Baaghi TV

Tag: ٹرمپ

  • ٹرمپ نے امریکا میں انگریزی کو سرکاری زبان بنانے کے ایگزیکٹیو آرڈر پر دستخط کر دیئے

    ٹرمپ نے امریکا میں انگریزی کو سرکاری زبان بنانے کے ایگزیکٹیو آرڈر پر دستخط کر دیئے

    واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نگریزی کو امریکا کی سرکاری زبان قرار دینے کے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیئے ہیں-

    باغی ٹی وی: امریکی میڈیا کے مطابق اس فیصلے سے سرکاری اداروں، وفاقی فنڈنگ حاصل کرنے والی تنظیموں اور تارکین وطن پر گہرا اثر پڑنے کا امکان ہے یہ اقدام سابق صدر بل کلنٹن کے دور میں نافذ کیے گئے قوانین کو منسوخ کرتا ہے، جو سرکاری اداروں کو غیر انگریزی بولنے والوں کیلئے زبان کی سہولت فراہم کرنے کا پابند بناتے تھےنئے حکم کے تحت اب سرکاری ادارے اپنی مرضی سے یہ فیصلہ کر سکیں گے کہ وہ غیر انگریزی زبانوں میں خدمات فراہم کریں یا نہیں۔

    وائٹ ہاؤس کے مطابق اس اقدام کا مقصد "قومی یکجہتی کو فروغ دینا اور سرکاری معاملات کو آسان بنانا” ہے ایگزیکٹو آرڈر میں کہا گیا ہے "انگریزی سیکھنا نہ صرف معاشی مواقع کھولتا ہے بلکہ تارکین وطن کو امریکی معاشرے میں گھلنے ملنے میں مدد دیتا ہے۔”

    دہشتگردی کے پیچھے ایک منظم غیر قانونی سپیکٹرم ہے،آرمی چیف

    یہ فیصلہ ٹرمپ کے "امریکا فرسٹ” ایجنڈے کے حامیوں کی جانب سے سراہا جا رہا ہے، جبکہ تارکین وطن کے حقوق کے حامی، سول رائٹس تنظیمیں اور ڈیموکریٹ رہنما اس پر تنقید کر رہے ہیں۔

    معروف قدامت پسند تجزیہ کار چارلی کرک نے اسے "قومی اتحاد کیلئے ایک بڑا قدم” قرار دیا، جبکہ امیگرنٹ رائٹس گروپ "یونائیٹڈ وی ڈریم” کی ڈائریکٹر انابیل مینڈوزا نے کہا "یہ فیصلہ تارکین وطن، خاص طور پر سیاہ فام اور ہسپانوی برادریوں کو نشانہ بنانے کی ایک اور کوشش ہے۔”

    دنیا میں سب سے طویل اور سب سے مختصر دورانیے کا روزہ کہاں ہوگا؟

    پورٹو ریکو میں، جہاں اسپینش بنیادی زبان ہے، اس فیصلے پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا امریکہ میں 75 فیصد لوگ گھروں میں صرف انگریز ی بولتے ہیں، لیکن تقریباً 42 ملین افراد ہسپانوی اور لاکھوں لوگ چینی، ویتنامی اور عربی زبانیں بولتے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے لاکھوں افراد کیلئے سرکاری خدمات اور قانونی معلومات حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے، یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ٹرمپ انتظامیہ نے انگریزی زبان کو ترجیح دینے کیلئے اقدامات کیے ہیں، 2017 میں، ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کی ہسپا نوی ویب سائٹ بند کر دی تھی، جو 2021 میں صدر جو بائیڈن کے اقتدار میں آنے کے بعد بحال کی گئی تھی۔

    ٹرمینیٹر، ٹائٹینک اور اوتار فلموں کے خالق نے امریکا چھوڑ دیا

  • ٹرمپ بھی اے آئی کا شکار، ایلون مسک کے پاؤں چومتے ہوئے ویڈیو وائرل

    ٹرمپ بھی اے آئی کا شکار، ایلون مسک کے پاؤں چومتے ہوئے ویڈیو وائرل

    واشنگٹن: ہیکرز نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایلون مسک کی آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) کی مدد سے بنائی گئی ویڈیو امریکی سرکاری دفتر کے ٹی وی پر چلا دی۔

    باغی ٹی وی :غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اے آئی سے محفوظ نہ رہ سکےڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیسلا اور ایکس کے سی ای او ایلون مسک کے پاؤں چومتے ہوئے جعلی ویڈیو امریکی سرکاری دفتر کے ٹیلی وژن پر چلا دی گئی، ڈونلڈ ٹرمپ کی جعلی ویڈیو ٹی وی پر ایک سے زائد بار چلنے کے سبب تیزی سے وائرل ہو گئی۔

