نمایاں ہیں جبکہ کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے والے خطوں کو سبز رنگ میں دکھایا گیا ہے کاربن ڈائی آکسائیڈ اخراج کرنے والے ممالک میں سرِ فہرست چین اور امریکہ شامل ہیں۔

    کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے والے خطوں میں جنگلات، سبزے کے مقامات اور دیگر مقامات شامل ہیں ناسا نے کہا ہے کہ وہ حکومتوں کو زور دیں گے کہ وہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کو روکنے میں اپنا اہم کردار ادا کریں کیونکہ ہم بہت تیزی سے مشکل ترین صورتحال کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

    تاہم سائنسدانوں نے بھی کہا ہے کہ قریباً 50 ممالک ایسے ہیں جنہوں نے گزشتہ 10 برس سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے لیے اپنا ڈیٹا نہیں دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ناسا نے سیٹلائٹ سے اس کا جائزہ لینے کی کوشش کی ہے-

  • ناسا کا  قیمتی دھاتوں پر مشتمل سیارچے پر خلائی جہاز بھیجنے کا اعلان

    ناسا کا قیمتی دھاتوں پر مشتمل سیارچے پر خلائی جہاز بھیجنے کا اعلان

    کیلیفورنیا: ناسا نے ایک اہم سیارچے (ایسٹرائڈ) کی جانب خلائی جہاز بھیجنے کا اعلان کیا ہے-

    باغی ٹی وی: ناسا سال 2017 سے اس سیارچے کے قریب اپنا خلائی جہاز بھیجنے کا خواہاں ہے یہ منصوبہ کئی مرتبہ تعطل کا شکار رہا۔ اس شہابیے کا نام 16 سائیکے ہے اور توقع ہے کہ اس سال اکتوبر میں ایک خلائی جہاز سائیکے کی جانب روانہ کیا جائے گا ایک طویل سفر کے بعد اگست 2029 میں وہ سیارچے تک اترجائے گا۔

    بلیو اوریجن صرف خواتین عملے پر مشتمل مشن خلا میں روانہ کرے گی

    اطالوی فلکیات داں اینی بیل ڈی گیسپارس نے اسے 1852 میں دریافت کیا تھا جو آلو کی شکل کا ایک ناکام سیارہ بھی ہے اس کا رقبہ 140 میل ہے کہا جا رہا ہے کہ اس سیارچے پر قیمتی دھاتوں کی کل قدر پورے کرہ ارض کی مجموعی سالانہ معیشت سے بھی 70 ہزار گنا زائد ہے یہ مریخ اور مشتری کے درمیان مشہور سیارچی پٹی کے درمیان موجود ہے۔

    2020 میں امریکی تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ جست (نکل) اور فولاد سے بنا ہے اور دیگر قیمتی دھاتیں بھی موجود ہیں جبکہ اکثر سیارچے چٹان اور برف سے بنے ہوتے ہیں۔

    ناسا نےزمین سے 1450 نوری سال کےفاصلے پرموجود ویری ایبل ستاروں کی تصویر جاری کر دی

    ناسا کی ماہر لِنڈی ایلکنس کے مطابق اس میں موجود فولاد اور دیگر قیمتی دھاتوں کی قیمت دس ہزار کواڈریلیئن ڈالر کے برابر ہے۔ تاہم سائنسدانوں کا ایک دوسرا گروہ اسے اتنا قیمتی نہیں کہتا۔

    یہی وجہ ہے کہ ناسا نے اس بحث کو ختم کرنے کے لیے اس کی جانب خلائی جہاز بھیجنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ لیکن ماہرین نے نزدیک سونے چاندی سے زیادہ اس کی سائنسی راز اہمیت رکھتے ہیں 16 سائیکے پر تحقیق سے خود ہمیں نظامِ شمسی کے ارتقا اور اس کے دیگر پہلوؤں کو جاننے میں مدد ملے گی۔

    4.6 ارب سال قبل نظام شمسی سے آنے والےبڑے بڑے آگ کے گولوں نے زمین پر زندگی کی…

  • ناسا نےزمین سے 1450 نوری سال کےفاصلے پرموجود ویری ایبل ستاروں کی تصویر جاری کر دی

    ناسا نےزمین سے 1450 نوری سال کےفاصلے پرموجود ویری ایبل ستاروں کی تصویر جاری کر دی

