Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • پیرس اور بحریہ کا ایفل ٹاور!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    پیرس اور بحریہ کا ایفل ٹاور!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ایفل ٹاور کا نام لیں تو ذہن میں پیرس آتا ہے۔ جسکے ویسے تو کئی ریپلیکا دنیا بھر میں موجود ہیں مگر مجھے اصلی ٹاور کے علاوہ بحریہ ٹاؤن لاہور کا "ایفل ٹاور” دیکھنے کا شرف بھی حاصل ہے۔

    اصلی ایفل ٹاور جو پیرس میں واقع ہے، انسانی آرٹ سے زیادہ انجنئیرنگ کا خوبصورت نمونہ ہے۔ اتنا کہ لوگ اسے دیکھنے دنیا بھر سے آتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر سے سالانہ 60 لاکھ سے زائد افراد اس ٹاور کی "زیارت” کو آتے ہیں۔

    ایفل ٹاور کی تاریخ دلچسپ ہے۔ خوبصورت انجنیرنگ کے اس شاہکار کی اونچائی تقریبا 330 میٹر ہے۔ تقابل میں لاہور کا مینارِ پاکستان تقریباً 70 میٹر ہے۔ مگر ایفل ٹاور کو بنایا کیوں گیا؟

    دراصل اسے 1889 میں پیرس میں ہونے والے ورلڈ فیئر کے لیے تعمیر کیا گیا۔ یہ ورلڈ فئیر 1789 میں آیے انقلاب ِفرانس کےصد سالہ جشن کی خوشی میں تھا۔ ایفل ٹاور جو پیرس کے دل میں دریائے سین کے کنارے ایستادہ ہے، اسے 2 سال کی قلیل مدت میں 1887 سے 1889 میں تعمیر کیا گیا۔ اسکا نام ایفل ٹاور اس لیے ہے کہ اسے فرانس کے ایک سویل انجنئیر الیکسینڈر گستاو ایفل کی کمپنی کے انجینئرز اور آرکیٹکٹس نے بنایا۔ شروع شروع میں جب یہ بنایا گیا تو اسکی فرانس کے کئی مشہور آرٹس اور دانشوروں نے مخالفت کی مگر آج یہ فرانس کی پہچان ہے۔

    اس ٹاور کے تین فلورز ہیں جو سیاحوں کے لئے کھلے ہیں۔ ان پر سیاحوں کے لیے ریستوران بھی موجود ہیں جہاں وہ لذیذ کھانے کھا سکتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ پیرس کا نظارہ بھی۔ان فلورز پر جانے کے لئے سیڑھیاں بھی ہیں اور ایک لفٹ بھی، جنکا ٹکٹ ہوتا ہے۔ 600 قدم کی سیڑھیاں دوسرے فلور تک جاتی ہیں جبکہ لفٹ تیسرے فلور پر۔ سب سے اوپر کی فلور پر آپکو ٹاور سے مختلف ملکوں کے دارلحکومت کی سمت اور فاصلہ تحریر کی صورت لکھا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ ٹاور کی تیسرے فلور تک جانے کا لفٹ کا ٹکٹ تقریباً 25 یورو یعنی تقریباً ساڑھے پانچ ہزار پاکستانی روپے ہے۔ جبکہ سیڑھیوں کے ذریعے دوسرے فلور تک جانے کا ٹکٹ تقریباً سوا چار ہزار روپے ہے۔

    ٹاور سے متصل ایک بہت بڑا پارک ہے جہاں مقامی لوگ اور سیاح اکثر شام کو وقت بتانے آتے ہیں۔ ٹاور پر باقاعدہ لائیٹنگ کا انتظام ہے جس میں کل ملا کر 20 ہزار کے قریب برقی قمقمے اور بلب نصب ہیں۔ جو شام ہوتے ہی اس ٹاور کو روشنی سے سجا دیتا ہے اور دیکھنے والے اسکے حسن سے کھو سے جاتے ہیں۔

    اس ٹاور کو بنانے میں اُس دور میں تقریباً ڈیڑھ ملین ڈالر خرچ ہوئے۔ یہ مکمل طور پر لوہے کا بنا ہوا ہے۔ اسے زنگ سے بچانے کے لیے اس پر تقریباً ہر سات سال بعد رنگ کیا جاتا ہے۔ مختلف ادوار میں اسکا رنگ تبدیل کیا گیا۔ شروع شروع میں جب یہ بنا تو اسکا رنگ سرخی مائل بادامی تھا جبکہ آج اسکا رنگ بادامی سا ہے۔ اسے رنگنے کے لئے 3 ٹن پینٹ استعمال ہوتا ہے جبکہ ٹاور کا کل وزن کل وزن 10 ہزار ٹن سے بھی زائد ہے۔

    بحریہ ٹاؤن لاہور کا ایفل ٹاور 80 میٹر اونچا پے۔اسے 2013 میں بنایا گیا۔ اسکا ٹکٹ شاید ہزار روپے سے کم ہے۔ پاکستان میں انسٹاگرام اور ٹک ٹاک سٹارز کے لیے سٹوریز بنانے کے لیے اچھی جگہ ہے۔

  • ہم ہار نہ جائیں سے, ہم جیتیں گے!!! — سیدرا صدف

    ہم ہار نہ جائیں سے, ہم جیتیں گے!!! — سیدرا صدف

    ہم ہار نہ جائیں سے, ہم جیتیں گے” کی سوچ نے پاکستان کے موجودہ کھلاڑیوں میں لڑنے کا جذبہ پیدا کیا ہے۔۔۔بھارتیوں کی اصل پریشانی یہ ہے کہ وہ پاکستان ٹیم کدھر ہے جو بڑے ناموں کے باوجود گھبراہٹ سے آدھا میچ پہلے ہی ہاری ہوتی تھی۔۔۔۔

    اگر آپ صرف 2012 سے 2020 تک پاک بھارت بڑے مقابلوں کی بات کریں تو 98 فیصد میچز میں آدھا مقابلہ وہیں ہارا محسوس ہوتا تھا جب پاکستانی کپتان ٹاس کے لیے آتے تھے۔۔ہم ہار نہ جائیں کا خوف نظر آتا تھا۔۔۔۔

