Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • آج مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کی 59ویں برسی منائی جا رہی ہے

    آج مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کی 59ویں برسی منائی جا رہی ہے

    آج مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کی 59ویں برسی منائی جا رہی ہے-

    مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کی 59ویں برسی کے موقع پر صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ان کی قومی، سیاسی اور سماجی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ فاطمہ جناح کی جدوجہد اور قیادت ہمیشہ قوم کے لیے مشعلِ راہ رہے گی ، قوم ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھے۔

    صدر آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ محترمہ فاطمہ جناح پاکستان کی تاریخ کے نازک اور فیصلہ کن ادوار میں استقامت کی علامت بن کر سامنے آئیں انہوں نے اپنے دور کی سماجی رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے برصغیر کی خواتین کو تحریکِ آزادی میں متحرک کیا اور انہیں ایک مؤثر قومی قوت میں تبدیل کیا-

    وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ پوری قوم مادرِ ملت کی برسی پر ان کی قومی و سیاسی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے انہوں نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح کے شانہ بشانہ محترمہ فاطمہ جناح کی انتھک جدوجہد، بے خوف کردار اور مثالی جذبہ تحریکِ پاکستان کا قابلِ فخر باب ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ مادرِ ملت نوجوان نسل، بالخصوص خواتین کے لیے مشعلِ راہ ہیں، انہوں نے ثابت کیا کہ خواتین ہر قومی مقصد میں مؤثر اور تعمیری کردار ادا کر سکتی ہیں،قیامِ پاکستان کے بعد بھی فاطمہ جناح ملک کی سماجی و سیاسی ترقی، قومی یکجہتی اور مثبت اقدار کے فروغ کے لیے سرگرم رہیں۔

  • موجودہ حالات میں بین الاقوامی تعاون پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کرچکا ہے،محسن نقوی

    موجودہ حالات میں بین الاقوامی تعاون پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کرچکا ہے،محسن نقوی

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ دہشتگردی، منظم جرائم، سائبر کرائم، منشیات و انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ جیسے چیلنجز کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہے، ان سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر تعاون اور معلومات کا فوری تبادلہ ناگزیر ہے،جبکہ موجودہ حالات میں بین الاقوامی تعاون پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کرچکا ہے-

    یہ بات انہوں نے اقوام متحدہ کے زیر اہتمام پولیس سربراہان کے عالمی اجلاس (یو این کوپس) سے خطاب کرتے ہوئے کہی،انہوں نے اجلاس میں شر یک وزرائے داخلہ، پولیس سربراہان اور دیگر معزز شخصیات کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ آج دنیا کو مشترکہ سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے جو قومی سرحدوں تک محدود نہیں بلکہ سرحدوں سے ماورا نوعیت اختیار کرچکے ہیں،دہشتگردی، منظم جرائم، سائبر جرائم، منشیات کی اسمگلنگ، انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ جیسے خطرات سے دنیا کا کوئی ملک محفوظ نہیں اور کوئی بھی ملک تنہا ان چیلنجز کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔

    انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں بین الاقوامی تعاون پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کرچکا ہے ہمیں مل کر کام کرنا ہوگا، ایک دوسرے پر اعتماد بڑھا نا ہوگا اور جرائم کے تدارک کے لیے بروقت معلومات کا تبادلہ یقینی بنانا ہوگاقانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان مضبوط شراکت داری قائم کرنا و قت کی اہم ضرورت ہےٹیکنالوجی تیزی سے تبدیل ہورہی ہے اور جرائم پیشہ عناصر بھی اپنے مقاصد کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کررہے ہیں اس لیے ہمیں جرائم کی روک تھام کے لیے جدید ذرائع اور ٹیکنالوجی کو مؤثر انداز میں بروئے کار لانا ہوگا۔

    محسن نقوی نے کہا کہ پولیس افسران کی استعداد کار میں اضافہ، جدید تربیت، مہارتوں کی بہتری اور جدت کو اپنانا ناگزیر ہے تاکہ بدلتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز کا مؤثر مقابلہ کیا جاسکے،اس اجلاس میں دنیا بھر سے تجربہ کار رہنما شریک ہیں، جن کے پاس قیمتی علم اور عملی تجربہ موجود ہےہمیں چاہیے کہ ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھیں، کامیاب حکمت عملیوں کا تبادلہ کریں اور قانون نافذ کرنے کے شعبے میں تعاون کے نئے طریقے تلاش کریں۔

