Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • چیف جسٹس اور جسٹس فائز عیسیٰ کی ملاقات؛ سپریم کورٹ کے اہم امور زیربحث

    چیف جسٹس اور جسٹس فائز عیسیٰ کی ملاقات؛ سپریم کورٹ کے اہم امور زیربحث

    چیف جسٹس اور جسٹس فائز عیسیٰ ملاقات؛ سپریم کورٹ کے امور زیربحث
    چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطابندیال اور سینیئر جج قاضی فائز عیسیٰ کے درمیان ملاقات ہوئی ہے۔ نجی ٹی وی ذرائع کے مطابق جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی ہے ۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات میں سپریم کورٹ کے امور سے متعلق بات چیت کی گئی، ملاقات میں سپریم کورٹ کے فیصلوں پر دستخط کی تاریخ لکھنے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ جبکہ ذرائع نے بتایا کہ جسٹس فائز عیسیٰ نے آئین پاکستان کی گولڈن جوبلی کنونشن میں شرکت پر بھی بات کی۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل گزشتہ روز آئین کی گولڈن جوبلی تقریب میں شرکت پر وضاحت جاری کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے سینئر جج کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ میں ہونے والی تقریب میں تمام ججز کو مدعو کیا گیا تھا، دعوت قبول کرنے سے پہلے پوچھا تھا سیاسی تقاریر تو نہیں ہوں گی؟ یقین دہانی کرائی گئی تھی صرف آئین اور اس کی تیاری پربات ہو گی۔

    جبکہ انہوں نے مزید کہا کہ سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف سے ذاتی طور پر تصدیق کے بعد ہی دعوت قبول کی تھی، خطاب کرنے کا پوچھا گیا تو میں نےمعذرت کر لی تھی، تقریب میں شرکت کا مقصد صرف آئین کیساتھ اظہار یکجہتی تھا، سیاسی تقاریر ہونے پر اپنی پوزیشن واضح کرنے کیلئے خطاب کیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    26 سال کے بعد بھی شاہ رخ خان کا کرشمہ قائم ہے شامک داور
    کرشنا ابھیشیک نے اپنے ماموں گووندا اور ممانی کے ساتھ جھگڑے کی خبروں پر رد عمل دیدیا
    سورو گنگولی نغمہ کے ساتھ اپنی دوستی چھپا کر رکھنا چاہتے تھے لیکن کیا ہوا؟‌
    سعودی عرب: حسن قرات کا دنیا کا سب سے بڑا مقابلہ ایرانی قاری نے جیت لیا
    کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن ،آئی جی پنجاب اور ڈی پی او پر فائرنگ
    انہوں نے مزید کہا کہ میرے ایوان میں بیٹھنے کی جگہ پر اعتراض کیا گیا، اپنی مرضی سے اُس جگہ پر نہیں بیٹھا تھا، مہمانوں کی گیلری میں بیٹھنا چاہتا تھا لیکن عدلیہ کارکن ہونے پرعزت دی گئی، عوام کے منتخب نمائندے عزت کے مستحق ہیں،آل انڈیامسلم لیگ کےسیاسی رہنمانہ ہوتےتوہمیں آزادی نصیب نہ ہوتی، آئین کاجشن کسی سیاسی جماعت یا ادارے نہیں بلکہ پوری قوم کا تھا۔

  • ضیاءالدین یوسفزئی؛ جدوجہد کی کہانی، دوست کی زبانی

    ضیاءالدین یوسفزئی؛ جدوجہد کی کہانی، دوست کی زبانی

    میرے لیئے ضیاء الدین یوسفزئی کا تعارف ذرا مختلف ہے ان لوگوں سے جنہوں نے افسانوی، پراسرار، متنازع یا غیر فطری قصے سن رکھے ہیں کیونکہ جہانزیب کالج میں ملالہ کے والد ضیاءالدین یوسفزئی مجھ سے سینئر تھے۔ اور سچی بات یہ ہے کہ پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن سے تمام ہمدردیوں کے باوجود ایک غیر تحریری نسل پرستانہ قوم پرستی کے غالب جزبات پر میرے شدید تحفظات تھے. کیونکہ پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کا خاصہ رہا ہے کہ بہترین جزباتی تقریر اور بہترین شاعری کا بہاؤ ہر رہنما میں مشترک رہا مگر ساتھ ہی مجالس و مکالمے میں دلیل کی جگہ زور اور "پرتشدد” الفاظ کی ادائیگی تقریر و شاعری کو محض طاقت کا اظہار بنا دیتی تھی.

    ضیاء الدین یوسفزئی نے طلبہ تنظیم کی سربراہی سنبھالی تو ایک فرق نے مجھے فورا متوجہ کیا کیونکہ میری نظر میں وہ پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن میں فٹ نہیں تھے اس لیئے کہ وہ دلیل سے بات کرتے تھے اور عدم تشدد کے قائل تھے جبکہ یہ اے این پی کے آئین کے عین مطابق اور عمل کے برعکس تھا. دوسرا ضیاء الدین کی ادائیگی میں لکنت تھی ہکاہٹ تھی مگر جب شعر ادا کرتے تھے تو اس روانی سے کہ پن ڈراپ خاموشی ہوتی اور پہلی دفعہ میں نے دیکھا کہ غیر سیاسی اساتذہ کرام دروازوں ، برآمدوں میں کھڑے ہوکے مدلل مقرر اور برجستہ شاعری سنانے والے کو سنتے تھے اور میری عقیدت ضیاء الدین یوسفزئی کے ساتھ ان کی شخصیت کی عجیب پراسراریت کی وجہ سے تھی جس کو میں سمجھ نہیں پا رہا تھا کیونکہ وہ انتہائی انکساری اور تہذیب سے رہتے جس کو میں ان کی عظمت یا احساس کمتری میں کوئی ایک سمجھنے سے قاصر رہا.

    وہ اساتذہ میں غیر معمولی مقبولیت اور پذیرائی رکھتے تھے جو کسی طالب علم رہنما کے لیے میں نے نہیں دیکھی تھی
    وہ بہت ترقی پسند اور لبرل تھے جبکہ تھیوکریسی کے مخالف تھے مگر روحانیت پسند ضرور سے تھے۔ وہ مذہب پر بات نہیں کرتے تھے مذہب پر تنقید نہیں کرتے تھے مگر تنقید کے بارے میں ہمیشہ غیر جانبدار رہتے چونکہ بائیں بازو کی سیاست زندہ اور سر گرم تھی اور ریاست کی طرف سے مذہبی استعمال اور اس استعمال میں استحصال غالب تھا اس لیے بائیں بازو کے نظریات کے عامل افراد کا استعمار کے ساتھ مذہبی تنقید فیشن کے اندر تھا. ضیاء الدین یوسفزئی ایک روایت پسند مذہبی شخص اور ایک حق تنقید کے حامی دوہری شخصیت کی طرح نظر آتے اور وہ مذہبی انتہا پسندی اور لا دینی انتہا پسندی کے دور میں اعتدال پر تھے جو اس کی جیسی شخصیت سے امید نہیں کی جا رہی تھی اور وہ خود شاعر اور لطیف احساسات کے مالک تھے .