    ٹیم منیجمنٹ اور کپتان کو ٹیم میں لڑنے کا جذبہ لانے کا کریڈٹ جاتا ہے۔۔۔ میچ کے نتیجے سے زیادہ یہ اہم ہوتا ہے کہ ٹیم لڑے۔۔۔ ثقلین مشتاق, بابر, ٹیم کے سنیئر کھلاڑی رضوان,شاداب میچ سے پہلے اور میچ کے دوران پریشر اچھا ہینڈل کرتے ہیں اور ٹیم کا مورال بھی اٹھائے رکھتے ہیں۔۔۔

    ایشیا کپ کے پاک بھارت دونوں میچز میں اگر کپتانوں کی بات کریں تو روہت شرما کے مقابلے میں برابر اعظم نے جونیئر ہونے کے باوجود پریشر کو زیادہ بہتر ہینڈل کیا۔۔۔دوسرے میچ میں جب بھارتی بلے بازوں نے چڑھائی کی بابر پریشان نظر آئے لیکن خوف زدہ یا حواس باختہ نہیں ہوئے۔۔۔۔مس فیلڈنگ پر بھی مجموعی طور پر برداشت دیکھائی۔۔

    مشکل آنے پر پریشانی فطرتی ہے۔۔لیکن اس پریشانی کا سامنا کرنا اور نکلنا دلیری ہے۔۔۔بابر نے مڈل اوورز میں بالرز سے بخوبی کام لیا اور بالرز نے بھی کپتان کی بھرپور لاج رکھ کر بھارتی مڈل آرڈر کو چلتا کیا۔۔۔

    جب ٹیم ہارتی ہے تو تنقید کا مرکز زیادہ تر کپتان رہتا ہے اس لیے جیت پر کپتان کو درست فیصلوں کا کریڈٹ بھی کھل کر دینا چاہیے۔۔۔۔

    نواز کا بیٹنگ آرڈر پروموٹ کرنے پر بابر کی بہت تعریف ہوئی ہے۔۔۔بھارت کے خلاف گروپ میچ ہارنے کے باوجود پاکستانی سپوٹرز نے بابر اور ٹیم کو بیک کیا اور کھلاڑیوں نے بھی اس محبت کا جواب میچ جیت کر دیا۔۔اب جب بابراعظم ٹی ٹوئینٹی فارمیٹ میں وقتی خراب فارم سے دوچار ہیں پاکستانی سپوٹرز ان کے لیے دعاگو ہیں۔۔۔۔ہماری ڈیمانڈ اپنی ٹیم سے یہ ہی ہے کہ لڑو مقابلہ کرو نتائج اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔۔۔

  • نور الہی عرف دیوا  ،  ازقلم: غنی محمود قصوری

    نور الہی عرف دیوا ، ازقلم: غنی محمود قصوری

    نور الہی عرف دیوا

    ازقلم غنی محمود قصوری

    پچھلے زمانے میں روشنی کیلئے چراغ ( اردو میں دیا،پنجابی میں دیوا کہتے ہیں) استعمال کیا جاتا تھا،جس پہ کئی مثالیں بنی ہوئی ہیں خاص کر ایک مثال بہت مشہور ہے کہ چراغ تلے اندھیرا، یعنی دوسروں کو روشنی دینا اور خود اس روشنی سے محروم رہنا-

    اس کا یہ مطلب بھی نکلتا ہے کہ بڑے بڑے دعوے کرنا اور ان دعووں سے خود بھی محروم رہنا اور دوسروں کو بھی محروم رکھنا یعنی لمبی لمبی چھوڑنا،خیر آپ کو ایک دیوے کی کہانی سناتا ہوں-

    کافی پرانی بات ہے کسی گاؤں میں ایک نور الہی نامی نوجوان رہتا تھا جو سارا دن بڑی لمبی لمبی چھوڑتا اور لوگوں کو نت نئے قصے سناتا تھا تاکہ اس کی واہ واہ اور بلے بلے ہو مگر لوگ تو سب جانتے تھے اور اس کی اسی عادت کے باعث لوگ اسے ،دیوا، کہنے لگے-

    جب بھی وہ بازار سے گزرتا لوگ اوئے دیوے،دیوا آیا جیسے جملے کسنا شروع کر دیتےنور الہی عرف دیوا اپنے بگڑے نام اور تضحیک پر سخت پریشان تھا اس نے سوچا کچھ عرصہ شہر رہا جائے تاکہ اس نام سے جان چھڑوائی جائے-

    نور الہی عرف دیوا شہر پہنچ گیا اور پریشانی کے عالم میں شہر کے میں چوک میں گھوم پھر رہا تھا تانگے گزر رہے تھے مگر نور الہی سارے شور شرابے سے بے فکر سڑک کے وسط میں چلا جا رہا تھا تانگے والے نے آواز دی کہ پیچھے ہٹ جاؤ گزرنے دو-

    نور الہی نے نا سنی تانگے والے نے پھر اسے آواز دی اس نے نا سنی تو پھر تانگے والے نے کہا ،اوئے دیوے پیچھے ہٹ جا اور گزرنے دے،یہ الفاظ نور الہی عرف دیوے کے کانوں میں دھماکہ بن کر لگےاس نے جھٹ سے تانگے والے کا گریبان پکڑا اور بولا سچ سچ بتا میرا نام تجھے کس نے بتا؟-

    تانگے والے نے کہا جناب مجھے نام کس نے بتانا ہے تمہاری حرکتیں ہی دکھائی دے رہی ہیں کہ تم دیوے ہی ہو،خیر نور الہی عرف دیوے کے ساتھ آگے جو ہوا اس کو چھوڑیں اور نور الہی کی جگہ پاکستانی سیاستدانوں کا تصور ذہن میں لائیں کہ کیا یہ سب بھی دیوے نہیں؟

    آئے روز نت نئے دعوے ،نت نئے نعرے مگر عمل زیرو ،چراغ تلے اندھیرا اور نور الہی عرف دیوے کی مثال ان پہ مکمل فٹ ہوتی ہے
    ہمارے یہ دیوے مہنگائی ختم کرنے کا نعرہ لگا کر یہ دیوے آتے ہیں اور مہنگائی کا طوفان مچا کر جاتے ہیں-

    تعلیم کو عام کرنے کا نعرہ لگا کر آتے ہیں اور لوگوں کو تعلیم سے محروم کرکے چلے جاتے ہیں بجلی سستی کرنے کا شور ڈال کر آتے ہیں اور لوگوں کو بے علم کرکے جاتے ہیں ان دیوں کی کرتوتیں ہی ایسی ہیں کہ فوری پتہ چل جاتا ہے کہ یہ سارے دیوے ہی ہیں-

