Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • کیا پاکستان کی قدر بین الاقوامی سطح پر متاثر ہوئی؟

    کیا پاکستان کی قدر بین الاقوامی سطح پر متاثر ہوئی؟

    جب طالبان نے افغانستان پر قبضہ کیا تھا تو اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے خوشی سے نعرہ لگاتے ہوئے کہا تھا کہ ’’طالبان نے مغربی حمایت یافتہ افغان حکومت کا تختہ الٹ کر ’’غلامی کا طوق‘‘ توڑ دیا ہے۔ (13 جنوری 2022 ریڈیو فری یورپ) تاہم پاکستان کے لیے اس واقعے کے اثرات زیادہ تر لوگوں کو پوری طرح سے سمجھ میں نہیں آ پائے۔

    مشرق وسطی میں نئی ​​پیش رفت یہ ہوئی کہ سب سے پہلے سعودی عرب کا ایران کے ساتھ سفارتی رابطہ بشکریہ چین اور پھر ان کا شام کے ساتھ دوبارہ روابط بشکریہ روس ہوا لہذا دونوں مفاہمتی معاہدے ایک گیم چینجر ہیں۔ اگرچہ پاکستان سعودی عرب اور ایران کے درمیان ہونے والی سفارتی تعلقات کی بحالی کا بالواسطہ فائدہ اٹھانے والا ہے لیکن یہ دونوں پیش رفت پاکستان کے لیے ایک بہت بڑا منفی اثر لے کر آئی جسے زیادہ تر تجزیہ نگار سمجھنے سے قاصر رہے.

    خیال رہے کہ ملٹی پولر ورلڈ آرڈر آچکا جس کا پاکستان کے لیے مطلب ہے کہ مشرقی محور اب موجود نہیں ہے۔ پاکستان کو جغرافیائی طور پر تزویراتی طور پر رکھا جا سکتا ہے تاہم ریکارڈ رفتار سے ہونے والی زبردست پیش رفت نے اقوام کی ترجیحات اور مفادات کو تبدیل کر دیا ہے۔

    تاہم اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا بڑی نوعیت کے مسائل کی طرف بڑھ گئی ہے لہذا مشرقی محور کو مشرق وسطیٰ کے محور نے پیچھے چھوڑ دیا ہے جبکہ پاکستان اور افغانستان اب دنیا کی دلچسپی کا مرکز نہیں رہے۔ پاکستان کو اس بات کو سمجھنے اور واشنگٹن کے ساتھ اپنے تعلقات کو دوبارہ درست کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اب ہم نے ان کا اسٹریٹجک مفاد کھو دیا ہے۔

    اب موجودہ جغرافیائی سیاسی صورتحال میں جو چیز محض مضحکہ خیز معلوم ہوتی ہے وہ پی ٹی آئی کی بنیادی زمینی حقائق کے سے لاعلمی یا لاتعلقی ہے کیونکہ انہوں‌نے ایک PR فرم کو $25,000 فی ماہ پر ہائیر کرنا اور بائیڈن انتظامیہ کے ساتھ اپنے الگ تھلگ تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کرنا کچھ بھی ڈلیور نہیں کرے گا. ادھر بریڈ شرمین نے سیکرٹری آف اسٹیٹ بلنکن کو ایک خط لکھا جس میں پاکستان تحریک انصاف کے مبینہ "سیاسی نشانہ بنانے کے عمل” سے متعلق کہا گیا.

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

    یہ بھی واضح رہے کہ پی ٹی آئی کی ہائیر کردہ پی آر فرم صرف اتنا کر سکتی ہے بین الاقوامی توجہ یعنی ایک قوم کی حکمت عملی، دوسرے ملک کی حرکات بارے میں ان کی سمجھ، پارٹیوں اور رہنماؤںسمیت دیگر کام میں تبدیل کرنا اور امریکہ میں پاکستان مخالف لوبینگ کرنا ہے جبکہ میرا زاتی خیال ہے کہ وہ اس وقت یا مستقبل قریب میں پاکستان میں اپنی توانائیاں ضائع کرنے میں دلچسپی نہیں رکھیں گے خاص طور پر عمران خان کے معاملے میں جنہوں نے ماضی قریب میں یہ ثابت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی کہ واشنگٹن ان کی حکومت گرانے کی سازش میں ملوث تھا لیکن یہ یاد رکھیں کہ امریکہ اس وقت تک بالکل مداخلت نہیں کرے گا جب تک کہ ان کے اپنے مفادات شامل نہ ہوں۔

  • روز مرہ اشیاء کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ،91 فیصد پاکستانیوں کا گھریلو بجٹ میں گزارا مشکل

    روز مرہ اشیاء کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ،91 فیصد پاکستانیوں کا گھریلو بجٹ میں گزارا مشکل

    گیلپ پاکستان کے سروے کے مطابق91 فیصد پاکستانیوں کا مہنگائی کےباعث گھریلو بجٹ میں گزارا مشکل ہے-