    انگریزی ادب اور پشتو ادب پر ایک قابل ذکر عبور رکھتے تھے علاوہ ازیں سب سے بڑھ کر وہ ایک بہت اچھے سامع تھے جس نے مجھے بہت متاثر کیا۔ اور پھر وہ ہمارے محلے میں بھی آکر رہنے لگے تھے جہاں کسی عام محلے دار کی طرح اسی لہجے میں گفتگو کرتے وہ نوجوانوں اور عام محلے داروں میں بہت مقبول تھے لہذا میں نے ایک چھٹی والے دن ضیاء الدین کو دیکھا جن کے ہاتھ میں چھوٹی سی سیڑھی ایک بورڈ تھا میں دور سے دیکھ رہا تھا غور کرنے پر معلوم ہوا کہ ضیاء الدین ہی ہے میرے ساتھ جو لڑکے تھے وہ ان کے بارے میں زیادہ کچھ نہیں جانتے تھے جو جانتے تھے شانگلے والا نیا کرایے دار اچھا لڑکا سے زیادہ شناسائی نہیں رکھتے تھے لہذا ہم خوڑ پار کرکے ان کے پاس پہنچے وہ کچھ شرمائے کچھ خوش ہوئے میں نے پوچھا کیا کر رہے ہیں ؟

    بورڈ دیکھاتے ہوئے کہنے لگے ساجد ایک کوشش سی ہے "خوشحال پبلک سکول لنڈیکس” میں نے پوچھا کیا آپ واقعی انگلش میڈیم سکول کھولنے میں سنجیدہ ہو جس کا کوئی اچھا سٹینڈرڈ بھی ہوگا ؟ انہوں نے اعتماد سے جواب دیا یقیناً
    میں نے کہا نام کا انتخاب قطعی غلط ہے بورڈ کو حیرت سے دیکھتے ہوئے پوچھا کیوں ؟ میں کہا اگر انگلش میڈیم سکول کھولنے کا اردہ ہے تو خوشحال خان ، رحمان بابا قسم کا نام رکھنے کی جگہ شیکسپیئر ، سینٹ، لارنس ، کوین یا جان ، مارٹن ٹائپ نام رکھیں اور میں واقعی سنجیدہ تھا . وہ کھل کر ہنسے اور گلے لگے جس کا مطلب تھا وہ قطعی طور پر متفق نہیں ہے. وہ بورڈ ہم نے ملکر نصب کیا یہ تشہیری مہم تھی سکول کی جس کو ایک لمبے عرصے تک وہاں سے گزرتے ہوئے ہمدردی سے دیکھتا .

    انعام ہمارا دوست تھا اور اس نے نشاط چوک میں ایک کتابوں کی دوکان کھول لی۔ جس میں روایتی کتابوں کے علاوہ ترقی پسند ادب پر کتابیں اور رسائل بھی موجود ہوتے دیکھتے ہی دیکھتے وہ کئی لوگوں کے لیے ایک جائے اطمینان اور پاک ٹی ہاؤس جیسی اہمیت حاصل کر گیا ۔ ضیاء الدین یوسفزئی بھی گاہے بگاہے وہاں آتے جہاں میں ، عثمان اولس یار اور دیگر نظام سے مایوس موجود ہوتے جزباتیت تو تھی ان دنوں میں چودہ اگست کی کاروباری سطح پر منانے کی کوئی روایت نہیں تھی۔ میری یاد میں پنجاب بیکری والے اپنی بیکری سجا کر کچھ اظہار کرتے ورنہ سکولوں میں ہی چودہ اگست کے نغمے سن کر چھٹی اور نہ چھٹی کا سا ماحول ہوتا ایک چودہ اگست کو بغیر کسی پیشگی مشورے کے ہم نے بازوں پر سیاہ پٹیاں باندھ لی۔ ضیاء الدین آیا تو ان کے بازو پر باندھ دیا اور ہم خود غیر اہم تھے ہمارے احتجاج کی اہمیت ہمارے علاؤہ کسی نے محسوس نہیں کی اور ہم خود نہیں جانتے تھے ہمارا کیا مقصد ہے ہاں نظام پر عدم اعتماد ایک وجہ ضرور تھی.

    ضیاء الدین یوسفزئی کے خلاف پچھلے سالوں میں چودہ اگست کو یوم سیاہ کے طور پر منانے کا الزام لگا پڑھا تو بے اختیار ہنس دیا، ضیاء الدین یوسفزئی کی نظریات سے زیادہ ان کی شرافت اور دوستی کا احترام سیاہ پٹی کو ان کے بازو پر لے آیا تھا جو دہائی سے اوپر گزرنے کے بعد ان کے لیے طعنہ بن گیا جبکہ انعام اور ہم کئی پشتوں سے پڑوسی تھے عثمان اولس یار رشتہ دار ، کلاس فیلو ، دوست اور ہم نظریہ اور باقی دو تین دوست بھی ایسے ہی تھے عبداللہ یوسف زئی ، واجد علی خان کا بھی گزر ہوتا اور حوصلہ افزائی کرتے. ضیاء الدین یوسفزئی نے ادبی زندگی کا باقاعدہ آغاز کر لیا تھا اور روخان صاحب و فضل ربی راہی صاحب کی قربت مل گئی تھی جس کی مجھے توقع بھی تھی اور ان کے اندر اہلیت تو تھی ہی کہ اس محفل تک پہنچتے۔

    ضیاء الدین یوسفزئی ایک با اعتماد ماہر تعلیم کی صورت میں ابھرنا شروع ہوئے ساتھ ہی ادبی سرگرمیوں کے سماجی سرگرمیوں میں بھی پیش پیش رہے جبکہ انکی خواہش تھی کہ تعلیم سائنسی بنیادوں پر آسان ،سستی اور پر کشش ہو دوئم کمزور اور بے آسرا لوگوں کی مالی مدد کا مستقل کوئی سلسلہ بھی بنائے اسی میں ہی سرگرم رہے اور میں بھی عملی زندگی میں آ کر سوات چھوڑ چکا تھا مگر ضیاء الدین یوسفزئی کے ساتھ رابطہ تھا جسکی وجہ ایک پچھلا تعلق دوسرا میرے بہنوئی احمد شاہ کے ساتھ ان کی دوستی ، میرے والد صاحب کے ساتھ ان کا تعارف اور اچھے الفاظ میں ذکر سمیت متعدد ۔۔

