Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • ملک میں موبائل فونز کی تیاری میں حائل رکاوٹیں ختم

    ملک میں موبائل فونز کی تیاری میں حائل رکاوٹیں ختم

    اسلام آباد: ملک میں موبائل فونز کی تیاری میں حائل رکاوٹیں ختم کرتے ہوئے حکومت نے موبائل فون پارٹس کی درآمد سے پابندی ہٹا دی ہے ،

    ذرائع کے مطابق پاکستان میں موبائل فیکچرنگ کے حوالے سے اسٹیٹ بینک نے موبائل مینوفیکچرنگ کی ایل سی کھولنے کی اجازت دے دی، حکومت کی طرف سے ان اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے موبائل فون مینوفیکچرنگ ایسوسی ایشن کے صدر مظفر حیات پراچہ کہتے ہیں کہ حکومت کے حالیہ اقدامات سے پاکستان میں یہ صنعت پھلےپھولے گی ،زرمبادلہ بھی اکٹھا ہوگا اورروزگار بھی ملے گا

    یاد رہے کہ چنددن پہلے ملک میں موبائل فون مینوفیکچرنگ کرنے والی کمپنیوں کی ایسوسی ایشن حکومت کے ساتھ مذاکرات کر رہی تھی، ایسوسی ایشن کے صدر مظفر حیات پراچہ کا چند دن پہلے یہ کہنا تھا کہ مینوفیکچرنگ کرنے والی موبائل فون کمپنیوں کو موبائل فون پارٹس امپورٹ کرنے کی اجازت بحال رکھی اور پاکستان موبائل فون مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ پاکستان سے باہر موبائل فون ایکسپورٹ کرنے کے راستے میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جائے،

    مظفرحیات پراچہ کا کہنا تھا کہ اس انڈسٹری کو حکومتی سطح پر مزید سپورٹ کیا جائے تاکہ ملک بھر میں 5 لاکھ سے زائد افراد کا روزگار کا تحفظ ہو سکے اور موبائل فون ایکسپورٹ کرنے سے پاکستان کے امپورٹ بل میں نمایاں کمی ہوگی جبکہ روزگار کے مواقع بھی میسر ہوں گے۔ مظفر حیات پراچہ نے مزید کہا کہ ویتنام جیسے ملک میں 60 بلین ڈالر سالانہ کے موبائل فون بنا کر ایکسپورٹ کرتا ہے اور اگر حکومتی سطح پر توجہ دی جائے تو پاکستان میں اس سے زائد کے موبائل فون بنائے جا سکتے ہیں۔

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اسی سلسلے میں موبائل فون امپورٹرز اینڈ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کی جانب سے وفاقی وزیرانفارمیشن ٹیکنالوجی اور خزانہ کو خط لکھا گیا ، جس میں موبائل فون کی ایکسپورٹ کے راستے میں حائل رکاوٹیں دورکرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔خط میں کہا گیا کہ 100فیصد کیش مارجن اورسٹیٹ بنک سے پیشگی اجازت کی شرط ختم کی جائے۔موبائل فون امپورٹرز نے آراینڈ ڈی الاؤنس 3 فیصد سے بڑھا کر8 فیصد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    علاوہ ازیں حکومت سے نئی ڈیوٹی ڈرا بیک سکیم کا ایس آر او جاری کرنے کا بھی کہا گیا ہے۔مطالبات کی منظوری کی صورت میں موبائل فون مینوفیکچررز نے ایکسپورٹ کا ہدف بتاتے ہوئے کہا کہ اگرمطالبات پورے کیے گئے تو2022-23ء میں 1 ارب ڈالرز کی ایکسپورٹ کا ہدف ہے۔موبائل مینوفیکچررز نے بتایا ہے کہ سال 2023ء اور2024 ء میں 2.5 ارب ڈالرز کی ایکسپورٹ کریں گے۔

  • ایف اے ٹی ایف، پاکستان گرے لسٹ سے نکلنے کیلیے پرامید،اعلان ہو گا آج شام

    ایف اے ٹی ایف، پاکستان گرے لسٹ سے نکلنے کیلیے پرامید،اعلان ہو گا آج شام

    ایف اے ٹی ایف، پاکستان گرے لسٹ سے نکلنے کیلیے پرامید،اعلان ہو گا آج شام

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کو چار برس بعد ایف اے ٹی ایف آج گرے لسٹ سے نکال سکتا ہے،

    ایف اے ٹی ایف کا برلن میں اجلاس جاری ہے، آج اجلاس کا آخری روز ہے اور آج شام پریس کانفرنس میں ایف اے ٹی ایف حکام پاکستان کے بارے میں اعلان کریں گے، حکومت پاکستان کو امید ہے کہ ایف اے ٹی ایف آج کے اجلاس کے بعد پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کا اعلان کرے گا،

    حکومت سے منسک ایک ترجمان نے برطانوی نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اب تک کی اطلاعات کے مطابق پاکستان کے حق میں فیصلہ جائے گا ،پاکستان کو ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ سے نکالے گا اسکے بعد بھی معاملات حل ہونے میں سات آٹھ ماہ لگ جائیں گے، ایف اے ٹی ایف کی ٹیم پاکستان کا دورہ کرے گی اور خود جائزہ لے گی کہ پاکستان نے تمام سفارشات پر کام مکمل کیا ہے