    ان کے بڑے بڑے نعرے مگر یہ خود بھی ان دعوؤں سے محروم ہیں آپ سیلاب زدہ علاقوں کو ہی دیکھ لیجئے فوری پتہ چلے گا کہ ان کی ساری باتیں چراغ تلے اندھیرا ہی تھا لوگ دو وقت کی روٹی کو ترستے رہے اور یہ دیوے لمبی لمبی چھوڑتے رہےاللہ ان سے ہمیں محفوظ رکھے آمین-

  • اسلام آباد بیجنگ کی جانب سے ایغور مسلمانوں بارے بہتری کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے. ترجمان دفتر خارجہ

    اسلام آباد بیجنگ کی جانب سے ایغور مسلمانوں بارے بہتری کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے. ترجمان دفتر خارجہ

    پاکستان نے چین کے صوبے سنکیانگ میں انسانی حقوق کے بارے میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی رپورٹ کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد بیجنگ کی جانب سے ایغور مسلمانوں کی سماجی و اقتصادی ترقی، ہم آہنگی اور امن و استحکام کے لیے کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔

    ایک خبر کے مطابق: اقوام متحدہ کی جانب سے یکم ستمبر کو جاری رپورٹ میں طویل عرصے کے بعد جاری ہونے والی رپورٹ میں چین کے دور دراز مغربی خطے سنکیانگ میں ایغور مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے حقوق کی سنگین خلاف ورزی کے ذکر کے ساتھ ساتھ سرگرم گروپوں، مغربی ممالک میں جلاوطن ایغور کمیونٹی کی طرف سے طویل عرصے سے لگائے جانے والے بہت سے الزامات پر اقوام متحدہ کی مہر لگائی گئی تھی۔

    رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ایغور کمیونٹی اور دیگر مسلمان برادریوں کے اراکین کے ساتھ ناروا سلوک اور امتیازی حراست بین الاقوامی جرائم، خاص طور پر انسانیت کے خلاف جرائم کو جنم دے سکتے ہیں۔ رپورٹ میں عالمی برادری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ اب دنیا کو سنکیانگ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی صورتحال پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔
    تحریر جاری ہے‎

    اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کی سربراہ مشل بیچلیٹ نے فیصلہ کیا کہ سنکیانگ کے ایغور خود مختار خطے میں صورتحال کی مکمل تشخیص کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کو تیار ہونے میں ایک سال لگا اور رپورٹ جاری ہونے کی چین نے سخت مخالفت کی ہے۔

    اے ایف پی کو لکھی گئی ای میل میں مشل بیچلیٹ نے کہا کہ ’میں نے کہا تھا کہ اپنی مدت پوری ہونے سے قبل میں یہ رپورٹ جاری کروں گی اور میں نے کر دکھایا۔‘ انہوں نے کہا کہ کچھ ریاستوں کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو سیاست کی نظر کرنا مددگار ثابت نہیں ہوگا۔

    اس رپورٹ پر رد عمل دیتے ہوئے پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے ذمہ دار رکن کی حیثیت سے کثیرالجہتی عزم کے ساتھ پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر کے ان تمام اصولوں و ضوابط پر یقین رکھتا ہے جن میں سیاسی آزادی، خودمختاری اور ریاستوں کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کا احترام شامل ہے۔

    ڈان کے مطابق: دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ہمارا یہ مستقل مؤقف ہے کہ انسانی حقوق کے عالمی احترام کو فروغ دینے کے لیے سیاست سے بالاتر، عالمگیریت، معروضیت، مکالمہ اور تعمیری بات چیت اہم ترین ذرائع ہونے چاہییں۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان سنکیانگ میں سماجی و معاشی ترقی، ہم آہنگی اور امن و استحکام کے لیے چین کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔

    پاکستانی دفتر خارجہ نے کہا کہ چین نے گزشتہ 35 برسوں کے دوران 70 سے زیادہ لوگوں کو غربت سے نکالنے میں کامیابی حاصل کی ہے، اس طرح سے وہاں کے عوام کے حالات زندگی میں بہتری آرہی ہے اور وہ بنیادی انسانی حقوق سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ہم اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے نظام کے ساتھ چین کے تعمیری کردار کو سراہتے ہیں۔ دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کے مطابق تمام انسانی حقوق کو عالمی سطح پر آگے بڑھانے کے لیے اپنے مستقل عزم کا اعادہ کرتا ہے۔

    واضح رہے کہ رواں سال اگست میں سبکدوش ہونے والی اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی سربراہ مشیل بیچلیٹ نے اپنا عہدہ چھوڑنے سے قبل چین کے صوبہ سنکیانگ میں انسانی حقوق کی صورت حال سے متعلق پہلے سے تیار رپورٹ جاری کی تھی۔

    خیال رہے کہ: چین پر کافی عرصے سے اپنے اس خطے میں ایغور برادری سمیت دیگر 10 لاکھ افراد کو حراست میں رکھنے کا الزام عائد کیا جارہا ہے جبکہ بیجنگ سختی سے ان الزامات کی تردید کرتا آیا ہے اور وضاحت پیش کی ہے کہ انتہا پسندی کی روک تھام کے لیے پیشہ ورانہ مراکز چلائے جارہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چینی حکومت کی جانب سے انسداد دہشت گردی اور انسداد انتہا پسندی کی حکمت عملیوں کے اطلاق کے تناظر میں سنکیانگ کے خود مختار ایغور خطے میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا ارتکاب کیا گیا ہے۔ جبکہ تشخیص میں چین کے نام نہاد پیشہ ورانہ تعلیمی اور تربیتی مراکز میں قید لوگوں کے علاج پر سنگین خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تشدد یا بدسلوکی کے الزامات، بشمول جبری طبی علاج اور حراست کے منفی حالات، قابل اعتبار ہیں، جیسا کہ جنسی اور صنفی بنیاد پر تشدد کے انفرادی واقعات کے الزامات سامنے آئے ہیں۔