    باغی ٹی وی: گیلپ پاکستان کے سروے میں 1100 سے زائد افراد نے ملک بھر سے حصہ لیا 91 فیصد پاکستانیوں نے روز مرہ اشیاء کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے کے باعث نہ صرف ماہانہ گھریلو بجٹ میں گزارا مشکل قرار دیا بلکہ یہ بھی کہا کہ وہ دباؤ میں ہیں کہ اتنی تنخواہ میں اخراجات کیسے پورے کریں-

    ملک بھر میں مزید بارشوں کی پیشگوئی

    سروے کے مطابق 7 ہزار سے 15 ہزار روپے کمانے والے 91 فیصد، 15 سے 30 ہزار روپے کمانے والے 93 فیصد جبکہ 30 ہزار روپے سے زائد ماہانہ آمدن رکھنے والے 86 فیصد افراد نے ماہانہ بجٹ میں گزار ے کو مشکل کہا اور اخراجات پورے کرنے کے لیے پریشان ہونے کا بتایا 90 فیصد سے زائد نے اپنی آمدنی 7 ہزار سے 30 ہزار روپےکی درمیان بتائی اور کہا کہ اس میں گزارا کرنا ا س مہنگائی میں مشکل ترین ہے-

    سرگودھا میں احمدیوں کی 118 سال پرانی عبادت گاہ پر مشتعل ہجوم کا حملہ

    سروے میں 7 فیصد پاکستانیوں نے کوئی پریشانی نہ ہونے کا بتایا جب کہ 2 فیصد نے اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا-

  • پلوامہ کے حوالے سے انکشافات، دفتر خارجہ نے بھارت سے جواب مانگ لیا

    پلوامہ کے حوالے سے انکشافات، دفتر خارجہ نے بھارت سے جواب مانگ لیا

    اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پلوامہ حملے کے حوالے سے حال ہی میں کیے گئے تازہ ترین انکشافات نےپاکستان کے مؤقف کی تصدیق کردی ہے۔

    باغی ٹی وی: ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے پلوامہ حملے سے متعلق مقبوضہ جموں و کشمیر کے سابق گورنر ستیہ پال ملک کے تازہ ترین انکشافات کے حوالے سے بیان دیا گیا بیان میں کہا گیا کہ امید کرتے ہیں کہ عالمی برادری تازہ ترین انکشافات کا نوٹس لے گی۔ عالمی برادری پاکستان کے خلاف بھارت کی پروپیگنڈا مہم کا جائزہ لے۔

    پلوامہ کا ڈرامہ ،مودی نے فوجی خود مروائے،حقیقت سامنے آ گئی

    ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت کو تازہ ترین انکشافات میں اٹھائے گئے سوالات کا جواب دینا چاہیے پلوامہ حملے کے بعد علاقائی امن کو متاثر کرنے والے اقدامات کیلئے بھارت کو جوابدہ ٹھہرایا جائے،پاکستان بھارت کے جھوٹے بیانیے کا مقابلہ کرتے ہوئے مضبوطی اور ذمہ داری سے کام کرے گا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز قابض بھارتی جموں وکشمیر کے گورنر ستیہ پال ملک نے دی وائر کو انٹرویو میں پلوامہ حملے سے متعلق حیران کن انکشافات کیے تھے ان کا کہنا تھا کہ مودی سرکار کو حملے کا علم تھا لیکن مودی نے فوجیوں کو بچانے کے بجائے مروا دیا اور ملبہ پاکستان پر ڈال دیا جب میں نے معاملے کو اٹھایا تو مودی نے مجھے پلوامہ حملے کے فوراً بعد کوربٹ پارک سے باہر بلا لیا۔ مودی نے مجھے پلوامہ حملے پر خاموش رہنے کو کہا اور اس بات کا ذکر کسی سے نہ کرنے کو کہا۔

    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا

    ستیہ پال ملک نے کہا تھا کہ نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر اجیت دوول نے بھی مجھے پلوامہ معاملے پر بات کرنے سے منع کر دیا تھا مجھے احساس ہو گیا تھا کہ پلوامہ ڈرامے کا مقصد صرف اور صرف بی جے پی کو انتخابات میں فائدہ پہنچانا تھا مودی سرکار اور بی جے پی جموں و کشمیر میں سیاسی زلزلے کا باعث بن سکتی ہے میں یہ بات کھل کر کہہ سکتا ہوں کہمودی کو کرپشن سے کوئی مسئلہ نہیںمودی جی جموں وکشمیر کے بارے میں بے خبر اور جہالت کی انتہا پر ہیں،وزارتِ داخلہ کی کوتاہی کے سبب فروری 2019 کے دوران پلوامہ میں بھارتی فوجیوں پر تباہ کن حملہ ہوا-

    بھارتی مسلمان رکن اسمبلی کوبھائی سمیت پولیس حراست میں ٹی وی کیمروں کے سامنے گولیاں …