    انہوں نے اقوام متحدہ پولیس کے مشیر فیصل شاکر کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے مختلف ممالک کے ہم منصبوں اور دوستوں سے ملاقات کا موقع فراہم کیا یہ اجلاس دنیا بھر کے ممالک کو اپنے عوام کے تحفظ، امن و سلامتی کے فروغ اور محفوظ مستقبل کے مشترکہ مقصد کے لیے متحد کرتا ہےاقوام متحدہ پولیس سر برا ہان کا یہ سمٹ عالمی امن اور سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

  • ترسیلات زر میں اضافےپروزیراعظم کا  سمندرپارمقیم پاکستانیوں سےاظہارتشکر

    ترسیلات زر میں اضافےپروزیراعظم کا سمندرپارمقیم پاکستانیوں سےاظہارتشکر

    جون 2026 میں ترسیلاتِ زر کی مد میں 3.5 ارب امریکی ڈالرز پاکستان آئے،ترسیلاتِ زر میں سالانہ بنیاد پر 2 فیصد اضافہ، جبکہ ماہانہ بنیاد پر 18.3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

    اسٹیٹ بینک کے مطابق مالی سال 26-2025کےدوران 41.6 ارب ڈالرز کی ترسیلاتِ زر موصول ہوئیں،ترسیلاتِ زر میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 8.6 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا،جون 2026 کے دوران ترسیلاتِ زر 3.475 ارب ڈالر رہیں، جو مئی کے مقابلے میں 18 فیصد کم تاہم جون 2025 کے مقابلے میں 2 فیصد زیادہ ہیں ترسیلاتِ زر کا بیشتر حصہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے موصول ہوا،برطانیہ اور امریکا بھی پاکستان کو زیادہ ترسیلاتِ زر بھیجنے والے ممالک میں شامل ہیں ۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ریکارڈ ترسیلاتِ زر نے پاکستان کے بیرونی کھاتوں کو سہارا دیا، بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے کے باوجود جاری کھاتے کو سرپلس رکھنے میں مدد دی اور اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

    جون 2026 میں سب سے زیادہ ترسیلات سعودی عرب سے موصول ہوئیں، جہاں سے 83 کروڑ ڈالر پاکستان بھیجے گئے۔ متحدہ عرب امارات سے 79 کروڑ 20 لاکھ ڈالر، برطانیہ سے 51 کروڑ 50 لاکھ ڈالر، یورپی یونین کے ممالک سے 41 کروڑ 50 لاکھ ڈالر جبکہ امریکا سے 29 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئیں۔

    اسٹیٹ بینک نے آئندہ مالی سال 27-2026 کے دوران ترسیلاتِ زر 44 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ظاہر کی ہے، تاہم ماہرین نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور ترسیلاتِ زر سے متعلق بعض مراعاتی اسکیموں کے خاتمے کو اہم عوامل قرار دیا ہے۔

    دوسری جانب وزیراعظم شہبازشریف نے ترسیلات زر میں اضافےپر سمندرپارمقیم پاکستانیوں سےاظہارتشکرکیا، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ترسیلا ت زر میں 8.6 فیصد اضافہ حکومتی پالیسیوں پر اعتماد کا مظہر ہے،سمندرپارمقیم پاکستانی ہماراقیمتی سرمایہ ہیں، پوری قوم کوان پرفخرہے،سمندرپارمقیم پاکستانیو ں کی بہبود کیلئے اقدامات اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔

  • کروشین وفد کا دورہ پاکستان  آپسی تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہوگا،اسحاق ڈار

    کروشین وفد کا دورہ پاکستان آپسی تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہوگا،اسحاق ڈار

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کروشیا کے وزیر خارجہ ڈاکٹر گورڈن گرلیچ ریڈمین کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کی-

    اسلام آباد میں کروشیا کے وزیر خارجہ ڈاکٹر گورڈن گرلیچ ریڈمین کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ یہ طویل عرصے بعد کروشیا کی جانب سے پاکستان کا اعلیٰ سطح کا دورہ ہے، جو دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ دونوں وفود کے درمیان ہونے والے مذاکرات انتہائی مثبت، تعمیری اور جامع رہے، جن میں پاکستان اور کروشیا کے دوطرفہ تعلقات کے تمام شعبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا دونوں ممالک نے سیاسی، اقتصادی اور باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے عملی اقدامات پر اتفاق کیا ہے۔