    واشنگٹن: ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ نے دو ویری ایبل ستاروں کی تصویر لی ہے جو زمین سے 1450 نوری سال کے فاصلے پر موجود ستارہ ساز خطے اورائن نیبیولا میں موجود ہیں۔

    باغی ٹی وی : ناسا اور یوروپین اسپیس ایجنسی کی ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ کی جاری کی گئی تصویر کے درمیان میں وی 372 اورائنِس نامی ستارہ موجود ہے جبکہ بائیں جانب اوپر کی طرف ایک چھوٹا ویری ایبل ستارہ موجود ہے،ویری ایبل ستارے وہ ستارے ہوتے ہیں جن کی روشنی وقت کے ساتھ تبدیل ہوتی ہے۔


    وی 372 اورائنِس ایک مخصوص قسم کا ویری ایبل ستارہ ہے جو اورائن واری ایبل کی نام سے جانا جاتا ہےیہ کم عمر ستارے طوفانی کیفیت میں مبتلا ہیں جس کا مشاہدہ ماہرینِ فلکیات نے ان ستاروں کی بے ترتیب روشنی کی مدد سے کیا اورائن ویری ایبل ستاروں کا تعلق عموماً گیس اور غبار کے بادلوں پر مشتمل اورائن نیبیولا سے جوڑا جاتا ہے۔


    یہ تصویر ہبل کے دو آلات کو استعمال کرتے ہوئے بنائی گئی ہے۔ تفصیلی تصویر کے لیے ڈیٹا ایڈوانس کیمرا فار سروے اور وائڈ فیلڈ کیمرا 3 سے انفرا ریڈ اور قابلِ دید طول امواج پر حاصل کیا گیا ہے۔

  • نیا دریافت شدہ سیارچہ زمین کے قریب سے گزرے گا،ناسا

    نیا دریافت شدہ سیارچہ زمین کے قریب سے گزرے گا،ناسا

    ایک نیا دریافت شدہ سیارچہ اس ہفتے زمین کے بہت قریب سے گزرے گا-

    باغی ٹی وی: امریکی خلائی ادارے ناسا کی جانب سے جاری بیان کے مطابق 2023 بی یو (2023 BU) نامی سیارچہ زمین کے سب سے زیادہ گزرنے والے سیارچوں میں سے ایک ہوگا۔

    شہابی پتھر سے دو نئی معدنیات دریافت

    2023 BU کی پیمائش 12 اور 28 فٹ چوڑائی (3.8 سے 8.5 میٹر) کے درمیان ہے، اور اسے ابھی ہفتہ (21 جنوری) کو ماہر فلکیات Gennadiy Borisov نے کریمیا میں MARGO آبزرویٹری میں دریافت کیا تھا۔

    ای ایس ٹی (2117 GMT)، خلائی چٹان زمین کی سطح سے صرف 2,178 میل (3,506 کلومیٹر) کی اونچائی پر زمین سے چاند کے اوسط فاصلے کے 3 فیصد سے بھی کم کے اندر ہوگی مقابلے کے لیے، زیادہ تر جیو سٹیشنری سیٹلائٹ تقریباً 22,200 میل (35,800 کلومیٹر) مدار میں گردش کرتے ہیں-

    ناسا نے چاند کی ایک نئی تصویر جاری کر دی

    یہ سیارچہ پاکستانی وقت کے مطابق 27 جنوری کو صبح ساڑھے 5 بجے جنوبی امریکا کے اوپر سے گزرے گا اور اس وقت ہمارے سیارے کی سطح سے محض 3600 کلومیٹر اوپر ہوگا، یعنی سیٹلائیٹس کے قریب ہوگا زمین کے اکثر سیٹلائیٹس 160 سے 2 ہزار کلومیٹر کی بلندی پر گردش کرتے ہیں مگر ناسا کے مطابق سیارچے کا ہمارے سیارے سے ٹکرانے کا خطرہ نہیں۔

    ناسا نے کہا کہ اگر سیارچہ زمین کے بہت زیادہ قریب آگیا تو یہ جل جائے گا اور اس کے چھوٹے ٹکڑے شہاب ثاقب کی شکل میں سطح تک پہنچیں گےناسا کی جیٹ Propulsion لیبارٹری کے ماہر Davide Farnocchia نے بتایا کہ یہ سیارچہ زمین کے بہت زیادہ قریب آنے والا ہے، درحقیقت یہ زمین کے سب سے زیادہ قریب آنے والے چند سیارچوں میں سے ایک ثابت ہوگا۔

    ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نےزندگی کیلئے موافق سیاروں کا ایک جتھہ دریافت کر…

    یہ سیارچہ حجم کے لحاظ سے کسی ڈیلیوری ٹرک (delivery truck) جتنا بڑا ہے اور اسے سب سے پہلے کریمیا کے شوقیہ خلا باز Gennady Borisov نے دیکھا تھا جس کے بعد ناسا کے ماہرین کی جانب سے اس کے راستے کا تعین کیا گیا۔

    ناسا کے مطابق اس سیارچے کا راستہ زمین کے قریب سے گزرنے کے دوران کشش ثقل سے نمایاں طور پر متاثر ہوا۔

  • زمین جیسا سیارہ دریافت

    زمین جیسا سیارہ دریافت

    واشنگٹن: ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے اپنا پہلا سیارہ دریافت کر لیا اور اس چٹانی سیارے کا حجم تقریباً ہماری زمین جیسا ہی ہے۔

    باغی ٹی وی : LHS 475 b نامی یہ ایگزو پلینٹ 99 فیصد زمین کے قطر کے برابر ہےتاہم، زمینی سطح ہونے کے باوجود سائنسدانوں کو یہ نہیں معلوم کہ آیا اس کا کوئی ماحول ہے کہ نہیں۔ ایگزو پلینٹ ان سیاروں کو کہا جاتا ہے جو نظامِ شمسی سے باہر موجود ہوتے ہیں۔

    شُترمُرغ کے 4000 سال قدیم انڈے دریافت


    اگرچہ ماہرین کی ٹیم یہ نہیں بتاسکتی کہ وہاں کیاموجودہےلیکن اس بات کی نشاندہی ضرورکرسکتی ہےکہ وہاں کیاموجودنہیں ہے سائنسدانوں نے اس سیارے میں میتھین کی موٹی تہہ کی موجودگی نہ ہونے کے امکانات ظاہر کیے ہیں۔


    زمین سے 41 نوری سال کے فاصلے پر موجود اس سیارے کا درجہ حرارت زمین کے مقابلے میں کچھ سو ڈگری زیادہ ہے اور یہ اپنے مرکزی ستارے کے گرد دو دن میں چکر مکمل کر لیتا ہے۔


    ایسے ایگزو پلینٹ خلائی دور بینوں سے اب تک چھپے ہوئے تھے لیکن اس کی دریافت کے بعد یہ بات ایک بار پھر ثابت ہوگئی کہ جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کی ٹیکنالوجی کتنی جاندار ہے۔

    تین سیکنڈ میں آواز نقل کرنے ولا سوفٹ ویئر


    واشنگٹن میں ناسا ہیڈکوارٹرز کے آسٹروفزکس ڈویژن کے ڈائریکٹر مارک کلیمپِن نے ایک بیان میں کہا کہ زمین کے حجم کے چٹانی سیارے سے ملنے والے ان ابتدائی مشاہداتی نتائج سے مستقبل میں جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کے ذریعے چٹانی سیاروں کے ماحول کے مطالعے کے متعدد امکانات کا باب کھلتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ یہ ٹیلی اسکوپ ہمیں ہمارے نظامِ شمسی سے باہر موجود زمین کے جیسے سیاروں کے متعلق نئے فہم سے قریب سے قریب تر لے جارہی ہے، زمین کے سائز کے، چٹانی سیارے کے یہ پہلے مشاہداتی نتائج ویب کے ساتھ چٹانی سیارے کے ماحول کا مطالعہ کرنے کے لیے مستقبل کے بہت سے امکانات کے دروازے کھولتے ہیں ویب ہمیں ہمارے نظام شمسی سے باہر زمین جیسی دنیا کی نئی تفہیم کے قریب اور قریب لا رہا ہے، اور مشن ابھی ابھی شروع ہو رہا ہے۔