    واضح رہے کہ گزشتہ برس پلوامہ حملے میں چالیس سے زائد بھارتی فوج ہلاک ہو گئے تھے، جس کا الزام بھارت نے پاکستان پر لگایا تھا اور بھارت نے بالا کوٹ میں سرجیکل سٹرائیک کی ناکام کوشش تھی 27 فروری کوبھارت کےدو طیارے پاک فضائیہ نے گرائے تھے. پلوامہ حملے کے بعد بھارت کے طیارے بالا کوٹ پے رول گرا کر فرار ہو گئے تھے جس کے بعد اگلےروز پاکستان نے بھارت کے دو طیارے مار گرائےتھے اور بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو گرفتار کر لیا تھا جسے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے رہا کرنے کا اعلان کیا تھا-

    برطانوی وزیرداخلہ کا پاکستانیوں کو جنسی زیادتی کا مجرم کہنا حقیقت کے خلاف ہے،برٹش جج

  • مردم شماری میں 20 اپریل تک توسیع

    مردم شماری میں 20 اپریل تک توسیع

    اسلام آباد: ادارہ شماریات کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں جاری ساتویں خانہ و مردم شماری میں 20 اپریل تک توسیع کر دی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی : یہ فیصلہ مردم شماری کی مانیٹرنگ کمیٹی کا وفاقی وزیر احسن اقبال کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں ایم اکیو ایم کے رہنما وفاقی وزیر امین الحق بھی شریک ہوئے۔

    پنجاب میں گندم کی قلت ؟

    ترجمان ادارہ شماریات کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ملک کے 122 اضلاع کی مردم شماری مکمل ہو چکی ہے، اب تک کی مردم شماری کے مطابق پاکستان کی آبادی 23 کروڑ 4 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہےکراچی ، لاہور، راولپنڈی میں مردم شماری کی تاریخ میں توسیع کی گئی بلوچستان میں جیکب آباد سمیت 20 اضلاع میں مردم شماری کی تاریخ میں توسیع کی گئی ہے۔

    جو عدالتی فیصلے پر عمل نہیں کرے گا وہ نااہل ہو جائے گا،اعتزاز احسن

    دوسری جانب ملک میں جاری ساتویں مردم شماری میں 5 روز کی توسیع کے دوران کراچی کی آبادی میں 10 لاکھ سے زائد افراد کا اضافہ ہوا ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق 5 دن کے دوران کراچی کی آبادی میں 12 لاکھ افراد کا اضافہ ہوا، اب تک کے اعداد و شمار کے مطابق سندھ کی آبادی 5 کروڑ 43 لاکھ سے زائد ہے۔

    پی ٹی آئی رہنما علی زیدی گرفتار ہو گئے

  • سیکورٹی فورسز سے فائرنگ کے تبادلہ میں تین دہشتگرد ہلاک. آئی ایس پی آر

    سیکورٹی فورسز سے فائرنگ کے تبادلہ میں تین دہشتگرد ہلاک. آئی ایس پی آر

    سیکورٹی فورسز سے فائرنگ کے تبادلہ میں تین دہشتگرد ہلاک. آئی ایس پی آر

    آئی ایس پی آر نے اپنے اعلامیہ میں بتایا ہے کہ سیکورٹی فورسز سے فائرنگ کے تبادلہ میں تین دہشتگرد ہلاک کردیئے گئے ہیں. جاری اعلامیہ میں بتایا گیا کہ ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن (IBO) شروع کیا گیا جس میں علاقے گشکور ہوشاب روڈ پر دیسی ساختہ بم نصب کرنے کے علاوہ سیکورٹی فورسز اور شہریوں پر فائرنگ کے واقعات سے منسلک دہشت گردوں کے ٹھکانے کو صاف کیا جا سکے۔

    آئی ایس پی آر کا مزید بتانا تھا کہ علاقے کی مسلسل انٹیلی جنس نگرانی اور جاسوسی کے نتیجے میں، دہشت گردوں کے مقام کی نشاندہی کی گئی اور سیکورٹی فورسز کا ہیلی داخل کیا گیا۔ فرار ہونے والے راستوں کو کاٹنے کے لیے ناکہ بندیوں کا قیام جاری تھا تاہم اس دوران دہشت گردوں نے سیکیورٹی فورسز پر فائرنگ شروع کردی جس کے نتیجہ میں تین دہشتگرد جہم واصل ہوگئے.

