Baaghi TV

Tag: ٹرمپ

  • ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے سے متعلق سی این این کی رپورٹ فیک قرار دی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے سے متعلق امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹنگ مسترد کردی-

    صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سوشل ٹروتھ پر جاری بیان میں کہا کہ سی این این نے ایک بار پھر غلط معلومات پھیلانے کی کوشش کی اور یہ تاثر دیا کہ ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے میں جوہری معاملات کا کوئی واضح ذکر موجود نہیں یہ دعویٰ حقیقت کے برعکس ہےمعاہدے میں واضح طور پر درج ہے کہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    ٹرمپ نے کہا کہ جوہری پروگرام سے متعلق نکات اس معاہدے کا بنیادی اور مرکزی حصہ ہیں، معاہدہ نہایت جامع اور تفصیلی ہے جس میں ایران کے جوہری پروگرام، افزودہ یورینیم اور دیگر حساس معاملات سے متعلق مختلف پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے معاہدے کا بڑا حصہ انہی معاملات پر مشتمل ہے۔

    صدر ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں سی این این پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ادارہ مسلسل گمراہ کن رپورٹنگ کر رہا ہےآیا نئی انتظامیہ کے تحت سی این این اپنی ساکھ بحال کر پائے گا یا نہیں؟

    دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے کے حوالے سے سفارتی رابطے جاری ہیں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایرانی سرکاری میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے ساتھ پیغامات اور مذاکرات کا تبادلہ جاری ہے، تاہم کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے سے قبل کسی قسم کی قیاس آرائی مناسب نہیں ہوگی موجودہ صورتحال میں معاہدے کے بارے میں کوئی حتمی رائے دینا قبل از وقت ہوگا اور تمام فریقوں کو مذاکراتی عمل مکمل ہونے کا انتظار کرنا چاہیے۔

    قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے اس بات کی ضمانت دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے کہ وہ جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ دونوں ممالک ایک بہت اچھے معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں امریکا کی بنیادی شرط یہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنائے اور ان کے بقول تہران اس نکتے سے اتفاق کر چکا ہے۔ تاہم ٹرمپ نے یہ بھی عندیہ دیا کہ اگر مذاکرات مطلوبہ نتائج نہ دے سکے تو واشنگٹن کے پاس دیگر آپشنز بھی موجود ہیں۔

    یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مفاہمت، جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی سے متعلق مختلف رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں، تاہم دونوں ممالک کی جانب سے ابھی تک کسی حتمی معاہدے کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔

  • ایران کے ساتھ معاہدہ یا تو بہترین اور بامقصد ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا،ٹرمپ

    ایران کے ساتھ معاہدہ یا تو بہترین اور بامقصد ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے سے متعلق تنقید کرنے والے سیاستدانوں اور مخالفین کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ ہوا تو وہ ایک بہترین معاہدہ ہوگا ورنہ کوئی ڈیل نہیں ہوگی وہ ان لوگوں پر ہنستے ہیں جو بغیر حقائق جانے رائے دے رہے ہیں۔

    پیر کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ ڈیل کو ناکام سیاستدان غلط انداز میں پیش کررہے ہیں، ڈیموکریٹ سینیٹر بار بار غلط پالیسیوں کی حمایت کرتے ہیں،انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدہ سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں ہونے والے جوہری معاہدے جیسا نہیں ہوگاٹرمپ کے مطابق اوباما انتظامیہ کا معاہدہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا راستہ فراہم کرتا تھا۔

    صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ وہ ایسے معاہدے نہیں کرتے اور ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ ڈیل میں امریکی مفادات کو ترجیح دی جائے گی،ایران کے ساتھ معاہدہ یا تو بہترین اور بامقصد ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔

    اس سے قبل گزشتہ روز امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے نئی دہلی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا ایران کے ساتھ ایک مضبوط اور مؤثر معاہدہ چاہتا ہے تاہم اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو واشنگٹن دوسرا راستہ اختیار کرے گا امریکا سفارت کاری کو کامیاب بنانے کے لیے ہر ممکن موقع دے گا تاہم اگر ایران کے ساتھ اچھا معاہدہ نہ ہوسکا تو متبادل آپشنز پر غور کیا جائے گا۔

    امریکی وزیر خارجہ کے مطابق ایران کے ساتھ ایسے نکات زیر غور ہیں، جن میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور ایران کے جوہری پروگرام پر محدود مدت کے بامعنی مذاکرات شامل ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کسی مثبت نتیجے تک پہنچ سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ سابق امریکی صدر باراک اوباما نے 2015 میں ایران کے ساتھ ایک تاریخی جوہری معاہدہ کیا تھا، جس کا مقصد تہران کے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے مختلف راستوں کو محدود کرنا تھا معاہدے میں ایران کے جوہری پروگرام کی سخت نگرانی اور تصدیقی نظام بھی شامل تھا تاہم ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018 میں امریکا کو اس معاہدے سے الگ کرتے ہوئے اسے ناقص معاہدہ قرار دیا تھا۔ امریکی انخلا کے بعد ایران نے اعلیٰ سطح پر افزودہ یورینیم کی پیداوار میں اضافہ کردیا تھا۔

  • ایران امریکا ممکنہ مذاکرات: اسحاق ڈار نے اہم پیشرفت کی تصدیق کر دی

    ایران امریکا ممکنہ مذاکرات: اسحاق ڈار نے اہم پیشرفت کی تصدیق کر دی

    پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے تصدیق کی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کی قیادت میں پاکستان سمیت سعودی عرب، ترکیہ، قطر، مصر، متحدہ عرب امارات اور اردن کے سربراہان کے درمیان ایک تاریخی ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔

    سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر بیان میں اسحاق ڈار نے اسے خطے میں پائیدار امن، استحکام اور جلد ممکنہ سفارتی حل کی جانب ایک سنگ میل قرار دیتے ہوئے اس حساس عمل میں وزیر اعظم شہباز شریف کے وژن اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے مرکزی سفارتی کردار کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

    اسحاق ڈار نے اپنی پوسٹ میں کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کی جانب سے پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ، قطر، مصر، متحدہ عرب امارات اور اردن کے رہنماؤں کے ساتھ کیا جانے والا آج کا اہم ٹیلیفونک رابطہ، علاقائی امن، استحکام اور جلد ممکنہ سفارتی حل کے ہمارے مشترکہ ہدف کی جانب ایک بڑا اور اہم قدم ہے، ان شاء اللہ۔

    اسحاق ڈار نے صدارتی سفارت کاری کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہم صدر ٹرمپ کی قیادت اور مذاکرات و سفارت کاری کے لیے ان کے غیر متزلزل عزم کو دل سے تسلیم کرتے ہیں اس کے ساتھ ہی انہوں نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور پوری امریکی ٹیم (بشمول اسٹو وٹکوف اور جیرڈ کشنر) کی کوششوں کی بھی تعریف کی، جن کے مسلسل رابطوں نے جاری مذاکرات میں بامعنی پیش رفت حاصل کرنے میں مدد فراہم کی۔

    نائب وزیر اعظم نے ان امن کوششوں کو آگے بڑھانے میں ایرانی قیادت کے تعمیری کردار کا اعتراف کیا اور شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان، وزیر خارجہ سید عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے مثبت رویے کو دل سے سراہتے ہیں۔

    اسحاق ڈار نے اپنے بیان میں انکشاف کیا کہ وہ خود 28 فروری سے اس پورے سفارتی عمل کے دوران عالمی قیادت کے ساتھ مسلسل قریبی رابطے میں رہے انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس اور برادر علاقائی شراکت داروں کا شکریہ ادا کیا، جن میں سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان، ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان، مصر کے وزیر خارجہ بدر عبد العاطی اور قطر کے وزیر اعظم و وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی شامل ہیں، جن کے تعمیری تعاون اور حمایت نے اس حتمی نتیجے کے حصول میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔

    پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کا خصوصی تذکرہ کرتے ہوئے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ میں خاص طور پر پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف کے دور اندیش وژن اور امن کے لیے ان کے پختہ عزم کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں، اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی خدمات کو سراہتا ہوں جنہوں نے اس انتہائی حساس اور دور رس عمل کے دوران ایک مرکزی کردار ادا کیا اور آج کی اس اہم ترین عالمی بات چیت میں پاکستان کی نمائندگی بھی کی انہوں نے اس طویل کاوش میں مسلسل اور مستقل سفارتی تعاون فراہم کرنے پر پاکستان کی وزارتِ خارجہ (دفتر خارجہ) کا بھی شکریہ ادا کیا۔

    نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان پائیدار امن، باہمی احترام اور علاقائی استحکام کے لیے کی جانے والی تمام مخلصانہ کوششوں کی حمایت کے لیے پوری طرح پرعزم ہے ان مذاکرات کے کامیاب نتائج اس امید کو تقویت دیتے ہیں کہ ایک مثبت اور پائیدار حل اب ہماری پہنچ میں ہے، ان شاء اللہ۔ ہمارے خطے اور اس سے آگے کے ممالک کی مشترکہ خوشحالی اور سلامتی کے لیے جنگ و تصادم کے مقابلے میں ہمیشہ مذاکرات اور سفارت کاری کو ہی فتح ملنی چاہیے۔

  • ایران سے ممکنہ ڈیل:ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان کشیدہ ٹیلیفونک گفتگو

    ایران سے ممکنہ ڈیل:ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان کشیدہ ٹیلیفونک گفتگو

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے درمیان منگل کو ایران جنگ کے معاملے پر ایک کشیدہ ٹیلیفونک گفتگو ہوئی-

    امریکی اہلکار نے سی این این کو بتایا کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران کے معاملے پر مختلف سوچ رکھتے ہیں، جس کے باعث گفتگو میں تناؤ پیدا ہوا یہ حالیہ دنوں میں دونوں رہنماؤں کے درمیان پہلی گفتگو نہیں تھی اتوار کو ہونے والی بات چیت میں صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کو بتایا تھا کہ وہ ہفتے کے آغاز میں ایران پر نئے ہدفی حملوں کی منظوری دینے کا امکان رکھتے ہیں، بتایا گیا کہ اس مجوزہ کارروائی کو نیا نام آپریشن سلیج ہیمر دیے جانے کی تیاری بھی کی جارہی تھی۔

    تاہم ابتدائی گفتگو کے تقریباً 24 گھنٹے بعد صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ منگل کو متوقع حملے روک رہے ہیں ان کے مطابق یہ فیصلہ خلیجی اتحادی ممالک، خصوصاً سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کی درخواست پر کیا گیا امریکی اہلکار اور معاملے سے واقف ایک ذرائع کا کہنا تھا کہ ان دنوں خلیجی ممالک وا ئٹ ہاؤس اور پاکستانی ثالثوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ سفارتی مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے ایک فریم ورک تیار کیا جاسکے۔

    صدر ٹرمپ نے بدھ کے روز صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ ہم ایران کے معاملے کے آخری مراحل میں ہیں، دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہےیا تو معاہدہ ہوجائے گا یا پھر ہم کچھ ایسے اقدامات کریں گے جو کافی سخت ہوں گے، لیکن امید ہے کہ ایسا نہیں ہوگا۔

    دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو ان جاری مذاکرات سے ناخوش دکھائی دیتے ہیں امریکی اور اسرائیلی ذرائع کے مطابق نیتن یاہو طویل عرصے سے تہران کے خلاف زیادہ جارحانہ حکمت عملی کے حامی رہے ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ تاخیر صرف ایران کے مفاد میں جا رہی ہے۔

    امریکی اہلکار کے مطابق نیتن یاہو نے منگل کی گفتگو میں صدر ٹرمپ کو واضح طور پر بتایا کہ متوقع حملے موخر کرنا ایک غلطی ہے اور امریکا کو اپنے طے شدہ منصوبے کے مطابق کارروائی جاری رکھنی چاہیے۔

    ایک اسرائیلی ذرائع نے سی این این کو بتایا کہ تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی گفتگو میں نیتن یاہو نے ٹرمپ پر فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے پر زور دیا اسرائیلی حکام کے مطابق اختلاف واضح تھا، کیونکہ ٹرمپ معاہدے کے امکانات دیکھنا چاہتے ہیں جبکہ نیتن یاہو کسی اور سمت میں پیش رفت کی توقع کررہے تھے۔

    سی این این کے مطابق وائٹ ہاؤس سے اس معاملے پر مؤقف لینے کی کوشش کی گئی جبکہ امریکی ویب سائٹ ایکسیوس نے اس کشیدہ فون کال کی خبر سب سے پہلے دی تھی اسرائیلی ذرائع نے بتایا کہ اس گفتگو کے بعد نیتن یاہو کے قریبی حلقوں میں بھی تشویش پائی جاتی ہے اسرائیلی حکومت کی اعلیٰ سطح پر ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی کی خواہش موجود ہے اور اس بات پر بڑھتی ہوئی مایوسی پائی جارہی ہے کہ صدر ٹرمپ اب بھی ایران کو سفارتی عمل کے ذریعے وقت دے رہے ہیں۔

    نیتن یاہو کی امریکی حکمت عملی، خصوصاً ٹرمپ کی جانب سے دھمکیوں کے بعد اچانک توقف اختیار کرنے پر ناراضی کوئی نئی بات نہیں امریکی حکام ماضی میں بھی تسلیم کرچکے ہیں کہ ایران جنگ کے معاملے پر امریکا اور اسرائیل کے مقاصد مکمل طور پر یکساں نہیں۔

    بدھ کو صحافیوں نے جب صدر ٹرمپ سے پوچھا کہ انہوں نے گزشتہ شب نیتن یاہو سے کیا کہا تھا تو انہوں نے جواب دیا، میں وہی کروں گا جو میں چاہوں گا،ایران کے ساتھ معاملات انتہائی نازک مرحلے میں ہیں اور اگر چند روز کی سفارت کاری سے جانیں بچ سکتی ہیں تو اسے موقع دینا چاہیے۔

    ادھرایران کے سرکاری خبر رساں ادارے نور نیوز کے مطابق ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بدھ کو کہا تھا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان پاکستان کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے ایران کے ابتدائی 14 نکاتی متن کی بنیاد پر کئی بار پیغامات کا تبادلہ ہوچکا ہے، امریکی مؤقف موصو ل ہوچکا ہے اور ہم اس کا جائزہ لے رہے ہیں۔

  • بنگلہ دیش میں ڈونلڈ ٹرمپ اورنیتن یاہو سے مشابہ دو بھینسے سوشل میڈیا پر وائرل

    بنگلہ دیش میں ڈونلڈ ٹرمپ اورنیتن یاہو سے مشابہ دو بھینسے سوشل میڈیا پر وائرل

    بنگلہ دیش میں 700 کلو گرام وزنی اس نایاب گلابی البینو (Albino) بھینسے کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے غیر معمولی مشابہت کی وجہ سے انہی کا نام دیا گیا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق نگلادیش سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے ساتھ مشابہت رکھنے والے 2 بھینسے سوشل میڈیا پر خصوصی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں منفرد گلابی بھینسا، جسے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام سے منسوب کیا گیا ہے، عیدالاضحیٰ سے قبل عوام کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے 700 کلو وزنی اس بھینسے کے سنہری اور گھنے بالوں کی وجہ سے اسے “ٹرمپ” کا نام دیا گیا، جو ڈھاکہ کے قریب نارائن گنج میں ایک فارم پر موجود ہے۔

    مالک ضیاء الدین مردھا کے مطابق بھینسے کا یہ نام اس کے غیر معمولی بالوں کی وجہ سے رکھا گیا بڑی تعداد میں لوگ، خصوصاً بچے اور سوشل میڈیا صارفین، اس بھینسے کو دیکھنے اور تصاویر بنانے کے لیے فارم کا رخ کر رہے ہیں مالک کیمطابق بھینسے کو دن میں چار مرتبہ نہلایا جاتا ہے، جو اس کی واحد “آسائش” ہے، میرے چھوٹے بھائی نے اس کے سر پر سنہرے رنگ کے بال دیکھ کر مذاق میں اس کا نام ڈونلڈ ٹرمپ رکھ دیا، بھینسا بہت پرسکون طبیعت کا حامل ہے، تاہم مسلسل رش اور توجہ کے باعث اس کے وزن میں کمی واقع ہوئی ہے جس پر اب عوام کے آنے پر کچھ پابندیاں لگائی گئی-

    اس فارم پر موجود دیگر بھینسوں کو بھی دلچسپ نام دیے گئے ہیں، جن میں “طوفان”، “فیٹ بوائے” اور “سویٹ بوائے” شامل ہیں، جبکہ ایک سنہری بالوں والے بھینسے کو برازیلین فٹبالر نیمار کے نام سے موسوم کیا گیا ہےضیاء الدین مردھا نے کہا کہ وہ اس بھینسے کو یاد کریں گے، تاہم عیدالاضحیٰ کا اصل مقصد قربانی ہی ہے۔

    سوشل میڈیا رپورٹس کے مطابق اس جانور کی کوئی حتمی یا سرکاری قیمت طے نہیں کی گئی، تاہم یہ اس وقت دنیا کا سب سے مقبول بھینسا ہونے کا اعزاز پا چکا ہے،محکمہ لائیوسٹاک حکام کا کہنا ہے کہ البینو بھینسے انتہائی نایاب ہوتے ہیں اور ان میں میلانین کی کمی کے باعث ان کا رنگ سفید یا گلابی دکھائی دیتا ہے۔