    دو ہزار آٹھ یا نو میں ضیاء الدین یوسفزئی کا ایک میسج آیا کہ وہ بیرونی ملک کسی ادبی سلسلے میں جا رہا ہے اور کچھ
    میں نے اس کا میسج ویسے ہی فیس بک پر لگا دیا میرے ایک فیس بک دوست اور سوات کے ایک رہائشی نے تبصرہ لکھا کہ وہ بہت خوش ہوگا اگر ضیاء الدین یوسفزئی کی میزبانی کروں اور اگر میں ان کا نمبر فراہم کر سکوں میں نے یوسفزئی سے پوچھا انہوں نے ہنس کر کہا نیکی اور پوچھ پوچھ اور پھر ضیاء الدین نے واپسی پر میرا بڑا شکریہ ادا کیا کہ میری وساطت سے جو میزبانی ملی اس نے کافی مدد کی اور بہت کچھ دیکھنے سیکھنے سمجھنے کا موقع ملا چونکہ ضیاء الدین کو میں ایک خوددار ، شکر گزار اور قناعت پسند شخص کے طور پر بھی جانتا تھا مجھے بہت اچھا لگا۔ مذید باہر سے دوست کی جانب سے ضیاء الدین یوسفزئی کی میزبانی کا موقع فراہم کرنے اور تنگی وقت ملاقات کے ذکر نے اور بھی خوشی فراہم کی جو دراصل میزبان کی مہمان کے لیے خراج تحسین تھا.

    مجھے فخر ہوا کہ ضیاء الدین یوسفزئی نے ان کو گرویدہ کر لیا تھا 2009 میں جب حالات بہت خراب ہونے لگے تو مجھے ضیاء الدین کی بڑی فکر ہوتی تھی اور رابطہ بھی بہت رکھتا تھا ان کا احتجاج اور رد عمل میرے خیال میں ضرورت سے زیادہ تھا شعوری آگاہی کی ان کی تمام کاوشیں بہت ہی خطرناک ہو سکتیں تھیں جس سے وہ متفق نہیں تھا یا آنے والے واقعات کا سب لوگوں کی طرح ان کو بھی صحیح ادراک نہیں تھا جبکہ ایک وقت آیا جب مجھے لگا کہ شاید میں ان کو زندہ پھر کھبی نہیں دیکھ پاونگا اور سوات سے ابادی کے انخلاء سے کچھ پہلے وقت پہلے بین الاقوامی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ سوات چھوڑ رہے ہیں مگر دہشت گردی اور انسانیت دشمنی کو شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    میں نے فون پر رابطہ کیا تو سفر میں تھے دل برداشتہ تھے دو ہزار نو میں ہی نشاط چوک میں سیدوشریف کی طرف گاڑی موڑتے ہوئے وہ سٹرک کنارے چلتے ہوئے نظر آیا ہم نے ایک دوسرے کو دیکھا گاڑی پارک کرکے میں ان کو گلے ملا اور کہا کہ مجھے یقین تھا ہم کھبی دوبارہ زندہ نہیں مل پائیں گے سوات کا تاریخی ہجرت کا دور ختم ہو چکا تھا۔
    وہ مگر پر عزم تھا اور سوات کے حالات کو خراب کرنے کو منظم کوشش اور مجرمانہ فعل برملا کہہ رہا تھا اور ان کے عزم میں اور پختگی تھی شاید ہی کچھ لوگ اس طرح اظہار کرتے ہونگے جیسے وہ کر رہا تھا انخلا سے پہلے اور اب بعد میں وہ سوات قومی جدوجہد اور قومی بیداری پر زور دے رہا تھا جبکہ بعد میں سوات قومی جرگے کا اہم رکن بھی بن گیا.

    دہشت گردی ، کرفیو کی طوالت اور ریاستی ردعمل کی مایوس اظہار کا بہت بڑا ناقد تھا
    2009 کے واقعات اور ناخوشگوار تجربات کے بعد میں نے محسوس کیا کہ اعتدال پسند اور استقامت پسند ضیاء الدین کے اندر یہ دونوں صفات کم ہوتے جارہے ہیں۔ ایک طرف وہ دہشت گردوں کے خلاف شدید مزاحمت اور ناپسندیدگی کا اظہار کرتے تھے دوسری طرف ریاستی اداروں اور ریاست کی لاپرواہی اور غیر ضروری تاخیر کو بھی حدف تنقید بنا رہے تھے ساتھ ہی ان کے امدادی کاموں میں بھی باقاعدگی اور تیزی آ رہی تھی ایک طوفان تھا جو ان کے اندر ابل رہا تھا
    2010 کے سیلاب میں انہوں نے رابطہ کیا اور مجھے ایک بڑی رقم عطیہ کرنے کا مطالبہ کیا. میں چونکہ ہمیشہ مالی غیر ہمواری اور معاشی بے ترتیبی کا شکار رہا ہوں مالی امداد سے معزرت کی۔ جس پر انہوں نے متاثرین کی فہرستوں کو مرتب کرنے میں مدد کی درخواست کی اور پھر انکے امداد دینے کا طریقہ بہت ہی عجیب تھا ۔ میڈیا اور شہرت سے پردہ کرکے گھر گھر جاکر امداد پہنچائی وہ گراؤنڈ پر موجود رہا 2011 میں موثر طور پر وہ سوات کا کیس پیش کر رہا تھا ۔ مذاکرے ، سیمینار اور پریس کالموں کے ذریعے سوات میں استحصال کے خلاف ایک موثر آواز بنے رہے مسلسل دھمکیوں اور سیکورٹی رسک کے باوجود وہ اپنے موقف میں لچک پیدا کرنے کو تیار نہیں تھے اور واقعی ان کی فکر بہت بڑھ گئی تھی۔

    اکتوبر 2012:میں کم سن ملالہ پر قاتلانہ حملہ ہوا ۔ ملکی اور غیر ملکی میڈیا سمیت سب نے ملالہ کے احتجاج اور ڈائری کو وجہ قرار دیا مگر نجانے کیوں مجھے اب بھی لگ رہا ہے کہ ضیاء الدین کو چھپ کرانے کے لیے سافٹ ٹارگٹ چنا گیا. بین الاقوامی خبر رساں ایجنسیوں سے بات کرتے ہوئے دہشت گردوں نے یہ موقف دیا کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملالہ یوسفزئی ’’پشتون ثقافت کے برعکس نا صرف مغربی اقدار کی حامی ہے بلکہ اس نے صدر اوباما کو بھی اپنا آئیڈیل قرار دیا ہے‘‘ اس وقت سوات قومی جرگہ پوری طرح سرگرم تھا اور تمام سربراہ ٹارگٹ کیے جا رہے تھے۔ اور اس ٹارگیٹنگ پر کھل کر جرگے کا موقف آ رہا تھا

