Baaghi TV

Tag: وزیراعظم

  • وزیراعظم کا دورہ چین،پاکستان  3ارب ڈالر کے قرضے اور چھ شعبوں میں سرمایہ کاری کا خواہاں

    وزیراعظم کا دورہ چین،پاکستان 3ارب ڈالر کے قرضے اور چھ شعبوں میں سرمایہ کاری کا خواہاں

    اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان 3 فروری سے چین کا دورہ کریں گے اور اس موقع پر وزیراعظم چین میں سیاسی ملاقاتوں کے ساتھ ساتھ چھ شعبوں، فنانس، ٹریڈ اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں چین سے معاونت اور3ارب ڈالر کے قرضے کی درخواست کریں گے، ان کے دورے کا ایجنڈا ترتیب دینے کیلئے حتمی اجلاس منگل کو ہوگا-

    باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے نے کے مطابق وزارت خزانہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بتایا کہ حکومت چین کو3 ارب ڈالر قرضے کی درخواست دینے پر غور کر رہی ہے تاکہ زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کیا جا سکے چین پہلے ہی کمرشل قرضوں اور فارن ایکسچینج ریزرو سپورٹ اقدامات کی شکل میں پاکستان کو11 ارب ڈالر دے چکا ہے-

    پاکستان میں غربت کے خاتمے کیلئے چینی ترقیاتی ماڈل کی تقلید کرنا چاہتے ہیں، وزیراعظم

    علاوہ ازیں حکومت چین سے چھ ترجیحی شعبوں میں سرمایہ کاری چاہتی ہے۔ چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ اظفر احسن نے کہا کہ چینی سرمایہ کاروں کو ٹیکسٹائل، فٹ ویئر، فارماسیوٹیکل، فرنیچر، زراعت، آٹوموبائل، اور آئی سیکٹر میں سرمایہ کاری کی دعوت دیں گے اس کے علاوہ 75 چینی کمپنیوں کو مشرق وسطیٰ، افریقہ اور باقی دنیا کیلئے سستے ٹریڈ روٹس کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا۔

    سی پیک ناگزیر:حکومت چین اورعوام کامشکورہوں جو میرےدورہ چین کےشدید منتظرہیں:وزیراعظم عمران خان

    وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ پاک چینی دوستی سے ہٹ کر اس مرتبہ ہم مربوط اپروچ کے ساتھ چین جانے کو تیار ہیں سی پیک اتھارٹی کی شمولیت کے ساتھ حکومت نے ان شعبوں کی نشاندہی کی ہے جن میں چینی سرمایہ کار بھاری منافع کما سکتے ہیں سی پیک اتھارٹی حکام کے مطابق پاکستانی سمندر کے ذریعے چین کی یورپ کو برآمدات پر لاگت 4 ہزار یورو فی کنٹینر ہے جبکہ چین سے یہ لاگت15 ہزار یورو ہے چین کی دم توڑتی صنعتوں کی بحالی کیلئے یہ پیشکش اہم موقع ہے۔

    وزیراعظم کا دورہ چین دونوں ممالک کی شراکت داری کو مزید مضبوط کرے گا،ترجمان دفتر خارجہ

    خیال رہے کہ چین کے سرمایہ کار سستے تجارتی روٹ کا پتہ ہونے کے باوجود مالیاتی اور توانائی کی پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان میں بھاری سرمایہ کاری سے گریزاں ہیں سرکاری حکام کے مطابق پاکستان میں بجلی کے نرخ خطے کے دیگر ممالک سے مسابقانہ ہیں، اس کے علاوہ دس سال تک انکم ٹیکس میں مکمل چھوٹ اور پلانٹ، مشینری، خام مال کی ڈیوٹی فری درآمد کی سہولت حاصل ہے۔ پاکستان میں ہنرمند اور غیرہنرمند لیبر بھی سستی ہے۔

    مشیر قومی سلامتی معید یوسف کابل میں اہم ملاقاتوں میں مصروف:افغان نائب وزیراعظم سے اہم بات چیت

    ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ وزیراعظم کے دورہ چین کے دوران ریلوے کے میں لائن ون پراجیکٹ پر کسی بریک تھرو کا امکان نہیں ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ ماہ پاکستان کو سعودی عرب سے تین ارب ڈالر قرضہ ملا تھا جو پاکستان خرچ کر چکا ہے سعودی قرضہ ملنے سے پہلے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر15.9ارب ڈالر تھے جو رواں ماہ پھر16ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔

    بڑی کمپنیاں اپنےملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کریں: ان کی محنت سے سب کچھ ملا…

  • سی پیک ناگزیر:حکومت چین اورعوام کامشکورہوں جو    میرےدورہ چین کےشدید منتظرہیں:وزیراعظم عمران خان

    سی پیک ناگزیر:حکومت چین اورعوام کامشکورہوں جو میرےدورہ چین کےشدید منتظرہیں:وزیراعظم عمران خان

    اسلام آباد: ملکی ترقی کیلئے سی پیک ناگزیر ہے:چین کی حکومت اور عوام کا مشکور ہوں جومیری آمد کے شدید منتظرہیں: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں اس بات پرمکمل اتفاق ہے ملک کی قومی ترقی کے لیے سی پیک ناگزیرہے۔ عوام اور ریاستی ادارے سی پیک کو پاک چین دوستی میں رکاوٹیں ڈالنے والوں سے تحفظ فراہم کرنے اور ہمارے مفادات کو نقصان پہنچانے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے پرعزم ہیں۔