    بنگلہ دیش میں عیدالاضحیٰ کی تیاریوں کے سلسلے میں 1 کروڑ 20 لاکھ سے زائد جانوروں کی قربانی متوقع ہے، جس دوران کم آمدن والے افراد کو بھی گوشت کھانے کا موقع ملتا ہے۔

    دوسری جانب نارائن گنج میں ایک اور البینوبھینسا جس کا وزن 750 کلوگرام سے زیادہ ہے،اس کے بال اور آنکھیں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے مشا بہت رکھتی ہیں اور یہ مبینہ طور پر جارحانہ رویے کا مالک ہے۔ایس ایس کیٹل فارم کے ایک مینیجر نے کہا کہ نیتن یاہو بہت شرارتی اور اس کی ذہانت مکار ہے یہاں تک کہ جب ہم اسے کھانا کھلانے جاتے ہیں، تو یہ ہمیں گھورنے کی کوشش کرتا ہے۔

  • گوتم اڈانی کو بڑا ریلیف،امریکی حکومت ٹرمپ کے حکم پر  تمام مقدمات ختم کرنے پر متفق

    گوتم اڈانی کو بڑا ریلیف،امریکی حکومت ٹرمپ کے حکم پر تمام مقدمات ختم کرنے پر متفق

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے بھارتی ارب پتی کاروباری شخصیت گوتم اڈانی کے خلاف دائر فوجداری دھوکہ دہی کے مقدمات ختم کرنے کی کارروائی شروع کردی، جنہوں نے امریکی معیشت میں 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کر رکھا ہے،جبکہ ان کی ایک کمپنی سے متعلق ایران پر عائد پابندیوں کی مبینہ خلاف ورزیوں کا معاملہ بھی طے کرلیا گیا ہےیہ ٹرمپ کے محکمہ انصاف کی جانب سے ان ہائی پروفائل فوجداری مقدمات کو ترک کرنے کی تازہ ترین مثال ہے جو ان کے ڈیموکریٹ پیشرو جو بائیڈن کے دور میں وفاقی پراسیکیوٹرز نے شروع کیے تھے۔

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق دنیا کے امیر ترین افراد میں شمار ہونے والے گوتم اڈانی کے خلاف زیر التوا مقدمات کے خاتمے کا یہ فیصلہ پیر کے روز کیا گیا جو ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ان کے وکیل، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ذاتی وکیل بھی ہیں، نے گزشتہ ماہ بتایا تھا کہ اڈانی امریکا میں 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں، تاہم مقدمات جاری رہنے کی وجہ سے وہ ایسا نہیں کر پا رہے تھے۔

    ٹرمپ نے آخری لمحے میں ایران پر حملہ کیوں روکا؟اسرائیلی صحافی کا اہم انکشاف

    فوربز میگزین کے مطابق 63 سالہ گوتم اڈانی کی مجموعی دولت کا تخمینہ 82 ارب ڈالر لگایا گیا ہے جو انہیں دنیا کے امیر ترین افراد میں سے ایک بناتا ہے۔

    امریکی حکام کے مطابق گوتم اڈانی پر الزام تھا کہ انہوں نے بھارتی سرکاری حکام کو 26 کروڑ 50 لاکھ ڈالر رشوت دینے پر رضامندی ظاہر کی تھی تاکہ اڈانی گروپ کی ذیلی کمپنی اڈانی گرین انرجی کو بھارت کے سب سے بڑے سولر پاور پلانٹ کی تعمیر کی منظوری مل سکے۔

    استغاثہ کا مؤقف تھا کہ بعد ازاں امریکی سرمایہ کاروں کو کمپنی کی انسداد بدعنوانی پالیسیوں کے حوالے سے گمراہ کن اور تسلی بخش معلومات فراہم کی گئیں،

    نومبر 2024 میں، بروکلی کے وفاقی پراسیکیوٹرز نے اڈانی پر ایک مبینہ اسکیم کے تحت فردِ جرم عائد کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ انہوں نے بھارتی سرکار ی حکام کو تقریباً 265 ملین ڈالر رشوت دینے پر اتفاق کیا، تاکہ ان کی کمپنی کو بھارت کا سب سے بڑا سولر پاور پلانٹ تیار کرنے کی منظوری مل سکے، اڈانی اور ان کے مبینہ ساتھیوں نے قرض دہندگان اور سرمایہ کاروں سے اپنی کرپشن چھپا کر 3 ارب ڈالر سے زائد کے قرضے اور بانڈز حاصل کیے اڈانی گروپ نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔

    اسرائیل میں فلسطینیوں کیلئے خصوصی سزائے موت کا قانون نافذ

    دوسری جانب امریکی محکمہ خزانہ نے پیر کے روز بتایا کہ اڈانی گروپ کی کمپنی ادانی انٹرپرائزز نے ایران پر عائد پابندیوں کی مبینہ خلاف ورزیوں کے تصفیے کے لیے 27 کروڑ 50 لاکھ ڈالر ادا کرنے پر اتفاق کرلیا ہے الزام تھا کہ اڈانی انٹرپرائزز نے دبئی میں قائم ایک تاجر سے مائع پیٹرولیم گیس (LPG) کی کھیپیں خریدیں، جنہیں عمانی اور عراقی گیس ظاہر کیا گیا، لیکن وہ دراصل ایران سے آئی تھیں، اڈانی انٹرپرائزز نے بھارت میں ایل پی جی کی درآمد بھی روک دی ہے اور حکومتی ہدایات پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے ہیڈ آف کمپلائنس کا عہدہ بھی قائم کردیا ہے-

    عدالتی ریکارڈ کے مطابق گوتم اڈانی کو ایس ای سی کے ایک متعلقہ سول فراڈ کیس کا بھی سامنا تھا، جسے سیکیورٹیز ریگولیٹر نے جمعرات کو عدالتی منظوری سے مشروط کرتے ہوئے طے کر لیا تھا گوتم اڈانی کے بھتیجے ساگر اڈانی کو بھی ایس ای سی کے سول کلیمز کا سامنا تھا۔

    ریکارڈ کے مطابق اڈانی اور ان کے بھتیجے 18 ملین ڈالر کے سول جرمانے ادا کریں گے، اگرچہ دونوں میں سے کوئی بھی کسی غلط کام کا اعتراف یا تردید نہیں کرے گا۔ اڈانی گرین انرجی نے ایک بیان میں کہا کہ دونوں افراد اور ایس ای سی نے نیویارک کی ایک عدالت میں حتمی فیصلے کے اندراج کے لیے درخواست دائر کر دی ہے، جس کا اب انتظار کیا جا رہا ہے۔

    ایران کا ٹرمپ اور نیتن یاہو کو قتل کرنے پر 5 کروڑ یورو انعام کا منصوبہ

    گوتم اڈانی کے وکلاء نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ ان کے موکلین اس بات پر اختلاف رکھتے ہیں کہ ایس ای سی کی جانب سے مبینہ رشوت ستانی کی اسکیم کی حمایت میں کوئی معتبر ثبوت موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ بانڈز کی پیشکش میں اڈانی کی عدم شمولیت اور دھوکہ دہی کی نیت یا غفلت کی عدم موجودگی کیس کی برخاستگی کی حمایت کرتی ہے۔ انہوں نے ایس ای سی کے دعوؤں کو غیر قانونی طور پر ماورائے علاقہ بھی قرار دیا، جس سے مراد یہ ہے کہ اڈانی اور تمام مبینہ غلط طرز عمل بھارت میں تھا اور وہ بانڈز کبھی بھی امریکی ایکسچینج پر ٹریڈ نہیں ہوئے تھے۔

    پاکستان سمیت 10 ممالک کی گلوبل صمود فوٹیلا پر اسرائیلی حملے کی مذمت

  • ٹرمپ نے آخری لمحے میں  ایران پر حملہ کیوں روکا؟اسرائیلی صحافی کا اہم انکشاف

    ٹرمپ نے آخری لمحے میں ایران پر حملہ کیوں روکا؟اسرائیلی صحافی کا اہم انکشاف

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر ممکنہ فوجی حملہ روکنے کی وجہ اسرائیلی صحافی نے بے نقاب کر دی-

    اسرائیلی صحافی براک راویڈ نے امریکی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات نے امریکا کو واضح پیغام دیا تھا کہ اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو اس کے نتائج اور نقصان خلیجی ممالک کو برداشت کرنا پڑیں گے، صدر ٹرمپ نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، قطر کے امیر تمیم بن حماد اور یو اے ای کے صدر زائد النیہان سے رابطے کیے۔

    اسرائیلی صحافی کے مطابق دوحہ، ریاض اور ابوظبی نے مشترکہ طور پر امریکی صدر پر زور دیا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے بجائے مذاکرات کو موقع دیا جائے کیونکہ جنگ کی صورت میں خلیجی ممالک کی آئل اور انرجی تنصیبات شدید خطرے میں پڑ سکتی ہیں صدر ٹرمپ نے اپنے قریبی مشیروں اور ایران پر حملے کے حامی ساتھیوں کو بھی اس صورتحال سے آگاہ کیا ٹرمپ نے کہا کہ خلیجی اتحادی خطے میں مزید تباہی اور توانائی تنصیبات پر حملوں سے بچنا چاہتے ہیں۔