    ایف اے ٹی ایف حکام کی جانب سے آج شام پریس کانفرنس ہو گی تا ہم پاکستان کی سابق حکمران جماعت کے رہنماؤں نے اعلان کرنا شروع کر دیا ہے کہ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال دیا ہے، حالانکہ ابھی تک ایف اے ٹی ایف کی جانب سے ایسا کوئی اعلان نہیں کیا گیا،شہباز گل کہتے ہیں کہ مبارک پاکستان۔ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکال دیا گیا۔سابق وزیراعظم عمران خان کی خصوصی توجہ سے ان کی ٹیم نے وہ کام کر دکھایا جو پہلے کسی نے نہیں کیا۔ میں نے چند دن پہلے ہی کہا تھا کہ اب ارسطو اس کا کریڈٹ لینے کی کوشش کرے گا۔ان چوروں نے ہی ہمیں گرے لسٹ میں ڈلوایا تھا

    شہباز گل حقیقت میں ابھی جھوٹ بول رہے ہیں کیونکہ ایف اے ٹی ایف کی جانب سے اعلان ہونا باقی ہے، شہباز گل کریڈٹ لینے کی کوشش کر رہے ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ایف اے ٹی ایف کے حوالہ سے تمام سفارشات پر کام پاک فوج کے سپہ سالار آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر نگرانی ہوا،

    وزیر مملکت برائے خارجہ حنا ربانی کھر کا کہنا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کا اجلاس برلن میں جاری ہے،ایف اے ٹی ایف آج رات اجلاس ختم ہونے کے بعد بیان جاری کرے گا،نتائج یا قیاس آرائی پر مبنی رپورٹنگ سے گریز کیا جانا چاہیے، معاملے پر کل صبح دفتر خارجہ میں میڈیا بریفنگ دی جائے گی

    کیا اگلی باری بھارت کی ہے یا پھرٹال مٹول:ایف اے ٹی ایف کے صدرنے بیان دے کربھارت کے حواس باختہ کردیئے

    ایف اے ٹی ایف کے پلیٹ فارم پر بھارت کا چہرہ بے نقاب ہوگیا ہے، حماد اظہر

    ایف اے ٹی ایف،پاکستان جب تک یہ کام نہیں کریگا وائیٹ لسٹ میں نہیں آ سکتا،مبشر لقمان کا خوفناک انکشاف

    قریشی نے سعودی عرب کو دھمکی دے کر احسان فراموشی کا مظاہرہ کیا،وزارت چھوڑ کرگدی نشینی کا کام کریں، ساجد میر

  • کیا وزیراعظم کےاعلان کے بعد مزدور طبقہ کومقرر کردہ اجرت پوری مل رہی؟

    کیا وزیراعظم کےاعلان کے بعد مزدور طبقہ کومقرر کردہ اجرت پوری مل رہی؟

    اقتدار سنبھالنے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے مزدوروں کی اجرت پچیس ہزار کرنے کا اعلان کیا تھا جس کی حقیقت جاننے کیلئے باغی ٹی وی نے ایک مزدور ملک کالو سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ: ہر نئی حکومت مزدوروں کی اجرت بڑھانے کا دعوی تو کرتی ہے مگر کیا مقرر کردہ اجرت مزدور کو پوری ملتی بھی ہے یا نہیں اس بات کو چیک نہیں کیا جاتا جو انتہائی افسوس ناک امر ہے۔

    ملک کالو مزید بتاتے ہیں کہ: آپ خود اندازہ لگا لیں ہمیں پانچ سے چھ سو روپے دیہاڑی ملتی ہے جو چھ سو روپے کے حساب سے لگ بھگ پندرہ ہزار ماہانہ بنتی ہےکیونکہ جمعتہ المبارک کی چار چھٹیاں آجاتی ہیں، وہ بھی ان مزدوروں کیلئے جو دیہاڑی دار طبقہ ہے مطلب تازی دیہاڑی کرتے ہیں جو کبھی لگتی ہے اور کبھی خالی ہاتھ گھر واپس آنا پڑتا ہے جبکہ آٹا، دال، گھی اور چینی کی قیمتیں دیکھیں تو آسمان کو چھو رہی ہیں۔ اور اگر کسی غریب کا مکان اپنا نہ ہو تو چھوٹے سے چھوٹے گھر کا کرایہ بھی دس ہزار سے کم نہیں ہے لہذا اب ایسے میں جب مہنگائی کم ہونے کے بجائے دن بدن بڑھتی جارہی ہے ایک غریب مزدور دو ہزار امداد میں اشیاء خوردونوش، بجلی، گیس بل یا لکڑی کا خرچہ سمیت مکان کا کرایہ کیسے پورا کرے گا۔