    اس دن میں راولپنڈی کے ایک ہوٹل میں میٹنگ میں تھا چائے کے وقفے میں ٹی وی آن کیا تھا تو ملالہ یوسفزئی پر حملے کی خبریں چل رہی تھیں میں نے انتہائی پریشانی میں اپنے بہنوئی احمد شاہ کو فون کیا انہوں نے کہا کہ ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا میں ساتھ ہوں وہ ہسپتال میں ہے اور ضیاء الدین پہنچ رہا ہے بعد میں ملالہ یوسفزئی کو شفٹ کرنا پڑا خیبرپختونخواہ کے ماہر نیورو سرجنوں کی ٹیم کی مدد کے لیے ملٹری ہسپتال کے نیورو سرجن پہنچے مگر زندگی اور موت کی جنگ جاری رہی اور ملالہ یوسفزئی کے لیے جدید علاج فوری طور پر فراہم کرنے کا فیصلہ ہوا. پہلے سے سوات بین الاقوامی میڈیا دہشت گردی کے شکار کے طور پر نمایاں تھا سکول کے بچیوں پر حملے نے مغربی سول سوسائٹی کو کھل کر طالبان کی مذمت اور ملالہ کو فوری طور پر صحت کے بہترین مواقع دینے کا مطالبہ ٹاپ ٹرینڈ ہوگیا۔

    اس وقت کے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے اس کو دہشت گردی کا بزدلانہ فعل قرار دیا اور ملالہ کو بہترین طبعی امداد دینے کا وعدہ اور اپیل کی اور ایک آئر ایمبولینس میں ملالہ کو انگلستان منتقل کیا گیا اور دنیا بھر سے لاکھوں بچوں نے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ ضیاء الدین یوسفزئی پاکستان میں رہ گیا وہ ، اس کے جزبات اور حثیت ثانوی ہوگیے
    مالی طور پر وہ اتنا مستحکم نہیں تھا کہ وہ برطانیہ کا سفر اور وہاں رہائش کا بندوست کر سکے ساتھ ہی دیگر قانونی لوازمات کی تیاری میں موت سے لڑنے والی ایک بچی کے بے بس باپ کا درد روح پرور تھا ملالہ کے ایک سے اوپر ایک آپریشن کیے جا رہے تھے متفرق خبریں مل رہی تھی زندگی کے مطالق شہبات کا اظہار کیا جا رہا تھا تو کہیں مستقل معزوری کی نوید دی جا رہی تھی.

    اور پھر وہ دن آیا کہ ضیاء الدین اپنے خاندان کے ساتھ ایک مہذب ملک پہنچ گیا جہاں اظہار تحریر و تقریر کی آذادی کے ساتھ بہترین طبی سہولیات حاصل تھے ملالہ رو بہ صحت ہوتی گئی مگر وہ چہرے کے ایک سائڈ کے اعصابی نظام کی مفلوجی کا شکار بحرحال ہوگئی۔ سپیچ تھراپسٹ اور فزیوتھراپسٹ نے ملکر نیورولوجی کے شعبے کے ساتھ ملکر طبی کرشمہ انجام دیا. ملالہ بولنے کی لائق ہوئی تکلیف سے ہی سہی مگر اس کی آواز نے ضمیروں کو ہلا کر رکھ دیا ۔ اس نے اپنے باپ کی جدوجہد کو جاری رکھنے اور دہشت گردی کی مخالفت اور سختی سے کرنے کا اعلان کیا۔
    آصف علی زرداری صاحب نے دورہ انگلستان کے موقع پر خصوصی ملاقات کی اور پاکستانی ہائی کمیشن کی ملکیتی ایک مکان بھی رہنے کو دیا.

    ضیاء الدین نے حکومت پاکستان کو درخواست دی کہ یہ مکان ان کی ضرورت سے کہیں بڑا ہے اور ویسے ہی دہشت گردی زدہ ملک پر بوجھ ہے اس لیے ان کو انکی چھوٹی فیملی کے حساب سے مکان دیا جائے 2014 تک ملالہ کی آواز دنیا کے ساتھ ارب سے زیادہ لوگوں تک پہنچ گئی تھی اور اسی سال ان کو امن کے لیے عالمی ایوارڈ اور اگلے سال انٹرنیشنل چلڈرن پیس پرائز کے لیے نامزد کیا گیا۔ اقوام متحدہ سے خطاب کرتے ہوئے ملالہ نے تعلیم کو دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کا واحد موثر ہتھیار قرار دیا کروڑوں لوگوں نے براہ راست انکی تقریر سنی اقوام متحدہ نے اپنے ایک فنڈ جو دنیا بھر میں بچوں کی تعلیم اور بہتر صحت کے لیے سرگرم تھا کا نام تبدیل کرکے ملالہ فنڈ رکھ دیا برطانیہ میں ہی ضیاء الدین یوسفزئی کو اقوام متحدہ کے زیر انتظام تعلیم کے لیے کام کرنے والے ایک ادارے میں ملازمت مل گئی مگر وہ ایک طویل عرصے مالی دشواری کا شکار رہے.

    ملالہ ملنے والی انعامی رقم ملالہ نے پاکستان میں بچیوں کی تعلیم کے لیے عطیہ کر دی۔ سوات اور شانگلہ میں کئی پبلک و پرائیویٹ سکولوں کو فنڈز کی فراہمی شروع کر دی بے شمار طلباء تعلیمی وظائف حاصل کرنے لگے تور پکئ ایک گھریلو ناخواندہ خاتون نے پڑھنا شروع کیا اور ان کی شاعری وطن سے محبت ، یاد اور امن کے پیغام پر مبنی میڈیا پر سامنے آنے لگی عملی طور پر ایک وطن پرست اور محب وطن ضیاء الدین اپنے خاندان کے ساتھ وطن بدر ہوگیا ہے
    پچھلے سال ان کے لنڈیکس والے گھر پر کام کرنی والی خاتون کے لیے انہوں نے میرے نام پر کچھ امدادی رقم بجھوائی جو بینک کے قانونی ضابطے پورے کرتے ہوئے نکالے گیے اور پھر مجھے ایف آئی اے سے انکوائری کے سلسلے کا سامنا کرنا پڑا۔

    مجھے کہا گیا کہ میرا نام کا اضافہ پہلے سے موجود مالی امداد لینے والوں کی فہرست میں ہوگیا ہے اور کہ میرا ضیاء الدین کے ساتھ کیا رشتہ ہے میں نے بتایا کہ ضیاء الدین یوسفزئی نے یہ امداد میرے توسط سے ایک پرانی جاننے والی بزرگ خاتون کو بھجوائی ہے جو میں نے اسی دن ادا کر دی تھی اور بینک سے کئی مہینے بعد وصول کی ۔ بڑی مشکل سے ثبوتوں اور گواہیوں کے بعد یقین دلایا ہم نے ضیاء الدین یوسفزئی کو تسلیم نہیں کیا ان معنوں میں ہرگز نہیں جس کا وہ حق رکھتا تھا ۔

