پاکستان نے افغانستان کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حکومت پاکستان نے انسانی بنیادوں پر ویزوں کا دوبارہ اجرا شروع کرنے کا کوئی اعلان نہیں کیا اور نہ ہی مستقبل قریب میں ایسا کرنے کا کوئی ارادہ ہے۔
پاکستان کی جانب سے جاری ردعمل میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے کئی دہائیوں تک انسانی بنیادوں پر افغان شہریوں کو پناہ فراہم کی، لیکن اس کے جواب میں پاکستان کو شکریہ کے تحفے کے طور پر دہشتگردی ہی ملی، پاکستان کی سول اور عسکری قیادت ایک صفحے پر ہے اور افغانستان کو اپنی سرزمین سے سرگرم دہشتگرد گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرنا ہوگی جب تک ایسا نہیں ہوتا، افغانستان کے ساتھ ہر قسم کا رابطہ معطل رہے گا۔
پاکستان کے مطابق، جب تک افغانستان اپنی سرزمین سے پاکستان کے خلاف سرگرم دہشت گرد گروہوں کے خلاف عملی اور موثر کارروائی نہیں کرتا، دو طرفہ تعلقات اور رابطوں میں لچک پیدا نہیں کی جا سکتی۔
پاکستان نے واضح کیا ہے کہ حکومت کی پہلی ترجیح اپنے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اور قومی سلامتی ہے، انسانی ہمدردی کے تقاضے قومی سلامتی کی قیمت پر پورے نہیں کیے جا سکتے افغانستان سے مسلسل سرحد پار دہشتگردی کے پیش نظر پاکستان قبل از وقت ویزا سہولیات دوبارہ شروع کرکے سیکیورٹی خطرات مول نہیں لے سکتا۔
پاکستان نے کہا ہے کہ افغانستان کے عوام کو افغان طالبان حکومت سے مطالبہ کرنا چاہیے کہ وہ اپنی سرزمین پر ان کی سرپرستی میں پروان چڑھنے والی د ہشتگرد تنظیموں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے،ایک پاکستانی فرد کی جان و سلامتی پورے افغانستان سے زیادہ اہم ہے،یہ تمام مسائل ا فغان طالبان حکومت کی دہشتگردی کی سرپرستی کرنے والی پالیسیوں کا نتیجہ ہیں، جو اپنے عوام کی فلاح و بہبود کے بجائے دہشتگردی میں ملوث اپنے بھا ئیوں کو ترجیح دیتی ہے۔