    گفتگو کے آخر میں ملک کالو نے ایک لمبی آہ بھری اور بھیگی آنکھوں  کے ساتھ دیکھتے ہوئے سوالیہ نظروں سے کہا کہ؛ صاحب! آپ بتاو اب ایسے میں مجھ جیسا ایک غریب آدمی اپنے بچوں کو تعلیم کیسے دے سکتا ہے؟ اور صاف ظاہر ہے معاشی بدحالی کے سبب مختلف غریب خاندان بچوں کو کام پر محض اس لیے بھیجتے ہیں تاکہ دو وقت کی روٹی کے پیسے کما کر عزت سے اپنا پیٹ پال سکیں اور گھریلو نظام چلا سکیں۔

    محمد جواد تقریبا پانچ سال تک ایک پرائیویٹ ٹیلی کام کمپنی میں ملازمت کرتے رہے تاہم انہیں اپنے حقوق کی بات یعنی تنخواہ بڑھانے کا کہنے پر کمپنی سے نکال دیا گیا انہوں نے بتایا: مجھے ایک ٹیلی کام کمپنی میں پانچ سال قبل 2018 کی شروعات میں بڑی مشکل سے ماہانہ چودہ ہزار روپے پر ملازمت ملی چونکہ میں بے روزگار تھا اور ان دنوں گھر کے معاشی حالات بھی بدتر تھے تو میں نے ملازمت اختیار کرلی جس میں میرا کام ریٹیلر سیل آفیسر کا تھا اور صبح آٹھ بجے مجھے روزانہ دفتر پہنچنا پڑتا جہاں میں آٹھ گھنٹے سے نو گھنٹے کام کرتا تھا جبکہ شام چار سے پانچ بجے چھٹی کرنے کے بعد بھی میں اس کمپنی کا دن رات پابند تھا چونکہ مجھے کمپنی کی طرف سے ایک سم دی گئی تھی جس سے میں نے کمپنی کے مستقل صارفین کو رقم لوڈ کرنی ہوتی تھی اور اسکے بعد وصولی بھی میرے ذمہ تھی۔ اور یہ کام صرف دفتر اوقات میں نہیں ہوتا تھا بلکہ چاہے اتوار کی چھٹی کا دن ہی کیوں نہ ہو مجھے موبائل فون پر کمپنی کو کام کرکے دینا ہوتا تھا۔

    محمد جواد مزید بتاتے ہیں کہ: ایک دن لیبر کورٹ والوں نے چھاپہ مارنا تھا تو کمپنی منیجر نے فورا اللصبح مجھے بلاکر پورے اسٹاف کو پیغام بھجوایا کہ آپ لوگوں نے ان سے چودہ ہزار ماہانہ تنخواہ کا ذکر نہیں کرنا اور چونکہ ہم مجبور تھے تو ہمیں مجبورا حکومت کی طرف سے اس وقت کی مقرر کردہ تنخواہ پر دستخط کروا لیئے گئے۔ اسکے بعد میں نے اپنے منیجر سے کہا کہ اب آپ لوگ ہم سے حکومت کی مقرر کردہ ماہانہ اجرت پر دستخط کروا رہے جبکہ دے چودہ ہزار روپے رہے تو چلو اگر آپ وہ مقرر کردہ اجرت نہیں دیتے تو کم از کم کچھ تو ہماری تنخواہ بڑھا دو جسکے بعد انہوں نے کہا اگر کام کرنا ہے تو اسی تنخواہ پر کرو ورنہ آپ جاسکتے ہو۔ 

    جواد کے مطابق: "جب دوسری بار لیبر کورٹ والے آئے تو میں اور میرے ایک ساتھی وقار نے انہیں سب بتادیا جس پر کمپنی منیجر ہم پر بھڑک اٹھے اور ہمیں فارغ کردیا جبکہ لیبر کورٹ کے ساتھ بھی شائد انہوں نے کوئی مک مکا کرلیا یا رشوت دی وہ بھی چائے پی کر چلے گئے۔ ہم نے پہلے تو سوچا کہ دوبارہ لیبر کورٹ جائیں مگر پھر خیال آیا کہ جب ان کو موقع پر بتانے پر فائدہ کے بجائے نقصان ہوا تو پھر بعد میں کونسا فائدہ ہوگا۔ بالآخر میرے دوست وقار نے معذرت کرکے دوبارہ کام ماہانہ نو ہزار روپے اجرت پر شروع کردیا کیونکہ وہ انتہائی غریب گھر سے تھا اور اس کا کوئی اور ذرائع آمدن بھی نہ تھا مجھے معذرت سے انکار پر دوبارہ ملازمت پر نہیں رکھا گیا۔”

    یہ تو مزدور طبقہ سے تعلق رکھنے والے صرف دو آدمیوں کی کہانی ہے نہ جانے ایسے سینکڑوں مزدور نجی کمپنیوں، ہوٹلوں وغیرہ میں کس قدر ذلیل و خوار ہورہے ہونگے۔ میری ذاتی رائے میں اس ذلت کی اصل میں دو وجوہات ہیں ایک حکومتی سطح پر برتی جانے والی کوتاہی یا نظراندازی اور دوسرا پاکستان میں مزدور یونین کا متحرک نہ ہونا ہے۔ نمبر ایک بات یہ کہ اگر حکومت مزدور طبقہ بارے واقعی سنجیدہ ہے تو اسے سب سے پہلے ایسے نئے قوانین ناصرف بنانے بلکہ ان پر عملدرآمد کرانے کی سخت ضرورت ہے جن کے تحت عام مزدور کی داد رسی ہوسکے اور دوسری بات یہ کہ مزدوروں کو بھی چاہئے کہ وہ اپنی لیبر یونین بنائیں جو ان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائے اور ان کے حق کیلئے سرمایہ دار طبقہ اور اشرافیہ پر ڈباو ڈالے تاکہ وہ کسی مزدور کا حق نہ مار سکیں۔