    ہم نے باچا خان کو تسلیم نہیں کیا، ہم نے بھگت سنگھ کی آذادی کی تحریک کا مذہب جائزہ لیکر مسترد کیا۔ ہم زمینی حقائق کے ماننے کو تیار نہیں ہوتے۔ ضیاء الدین یوسفزئی کے ساتھ نیا کچھ نہیں کیا ۔۔
    دنیا بھر کے آذاد و مہذب ممالک نے ان کے سامنے سر نگوں کیے ۔ ضیاء الدین یوسفزئی آج بھی طالبان حاکمیت کے خلاف سرگرم ہے۔ افغانستان میں خواتین کے تعلیم پر پابندی کے دن گن رہا ہے وہ شاید واحد موثر آواز ہے جو بلند ہے
    بے انصافی ، دہشت گردی ، لاقانونیت اور ریاستی عدم تعاون کے خلاف ، ریاستی نظر اندازی اور سرد مہری کے خلاف، انسانی حقوق اور جمہوریت کے لیے مجھے یقین ہے ضیاء الدین یوسفزئی تاریخ میں صحیح سمت کھڑا ہے وہ مختلف قسم کی جدوجہد میں ہے جس میں باچا خان، بھگت سنگھ ، رابندرناتھ ٹیگور ، مولانا عبیداللہ سندھی ، سبھاش چندر بوس اور مولانا آزاد کی مشترکہ جھلک نظر آتی ہے ۔

  • سعودی ، ایران سفارتی تعلقات کی بحالی خطے کے امن کیلیے انتہائی اہم ہے،بلاول

    سعودی ، ایران سفارتی تعلقات کی بحالی خطے کے امن کیلیے انتہائی اہم ہے،بلاول

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری سے پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی کی ملاقات ہوئی ہے

    ملاقات وزارت خارجہ اسلام آباد میں ہوئی۔ اس موقع پر وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ سعودی عرب ایران سفارتی تعلقات کی بحالی خطے کے امن کیلیے انتہائی اہم ہے۔ ملاقات میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دو طرفہ تعلقات کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا،وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔وزیر خارجہ نے ملاقات میں سعودی قیادت کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔وزیر خارجہ نے ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دینے پر سعودی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔

    دوسری جانب وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری سے پاکستان میں کینیڈا کی ہائی کمشنر لیزلی سکینلون کی ملاقات ہوئی ہے، ملاقات میں پاکستان اور کینیڈا کے درمیان دو طرفہ تعلقات کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا،وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پاکستان کینیڈاکے ساتھ تمام شعبوں میں اپنے تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان اور کینیڈا کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری میں تعاون بڑھانے پر زور دیا ۔وزیر خارجہ نے پاکستان سے افرادی قوت کینیڈا کو فراہم کرنے کے حوالے سے بھی امید کا اظہار کیا۔

    سعودی عرب کے دو ایئر پورٹس پر ڈرون حملے،فضائی آپریشن معطل

    جمال خاشقجی کے قاتلوں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کیلیے ہر ممکن کوشش کرینگے،منگیتر کا عدالت میں بیان

    امریکی صدر جوبائیڈن نے دیا محمد بن سلمان کو بڑا جھٹکا

    ایران اور سعودی وزرائے خارجہ کی چین میں ملاقات

    قبل اذیں پاکستان نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات معمول پر لانے کا خیر مقدم کیا ہے۔پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان کی جان سے کہا گیا ہے کہ پاکستان عوامی جمہوریہ چین کی جانب سے سعودی عرب اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان سفارتی تعلقات کو معمول پر لانے کا پرتپاک خیرمقدم کرتا ہے پاکستان کو پختہ یقین ہے کہ یہ اہم سفارتی پیش رفت خطے اور اس سے باہر امن و استحکام میں معاون ثابت ہوگی۔ ہم اس تاریخی معاہدے کو مربوط کرنے میں چین کی دور اندیش قیادت کے کردار کو سراہتے ہیں جو تعمیری اور بامعنی بات چیت کی طاقت کو ظاہر کرتا ہے۔ ہم اس مثبت پیش رفت پر مملکت سعودی عرب اور اسلامی جمہوریہ ایران کی قیادت کو سراہتے ہیں

  • ڈالر ملک کی تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر

    ڈالر ملک کی تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر

    انٹربینک میں ڈالر ملک کی تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

    انٹربینک میں ڈالر 1 روپے 34 پیسے مہنگا ہوگیا ،ڈالر پہلی بار 288 روپے 43 پیسے کی بلند ترین سطح پر بند ہوا، دوسری جانب پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت رجحان دیکھنے میں آیا ہے پاکستان سٹاک ایکسچینج کا 100 انڈیکس 17 پوائنٹس کے اضافے سے 39 ہزار 853 پر آ گیا۔ گزشتہ روز 100 انڈیکس 39 ہزار 835 پوائنٹس پر بند ہوا تھا

    علاوہ اذیں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بینکنگ اعداد وشمار جاری کر دیئے،مارچ 2023 کے اختتام پر بینکوں کے ڈپازٹس 23 ہزار 562 ارب روپے رہے ،مارچ میں بینکوں کے ڈپازٹس 640 ارب روپے بڑھے ہیں۔ مارچ 2022 سے رواں سال مارچ تک بینکوں کے ڈپازٹس 3086 ارب روپے بڑھے ہیں مارچ 2013 سے رواں سال مارچ تک بینکوں کے ڈپازٹس 16 ہزار 785 ارب روپے بڑھے ہیں۔مارچ 2023 کے اختتام پر بینکوں کی سرمایہ کاری 19 ہزار 235 ارب روپے رہے مارچ میں بینکوں کی سرمایہ کاری 243 ارب روپے بڑھے ہیں۔مارچ 2022 سے رواں سال مارچ تک بینکوں کی سرمایہ کاری 4223 ارب روپے بڑھے ہیں مارچ 2013 سے رواں سال مارچ تک بینکوں کی سرمایہ کاری 15 ہزار 211 ارب روپے بڑھے ہیں۔