    رپورٹس کے مطابق یہ حرکت ہیکرز کی جانب سے کی گئی ہے، ٹرمپ کو ایلون مسک کے پاؤں چومتے دکھایا گیا ہے ڈونلڈ ٹرمپ کی جعلی ویڈیو کا عنوان ’Long Live The Real King‘ تھا تاحال یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ ویڈیو کس نے بنائی جبکہ اس کے منظرِ عام پر آنے کے بعد امریکی دفاتر کی سیکیورٹی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں، مذکورہ جعلی ویڈیو ایک ہفتے قبل پہلی بار ایکس پر پوسٹ کی گئی تھی، اس جعلی ویڈیو نے سائبر سیکیورٹی کے خطرات اور سیاست میں مسک کے سمجھے جانے والے اثر و رسوخ پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

    واضح رہے کہ ایلون مسک امریکی صدر ٹرمپ کے اہم اتحادی ہیں اور ان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے وفاقی ایجنسیوں میں نمایاں اثر و رسوخ حاصل کر چکے ہیں۔

  • ٹرمپ نے سیاہ فام امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کو برطرف کردیا

    ٹرمپ نے سیاہ فام امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کو برطرف کردیا

    واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سیاہ فام امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل چارلس براؤن کو برطرف کر دیا-

    باغی ٹی وی : جنرل چارلس براؤن امریکی فضائیہ میں فائٹر پائلٹ کی حیثیت سے تاریخ ساز عہدیدار سمجھے جاتے ہیں اور فوج میں مختلف نسلوں اور صنفی برابری کے چیمپئن مانے جاتے تھے، وہ امریکی فوج میں دوسرے سیاہ فام جنرل تھے جو جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین کے عہدے تک پہنچے تھے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا جنرل چارلس براؤن کے 16 ماہ کے دور میں یوکرین اور مشرق وسطیٰ کی جنگوں میں پھنسا رہا صدر ٹرمپ نے ائیر فورس کے لیفٹیننٹ جنرل ڈین رازین کین کو چارلس براؤن کی جگہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف مقرر کر دیا ہے۔

    واجب الادا ٹیکس کی ایک ایک پائی عوام کی امانت ہے،شہباز شریف

    اس کے علاوہ ٹرمپ انتظامیہ نے محکمہ دفاع میں 5 ہزار چھانٹیاں کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین سے 500 ارب ڈالر معاوضہ طلب کرتے ہوئے کہا کہا ہم نے یوکرین جنگ پر اپنا خزانہ خرچ کیا،برطانوی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ یوکرین کے صدر زیلنسکی اپنی امریکی سرمایہ کاروں کو معدنیات تک رسائی دینے کے لیے آمادہ ہو گئے ہیں۔

    19 سال سے مطلوب خطرناک اشتہاری مجرم گرفتار

  • ٹرمپ کا غزہ پر حملےکامنصوبہ: 390 یہودی ربیوں نے اسرائیل کیخلاف مذمتی اشتہار دے دیا

    ٹرمپ کا غزہ پر حملےکامنصوبہ: 390 یہودی ربیوں نے اسرائیل کیخلاف مذمتی اشتہار دے دیا

    یہودی تخلیق کاروں ، سیاسی و سماجی کارکنوں اور مشہور شخصیات سمیت 350 سے زیادہ ربیوں نے نیویارک ٹائمز میں ایک اشتہار پر دستخط کیے ہیں جس میں انہوں نےغزہ سے فلسطینیوں کی مؤثر نسلی صفائی کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کی تجویز کی مذمت کی ہے، جس کیلئے انہیں اشتہار بھی دے دیا۔

    باغی ٹی وی : دی گارڈین کے مطابق مذکورہ اشتہار نیویارک ٹائمز اخبار میں شائع کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یہودی عوام نسلی تطہیر کو مسترد کرتے ہیں اس اشتہار میں واضح الفاظ میں کہا گیا کہ یہودی عوام کسی بھی قسم کی نسلی صفائے کو مسترد کرتے ہیں، علاوہ ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف دی جانے والی نسل کشی کی تجویز کی بھی مذمت کی گئی ہے۔

    صحافی پیٹر بینارٹ نے لکھا ہے کہ ہمارے وقتوں کی بربریت یہ ہے کہ ہمیں ان انسانوں کا بالکل بھی خیال نہیں رہا جو سفید فام یا یہودی اور مسیحی یا مغرب کے باشندے نہیں ہیں جبکہ معروف فلمی ہدایتکار جوناتھن گلیزر نے کہا کہ یہودیوں کے خلاف دوسری عالمی جنگ میں ہونے والے مظالم کو آج ایک قابض قوت نے اپنے حق میں استعمال کر لیا ہے۔