    تاہم اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ چین کے پیشہ ورانہ تعلیمی و تربیتی مراکز میں کتنے لوگ متاثر ہیں مگر اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ پورے خطے میں یہ سسٹم وسیع پیمانے پر پھیلا ہوا ہے۔
    جنیوا میں چین کے مشن نے اس رپورٹ پر سخت تنقید کی اور اسے جاری کرنے کے خلاف اپنی سخت مخالفت کو برقرار رکھتے ہوئے سنکیانگ کی صوبائی حکومت کی جانب سے خطے میں بیجنگ کی پالیسیوں کا دفاع کرنے والی 121 صفحات پر مشتمل دستاویز شیئر کی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’چین مخالف قوتوں کی طرف سے من گھڑت جھوٹ اور غلط معلومات کی بنیاد پر مبنی نام نہاد ‘تشخیص’ چین کے قوانین اور پالیسیوں کو مسخ کرتی ہے، اور چین کے خلاف بے بنیاد الزام تراشی کرتی ہے، جبکہ یہ چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہے۔‘

    دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ’سنکیانگ میں تمام نسلی گروہوں کے لوگ امن اور اطمینان کے ساتھ خوشگوار زندگی گزار رہے ہیں، یہ انسانی حقوق کا سب سے بڑا تحفظ اور انسانی حقوق کا بہترین عمل ہے۔‘ غیر سرکاری تنظیموں اور مہم گروپوں کا کہنا ہے کہ رپورٹ کو مزید کارروائی کے لیے لانچ پیڈ کے طور پر کام کرنا چاہیے۔

    ایغور کون ہیں؟

    چین کے جنوبی صوبے سنکیانگ میں مسلم اقلیتی برادری ‘ایغور’ آباد ہیں جو صوبے کی آبادی کا 45 فیصد ہیں۔ سنکیانگ سرکاری طور پر چین میں تبت کی طرح خودمختار علاقہ کہلاتا ہے۔ کئی سال سے ایسی خبریں گردش کر رہی ہیں کہ ایغور سمیت دیگر مسلم اقلیتوں کو سنکیانگ صوبے میں قید کرلیا جاتا ہے لیکن چین کی حکومت ان خبروں کو مسترد کر رہی ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چینی حکومت کی جانب سے انسداد دہشت گردی اور انسداد انتہا پسندی کی حکمت عملیوں کے اطلاق کے تناظر میں سنکیانگ کے خود مختار ایغور خطے میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا ارتکاب کیا گیا ہے۔

  • اگر کوئی بھارتی پاکستانی کھلاڑی کیلئےایسا کرتا تو بغاوت کا الزام لگاکر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا،انجیلیکا اریبم

    اگر کوئی بھارتی پاکستانی کھلاڑی کیلئےایسا کرتا تو بغاوت کا الزام لگاکر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا،انجیلیکا اریبم

    دبئی میں ایشیا کپ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے میچ میں ایک پاکستانی مداح کی اسٹیڈیم میں لی گئی وائرل ہونے والی تصویر کے بھارت میں بھی چرچے ہیں۔

    باغی ٹی وی : سوشل میڈیا پر وائرل تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کہ بھارتی کرکٹر ویرات کوہلی کی ایک پاکستانی مداح نے دبئی کرکٹ اسٹیڈیم میں پلے کارڈ اٹھا رکھا ہے جس پر درج ہے کہ "میں یہاں صرف کوہلی کی وجہ سے آئی ہوں”۔

    بھارتی کرکٹر سریش رائنا کا تمام فارمیٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان


    کوہلی کی اس پاکستانی مداح کے حوالے سے سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے تبصرے کئے گئے ایک صارف نے کہا کہ اگر کسی ہندوستانی کو کسی پاکستانی کھلاڑی کے ساتھ ایسا کرتے دیکھا جائے تو اسے ملک کے اندر غدار کہا جائے گا۔


    ایک صارف نے ارشدیپ سنگھ کے کیچ چھوڑنے پر بھارتی سوشل میڈیا پر تنقید کی تصویر شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ اگر بابر اعظم یا محمد رضوان یا زمان کا کوئی انڈین سپورٹر ہوتا تو پتہ نہیں اس کے ساتھ کیا ہوتا-

    پاکستانی ٹیم کی بھی کلاس ہے جس کے چیلنج کا سامنا آج ہوا، بھارتی کپتان،پاکستان مقابلے کی ٹیم…


    ایک صارف نے لکھا کہ انہیں ملک دشمن اور جہادی قرار دیئے جانے کا کوئی خوف نہیں ہے برائے مہربانی میں بابر اعظم کے لیے یہ کر سکتی ہوں-
    https://twitter.com/RezinaSultana9/status/1566677688810885121?s=20&t=D3ACLR16Q9_Ys4AIKQ7RRw
    https://twitter.com/grapeyy1024/status/1566666032206721026?s=20&t=D3ACLR16Q9_Ys4AIKQ7RRw
    ایک صارف نے لکھا کہ یوپی پولیس نے چند طلباء کو پاکستان کی حمایت کرنے پر گرفتار کیا ہے کیا واقعی یہ ایک مہذب بھارت ہے-

    کیچ چھوڑنے پر دھمکیاں، ہربھجن سنگھ اورمحمد حفیظ ارشدیپ سنگھ کی حمایت میں سامنے آ گئے

    جہاں دیگر سوشل میڈیا صارفین تبصرے کررہے ہیں وہیں بھارتی سیاسی جماعت کانگریس کے طلبا ونگ کی سابقہ سیکرٹری اور سماجی کارکن انجیلیکا اریبم نے بھی اس پر ردعمل دیا ہے۔

    https://twitter.com/AngellicAribam/status/1566456535596666883?s=20&t=D3ACLR16Q9_Ys4AIKQ7RRw
    انجیلیکا اریبم نےاس تصویر کو ری ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی بھارتی نے پاکستانی کھلاڑی کے لیے ایسا پلے کارڈ اٹھایا ہوتا تو اس پر بغاوت کا الزام لگاکر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا-
    https://twitter.com/AngellicAribam/status/1567035082610987009?s=20&t=D3ACLR16Q9_Ys4AIKQ7RRw

  • "اور جب ہم نے بھارتیوں کی پھینٹی لگائی” — اعجازالحق عثمانی

    "اور جب ہم نے بھارتیوں کی پھینٹی لگائی” — اعجازالحق عثمانی

    جنت نظیر وادی میں مسلسل پسپائی کے بعد ، کئی خیالی پلاؤ پکا کر وہ سرحد عبور کر کے چوروں کی طرح پاکستان میں داخل ہورہے تھے ۔ اسلحے سے لیس ، چھ سو کے قریب ٹینک ساتھ لیے یہ چور کوئی اور نہیں بلکہ ہمسایہ ملک بھارت کے فوجی تھے۔ جو حملے کے خیالی پلاؤ کے ساتھ لاہور میں ناشتہ کرنا چاہتے تھے۔اور یہ دن تھا،6 ستمبر 1965 کا۔