    اسحاق ڈار نےکہا کہ پاکستان اور کروشیا نے تجارت، سرمایہ کاری، ترقی، زراعت، لیبر موبیلیٹی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفا ق کیا ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ مشاورتی نظام کو فعال رکھتے ہوئے رواں سال کی آخری سہ ماہی یا 2027 کی پہلی سہ ماہی میں باقاعدہ مشا ورتی اجلاس منعقد کرنے پر بھی اتفاق ہوا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اگرچہ پاکستان اور کروشیا کے درمیان تجارتی حجم میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے، تاہم یہ اب بھی دونوں ممالک کی حقیقی صلاحیت سے کہیں کم ہے اس خلا کو پُر کرنے کے لیے بزنس ٹو بزنس روابط کو فروغ دینے، نجی شعبے کے درمیان تعاون بڑھانے اور مستقبل میں مشترکہ تجارتی و سرمایہ کاری فورم کے انعقاد پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔

    نائب وزیراعظم نے پاکستان میں کام کرنے والی کروشین کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کو سراہتے ہوئے کروشیا کے نجی شعبے کو پاکستان کی سرمایہ کاری دوست پالیسیوں سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا جغرافیائی محل وقوع، جدید بندرگاہیں، خصوصاً کراچی پورٹ، اور بہتر رابطہ نظام خطے اور اس سے آگے تجارتی سرگرمیوں کے لیے غیر معمولی مواقع فراہم کرتے ہیں امید ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح کے روابط میں اضافہ، باقا عدہ مشاورت اور کاروباری تعاون مستقبل میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

    کروشیا کے وزیر خارجہ ڈاکٹر گورڈن گرلیچ ریڈمین نے کہا کہ پاکستان کا دورہ ان کے لیے باعثِ اعزاز ہے اور انہیں امید ہے کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے در میان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا، انہوں نے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی میزبانی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور کرو شیا کے درمیان تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں کروشیا کی متعدد کمپنیاں پہلے ہی پاکستان میں مختلف منصوبوں پر کام کر رہی ہیں، جن میں پن بجلی گھروں کے لیے آلات اور توانائی کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کی فراہمی شامل ہے، جو پاکستان کی بڑھتی ہوئی توانائی ضروریات پوری کرنے میں معاون ثابت ہو ر ہی ہیں۔

    کروشین وزیر خارجہ نے کہا کہ دونوں ممالک دواسازی، صحت، آئی ٹی، میری ٹائم، سیاحت اور سرمایہ کاری سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو وسعت دے سکتے ہیں،پاکستانی کمپنیاں کروشیا کے ذریعے وسطی اور جنوبی یورپ کی منڈیوں سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں کروشیا بارودی سرنگوں کی صفائی، شہری تحفظ، ہنگامی امداد، فائر فائٹنگ، بحران سے نمٹنے اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ جیسے شعبوں میں بھی مہارت رکھتا ہے، جن میں پاکستان کے ساتھ تعاون کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔

    ڈاکٹر گورڈن گرلیچ ریڈمین نے کہا کہ دونوں ممالک نے مشترکہ اعلامیے پر اتفاق کیا ہے، جس کے تحت دوطرفہ تعاون کو مزید گہرا کرنے، تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے، رابطوں کو مضبوط بنانے اور توانائی، ٹرانسپورٹ، ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی سمیت مختلف شعبوں میں شراکت داری کو فروغ دینے کے لیے مل کر کام کیا جائے گا، کروشیا پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔

  • محسن نقوی کی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات

    محسن نقوی کی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹرز میں سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ملاقات کی،مغربی ایشیا میں قیام امن کے لیے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں اور اقوام متحدہ کے امن مشنز میں پاکستان کے کردار پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ملاقات کے دوران مغربی ایشیا میں جاری تنازعات کے خاتمے کے لیے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں اور اقوام متحدہ کے امن مشنز، خصوصاً عالمی امن کے قیام میں پاکستان کی دیرینہ خدمات پر بھی گفتگو ہوئی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان نے تمام تر چیلنجز کے باوجود خطے میں امن و استحکام کے فروغ اور انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف نے علاقائی امن کے قیام کے لیے مؤثر اور ذمہ دارانہ قیادت کا مظاہرہ کیااقوام متحدہ کے امن مشنز کی کامیابی کے لیے حقیقت پسندانہ مینڈیٹ اور مطلوبہ وسائل کی فراہمی ناگزیر ہے تاکہ امن مشنز مؤثر انداز میں اپنے فرائض انجام دے سکیں۔