    جنوبی افریقہ میں دنیا کے پہلے ہم جنس پرست امام مسجد کا لرزہ خیز قتل

    رپورٹ کے مطابق یہ اشتہار اسرائیل کی جانب سے غزہ کا کنٹرول سنبھالنے کی ڈونلڈ ٹرمپ کی اس تجویز کا جواب ہےاس اقدام سے 20 لاکھ فلسطینی اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوں گے، کیونکہ ان کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوگا، ٹرمپ چاہتے ہیں کہ فلسطینی عوام اردن، مصر اور دیگر عرب ممالک میں جا کر بس جائیں لیکن عرب ممالک اور دیگر اتحادیوں سمیت بہت سے لوگوں نے اس اقدا م کی سخت مخالفت کی ہے۔ ان کے خیال میں یہ نسلی صفائی کی ایک شکل ہے، جو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

    یوکرین میں جنگ بندی کیلئےسعودی عرب میں جلد مذاکرات شروع ہونے کا امکان

    مذکورہ اشتہاری مہم کے ڈائریکٹر کوڈی ایڈگرلی کا خیال ہے کہ اشتہار کا وقت کافی اہم ہے کچھ سیاسی حدود جو کبھی غیر گفت و شنید سمجھی جاتی تھیں اب تیزی سے تبدیل ہو رہی ہیں، جس کی ایک وجہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان نئے اتحاد کی وجہ سے ہے انہوں نے فلسطینیوں کو پیغام دیا کہ وہ اکیلے نہیں ہیں اور لوگ غزہ سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کو روکنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہیں، جسے نسلی تطہیر کے نام سے جانا جاتا ہے۔

    واشنگٹن ڈی سی میں نیو سیناگوگ پروجیکٹ کے ربی یوزف برمن نے کہا کہ ٹرمپ "ایسا لگتا ہے کہ وہ اپنے ملک اور دنیا پر حکمرانی کرنے، اس کے مالک ہونے اور اس پر غلبہ پانے کا اختیار رکھنے والا خدا ہے-

    سعودی عرب اور امارات سمیت 11 ملکوں سے مزید 173 پاکستانی ڈی پورٹ

    ربی یوسف برمن نے کہا کہ یہودی تعلیم واضح ہے کہ ٹرمپ خدا نہیں ہے اور وہ فلسطینیوں کے موروثی وقار کو نہیں چھین سکتا اور نہ ہی جائیداد کے معاہدے کے لیے ان کی زمین چرا سکتا ہے۔ غزہ سے فلسطینیوں کو نسلی طور پر پاک کرنے کی ٹرمپ کی خواہش اخلاقی طور پر قابل نفرت ہےیہودی رہنما ٹرمپ کی نقل مکانی اور مصائب سے فائدہ اٹھانے کی کوششوں کو مسترد کرتے ہیں اور انہیں اس گھناؤنے جرم کو روکنے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔

    چونکہ حماس نے 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملہ کیا، جس میں تقریباً 1,200 اسرائیلی ہلاک ہوئے جبکہ 251 افراد کو یرغمال بنایا، اسرائیل نے غزہ پر ایک مہلک جنگ شروع کی گزشتہ 16 مہینوں کے دوران، اسرائیلی فورسز نے کم از کم 48,200 فلسطینیوں کو شہید کیا ہے جبکہ اسرائیلی امدادی پابندیوں کی وجہ سے خوراک، طبی سامان اور ایندھن کی قلت کے درمیان تنگ پٹی میں 20 لاکھ زندہ بچ جانے والوں کو زبردستی بے گھر کیا ہے۔

    مولانا فضل الرحمان کو سیکیورٹی تھریٹ،ترجمان جے یو آئی کی کےپی حکومت پر تنقید

    ہفتے کے آخر میں فاکس نیوز کے بریٹ بائر کے ساتھ ایک انٹرویو میں، ٹرمپ نے کہا کہ وہ غزہ کے "مالک” ہوں گے اور کہا کہ یہ "مستقبل کے لیے رئیل اسٹیٹ کی ترقی” ہوگی، یہ پوچھے جانے پر کہ کیا فلسطینیوں کو واپسی کا حق حاصل ہوگا، سابق ریئل اسٹیٹ ڈویلپر ٹرمپ نے کہا:کہ”نہیں، وہ ایسا نہیں کریں گے،اس دوران، میں اس کا مالک ہوں گا،اسے مستقبل کے لیے ایک رئیل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ کے طور پر سوچیں یہ زمین کا ایک خوبصورت ٹکڑا ہوگا کوئی بڑی رقم خرچ نہیں ہوئی۔”