    چند ماہ قبل کی خبر ہے کہ راولپنڈی تھانہ صدر بیرونی میں ایک والد نے پرچہ درج کرایا جسکے مطابق: ان کے بیٹے محمد ذیشان جو مستری تھا کو ٹھیکیدار دیان خان نے اجرت مانگنے پر دوران کام تیسری منزلہ بلڈنگ پر ڈنڈے سے مارنا شروع کردیا جس کے سبب وہ خوف سے نیچے گر کر بے ہوش ہوگیا بعدازاں انہیں اسپتال داخل کیا گیا تاہم وہ جاں بر نہ ہوسکا اور اسپتال میں ہی دم توڑ گیا تھا۔

  • عمران خان نے اتوار رات 9 بجےاحتجاج کی کال دے دی

    عمران خان نے اتوار رات 9 بجےاحتجاج کی کال دے دی

    اسلام آباد:پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کے بعد گیس کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے پرعوام کی پریشانی کوبھانپتے ہوئے چیئر مین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے اتوار رات 9 بجے احتجاج کی کال دے دی ہے۔

    پٹرولیم مصنوعات میں 59 روپے تک اضافہ کردیا گیا

    پی ٹی آئی ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر بات کرنا چاہتا ہوں، یہ اب تک پیٹرول کی قیمت میں 85 روپے اضافہ کر چکے ہیں، پیٹرول کی قیمتیں مزید بڑھیں گی۔

    پیٹرول کےبعد سی این جی کی قیمت میں بھی اضافہ

    عمران خان نے کہا ہے کہ بجلی ہم 16 روپے فی یونٹ چھوڑ کر گئے تھے، آج بجلی 29 روپے فی یونٹ ہو گئی جو مزید بڑھے گی، آٹے کا تھیلا ہماری حکومت میں 1100 کا تھا جو اب 1500 کا ہو گیا۔

    چیئر مین پاکستان تحریک انصاف نے کہا ہے کہ گھی کی قیمت بھی فی کلو 400 سے بڑھ کر 650 روپے کلو تک پہنچ گئی، جب ہم گئے تو پیٹرول 150 روپے فی لیٹر تھا، ہمارے ساڑھے 3 سالوں میں پیٹرول صرف50 روپے بڑھا تھا۔

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کے خلاف قرارداد اسمبلی میں جمع

    انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کوبھی پرامن احتجاج میں شرکت کی دعوت دے رہا ہوں، پر امن احتجاج کرنا ہمارا آئینی اورجمہوری حق ہے، قوم اتوارکی رات 9 بجے ملک گیراحتجاج کیلئے نکلے، اتوارکی رات 10بجے قوم سے مخاطب ہوں گا۔

  • پٹرول،ڈیزل،گیس کے بعد اب بجلی کی قیمت میں پھراضافہ کردیا گیا

    پٹرول،ڈیزل،گیس کے بعد اب بجلی کی قیمت میں پھراضافہ کردیا گیا

    اسلام آباد:پٹرول،ڈیزل،گیس کے بعد اب بجلی کی قیمت میں اضافے کی منظوری ،اطلاعات کے مطابق نیپرا نے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 1 روپے 55 پیسے اضافے کی منظوری دے دی۔

    نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے ڈسکوز کے مالی سال 2021-2022 کی دوسری سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی منظوری دے دی۔

    ڈسکوز نے نیپرا کو بجلی کی قیمتوں میں سہ ماہی ایڈجسٹمنٹس کی درخواست دی تھی جس پر اتھارٹی نے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کے بعد ڈسکوز کے صارفین کے لئے 1 روپیہ 55 پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری دے دی جو کہ جولائی 2022 سے لاگو ہو گی۔

    نیپرا نے کہا کہ اس ٹیرف کی ایڈجسٹمنٹ تین ماہ تک لاگو رہے گی اور اس کا اطلاق ڈسکوز کے تمام صارفین ماسوائے لائف لائن اور کے الیکٹرک صارفین پر ہوگا۔پاکستان اس وقت سخت مہنگائی کے دباومیں ہے اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ حکومت بجٹ خسارے پر قابو پانے کے لیے پٹرولیم مصنوعات کے ساتھ ساتھ گیس کی مصنوعات کی قیمتیں بھی بڑھا رہی ہے ، اس سلسلے میں‌ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد سی این جی کی قیمت بھی بڑھا دی گئی۔

     

    ہنگائی،غربت اور بیروزگاری،محنت کش بھوک مٹانےتھانہ پہنچ گیا،حوالات رہنے پر اصرار

    ذرائع کے مطابق سی این جی اسٹیشنز نے فی کلو قیمت میں 10 روپے اضافہ کردیا جس کے بعد خیبرپختونخوا میں سی این جی کی فی کلو قیمت 180 روپے ہوگئی۔دوسری طرف اس قیمت کے بڑھ جانے کےبعد عوام کی پریشانیوں میں بھی اضافہ ہوگیا ہے