    چین کے اخبار گلوبل ٹائمز میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں وزیراعظم نے لکھا کہ پاک چین شراکت داری بین الریاستی تعلقات میں بے مثال ہے، بیلٹ اینڈ روڈ اقدام کے پرچم بردار منصوبہ کے طور پر پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) دونوں ممالک کے لیے بہت زیادہ اقتصادی اور تزویراتی اہمیت رکھتا ہے، پاکستان میں اس بات پرمکمل اتفاق ہے ملک کی قومی ترقی کے لیے سی پیک ناگزیرہے، ہماری حکومت سی پیک کو کو بی آرآئی کاایک اعلیٰ معیار کا مظہر منصوبہ بنانے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے، پاکستان میں چینی عملے اور منصوبوں کی حفاظت اور تحفظ ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہیں، ملکی عوام اور ریاستی ادارے سی پیک کو پاک چین دوستی میں رکاوٹیں ڈالنے والوں سے تحفظ فراہم کرنے اور ہمارے مفادات کو نقصان پہنچانے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے پرعزم ہیں، یقین ہے ہمارے لوگوں کے درمیان روابط مزید گہرے ہوں گے اور ہماری دوستی کی بہترین روایات ہماری آنے والی نسلوں تک منتقل ہوں گی ۔

    انہوں نے لکھا کہ ہمارے روابط عالمی و علاقائی پیش ہائے رفت کے اتار و چڑھاو سے قطع نظر آزمودہ اور ہمہ وقت ہیں۔ گزشتہ برس ہمارے سفارتی تعلقات کے قیام کی 70 ویں سالگرہ منانے کے لئے عظیم الشان تقریبات نے ہماری دوستی کو نئی قوت اور ولولہ بخشا ہے۔ پاکستان میں ہمارے لئے چین کے ساتھ تعلقات ہماری خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہیں جسے ہمہ جہت سیاسی حمایت حاصل ہے اور میں یہ بات پورے اعتماد سے کہہ سکتا ہوں ہماری عوام اس دوستی کی حقیقی قدر کا بھرپور ادراک رکھتے ہیں اور اس کے مزید فروغ کے لئے جذبے سے اپنا کردار ادا کرتے ہیں، اس دوستی کی گہرائی اور استحکام کے اظہار کے حوالے سے کی خصوصی ضرب المثل وضع کیے گئے۔

    وزیراعظم نے لکھا کہ وہ آئندہ چند دنوں میں سرمائی اولمپک گیمز کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لئے بیجنگ کا دورہ کریں گے۔ خود ایک کھلاڑی ہونے کے ناطے وہ اس جذبے کو سمجھ سکتے ہیں جو ایک قوم میں اولمپکس کی طرح کے کھیلوں کے مقابلے سے پیدا ہوتاہے، میں سمجھتا ہوں کہ کھیلیں یکجہتی کا عنصر ہوتی ہیں اور یہ سیاست سے بالا تر ہونا چاہئیں۔

    وزیراعظم نے اس بڑے ایونٹ کی میزبانی پر چین کی قیادت اور عوام کو مبارکباد دی اور تمام شرکاؤں کی صحت و تحفظ اور کامیاب کھیلوں کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ اکتوبر 2019 میں ان کے آخری دورہ چین کے بعد سے کووڈ 19 کی عالمگیر وبا کی صورت میں سب سے بڑا عصری چیلنج سامنے آیا جس سے دنیا میں تبدیلی آئی ہے، یہ وبا انسانی زندگیوں اور معاش پر منفی اثر ڈال رہا ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی ایک اور عفریت ہے جس کا ہمیں سامنا ہے، ماحولیاتی تبدیلی ان کامیابیوں میں خلل ڈالنے کی صلاحیت رکھتی ہے جو بنی نوع انسانیت نے آج تک حاصل کی ہے۔

    انہوں نے لکھا کہ جغرافیائی سیاست کی ضروریات نے ہمارے خطے میں نئی صف بندیوں کو جنم دیا جو بہت سے لوگوں کے لیے گزشتہ صدی کے نظریاتی محاذآرائی کی یاد دلاتا ہے۔ افغانستان گزشتہ 20 سالوں سے عدم استحکام اور انتشار کا شکار تھا اور خطے میں امن کی واپسی کی امید کے ساتھ اس عدم استحکام اورانتشارکے خاتمہ کا وقت قریب آچکا ہے۔افغانستان میں معاشی بدحالی اور انسانی بحران کے سدباب کیلئے بین الاقوامی برادری کا متحرک کردار اورشمولیت ضروری ہے ۔

    وزیراعظم نے کہاکہ موجودہ چیلنجز خواہ کتنے بڑے کیوں نہ ہوں ہمارے خطے اور اس سے باہر امن اور خوشحالی کے لیے بوجوہ تکثریت اور بین الاقوامی تعاون کے متقاضی ہے جیسا کہ صدر شی جن پنگ نے عالمی اقتصادی فورم سے اپنے حالیہ خطاب میں مناسب طور پر ذکر کیا ہے کہ عالمی بحران کے بڑھتے ہوئے طوفانوں کے درمیان ممالک 190 چھوٹی کشتیوں میں الگ الگ سوار نہیں بلکہ سب ایک بڑے جہاز کے سوار ہیں جس پر ہماری مشترکہ تقدیربھی ہے۔

    عمران خان نے لکھا کہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے پاکستان اور چین نے ماضی میں مشترکہ طور پر ایسی عہد ساز تبدیلیوں کو عبور کیا اور اس میں کامیاب رہے۔ دونوں ممالک نے بنیادی قومی مفادات کے امور پر ہمیشہ ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے۔ ہمارا مشترکہ وژن ہے جنوبی ایشیا میں پائیدار امن خطے میں تزویراتی توازن کو برقرار رکھنے پر منحصر ہے، سرحدوں سے متعلق امور، مسئلہ کشمیر جیسے تمام تصفیہ طلب مسائل کومذاکرات وسفارتکاری اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں واقدار کے مطابق حل کرنا چاہئیے ۔