  • پلاسٹک کے اسٹرا کااستعمال، ٹرمپ نےایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کردیئے

    پلاسٹک کے اسٹرا کااستعمال، ٹرمپ نےایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کردیئے

    واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پلاسٹک کے اسٹرا استعمال کرنے کے حوالے سے بھی ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کردیئے۔

    باغی ٹی وی : امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے پیر کے روز امریکی حکومت اور عوام کو پلاسٹک اسٹرا کی خریداری کی ترغیب دینے کے حوالے سے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے ہیں، اس موقع پر ٹرمپ نے کہا کہ ہم پلاسٹک اسٹرا کی جانب واپس جارہے ہیں، انہو ں نے وائٹ ہاؤس میں موجود صحافیوں کو کہا کہ کاغذ کے اسٹرا کسی کام کے نہیں، میرا نہیں خیال کہ پلاسٹک سے سمندر میں گھومنے والی شارکوں کو کوئی مسئلہ ہوگا۔

    پاکستانی نوجوان کی محبت میں کراچی آکر جانیوالی خاتون اپنے ملک نہ پہنچ سکی

    واضح رہے کہ سابق امریکی صدر جو بائیڈن کی حکومت نے ماحول دوست پالیسیوں کے تحت نان بایوڈیگریڈیبل سنگل یوز پلاسٹک کے استعمال کو محدود کرنے کے لیے اقدامات کیے تھے اور عالمی سطح پر پلاسٹک کی پیداوار پر قابو پانے کے معاہدے کی حمایت کی تھی۔

    تاہم ٹرمپ نے اپنے دوسرے دورِ صدارت میں پیرس ماحولیاتی معاہدے سے دوبارہ علیحدگی اختیار کرنے کے بعد ان اقدامات کو مزید کمزور کر دیا، نئے ایگزیکٹو آرڈر کے تحت ٹرمپ نے 2032 تک وفاقی علاقوں میں تمام سنگل یوز پلاسٹک مصنوعات کے استعمال کا خاتمے کی بائیڈن کی پالیسی کو بھی ختم کردیا ہے۔

    توجہ دی جائے تو سرکاری سکولوں کے بچے پوری دنیا فتح کرسکتے ہیں،مریم نواز

  • ٹرمپ،پیوٹن ٹیلیفونک رابطہ، یوکرین جنگ خاتمے پر آمادگی

    ٹرمپ،پیوٹن ٹیلیفونک رابطہ، یوکرین جنگ خاتمے پر آمادگی

    امریکا کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فونک گفتگو میں صدر پیوٹن نے کہا ہے کہ وہ یوکرین جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں۔

    امریکی میڈیا کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن یوکرین جنگ کا خاتمہ دیکھنا چاہتے ہیں تاکہ مزید اموات کو روکا جا سکے۔ اُن تمام جوان اور خوبصورت لوگوں کو ذہن میں لائیں جو آپ کے بچوں کی ہی طرح ہیں لیکن بے وجہ مارے گئے اور اس کا احساس پیوٹن کو بھی ہے۔ اگر میں صدر ہوتا تو روس اور یوکرین جنگ کبھی شروع نہ ہوتی۔ جوبائیڈن ہماری قوم کے لیے مکمل شرمندگی ثابت ہوئے ہیں۔

    ٹرمپ نے اس جنگ کے جلد خاتمے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس اس کے خاتمے کے لیے ایک ٹھوس منصوبہ ہےامریکی صدر نے جلد از جلد جنگ کے خاتمے کی امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ جنگ جلد ختم ہو۔ ہر دن لوگ مر رہے ہیں اور یہ جنگ بد سے بدترین ہوتی جا رہی ہے۔

    دوسری جانب کریملن کے ترجمان دمتری پسکوف نے کہا کہ وہ اس رپورٹ کی تصدیق یا تردید نہیں کرسکتے کیونکہ روس اور امریکا کے درمیان رابطے مختلف چینلز کے ذریعے ہوتے ہیں۔خیال رہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اگلے ہفتے میونخ سیکیورٹی کانفرنس میں یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی سے ملاقات کریں گے۔امریکی صدر ٹرمپ نے یوکرین کے ساتھ 500 ملین ڈالر کے معاہدے کی تجویز دی ہے جس کے تحت یوکرین کو نایاب معدنیات اور گیس تک رسائی حاصل ہو گی بدلے میں کسی ممکنہ امن معاہدے میں سیکیورٹی کی ضمانتیں فراہم کی جائیں گی۔