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے عالمی امن اور سلامتی کے فروغ کے لیے پاکستان کی مسلسل خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے امن مشنز میں پاکستان کا دیرینہ تعاون قابلِ قدر ہے۔ انہوں نے امن کے قیام کے لیے پاکستان کی کاوشوں، خصوصاً حالیہ سفارتی اقدامات، کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا اور عالمی امن و سلامتی کے لیے پاکستان کے کردار پر شکریہ ادا کیا۔

  • کروشیا کے وزیر خارجہ  ایک روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے

    کروشیا کے وزیر خارجہ ایک روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے

    کروشیا کے وزیر خارجہ و یورپی امور ڈاکٹر گورڈن گرلیچ ریڈمین ایک روزہ سرکاری دورے پر جمعرات کی صبح اسلام آباد پہنچ گئے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسلام آباد ایئرپورٹ پر وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل نے معزز مہمان کا استقبال کیا کروشیا کے وزیر خارجہ و یورپی امور ڈاکٹر گورڈن گرلیچ راڈمین آج (جمعرات) نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی دعوت پر پاکستان کے سرکاری دورے پر پہنچے ہیں یہ کسی بھی کروشیائی وزیر خارجہ کا پاکستان کا پہلا باضابطہ سرکاری دورہ ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے سفارتی اور اقتصادی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔

    دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان اور کروشیا کے درمیان سفارتی تعلقات 1994 میں قائم ہوئے تھے اور دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ روابط برقرار ہیں حا لیہ برسوں میں دونوں حکومتوں نے تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، توانائی، تعلیم، بحری امور، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں تعاو ن کے فروغ پر خصوصی توجہ دی ہے،دورے کے دوران نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور کروشیا کے وزیر خارجہ کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرا ت ہوں گے، جن میں دوطرفہ تعلقات کے تمام اہم پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔

    دفتر خارجہ کے مطابق مذاکرات میں تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ، ویزا سہولت، تعلیم، دفاع، انفارمیشن ٹیکنالوجی، بحری تعاون اور دیگر باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا،اس کے علاوہ دونوں رہنما علاقائی اور عالمی صورتحال پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔

    کروشیا کے وزیر خارجہ اپنے دورۂ پاکستان کے دوران وزیراعظم محمد شہباز شریف اور چیئرمین سینیٹ سے بھی ملاقات کریں گے، جن میں دوطرفہ تعلقات کے فروغ اور مختلف شعبوں میں تعاون کے نئے امکانات پر گفتگو ہوگی۔

    دفتر خارجہ نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ اعلیٰ سطح کا دورہ دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے اور باہمی مفاد کے شعبوں میں تعاون کو نئی جہت دینے میں اہم کردار ادا کرے گا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان اپنی معاشی اصلاحات کے ایجنڈے کے تحت غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کی کوششیں تیز کر رہا ہے حکومت یورپی ممالک، خلیجی ریاستوں، وسطی ایشیا اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ اقتصادی تعاون کو وسعت دے کر براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافے، برآمدات، روزگار کے مواقع اور پائیدار معاشی استحکام کو فروغ دینے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔

  • انصاف اور وقار کی بحالی عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے،عاصم افتخار احمد

    انصاف اور وقار کی بحالی عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے،عاصم افتخار احمد

    پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں زور دیا ہے کہ سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود تمام مسلح تنازعات اور غیر ملکی قبضے کی صورتحال میں یکسا ں احتساب کو یقینی بنایا جائے۔

    اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے کھلے مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنسی تشدد جنگ کا ناگزیر نتیجہ نہیں بلکہ اسے اکثر خوف، جبر اور اجتماعی سزا کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے ایسے جرائم متاثرین کی زندگیاں تباہ کرتے، خاندانوں کو بکھیرتے اور معاشروں میں دیرپا زخم چھوڑ جاتے ہیں، پاکستان نے زور دیا کہ سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود تمام مسلح تنازعات اور غیر ملکی قبضے کی صورتحال میں یکساں احتساب کو یقینی بنایا جائے۔

    سفیر عاصم افتخار احمد نے متاثرین کے لیے طبی، نفسیاتی، قانونی اور معاشی معاونت کی فراہمی کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ انصاف اور وقار کی بحالی عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے،انہوں نے خواتین کے تحفظ کے نظام کو مزید مضبوط بنانے اور بین الاقوامی انسانی قانون پر مکمل عملدرآمد کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

  • اسکردو جانے والی پرواز کے ساتھ پرندہ ٹکرا گیا،طیارے کے انجن کو شدید نقصان

    اسکردو جانے والی پرواز کے ساتھ پرندہ ٹکرا گیا،طیارے کے انجن کو شدید نقصان

    کراچی سے اسکردو جانے والی نجی ایئرلائن کی پرواز ٹیک آف کے دوران پرندہ ٹکرانے سے حادثے کا شکا ر ہو گئی، جس کے نتیجے میں طیارے کے ایک انجن کو شدید نقصان پہنچا۔

    ایئرلائن کے ترجمان کے مطابق پرواز پی کے 455 میں 170 مسافر سوار تھے ٹیک آف کے دوران ایک پرندہ طیارے سے ٹکرا گیا، جس کے باعث ایئربس اے 320 کے انجن نمبر دو کو شدید نقصان پہنچا پرندہ ٹکرانے سے انجن کے بلیڈ ٹوٹ گئے، جس کے بعد طیارے کو مزید پرواز کے لیے استعمال نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

    ایئرلائن کے ترجمان کے مطابق واقعے کے بعد تمام 170 مسافروں کو بحفاظت ایئرپورٹ لاؤنج منتقل کر دیا گیا، جہاں انہیں متبادل انتظامات کی فراہمی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، طیارے کی فنی جانچ اور مرمت کا کام جاری ہے، جبکہ واقعے کی نوعیت کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

  • وزیراعظم  کا چین میں بارشوں اور سیلاب سے جانی و مالی نقصان پر افسوس کا اظہار

    وزیراعظم کا چین میں بارشوں اور سیلاب سے جانی و مالی نقصان پر افسوس کا اظہار

    وزیراعظم شہباز شریف نے چین کے گوانگشی ژوانگ خودمختار علاقے، ہوبے اور گانسو صوبوں میں حالیہ تباہ کن طوفانوں، بگولوں، لینڈ سلائیڈنگ اور شدید بارشوں کے باعث ہونے والے جانی و مالی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنےبیان میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے عوام اس مشکل گھڑی میں چینی صدر شی جن پنگ، چین کی حکومت اور عوام، خصوصاً سوگوار خاندانوں سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں پاکستان اپنے چینی بہن بھائیوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور زخمیوں کی جلد صحت یابی، جبکہ امدادی و ریسکیو کارروائیوں کی کامیابی کے لیے دعاگو ہے۔

    واضح رہے کہ چینی حکام کے مطابق مختلف صوبوں میں اب تک کم از کم 17 افراد ہلاک، سینکڑوں زخمی اور ایک لاکھ 30 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے،گوانگشی میں موسلادھار بارشوں کے باعث درجنوں دریا خطرے کی سطح سے بلند ہو گئے، ایک آبی ذخیرے کا بند بھی ٹوٹ گیا، جبکہ ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔ متاثرہ علاقوں میں امدادی اور ریسکیو کارروائیاں تاحال جاری ہیں۔

  • روس نے پنجاب سے آلو درآمد کرنے کی منظوری دے دی

    روس نے پنجاب سے آلو درآمد کرنے کی منظوری دے دی

    روس نے پنجاب سے آلو درآمد کرنے کی منظوری دے دی ہے-

    روس نے پاکستان کے صوبہ پنجاب سے آلو کی درآمد پر عائد پابندیاں ختم کرتے ہوئے 101 پاکستانی برآمد کنندگان کو 7 جولائی سے دوبارہ برآمدات کی اجازت دے دی ہے اس فیصلے کو پاکستان کی زرعی برآمدات کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف کسانوں کو فائدہ پہنچے گا بلکہ ملک کو قیمتی زرمبادلہ بھی حاصل ہوگا۔