    وزیراعظم نے لکھا کہ کووڈ 19 کی عالمگیروبا کے خلاف دوطرفہ تعاون نے پاک چین مضبوط دوستی کو مزید تقویت دی ہے۔ آہنی بھائی ہونے کے ناطے پاکستان عالمگیروبا کے پھوٹنے کے بعد چین کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا رہا۔ صدر عارف علوی کے بیجنگ کے یکجہتی دورے سے لے کر چین کی جانب سے وبا سے نمٹنے کیلئے اشیاء سے لدھے 60 سے زائد طیاروں کی پاکستان روانگی تک باہمی تعاون اور خیر سگالی کی روشن مثال سامنے آئی ہے۔ چینی ویکسین اب پاکستان میں جاری بڑے پیمانے پر ویکسینیشن مہم کا بنیادی مرکز بن چکی ہیں۔

    انہوں نے لکھا کہ پائیدار اورمضبوط پائیدار ترقی کے لیے پاکستان نئی راہوں کا تعین اور جغرافیائی واقتصادی (جیواکنامکس) مرکز کے طور پر اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی کوششیں کر رہا ہے۔ پاکستان کی نئی قومی سلامتی کی پالیسی میں ہماری حکومت کے عوام کی خوشحالی، بنیادی حقوق اور سماجی انصاف کو یقینی بنانے کے نقطہ نظرپرتوجہ مرکوزکی گئی ہے، ان اہداف کے حصول کیلئے ہم چین کی کامیابیوں سے رہنمائی حاصل کررہے ہیں خواہ وہ 80 کروڑ لوگوں کو کو مکمل غربت سے باہر نکالنا ہو یا عالمگیروبا کے خلاف عوام کی جنگ میں فتح ہوں ۔ دوست، پڑوسی اور شراکت دار ملک کے طور پر چین کے لوگوں، کاروباری اداروں اور کاروباری شخصیات کو پیش کرنے کے لیے پاکستان کے پاس بہت کچھ ہے۔

    چینی سرمایہ کاروں اورعوام کو مخاطب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان بھرپور تاریخ، ثقافتی تنوع اور شاندار مناظر کا حامل ملک ہیں۔22 کروڑ آبادی، نوجوان اور ہنر مند افرادی قوت، سٹریٹجک محل وقوع، سرمایہ کاری کیلئے سازگارودوستانہ ماحول اور چینی عوام کے لیے گرمجوشی کے جذبات کے ساتھ پاکستان آپ کو آپ کی اگلی سرمایہ کاری اور اگلے تفریحی سفر کے لیے خوش آمدید کہتا ہے۔ چین پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی اور سرمایہ کاری شراکت دار ملک بن گیا ہے۔ 2021 میں دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت تاریخی سطح پر پہنچ گئی۔ کئی چینی کاروباری اداروں نے پاکستان میں مضبوط موجودگی قائم کرلی ہے جو ہماری سماجی اور اقتصادی ترقی میں اپنا کرداراداکررہے ہیں ۔ چین پاکستان کے لائیو سٹاک اور زرعی مصنوعات کی ایک بڑی منڈی بن سکتا ہے۔ اسی طرح پاکستان صنعت کاری، زراعت میں جدت ، ای کامرس اور ڈیجیٹل فنانس میں چینی مہارت سے استفادہ کرسکتاہے ۔

    عمران خان نے لکھا کہ پاکستان صدر شی جن پنگ کے بیلٹ اینڈ روڈ اقدام کے ابتدائی شرکاء میں سے ایک ہے۔ بیلٹ اینڈ روڈ اقدام( بی آر آئی) کے پرچم بردار منصوبہ کے طور پر پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) دونوں ممالک کے لیے بہت زیادہ اقتصادی اور تزویراتی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان میں اس بات پرمکمل اتفاق ہے کہ ملک کی قومی ترقی کے لیے سی پیک ناگزیرہے ۔ ہماری حکومت سی پیک کو کو بی آرآئی کاایک اعلیٰ معیار کا مظہر منصوبہ بنانے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ سی پیک پاکستان کے توانائی کے دیرینہ بحران سے نمٹنے اوربنیادی ڈھانچہ کی ترقی کے ذریعے رابطوں کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان گوادر کی بندرگاہ اور خصوصی اقتصادی زونز کی ترقی پر بھی تیزی سے پیش رفت کررہاہے جس سے پورے خطے کو فائدہ پہنچے گا۔

    وزیراعظم نے کہاکہ ترقی کی کوئی بھی مقدار اس وقت تک کوئی معنی نہیں رکھتی جب تک اس کے ثمرات معاشرے کے معاشی طور پسماندہ طبقے تک نہ پہنچ جائیں، اس لیے غربت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا اور پاکستانی عوام کو اپنی قسمت کا مالک بننے کے لیے بااختیار بنانا میراوژن ہے، اسی تناظرمیں سی پیک کے دوسرے مرحلہ کو روزگار کی تخلیق، صنعتی جدید کاری، معاش میں بہتری، دیہی علاقوں اور سماجی و اقتصادی ترقی اور غربت کے خاتمے کے لیے ترتیب دیا گیاہے ۔ ان منصوبوں کوتقویت دینے کیلئے ہماری حکومت نے “احساس” پروگرام شروع کیاہے جوتخفیت غربت اور سماجی اٹھان کے لیے بڑا سماجی تحفظ کا نیٹ ورک ہے۔

    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ پاکستان میں چینی عملے اور منصوبوں کی حفاظت اور تحفظ ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہیں ۔پاکستان کے عوام اور ریاستی ادارے سی پیک کو پاک چین دوستی میں رکاوٹیں ڈالنے والوں سے تحفظ فراہم کرنےاور ہمارے مفادات کو نقصان پہنچانے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے پرعزم ہیں۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ چین موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کو کم کرنے اور فطرت کو اس کی اصلی خوبصورتی میں بحال کرنے میں قائدانہ کرداراداکررہاہے ۔ ہم چین کے ساتھ ملکر موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے اور مشترکہ لیکن مختلف ذمہ داری کے اصول کی بنیاد پر مستقبل میں پیش رفت کے منتظر ہیں۔