  • ’وہ بہترین آپریشن تھا‘ٹرمپ کی نیتن یاہو کے لبنان میں پیجر دھماکوں کی تعریف

    ’وہ بہترین آپریشن تھا‘ٹرمپ کی نیتن یاہو کے لبنان میں پیجر دھماکوں کی تعریف

    واشنگٹن: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نےامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دو پیجر ڈیوائسز کا تحفہ دیا۔

    باغی ٹی وی: اسرائیلی میڈیا کے مطابق نیتن یاہو نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک سنہری پیجر اور ایک عام پیجر تحفے میں دیا جوکہ گزشتہ سال لبنان میں حزب اللہ کے خلاف ہونے والے پیجر دھماکوں کا حوالہ تھاامریکی صدر نے تحفے پر ردعمل دیتے ہوئے پیجر دھماکوں کی تعریف کی اور کہا کہ ’وہ بہترین آپریشن تھا‘۔

    بدلے میں ٹرمپ نے نیتن یاہو کو ان کے اس دورے کی تصویر پیش دی جس میں ٹرمپ اور نیتن یاہو موجود ہیں، تصویر کے انتساب میں درج ہے ’ایک عظیم رہنما بی بی (نیتن یاہو) کے لیے‘۔

    4 کزنز کو اٹلی کا جھانسہ دے کر ایران میں اغوا کاروں کے حوالے کر دیا

    واضح رہے کہ نیتن یاہو نے گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی تھی،وائٹ ہاؤس میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ امریکا غزہ کی پٹی پر قبضہ کر لے گا، ہم اس کے مالک ہوں گے جس کا مقصد اس علاقے میں استحکام لانا اور ہزاروں ملازمتیں پیدا کرنا ہے۔

    ٹرمپ کا غزہ کی پٹی پر طویل عرصے تک قبضہ کرنے کا اعلان

    امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں غزہ میں طویل المدتی ملکیت کی پوزیشن دیکھتا ہوں، ہم غزہ کو ترقی دیں گےعلاقے کے لوگوں کے لیے ملازمتیں دیں گے ، شہریوں کو بسائیں گےفلسطینیوں کے لیے منصوبے کے تحت اردن اور مصر کے رہنما جگہ فراہم کریں گے، مشرق وسطیٰ کے دیگر رہنماؤں سےبات ہوئی، انہیں فلسطینیوں کو غزہ سے منتقل کرنے کا آئیڈیا پسند آیا۔

    امریکا کی فنڈنگ رُکنے سے جنوبی ایشیا میں لاکھوں خواتین متاثر ہوں گی،اقوام متحدہ

    17 ستمبر 2024 کو لبنان میں سیکڑوں کی تعداد میں پیجرز میں دھماکے ہوئے تھا جس کے نتیجے میں 12 افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوگئے تھےان دھماکوں کے اگلے ہی روز لبنان میں کئی واکی ٹاکی سیٹس اور موبائل فونز میں دھماکے ہوئے جن کے نتیجے میں مزید 25 افراد ہلاک اور 608 افراد زخمی ہوئے تھےلبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے ان دھماکوں کا الزام اسرائیل پر عائد کیا تھا، بعد ازاں اسرائیلی وزیر اعظم نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

    جعلی دستاویزات پر بیرون ملک سفر کی کوشش کرنےوالا مسافر گرفتار

  • ٹرمپ کا غزہ کی پٹی پر طویل عرصے تک قبضہ کرنے کا اعلان

    ٹرمپ کا غزہ کی پٹی پر طویل عرصے تک قبضہ کرنے کا اعلان

    واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کی پٹی پر طویل عرصے تک قبضہ کرنے کا اعلان کر دیا۔

    باغی ٹی وی : صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ امریکا غزہ کی پٹی پر قبضہ کر لے گا، ہم اس کے مالک ہوں گے جس کا مقصد اس علاقے میں استحکام لانا اور ہزاروں ملازمتیں پیدا کرنا ہے۔

    امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں غزہ میں طویل المدتی ملکیت کی پوزیشن دیکھتا ہوں، ہم غزہ کو ترقی دیں گےعلاقے کے لوگوں کے لیے ملازمتیں دیں گے ، شہریوں کو بسائیں گےفلسطینیوں کے لیے منصوبے کے تحت اردن اور مصر کے رہنما جگہ فراہم کریں گے، مشرق وسطیٰ کے دیگر رہنماؤں سےبات ہوئی، انہیں فلسطینیوں کو غزہ سے منتقل کرنے کا آئیڈیا پسند آیا۔

    پاک، سعودیہ کے درمیان منی لانڈرنگ اور دہشتگردی کیخلاف تعاون کی منظوری

    صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اپنے منصوبے کے بعد غزہ میں دنیا بھر کے لوگوں کو آباد ہوتے دیکھتا ہوں میں اسرائیل، غزہ اور سعودیہ کا دورہ کروں گا، سعودی عرب بہت مددگار ثابت ہوگا ہمیں امید ہے کہ جنگ بندی برقرار رہے گی بہت سے ممالک جلد ہی ابراہام معاہد ے میں شامل ہوں گے۔