    جیمز ویب ٹیلی سکوپ نے کائنات کے ابتدائی دور میں بنتے ستاروں کی تصویر جاری کردی

  • جیمز ویب ٹیلی سکوپ نے کائنات کے ابتدائی دور میں بنتے ستاروں کی تصویر جاری کردی

    جیمز ویب ٹیلی سکوپ نے کائنات کے ابتدائی دور میں بنتے ستاروں کی تصویر جاری کردی

    ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے زمین سے 2 لاکھ نوری سال کے فاصلے پر موجود ستاروں کے جھرمٹ کی تصویر لی ہے جس میں کائنات کے ابتدائی دور میں بنتے ستاروں کو دیکھا جاسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی: جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کی جانب سے جاری کی گئی NGC 346 نامی ستاروں کے اس مجمع کی تازہ ترین تصویر میں دراصل ستاروں کی 10 ارب سال پُرانی تصویر ہے۔


    سائنسدانوں کی جانب سے اس جھرمٹ، جو چھوٹےسےایک میگلینِک بادل میں موجود ہے، جس میں خصوصی طور پردلچسپی لی گئی ہے کیوںکہ یہ ابتدائی وقت کی کائنات سے مشابہ ہیں جب ستارہ سازی کا عمل اپنے عروج پر تھا۔

    ماہرینِ فلکیات پُر امید ہیں کہ اس خطے کا مزید مطالعہ ایسے مزید سوالات کے جوابات دے گا کہ بِگ بینگ سے صرف 2 یا 3 ارب سال بعد ’کوسمک نون‘ کے دوران ابتدائی ستارے کیسے وجود میں آئے۔


    اس تصویر کے حامل تحقیقی مقالے کی مصنفہ ڈاکٹر اولیویا جونز کے مطابق ایسا پہلی ہوا ہے کہ ماہرین کسی اور کہکشاں میں کم اور زیادہ حجم والے ستاروں کے بننے کے مکمل کو دیکھ سکتے ہیں۔

    مونٹریال پروٹوکول کی کامیابی،اوزون کی سطح جلد اپنی پرانی حالت میں واپس آجائے گی، رپورٹ

    انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ ہمارے پاس ہائی ریزولوشن پر مطالعے کے لیے بہت زیادہ ڈیٹا موجود ہے جو ہمیں اس متعلق نئی معلومات دے گا کہ ستاروں کے بننے سے ان کے ماحول کیسے وجود میں آئے اور اس سے زیادہ اہم ستارے بننے کے عمل کے متعلق بتائے گا۔

    جیسے جیسے ستارے بنتے ہیں، وہ گیس اور دھول جمع کرتے ہیں، جو ارد گرد کے سالماتی بادل سے ویب کی تصویر میں ربن کی طرح نظر آتے ہیں موادایک ایکریشن ڈسک میں جمع ہوتا ہےجو مرکزی پروٹوسٹارکوکھلاتا ہےماہرین فلکیات نے NGC 346 کے اندر پروٹوسٹار کے ارد گرد گیس کا پتہ لگایا ہے، لیکن ویب کے قریب اور مشاہدات نے پہلی بار ان ڈسکوں میں دھول کا بھی پتہ لگایا ہے۔

    تحقیقاتی ٹیم کے شریک تفتیش کار یورپی خلائی ایجنسی کے گائیڈو ڈی مارچی نے کہا کہ ہم عمارت کے بلاکس دیکھ رہے ہیں، نہ صرف ستاروں کے، بلکہ ممکنہ طور پر سیاروں کے بھی ،اور چونکہ چھوٹے میجیلانک کلاؤڈ کا ماحول کائناتی دوپہر کے دوران کہکشاؤں سے ملتا جلتا ہے، اس لیے یہ ممکن ہے کہ چٹانی سیارے کائنات میں اس سے پہلے بن چکے ہوں جتنا ہم نے سوچا ہوگا۔

    2100 کے شروع تک زمین پر موجود 80 فیصد گلیشیئر پگھل سکتے ہیں

    ٹیم کے پاس Webb کے NIRSpec آلے سے سپیکٹروسکوپک مشاہدات بھی ہیں جن کا وہ مسلسل تجزیہ کر رہے ہیں۔ ان اعداد و شمار سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ انفرادی پروٹوسٹارز کے ساتھ ساتھ فوری طور پر پروٹوسٹار کے آس پاس کے ماحول کے بارے میں نئی ​​بصیرت فراہم کریں گے۔