    دوسری جانب صنعتکار رہنما چیئرمین ٹاؤن شپ انڈسٹریز ایسوسی ایشن لاہو میاں خرم الیاس نے کہا ہے کہ ملک کرنسی روپے کی مضبوطی کیلئے امریکی ڈالر پر انحصار کم کرکے اور دوست ممالک کی کرنسیوں میں عالمی اور علاقائی تجارت کو فروغ دے کر ملکی معیشت کو مضبوط اور مستحکم کیا جائے۔موجودہ صورتحال میں جبکہ آئی ایم ایف سے قرض کی قسط مسلسل التواء کا شکار ہے جس کے باعث ملک میں ڈالر کی کمی کے باعث ایل سیز نہ کھلنے سے درآمدی کینٹینرز بندرگاہوں پر پھنسے ہوئے ہیں اور صنعتی شعبہ کو خام مال کی قلت کے باعث انڈسٹریز بند ہورہی ہیں اور ملک میں بے روزگاری میں اضافہ کے ساتھ ساتھ اشیاء کی قیمتوں میں اضافوں سے ملک میں ہوشربا اور تاریخی مہنگائی برپا ہے ایسی صورتحال میں یہ بہترین موقع اور وقت کی اشد ضرورت ہے کہ معیشت کے استحکام اور روپے پر دباؤ کم کرنے کیلئے ڈالر کی بجائے دوست ممالک کی کرنسیوں میں تجارت کے مواقع کی تلاش کو اولین ترجیح دی جائے اور دنیا کے ساتھ بار ٹرٹریڈکو فروغ دیا جائے۔

    بانی ایم کیو ایم 1 کروڑ پاؤنڈ پراپرٹی کا کیس لندن ہائیکورٹ میں ہار گئے
    مریم نواز بارے جھوٹی خبر پرتجزیہ کار عامر متین کو ہرجانے کا نوٹس بھیج دیا گیا
    پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی جمع
    آئی ایم ایف سے معاہدے میں تاخیر پر حکومت کا امریکا سے بات کرنے کا فیصلہ

  • آج پاکستان بھر میں لاکھوں مسلمان اعتکاف بیٹھیں گے

    آج پاکستان بھر میں لاکھوں مسلمان اعتکاف بیٹھیں گے

    لاہور: آج پاکستان بھر میں لاکھوں مسلمان اعتکاف بیٹھیں گے،طاق راتوں میں شب قدر تلاش کریں گے۔

    باغی ٹی وی : رمضان المبارک کے دوسرے عشرے کا اختتام ہوگیا جس کے بعد تیسرے عشرے کے لیے آج منگل بعد نماز عصر لاکھوں مسلمان اعتکاف کے لئے مساجد میں پہنچ جائیں گے، جس کے لئے مساجد میں انتظامات مکمل کر لیے گئے۔

    پی ٹی آئی نے کے پی انتخابات کی تاریخ کے معاملے پر پشاور ہائیکورٹ میں …

    اعتکاف میں بیٹھنے والوں کے لئےبعض مساجد کی انتظامیہ اور مخیر حضرات کی جانب سے سحری اورافطاری فراہم کرنے کے خصوصی انتظامات بھی کئے جاتے ہیں جب کہ عام طور پر معتکفین کی سحر و افطاری کا ذمہ ان کے اہل خانہ کا ہوتا ہے۔

    دوسری جانب مسجد نبویﷺ میں اعتکاف کے لیےالیکٹرانک ’’زائرین‘‘ ایپلی کیشن کے ذریعے رجسٹریشن کی گئی مسجد نبویﷺ میں 4 ہزار 200 مرد و خواتین روزہ دار اعتکاف کر رہے ہیں مسجد نبویﷺ میں مرد معتکفین کے لیے مغربی چھت مختص کی گئی ہے جبکہ خواتین معتکفات کے لیے مسجد نبویﷺ کے شمال مشرقی حصے کو مختص کیا گیا ہے۔

    آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے اجلاس، پاکستانی وفد امریکا پہنچ گیا

    اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کے لیے رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف کیا جاتا ہےاعتکاف عربی زبان کا لفظ ہےجس کے معنی ٹھہر جانے یا خود کو روک لینے کے ہیں، اس طرح شریعت کی اصطلاح میں رمضان المبارک کے آخری عشرے میں عبادت کی غرض سے مسجد میں قیام کرنے کو اعتکاف کہتے ہیں جس میں فرائض کے ساتھ ساتھ نفلی عبادات کا بھی خصوصی اہتمام کیا جاتا ہےخاص طور پر طاق راتوں میں لیلہ القدر کی تلاش میں معتکفین رات بھر جاگ کر عبادات میں مشغول رہتے ہیں۔

    عمران خان کی بغاوت پر اکسانے کا مقدمہ خارج کرنے کی درخواست سماعت کیلئے مقرر

  • پاکستان میں سیلاب متاثرین کی مشکلات کا سلسلہ تاحال جاری

    پاکستان میں سیلاب متاثرین کی مشکلات کا سلسلہ تاحال جاری

    پاکستان میں سیلاب متاثرین کی مشکلات کا سلسلہ تاحال جاری

    ایک طرف پوری قوم آئینی ڈرامہ کے گرداب میں پھنسی ہوئی ہے جبکہ دوسری طرف گزشتہ سیلاب سے متاثر ہونے والے افراد کسمپرسی کی حالت گزار رہے ہیں. ایک اندازے کے مطابق تقریبا دس ملین افراد پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں جبکہ جو پانی دستیاب ہے اس سے پھیلنے والی بیماریاں اموات کا باعث بن رہی ہیں۔ جیسے کہ ملیریا اور ہیضہ سب سے زیادہ پھیلنے والی بیماریاں ہیں۔

    اسی طرح خوراک کی کمی سے غذائی قلت پیدا ہو رہی ہے اور ریکارڈ کی جانے والی اموات کی تعداد تقریباً 1,739 ہوچکی ہیں اور زیادہ تر اموات ایسی ہیں غیر محفوط ماحول کے پیش نظر ہوئی ہیں. الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق زیادہ تر لوگوں کو سیلاب سے پہلے بھی کوئی خاص پینے کے صاف پانی تک رسائی نہیں تھی جبکہ جو پانی کا دستیاب نظام موجود تھا اسے بھی سیلاب نے بری طرح نقصان پہنچایا دیا۔ یونیسیف کا کہنا ہے کہ ’سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں رہنے والے خاندانوں کے پاس بیماریوں سے متاثرہ پانی پینے اوراسے استعمال کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے.

    یونیسیف پاکستان نے 20 مارچ 2023 کو ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ "پاکستان میں سیلاب کے 6 ماہ بعد، 9.6 ملین بچوں کو اب بھی زندگی بچانے والی امداد کی ضرورت ہے۔ ہمیں پینے کا صاف پانی فراہم کرنے اور بیت الخلاء کی تعمیر سمیت متاثرین کو صفائی کی اہم خدمات فراہم کرنے کے لیے اپنے عطیہ دہندگان کا مسلسل تعاون درکار ہے کیونکہ اس سب کی متاثرین کو اشد ضرورت ہے۔ تاہم ڈونر ایجنسی کے مطابق اب تک امداد کی نصف سے بھی کم ضرورت پوری ہوئی ہے.