    جاری اعلامیہ میں یہ بھی بتایا گیا کہ اس کاروئی میں دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات سمیت اسلحہ اور گولہ بارود کا ذخیرہ بھی برآمد کیا گیا جبکہ مزید کہا گیا سیکیورٹی فورسز قوم کے ساتھ مل کر بلوچستان کے امن، استحکام اور ترقی کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل گزشتہ روز ملک دشمن قوتوں کے خلاف پاک فوج کی کارروایوں کے تحت بنوں میں سیکورٹی فورسز کے آپریشن میں تین دہشت گرد ہلاک ہوگئے تھے۔ جبکہ آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے ضلع بنوں کے علاقے میں آپریشن کیا۔ فائرنگ کے تبادلے میں 3 دہشتگرد مارے گئے تھے۔ یہ آپریشن دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر کیا گیا تھا ۔فائرنگ کا شدید تبادلہ ہوا۔مارے گئے دہشتگردوں کے قبضہ سے اسلحہ و گولہ بارود بھی برآمد ہوا۔

  • شہری کو معلومات نہ دینے پر سیکرٹری ریلوے کو نوٹس جاری

    شہری کو معلومات نہ دینے پر سیکرٹری ریلوے کو نوٹس جاری

    اسلام آباد(محمد اویس)پاکستان انفارمیشن کمیشن نے شہری کو معلومات نہ دینے پر سیکرٹری ریلو ے کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کرلیا،کمیشن نے شہری کو پاکستان ریلوے کی کمپنی ریل کوپ کے حوالے سے معلومات فراہم کرنے اور اگلی سماعت پر حاضری یقینی بنانے کی ہدایت ،کمیشن نے گذشتہ سماعت پر شہری کو معلومات فراہم کرنے کا حکم دیاتھا ۔

    جمعرات کو پاکستان انفارمیشن کمیشن میں چیف انفارمیشن کمشنر شعیب احمد صدیقی اور ممبر اعجاز حسن اعوان نے شہری کی پاکستان ریلوے کی کمپنی ریل کاپ سے معلومات نہ ملنے پر دائر درخواست کی سماعت کی ۔سماعت میں شہری محمد اویس پیش ہوئے تاہم ریلوے کی طرف سے کوئی پیش نہ ہوا جس پر کمیشن نے شدید برہمی کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ سماعت میں کمیشن نے حکم دیا تھا کہ شہری کو متعلقہ معلومات فراہم کی جائیں قانون کے تحت ریلوے پابند ہے کہ وہ یہ معلومات فراہم کرے مگر آج سماعت میں ریلوے کی طرف سے کوئی پیش نہیں ہوا گذشتہ سماعت پر بھی غیر متعلقہ معلومات کمیشن کے سامنے پیش کی گئیں تھیں۔

    کمیشن نے وفاقی سیکرٹری ریلوے کو نوٹس کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا اور حکم دیا کہ اگلی سماعت میں حاضر ہوں اور متعلقہ معلومات شہری کو فراہم کریں۔ یاد رہے کہ شہری نے پاکستان ریلوے کی کمپنی ریل کوپ سے گذشتہ تین سال کے ملازمین کی تفصیل ،کمپنی منافع میں ہے یاخسارے میں ،ٹریک مشین استعمال ہورہی ہیں کہ نہیں، خرا ب مشینوں کی تفصیلات مانگی ہیں ۔

    پولیس کا ریسٹورنٹ پر چھاپہ، 30 سے زائد نوجوان لڑکے لڑکیاں گرفتار

    واٹس ایپ پر محبوبہ کی ناراضگی،نوجوان نے کیا قدم اٹھا لیا؟

    غیرت کے نام پر سنگدل باپ نے 15 سالہ بیٹی کو قتل کر دیا

    جنسی طور پر ہراساں کرنے پر طالبہ نے دس سال بعد ٹیچر کو گرفتار کروا دیا

    غیر ملکی خاتون کے سامنے 21 سالہ نوجوان نے پینٹ اتاری اور……خاتون نے کیا قدم اٹھایا؟

    بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی، کہا شادی کو تین سال ہو گئے، شوہر نہیں کرتا یہ "کام”

    50 ہزار میں بچہ فروخت کرنے والی ماں گرفتار

  • ٹک ٹاک نے نئی کمیونٹی گائیڈ لائنز کے نفاذ کی رپورٹ جاری کردی

    ٹک ٹاک نے نئی کمیونٹی گائیڈ لائنز کے نفاذ کی رپورٹ جاری کردی

    ٹک ٹاک نے نئی کمیونٹی گائیڈ لائنز کے نفاذ کی رپورٹ جاری کردی
    مختصر دورانیے کی ویڈیوز کے مقبول پلیٹ فارم ٹک ٹاک نے سنہ 2022ء کی چوتھی سہ ماہی (اکتوبر-دسمبر2022ء) کے لیے اپنی نئی کمیونٹی گائیڈ لائنز کے نفاذ کی رپورٹ جاری کردی ہے۔ یہ رپورٹ پلیٹ فارم پر غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکنے کے حوالے سے ٹک ٹاک کے کثیرالجہتی نقطہ نظر سے وابستگی کو ظاہر کرتی ہے۔علاوہ ازیں، یہ رپورٹ کام کے دوران محفوظ اور خوش آئند رہنے کے لیے جوابدہی کے ذریعے اعتماد کے حصول کے لیے پلیٹ فارم کے جاری عزم کی عکاسی کرتی ہے۔