    یہ نتائج 11 جنوری کو امریکن ایسٹرانومیکل سوسائٹی کے 241 ویں اجلاس میں ایک پریس کانفرنس میں پیش کیے گئے مشاہدات پروگرام 1227 کے حصے کے طور پر حاصل کیے گئے تھے۔

    جیمز ویب اسپیس ٹیلی سکوپ دنیا کی سب سے بڑی خلائی سائنس رصد گاہ ہےویب ہمارے نظام شمسی کے اسرار کو حل کرے گا، دوسرے ستاروں کے آس پاس دور دراز کی دنیاوں کو دیکھے گا، اورہماری کائنات کے پراسرارڈھانچے اورابتداء اوراس میں ہمارے مقام کی تحقیقات کرے گا۔ ویب ایک بین الاقوامی پروگرام ہے جس کی قیادت NASA اپنے شراکت داروں، ESA (یورپی خلائی ایجنسی) اور کینیڈا کی خلائی ایجنسی کے ساتھ کرتی ہے۔

    کائنات کی ابتدا میں موجود ہماری کہکشاں سے مشابہ کہکشائیں دریافت

  • کائنات کی ابتدا میں موجود ہماری کہکشاں سے مشابہ کہکشائیں دریافت

    کائنات کی ابتدا میں موجود ہماری کہکشاں سے مشابہ کہکشائیں دریافت

    آسٹن: ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کی مدد سے سائنسدانوں نے کائنات کی ابتدا میں ایسی کہکشائیں دریافت کی ہیں جو حیران کن حد تک ہماری کہکشاں ملکی وے سے مشابہ ہیں۔

    باغی ٹی وی: امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر آسٹن میں قائم یونیورسٹی آف ٹیکساس کے پروفیسر اسٹیون فِنکلسٹائن کی رہنمائی میں کیے جانے والے فلکیاتی سروے میں سائنسدانوں نے ایسی کہکشائیں دریافت کیں جن میں ’اسٹیلر بار‘ موجود ہیں اسٹیلر بار سلاخوں کی ایک لمبی پٹی ہوتی ہے جو کہکشاؤں کے درمیان سے کناروں تک جاتی ہے۔

    چاند سے زمین کے طلوع ہونے کا منظر کیسا ہوتا ہے؟ناسا نے ویڈیو جاری کر دی


    محققین کے مطابق جن کہکشاؤں کی نشان دہی کی گئی ہے وہ اس وقت کی ہیں جب ہماری کائنات کی عمر اس کی موجودہ عمر کی ایک چوتھائی تھی ہماری ملکی وے کہکشاں کے جیسی ’بار کہکشاؤں‘ کی کائنات کے ابتدائی وقتوں میں دریافت سے کہکشاں کے ارتقاء کے متعلق نظریوں کو جدید کرنے کی ضرورت پڑے گی۔

    میں نے ان اعداد و شمار پر ایک نظر ڈالی، اور میں نے کہا، ‘ہم باقی سب کچھ چھوڑ رہے ہیں!’” آسٹن کی یونیورسٹی آف ٹیکساس میں فلکیات کی پروفیسر شردھا جوگی نے کہا ہبل ڈیٹا میں شاید ہی نظر آنے والی پٹیاں ابھی JWST امیج میں واضح ہوئیں، جو کہکشاؤں میں بنیادی ڈھانچے کو دیکھنے کے لیے JWST کی زبردست طاقت کو ظاہر کرتی ہیں-

    ٹیم نے ایک اور ممنوعہ کہکشاں، EGS-24268 ایک اور ’بار گیلیکسی‘ کی شناخت کی، جو کہ تقریباً 11 بلین سال پہلے کی ہے، جو کہ اب تک دریافت ہونے والی سب سے قدیم دو ’بار کہکشاؤں‘ میں سے ایک ہے۔

    ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نےزندگی کیلئے موافق سیاروں کا ایک جتھہ دریافت کر…

    جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ سے پہلے ہبل ٹیلی اسکوپ سے لی جانے والی ابتدائی دور کی تصاویر میں یہ پٹیاں واضح طور پر نہیں دیکھی گئیں تھیں۔ہبل ٹیلی اسکوپ سے لی جانے والی EGS-23205 نامی ایک کہکشاں کی تصویر میں صرف ایک سپاٹ دھبہ دِکھتا ہے جبکہ جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ سے لی گئی تصویر میں درمیان میں موجود ستاروں کی پٹی سمیت خوبصورت حلزونی کہکشاں دیکھی جاسکتی ہے۔