    جبکہ سب سے پہلے ان ضروری معاملات کو حل کرنا انتہائی ضروری ہے اور اسکے بعد انفراسٹرکچر کی تعمیر نو کرنا، بھی لازمی تاکہ لوگوں پر پڑنے والے پیچیدہ منفی اقتصادی اثرات سے بھی بچا جا سکے۔ بروکنگز انسٹی ٹیوٹ کے مطابق صرف تنظیم نو کی لاگت 16.3 بلین ڈالر ہے جبکہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس میں بحالی اور تعمیر نو کا فریم ورک (4RF) معاش اور زراعت کی بحالی سمیت نجی مکانات کی تعمیر نو اور سڑکوں، پلوں، اسکولوں اور اسپتالوں سمیت عوامی بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو بھی شامل ہے.

    واضح رہے کہ سیلاب سے متاثرہ اکثر آبادی خوراک، کپڑے سمیت بنیادی سہولیات اور سروں پر چھت سے محروم ہے جبکہ بنیادی ادویات کی بھی کمی ہے جیسے تیز بخار پر قابو پانے کے لیے اینٹی پائریٹک گولیاں وغیرہ شامل ہیں علاوہ ازیں بچوں میں غذائیت کی کمی کے ساتھ صحت کے مسائل جیسے سستی اور کمزوری وسیع پیمانے پر پھیلی ہوئی ہے۔

  • بھارت نے سری نگر میں جی 20 اجلاس طلب کر لیا

    بھارت نے سری نگر میں جی 20 اجلاس طلب کر لیا

    چین اور پاکستان کو نظر انداز کرتے ہوئے بھارت نے سری نگر میں جی 20 اجلاس بلا لیا۔

    باغی ٹی وی: بھارتی میڈیا کےمطابق جی20 اجلاس22 سے 24 مئی کے دوران مقبوضہ کشمیر کے دارالحکومت سری نگر میں ہو گا بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ چین اور پاکستان نےبھارت کے سری نگر میں جی 20 اجلاس منعقد کرنے پر اعتراض کیا تھاتاہم بھارت نے اپنے جی 20 کیلنڈر کو اپ ڈیٹ کرتے ہوئے سیاحت ورکنگ گروپ کی کی میٹنگ 22 سے 24 مئی کو شیڈول کر دی ہے ۔

    برطانیہ اور بھارت کے درمیان تجارتی تعلقات منقطع ہوگئے

    اس اجلاس کے حوالے سے گزشتہ برس سے تیاریاں جاری تھیں ، اجلاس بھارت کی تمام 28 ریا ستوں اور 8 مرکز کے زیرانتطام علاقوں میں منعقد کیا جارہا ہے گزشتہ ماہ پاکستان اور چین نے ارونا چل پردیش میں جی 20 اجلاس منعقد پراعتراض کیا تھا بیجنگ نے گروپ کی میٹنگ کیلئے ارونا چل پردیش سمیت مزید 11 مقامات کے نام تبدیل کرنے کی بھی تجویز دی تھی ۔

    سری نگر جی 20 اجلاس اگست 2019 کے بعد سے جموں اور کشمیر میں پہلا بڑا بین الاقوامی پروگرام ہوگا، جب ریاست کو دو حصوں جموں کشمیر اور لداخ میں تقسیم کیا گیا تھا اور آئین کے آرٹیکل 370 کے تحت اس کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کردیا گیا تھا۔

    بھارتی مرکزی بینک کی 18 ممالک کو بھارت کرنسی میں تجارت کی سہولت

    پاکستان کی جانب سے جی 20 رکن ممالک کو مقبوضہ کشمیر کے دارالحکومت سری نگر میں سیاحت سے متعلق اجلاس کی میزبانی کیلئے بھارت کو تحفظات بارے آگاہ کردیا گیا ہے حکومت پاکستان کا مؤقف ہے چونکہ مقبوضہ کشمیر متنازع علاقہ ہے اس لیے وہاں اجلاس نہیں ہونا چاہیے اور چین کی حکومت نے بھی اس مؤقف کی تائید کی تھی ۔

    قبل ازیں بھارت نے کئی میٹنگز کی میزبانی راجھستان سے ملحقہ رن آف کچھ میں کرنے کا اعلان کیا تھا ۔

    پینٹاگون نے حساس دستاویزات کا افشا ہونا قومی سلامتی کیلئےانتہائی سنگین خطرہ قرار دے دیا

  • امریکی رکن کانگریس کا عمران خان سے ٹیلیفونک رابطہ

    امریکی رکن کانگریس کا عمران خان سے ٹیلیفونک رابطہ

    امریکی رکن کانگریس ٹڈ لیو کی پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم پاکستان عمران خان سے ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی ہے۔

    باغی ٹی وی : ٹیلی فونک گفتگو میں امریکی رکن کانگریس نے عمران خان سے پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال اور جمہوریت کو مبینہ خطرات پر بات کیامریکی رکن کانگریس ٹڈ لیو نے عمران خان کو یقین دہانی کرائی کہ امریکی محکمہ خارجہ سے کہا جائے گا کہ وہ پاکستان میں مبینہ غیرمنصفانہ اقدامات پر مداخلت کرے۔

    پینٹاگون نے حساس دستاویزات کا افشا ہونا قومی سلامتی کیلئےانتہائی سنگین خطرہ قرار دے دیا

    پاکستانی امریکن ڈیموکریٹ ڈاکٹرآصف نے ٹڈلیوکی عمران خان سے بات کرائی تھی واضح رہے کہ ٹڈ لیو کانگریس کے با اثر ترین ڈیمو کریٹک کاکس کے وائس چیئر ہیں۔

    قبل ازیں گزشتہ ماہ امریکی کانگریس کی خارجہ امور کمیٹی کے سینئر رکن بریڈ شرمین سے پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین، سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی تھی عمران خان سے گفتگو سے پہلے پاکستانی امریکن ڈیمو کریٹ ڈاکٹر آصف محمود نے بریڈ شرمین سے ملاقات کی تھی۔

    شاہ رخ خان کی افغان کرکٹر کے ساتھ فارسی میں گفتگو سوشل میڈیا پر وائرل

    بعد ازاں امریکی ڈیموکریٹ رکن کانگریس مائیک لیون نے چیئرمین پی ٹی آئی و سابق وزیر اعظم عمران خان سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا تھا ڈیموکریٹ رکن کانگریس کی عمران خان سے پاکستان کی سیاسی صورت حال پر طویل بات چیت ہوئی تھی دونوں رہنماؤں کے درمیان ٹیلی فون پر پی ٹی آئی کےکارکنوں پر مبینہ پولیس کے تشدد اور صحافیوں کو حراست میں لیے جانے پر بھی گفتگو ہوئی مائیک لیون سے عمران خان نے سکیورٹی سے متعلق درپیش صورت حال پر بھی گفتگو کی تھی-