    سنہ 2022ء کی چوتھی سہ ماہی کے دوران، عالمی سطح پر، 85,680,819 ویڈیوز حذف کی گئیں جوٹک ٹاک پر اپ لوڈکی جانے والی تمام ویڈیوز کا تقریباً 0.6فیصد ہے۔ خود کار طریقے سے کل 46,836,047 ویڈیوز کو حذف کی گئیں جبکہ 5,477,549ویڈیوز کو بحال کیا گیا۔ صرف پاکستان میں سنہ 2022ء کی چوتھی سہ ماہی میں، کمیونٹی گائیڈ لائنز کی خلاف ورزی کرنے پر12,628,267 ویڈیوز حذف کی گئیں۔ کمیونٹی گائیڈ لائنز کی خلاف ورزی کرنے والے اکاؤنٹس کو حذف کرنے کے علاوہ پلیٹ فارم نے سپیم قرار پانے والے اکاؤنٹس اور اْن کے ذریعے پوسٹ کی گئیں سپیم ویڈیوز بھی حذف کیں۔پلیٹ فارم نے خود کار طریقے سے سپیم اکاؤنٹس کو بننے سے روکنے کے لیے فعال اقدامات کیے۔

    مذکورہ سہ ماہی کے دوران، پاکستان میں، 89.7 فیصدویڈیوز کسی صارف کی جانب سے دیکھے جانے سے پہلے حذف کی گئیں جبکہ 95.5 فیصد ایسی ویڈیوز ایک دن کے اندر حذف کی گئیں۔سنہ 2022ء کی چوتھی سہ ماہی کے دوران فعال رہتے ہوئے حذف کی جانے والی ویڈیوز کی شرح 98.8 فیصد تھی۔

    اس کے علاوہ، عالمی سطح پر، 17,877,316ایسے اکاونٹس بھی حذف کیے گئے جن کے بنانے والوں پر 13 برس سے کم عمر ہونے کا شبہ تھا۔مزید یہ کہ 54,453,610 ایسی ویڈیوز بھی حذف کی گئیں جن کا تعلق جعلی اکاؤنٹس سے تھا ،ٹک ٹاک کی کمیونٹی گائیڈ لائنز ایک ایسے تجربے کو فروغ دینے کے لیے تیار کی گئیں ہیں جو تحفظ، شمولیت اور مستند ہونے کو ترجیح دیتا ہے۔ ٹک ٹاک کی پالیسیاں ہر شخص پر اور تمام اقسام کے مواد پر لاگو ہوتی ہیں اور اپنے نفاذ کے حوالے سے مستقل اورمساوی طور پر نافذ رہنے کی کوشش کرتی ہیں۔

    ٹک ٹاک پلیٹ فارم کی پالیسیوں کی خلاف ورزی کے مرتکب مواد کی شناخت کرنے، جائزہ لینے اور مناسب کارروائی کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور انسانوں کا یکساں استعمال کرتاہے۔سہ ماہی کمیونٹی انگیجمنٹ رپورٹ پلیٹ فارم سے حذف کیے گئے مواد اور اکاؤنٹس کے حجم اور نوعیت کے بارے میں بصیرت فراہم کرتی ہے۔

    ٹک ٹاک کا جنون، اپنی اور دوسروں کی جان خطرے میں ڈالنے والے 15 ون ویلرز گرفتار

    امریکا اور برطانیہ کے بعد نیوزی لینڈ نے بھی ٹک ٹاک پر پابندی عائد کردی،

     ٹک ٹاک کا ابھرتا ہوا ستارہ ہنی کِنگ گرفتار 

    مارگلہ ہلز پرآگ لگا کر ویڈیو بنانے والی خاتون ٹک ٹاکر کے خلاف مقدمہ درج

    خواجہ سرا کے ساتھ گھناؤنا کام کر کے ویڈیو بنانیوالے ملزمان گرفتار

    دوستی نہ کرنے کا جرم، خواجہ سراؤں پر گولیاں چلا دی گئیں

    مردان میں خواجہ سرا کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالے ملزما ن گرفتار

    دو خواجہ سراؤں کا قتل،پولیس نے خواجہ سراؤں کو دھکے مار کر تھانے سے نکال دیا

    پشاور میں پہلی بار خواجہ سراء کو منتخب کر لیا گیا، آخر کس عہدے کیلئے؟

  • پی ٹی آئی نے سکیورٹی انچارج افتخار گھمن کے اغواء کا دعویٰ کردیا

    پی ٹی آئی نے سکیورٹی انچارج افتخار گھمن کے اغواء کا دعویٰ کردیا

    پی ٹی آئی نے سکیورٹی انچارج افتخار گھمن کے اغواء کا دعویٰ کردیا

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئر مین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے اپنے سکیورٹی انچارج افتخار گھمن کے اغواء پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ جبکہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک بیان میں سابق وزیراعظم نے لکھا کہ پی ٹی آئی کے سینئر لیڈر علی امین گنڈا پور کو جب اغواء کیا گیا تو ڈی پی او نے ڈیرہ اسماعیل خان کی عدالت میں سیشن جج کو بتایا کہ توہین عدالت کا چارج لیں گے لیکن ’اوپر سے‘ احکامات ملنے پر علی امین کو اپنی تحویل میں لینا پڑا۔