    بونگ پائے، جیدے کی لسی نہاری، ، سری پائے، حلوہ پوری، پٹھورے نا جانے کیا کیا سوچ کر آئے ہونگے۔ انھوں نے لاہور کے قریب بین الاقوامی سرحد عبور کرتے ہوئے لاہور شہر بھی داخل ہونے کی بھر پور کوشش کی۔ مگر آتے ہی شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔

    ان کا خیال تھا کہ ہم 72 گھنٹوں میں پاکستان پر قبضہ کر لیں گے۔ مگر وہ شاید نہیں جانتے تھے کہ ہمیں یہ قوم 72 منٹ بھی اپنے اوپر غالب نہیں آنے دے گی۔
    ڈیڑھ لاکھ بھارتی فوجیوں کو صرف 150 پاکستانی جوانوں نے 12 گھنٹوں تک پیش قدمی سے روک کر علامہ اقبال کے اس شعر کا عملی مناظر پیش کیا

    کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسا
    مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی
    کافر ہے تو ہے تابعِ تقدیر مسلماں
    مومن ہے تو وہ آپ ہے تقدیر الٰہی

    ایک بھارتی جنرل (جنرل ہربخش سنگھ) اپنی کتاب میں جنگ ستمبر کے بارے میں لکھتا ہے کہ” جنگ ستمبر میں پاکستانی فوج کی کارکردگی بہترین تھی اور فوج انتہائی پر عزم تھی۔ جبکہ بھارتی فوج نے جنگ کی پیشگی منصوبہ بندی کے باوجود کوئی خاص تیاری نہیں کر رکھی تھی”۔

    سنا ہے کہ وہ یہ بھی چاہتے تھے کہ جو 600 ٹینک وہ ساتھ لا رہے ہیں ۔ وہ چھ ستمبر کی صبح لاہور کی سڑکوں پر بھارتی وزیراعظم کو سلامی دیں گے۔ مگر تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ وہ ٹینک سلامی تو نہ دے سکے البتہ انکا قبرستان ضرور بنا۔ کیونکہ

    ہم ہیں جو ریشم و کمخواب سے نازک تر ہیں
    ہم ہیں جو آہن و فولاد سے ٹکراتے ہیں

    ہم نے روندا ہے بیابانوں کو صحراؤں کو
    ہم جو بڑھتے ہیں تو بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں

    بھارت رات کے اندھیرے میں پاکستان میں داخل تو ہوگیا ۔ مگر ناشتہ نہ کر پایا ۔کیونکہ پوری پاکستانی قوم یکجا ہو کر لڑ رہی تھی۔ صرف فوجی ہی نہیں ، تمام پاکستانی میدان جنگ میں اپنے اپنے طریقوں سے لڑ رہے تھے ۔شاعر ، ادیب، گلوکار ، کسان، مزدور ، اساتذہ ، طالب علم ، بچوں ، عورتوں اور زرائع ابلاغ سب کی ایک ہی آواز تھی۔

    ‏ثبوت دیں گے وفا کا یوں،اشتباہ غلط
    ملا کے خاک میں رکھ دیں گےہر سپاہ غلط

    برب کعبہ… ہم آنکھیں نکال چھوڑیں گے
    اٹھی جو ملک کی جانب کوئی نگاہ غلط

    22 ستمبر کو سلامتی کونسل نے ایک ہنگامی اجلاس بلایا ۔ جس میں سلامتی کونسل نے جنگ بندی کے لیے قرار داد پیش کی ۔ سلامتی کونسل کی قرارداد کی روشنی میں صدر پاکستان ایوب خان نے 23 ستمبر تک جنگ بندی کا اعلان کیا ۔ 24 ستمبر کو بھارتیوں کی پھینٹی لگانے پر ملک بھر میں یوم تشکر منایا گیا ۔ اللہ پاک کی حفاظت کرے۔ یہ ملک سدا قائم رہے۔ اور اس کو میلی نگاہ سے دیکھنے والے 1965 کی طرح ہر بار ناکام ہوں (آمین)۔

  • 6 ستمبر 1965 کی مہمان نوازی — طلحہ ملک

    6 ستمبر 1965 کی مہمان نوازی — طلحہ ملک

    وتعز من تشاء وتذل من تشاء پر ایمان رکھنے والی قوم پر بے ایمان بے دین بد مذہب قوم کا یوں بھونڈے انداز میں حملہ آور ہونا ان کی ہمیشہ کے لیے ذلت اور ندامت کا باعث بن گیا۔ 6 ستمبر 1965 کا دن پاکستانیوں میں بحثیت قوم ایمان، اتحاد، تنظیم کا ایک بہترین نمونہ تھا اتنی بڑی فوج کا چھوٹی سی فوج پر اچانک حملہ آور ہونا اور پاکستان کو مکمل تیاری کے ساتھ چاروں طرف سے گھیرنے کا منصوبہ بنانا پاکستان کے وجود پر خدا نہ خواستہ کاری ضرب ثابت ہو سکتا تھا.

    دشمن بحری فوج کا مکمل تیاری کے ساتھ شکار کے قریب ترین پہنچنا، فضائیہ کا اپنے دشمن (پاکستان) پر کمان تان کر رکھنا اور برّی فوج کے اچانک پیٹھ پر وار کا فوری مقابلہ شاید صرف پاکستانی قوم ہی کر سکتی تھی کیونکہ اس قوم کے لیڈر نے اعلان کر دیا تھا کہ لا الہٰ پر ایمان رکھنے والو! آج تمہارے ایمان کا امتحان ہے “کلمے کا ورد کرتے جاؤ آگے بڑھتے جاؤ اور دشمن کو بتا دو کہ اس نے کس قوم کو پکارا ہے” پھر یوں ہوا کہ شہری اور دیہاتی، عام اور خاص ہر چھوٹا بڑا دشمن کے جنگی ہتھیاروں کی طرف بڑھتا گیا یہاں بعض کے ہاتھوں پر بندوقیں اور مختلف ہتھیار تھے مگر ایک ہتھیار تھا جو مشترکہ طور پر سب کے پاس موجود تھا وہ تھا دِل میں ایمان، یہی وجہ ہے کہ نہتے شہری بھی دشمن کی طرف یوں بڑھے کہ ان کے ہاتھوں میں اُن سے بڑے ہتھیار موجود ہیں.

    مگر جائزہ لیا جائے دشمن قوت کا تو ان کے پلید ارادے اتنے مضبوط تھے کہ اس روز ہندوستانی فوج کے متکبر کمانڈر انچیف نے اعلان کیا کہ وہ آج شام جیت کی خوشی میں لاہور کے جم خانہ میں شراب کی محفل سجائیں گے اس کے اس اعلان کے بعد دنیا کی سب سے بہترین میزبان قوم نے عالمی شہرتِ یافتہ مہمان نواز فوج کے ساتھ مل کر ایسی شراب پلائی کہ ان کے اکثر فوجی اس کے ذائقے کو طبیعت پر بوجھل محسوس کرتے ہوئے اپنے ناپاک عزائم کے ساتھ ہی واصلِ جہنم ہو گئے۔ مہمان نوازوں میں اساتذہ، طلبہ، علماء اور غیور شہریوں اور دیہاتیوں کی کثیر تعداد موجود تھی جب کہ فرنٹ پر لڑنے والے مجاہدوں نے شراب نوشی کے نشے میں دھت دشمن کے ناپاک ارادوں کو ناکام بناتے بناتے خود شہادت کا جام تک نوش کر لیا پاکستانی قوم، بحری و برّی فوج اور ائیر فورس کے نوجوانوں کے کارنامے ذکر کرنا چاہوں تو کسی ایک پر بھی لکھنے کا حق ادا نا کر سکوں.

    سب نے مل کر اپنے اپنے شعبے میں دشمن پر ایسا رعب طاری کیا کہ دشمن میلی آنکھ سے دیکھنے کا ارادہ بھی اس ڈر سے نہیں کرتا کہ اس کی آنکھ سلامت نہ رہے گی۔ پاکستان بحثیت قوم پوری دُنیا پر اپنی ایک الگ پہچان رکھتا ہے آزادی سے لے کر 2022 کے سیلاب تک پاکستان نے شدید تر آزمائشوں کا سامنا ایک مضبوط قوم بن کر کیا ہے۔

    جب بھی مصیبت آئے تو سب ایک ہو جاتے ہیں قائد کا یہی فرمان تھا اللہ پر ایمان، آپس میں اتحاد اور ایک منظم انداز میں چل کر ہم ہمیشہ کامیابی حاصل کر سکیں گے اور کبھی بھی ندامت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ پاکستانی قوم ہمیشہ میجر عزیز بھٹی، کیپٹن سرور، میجر طفیل، میجر اکرم، راشد منہاس، شبیر شریف، محمد حسین، نائک محمد محفوظ، شیر خان اور حوالدار لالک جان جیسے شہداء کی طرح اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمیشہ تیار ہے.

    اور یاد رہے یہ قوم اللہ کی نصرت کے ساتھ ہر ناپاک ارداے کو مٹی میں ملانے کی طاقت رکھتی ہے اب جس کسی کو میلی نگاہ سے پاکستان کی طرف دیکھنا ہو وہ پہلے 6 ستمبر والی مہمان نوازی کا مطالعہ کرنے کی جسارت ضرور کرے۔

  • کیچ چھوڑنے پر دھمکیاں، ہربھجن سنگھ اورمحمد حفیظ ارشدیپ سنگھ  کی حمایت میں سامنے آ گئے

    کیچ چھوڑنے پر دھمکیاں، ہربھجن سنگھ اورمحمد حفیظ ارشدیپ سنگھ کی حمایت میں سامنے آ گئے

    ایشیا کپ ٹی 20 کے سپر فور مرحلے میں سنسنی خیز مقابلے میں پاکستانی بلے باز محمد آصف کاکیچ چھوڑنے پر بھارتی کھلاڑی زیرعتاب آگیا، انڈین انتہا پسندوں نےارشدیپ سنگھ کو‘خالصتانی’ قرار دیدیا ارشدیپ کوسوشل میڈیا پر دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ ایسے میں سابق بھارتی کرکٹر ہربھجن سنگھ اور پاکستان کے محمد حفیظ نے ان کی حمایت کی ہے۔

    باغی ٹی وی :ایشیا کپ کےاہم میچ میں پاکستان اور بھارت مدمقابل تھےمیچ کے انتہائی سنسنی خیز مرحلے میں بھارتی سکھ کھلاڑی ارشدیپ سنگھ سے پاکستانی بیٹر محمد آصف کا کیچ ڈراپ ہوگیا، جس پر بھارتی انتہا پسند ارشدیپ سنگھ پر برس پڑے۔

    ایشیا کپ: سنسنی خیزمقابلے کے بعد پاکستان نے بھارت کو5 وکٹوں سے ہرا دیا

    اٹھارویں اوور میں پاکستان کو 16 گیندوں پر 31 رنز درکار تھے۔ تیسری گیند پر آصف علی نے شاٹ ماری جس پر گیند ہوا میں گئی، بھارتی کھلاڑیوں کی جانب سے کیچ ، کیچ کی آوازیں لگائی گئیں لیکن فیلڈر ارشدیپ سنگھ نے آصف علی کا آسان کیچ چھوڑ دیا۔

    آصف علی کا کیچ چھوڑنے پر انتہا پسند بھارتیوں نے انہیں خالصتانی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ارشدیپ نے پاکستان کو جتوانے کے لیے جان بوجھ کر کیچ چھوڑا جس پر سابق بھارتی کرکٹر ہربھجن سنگھ اور پاکستان کے محمد حفیظ ان کی حمایت میں سامنے آ گئے-


    ہربھجن سنگھ نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان کرکٹر پر تنقید کرنا بند کریں،کوئی بھی جان بوجھ کر کیچ نہیں چھوڑتا۔ ہمیں اپنے لڑکوں پر فخر ہے پاکستان نے بہتر کھیلا، شرم آتی ہے ایسے لوگوں پر جو اس پلیٹ فارم پر ارش اور ٹیم کے بارے میں گھٹیاں باتیں کہہ کر اپنے ہی کھلاڑیوں کو نیچا دکھا رہے ہیں۔


    سابق پاکستانی کپتان محمد حفیظ نے کہا کہ بھارتی ٹیم کے تمام شائقین سے میری درخواست ہے کہ کھیل میں ہم انسان ہونے کے ناطے غلطیاں کرتے ہیں۔ براہ کرم ان غلطیوں پر کسی کی تذلیل نہ کریں-

    واضح رہے کہ اس سے پہلے محمد شامی کو بھی بھارتی انتہاپسندوں نے نشانہ بنایا تھا محمد شامی سے پہلے بھی بھارت میں انتہاپسندوں نے ہمیشہ اپنے کھلاڑیوں‌ پرشک کیا اوران کو پاکستان کیطرف داری کےطعنے دیئے گئے یہ وجہ ہےکہ بھارت میں تمام اقلیتیں اس وقت بھارتی ہندووں کی انتہا پسندی سہے خائف ہیں اورعالمی برادری سے مطالبہ کررہے ہیں‌ کہ بھارت کو لگام ڈالی جائے ورنہ بھارت میں اقلیتوں کی زندگیاں مزید مشکلات کا شکار ہوجائیں گی –

    خیال رہے کہ ادھرمتحدہ عرب امارات میں جاری ایشیا کپ ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کے سپر فور مرحلے میں پاکستان نے دلچسپ مقابلے کے بعد بھارت کو آخری اوور میں 5 وکٹوں سے شکست دےکرگروپ میچ میں ہار کا حساب برابر کردیا پاکستان نے بھارت کا 182 رنز کا ہدف محمد رضوان اور محمد نواز کی شاندار اننگز کی بدولت آخری اوور میں 5 وکٹوں کے نقصان پر پورا کرلیا۔

    محمد رضوان نے 71 اور محمد نواز نے 20 گیندوں پر 42 رنز کی اننگز کھیلی جبکہ 4 وکٹیں گرنے کے بعد اختتامی اوورز میں خوشدل اور محمد آصف نےجارحانہ اننگز کھیلی آصف نے 8 گیندوں پر 16 رنز بنائےجبکہ خوشدل 11 گیندوں پر 14 رنز بناکر ناقابل شکست رہے۔محمد نواز کو شاندار اننگز کھیلنے پر مین آف دی میچ کا ایوارڈ دیا گیا۔

    بھارت میں سکھوں سے نفرت: آصف کا کیچ کیوں چھوڑا؟ بھارتی انتہا پسندوں نے ارشدیپ سنگھ کو خالصتانی قرار…

  • پاکستانی ٹیم کی بھی کلاس ہے جس کے چیلنج کا سامنا آج ہوا، بھارتی کپتان،پاکستان مقابلے کی ٹیم ہے،ویرات کوہلی

    پاکستانی ٹیم کی بھی کلاس ہے جس کے چیلنج کا سامنا آج ہوا، بھارتی کپتان،پاکستان مقابلے کی ٹیم ہے،ویرات کوہلی

    ایشیا کپ کے گزشتہ رات میچ میں پاکستان نے بھارت کو شکست دے کر ایک اور جیت اپنے نام کر لی، جس کے بعد بھارتی کپتان بھی پاکستانی کھلاڑیوں کی تعریف کیے بغیر نہ رہ سکے۔

    باغی ٹی وی : ایشیا کپ کے سپر فور مرحلے میں پاکستان کے ہاتھوں شکست کے بعد بھارتی ٹیم کے کپتان روہت شرما بھی پاکستانی ٹیم کے معترف ہیں پوسٹ میچ پریزنٹیشن میں گفتگوکرتے ہوئے روہت شرما نےکہا کہ ہم میچ کےدوران مطمئن تھے، یہاں تک کےنواز اور رضوان کے درمیان پارٹنرشپ کے وقت بھی ٹیم مطمئن تھی۔

    بھارت میں سکھوں سے نفرت: آصف کا کیچ کیوں چھوڑا؟ بھارتی انتہا پسندوں نے ارشدیپ سنگھ کو خالصتانی قرار…

    انہوں نے کہا کہ ہمیں یقین تھا کہ اگر یہاں وکٹ مل جاتی ہے تو صورتحال تبدیل ہوجائے گی لیکن یہ پارٹنر شپ کچھ زیادہ ہی لمبی چل گئی، انہوں نے کہا کہ ماننا پڑے گا سامنے والی ٹیم میں کلاس ہے جس کے چیلنج کا سامنا آج ہوا جس طرح کی کرکٹ پاکستانی کرکٹرز کھیل رہے ہیں اسے دیکھ کر ہم سرپرائز نہیں ہوئے۔

    روہت شرما نےاسکورکےح والے سے کہا کہ ویسے تو 180 سے زائد اسکور کسی بھی میدان اور کسی بھی وکٹ پر اچھا ہوتا ہے لیکن ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں ہر ٹیم زیادہ سے زیادہ اسکور چاہتی ہے پاکستان کو کریڈٹ دینا پڑے گا، انہوں نے اپنے حق میں میچ کا فیصلہ کرنے کے لیے ہم سے بہتر کھیلا-

    انہوں نے اپنی ٹیم کی بھی تعریف کی اور کہا کہ ہمارے کھلاڑی بہت باصلاحیت ہیں، انہوں نے اچھی پرفارمنس سے کئی میچ جتوائے ہیں، لیکن اس بار پاکستانی ٹیم کو کریڈٹ دینا پڑے گا کہ انہوں نے بہتر کھیل پیش کیا اور جیت ان کی ہوئی۔

    ایشیا کپ: سنسنی خیزمقابلے کے بعد پاکستان نے بھارت کو5 وکٹوں سے ہرا دیا

    دوسری جانب بھارتی کرکٹرویرات کوہلی نے کہاکہ پاکستان مقابلے کی ٹیم ہے، بابرکو ہرفارمیٹ میں اچھا کھیلتا دیکھ حیرت نہیں ہو رہی بابر کچھ سیکھنا چاہتا ہے، پاکستان ٹیم کے تمام پلیئرز اچھے طریقے سے ملتے ہیں۔

    ویرات نے پریس کانفرنس میں صحافیوں کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ بابر اعظم ایک بہت اچھا انسان ہے اور بہت عزت سے ملتا ہے، ان سے ملنا ہمیشہ اچھا لگتا اور باقی کھلاڑیوں سے بھی، سب بہت عزت سے اور دوستانہ ماحول میں ملتے ہیں مجھے گزشتہ سال سے یہ احساس ہوا کہ پاکستان کی ٹیم مقابلے کی ٹیم ہے لیکن ساتھ ہی بہت عزت کرنے والی بھی ہے۔

    ویرات نے کہا کہ یہ گیم پریشر کا ہے، جو ٹیم اچھا ہینڈل کر لیتی ہے وہ جیت جاتی ہے اور آج کے دن بہت سے مرحلوں میں پاکستان نے ہم سے بہتر کھیل پیش کیا۔

    پاک وہانگ کانگ میچ: رضوان کا ناٹ آؤٹ جانا میرے نزدیک درست نہیں،وسیم اکرم

    واضح رہے کہ گزشتہ روز ایشیا کپ 2022ء کے سپر فور مرحلے میں پاکستان نے بھارت کو شکست دے کر ایونٹ کے ابتدائی مرحلے کی ہار کا بدلہ لے لیا ہے، پاکستان نے بھارت کی جانب سے دیا گیا 182 رنز کا ہدف 5 وکٹوں کے نقصان پر آخری اوور کی پانچویں گیند پر پورا کر لیا۔

  • ملک بھرمیں بارشوں اورسیلا ب سے مزید 24 افراد  جاں بحق

    ملک بھرمیں بارشوں اورسیلا ب سے مزید 24 افراد جاں بحق

    محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے دیگرعلاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا-

    باغی ٹی وی : محکمہ موسمیات کے مطابق خیبرپختو نخوا، کشمیر، پنجاب اور گلگت بلتستان میں مزید بارش کا امکان ہے اسلام آباد میں تیز ہواؤ ں اور گرج چمک کے ساتھ مزید بارش متوقع ہے ،میانوالی، خوشاب،سرگودھا، حافظ آباد، منڈی بہاؤالدین اور جھنگ مزید بارش کا امکان ہے-

    منچھرجھیل پر کٹ،پانی کا دباؤ کم نہ ہو سکا،مزید دو کٹ لگانے کا فیصلہ

    محکمہ موسمیات کے مطابق سندھ کے ساحلی علاقوں میں مطلع جزوی ابر آلود رہے گا،فیصل آباد میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے ،خطہ پوٹھو ہار ، سیالکوٹ، نارووال، لاہور، گوجرانوالہ،گجرات اورشیخوپورہ میں بارش متوقع ہے-

    محکمہ موسمیات کے مطابق وزیرستان میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے بونیر، باجوڑ ، مہمند، خیبر، پشاور، مردان، صوابی ،نوشہرہ ، کرم اور کوہاٹ میں بارش متوقع ہے جبکہ دیر، سوات،کوہستان، مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور، مالاکنڈ میں بارش کا امکان ہے-

    دوسری جانب نیشنل ڈیزاسٹرمینجمنت اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے سیلاب اور بارشوں کے باعث نقصانات کے تازہ اعدادو شمار جاری کر دیئے ہیں این ڈی ایم اے کے مطابق ملک بھر میں 3 کروڑ 30 لاکھ 46 ہزار 329 افراد بارشوں سے متاثر ہوئے،ملک بھر میں سیلا ب سے جاں بحق افراد کی تعداد ایک ہزار 314 ہو گئی ہے-

    این ڈ ی ایم اے کے مطابق ملک بھرمیں بارشوں اور سیلا ب سے مزید 24 افراد جاں بحق ہوئے ،بارشوں اور سیلا ب سے سندھ میں مزید 19 افراد جاں بحق ہوئے،خیبر ختونخوا میں بارشوں اور سیلا ب سےمزید3 افراد جاں بحق ہوئے ،بارشوں اور سیلا ب سے سندھ میں 511 افراد جاں بحق ہوئے-

    ڈینگی بخار: کراچی کے اسپتال متاثرہ مریضوں سے اسپتال بھر گئے

    این ڈی ایم اے کے مطابق بلوچستان میں گزشتہ 24گھنٹے کےدوران سیلا ب سے ایک ہلاکت ہوئی ، خیبرپختونخوا میں بارشوں اور سیلا ب سے 289 افراد جاں بحق ہوئے،بلوچستان 260 اور پنجاب میں 189 افراد سیلاب سے جاںبحق ہوئے،سیلاب اور بارش کے باعث گلگت بلتستان 22 اورآزاد کشمیر میں 42 افرادجاں بحق ہوئے ہیں-

    این ڈ ی ایم اے کے مطابق ملک بھرمیں بارشوں اور سیلا ب سے 115افرادزخمی ہوئے،ملک بھر میں اب تک زخمى ہونے والوں کی تعداد 12 ہزار 703 ہو گئی ،ملک بھر میں 5ہزار735 کلو میٹر سڑک بارشوں اور سيلاب سے متاثر ہوئے،ملک بھر میں 7 لاکھ 50 ہزار 405 مویشیوں کو نقصان پہنچا،ملک بھر میں 80 اضلاع بارشوں اور سیلاب سے تاحال متاثرہیں-

    جبکہ نیشنل فلڈ رسپانس کوآرڈینیشن سینٹر(این ایف آر سی سی ) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق رات گئے سیلاب سے مزید 25 افراد جاں بحق ہوگئے جن میں 12 بچے شامل ہیں یوں جون سے لے کر اب تک ہلاکتوں کی کُل تعداد ایک ہزار 290 ہوگئی ہے۔

    دوسری جانب ٹھٹھہ میں دریائے سندھ سے 5 لاکھ 70 ھزار کیوسک سے زائد سیلابی ریلہ گزر رہا ہے،دریائے سندھ میں پانی کے بہاو میں تیزی کے باعث درجنوں گاوں زیر آب آ گئے،محفوظ مقامات پر نقل مکانی کرنے والے افراد کھلے آسمان تلے امداد کے منتظر ہیں-

    لاہور: سبزیوں اور پھلوں کے سرکاری ریٹ جاری

    ہالہ میں دریائے سندھ میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ پانی کےدباؤ کےباعث بند کےپشتےکمزورہوگئے ہیں ، سیکھاٹ اور کھنڈو کے مقام پر حفاظتی بند میں دراڑیں،تیز ہوا سے بند کو کٹاؤ کا سلسلہ جاری ہے، سعیدآباد ، ہالہ پرانا اور بھانوٹ کے مقام پر بھی بند کی پشتیں کمزور ،کٹاؤ جاری ہے-