    پاکستان کی ترقی کو پروپیگنڈا،بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کے ذریعے روکا نہیں جا سکتا،فیلڈ مارشل

    امریکی نشریاتی ادارے Axios کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر نے اپنے حامی سیاستدانوں اور مشیروں کو بھی اس صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ خلیجی ممالک کی درخواست پر وہ فی الحال سفارتی مذاکرات کو ایک اور موقع دینا چاہتے ہیں تاہم، معاہدہ طے نہ پانے کی صورت میں امریکی افواج کو کسی بھی بڑے حملے کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔

    امریکی صدر ٹرمپ نے پیر کی شب سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بیان جاری کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کی درخواست پر ایران پر طے شدہ فوجی حملہ مؤخر کیا جا رہا ہے ان رہنماؤں نے مؤقف اختیار کیا کہ اس وقت سنجیدہ مذاکرات جاری ہیں اور ایک ایسا معاہدہ ممکن ہے جو امریکا، مشرق وسطیٰ اور عالمی برادری کے لیے قابل قبول ہو امریکی صدر نے کہا کہ اس معاہدے کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے، انہوں نے سیکریٹری آف وار پیٹ ہیگستھ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف ڈینیئل کین اور امریکی فوج کو ہدایت جاری کردی ہے کہ ایران پر طے شدہ حملہ فی الحال نہ کیا جائے۔

    پیٹ ہیگستھ کی انتخابی مہم میں شرکت سے سیاسی حلقوں میں ہلچل

  • ایران کا ٹرمپ اور نیتن یاہو کو قتل کرنے پر 5 کروڑ یورو انعام  کا منصوبہ

    ایران کا ٹرمپ اور نیتن یاہو کو قتل کرنے پر 5 کروڑ یورو انعام کا منصوبہ

    ایرانی پارلیمنٹ 28 فروری کو تہران پر ہونے والے حملوں کے ردعمل میں اس بل پر ووٹنگ کرے گی ان حملوں میں ایران کے اُس وقت کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای شہید ہوگئے تھے۔

    برطانوی اخبار ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق ایران میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے قتل پر 5 کروڑ یورو، یعنی تقریباً 5 کروڑ 82 لاکھ ڈالر انعام مقرر کرنے کا مبینہ منصوبہ سامنے آیا ہے، ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے اعلان کیا ہے کہ کمیٹی ایک بل تیار کر رہی ہے جس کا عنوان اسلامی جمہوریہ کی فوجی اور سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی رکھا گیا ہے۔

    دی ٹیلی گراف کے مطابق اس مجوزہ قانون کے تحت کسی بھی فرد یا گروہ کو 5 کروڑ یورو ادا کیے جائیں گے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو جان سے مارے گاایرانی پارلیمنٹ 28 فروری کو تہران پر ہونے والے حملوں کے ردعمل میں اس بل پر ووٹنگ کرے گی ان حملوں میں ایران کے اُس وقت کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای شہید ہوگئے تھے۔

    ابراہیم عزیزی نے الزام عائد کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ، نیتن یاہو اور امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر کو آیت اللہ خامنہ ای کے قتل میں مبینہ کردار پر جوابی کارروائی کا نشانہ بنایا جانا چاہیے،ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے ایک اور رکن محمود نباوین نے بھی کہا ہے کہ پارلیمنٹ جلد ایسے انعام کی منظوری پر ووٹ کرے گی جو اُس شخص یا گروہ کو دیا جائے گا جو ٹرمپ اور نیتن یاہو کو جہنم واصل کرے۔

    یہ اطلاعات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب چند روز قبل ایران کے حامی میڈیا ادارے مساف نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومت نے ”کِل ٹرمپ“ مہم کے لیے 5 کروڑ ڈالر کے مالی وسائل مختص کر دیے ہیں۔