    پی ٹی آئی کے چیئر مین نے کہا کہ آج میرے سکیورٹی انچارج افتخار گھمن کو اغوا کر لیا گیا ہے۔ یہ سب لندن پلان کا حصہ ہے جہاں نواز شریف کو میری پارٹی کو کچلنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    26 سال کے بعد بھی شاہ رخ خان کا کرشمہ قائم ہے شامک داور
    کرشنا ابھیشیک نے اپنے ماموں گووندا اور ممانی کے ساتھ جھگڑے کی خبروں پر رد عمل دیدیا
    سورو گنگولی نغمہ کے ساتھ اپنی دوستی چھپا کر رکھنا چاہتے تھے لیکن کیا ہوا؟‌
    سعودی عرب: حسن قرات کا دنیا کا سب سے بڑا مقابلہ ایرانی قاری نے جیت لیا
    کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن ،آئی جی پنجاب اور ڈی پی او پر فائرنگ
    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ اب میرے قریبی لوگوں کو، میری قیادت کے ساتھ، آئین اور قانون کی مکمل خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان بھر میں ہراساں کیا جا رہا ہے، اغوا کیا جا رہا ہے، تشدد کیا جا رہا ہے اور شرمناک مقدمات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

  • عمران خان کے جلسوں سے ملک میں تبدیلی کی نئی لہر،نوجوان لڑکیاں والدین کو قتل کی دھمکیاں دینے لگیں،ویڈیو

    عمران خان کے جلسوں سے ملک میں تبدیلی کی نئی لہر،نوجوان لڑکیاں والدین کو قتل کی دھمکیاں دینے لگیں،ویڈیو

    عمران خان کے دھرنے میں پسند آئے لڑکے سے شادی کیلئے لڑکی کی اپنے سگے والد کو قتل کی دھمکیاں دے ڈالیں جس کی ویڈیو وائرل ہو گئی-

    ‏باغی ٹی وی: ویڈیو میں لڑکی کا کہنا ہے کہ وہ جس لڑکے کو پسند کرتی ہے اس کے ساتھ ملاقات عمران خان کے جلسے میں ہوئی جس پر ویڈیو میں لڑکی کے والد نے کہا کہ یہ عمران خان کے جلسے میں جاتی ہے یہ بیٹی ہے میری عزت ہے ہماری ہم اسے منع کرتے ہیں جلسوں میں جانے سے یہ سنتی نہیں ہے ہماری بات-


    جس پر میزبان نے لڑکی سے پوچھا کہ آپ عمران خان کے جلسے پر کیوں جاتی ہیں لڑکی نے کہا کہ وہ ملک کی تندیلی کیلئے عمران خان کے جلسوں میں جاتی ہے اگر میرا باپ نہیں جاتا تو میں تو ضرور جاؤں گی میرا باپ جائےنا جائے میں نے تو جانا ہے میں نے ملک کیلئے کچھ کرنا ہے اور میں وہ کر کے رہوں گی-

    لڑکی کا والد شکوہ کرتا ہے کہ یہ ہماری بیٹی جلسے میں جاتی ہے یہ عزت ہے ہماری تو عمران خان اپنی عزت لے آئے نا اس کی بیوی جلسے میں آئے ہماری بیٹیاں ہی کیوں جلسے میں جائیں؟لڑکی نے کہا کہ عمران خان کی بیوی پردہ کرتی ہیں جس پر لڑکی سے پوچھا گیا کہ عمران خان کی بیوی نیک ہے کیا آپ نیک نہیں لڑکی کہتی ہے کہ میں بھی نیک ہوں لیکن میں بتا رہی ہوں میں ملک کی تبدیلی کے لئے بے پردہ ہوتی ہوں کتنی عورتیں ہیں جو وہاں پر آتی ہیں –

    یہ کئی بار پہلے بھی سوال اٹھایا گیا ہے کہ عمران خان کی بیوی کیوں نہیں دھرنوں جلسوں پر آتی جبکہ قوم کی بچیاں تبدیلی کے لئے آتی ہیں اچھی بات ہے کہ وہ تبدیلی چاہتی ہیں –

    لڑکی کے والد نے کہا کہ ہم بھی چاہتے ہیں ہماری بیٹی پردے میں رہے وہ ہماری عزت ہے اور ابھی بھی اس کے بال کھلے ہوئے ہیں ہم تو چاہتے ہیں یہ پردے میں رہے یہ ہماری بات سنتی نہیں مانتی نہیں میرا دل کرتا ہے میں اسے جان سے مار کر خود بھی مرجاؤں بس اب یہی
    ہو سکتا ہے-