    ایک گریجویٹ طالب علم ” یوچن "کی” گو نے کہا کہ اس مطالعے کے لیے، ہم ایک نئے نظام کو دیکھ رہے ہیں جہاں اس سے پہلے کسی نے اس قسم کا ڈیٹا استعمال نہیں کیا تھا اور نہ ہی اس قسم کا مقداری تجزیہ کیا تھا لہذا سب کچھ ہے نئی. یہ ایک ایسے جنگل میں جانے جیسا ہے جس میں کبھی کوئی نہیں گیا تھا۔

    باریں کہکشاں کے ارتقاء میں مرکزی خطوں میں گیس کو بہا کر ستاروں کی تشکیل کو بڑھا کر اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

    ناسا نے چاند کی ایک نئی تصویر جاری کر دی

    جوگی نے کہا کہ باریں کہکشاؤں میں سپلائی چین کا مسئلہ حل کرتی ہیں۔ "جس طرح ہمیں بندرگاہ سے اندرون ملک فیکٹریوں تک خام مال لانے کی ضرورت ہے جو نئی مصنوعات تیار کرتی ہیں، اسی طرح ایک بار طاقتور طریقے سے گیس کو مرکزی علاقے میں منتقل کرتا ہے جہاں گیس تیزی سے نئے ستاروں میں تبدیل ہو جاتی ہے جس کی شرح عام طور پر 10 سے 100 گنا زیادہ ہوتی ہے۔

    باریں کہکشاؤں کے مراکز میں گیس کے راستے کے حصے کو جوڑنے کے ذریعے بڑے پیمانے پر بلیک ہولز کو بڑھانے میں بھی مدد کرتی ہیں۔

  • ناسا کے پہلے مشن اپالو7 کے آخری خلاباز انتقال کر گئے

    ناسا کے پہلے مشن اپالو7 کے آخری خلاباز انتقال کر گئے

    خلا سے براہ راست ٹی وی نشر کرنے والے ناسا کے پہلے مشن کے آخری زندہ بچ جانے والے امریکی خلاباز والٹر کننگھم 90 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔

    باغی ٹی وی: بی بی سی کے مطابق ناسا سے تعلق رکھنے والے امریکی خلا باز والٹر کننگھم اپالو پروگرام 7 کا حصہ تھے جنہوں نے 1968 میں خلا میں 11 دن کا کامیاب مشن کیا اور انہیں خلا سے ٹی وی پر براہ راست نشریات پر ایمی ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔

    والٹر کننگھم نے ایک سال سے بھی کم عرصے میں اپالو 11 کے چاند پر اترنے کی راہ ہموار کی، ناسا نے کننگھم کی موت کی تصدیق کی، اور کہا کہ والٹر نے ہمارے چاند پر اترنے کے کامیاب پروگرام میں اہم کردار ادا کیا ہے دنیا نے ایک اور حقیقی ہیرو کو کھو دیا ہے، اور ہم اسے بہت یاد کریں گے۔

    فیملی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ اسپتال میں طبعی موت مرے ہیں ہم اس زندگی پر اپنے بے پناہ فخر کا اظہار کرنا چاہیں گے جو اس نے گزاری، وہ ایک محب وطن، ایک ایکسپلورر، پائلٹ، خلاباز، شوہر، بھائی اور باپ تھا-

    کننگھم کرسٹن، آئیووا میں پیدا ہوئے تھے اور انہوں نے لاس اینجلس میں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سے طبیعیات میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ اس وقت ایک سویلین کے طور پر کام کرتے ہوئے، وہ اپالو پروگرام میں پہلی انسان بردار خلائی پرواز کے لیے چنے گئے تین خلابازوں میں سے ایک تھے۔

    اپالو 7 کے قمری ماڈیول پائلٹ کے طور پر، ان کے ساتھ بحریہ کے کیپٹن والٹر شررا اور فضائیہ کے میجر ڈون ایزیل تھے وہ اس سے قبل امریکی بحریہ اور میرینز میں خدمات انجام دے چکے ہیں اور کرنل کے عہدے پر ریٹائر ہو کر کوریا کے اوپر لڑاکا طیارے میں 54 مشن اڑ چکے ہیں۔