    گیس کی بڑھتی ہوئی اور بے قابو قیمتوں سے پریشان ہوکر آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن کے رہنما غیاث پراچہ کا کہنا ہے کہ سی این جی اسٹیشنزمیں جنریٹر کے استعمال سے قیمت میں اضافہ کیا گیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ پیٹرول کی نسبت سی این جی اب بھی بہت سستی ہے۔

     

    شیخ رشید کی مہنگائی کیخلاف جماعت اسلامی اور عوامی تحریک کے احتجاج کی حمایت

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے گزشتہ روز پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا جس کے بعد عوام اور شوبز ستارے بھی شہباز حکومت کو تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں۔

    وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان گزشتہ رات کرتے ہوئے بتایا کہ پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 24.03 روپے اضافہ کیا جارہا ہے جب کہ ڈیزل پر 59.16 روپے، لائٹ ڈیزل آئل پر 39.16 روپے اور مٹی کے تیل کی قیمت میں 39.49 روپے فی لیٹر اضافہ کیا جارہا ہے۔

    ملک میں مہنگائی 23.98 فیصد کی بلند شرح پر پہنچ گئی

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد عوام کی جانب سے حکومت پر سخت تنقید کی جارہی ہے اور سوشل میڈیا صارفین بھی میمز بنا کر حکومت پر طنز کررہے ہیں۔

  • آسٹریلیا بھی توانائی بحران کا شکار:غیرضروری لائٹیں بندرکھنےکی اپیل

    آسٹریلیا بھی توانائی بحران کا شکار:غیرضروری لائٹیں بندرکھنےکی اپیل

    سڈنی:آسٹریلیا بھی توانائی بحران کا شکار:غیرضروری لائٹیں بندرکھنےکی اپیل،اطلاعات کےمطابق آسٹریلیا کے وزیر توانائی نے نیو ساؤتھ ویلز کے گھرانوں پر زور دیا ہے کہ اس وقت مُلک میں توانائی کا بحران بڑھتا جارہا ہے اورایسی صورت میں اپنے گھروں ، مارکیٹوں اوردیگرمقامات پرغیرضروری لائٹس کوبند رکھیں

    امریکہ بھی توانائی کے بحرانوں کی زد میں ، پٹرول کے بعد گیس کی قیمتیں آسمان کوچھونےلگیں

    ایک ایسا مُلک جس میں ملک کا سب سے بڑا شہر سڈنی بھی شامل ہے – ہروقت روشنیوں سے چمک دمک رہا ہوتا ہے لیکن اب اس کی گنجائش نہیں ہے کرس بوون کا کہنا ہے کہ لوگوں کو ہر شام دو گھنٹے تک بجلی کا استعمال نہیں کرنا چاہیے اگر ان کے پاس "کوئی انتخاب” ہو۔تاہم، انہوں نے مزید کہا کہ وہ "پراعتماد” ہیں کہ بلیک آؤٹ سے بچا جا سکتا ہے۔

    توانائی کی بچت،صوبوں کا بازار رات ساڑھے 8 بجے بند کرنے پراتفاق

    وزیرتوانائی کا کہنا تھا کہ یہ قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے آسٹریلیا کی مرکزی ہول سیل بجلی کی مارکیٹ کو معطل کرنے کے بعد آیا ہے۔مسٹر بوون نے نیو ساؤتھ ویلز میں رہنے والے لوگوں سے کہا کہ وہ زیادہ سے زیادہ بجلی کا تحفظ کریں۔

    انہوں نے کینبرا میں ایک ٹیلی ویژن میڈیا کانفرنس کے دوران کہا، "اگر آپ کے پاس کچھ چیزوں کو چلانے کا انتخاب ہے، تو انہیں 6 سے 8 شام میں نہ چلائیں۔”

    آسٹریلیا دنیا کے کوئلے اور مائع قدرتی گیس کے سب سے بڑے برآمد کنندگان میں سے ایک ہے لیکن گزشتہ ماہ سے بجلی کے بحران سے نبرد آزما ہے۔ ملک کی تین چوتھائی بجلی اب بھی کوئلے سے پیدا کی جاتی ہے۔ اس پر طویل عرصے سے یہ الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ وہ قابل تجدید ذرائع میں سرمایہ کاری کرکے اپنے اخراج کو کم کرنے کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کر رہا۔

    وفاقی وزیر توانائی کا3 اوقات میں گیس کی فراہمی کے بیان سے یوٹرن

    حالیہ ہفتوں میں، آسٹریلیا نے کوئلے کی سپلائی میں رکاوٹ، کوئلے سے چلنے والے کئی پاور پلانٹس میں بندش اور توانائی کی عالمی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کو محسوس کیا ہے۔