    اس سے قبل ایران کے سرکاری حمایت یافتہ سائبر وارفیئر گروپ ہندالہ نے بھی ایک بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ظلم اور کرپشن کے بنیادی معمارو ں، یعنی ٹرمپ اور نیتن یاہو کے خاتمے کے لیے 5 کروڑ ڈالر مختص کیے ہیں، یہ رقم اُس فرد یا تنظیم کو دی جائے گی جو دونوں رہنماؤں کے خلاف عملی کارر وائی کرے گا، یہ اقدام امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے ہندالہ گروپ کے ارکان کی گرفتاری کے لیے ایک کروڑ ڈالر انعام کے اعلان کے ردعمل میں کیا گیا۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق تہران کی جانب سے مجوزہ انعامی قانون ماضی کی دھمکیوں، مذہبی فتوؤں اور پروپیگنڈا مہمات کے مقابلے میں کہیں زیادہ سنگین پیش رفت ہے، جو امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ بندی کو بھی خطرے میں ڈال سکتی ہے جبکہ گزشتہ برس ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر تہران نے انہیں قتل کرنے کی کوشش کی تو امریکا انتہائی سخت احکامات جاری کرے گا اور ایران کو “زمین کے نقشے سے مٹا دیا جائے گا۔

  • ٹرمپ کا ایران کو ایک بار پھر سخت الفاظ میں الٹی میٹم

    ٹرمپ کا ایران کو ایک بار پھر سخت الفاظ میں الٹی میٹم

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان جلد ہی کوئی امن معاہدہ نہ ہوا تو یہ ایران کے لیے بہت برا وقت ثابت ہو گا۔

    صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک پیغام میں کسی کا نام لیے بغیر لکھا کہ یہ طوفان سے پہلے کی خاموشی تھی۔

    اس بیان کے بعد انہوں نے فرانسیسی نشریاتی ادارے کو ٹیلی فون پر ایک انٹرویو دیا جس میں انہوں نے ایران کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے اپنے مفاد میں یہی ہے کہ وہ کسی نہ کسی معاہدے تک پہنچ جائے، ایرانیوں کے ساتھ کچھ مسائل ہیں اور وہ پاگل ہیں۔

    اس سے قبل ’فوکس نیوز‘ کو دیے گئے ایک اور انٹرویو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران پر ایک بہت بڑا اور فیصلہ کن فوجی حملہ کرنے والے تھے لیکن انہوں نے یہ حملہ پاکستان کی وجہ سے روک دیا، میں نے ایران پر فیصلہ کن حملہ پاکستان کے بہت اچھے لوگوں کی درخواست پر روکا ہے۔

    انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستانی شخصیات ایران کے بہت زیادہ قریب ہیں اور ان شخصیات نے مجھ سے رابطہ کر کے کہا تھا کہ اگر آپ ابھی اس حملے سے رک سکتے ہیں تو ہم آپ کی ایران کے ساتھ ڈیل یعنی معاہدہ کرا دیں گے۔

    امریکی صدر کے ان بیانات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ خطے میں پسِ پردہ انتہائی اہم سفارتی کوششیں جاری ہیں جہاں پاکستان دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرانے اور جنگ کو روکنے کے لیے ایک ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے-

  • ایرانی صدر نے ساڑھے چار ہزار سال پرانے درخت کی تصویر  شئیر کردی

    ایرانی صدر نے ساڑھے چار ہزار سال پرانے درخت کی تصویر شئیر کردی

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نےایران میں موجود ساڑھے چار ہزار سال پرانے درخت کی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کردی۔

    مسعود پزشکیان نے درخت کی تصویر سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ "سرو” کا یہ درخت ساڑھے 4 ہزار سال پرانا ہے اور ایشیا کا قدیم ترین جاندار ہے یہ اس دھرتی پر ہے جب ساڑھے 4 ہزار سال پہلے بھی ایران کے نام سے جانی جاتی تھی۔

    واضح رہے امریکی صدر کے دورہ چین کے دوران چینی صدر شی جن پنگ نے ڈونلڈ ٹرمپ کو چین کے انتہائی خفیہ اور نایاب حکومتی باغ کا دورہ کروایا تھا اس موقع پر صدر شی جن پنگ نے باغ کے 490 سال پرانے درخت بھی دکھائے تھے اور بتایا تھا کہ یہاں بعض درخت 1000 سال سے بھی زیادہ قدیم ہیں، جس پر صدر ٹرمپ نے جگہ کو سراہتے ہوئے کہا تھا کہ ’مجھے یہ ماحول بہت پسند آیا ہے۔’

    دوسری جانب ایرانی صدر کی پوسٹ کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مختلف تبصروں کا سلسلہ کیا جارہا ہےسوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہےکہ صدر پزشکیان نے ساڑھے چارہزار سال پرانے درخت کی تصویر اس لیے بھی شئیرکی کیونکہ صدر ٹرمپ نے ایران کی تہذیب اجاڑنے کی دھمکی دی تھی۔