    جس پر بیٹی نے والد کو کہا میں کیوں مروں آپ مریں اور آپ شرم کریں میں اتنی بڑی ہو گئی ہوں اپ کا فرض بنتا ہے میری بات سنیں یہ آپ کیا بدتمیزی کر رہے ہیں میں لڑکوں کے پیچھے بھاگ رہی ہوں کون سے لڑکوں کے پیچھے بھاگ رہی ہوں میں صرف اسی لڑکے سے پیار کرتی ہوں جو میرے ساتھ ہے اب نے میری اس کے ساتھ شادی کروانی ہے اگر نہیں کروائی تو میں بھاگ جاؤں گی-

    باپ کے قتل کرنے کی دھمکی دینے پر لڑکی کے بے خوفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے باپ کو دھمکی دی کہ دیکھیں گے کون کسے قتل کرے گا-

  • کے ایل سہگل  کا  یوم پیدائش

    کے ایل سہگل کا یوم پیدائش

    کے ایل سہگل 11 اپریل 1904 کو جموں کے نواں شہر میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام امر چند تھا اور وہ جموں و کشمیر کے راجہ کی خدمت میں کام کرتے تھے۔ ان کی والدہ کا نام کیسر بائی تھا۔ کندن پانچ بچوں میں سے ایک تھا۔

    ان دنوں موسیقی کی رسمی تعلیم آسانی سے حاصل نہیں ہوتی تھی۔ طبقاتی، برادری اور معاشیات کی رکاوٹوں نے بہت سے لوگوں کو اس طرح کے فوائد حاصل کرنے سے روک دیا۔ سہگل نے بھی ان رکاوٹوں کو محسوس کیا۔ کبھی بھی کم نہیں، نوجوان سہگل نے موسیقی سیکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔ ابتدا میں یہ مقامی رام لیلا میں گانا اور اداکاری کرتا تھا۔ انہوں نے صوفی بزرگ سلامت یوسف کے مزار پر بھی زیادہ وقت گزارا، وہاں انہوں نے دوسرے موسیقاروں اور عقیدت مندوں کے ساتھ مل کر گایا اور مشق کی۔ کہا جاتا ہے کہ جوانی میں وہ ایک مقامی طوائف کے گھر کے پاس چپکے سے جایا کرتا تھا تاکہ اسے گانا سن سکے۔ اس کے بعد وہ جو کچھ سنتا تھا اس کی نقل کرتا تھا۔

    ایک نوجوان کے طور پر اس کے کئی پیشے تھے۔ اسکول چھوڑنے کے بعد، اس نے کچھ عرصہ ریلوے ٹائم کیپر کے طور پر کام کیا۔ بعد میں اس نے ٹائپ رائٹر سیلز مین کے طور پر کام کیا۔ بعد میں اس پیشے نے انہیں ہندوستان میں وسیع پیمانے پر سفر کرنے کا موقع فراہم کیا۔

    ہر وقت جب وہ اپنی ملازمت میں سفر کرتے تھے، وہ شوقیہ بنیادوں پر گاتے تھے۔ وہ دوستوں کے ساتھ محفلوں میں گاتا تھا اور بہت سے لوگوں سے ملتا تھا۔ ایک موقع پر ان کی ملاقات مہر چند جین سے ہوئی۔ وہ سہگل کے ابتدائی دوست اور حامی بن جائیں گے۔ اپنے سفر میں ان کی ملاقات بی این سے بھی ہوئی۔ نیو تھیٹر کے بانی سرکار۔ کہا جاتا ہے کہ یہ سرکار ہی تھے جنہوں نے سہگل کو کلکتہ جانے پر آمادہ کیا۔

    کلکتہ میں سہگل کی زندگی موسیقی سے بھری ہوئی تھی۔ اگرچہ اس نے مختصر طور پر ہوٹل مینیجر کے طور پر کام کیا، لیکن ان کی دلچسپی موسیقی کے منظر میں تھی۔ وہ محفلوں میں کثرت سے شریک ہوتے تھے۔ انہوں نے ہریش چندر بالی کے لکھے اور ترتیب دیئے گئے گانوں کی کئی ڈسکس بھی ریکارڈ کیں۔ یہ انڈین گراموفون کمپنی کے ذریعے جاری کیے گئے۔ گلوکار کے طور پر ان کی شہرت بڑھ رہی تھی۔

    اس وقت فلموں کا کاروبار ہلچل کے عالم میں تھا۔ بات کرنے والی تصویر ابھی متعارف کرائی گئی تھی، اس لیے فلم کمپنیاں ایسے اداکاروں کے لیے آواز اٹھا رہی تھیں جو گانا جانتے تھے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ وہ دن تھے جب ’’پلے بیک‘‘ گانے کا رواج فیشن میں آیا تھا۔ اداکاروں اور اداکاراؤں نے اپنے گانے گائے، اور موسیقی کی صلاحیت کو کامیاب فلمی کیریئر کے لیے اہم شرط سمجھا جاتا تھا۔