  • این اے 240: پولنگ کا عملہ غائب، نامعلوم افراد نے بیلٹ باکس توڑ دیے

    این اے 240: پولنگ کا عملہ غائب، نامعلوم افراد نے بیلٹ باکس توڑ دیے

    کراچی:کراچی کے حلقے این اے 240 ضمنی انتخاب کے دوران صورتحال کشیدہ ہوگئی، لانڈھی میں فائرنگ کے بعد پولنگ اسٹیشن نمبر 53 سے پولنگ کا عملہ بھاگ گیا، عملہ غائب ہونے پر نامعلوم افراد نے بیلٹ باکس توڑ دیے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ دو سے تین زخمیوں کو نجی اسپتال منتقل کیا گیا ہے، پانچ زخمیوں کو جناح اسپتال منتقل کیاگیا ہے جن میں سے ایک کا انتقال ہوا۔

    خیال رہے کہ یہ نشست ایم کیو ایم پاکستان کے رکن قومی اسمبلی اقبال محمد علی کے انتقال پر خالی ہوئی تھی۔ ضمنی الیکشن میں ایم کیو ایم پاکستان ، پاک سرزمین پارٹی و دیگر جماعتوں کے امیدوار میدان میں ہیں۔
    کراچی میں قومی اسمبلی کی نشست این اے 240 میں ضمنی الیکشن کے لیے پولنگ کا وقت ختم ہوگیا ہے اور اب ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔

    پولنگ کے دوران گورنمنٹ بوائزپرائمری اسکول انصاری محلہ یوسی 2 لانڈھی میں دوسیاسی جماعتوں میں تصادم ہوگیا، سیاسی جماعت کے کارکنوں کو منتشر کرنےکے لیے پولیس نے لاٹھی چارج کیا، جھگڑےکے باعث متعدد سیاسی کارکن زخمی ہوگئے، پولیس نے صورت حال پر قابوپالیا۔

    ادھر لانڈھی نمبر 5 زمان آباد میں پریزائیڈنگ آفیسر اور سیاسی جماعت کے کارکن کو پولیس نے گرفتارکرلیا، دونوں افراد کےخلاف جعلی ووٹ کاسٹ کرنے کی شکایت کی گئی تھی۔

    ریجنل الیکشن افسرکے مطابق پولنگ اسٹیشن نمبر 87 پر پولنگ بک کی مبینہ ہیر پھیر کا واقعہ سامنے آیا، واقعہ پریزائیڈنگ افسرکےدفتر میں پیش آیا، جہاں پولنگ بک رکھی تھی وہاں نامعلوم شخص آیا اور پولنگ بک کھڑکی سےکسی کو دینےکی کوشش کی، پولیس اہلکار نے اس شخص کو پکڑ لیا اورپولنگ بک لے لی۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق کراچی کے علاقے لانڈھی میں حلقہ این اے 240 کی خالی نشست پر پولنگ صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک جاری رہے گی جس میں 5 لاکھ 29 ہزار سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

    متحدہ قومی موومنٹ کے ابوبکر، مہاجر قومی موومنٹ کے رفیع الدین فیصل، پاک سرزمین پارٹی کے شبیر قائم خانی، پیپلز پارٹی کے ناصر لودھی اور تحریک لبیک کے کاشف قادری سمیت 25 امیدوار میدان میں ہیں جب کہ تحریک انصاف اور جماعت اسلامی مقابلے میں موجود نہیں۔

    حلقہ این اے 240 کی یہ نشست ایم کیو ایم پاکستان کے اقبال محمد علی خان کے انتقال سے خالی ہوئی تھی۔

    اس سے پہلے ٹی ایل پی کی طرف سے یہ دعویٰ کیا گیاتھا کہ لانڈھی گوشت مارکیٹ پولنگ اسٹیشن نمبر1 ایم کیو ایم کی جانب سے جعلی ووٹ ڈالے جا رہے ہیں، جس میں پریزائیڈنگ افسر بھی ملوث، ایک سیاسی جماعت کے کارکنان نے بیلٹ باکس پولنگ اسٹیشن سے باہر لے جانے کی کوشش ناکام بنا دی۔

    کراچی:حلقہ این اے 240 میں ضمنی الیکشن،پولنگ کا عمل شروع

    اس حوالے سے ٹی ایل پی کے ذرائع کا کہنا ہےکہ کراچی ضمنی الیکشن این اے 240 میں ٹی ایل پی ضلع جنوبی کے امیر علامہ سلطان مدنی نے ایم کیو ایم کے کارکن کو بیلٹ پیپرز چوری کرنے پر پولیس کے حوالے کیا ہے ، ٹی ایل پی ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ پریذائیڈنگ افسر کو بھی پولیس کے حوالے کیا گیا.