    ٹرمپ نے بتایا کہ نیتن یاہو کے ساتھ ملاقات میں ہم نے حماس کے خاتمے کو یقینی بنانے کے طریقے پر تبادلہ خیال کیاغزہ کو دوبارہ تعمیر کرنے اور اس پر قبضہ کرنے کا عمل انہی لوگوں کے ذریعے نہیں ہونا چاہیے میں ایران کے ساتھ ڈیل کرنا پسند کروں گااگر لگا کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہیں تو یہ ان کی بدقسمتی کا باعث ہوگا۔

    اسماعیلی فرقے کے سربراہ آغا خان انتقال کر گئے

    دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا منصوبہ، جس کے تحت امریکا فلسطینی علاقے غزہ پٹی کا کنٹرول سنبھالے گا، تاریخ بدل سکتا ہے ٹرمپ غزہ کا مختلف مستقبل دیکھتے ہیں، یہ قابلِ توجہ ہے اور تاریخ بدل سکتا ہےمیں اور ڈونلڈ ٹرمپ اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ایران کبھی ایٹمی ہتھیار تیار نہ کرے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر سعودی وزرت خارجہ کا مؤقف سامنے آگیا۔

    سعودی عرب نے واضح کیا ہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر اسرائیل سے تعلقات قائم نہیں کیے جائیں گے سعودی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر سعودی عرب اسرائیل سے تعلقات قائم نہیں کرے گا، فلسطینی ریاست کے قیام سے متعلق سعودی عرب کا مؤقف مضبوط اور غیر متز لزل ہے۔

    امریکا کی فنڈنگ رُکنے سے جنوبی ایشیا میں لاکھوں خواتین متاثر ہوں گی،اقوام متحدہ

    وزارت خارجہ نے کہا کہ سعودی عرب کے ولی عہد سلطنت کے مؤقف کی کھلے اور دوٹوک انداز سے تصدیق کرتے ہیں، سعودی عرب کے مؤقف کی کسی بھی حالات میں کسی تشریح کی اجازت نہیں،فلسطینیوں سے متعلق سعودی عرب کے مؤقف پر گفت وشنید کی ہی نہیں جاسکتی۔

    دوسری جانب فلسطینی شہریوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ پر قبضہ کرنے کے اعلان پر رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کچھ بھی ہوجائے، ہم کسی صورت غزہ چھوڑ کر کسی اور مقام پر منتقل نہیں ہوں گے۔

    اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق زیادہ تر فلسطینیوں کی طرح غزہ کے جنوبی شہر رفح کے رہائشی حاتم عزام نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر سخت غم و غصے کا اظہار کیا جس میں انہوں نے کہا کہ غزہ کے رہائشیوں کو مصر یا اردن منتقل ہو جانا چاہیے۔

    یومِ یکجہتی کشمیر آج بھرپور انداز سے منایا جا رہا ہے

    34 سالہ شہری نے ٹرمپ کے گزشتہ ہفتے غزہ میں صفائی سے متعلق اپنے منصوبے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے استعمال کیے گئے الفاظ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہ ٹرمپ سمجھتے ہیں کہ غزہ کچرے کا ڈھیر ہے، ایسا بالکل نہیں ہے امریکی صدر کو فریب کا شکار کہتے ہوئے شہری نے کہا کہ ٹرمپ مصر اور اردن کو تارکین وطن لینے پر ایسے مجبور کرنا چاہتے ہیں گویا کہ یہ ملک ان کے ذاتی فارم ہیں۔

    رفح کے ایک اور 30 سالہ رہائشی ایحاب احمد نے افسوس کا اظہار کیا کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو "اب بھی فلسطینی عوام اور ان کے اپنی زمین سے انسیت کو نہیں سمجھتے، ہم اس سرزمین پر رہیں گے، چاہے کچھ بھی ہو، چاہے ہمیں خیموں اور سڑکوں پر ہی رہنا پڑے، ہم اپنی زمین سے جڑے رہیں گے۔

    کمال گرائمر سکول لاہور برانچ میں سالانہ نتائج اور تقسیم انعامات کی شاندار تقریب

    ایحاب احمد نے اے ایف پی کو بتایا کہ فلسطینیوں نے برطانیہ کے مینڈیٹ کے بعد 1948 کی جنگ سے سبق سیکھا جب اسرائیل کے قیام کے وقت لاکھوں فلسطینیوں کو گھروں سے محروم کیا گیا اور انہیں واپس جانے کی اجازت نہیں دی گئی، دنیا کو اس پیغام کو سمجھنا چاہیے کہ اس بار ہم اس طرح سے کہیں نہیں جائیں گے جیسا کہ 1948 میں ہوا تھا۔