    وزیراعظم نے کہاکہ ان کا سرسبز وشاداب پاکستان اورچین کے صدر شی جن پنگ کا “خوشحال، صاف اور خوبصورت دنیا” کا وژن ایک جیساہے ۔ پاکستان جنگلات کووسعت دینے اورجنگلات کی بحالی کیلئے دنیا کی سب سے پرجوش کوششوں میں سے 10 بلین ٹری سونامی پراجیکٹ کے ایک حصے کے طور پر ایک ارب درخت لگا چکا ہے۔

    وزیراعظم نے کہاکہ ڈیجیٹل دور میں جدت، اختراع اور ٹیکنالوجی پائیدار اور مضبوط وتیزتر ترقی کی بنیادی گاڑی کے طور پر کام کرتی ہے، پاکستان چین کے ساتھ کوانٹم کمپیوٹنگ، روبوٹکس، مصنوعی ذہانت، کلائوڈ اور بگ ڈیٹا میں دوطرفہ استفادہ پرمبنی تعاون کو بڑھانے کا خواہاں ہے۔ شی جن پنگ کی جانب سے پیش کردہ گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو کے مقاصد کو آگے بڑھانے کے لیے چین کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔

    وزیراعظم نے کہاکہ گزشتہ چندسالوں میں دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان رابطوں میں اضافہ ہمارے دوطرفہ تعلقات کے سب سے زیادہ امید افزا اور یقین دہانی کرنے والے پہلوئوں میں سے ایک ہے۔ دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت میں گرمجوشی ہمارے عوام کے درمیان محبت اور بھائی چارے کے جذبات کی آئینہ دار ہے۔ دونوں ممالک کے 40 سے زائد صوبے اور شہر جڑواں قراردئیے گئے ہیں، یقین ہے ہمارے لوگوں کے درمیان روابط مزید گہرے ہوں گے، اور ہماری دوستی کی بہترین روایات ہماری آنے والی نسلوں تک منتقل ہوں گی ۔ خوشی ہے چینی عوام صدر شی جن پنگ اور چین کی کمیونسٹ پارٹی کی قابل قیادت کی رہنمائی میں عظیم قومی تجدید کے حصول کے لیے پرعزم ہے۔

    وزیراعظم نے لکھا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام کی جانب سے وہ اس بات کا اعادہ کرنا چاہتے ہیں پاکستان کی صورت میں چین کو ہمیشہ ایسا قابل اعتماد دوست ملے گا جو نہ صرف امن اور خوشحالی کی لہروں بلکہ چیلنجوں کے بڑھتے ہوئے طوفانوں میں بھی اس کے ساتھ کھڑا رہے گا۔

    وزیراعظم نے چین کی قیادت اورعوام کو شیر کے سال اور بہار کے تہوار کے لیے نیک خواہشات کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ انہیں امید ہے کہ پاک چین دوستی کا مقدس شعلہ پائیدار چمک اور گرمجوشی کے ساتھ چمکتا رہے گا۔ پاک چین دوستی زندہ باد!

  • عام انتخابات وقت سےایک دن بھی پہلے نہیں ہوں گے:    بڑی امید ہےعمران خان کی ہی حکومت ہوگی:گورنرپنجاب

    عام انتخابات وقت سےایک دن بھی پہلے نہیں ہوں گے: بڑی امید ہےعمران خان کی ہی حکومت ہوگی:گورنرپنجاب

    لاہور:’عام انتخابات وقت سے ایک دن بھی پہلے نہیں ہوں گے،بڑی امید ہے عمران خان کی ہی حکومت ہوگی:،اطلاعات کے مطابق گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کا کہنا ہے کہ کوئی بھی عمران خان کو اقتدار سے نہیں نکال سکتا، وہ 2023 تک وزیراعظم رہیں گے۔

    یاد رہے کہ گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے جنوبی پنجاب کے ورکرز کے اعزاز میں ناشتے کا اہتمام کیا۔اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے چوہدری محمد سرور کا کہنا تھا کہ عمران خان کو اقتدار سےکوئی نہیں نکال سکتا وہ 2023 تک وزیراعظم رہیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ سب جانتے ہیں وزیراعظم عمران خان کسی سے بلیک میل ہونے والے لیڈر نہیں ہیں، اپوزیشن جماعتیں تقسیم ہیں ان کے احتجاجی مارچ بھی سیاسی مشہوری کے لیے ہوں گے۔

    گورنر پنجاب کا کہنا تھا کہ عام انتخابات وقت سے ایک دن بھی پہلے نہیں ہوں گے، ناکامی اپوزیشن کا مقدر ہے، اپوزیشن سڑکوں پر آنے کے بجائے الیکشن کا صبر و تحمل سے انتظار کرے۔

    چوہدری محمد سرور کا اس موقع پر یہ بھی کہنا تھا کہ جنوبی پنجاب کے عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

    چوہدری محمد سرور نے پارٹی کارکنوں اور رہنماوں کو امید دلاتے ہوئے کہا کہ بڑی امید ہے کہ انتخابات کے بعد پاکستان میں اگلی حکومت بھی عمران خان کی ہوگی ، کیوں کہ وہ پاکستان اور پاکستان کے اتحادیوں کی چاہت ہیں‌

  • وزیراعظم کا دورہ چین دونوں ممالک کی شراکت داری کو مزید مضبوط کرے گا،ترجمان دفتر خارجہ

    وزیراعظم کا دورہ چین دونوں ممالک کی شراکت داری کو مزید مضبوط کرے گا،ترجمان دفتر خارجہ

    دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان 3 سے 5 فروری تک چین کے دورہ کریں گے، دورے کے دوران وزیر اعظم سرمائی اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں شرکت کریں گے اور چینی رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار کا کہنا تھا کہ یہ دورہ ہر طرح کے حالات میں تعاون کے لیے دونوں ممالک کی شراکت داری کو مزید مضبوط کرے گا اور آنے والے وقت کے لیے مشترکہ مستقبل سے متعلق پاک ۔ چین کمیونٹی روابط کو مضبوط کرنے کے مقصد کے حصول میں مدد دے گا وزیر اعظم عمران خان تقریباً دو سال بعد چین کا دورہ کر رہے ہیں، اہم دورے کے دوران دونوں ممالک باہمی تعاون کے جاری منصوبوں کے ساتھ ساتھ نئے منصوبوں پر غور کریں گے۔

    پاکستان میں غربت کے خاتمے کیلئے چینی ترقیاتی ماڈل کی تقلید کرنا چاہتے ہیں، وزیراعظم

    ترجمان دفتر خارجہ نے اس موقع پر ایک بار پھر اربوں ڈالر کے انفرااسٹرکچر منصوبے پاک ۔ چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کی رفتار میں کمی کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ منصوبہ تیزی سے مکمل ہو رہا ہے گزشتہ دو سالوں کے دوران کورونا وبا کے باجود سی پیک پر کام تیزی سے جاری ہے، گزشتہ جے سی سی کا اجلاس کافی مثبت رہا اور سی پیک کے کئی منصوبے جاری ہیں۔

    عاصم افتخار کا سی پیک روڈ اینڈ بیلٹ انیشیٹو کو اعلیٰ معیار کا مظہر منصوبہ قرار دیتے ہوئے مزید کہنا تھا کہ دونوں ممالک منصوبے کو مزید آگے بڑھانے اور اس کی کامیابی کے لیے پرعزم ہیں۔

    بھارت کے ساتھ تعلقات کی بحالی سے متعلق سوال کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ فی الحال اس کے لیے حالات سازگار نہیں ہیں دونوں ممالک کے ہائی کمشنر کی واپسی بھی اسی صورت میں ہوسکتی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان چیزیں مثبت سمت میں جانے لگیں موجودہ حالات میں معاملات بہتر نہیں ہیں اور ہمارے خیال میں موجودہ صورتحال کی ذمہ داری بھارت پر عائد ہوتی ہے۔

    اسلام آباد: گھرمیں کھڑی گاڑی سے کروڑوں روپے مالیت کی ہیروئن برآمد

    عاصم افتخار نے کہا کہ بھارت کو دونوں ممالک کے درمیان تعمیری مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں بھارت کے اپنے زیادہ تر پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات خراب ہیں بھارت نے پاکستان کے ساتھ تناؤ کو کم کرنے اور تعلقات کو نارمل کرنے کے مشترکہ دوستوں کے مشورے کو نظر انداز کیا ہے بدقسمتی سے بھارت نے مثبت ردعمل کا اظہار نہیں کیا بلکہ صورتحال کو خراب کیا ہے۔

    پرویز مشرف اثاثہ جات کیس: نیب چیئرمین کے خلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر

  • اے آر وائی نیٹ ورک کا ملازمین کی تنخواہیں 80 فیصد تک بڑھانے کا اعلان،وزیراعظم کا بیان بھی سامنے آگیا

    اے آر وائی نیٹ ورک کا ملازمین کی تنخواہیں 80 فیصد تک بڑھانے کا اعلان،وزیراعظم کا بیان بھی سامنے آگیا

    ملازمین کی تنخواہیں بڑھانے پر سلمان اقبال کے اقدام کو سراہتا ہوں،وزیراعظم عمران خان نے ملازمین کی تنخواہیں بڑھانے پر اے آر وائی نیٹ ورک کے سی ای او سلمان اقبال کے اقدام کو سراہتے ہوئے دیگر کمپنیوں سے بھی تنخواہیں بڑھانے کی اپیل کی ہے۔

    باغی ٹی وی :وزیراعظم عمران خان کی بزنس کمیونٹی سے اپیل پر اے آروائی نیٹ ورک نے 20 ہزارآمدن تک کے ملازمین کی تنخواہ بڑھانے کا اعلان کردیا۔
    اے آر وائی نیٹ ورک کے سی ای او سلمان اقبال نے کہا کہ پہلے مرحلے میں 20 ہزار روپے آمدن تک ملازمین کی تنخواہوں میں 80 فیصد تک اضافے کا فیصلہ کیا ہے ، اللہ کی رحمت اورٹیم کی کاوش سے اس مقام تک پہنچے ہیں۔


    وزیراعظم عمران خان نے ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ اےآروائی کےصدر و سی ای او سلمان اقبال کے اقدام کو سراہتا ہوں ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ اچھا اقدام ہے دوسری کمپنیوں سےاپیل کر رہا ہوں جنہوں نےگزشتہ سال ریکارڈ منافع کمایا وہ بھی ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کریں۔

    سلمان اقبال نے جوابی ٹوئٹ میں لکھا کہ شکریہ وزیراعظم آپ نے ہمارے اقدام کو سراہا، پاکستان کیلئےکچھ بھی کرنے کو تیار ہیں،پاکستان زندہ باد!