    ادھر اطلاعات کے مطابق کراچی میں قومی اسمبلی کی نشست این اے 240 میں ضمنی انتخاب کے لیے پولنگ جاری ہے۔

    اس حلقے میں پولنگ اسٹیشن نمبر 66 اور 67 پر ووٹنگ سست روی کا شکار ہے۔

    چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی پی ٹی آئی کی سب سے بڑی غلطی تھی،حماد اظہر

    پریذائیڈنگ آفیسر کے مطابق پولنگ اسٹیشن 66 اور 67 پر ووٹرز کی آمد کا سلسلہ سست ہے، امید ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ووٹرز کی آمد میں تیزی آئے گی۔این اے 240 کے ضمنی انتخاب کے سلسلے میں ڈی آر او ندیم حیدر نے مختلف پولنگ اسٹیشنز کا دورہ کیا اور انتظامات کا جائزہ لیا۔

    قومی اسمبلی کی نشست این اے240 پرضمنی انتخاب کاشیڈول جاری

    اس موقع پر ڈی آر او ندیم حیدر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس حلقے میں 203 پولنگ اسٹیشنز انتہائی حساس قرار دیے گئے ہیں، جہاں پولیس اور رینجرز تعینات کی گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے تمام پولنگ اسٹیشنز میں تیاریاں مکمل ہیں، جبکہ حکومت نے اس حلقے میں آج چھٹی کا اعلان کیا ہے۔

    الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق حلقے میں پولنگ کا عمل صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک جاری رہے گا۔
    قومی اسمبلی کے مذکورہ حلقے میں لانڈھی اور کورنگی کے علاقے شامل ہیں، تمام پولنگ اسٹیشنز کے اندر و باہر پولیس کی نفری تعینات کی گئی ہے۔ضمنی انتخاب کے لیے حلقے میں گزشتہ روز ہی پولنگ کا سامان پہنچا دیا گیا تھا۔

    حلقہ این اے 240 میں 5 لاکھ 29 ہزار سے زائد ووٹرز ہیں، 309 پولنگ اسٹیشنز اور 1236 پولنگ بوتھس قائم کیے گئے ہیں۔

    اس حلقے میں 106 پولنگ اسٹیشنز حساس قرار دیئے گئے ہیں۔انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنز اور 812 پولنگ بوتھس پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے ہیں۔

    حلقہ این اے 240 کی نشست ایم کیو ایم کے منتخب رکنِ قومی اسمبلی اقبال محمد علی کے انتقال سے خالی ہوئی تھی۔اس حلقے میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے 25 امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔

    https://twitter.com/WaqasJuttReal/status/1537335249264328706

    متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے امیدوار محمد ابوبکر اپنی جماعت کی نشست دوبارہ حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں جبکہ مہاجر قومی موومنٹ کے رفیع الدین فیصل اور پاک سر زمین پارٹی (پی ایس پی) کے شبیر قائم خانی ان کے مقابلے میں موجود ہیں۔

    قومی اسمبلی کی یہ نشست جیتنے کے لیے پیپلز پارٹی کے ناصر لودھی اور تحریکِ لبیک پاکستان کے کاشف قادری بھی ڈٹے ہوئے ہیں جبکہ تحریکِ انصاف اور جماعتِ اسلامی مقابلے میں شامل نہیں۔

  • پاکستان میں اقلیتوں کومذہبی آزادی ہے،عبدالخبیرآزاد،مشکور ہیں،سکھ ونت سنگھ

    پاکستان میں اقلیتوں کومذہبی آزادی ہے،عبدالخبیرآزاد،مشکور ہیں،سکھ ونت سنگھ

    سکھ مذہب کے گورو ارجن دیو جی کے شہیدی دن کی مرکزی تقریب”اکھنڈ بھوگ صاحب “ کا انعقاد کیا گیا.

    متروکہ وقف املاک بورڈ کے تحت گورودوارہ شری ڈیرہ صاحب میں منعقدہ تقریب میں چیئرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی مولانا سید عبدالخبیر آزاد اورچیئر مین حبیب الرحمن گیلانی نے بطور مہمان خصوصی شریک کی.

    تقریب کے شرکاءکا استقبال ایڈیشنل سیکرٹری شیرائنز رانا شاہد سلیم ، ڈپٹی سیکرٹری شیرائنز محمد عمران گوندل اورپاکستان سکھ گورودوارہ پربندھک کمیٹی کے پردھان سردار امیر سنگھ نے کیا

    تقریب میں سردار سکھ ونت سنگھ کی سربراہی میں بھارت سے آنے والا16 رکنی راگی گروپ اور144بھارتی سکھ یاتریوں سمیت پاکستان کے تمام صوبوں سے آنے والے نانک نام لیوا بھی تھے

    تقریب میں گورودوارہ شری ڈیرہ صاحب کے مہتمم سید اظہر، ترجمان بورڈ عامر ہاشمی،پی ایس جی پی سی کے ممبران، اور سکھ سنگتوں کے راہنماوں نے بھی شرکت کی.

    اس موقع پرچیئرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی مولانا سید عبدالخبیر آزاد نے کہا کہ دین اسلام میں اقلیتوں کے حقوق کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے، پاکستان میں بسنے والے غیر مسلموں کو مذہبی آزادی سمیت ہر شعبہ میں ترقی کے مواقع حاصل ہیں،حکومت پاکستان کی اقلیتوں کے لیے پالیسیاں روز روشن کی طرح سبھی پر عیاں ہیں،بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے بادشاہی مسجد کے پلیٹ فارم سے کام کا آغاز میرے والد گرامی نے شروع کیا.