    آئر لینڈ کے ڈبلن ائیرپورٹ پرغیرمتوازن لینڈنگ کے دوران پرواز کو حادثہ،رن وے بند

  • نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم پاکستان پہنچ گئی

    نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم پاکستان پہنچ گئی

    نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم پاکستان پہنچ گئی۔

    باغی ٹی وی: نیوزی لینڈ ٹیم کا پی سی بی عہدیداران ائیرپورٹ پر استقبال کیا، کھلاڑیوں کو پھولوں کے ہار پہنائے گئےجبکہ سخت سکیورٹی حصار میں مہمان ٹیم کو ہوٹل پہنچایا گیا مہمان ٹیم 2 دن آرام کے بعد 13 اپریل کو پہلا ٹریننگ سیشن کرے گی ، ٹی ٹوئنٹی سیریز کی ٹرافی کی رونمائی بھی اسی روز ہوگی۔

    نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کا ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ دورہ پاکستان کے لیے روانہ


    کیوی ٹیم دورہ پاکستان کے دوران 5 ون ڈے اور 5 ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے گی، نیوزی لینڈ کی قیادت ٹام لیتھم کر یں گے،پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان پہلا ٹی20 میچ 14 اپریل سے قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلا جائے گا، دوسرا میچ 15 اور تیسرا میچ 17 اپریل کو ہوگا جب کہ 2 ٹی20 راولپنڈی میں 20 اور 24 اپریل کو کھیلے جائیں گے۔

    تین میگا ایونٹ آئندہ برس ہونا ہیں،اس کےمطابق کمبی نیشن بنانےکی کوشش کررہے ہیں،ہارون رشید

    ون ڈے سیریز کیلیے پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان 2 میچز 27 اور 29 اپریل کو راولپنڈی میں ہی شیڈول ہیں، جس کے بعد دونوں ٹیمیں باقی تین ون ڈے میچز کیلیے کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں 3، 5 اور 7 مئی کو آمنے سامنے آئیں گی۔

  • کسی کو مذاکرات کرنے ہیں تو پہلے شرطیں نہ رکھیں.آصف زرداری

    کسی کو مذاکرات کرنے ہیں تو پہلے شرطیں نہ رکھیں.آصف زرداری

    آئین پاکستان کے پچاس سال مکمل، قومی اسمبلی میں آئین پاکستان کی گولڈن جوبلی تقریب ہوئی

    وزیراعظم شہبازشریف ، سابق صدر آصف علی زرداری، وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر مولانا اسعد محمود، جسٹس قاضی فائز عیسی، شاہ اویس نورانی سمیت دیگر وفاقی وزراء شریک تھے

    سابق صدر آصف علی زرداری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے جمہوریت بحال کی تھی، ہم نے مذہب کو کبھی سیاست میں استعمال نہیں کیا،بھٹو صاحب کو ڈی سیٹ کر دیا گیا تھا، میرے رب نے چاہا تو آئین کو کچھ نہیں ہوگا اور نہ اس کے ساتھ کھلواڑ کرنے دیں گے، میں نے بڑے اونچ نیچ کے مقام دیکھے ہیں، بی بی صاحبہ کی شہادت پر ہم نے پاکستان کا نعرہ لگایا ،میں اپنی نسل کیلئے ٹوٹا پاکستان چھوڑ کر نہیں جاؤں گا،پہلی دفعہ نہیں ہوا کہ کورٹ نے نوٹس دیا،ہم نے جمہوریت کو بحال کیا،بی بی کو رات کے بارہ بجے اٹھا کر جیل میں ڈالا گیا،

    آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ کسی کو مذاکرات کرنے ہیں تو پہلے شرطیں نہ رکھیں، شہباز شریف کے پاس آئیں وہ وزیراعظم ہیں ، جس جس نے ڈائیلاگ کرنا ہے ان کو وزیر اعظم کے پاس آنا پڑے گا۔وزیر اعظم کسی کے پاس نہیں جائیں گے۔میرے پاس وزیر اعظم نہیں آئے کیونکہ میں کچھ نہیں ہوں۔سب کو بات چیت کیلئے وزیراعظم کے پاس آنا پڑے گا۔ہم ملک کو بچاتے آئے ہیں آگے بھی بچائیں گے میرے پاس بہت سارے راز ہیں کچھ شیئر کرسکتا ہوں اور کچھ نہیں،میرے خلاف سوموٹو ہوئے ہیں اور میں نے دیکھے ہیں سب سن لیں ہم کمزور نہیں ہیں پہ کراچی سے ,دوسو افراد کو پکڑ کر اسلام آباد لائے اور میرے خلاف گواہ بنانے کی کوشش کی،ہم نے بلوچستان اور پختونخوا کے حقوق کی بات کی تھی، بلوچستان کے لوگوں سے بات کرنا پڑتی ہے ایسا مفروضہ بنایا ہوا ہے کہ بات نہیں کی جا سکتیمجھے ٹی ٹی پی اور دیگر دہشتگرد تنظیموں کی طرف سے دھمکیاں ملتی رہی ہیں جب تک دم میں دم ہے جمہوریت کو چلائیں گے ملک کو سنواریں گے،

    وزیر خارجہ بلاول زرداری نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ دس اپریل پاکستان کے آئینی سفر کا دن ہے،آج ہر پاکستانی کیلئے تاریخی دن ہے، دس اپریل 1973 کو آئین کی بنیاد رکھی گئی، پاکستانی عوام، سیاسی و سماجی کارکنان نے مسائل کا مقابلہ کیا،ہم نے ایک نہیں 3-3 آمروں کا مقابلہ کیا،شہید بے نظیر بھٹو نے آئین کی بحالی کیلئے 30 سال جدوجہد کی، آج بھی آمریت سے فائدہ لینے والے ایک پرچم تلے جمع ہیں،آج بھی ہم نفرت اور تقسیم کی سیاست کا مقابلہ کر رہے ہیں،

    سابق چیئرمین سینیٹ ، پیپلز پارٹی کے رہنما میان رضا ربانی کا کہنا تھا کہ میں سپیکر قومی اسمبلی اور قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کو مبارک پیش کرتا ہوں،یہ آئیڈیا خود قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے جنم دیا اور اس کو پورا کیا ،لازم ہے کہ آئین اور آج کے دن کے بارے میں کچھ کہا جائے ،50 سال پہلے یہ آئین منظور کیا گیا، یہ متفقہ دستاویز تھی جسے وفاق کی تمام اکائیوں کے درمیان اتفاق رائے تھا، اس آئین میں واضح تھا کہ یہ ادارے مرتب کرے گا، اداروں میں طاقت کا توازن ہوگا، وفاق اکائیوں کے ذریعے جمہوریت کو مضبوط کرے گا، پوری قوم ذوالفقار علی بھٹو، مفتی محمود، شاہ احمد نورانی اور پروفیسر غفور سمیت 27 رکنی کمیٹی کی شکر گزار ہے،

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں