Baaghi TV

Tag: وزیراعظم

  • کورونا کے باعث بند سرحدیں جلد کھول دی جائیں گی: وزیر اعظم نے خوشخری سنا دی

    کورونا کے باعث بند سرحدیں جلد کھول دی جائیں گی: وزیر اعظم نے خوشخری سنا دی

    ویلنگٹن:کورونا کے باعث بند سرحدیں جلد کھول دی جائیں گی: وزیر اعظم نے خوشخری سنا دی ،اطلاعات کے مطابق نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ نیوز لینڈ اس مہینے کے دوران اپنی سرحدیں بتدریج کھولنے کا سلسلہ شروع کر دے گا۔

    بین الاقوامی میڈیا کے مطابق اس بات کا اعلان نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن نے جمعرات کو کیا۔ تاہم مکمل طور پر سرحدیں کھولنے اور پابندیاں ختم کرنے کا عمل اکتوبر سے پہلے مکمل نہیں ہو گا۔

    پہلے مرحلے میں نیوزی لینڈ کے ایسے باشندوں کے لیے ہوٹل قرنطینہ کی پابندی ختم کی جائے گی جو غیر ممالک میں پھنسے ہیں۔ جبکہ آخری مرحلے میں دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں کو ملک میں داخلے کی اجازت دے دی جائے گی جو اکتوبر میں جا کر مکمل ہو گا۔

    کورونا کے پھیلا ؤسے بچنے کے لیے نیوزی لینڈ نے دنیا بھر میں سخت ترین سرحدی بندشوں میں سے ایک کا اطلاق کر رکھا ہے۔ نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے پانچ مرحلوں میں پابندیاں ختم کرنے کے منصوبے کا بتایا

    دنیا کورونا وائرس کی پانچویں لہر کے نرغے میں آ چکی ہے، اس کے مریضوں اور اس کے باعث اموات میں مسلسل اضافہ جاری ہے، کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد دنیا کورونا وائرس کی پانچویں لہر کے نرغے میں آ چکی ہے، اس کے مریضوں اور اس کے باعث اموات میں مسلسل اضافہ جاری ہے، کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد دنیا کورونا وائرس کی پانچویں لہر کے نرغے میں آ چکی ہے، اس کے مریضوں اور اس کے باعث اموات میں مسلسل اضافہ جاری ہے، کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 386,259,558 تک جا پہنچی ہے جبکہ اس موذی وائرس سے اموات 5,721,621 ہو چکی ہیں۔

    کورونا وائرس کے دنیا بھر میں76,882,290مریض اسپتالوں، قرنطینہ مراکز میں زیرِ علاج اور گھروں میں ا?ئسولیشن میں ہیں، جن میں سے 94 ہزار 482 مریضوں کی حالت تشویش ناک ہے جبکہ 29 کروڑ 48 لاکھ 61 ہزار 612 کورونا مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔کورونا وائرس کے کیسز اور اس سے اموات کے اعتبار سے 10 سرِ فہرست ممالک میں 33 کروڑ سے زائد ا?بادی کا حامل امریکا تا حال پہلے نمبر پر ہے جہاں اس وائرس سے اب تک 9 لاکھ 6 ہزار 861 افراد موت کے منہ میں پہنچ چکے ہیں جبکہ اس سے بیمار ہونے والوں کی مجموعی تعداد 7 کروڑ 54 لاکھ 81 ہزار 122 ہو چکی ہے۔

  • وزیراعظم عمران خان کشمیریوں کےدلوں کی دھڑکن    :وادی کشمیرمیں عمران خان کی تصاویروالےپوسٹرچسپاں

    وزیراعظم عمران خان کشمیریوں کےدلوں کی دھڑکن :وادی کشمیرمیں عمران خان کی تصاویروالےپوسٹرچسپاں

    سرینگر:وزیراعظم عمران خان کشمیریوں کےدلوں کی دھڑکن:مقبوضہ وادی میں عمران خان کی تصاویروالےپوسٹرچسپاں ،اطلاعات کے مطابق غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیرمیں قائد اعظم محمد علی جناح، پاکستانی وزیر اعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کی تصاویر والے پوسٹرز وادی کشمیر میں آویزاں کئے گئے ہیں۔

     

     

    یہ پوسٹرز کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے ہرسال 5 فروری کوپاکستان ، آزاد کشمیر اور دنیا بھر میں منائے جانیوالے یوم یکجہتی کشمیر سے قبل مقبوضہ وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں چسپاں کئے گئے ہیں۔سرینگر سمیت وادی کے بیشتر حصوں میں چسپاں کئے گئے پوسٹروں میں تمام بین الاقوامی فورموں پر کشمیریوں کا مقدمہ موثر انداز میں پیش کرنے پر پاکستان کے عوام، وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کاشکریہ ادا کیا گیا ہے۔پوسٹروں میں بھارتی تسلط سے مکمل آزادی تک اپنی حق پر مبنی جدوجہد جاری رکھنے کے کشمیری عوام کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا ہے۔

     

    واضح رہے کہ یوم یکجہتی کشمیر پہلی مرتبہ 5فروری 1991کو منایا گیا جب پاکستان کی پوری سیاسی قیادت نے متفقہ طور پر بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر کے مظلوم عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیاتھا۔

    یہ بھی یاد رہےکہ عمران خان پاکستان کے پہلے وزیراعظم ہیں جنہوں نے کشمیریوں کی تحریک آزادی کےلیے پہلی مرتبہ اقوام متحدہ ، اوآئی سی اور دیگرعالمی فورمز پر کیس لڑا ، یہی وجہ ہےکہ کشمیری وزیراعطم عمران خان کو سفیر کشمیر کے نام سے یاد کرتے ہیں‌

  • پی آئی اے میں ڈیپوٹیشن پرتعینات 3 افسران کی ملازمت میں توسیع کی سمری ارسال

    پی آئی اے میں ڈیپوٹیشن پرتعینات 3 افسران کی ملازمت میں توسیع کی سمری ارسال

    پی آئی اے میں ڈیپوٹیشن پرتعینات 3 افسران کی ملازمت میں توسیع کی سمری وزیراعظم عمران خان کوارسال کر دی گئی ہے

    پی آئی اے میں تعینات 3 افسران جواد ظفرچوہدری،عامرالطاف،محمد عدیل کی مدت ملازمت میں توسیع کی سمری وزیراعظم ہاؤس کو بھجوائی گئی ہے، نجی ٹی وی کے مطابق حکام نے وزیراعظم عمران خان سے ان تین افسروں کی مدت ملازمت میں ایک برس کی توسیع کی درخواست کی ہے،

    وزارت دفاع نے ڈیپوٹیشن افسران کی مدت ملازمت میں 6 ماہ کی توسیع کا کہا ہے افسران میں سے دو کی 3 سالہ ڈیپوٹیشن بالترتیب14 اور15 جنوری 2022 کو ختم ہوئی،عامر الطاف کی 3 سالہ ڈیپوٹیشن کی مدت 21 فروری کو اختتام پذیرہو گی،سمری میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کی جاری تنظیم نوکے لئے افسران کی ملازمت میں توسیع انتظامیہ نے ضروری قراردی ہے انتظامیہ کے مطابق ایچ آر اور آپریشنز میں تعینات ان افسران کا متبادل موجود نہیں ہے،

    مارچ 2018 سے سپریم کورٹ احکامات کے تناظرمیں مناسب نئی بھرتی بھی ممکن نہیں اس مرحلے پران افسران کی تبدیلی ری اسٹرکچرنگ عمل کو بری طرح متاثر کرسکتی ہے 24مارچ 2020 کو دیگرافسران کے ساتھ یہ افسران 3 سالہ ڈیپوٹیشن پرائرلائن میں تعینات ہوئے سمری کے پیرا 6 میں شامل تجویز پروزیر اعظم سے منظوری طلب کی گئی

    دوسری جانب 2020 سے ائر ٹریفک کنٹرولر سمیت دیگر لائسنسز اجرا کے منتظر افراد کے لئے اچھی خبر ، عالمی ہوابازی کی تنظیم اکاو کی کلیئرنس کے بعد سی اے اے کا ائیر ٹریفک کنٹرولر اور اے ایم ای لائسنس اجرا کی بحالی اعلان کر دیا ،ڈائریکٹر پرسنل لائسنسنگ نے لائسنس اجرا کے منتظر درخواست گزاروں کے لئے مراسلہ جاری کردیا ، سی اے اے حکام کا کہنا ہے کہ کراچی:اکاو نے سی اےاے کو زیر التوا لائسنس کے اجراء کے عمل کو بحال کردیاہے، فضائی میزبان اور فلائٹ آپریشنز آفیسرز کے پرسنل لائسنس کے اجراء کی بحالی کے لیئے کوشاں ہیں،امیدواروں کی جانب سے نئے لائسنس اجراء کے لیئے جمع کرائے گئے دستاویزات کی جانچ کے بعد فیصلہ کیا جائے گا، اجرا کے لئے مروجہ طریقہ کار کے مطابق لائسنس جاری کیا جائے گا کچھ امتحانات میں پاس درخواست گزاروں کی فراہم کردہ تفصیلات کی تصدیق کی جائے گی ریکارڈ کی تصدیق کے بعد کیس ٹو کیس فیصلہ کیا جائے گامتعلقہ امیدوار مکمل دستاویزات کے ساتھ لائسنس اجرا کے لئے درخواستیں 15 مارچ 2022 تک پرسنل لائسنسنگ ڈائریکٹوریٹ کو بھیج سکتے ہیں،اکاوکے تحفظات کے باعث یکم ستمبر 2020 سے لائسنس کا اجراء معطل چلا آ رہا تھا

    اگلی سپر پاور چین ہو گا، سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کے اہم انکشافات

    سول ایوی ایشن اتھارٹی ،طیارہ حادثات میں مرنیوالوں کا قاتل کون؟ ہم نہیں چھوڑیں گے، مبشر لقمان کا دبنگ اعلان

    وہ قوم جو ہر سال 200 ارب جلا ڈالتی ہے، سنیے سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان کی زبانی

    جہازکریش، حقائق مت چھپاؤ ، جواب دو، مبشر لقمان کا پالپا کو کھلا چیلنج

    کاش. پی آئی اے والے یہ کام کر لیتے تو PK8303 کا حادثہ نہ ہوتا، سنیے مبشر لقمان کی زبانی اہم انکشافات

    ماشاء اللہ، پی آئی اے کے پائلٹ ماضی میں کیا کیا گل کھلاتے رہے ؟سنئے مبشر لقمان کی زبانی

    سول ایوی ایشن نے گونگلوؤں سے مٹی جھاڑ دی،پائلٹ کوذمہ دار ٹھہرانے کا لیٹر کیوں جاری کیا گیا؟ سنئے مبشر لقمان کی زبانی

    طیارہ حادثہ،ابتدائی رپورٹ اسمبلی میں پیش، تحقیقاتی کمیٹی میں توسیع کا فیصلہ،پائلٹس کی ڈگریاں بھی ہوں گی چیک

    طیارہ حادثہ، تحقیقات کے لئے جے آئی ٹی تشکیل

    لاشوں کی شناخت ،طیارہ حادثہ میں مرنیوالے کے لواحقین پھٹ پڑے،بڑا مطالبہ کر دیا

    کراچی طیارہ حادثہ،طیارہ ساز کمپنی ایئر بس نے ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ جاری کر دی

  • چین سے کہیں گے ہماری مدد کریں،وزیرخزانہ شوکت ترین

    چین سے کہیں گے ہماری مدد کریں،وزیرخزانہ شوکت ترین

    وزیرخزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ چین سے کہیں گے ہماری مدد کریں،اپنی انڈسٹری کو پاکستان میں بھی لائیں۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق وزیرخزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف قسط سے معیشت مستحکم ہوگی چین سے کہیں گے اپنی انڈسٹری کو پاکستان میں بھی لائیں وزیراعظم چین سے کہیں گے کہ زراعت کے پلان میں ہماری مدد کریں کیونکہ زراعت کا شعبہ ہمارے لیے اہم ہے۔

    بجلی کی فی یونٹ قیمت میں کتنی کمی کا امکان ہے؟ نیپرا نے خوشخبری سنا دی

    وزیرخزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کا پاکستان کےلیے قسط منظورکرنا خوش آئند ہے آئی ایم ایف ہماری معاشی حکمت عملی کوتسلیم کرتی ہے۔ ہمارے لیے دورہ چین سیاسی اورمعاشی طورپربہت اہم ہے چین کو کہنے جارہے ہیں ہماری مدد کریں، اپنی انڈسٹری کو پاکستان میں بھی لائیں۔

    مشیرتجارت عبدالرزاق دائود نے دورہ چین سے پہلے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ دورہ چین انتہائی اہم ہے دورے کے دوران تجارت کے حوالے سے چین سے بات کریں گے چاول،سیمنٹ سمیت زراعت کے شعبے کےلیے کافی فائدہ ہوگا، جس سے ہمارا ایکسپورٹ بڑھے گا۔

    لاہورائیرپورٹ پرڈیڑھ کروڑ روپے مالیت کی غیر ملکی اورملکی کرنسی برآمد ،3 مسافر…

    سال 2022 کا پہلا غیر ملکی دورہ،وزیراعظم وزراء کے ہمراہ چین روانہ ،وزیرِ اعظم عمران خان کا دورہ چین وزیرِ اعظم عمران خان وزراء کے وفد کے ہمراہ 4 روزہ دورہ چین کیلئے روانہ ہو گئے

    وفد میں وزیرِ خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی، وزیرِ خزانہ شوکت فیاض ترین، وزیرِ منصوبہ بندی اسد عمر، وزیرِ اطلاعات و نشریات فواد چوہدری، مشیرِ قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف، مشیرِ تجارت عبدالرزاق داؤد اور معاونِ خصوصی چین پاکستان اقتصادی راہداری خالد منصور شامل ہیں،وزیرِ اعظم چین میں سرمائی اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں شرکت کریں گے. وزیرِ اعظم عمران خان چینی صدر شی جن پنگ اور چینی پریمئیر لی کی چیانگ سے اہم ملاقاتیں کریں گے. اسکے علاوہ وزیرِ اعظم پاکستان میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھنے والے چینی سرمایہ کاروں کے وفود سے بھی ملاقاتیں کریں گے.

    دورہ پاکستان: کھلاڑی اپنی فیملیز کیساتھ مشاورت کریں گے اور اپنے جواب کے ساتھ واپس…

    وزیراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر معید یوسف کا کہنا ہے کہ ‏پاکستان اورچین کی شراکت داری کا کلیدی کردارہے،دورہ چین اہم ہے مستحکم افغانستان پاکستان کیلئے ضروری ہے .ملکی دفاع کے لیے دن رات کام کرنے والوں کو سلام پیش کرتے ہیں، بلوچستان میں دہشت گردی کے حملوں کے ذمہ داروں کو چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی مشیرتجارت عبدالرزاق داؤد کا کہنا ہے کہ دورہ چین سے ہماری برآمدات میں اضافہ ہوگا، ‏دورہ چین سے ہماری برآمدات میں اضافہ ہوگا، چین سے مختلف شعبوں کیلئے ٹیکنالوجی حاصل کی جائے گی، دورہ چین میں دوطرفہ تجارت کے فروغ پر گفتگو ہوگی،

    وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے دورہ چین کا مقصد سرمائی اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کرنا ہے۔ وزیراطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان آج چین کے دورے پرروانہ ہوں گے وزیراعظم کے دورے کا مقصد سرمائی اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کرنا ہے سرمائی اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں 20 ممالک کے سربراہان شرکت کریں گے۔

    سری لنکا پاکستان سے 20 کروڑ ڈالر قرض لے گا

    فواد چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی چین کے صدر شی جن پنگ اور وزیراعظم لی کی چیانگ سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں ہوں گی چین کے صدر شی جن پنگ 2سال بعد کسی عالمی رہنما سے ملاقات کریں گے جو وزیراعظم عمران خان ہیں وزیراعظم کے دورہ چین سے پاکستان اورچین کے گہرے تعلقات کی وسعت میں مزید اضافہ ہوگا۔

    وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ وزیراعظم عمران خان چین کے دورے میں مختلف کاروباری شخصیات اور بڑے سرمایہ کاروں سے ملاقاتیں کریں گے۔ چین سے کئی کاروباری اور صنعتی یونٹس پاکستان منتقل ہوں گے۔

    پاکستان کیلئے پروگرام کی چھٹی قسط کی منظوری:آئی ایم ایف کے ساتھ ساتھ بلاول اور…

    قبل ازیں ترجمان وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ چینی قیادت کی خصوصی دعوت پر وزیراعظم ونٹر اولمپک گیمز کی افتتاحی تقریب میں شرکت کریں گے، ان کے ہمراہ کابینہ کے ارکان اور اعلیٰ سرکاری افسران سمیت اعلیٰ سطح کا وفد بھی ہوگا وزیراعظم اپنے دورے میں صدرشی جن پنگ، وزیراعظم لی کی چیانگ سے ملاقاتیں کریں گے، اس دوران سی پیک سمیت تجارتی اور اقتصادی تعاون مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دی جائےگی جب کہ چین میں قیام کے دوران ملاقاتوں میں اہم علاقائی اور عالمی امورپربھی پرتبادلہ خیال ہوگا۔

    پنجاب حکومت ایک لاکھ 30 ہزار بھرتیاں کرے گی،عثمان بزدار

    ترجمان نے کہا تھا کہ وزیراعظم کادورہ پاک چین سفارتی تعلقات کےقیام کی 70 ویں سالگرہ کی یادگاری تقریبات کا اختتام ہوگا، وزیراعظم کے دورے میں متعدد ایم او یوز اور معاہدوں پر دستخط کیے جائیں گے وزیراعظم عمران خان بیجنگ میں چین کی کاروباری شخصیات اورسرکردہ تھنک ٹینکس سےخطاب کریں گے جب کہ چین میں تعلیمی اداروں اور میڈیا کے نمائندوں سے بھی ملاقات کریں گے۔

    نواز شریف کی واپسی سے متعلق اٹارنی جنرل کا خط توہین عدالت کے مترادف ہے شہباز شریف

    شہبازشریف اورجہانگیر ترین کیس کی تحقیقات کرنے والے افسران کے تبادلے منسوخ

  • چین غصے میں، وزیراعظم معافی مانگیں گے؟

    چین غصے میں، وزیراعظم معافی مانگیں گے؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ آجکل عمران خان کے دورہ چین کا بہت شور مچا ہوا ہے ۔ وزیر مشیر بھانت بھانت کی چیزیں نکال کے لارہے ہیں کہ کپتان جب چین کی سرزمین پر قدم رکھے گا تو پتہ نہیں کیا ۔۔۔ انی ۔۔۔ مچا دینی ہے ۔ ۔ حالانکہ سچ اور حقیقت یہ ہے عمران خان نے اپنے ہاتھوں سے سی پیک کو دفن کرنے کی کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی ہے ۔ اس لیے اس دورہ کے شروع ہونے سے پہلے ہی چہ مگوئیاں شروع ہوگئی ہیں کہ ۔ کیا عمران خان چین کا ناکام دورہ کرنے جا رہے ہیں ؟؟؟۔ کیونکہ اس وقت جو اطلاعات اور خبریں وزارت خارجہ سے باہر نکل رہی ہیں ان کے مطابق بڑے مشکل حالات میں یہ دورہ ہونے جارہا ہے ۔ چینی قیادت بھی پاکستانی عوام کی طرح کپتان سے ناراض دیکھائی دیتی ہے ۔ یہاں تک کہ اب لوگ کہہ رہے ہیں کہ پہلے ایک ملک کا سربراہ عمران خان کا فون نہیں اٹھاتا تھا تو دوسرا فون نہیں کرتا تھا ۔ اور اب شاید تیسرا کے بارے کہا جائے کہ وہ اپنے گھر بلا کر ملتا بھی نہیں ۔ ۔ اللہ نہ کرے ایسا ہو۔ میری دعا ہے اور خواہش بھی ہے کہ یہ ملاقات ہوجائے ۔ کیونکہ عمران خان سے تمام تر اختلاف کے باوجود یہ پاکستان کے لیے نقصان دہ ہوگا ۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بات کو آگے بڑھانے سے پہلے یاد کروادوں کہ گذشتہ سال داسو میں دہشت گرد حملے میں چینی کارکنوں کی ہلاکتوں اور سی پیک کی سست روی کی وجہ سے چین اور پاکستان کے تعلقات سردمہری کا شکار رہے ہیں۔ اس حوالے سے بڑی کھل کر میڈیا پر بھی بات ہوتی رہی ہے اور چینی کمپنیوں کے عہدیداروں سمیت دیگر چینی ۔۔۔ پاکستانیوں سے برملا اس کا اظہار بھی کرتے رہے ہیں ۔ ایک دو ایسی ملاقاتوں کا تو میں خود بھی راوی ہوں ۔ ۔ اسٹوری کچھ یوں ہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان چینی صدر شی جن پنگ کی دعوت پر سرمائی اولمپکس کی تقریبات میں شرکت کے لیے تین سے پانچ فروری کے دوران بیجنگ کا دورہ کریں گے۔ پر ابھی تک کی اطلاعات کے مطابق عمران خان کی ملاقات صرف چینی وزیر اعظم سے کروائی جائیگی ۔ صدر شی جن پنگ نہیں ملیں گے ۔ یہاں تک کہ سائیڈ لائن پر بھی ان دونوں کی ملاقات کا کوئی امکان نہیں ہے ۔ ۔ دراصل عمران خان کے دورے کا مقصد بیجنگ کے سی پیک اور پاکستان میں چینی کارکنوں کے تحفظ سے متعلق خدشات دور کرنا اور دونوں پڑوسی ممالک کے دیرینہ اوردوستانہ تعلقات کے تاثر کو قائم رکھنے کی کوشش ہے۔ آسان الفاظ میں آپ کہہ سکتے ہیں چینیوں نے عمران خان کو جواب طلبی کے لیے بلایا ہے ۔ کہ بھائی جان ان تین سالوں میں سی پیک پر آپ نے کیا progressکی ہے ۔ اسی لیے آپ نے دیکھا ہو گا کہ گزشتہ کئی دنوں سے کپتان نے ۔۔۔ سی پیک ۔۔۔۔۔۔ سی پیک ۔۔۔کی گردان شروع کی ہوئی ہے ۔ ۔ جیسے چند روز پہلے عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے ملک سے غربت کے خاتمے اور عام آدمی کا معیار زندگی بہتر بنانے کے لیے بھی چین کا ماڈل اپنانا چاہتے ہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ تو پہلے تین سال تک یہ سب کچھ بھولے ہوئے اب دو تین روز پہلے عمران خان کہہ رہے تھے کہ سی پیک پاکستان اور چین کا بہترین مشترکہ منصوبہ ہے ۔ عوام اور ریاستی ادارے سی پیک میں رکاوٹیں ڈالنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کیلئے پرعزم ہیں۔ ۔ آجکل ان کو یہ سب کچھ بہت یاد آرہا ہے ۔ حالانکہ اس دور حکومت میں سی پیک کو عملی طور پر رول بیک کرنے پوری پوری کوشش ہوئی ۔ ۔ صورتحال یہ ہے کہ اب امریکہ نے ہم سے تمام کام کروا لیے ہیں ۔ افغانستان سے وہ بخیر و عافیت نکل چکا ہے اور ہماری ان کو ضرورت نہیں رہی ہے تو انھوں نے تو ہم کو مکمل طور پر جواب دیا ہوا ہے ۔ حالانکہ ہم نے بڑی کوشش کی ۔ کہ جوبائیڈن کم ازکم ہمارے وزیراعظم کو فون ہی کرلے ۔ مگر ہم کو ہمیشہ ٹکا سا ہی جواب ملا ہے ۔ اب کیونکہ ہم کو امریکہ بھی لفٹ نہیں کروا رہا ہے ۔ بھارت کے ساتھ بھی تجارت نہیں شروع ہوپارہی ہے ۔ ایران اور افغانستان کے ساتھ بھی معاملات کچھ بہتر نہیں۔ بردار اسلامی ممالک کے ساتھ بھی تعلقات آپ کے سامنے ہیں ۔ تو لے دے کر صرف چین ہی بچتا ہے ۔اسی لیے کپتان اب بچھے بچھے جا رہے ہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مجھ سے یہ ڈپلومیٹ الفاظ استعمال نہیں ہوتے ۔ سچ یہ ہے کہ عمران خان اب چین معافی مانگنے جارہے ہیں ۔ اور یہ اتنی آسانی سے نہیں ملنی ۔ اب کی بار بیجنگ سے بھی ہم کو ایک لمبی لسٹ ملنی ہے ۔ وہ کہتے ہیں نا ۔۔۔ ہاتھاں نال لائیں گنڈاں داندان نال کھولنیاں پیندی نے ۔۔۔ عمران خان کے دورے کا دوسرا مقصد پاکستان کی طرف سے اسلام آباد اور بیجنگ کے دوستانہ روابط کا تاثر دینا ہے۔ کیونکہ آپ دیکھیں دنیا میں کوئی ایسا ملک نہیں رہ گیا جو ہمارا ساتھ دیتا ہو ۔ چاہے ہمارے بردار اسلامی ممالک کیوں نہ ہوں ۔ واحد چین ہی آخری سہارا رہ گیا ہے ۔ عمران خان نے داسو واقعہ کے بعد اس سرمائی اولمپکس کو ایک موقع کے طور پر بھی دیکھا ہے کہ چین کے ساتھ کھڑا ہوا جائے کیونکہ بہت سے ممالک نے ان اولمپکس کا بائیکاٹ کیا ہوا ہے ۔ جبکہ اس اولمپکس میں اب وزیراعظم پاکستان شرکت کریں گے تو دنیا کے ساتھ ساتھ چین کے اندر بھی پاکستان کی جانب سے ایک اچھا پیغام جائے گا ۔ پر اس سب کے ساتھ عمران خان کے دورے کے دوران چین کی جانب سے اٹھائے جانے والے سوالات پر غور ہوگا ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اسی سلسلے میں گزشتہ ہفتے وزیر اعظم عمران خان کی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹننٹ جنرل ندیم انجم سے ملاقات ہوئی ۔ اور لگتا ہے یقیناً اس ملاقات میں بھی چین کی جانب سے سی پیک اور اس کے ورکرز کی سکیورٹی سے متعلق سوالات سے نمٹنے کے لیے مربوط حکمت عملی پر گفتگو ہوئی ہوگی ۔ ۔ عمران خان فوجی قیادت سے علیحدہ ملاقات کے علاوہ وفاقی وزرا اور سی پیک کے متعلقہ حکام سے بھی ملے تھے جنھوں نے وزیر اعظم کو چین کے دورے سے متعلق بریفنگ دی تھی۔ یعنی ادارے ہوں یا دیگر سب ہی عمران خان کو اس حوالے سے بریف کررہے ہیں کیونکہ یہ دورہ بڑا حساس ہے ۔ ایک غلطی پاکستان کو اس کے دیرینہ دوست سے دور کر سکتی ہے ۔ کیونکہ اس دورے کا ایک ہی بنیادی مقصد ہے کہ بیجنگ کا اسلام آباد پر اعتماد کسی طرح بحال ہو جائے۔ ۔ پھر عمران خان کی بیجنگ میں موجودگی کے دوران روسی صدر ولاد میر پیوتن سے بھی ملاقات ممکن ہے۔ یوکرائن کی وجہ سے امریکہ کے ساتھ حالیہ تناؤکے سبب روس خطے میں اپنے حامیوں کی تعداد میں اضافہ کرنا چاہے گا اور اس سلسلے میں پاکستان ایک اہم ملک ہے۔ افغانستان کی وجہ سے بھی پاکستان کی اہمیت بنتی ہے اور چین اور روس کے افغانستان میں مفادات موجود ہیں، جن وہ ضرور تحفظ کرنے کے لیے اسلام آباد کے ساتھ تعلقات کو مزید بہتر بنانے کی کوشش کریں گے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یوں اگر عمران خان چینی قیادت اور روسی صدر سے ملاقاتوں کے پاکستان کا کیس صحیح طرح اٹھا لیں تو پاکستان کے حق میں بہت بہتر نتائج سامنے آسکتے ہیں ۔ پر اگر وہاں جا کر بھی انھوں نے اپنی ملکی سیاست ، اپنا مغرب اور تاریخ بارے علم بتانا شروع کردیا اور وزارت خارجہ کی جانب سے دیے گئے پوائنٹس اور معاملات تک نہ رہے تومعذرت کے ساتھ کامیابی کے امکانات کم ہیں ۔ ۔ موجودہ حالات میں پاکستان کو اس دورہ کی کامیابی کی اشد ضرورت ہے ۔ کیونکہ پاکستان چین سے 3ارب ڈالر کے قرضے اور چھ شعبوں میں سرمایہ کاری کا خواہاں ہے۔ ۔ یاد رہے چین پہلے ہی کمرشل قرضوں اور فارن ایکسچینج ریزرو سپورٹ اقدامات کی شکل میں پاکستان کو11 ارب ڈالر دے چکا ہے۔ گزشتہ ماہ پاکستان کو سعودی عرب سے تین ارب ڈالر قرضہ ملا تھا جو پاکستان خرچ کر چکا ہے۔ سعودی قرضہ ملنے سے پہلے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر15.9ارب ڈالر تھے جو رواں ماہ پھر16ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔۔ وزیراعظم ملاقاتوں کے ساتھ ساتھ فنانس، ٹریڈ اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں چین سے معاونت کی درخواست کرینگے۔ کل کے روز انکے دورے کا ایجنڈا ترتیب دینے کیلئے حتمی اجلاس ہوگا۔ میرے خیال سے وزیر اعظم جو تجاویز پیش کی جائیں اور جو باتیں بریف کی جائیں اس پر ہی عمل کرنا چاہیئے کیونکہ یہ ہی پاکستان کے لیے بہتر ہوگا ۔ ۔ یہاں اس بات کی نشاندہی کر دوں کہ یہ جو سینیٹر فیصل جاوید خان نے وزیر اعظم عمران خان ، سابق صدر و جنرل پرویز مشرف ، آصف زرداری اور نواز شریف کے بیرون ممالک دوروں پر آنے والے اخراجات کا موازنہ پیش کر دیا ہے ۔ اس موقع پر یہ اس دورے کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا رہا ہے یہ آپکو domestic politicsکے لیے تو شاید فائدہ مند ہو ۔ پاکستان کے لیے کسی صورت فائدہ مند نہیں ۔ اگر انھوں نے موازنہ پیش کرنا ہی ہے تو زرداری ، مشرف ، نواز شریف اور عمران خان کے دوروں کا یہ موازنہ پیش کریں کہ کس نے کیا کیا کامیابی حاصل کی ۔ سچ پوچھیں تو اس میں یقیناً عمران خان کا نام سب سے آخر میں ہی آئے گا ۔۔ سچ یہ ہے کہ پاکستان میں جو بھی حکمران آیا ہے ڈکیٹیر ہو یا جمہوری ۔۔۔ اس نے بڑی اچھی طریقے سے امریکہ اور چین کے درمیان تعلقات بحال رکھے ہیں یہ پہلا دور ہے جس میں ہمارے ملک مسائل تو بڑھے ہی ہیں ساتھ ہی خارجہ محاذ پر بھی ہمارے تعلقات خراب ہی ہوئے ہیں ٹھیک نہیں رہے ۔

  • دعا کرنی چاہیے کہ اور بھی لوگ نااہل ہوں،وزیراعظم

    دعا کرنی چاہیے کہ اور بھی لوگ نااہل ہوں،وزیراعظم

    دعا کرنی چاہیے کہ اور بھی لوگ نااہل ہوں،وزیراعظم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جب برطانیہ گیا تو پہلی بار فلاحی ریاست دیکھنے کو ملا،

    وزیراعظم عمران خان نے بہاولپور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹرز اور نرسز امیر و غریب میں کوئی فرق نہیں کرتے تھے،پاکستان کو ایک فلاحی ریاست بننا تھا،وہاں اگر کسی کے پاس پیسہ نہیں ہوتو مفت علاج ہوتا تھا،میں نے برطانیہ میں اللہ کی برکت دیکھی،برطانیہ کا ہیلتھ بجٹ پاکستان کے بجٹ سے کئی گنا زیادہ ہے،جب برطانیہ گیا تو پہلی بار فلاحی ریاست دیکھنے کوملی،خیبرپختونخوا حکومت نے پہلی بار ہیلتھ کارڈ شروع کیا،صحت کارڈ دنیا کے امیر ترین ملکوں میں بھی نہیں اب پرائیویٹ ہسپتال دیہی علاقوں میں بھی بنائے جائیں گے کیونکہ نیا پاکستان ہیلتھ کارڈ رکھنے والوں کے پاس اب بڑے شہروں کا سفر کیے بغیر علاج کروانے کا آپشن ہوگا ،کورونا سے پوری دنیا کی معیشت متاثر ہوئی، کچھ لوگوں کو کھانسی بھی ہو تو بیرون ملک علاج کیلئے چلے جاتے ہیں، سابقہ حکومتوں نے عوام پر کبھی اتنا پیسہ خرچ نہیں کیا،ہیلتھ کارڈ سے صحت کے شعبے میں انقلاب آئے گا، یونیورسل ہیلتھ کوریج سے نجی سیکٹر چھوٹے شہروں میں اسپتال بنائے گا،

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ تنقید اچھی چیز اور یہ جمہوریت کا حسن ہوتا ہے،تنقید بھی مناسب ہونی چاہیے پھر بھی کہتے ہیں کہ حکومت نا اہل ہے،نااہل حکومت دنیا کے ٹاپ 3 پوزیشن پر کیسے آئی، ہم نے بہترین طریقے سے ملک کو کورونا سے بچایا،ہم نے ملک کومعاشی بحران سے بھی بچایا اس طرح دعا کرنی چاہیے کہ اور بھی لوگ نااہل ہوں،پاکستان اب کرپشن کے الزامات اور کرپٹ لیڈروں کی وجہ سے ماضی کی طرح سرخیوں میں نہیں آتا۔ ہمیں یہ سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ ماضی میں ہم اقتدار میں زوال پذیر حکمرانوں کی وجہ سے مسلسل نیچے کیوں چلے جاتے تھے مسلم لیگ ن نے قرضے لے کر گروتھ حاصل کی دنیا حیران ہے مقصود چپڑاسی کے بینک اکاونٹ میں 4 ارب روپے کیسے آئے؟ جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کا وعدہ کیا تھا اسے پورا کرینگے،اگلی دفعہ جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ کا افتتاح کرنے یہاں آؤں گا،

    قبل ازیں وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار سے اسلامیہ یونیورسٹی بغداد کیمپس بہاولپور میں بہاولپور ڈویژن کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کی ملاقات ہوئی ہے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے بہاولپور ڈویژن کیلئے نیا پاکستان قومی صحت کارڈ کے اجراء وزیراعلیٰ عثمان بزدار سے اظہار تشکر کیا اور کہا کہ بہاولپور ڈویژن کیلئے قومی صحت کارڈ کا اجراء پی ٹی آئی کا بہت بڑا تحفہ ہے۔ وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ عثمان بزدار کا یہ اقدام بہاولپور ڈویژن کے عوام ہمیشہ یاد رکھیں گے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ بہاولپور ڈویژن میرے دل کے قریب ہے۔عبہاولپور ڈویژن کے عوام کی فلاح و بہبود بہت عزیز ہے۔بہاولپور ڈویژن کے مسائل ترجیحی بنیادجو ں پر حل کروں گا۔عماضی میں شوبازی ہوتی رہی عملی طور پر کچھ نہیں کیا گیا۔عہماری حکومت نے عوام کی فلاح و بہبود کیلئے حقیقی منصوبے شروع کئے ہیں۔

    ندیم بابر کو ہٹانا نہیں بلکہ عمران خان کے ساتھ جیل میں ڈالنا چاہئے، مریم اورنگزیب

    ن لیگ بڑی سیاسی جماعت لیکن بچوں کے حوالہ، دھینگا مشتی چھوڑیں اور آگے بڑھیں، وفاقی وزیر کا مشورہ

    مجھے کیوں نکالا…..کس کس جماعت کو پی ڈی ایم سے نکال دیا گیا؟

    سینیٹ اجلاس ،پہلے خطاب میں یوسف رضا گیلانی کا حکومت کا ساتھ دینے کا اعلان،مولانا، مریم پریشان

    سینیٹ میں خفیہ کیمرے لگنے پر چیئرمین سینیٹ کا بڑا اعلان،ن لیگ کے مطالبے پر پی پی کا ہنگامہ

    آپ ایوان کا ماحول ٹھیک کرائیں، زبان ہمارے پاس بھی ہے،سینیٹ میں گرما گرمی

    یوسف رضا گیلانی اس وقت اہم عہدے پر،گیلانی نااہلی کیس کی سماعت ملتوی

    لاک ڈاؤن، فاقوں سے تنگ بھارتی شہریوں نے ترنگے کو پاؤں تلے روند ڈالا

    کرونا مریض اہم، شادی پھر بھی ہو سکتی ہے، خاتون ڈاکٹر شادی چھوڑ کر ہسپتال پہنچ گئی

    کرونا لاک ڈاؤن، رات میں بچوں نے کیا کام شروع کر دیا؟ والدین ہوئے پریشان

    واش روم استعمال کیا،آرڈر کیوں نہیں دیا؟گلوریا جینز مری کے ملازمین کا حاملہ خاتون پر تشدد،ملزمان گرفتار

    چیف الیکشن کمشنر پر الزامات، ن لیگ نے بڑا اعلان کر دیا

    چیف الیکشن کمشنر کوحکم دیں کیونکہ تمہارے پاس اس کی بھی ویڈیوز ہونگی،شہری کا مریم نواز کو جواب

    عام انتخابات کی تیاری کی جائے، چیف الیکشن کمشنر کا حکم آ گیا

  • وزیراعظم نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری مسترد کردی

    وزیراعظم نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری مسترد کردی

    اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کے معاونِ خصوصی برائے سیاسی روابط شہباز گِل نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری کو مسترد کردیا۔

    باغی ٹی وی : شہباز گِل نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کہا کہ پیٹرولیم منصوعات کی قیمتوں میں اس وقت کوئی تبدیلی نہیں کی جارہی ہے شہباز گِل نے مزید کہا کہ اس وقت حکومت اس بڑھتی قیمت کا بوجھ اپنے اوپر لے گی اور عوام کو اس سے بچانے کی کوشش کرے گی وزیراعظم عمران خان نے پیٹرول 11 روپے، ڈیزل 14 روپے فی لیٹر بڑھانے کی سمری کو منظور نہیں کیا-

    سال نو کا دوسرا ماہ ،حکومت کی جانب سے ایک بار پھر "پٹرولیم بم” کا تحفہ…


    شہباز گِل نے کہا کہ وزیراعظم نے کہا کہ پوری دنیا میں بڑھتی مہنگائی کی وجہ سے تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں پاکستانی عوام کو اس مہنگائی سے بچانے کے لیے حکومت ہر ممکن کوشش کرے گی، اس لئے وزیراعظم نے اس سمری کو مسترد کردیا پٹرولیم پراڈکٹس کی قیمتوں میں اسوقت کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔

    حکومت کا پانچ فروری کوعام تعطیل کا اعلان

    واضح رہے کہ اس سے قبل اوگرا نے آئندہ 15 روزکے لیے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی سفارشات کی تھی ملک میں پہلے ہی مہنگائی کی پسی عوام پراب پیٹرول بم گرائے جانے کی تیاریاں جاری تھیں، اور امکان ظاہر کیاجارہا ہے تھا کہ آج رات سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگا، جس لیے اوگرا نے اپنی سفارشات وزارت پیٹرولیم کو بھجوا دی تھی۔

    تکذیب نکاح کی اپیل مسترد: عدالت نے اداکارہ میرا کوعتیق الرحمان کی بیوی قرار دیدیا

    ذرائع نے بتایا کہ اوگرا نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 9 روپے 50 پیسےفی لیٹرتک اضافہ کی سمری بھجوائی، اور سمری میں پیٹرول 5 روپے 50 پیسے، ڈیزل 7 روپے فی لیٹر، مٹی کا تیل 9 روپے 50 پیسے اورلائٹ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 80 پیسے فی لٹراضافہ کی سفارش کی گئی تھی آئندہ 15 روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کیے جانے کا امکان تھا۔

    تھائی ایئرویز کا پاکستان کیلئے فلائٹ بحالی کا اعلان،شیڈول جاری

  • وزیراعظم نے کہا تھا کہ تین ماہ…..شیخ رشید بھی مان گئے

    وزیراعظم نے کہا تھا کہ تین ماہ…..شیخ رشید بھی مان گئے

    وزیراعظم نے کہا تھا کہ تین ماہ…..شیخ رشید بھی مان گئے
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں،

    شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان 3 فروری کو چین کا دورہ کریں گے،اپوزیشن حکومت کے خلاف کچھ نہیں کررہی،آئی ایم ایف کے پاس جانا مجبوری ہے،آئی ایم ایف کے پاس 23 بار جا چکے،آئی ایم ایف کے پاس جانا کوئی خوشی کی بات نہیں،میں نے کہا تھا فنانس بل سینیٹ سے منظور ہو جائے گا،بلوچستان میں دہشت گردی میں اضافہ ہواہے ،بی این اے اور ٹی ٹی پی دہشت گردی میں جتنا اضافہ کرے اتنا ہی ان کا مقابلہ کیا جائے گا، دورہ چین سےمستقبل کےمعاملات پرپیشرفت ہوگی،بلاول زرداری 27 فروری کو آئیں ،باقی بھی 23مارچ کو آئیں دھرنا اور لانگ مارچ میں کچھ نہیں ہونے والا،فضل ا لرحمان کو بھی آنے کا شوق ہے تو آجائیں بلاول آئیں، موسم ابر آلود نہیں ہوگا، مطلع صاف ہوگا، وفاقی کابینہ اجلاس میں وزیراعظم نے صدارتی نظام کی بات نہیں کی،

    وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا مزید کہنا تھا کہ بھارتی فوج نے گزشتہ روز5 کشمیریوں کو شہید کیا ،وزیر اعظم نے کہا 3 ماہ اہم ہیں عدم اعتماد کی بات کرنیوالوں کوپتہ ہونا چاہیے کہ بندے لانے ہوتے ہیں،افغانستان میں صورتحال سے سب واقف ہے عالمی برادری مددکرے،پی ٹی آئی بلدیاتی انتخابات میں بھر پور کردار اداکرے گی،اپوزیشن پارلیمنٹ میں کسی بھی بل پر حکومت کو شکست نہیں دے سکی،ٹریکٹر ٹرالی مارچ میں کتنے لوگ نکلے؟ اب 23 مارچ سے پیچھے نہ ہٹے، اسی تاریخ کو آئیں، اپوزیشن استعفوں کی باتیں کرتی تھی، پھر لانگ مارچ کی باتیں کرنے لگی اپوزیشن لانگ مارچ کرکے عالمی رہنماؤں کو ناراض کرنے جا رہی ہے،امریکا کے ساتھ بھی اچھے تعلقات ہونے چاہئیں،چین ہمارا ہر موسم کا دوست ہے

    وزیر داخلہ شیخ رشید سے نئے مشیراحتساب و داخلہ مصدق عباسی کی ملاقات ہوئی ہے ملاقات میں وزارت داخلہ میں کام کے طریقہ کار پر تبادلہ خیال کیا گیا وزیر داخلہ شیخ رشید اور مشیر احتساب نے حکومتی پالیسی پر مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا،وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ حکومت کی بدعنوانی کے خلاف کےکارکردگی کو مزید فعال بنایا جائے گا ،

    طورخم ،چمن بارڈر پرسکون،پاکستانیوں کو واپس لائینگے،اشرف غنی کے دل میں فتور تھا،شیخ رشید

    بھارت کو افغانستان میں منہ کی کھانی پڑی،شیخ رشید نے کیا بڑا اعلان

    بلاول کیخلاف بات نہیں سن سکتا،مولانا کو اب یہ کام کرنا چاہئے، شیخ رشید

    وہی ہوا جس کا انتظار تھا، وزیراعظم ہاؤس سے بڑا استعفیٰ آ گیا

    شہزاد اکبر کو بھاگنے نہ دیا جائے،اگلا استعفیٰ کس کا آئے گا؟ مبشر لقمان کا انکشاف

    چودھری شجاعت حسین نے وزیراعظم کومشیروں سے خبردار کر دیا

    حکومت اپنے اتحادیوں کو اپوزیشن کیمپ کی طرف نہ دھکیلے،پرویز الہیٰ

    حفیظ شیخ میری سابق کابینہ کا حصہ تھے، میں یہ کام نہیں کرنا چاہتا، یوسف رضا گیلانی کا دبنگ اعلان

    لندن سے بانی متحدہ کو لاسکتا ہوں اور نہ ہی نوازشریف کو،شیخ رشید کی بے بسی

    بھٹو کو پھانسی ہوئی تو کچھ نہیں ہوا،یہ لوگ بھٹو سے بڑے لیڈر نہیں، شیخ رشید

    مقبوضہ کشمیر میں کسی دہشتگرد کے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، شیخ رشید

    بلاول جس دن پیدا ہوا عدم اعتماد پر ہی چل رہے ہیں، شیخ رشید

    عمران خان کا خطرناک ہونے کا پیغام کس کیلئے تھا؟ شیخ رشید نے بتا دیا

  • وزیراعظم کا دورہ چین،پاکستان  3ارب ڈالر کے قرضے اور چھ شعبوں میں سرمایہ کاری کا خواہاں

    وزیراعظم کا دورہ چین،پاکستان 3ارب ڈالر کے قرضے اور چھ شعبوں میں سرمایہ کاری کا خواہاں

    اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان 3 فروری سے چین کا دورہ کریں گے اور اس موقع پر وزیراعظم چین میں سیاسی ملاقاتوں کے ساتھ ساتھ چھ شعبوں، فنانس، ٹریڈ اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں چین سے معاونت اور3ارب ڈالر کے قرضے کی درخواست کریں گے، ان کے دورے کا ایجنڈا ترتیب دینے کیلئے حتمی اجلاس منگل کو ہوگا-

    باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے نے کے مطابق وزارت خزانہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بتایا کہ حکومت چین کو3 ارب ڈالر قرضے کی درخواست دینے پر غور کر رہی ہے تاکہ زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کیا جا سکے چین پہلے ہی کمرشل قرضوں اور فارن ایکسچینج ریزرو سپورٹ اقدامات کی شکل میں پاکستان کو11 ارب ڈالر دے چکا ہے-

    پاکستان میں غربت کے خاتمے کیلئے چینی ترقیاتی ماڈل کی تقلید کرنا چاہتے ہیں، وزیراعظم

    علاوہ ازیں حکومت چین سے چھ ترجیحی شعبوں میں سرمایہ کاری چاہتی ہے۔ چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ اظفر احسن نے کہا کہ چینی سرمایہ کاروں کو ٹیکسٹائل، فٹ ویئر، فارماسیوٹیکل، فرنیچر، زراعت، آٹوموبائل، اور آئی سیکٹر میں سرمایہ کاری کی دعوت دیں گے اس کے علاوہ 75 چینی کمپنیوں کو مشرق وسطیٰ، افریقہ اور باقی دنیا کیلئے سستے ٹریڈ روٹس کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا۔

    سی پیک ناگزیر:حکومت چین اورعوام کامشکورہوں جو میرےدورہ چین کےشدید منتظرہیں:وزیراعظم عمران خان

    وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ پاک چینی دوستی سے ہٹ کر اس مرتبہ ہم مربوط اپروچ کے ساتھ چین جانے کو تیار ہیں سی پیک اتھارٹی کی شمولیت کے ساتھ حکومت نے ان شعبوں کی نشاندہی کی ہے جن میں چینی سرمایہ کار بھاری منافع کما سکتے ہیں سی پیک اتھارٹی حکام کے مطابق پاکستانی سمندر کے ذریعے چین کی یورپ کو برآمدات پر لاگت 4 ہزار یورو فی کنٹینر ہے جبکہ چین سے یہ لاگت15 ہزار یورو ہے چین کی دم توڑتی صنعتوں کی بحالی کیلئے یہ پیشکش اہم موقع ہے۔

    وزیراعظم کا دورہ چین دونوں ممالک کی شراکت داری کو مزید مضبوط کرے گا،ترجمان دفتر خارجہ

    خیال رہے کہ چین کے سرمایہ کار سستے تجارتی روٹ کا پتہ ہونے کے باوجود مالیاتی اور توانائی کی پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان میں بھاری سرمایہ کاری سے گریزاں ہیں سرکاری حکام کے مطابق پاکستان میں بجلی کے نرخ خطے کے دیگر ممالک سے مسابقانہ ہیں، اس کے علاوہ دس سال تک انکم ٹیکس میں مکمل چھوٹ اور پلانٹ، مشینری، خام مال کی ڈیوٹی فری درآمد کی سہولت حاصل ہے۔ پاکستان میں ہنرمند اور غیرہنرمند لیبر بھی سستی ہے۔

    مشیر قومی سلامتی معید یوسف کابل میں اہم ملاقاتوں میں مصروف:افغان نائب وزیراعظم سے اہم بات چیت

    ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ وزیراعظم کے دورہ چین کے دوران ریلوے کے میں لائن ون پراجیکٹ پر کسی بریک تھرو کا امکان نہیں ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ ماہ پاکستان کو سعودی عرب سے تین ارب ڈالر قرضہ ملا تھا جو پاکستان خرچ کر چکا ہے سعودی قرضہ ملنے سے پہلے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر15.9ارب ڈالر تھے جو رواں ماہ پھر16ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔

    بڑی کمپنیاں اپنےملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کریں: ان کی محنت سے سب کچھ ملا…

  • سی پیک ناگزیر:حکومت چین اورعوام کامشکورہوں جو    میرےدورہ چین کےشدید منتظرہیں:وزیراعظم عمران خان

    سی پیک ناگزیر:حکومت چین اورعوام کامشکورہوں جو میرےدورہ چین کےشدید منتظرہیں:وزیراعظم عمران خان

    اسلام آباد: ملکی ترقی کیلئے سی پیک ناگزیر ہے:چین کی حکومت اور عوام کا مشکور ہوں جومیری آمد کے شدید منتظرہیں: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں اس بات پرمکمل اتفاق ہے ملک کی قومی ترقی کے لیے سی پیک ناگزیرہے۔ عوام اور ریاستی ادارے سی پیک کو پاک چین دوستی میں رکاوٹیں ڈالنے والوں سے تحفظ فراہم کرنے اور ہمارے مفادات کو نقصان پہنچانے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے پرعزم ہیں۔

    چین کے اخبار گلوبل ٹائمز میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں وزیراعظم نے لکھا کہ پاک چین شراکت داری بین الریاستی تعلقات میں بے مثال ہے، بیلٹ اینڈ روڈ اقدام کے پرچم بردار منصوبہ کے طور پر پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) دونوں ممالک کے لیے بہت زیادہ اقتصادی اور تزویراتی اہمیت رکھتا ہے، پاکستان میں اس بات پرمکمل اتفاق ہے ملک کی قومی ترقی کے لیے سی پیک ناگزیرہے، ہماری حکومت سی پیک کو کو بی آرآئی کاایک اعلیٰ معیار کا مظہر منصوبہ بنانے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے، پاکستان میں چینی عملے اور منصوبوں کی حفاظت اور تحفظ ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہیں، ملکی عوام اور ریاستی ادارے سی پیک کو پاک چین دوستی میں رکاوٹیں ڈالنے والوں سے تحفظ فراہم کرنے اور ہمارے مفادات کو نقصان پہنچانے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے پرعزم ہیں، یقین ہے ہمارے لوگوں کے درمیان روابط مزید گہرے ہوں گے اور ہماری دوستی کی بہترین روایات ہماری آنے والی نسلوں تک منتقل ہوں گی ۔

    انہوں نے لکھا کہ ہمارے روابط عالمی و علاقائی پیش ہائے رفت کے اتار و چڑھاو سے قطع نظر آزمودہ اور ہمہ وقت ہیں۔ گزشتہ برس ہمارے سفارتی تعلقات کے قیام کی 70 ویں سالگرہ منانے کے لئے عظیم الشان تقریبات نے ہماری دوستی کو نئی قوت اور ولولہ بخشا ہے۔ پاکستان میں ہمارے لئے چین کے ساتھ تعلقات ہماری خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہیں جسے ہمہ جہت سیاسی حمایت حاصل ہے اور میں یہ بات پورے اعتماد سے کہہ سکتا ہوں ہماری عوام اس دوستی کی حقیقی قدر کا بھرپور ادراک رکھتے ہیں اور اس کے مزید فروغ کے لئے جذبے سے اپنا کردار ادا کرتے ہیں، اس دوستی کی گہرائی اور استحکام کے اظہار کے حوالے سے کی خصوصی ضرب المثل وضع کیے گئے۔

    وزیراعظم نے لکھا کہ وہ آئندہ چند دنوں میں سرمائی اولمپک گیمز کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لئے بیجنگ کا دورہ کریں گے۔ خود ایک کھلاڑی ہونے کے ناطے وہ اس جذبے کو سمجھ سکتے ہیں جو ایک قوم میں اولمپکس کی طرح کے کھیلوں کے مقابلے سے پیدا ہوتاہے، میں سمجھتا ہوں کہ کھیلیں یکجہتی کا عنصر ہوتی ہیں اور یہ سیاست سے بالا تر ہونا چاہئیں۔

    وزیراعظم نے اس بڑے ایونٹ کی میزبانی پر چین کی قیادت اور عوام کو مبارکباد دی اور تمام شرکاؤں کی صحت و تحفظ اور کامیاب کھیلوں کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ اکتوبر 2019 میں ان کے آخری دورہ چین کے بعد سے کووڈ 19 کی عالمگیر وبا کی صورت میں سب سے بڑا عصری چیلنج سامنے آیا جس سے دنیا میں تبدیلی آئی ہے، یہ وبا انسانی زندگیوں اور معاش پر منفی اثر ڈال رہا ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی ایک اور عفریت ہے جس کا ہمیں سامنا ہے، ماحولیاتی تبدیلی ان کامیابیوں میں خلل ڈالنے کی صلاحیت رکھتی ہے جو بنی نوع انسانیت نے آج تک حاصل کی ہے۔

    انہوں نے لکھا کہ جغرافیائی سیاست کی ضروریات نے ہمارے خطے میں نئی صف بندیوں کو جنم دیا جو بہت سے لوگوں کے لیے گزشتہ صدی کے نظریاتی محاذآرائی کی یاد دلاتا ہے۔ افغانستان گزشتہ 20 سالوں سے عدم استحکام اور انتشار کا شکار تھا اور خطے میں امن کی واپسی کی امید کے ساتھ اس عدم استحکام اورانتشارکے خاتمہ کا وقت قریب آچکا ہے۔افغانستان میں معاشی بدحالی اور انسانی بحران کے سدباب کیلئے بین الاقوامی برادری کا متحرک کردار اورشمولیت ضروری ہے ۔

    وزیراعظم نے کہاکہ موجودہ چیلنجز خواہ کتنے بڑے کیوں نہ ہوں ہمارے خطے اور اس سے باہر امن اور خوشحالی کے لیے بوجوہ تکثریت اور بین الاقوامی تعاون کے متقاضی ہے جیسا کہ صدر شی جن پنگ نے عالمی اقتصادی فورم سے اپنے حالیہ خطاب میں مناسب طور پر ذکر کیا ہے کہ عالمی بحران کے بڑھتے ہوئے طوفانوں کے درمیان ممالک 190 چھوٹی کشتیوں میں الگ الگ سوار نہیں بلکہ سب ایک بڑے جہاز کے سوار ہیں جس پر ہماری مشترکہ تقدیربھی ہے۔

    عمران خان نے لکھا کہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے پاکستان اور چین نے ماضی میں مشترکہ طور پر ایسی عہد ساز تبدیلیوں کو عبور کیا اور اس میں کامیاب رہے۔ دونوں ممالک نے بنیادی قومی مفادات کے امور پر ہمیشہ ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے۔ ہمارا مشترکہ وژن ہے جنوبی ایشیا میں پائیدار امن خطے میں تزویراتی توازن کو برقرار رکھنے پر منحصر ہے، سرحدوں سے متعلق امور، مسئلہ کشمیر جیسے تمام تصفیہ طلب مسائل کومذاکرات وسفارتکاری اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں واقدار کے مطابق حل کرنا چاہئیے ۔

    وزیراعظم نے لکھا کہ کووڈ 19 کی عالمگیروبا کے خلاف دوطرفہ تعاون نے پاک چین مضبوط دوستی کو مزید تقویت دی ہے۔ آہنی بھائی ہونے کے ناطے پاکستان عالمگیروبا کے پھوٹنے کے بعد چین کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا رہا۔ صدر عارف علوی کے بیجنگ کے یکجہتی دورے سے لے کر چین کی جانب سے وبا سے نمٹنے کیلئے اشیاء سے لدھے 60 سے زائد طیاروں کی پاکستان روانگی تک باہمی تعاون اور خیر سگالی کی روشن مثال سامنے آئی ہے۔ چینی ویکسین اب پاکستان میں جاری بڑے پیمانے پر ویکسینیشن مہم کا بنیادی مرکز بن چکی ہیں۔

    انہوں نے لکھا کہ پائیدار اورمضبوط پائیدار ترقی کے لیے پاکستان نئی راہوں کا تعین اور جغرافیائی واقتصادی (جیواکنامکس) مرکز کے طور پر اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی کوششیں کر رہا ہے۔ پاکستان کی نئی قومی سلامتی کی پالیسی میں ہماری حکومت کے عوام کی خوشحالی، بنیادی حقوق اور سماجی انصاف کو یقینی بنانے کے نقطہ نظرپرتوجہ مرکوزکی گئی ہے، ان اہداف کے حصول کیلئے ہم چین کی کامیابیوں سے رہنمائی حاصل کررہے ہیں خواہ وہ 80 کروڑ لوگوں کو کو مکمل غربت سے باہر نکالنا ہو یا عالمگیروبا کے خلاف عوام کی جنگ میں فتح ہوں ۔ دوست، پڑوسی اور شراکت دار ملک کے طور پر چین کے لوگوں، کاروباری اداروں اور کاروباری شخصیات کو پیش کرنے کے لیے پاکستان کے پاس بہت کچھ ہے۔

    چینی سرمایہ کاروں اورعوام کو مخاطب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان بھرپور تاریخ، ثقافتی تنوع اور شاندار مناظر کا حامل ملک ہیں۔22 کروڑ آبادی، نوجوان اور ہنر مند افرادی قوت، سٹریٹجک محل وقوع، سرمایہ کاری کیلئے سازگارودوستانہ ماحول اور چینی عوام کے لیے گرمجوشی کے جذبات کے ساتھ پاکستان آپ کو آپ کی اگلی سرمایہ کاری اور اگلے تفریحی سفر کے لیے خوش آمدید کہتا ہے۔ چین پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی اور سرمایہ کاری شراکت دار ملک بن گیا ہے۔ 2021 میں دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت تاریخی سطح پر پہنچ گئی۔ کئی چینی کاروباری اداروں نے پاکستان میں مضبوط موجودگی قائم کرلی ہے جو ہماری سماجی اور اقتصادی ترقی میں اپنا کرداراداکررہے ہیں ۔ چین پاکستان کے لائیو سٹاک اور زرعی مصنوعات کی ایک بڑی منڈی بن سکتا ہے۔ اسی طرح پاکستان صنعت کاری، زراعت میں جدت ، ای کامرس اور ڈیجیٹل فنانس میں چینی مہارت سے استفادہ کرسکتاہے ۔

    عمران خان نے لکھا کہ پاکستان صدر شی جن پنگ کے بیلٹ اینڈ روڈ اقدام کے ابتدائی شرکاء میں سے ایک ہے۔ بیلٹ اینڈ روڈ اقدام( بی آر آئی) کے پرچم بردار منصوبہ کے طور پر پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) دونوں ممالک کے لیے بہت زیادہ اقتصادی اور تزویراتی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان میں اس بات پرمکمل اتفاق ہے کہ ملک کی قومی ترقی کے لیے سی پیک ناگزیرہے ۔ ہماری حکومت سی پیک کو کو بی آرآئی کاایک اعلیٰ معیار کا مظہر منصوبہ بنانے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ سی پیک پاکستان کے توانائی کے دیرینہ بحران سے نمٹنے اوربنیادی ڈھانچہ کی ترقی کے ذریعے رابطوں کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان گوادر کی بندرگاہ اور خصوصی اقتصادی زونز کی ترقی پر بھی تیزی سے پیش رفت کررہاہے جس سے پورے خطے کو فائدہ پہنچے گا۔

    وزیراعظم نے کہاکہ ترقی کی کوئی بھی مقدار اس وقت تک کوئی معنی نہیں رکھتی جب تک اس کے ثمرات معاشرے کے معاشی طور پسماندہ طبقے تک نہ پہنچ جائیں، اس لیے غربت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا اور پاکستانی عوام کو اپنی قسمت کا مالک بننے کے لیے بااختیار بنانا میراوژن ہے، اسی تناظرمیں سی پیک کے دوسرے مرحلہ کو روزگار کی تخلیق، صنعتی جدید کاری، معاش میں بہتری، دیہی علاقوں اور سماجی و اقتصادی ترقی اور غربت کے خاتمے کے لیے ترتیب دیا گیاہے ۔ ان منصوبوں کوتقویت دینے کیلئے ہماری حکومت نے “احساس” پروگرام شروع کیاہے جوتخفیت غربت اور سماجی اٹھان کے لیے بڑا سماجی تحفظ کا نیٹ ورک ہے۔

    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ پاکستان میں چینی عملے اور منصوبوں کی حفاظت اور تحفظ ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہیں ۔پاکستان کے عوام اور ریاستی ادارے سی پیک کو پاک چین دوستی میں رکاوٹیں ڈالنے والوں سے تحفظ فراہم کرنےاور ہمارے مفادات کو نقصان پہنچانے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے پرعزم ہیں۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ چین موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کو کم کرنے اور فطرت کو اس کی اصلی خوبصورتی میں بحال کرنے میں قائدانہ کرداراداکررہاہے ۔ ہم چین کے ساتھ ملکر موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے اور مشترکہ لیکن مختلف ذمہ داری کے اصول کی بنیاد پر مستقبل میں پیش رفت کے منتظر ہیں۔

    وزیراعظم نے کہاکہ ان کا سرسبز وشاداب پاکستان اورچین کے صدر شی جن پنگ کا “خوشحال، صاف اور خوبصورت دنیا” کا وژن ایک جیساہے ۔ پاکستان جنگلات کووسعت دینے اورجنگلات کی بحالی کیلئے دنیا کی سب سے پرجوش کوششوں میں سے 10 بلین ٹری سونامی پراجیکٹ کے ایک حصے کے طور پر ایک ارب درخت لگا چکا ہے۔

    وزیراعظم نے کہاکہ ڈیجیٹل دور میں جدت، اختراع اور ٹیکنالوجی پائیدار اور مضبوط وتیزتر ترقی کی بنیادی گاڑی کے طور پر کام کرتی ہے، پاکستان چین کے ساتھ کوانٹم کمپیوٹنگ، روبوٹکس، مصنوعی ذہانت، کلائوڈ اور بگ ڈیٹا میں دوطرفہ استفادہ پرمبنی تعاون کو بڑھانے کا خواہاں ہے۔ شی جن پنگ کی جانب سے پیش کردہ گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو کے مقاصد کو آگے بڑھانے کے لیے چین کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔

    وزیراعظم نے کہاکہ گزشتہ چندسالوں میں دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان رابطوں میں اضافہ ہمارے دوطرفہ تعلقات کے سب سے زیادہ امید افزا اور یقین دہانی کرنے والے پہلوئوں میں سے ایک ہے۔ دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت میں گرمجوشی ہمارے عوام کے درمیان محبت اور بھائی چارے کے جذبات کی آئینہ دار ہے۔ دونوں ممالک کے 40 سے زائد صوبے اور شہر جڑواں قراردئیے گئے ہیں، یقین ہے ہمارے لوگوں کے درمیان روابط مزید گہرے ہوں گے، اور ہماری دوستی کی بہترین روایات ہماری آنے والی نسلوں تک منتقل ہوں گی ۔ خوشی ہے چینی عوام صدر شی جن پنگ اور چین کی کمیونسٹ پارٹی کی قابل قیادت کی رہنمائی میں عظیم قومی تجدید کے حصول کے لیے پرعزم ہے۔

    وزیراعظم نے لکھا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام کی جانب سے وہ اس بات کا اعادہ کرنا چاہتے ہیں پاکستان کی صورت میں چین کو ہمیشہ ایسا قابل اعتماد دوست ملے گا جو نہ صرف امن اور خوشحالی کی لہروں بلکہ چیلنجوں کے بڑھتے ہوئے طوفانوں میں بھی اس کے ساتھ کھڑا رہے گا۔

    وزیراعظم نے چین کی قیادت اورعوام کو شیر کے سال اور بہار کے تہوار کے لیے نیک خواہشات کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ انہیں امید ہے کہ پاک چین دوستی کا مقدس شعلہ پائیدار چمک اور گرمجوشی کے ساتھ چمکتا رہے گا۔ پاک چین دوستی زندہ باد!