    سیگل کی بے حد مقبول موسیقی کی ریکارڈنگ فلموں میں ان کے قدموں کی بنیاد ثابت ہوئی۔ کلکتہ میں ہی سہگل کا تعارف آر سی سے ہوا۔ بورال۔ بورال ہی تھے جنہوں نے سیگل کو نیو تھیٹرز کے ساتھ معاہدہ کیا۔ انہیں ان کی فلموں میں کام کرنے کے لیے ماہانہ 200 روپے ملتے تھے۔ ان کی اداکاری کرنے والی پہلی فلم اردو فلم "محبت کے انس” (1932) تھی۔ اس کے بعد انہوں نے "سبح کے ستارے”، اور "زندہ لاش” میں کردار ادا کیے۔ یہ 1932 میں ریلیز ہوئیں۔ یہ کسی بھی طرح سے ہٹ فلمیں نہیں تھیں، لیکن انہوں نے یہ ثابت کر دیا کہ فلم انڈسٹری میں سیگل کے پاس وہ کچھ تھا جو ضروری تھا۔

    اس دوران سہگل ڈسکیں بناتے رہے۔ کلکتہ کی ہندوستان ریکارڈز کمپنی نے کئی ڈسکیں منظر عام پر لائیں جن میں سے جھولنا جھولا نے عوام کی توجہ حاصل کی۔

    انہوں نے گانا گانا جاری رکھا اور متعدد فلموں میں اداکاری کی۔ تاہم جس فلم نے انہیں مشہور کیا وہ "چندی داس” (1934) تھی۔ اس کے بعد انہیں مزید فلمیں کرنے کی بہت سی پیشکشیں ہوئیں، لیکن جس نے انہیں فلمی تاریخ میں جگہ دی وہ ’’دیوداس‘‘ (1935) تھی۔ "دیوداس” کی شاندار کامیابی کے بعد اس میں کوئی شک نہیں رہا کہ سہگل فلم انڈسٹری میں ایک مضبوط ہستی تھے۔

    اس دور میں ان کی ذاتی زندگی میں بھی ترقی ہوئی۔ 1935 میں انہوں نے آشا رانی سے شادی کی۔ ایک ساتھ ان کے تین بچے تھے۔ مدن موہن نام کا ایک بیٹا تھا (اسی نام کے ڈائریکٹر سے کوئی تعلق نہیں) اور دو بیٹیاں نینا (پیدائش 1937) اور بینا (پیدائش 1941) تھیں۔

    کلکتہ میں ہی سہگل بنگالی زبان میں ماہر ہو گئے۔ اس سے انہیں کئی بنگالی فلموں میں گانے اور اداکاری کرنے کا موقع ملا۔ یہاں تک کہ انہیں پہلے غیر بنگالی ہونے کا اعزاز حاصل تھا جسے رابندرانت ٹیگور نے اپنا کام ریکارڈ کرنے کی اجازت دی۔

    لیکن یہ ہندوستانی فلم انڈسٹری کی تاریخ کا ایک عبوری دور تھا۔ ہندی فلم انڈسٹری کا مرکز کلکتہ سے بمبئی منتقل ہو رہا تھا۔ تو سہگل اس کے ساتھ چلا گیا۔ وہ دسمبر 1941 میں بمبئی چلے گئے اور وہاں رنجیت مووی ٹون کمپنی کے ساتھ کام کرنے لگے۔ وہاں انہوں نے ’بھکتا سورداس‘، ’تانسین‘، ’کروکشیتر‘، ’عمر خیام‘، ’تدبیر‘، ’شاہجہاں‘ اور ’پروانہ‘ جیسی فلمیں کیں۔

    لیکن بدقسمتی سے شراب نوشی سہگل کو اپنی گرفت میں لے رہی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اپنی موت سے پہلے کے سالوں میں، وہ پہلے پیے بغیر گانے یا پرفارم کرنے سے قاصر تھے۔ اس سے ان کی صحت کے ساتھ ساتھ کام دونوں پر اثر پڑ رہا تھا۔ اسے جگر کا سیروسس ہو گیا۔ جب ان کی صحت خراب ہوئی تو، سہگل نے جالندھر میں ایک بزرگ کے ساتھ رہنے کی خواہش ظاہر کی، لیکن اس کے گھر والوں نے اعتراض کیا۔ وہ چاہتے تھے کہ وہ بمبئی کے بہترین ڈاکٹروں میں سے ایک کی مدد لیں۔ ایک سمجھوتہ ہوا جس کے تحت ڈاکٹر سہگل کے ساتھ جالندھر جائے گا۔ تاہم طبی علاج کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ ان کا انتقال 18 جنوری 1947 کو جالندھر میں ہوا۔ سہگل کی عمر صرف 42 سال تھی۔