    وفاقی وزیر اسد عمر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ویل ڈن سلمان اقبال، اے آر وائی نے ملازمین کی تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ کیا ہے، بڑے کاروباری گھرانوں نے پچھلے سالوں میں غیر معمولی منافع کمایا ، امید ہے دوسرے لوگ بھی پیروی کریں گے اورملازمین سے منافع شیئر کریں گے۔


    وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اپنے اے آروائی نیٹ ورک کے سی ای او سلمان اقبال کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا اےآروائی کی طرح باقی میڈیا بھی ذمہ داری کا احساس کریں ، منافع کےثمرات لوگوں تک پہنچائیں ہمارا تنخواہ دارطبقہ مہنگائی سے متاثر ہے، ایسے اقدامات اس طبقے کومہنگائی سے نمٹنے میں معاون ہوں گے، صحت کارڈ کےذریعےحکومت نےمیڈیکل اخراجات کا خرچ پہلےہی ذمےلیا ہے۔


    سینیٹر فیصل جاوید نے اپنے ٹویٹر میں کہا کہ اےآروائی کی جانب سےتنخواہوں میں اضافےسےاچھاتاثرجائیگا،ویل ڈن سلمان اقبال، پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ 10سال کے بلند منافع پرہے، کارپوریٹ سیکٹر کو2021میں 930 ارب کا منافع ہوا ، وزیراعظم نے کارپوریٹ سیکٹر سے تنخواہوں میں اضافے کی اپیل کی تھی ، امید ہے دوسری کمپنیاں بھی اےآروائی کے اقدام کی پیروی کریں گی۔


    معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل نے بھی ملازمین کی تنخواہوں میں اضافےکےاعلان پر اےآروائی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا 100بڑی کمپنیزنے 930 ارب اوراسٹاک ایکسچینج نے 260 ارب کا منافع کمایا، میڈیا کو بھی کم از کم 40فیصد کا منافع ہوا، یہ شرف صرف اےآروائی کوملاکہ وزیراعظم کی اپیل پرتنخواہوں میں اضافہ کیا، ہم امید کرتے ہیں اب باقی بھی اپنی ذمہ داری پورے کریں گے،شاباش اےآروائی۔


    خیال رہے وزیراعظم نے بزنس کمیونٹی سے تنخواہیں بڑھانے کی درخواست دیتے ہوئے کہا تھا کہ کارپوریٹ سیکٹرکوملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کرنا چاہیے۔

  • پنجاب حکومت کی کارکردگی قابل تعریف :عثمان بزدار توقعات پر پورا اتررہے ہیں‌ : وزیراعظم

    پنجاب حکومت کی کارکردگی قابل تعریف :عثمان بزدار توقعات پر پورا اتررہے ہیں‌ : وزیراعظم

    لاہور: پنجاب حکومت کی کارکردگی قابل تعریف :عثمان بزدار توقعات پر پورا اتررہے ہیں‌ :اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عوامی ریلیف کے شعبوں میں پنجاب حکومت کی کارکردگی قابل تعریف ہے۔

    وزیر اعظم عمران خان سے وزیر اعلیٰ پنجاب نے ملاقات کی جس میں عثمان بزدار نے وزیراعظم کو صوبے کے اہم امور، امن و امان کی صورتحال اور انار کلی واقعے پر بریفنگ دی جب کہ وزیراعلیٰ نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی تیار یوں سے بھی آگاہ کیا۔

    وزیراعلیٰ نے بریفنگ میں بتایا کہ پنجاب میں تحصیل کی سطح پر ریسکیو سروس کا آغاز کردیا ہے اور ریسکیو ائیر ایمبولینس سروس بھی شروع کررہے ہیں جس پر وزیراعظم نے پنجاب حکومت کے ائیر ایمبولینس کے منصوبے کی تعریف کی۔اس کے علاوہ وزیراعلیٰ پنجاب نے مختلف محکموں میں اصلاحات اور صحت کارڈ کی تقسیم سےمتعلق بھی وزیر اعظم کو بریف کیا۔

    عثمان بزدار نے کہا کہ پی ٹی آئی کے منشور کے مطابق عوامی ریلیف کے اقدامات میں تیزی لائی جارہی ہے اور مختلف شعبوں میں قانون سازی سےمتعلق بھی اقدامات کیے گئے ہیں۔

    وزیراعظم عمران خان نے صوبے میں حکومتی منصوبے جلد مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت کی عوامی ریلیف کے شعبوں میں کارکردگی قابل تعریف ہے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ عام آدمی کو ریلیف دینے کے اقدامات میں تیزی لائی جائے۔

  • خواتین پرتشدد:پی پی حکومت قابل مذمت:وزیراعظم مریم نواز    یانوازشریف: کیپٹن صفدرنےاپنے ہی بیان کوجھٹلا دیا

    خواتین پرتشدد:پی پی حکومت قابل مذمت:وزیراعظم مریم نواز یانوازشریف: کیپٹن صفدرنےاپنے ہی بیان کوجھٹلا دیا

    لاہور:کراچی میں خواتین پرتشدد:پی پی حکومت کی جنتی بھی مذمت کی جائےکم ہے:کیپٹن صفدر نے پی پی قیادت پرسخت تنقید کے تیر برسا دیئے، اطلاعات کے مطابق ن لیگ کے رہنما کیپٹن (ر) صفدر نے کہا ہےکہ انشا اللہ بہت جلد جنرل الیکشن ہوں گے اور نواز شریف ملک کے وزیراعظم بنیں گے۔

    لاہور میں میڈیا سے گفتگو میں محمد صفدر نے کراچی میں خواتین پر لاٹھی چارج کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ پیپلزپارٹی نہتے شہریوں پرظلم کرکے عوام سے کیا لینا چاہتی ہے

    لیگی رہنما کا کہنا تھاکہ پی ڈی ایم ملک کو بہت جلد نئے انتخابات کی طرف لےکر جارہی ہے ، انشا اللہ بہت جلد جنرل الیکشن ہوں گے اور نواز شریف ملک کے وزیراعظم بنیں گے۔

    ایک سوال کے جواب میں کیپٹن صفدر کا کہنا تھا کہ عمران خان سڑکوں پر آئے تو یاد رکھیں ایک سٹرک اڈیالہ جیل بھی جاتی ہے۔

    یاد رہے کہ کچھ عرصہ پہلے ن لیگ کے رہنما کیپٹن (ر) صفدر سے سوال پوچھا گیا تھا کہ نواز شریف کب آئیں گے؟ انہوں نے جواب دیا نواز شریف آئیں گے اور اس وقت مریم نواز وزیراعظم ہوں گی۔

    یاد رہے کہ تھوڑے ہی عرصے کے اندر کیپٹن صفدر کا یہ دوسرا بیان ہے پہلے بیان میں مریم کووزیراعظم بنانے کی بات کی تھی اور آج نوازشریف کی بات کردی

    پچھلی بار نواز شریف کے آنے پر شہباز شریف کے ایئر پورٹ نہ پہنچنے کے سوال پر کیپٹن ریٹائرڈ صفدر بولے ایک تو اُس وقت الیکشن تھے، دوسرے میں گرفتار تھا۔

    کیپٹن صفدر سے پوچھا گیا کہ اس بار آپ جائیں گے؟ بولے نہیں، وہ تو پھر گرفتار ہوجائیں گے، استقبال کا معاملہ مسلم لیگ والے جانیں‌ یہ کہہ کر کیپٹن صفدر نے بات کو گول مول کردیا تھا لیکن آج اپنے ہی بیان کی نفی کرتے ہوئے مریم نواز کو مسترد کرتے ہوئے نوازشریف کووزیراعظم بنانے کی بات کرکے مریم نواز کی بڑی توہین کرڈالی ہے ، اب پتہ کیا ردعمل آتا ہے ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا

  • نیا پاکستان صحت کارڈ وزیراعظم کے ریاست مدینہ کے تصور کی تعبیر ہے: راجہ شیراز کیانی

    نیا پاکستان صحت کارڈ وزیراعظم کے ریاست مدینہ کے تصور کی تعبیر ہے: راجہ شیراز کیانی

    اسلام آباد : نیا پاکستان صحت کارڈ وزیراعظم کے ریاست مدینہ کے تصور کی تعبیر ہے:اطلاعات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف اسلام آباد کے مرکزی رہنما اور رکن ریجنل ایڈوائزری کمیٹی اسلام آباد ڈویژن راجہ شیراز کیانی نے کہا ہے کہ اسلام آباد کی 100 فیصد آبادی کے لیے نیا پاکستان صحت کارڈ کا اجرا وزیراعظم عمران خان کے ریاست مدینہ کے تصور کی تعبیر ہے پاکستان بلاشبہ ایک اسلامی فلاحی ریاست کی طرف بڑھ رہا ہے،

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمرات کو اپنے ایک بیان میں کیا، راجہ شیراز کیانی نے کہا کہ انصاف کارڈ سے اسلام آباد سمیت پنجاب اور خیبر پختونخوا کے لاکھوں شہری مستفید ہوں گے اور لوگوں کے صحت کے بجٹ کا خرچ بچے گا انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں یہاں کے مستقل رہائشی بلا تفریق اپنی مرضی کے ہسپتالوں سے علاج کروا سکیں گے

    انہوں نے کہا کہ چاہے لنگر خانوں کا منصوبہ ہو یا پناہ گاہوں کا اور اب صحت سہولت کارڈ یہ سب منصوبے ملک کے پسماندہ طبقے کی فلاح کے لیے ہیں جن کا کبھی پاکستان کی تاریخ میں سوچا نہیں گیا ہمارا پورا سسٹم صرف ایلیٹ کو سہولیات فراہم کرتا تھا اور غریب صرف ٹھوکریں کھانے کے لیے تھا انہوں نے کہا کہ غریب کا تعلق ریاست کے ساتھ تبھی مضبوط ہوسکتا ہے جب ریاست غریب کا خیال رکھے اور یہی وہ نظریہ جو عمران خان نے دیا اور آج اس پر عملدرآمد ہورہا ہے

  • کرپٹ طارق محمود الحسن وزیراعظم کا مشیربن چکاہے:    احمد جواد

    کرپٹ طارق محمود الحسن وزیراعظم کا مشیربن چکاہے: احمد جواد

    لاہور:کرپٹ طارق محمود الحسن وزیراعظم کا مشیربن چکاہے،اطلاعات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سابق کارکن و رہنما اس وقت سخت غُصے میں آگئے ہیں اور انہوں نے پارٹی میں کرپٹ لوگوں کی موجودگی پرسوالات اٹھائے ہیں‌، ان کا کہنا ہے کہ وہ پارٹی کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گے

    احمد جواد کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی میں اکثرلوگ جانتے ہیں کہ ایک ایسے شخص کو پنجاب اورسیز انگلینڈ کا وائس چیرمین بنایا گیا جس پر انگلینڈ میں کرپشن کے الزام لگے، احمد جواد کہتے ہیں کہ اس تعیناتی کے خلاف پارٹی ورکرز نے سوشل میڈیا پر شور کیا تو اسے عہدے سے ہٹا دیا گیا

    پارٹی سے نکالے جانے والےاحمد جواد مزید کہتے ہیں کہ کچھ عرصے بعد اسی شخص یعنی طارق محمود الحسن کو پنجاب اورسیز کمیشن کا چیرمین بنا دیا گیا وہاں اس پر پیسے لینے کے الزام لگے میری فیس بک بھری ھے یورپ کے ورکروں نے سوشل میڈیا پر شور ڈالا تو اس کو ترقی دے کا وزیر اعظم پاکستان کا اورسیز کے لیے خصوصی مشیر لگا دیا گیا

    احمد جواد اس حوالے سے کہتےہیں کہ اس شخص کا نام طارق محمود الحسن ھے ،

    احمد جواد کہتے ہیں‌ پارٹی میں جس پرانگلی اٹھائی جاتی ہے اس کو عہدے سے نواز دیا جاتا ہےاورطارق محمود الحسن بھی ان خوش قسمت لوگوں میں شامل ہیں جو کرپشن بھی کرتے ہیں اور پاتے ہیں مقام

    احمد جواد کہتے ہیں کہ جب طارق محمود الحسن کو پہلی بار پنجاب اوورسیز انگلینڈ کا وائس چیئرمین بنایا گیا تو اس وقت بھی کارکنان نے احتجاج کیا تھا اور اب وہ مشیر وزیراعظم بن گئے اور پھراحتجاج ہوا لیکن اس احتجاج کی پرواہ تک نہ کی گئی

  • عمران خان کا خطرناک ہونے کا پیغام کس کیلئے تھا؟ شیخ رشید نے بتا دیا

    عمران خان کا خطرناک ہونے کا پیغام کس کیلئے تھا؟ شیخ رشید نے بتا دیا

    عمران خان کا خطرناک ہونے کا پیغام کس کیلئے تھا؟ شیخ رشید نے بتا دیا
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ اپوزیشن نے کبھی حکومت کو کسی معاملے میں شکست نہیں دی

    شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتیں 23 مارچ کو اسلام آباد آ کر شوق پورا کریں ،اپوزیشن کو فنانس بل پر بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا،عمران خان کی خوش قسمتی ہے کہ نالائق اپوزیشن ملی ،مری کا افسوسناک واقعہ ہوا،ہم غلطی کو تسلیم کرتے ہیں ہم نے ساری عمر پولیس اور تھانہ کلچر کی سیاست نہیں کی، وزیر داخلہ کا مری میں کوئی کام نہیں تھا مگر میں صبح ساڑھے 3بجے بھی وہاں تھا،

    مولانا فضل الرحمان نے گزشتہ روزتکبرکی بات کی،مولانا فضل الرحمان نے کہا عمران خان کومکھی کی طرح نکال دیں گے ،فضل الرحمان اپنی طرف دیکھیں، میڈیا نے انہیں زندہ رکھا ہوا ہے،میڈیا نہ ہو تو فضل الرحمان کی شکل بھی لوگ بھول جائیں ،عمران خان واقعی سڑکوں پر آیاتو بہت خطرناک ہو گا، اپوزیشن نے سڑکوں کا انتخاب کیا توڈیڑھ سال بھی خوار ہوں گے،23مارچ کادن حساس ہے ،ممکن ہے فون بند رہیں،کبھی کسی بدمعاش کو سر نہیں اٹھانے دیا،آپ نے سٹرکوں پر آنے کا فیصلہ کیا، انشاءاللہ آپ ڈیڑھ سال سٹرکوں پر ذلیل خوار ہوں گے،

    شیخ رشید احمد کا مزید کہنا تھا کہ اپوزیشن والے کیا کرنے آرہے ہیں کوئی وجہ ایجنڈا ہونا چاہیے اپوزیشن عدم اعتماد سے بھی بھاگ گئی ،اپوزیشن والے اسمبلیوں میں آ کر طاقت کا مظاہرہ کریں ،آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے اعلیٰ عہدیداروں کو بلیو پاسپورٹ دیں گے،وزیراعظم عمران خان چین کا اہم دورہ کررہے ہیں ،عمران خان کا خطرناک ہونے کا پیغام اپوزیشن کے لیے ہے،وزیراعظم عمران خا ن اور اسٹیبلشمنٹ ایک ہی پیج پر ہے ،اپوزیشن پارلیمنٹ میں کسی بھی بل پر حکومت کو شکست نہیں دے سکی،ٹریکٹر ٹرالی مارچ میں کتنے لوگ نکلے؟ اب 23 مارچ سے پیچھے نہ ہٹے، اسی تاریخ کو آئیں، اپوزیشن استعفوں کی باتیں کرتی تھی، پھر لانگ مارچ کی باتیں کرنے لگی اپوزیشن لانگ مارچ کرکے عالمی رہنماؤں کو ناراض کرنے جا رہی ہے،

    وزیراعظم غیرملکی شہریت رکھنے والے مشیروں، وزیروں سے استعفیٰ لیں،مریم اورنگزیب

    حفیظ شیخ کوہٹانے کی وجہ مہنگائی نہیں بلکہ کچھ اورہی ہے:جس کے تانے بانے کہیں اورملتے ہیں‌

    حفیظ شیخ میری سابق کابینہ کا حصہ تھے، میں یہ کام نہیں کرنا چاہتا، یوسف رضا گیلانی کا دبنگ اعلان

    لندن سے بانی متحدہ کو لاسکتا ہوں اور نہ ہی نوازشریف کو،شیخ رشید کی بے بسی

    بھٹو کو پھانسی ہوئی تو کچھ نہیں ہوا،یہ لوگ بھٹو سے بڑے لیڈر نہیں، شیخ رشید

    مقبوضہ کشمیر میں کسی دہشتگرد کے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، شیخ رشید

    بلاول جس دن پیدا ہوا عدم اعتماد پر ہی چل رہے ہیں، شیخ رشید

    طورخم ،چمن بارڈر پرسکون،پاکستانیوں کو واپس لائینگے،اشرف غنی کے دل میں فتور تھا،شیخ رشید

    بھارت کو افغانستان میں منہ کی کھانی پڑی،شیخ رشید نے کیا بڑا اعلان

    بلاول کیخلاف بات نہیں سن سکتا،مولانا کو اب یہ کام کرنا چاہئے، شیخ رشید

    وہی ہوا جس کا انتظار تھا، وزیراعظم ہاؤس سے بڑا استعفیٰ آ گیا

    شہزاد اکبر کو بھاگنے نہ دیا جائے،اگلا استعفیٰ کس کا آئے گا؟ مبشر لقمان کا انکشاف

    چودھری شجاعت حسین نے وزیراعظم کومشیروں سے خبردار کر دیا

    حکومت اپنے اتحادیوں کو اپوزیشن کیمپ کی طرف نہ دھکیلے،پرویز الہیٰ