    مصر اور اردن دونوں نے ٹرمپ کے خیال کو سختی سے مسترد کر دیا ہے اور ان ممالک کے علاوہ غزہ اور دیگر ہمسایہ ممالک نے بھی اسے ماننے سے انکار کیا ہےٹرمپ اور نیتن یاہو کو فلسطینی عوام اور غزہ کے لوگوں کے حوالے سے حقائق کو سمجھنا چاہیے، یہ وہ لوگ ہیں جن اپنی سرزمین میں گہری جڑیں ہیں، یہ کہیں نہیں جائیں گے۔

    بانی پی ٹی آئی این آراوچاہتے ہیں،خواجہ آصف

    آسٹریلیا کے وزیرِاعظم انتھونی البانیز نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ پر کنٹرول کے اعلان پر شدید حیرت اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔ آسٹریلوی وزیرِ اعظم انتھونی البانیز نے فلسطین کے دو ریاستی حل کی حمایت کا عزم کرتے ہوئے کہا کہ غزہ پر قبضے کے ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان سے دھچکا لگا ہے۔

    آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز نے کہا کہ ایسی کسی مہم جوئی کی حمایت نہیں کریں گے جو دو ریاستی حل کے منافی ہو وزیرِاعظم انتھونی البانیز نے کہا کہ آسٹریلیا مشرق وسطیٰ میں دو ریاستی حل کی حمایت کرتا ہے اور خطے میں استحکام کے لیے یہی واحد راستہ ہے۔

    اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس نے ٹرمپ کے غزہ منصوبے کو فلسطینیوں کی نسل کشی قرار دیدیا۔

    اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری انتونیو گوتیرس نے ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ پر قبضے اور فلسطینیوں کو دوسرے ممالک میں بسانے کے منصوبے پر کڑی تنقید کی ہے، انتونیو گوتریس نے ایک صحافی کے سوال کے جواب میں کہا کہ فلسطین کا کوئی بھی حل وہاں کے عوام کی شمولیت کے بغیر ناقابل عمل اور بے سود رہے گا اگر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے پر عمل کیا جاتا ہے تو اس سے فلسطینی ریاست کا قیام ہمیشہ کے لیے کھٹائی میں پڑ جائے گا۔

  • ٹرمپ نے اہم ایجنسیوں کے کئی عہدیداروں کوبرطرف کردیا

    ٹرمپ نے اہم ایجنسیوں کے کئی عہدیداروں کوبرطرف کردیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اہم سرکاری اداروں کے آزادنہ حیثیت میں کام کرنے والے انسپکٹر جنرل کو برطرف کر دیا۔

    امریکی جریدے واشنگٹن پوسٹ نے اس معاملے سے باخبر افراد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جن ایجنسیوں کے حکام کو برطرف کیا گیا ان میں دفاع، ریاست، نقل و حمل، سابق فوجیوں کے امور، ہاؤسنگ اور اربن ڈیولپمنٹ، داخلہ اور توانائی کے محکمے شامل ہیں۔نیویارک ٹائمز نے کہا کہ برطرفی کے احکامات نے 17 ایجنسیوں کو متاثر کیا لیکن محکمہ انصاف کے انسپکٹر جنرل مائیکل ہورووٹز برطرفی سے محفوٖظ رہے۔واشنگٹن پوسٹ نے کہا کہ برطرفی کے احکامات بظاہر ان وفاقی قانون کی خلاف ورزی لگتے ہیں جن کے تحت کانگریس کو انسپکٹر جنرل کو برطرف کرنے کے ادارے سے متعلق 30 دن کا نوٹس موصول کرنا ہوگا۔وائٹ ہاؤس نے فوری طور پر رپورٹس پر رد عمل دینے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔

    واضح رہے کہ انسپکٹر جنرل ایک آزاد عہدہ ہے جو ضیاع، فراڈ اور اختیارات کے غلط استعال سے متعلق آڈٹ، تحقیقات اور الزامات کے حوالے سے کام کرتا ہے، انہیں صدر یا متعلقہ ایجنسی کا سربراہ ہٹایا جا سکتا ہے اور اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ انہیں کس نے نامزد یا مقرر کیا۔برطرف کیے جانے والوں میں سے زیادہ تر کو ٹرمپ کے 2017-2021 کے پہلے دور میں مقرر کیا گیا تھا، واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ متاثرہ افراد کو وائٹ ہاؤس عملے کے ڈائریکٹر کی جانب سے ای میلز کے ذریعے فیصلے سے مطلع کیا گیا تھا کہ انہیں فوری طور پر برطرف کر دیا گیا ہے۔