    نجی‌خبررساں ادارے کےمطابق پاکستان کے تجارتی افسر برائے ماسکو کے مطابق روسی حکام نےپاکستان کے محکمہ پلانٹ پروٹیکشن کے فراہم کردہ قرنطینہ اور فائیٹو سینیٹری نظام کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ کیا روسی فیڈرل سروس برائے ویٹرنری و فائیٹو سینیٹری نگرانی نے اس فیصلے سے باضا بطہ طور پر پاکستان کی وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کو بھی آگاہ کر دیا ہے۔

    خط کے مطابق روس نے پنجاب سے آلو کی درآمد کی اجازت پاکستان کی جانب سے فراہم کردہ فائیٹو سینیٹری ضمانتوں کی بنیاد پر دی ہے روسی حکام نے پاکستانی برآمد کنندگان کی فہرست اور برآمدی مقدار کا جائزہ لینے کے بعد 101 کمپنیوں کو کلیئر قرار دیا۔

    تاہم روس نے دو پاکستانی برآمد کنندگان کو بدستور برآمدات کی اجازت نہیں دی روسی حکام کا مؤقف ہے کہ ان کمپنیوں نے 2025 کے دوران روس کو آلو برآمد کرتے وقت یوریشین اکنامک یونین کے قرنطینہ اور فائیٹو سینیٹری ضوابط کی خلاف ورزی کی تھی، جس کے باعث انہیں اس رعایت سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔

    روسی حکام نے یہ بھی یاد دلایا کہ رواں سال 8 اپریل کو تین پاکستانی برآمد کنندگان کو پہلے ہی محدود پیمانے پر برآمدات کی اجازت دی جا چکی تھی، ان میں چیس انٹرنیشنل، زاہد کنوں گریڈنگ اینڈ ویکسنگ پلانٹ اور نیشنل فروٹ شامل تھےپاکستانی تجارتی مشن نے وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق سے درخواست کی ہے کہ روسی فیصلے پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ برآمد کنندگان اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔

    واضح رہے کہ روس نے مئی 2025 میں پنجاب سے آلو کی درآمد پر پابندی عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ بعض کھیپوں میں پوٹیٹو ٹیوبر موتھ اور ٹماٹو ولٹ وائرس کی موجودگی پائی گئی تھی اس کے بعد پاکستان نے فروری میں روسی حکام کے ساتھ معاملہ اٹھایا اور کیڑوں و بیماریوں سے پاک فصل کے ثبوت، لیبارٹری رپورٹس اور دیگر تکنیکی دستاویزات فراہم کیں، جن کے بعد روس نے پاکستانی فائیٹو سینیٹری نظام پر اطمینان کا اظہار کیا۔

    ادھر ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (TDAP) اور پاکستان ہارٹیکلچر ڈیولپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ کمپنی (PHDEC) بھی پاکستانی برآمد کنندگان کو روسی منڈی سے فائدہ اٹھانے کے لیے ورچوئل کاروباری ملاقاتوں کا انعقاد کر چکی ہیں۔

    پاکستان میں اس سال آلو کی ریکارڈ پیداوار تقریباً ایک کروڑ 20 لاکھ ٹن رہی ہے، جس میں سے تقریباً 40 لاکھ ٹن اضافی پیداوار برآمد کے لیے دستیاب ہے۔ ماہرین کے مطابق روسی منڈی دوبارہ کھلنے سے اضافی ذخائر کی کھپت ممکن ہوگی، مقامی مارکیٹ میں قیمتوں میں استحکام آئے گا، کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا اور ملکی برآمدات کے ذریعے قیمتی زرمبادلہ بھی حاصل ہوگا۔

    یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ طورخم سرحد کی بندش کے بعد پاکستان چین اور ایران کے راستے وسطی ایشیائی ریاستوں کو برآمدات کے لیے راستوں کا جائزہ لے رہا تھا۔ اس سیزن میں پیداوار 12 ملین میٹرک ٹن تک پہنچ گئی، جس میں سے تقریباً 4 ملین میٹرک ٹن پیداوار وسطی ایشیا اور دیگر مقامات کو برآمد کرنے کے لیے اضافی قرار دی گئی-