    1971 میں ناسا سے ریٹائر ہونے کے بعد، وہ پبلک اسپیکر اور ریڈیو ہوسٹ بن گئے۔ سائنس دانوں کے اس اتفاق کے باوجود کہ انسانوں نے زمین پر گرم اوسط درجہ حرارت میں حصہ ڈالا ہے، اس کے باوجود وہ انسانوں کی وجہ سے ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کا واضح طور پر انکار کرتے تھے-

    1999 میں ناسا کے لیے ایک انٹرویو میں، انھوں نے ایک خلاباز کے طور پر اپنے دور کے دوران اپنی ذہنیت کو بیان کیا انہوں نے کہا کہ میں ان لوگوں میں سے ہوں جنہوں نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا مجھے صرف اتنا یاد ہے کہ میں اپنی ناک کو گرائنڈ اسٹون پر رکھنا اور اپنی پوری کوشش کرنا چاہتا ہوں جیسا کہ میں کر سکتا تھا – مجھے اس وقت احساس نہیں تھا، لیکن اس کی وجہ یہ تھی کہ میں ہمیشہ اگلے مرحلے کے لیے بہتر طور پر تیار رہنا چاہتا تھا، میں ہمیشہ مستقبل کی طرف دیکھتا رہا ہوں۔ میں ماضی میں نہیں رہتا۔

    واضح رہے کہ اپالو 7 ناسا کے پروگرام میں پہلے انسانی عملے کی خلائی پرواز تھی، جس کی قیادت خلاباز والٹر ایم شررا نے کی جبکہ عملے میں کمانڈ ماڈیول کے پائلٹ ڈون ایف ایزیل اور قمری ماڈیول کے پائلٹ آر والٹر کننگھم شامل تھے۔

  • چاند سے زمین کے طلوع ہونے کا منظر کیسا ہوتا ہے؟ناسا نے ویڈیو جاری کر دی

    چاند سے زمین کے طلوع ہونے کا منظر کیسا ہوتا ہے؟ناسا نے ویڈیو جاری کر دی

    ناسا کا چاند پر جانے والا آرٹیمس 1 مشن 11 دسمبر کو واپس زمین پر اتر گیا تھا،مگر اس کے تاریخی مشن کی تصاویر اور ویڈیوز اب بھی شیئر کی جارہی ہیں۔

    باغی ٹی وی: امریکی خلائی ادارے کی جانب سے ٹوئٹر پر ایک ویڈیو شیئر کی گئی ہے اس ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ چاند کے قریب زمین کے طلوع ہونے کا منظر کیسا ہوتا ہے۔

    ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نےزندگی کیلئے موافق سیاروں کا ایک جتھہ دریافت کر…


    ناسا نے بتایا کہ ویڈیو اورین اسپیس کرافٹ نے 28 نومبر کو اس وقت ریکارڈ کی تھی جب وہ زمین سے سب سے زیادہ فاصلے پر موجود تھا آرٹیمس 1 اپنے مشن کو 25 دن میں مکمل کرکے 11 دسمبر کو زمین پر واپس اترا تھا ناسا کے مطابق جاری کی گئی ویڈیو اصل رفتار سے 900 گنا زیادہ ہے اور اسے گھمایا اور کاٹا گیا ہے۔

    زمین پر پانی کی پیمائش کیلئےاہم مشن پر روانہ

    زمین کی فضا میں داخل ہونے پر اورین کیپسول میں آگ لگ گئی تھی مگر وہ سمندر میں اترنے میں کامیاب رہا،آرٹیمس 1 مشن کو نومبر 2022 میں ناسا کی تاریخ کے سب سے بڑے اسپیس لانچ سسٹم راکٹ کے ذریعے روانہ کیا گیا تھا –

    آرٹیمس 1 کے بعد آرٹیمس 2 مشن میں انسانوں کو خلا میں بھیجا جائے گا اور ایسا 2024 میں متوقع ہے، البتہ یہ مشن چاند پر لینڈ نہیں کرے گا آرٹیمس 3 وہ مشن ہوگا جس میں خلا بازوں کو 2025 میں چاند پر بھیجا جائے گا اور یہ وہاں کے قطب جنوبی پر لینڈ کرے گا۔

    یو اے ای نے چاند پر لینڈ کرنے والا مشن روانہ کر دیا