    کینیڈین امیگریشن، 2027 تک کینیڈا میں عارضی رہائشیوں کی تعداد میں کمی

    اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہ و مراعات 5 لاکھ روپے کرنے کی منظوری

    بلوچستان کے 25 اضلاع میں ضمنی بلدیاتی انتخابات کل ہوں گے

    سیکیورٹی فورسز کا خیبر پختونخواہ میں آپریشن، 30 خوارج ہلاک

    کے پی کے میں کرپشن ہی کرپشن ہے، مولانا برس پڑے

  • ڈونلڈ ٹرمپ کا دہشت گردی کے حامی غیر ملکیوں کیخلاف نیا صدارتی حکم نامہ

    ڈونلڈ ٹرمپ کا دہشت گردی کے حامی غیر ملکیوں کیخلاف نیا صدارتی حکم نامہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دہشت گردی کے حامی غیر ملکیوں کے خلاف ایک نیا صدارتی حکم نامہ جاری کر دیا ہے جس کا مقصد امریکی قومی سلامتی کو مزید مستحکم کرنا ہے۔ اس حکم نامے کا عنوان ’امریکا کو غیر ملکی دہشت گردوں اور دیگر قومی سلامتی و عوامی تحفظ کے خطرات سے محفوظ رکھنا‘ رکھا گیا ہے۔

    اس نئے حکم نامے کا بنیادی مقصد ایسے غیر ملکیوں کی شناخت اور جانچ پڑتال کرنا ہے جو امریکا کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ اس میں خاص طور پر ان افراد کو نشانہ بنایا گیا ہے جو حماس اور حزب اللّٰہ کی حمایت کرتے ہیں، اور ان افراد کے خلاف سخت اقدامات کی تجویز دی گئی ہے جو ان تنظیموں کے ساتھ وابستہ مظاہروں یا دیگر سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں۔ اس کے تحت ایسے افراد کو فوری طور پر ملک بدر کرنے کی کارروائی کی جا سکتی ہے۔صدارتی حکم نامے کے مطابق ہوم لینڈ سیکیورٹی، محکمۂ خارجہ اور انٹیلی جنس ایجنسیاں ایسے افراد کے بارے میں سخت نگرانی اور جانچ پڑتال کریں گی تاکہ ان خطرات کی فوری شناخت کی جا سکے جو امریکی قوم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس میں خاص طور پر ان غیر ملکیوں کو ہدف بنایا جائے گا جو پہلے ہی امریکا میں موجود ہیں اور امریکا مخالف نظریات رکھتے ہیں یا نفرت انگیز نظریات کی ترویج کر رہے ہیں۔

    یہ حکم نامہ خاص طور پر ان غیر ملکیوں کی سخت جانچ کا تقاضا کرتا ہے جو مشرقِ وسطیٰ، جنوبی ایشیاء اور شمالی افریقا جیسے دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں سے امریکا آتے ہیں۔ ان افراد کے ویزا کی جانچ بھی سختی سے کی جائے گی تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ امریکا میں داخل ہونے والے افراد ملک کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ نہ بنیں۔

    مذہبی آزادی اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس حکم نامے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ حکم نامہ داخلی اور عالمی سطح پر ایک بڑا تنازعہ پیدا کرے گا اور اسے ٹرمپ کے گزشتہ دورِ اقتدار میں جاری کردہ ’مسلم بین‘ کے حکم نامے سے ملتا جلتا سمجھا جا رہا ہے، جس میں مسلمانوں اور ان ممالک کو نشانہ بنایا گیا تھا جہاں مسلمان بڑی تعداد میں آباد ہیں۔دوسری جانب ٹرمپ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام امریکا کی قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ غیر ملکی افراد کو امریکی آزادی کا غلط استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے تاکہ وہ نفرت یا تشدد کو فروغ نہ دے سکیں۔

    صدر ٹرمپ کے ناقدین، شہری حقوق کے ادارے اور مہاجرین کے حقوق کے لیے سرگرم گروہ نے اس حکم نامے پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ حکم نسلی امتیاز کو فروغ دے سکتا ہے، مسلمانوں کو نشانہ بنا سکتا ہے اور آزادیٔ اظہار پر قدغن لگانے کا باعث بن سکتا ہے۔اس حکم نامے پر آنے والے دنوں میں امریکا اور عالمی سطح پر مزید بحث اور تنازعات کی توقع کی جا رہی ہے

    انسانی اسمگلنگ،سدباب کیلئے وزیرِ اعظم کی سربراہی میں خصوصی ٹاسک فورس قائم