    مولانا عبدالخبیر آزاد نے مزید کہا کہ دنیا کو درپیش چیلنجز کے تناظر میں بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ اور انسانیت کی تعظیم کے مشن پر کام کرنا ہم سب کا فرض ہونا چاہیے،چیئر مین متروکہ وقف املاک بورڈ حبیب الرحمن گیلانی نے کہا کہ پاکستان ایک گلد ستے کی مانند ہے،پاکستانی جھنڈے میں سفید رنگ اقلیتوں کی نمائندگی کرتا ہے،پاکستان میں بسنے والے غیر مسلم شہریوں کو آئین میں دئیے گئے تمام حقوق حاصل ہیں،

    چیئر مین متروکہ وقف املاک بورڈ کا کہنا تھا کہ ہم بھارت سمیت دنیا بھر سے آنے والے سکھ اور ہندو مذہب کے پیروکاروں کو خوش آمدید کہتے آئے ہیں اور کہتے رہیں گے ، خواہش ہے کہ ہمسایہ ملک بھارت سے زیادہ سے زیادہ سکھ یاتری پاکستان آئیں اور اپنے مقدس مقامات پر ماتھا ٹیکیں، اور مذہبی رسومات ادا کریں.

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سردار سکھ مندرسنگھ نے کہا کہ پاکستان ہمارا دوسرا گھر، یہاں جو محبت اور مان ملا، وہ الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں،بلا شبہ پاکستان میں سکھ مذہب کے مذہبی استھانوں کی بہتر انداز میں دیکھ بھال کی جاتی ہے، جس پر متروکہ وقف املاک بورڈ، حکومت پاکستان کے مشکور ہیں.

    دوران کے تقریب جو بولے سو نہال، ست سری اکال، سکھ مسلم دوستی زندہ باد، پاکستان زندہ باد کے نعرے بھی لگائے گئے. پاکستان سکھ گورودوارہ پربندھک کمیٹی اور متروکہ وقف املاک بورڈ حکام کی جانب سے مہمانوں کو سروپے اور تحائف بھی پیش کئے گئے.

    مزید برآں متروکہ وقف املاک بورڈ کا ناجائز قابضین کے خلاف بھر پور آپریشن اڑھائی ارب روپے سے زیادہ کی مالیت کی 180دکانیں سیل کرتے ہوئے قبضہ حاصل کر لیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق بورڈ کے راولپنڈی آفس نے رالپنڈی میں باڑہ مارکیٹ کے ساتھ واقع کیانی مارکیٹ میں موجود اڑھائی ارب روپے سے زیادہ مالیت کی 180دکانیں ناجائز قابضین سے واگزار کروا لی گئیں۔ڈپٹی ایڈمنسٹریٹر راولپنڈی محمد آصف خان کی سربراہی میں بورڈ کے عملہ سمیت اسسٹنٹ کمشنر راولپنڈی اور مقامی پولیس و انتظامیہ کی بھاری نفری نے آپریشن میں حصہ لیا۔

    آصف خان نے بتایا کہ یہ پراپرٹی متروکہ وقف املاک بورڈ کی ملکیت ہے جس پر گزشتہ کئی سالوں نے قابضین نے اس پر ناجائز قبضہ جما رکھا تھا اور اب عدالت عالیہ کے حکم پر ان کے خلاف بمطابق قانون کاروائی کی گئی ہے،انکا مزید کہنا ہے کہ دکانوں کو سیل کر کے انکا قبضہ حاصل کر لیا گیااور انکے خلاف مزید قانون کاروائی عمل میں لائی جا ئے گی۔اس کاروائی پر بورڈ چیئرمین نے متعلقہ سٹاف اورعملہ کی کارکرگی کو سراہا ہے۔

  • پاکستان عالمی طاقتوں کے مابین ایک پل کا کردار ادا کر سکتا ہے،بلاول بھٹو

    پاکستان عالمی طاقتوں کے مابین ایک پل کا کردار ادا کر سکتا ہے،بلاول بھٹو

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ ابھی بھی پاکستان عالمی طاقتوں کے مابین ایک پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈی اسلام آباد کی تقریب سے خطاب کرتے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پاکستانی دنیا کے ہر خطے میں موجود ہیں اور دنیا کی بہترین یونیورسٹیز میں زیرتعلیم ہیں، نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں میں مصروف عمل رکھنے کےلیے کام کر رہےہیں، پاکستانیوں میں صلاحیت ہے وہ دنیا میں کہیں بھی کا م کرسکتے ہیں، نوجوانواں کے لیے ترقی کے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

    عمران خان اپنی کارکردگی سے متعلق کوئی بات نہیں کرتے ،انکا رونا صرف یہ ہے حکومت سے کیوں نکالا،خواجہ…

    وزیر خارجہ نے کہا کہ 1970 کی دہائی میں انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈی کی بنیاذوالفقار علی بھٹو نے رکھی، پاکستانی دنیا کے ہر خطے میں موجود ہیں او دنیا کی بہترین یونیورسٹیز میں زیر تعلیم ہیں، وزارت خارجہ کے حکام کو ادارے کے ساتھ رابطے میں رہنا چاہیے،پاکستان کی خارجہ پالیسی بدقسمتی سے جدید دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں۔

    ہم چین کے تجارتی اقتصادی تعاون کو بڑھائیں گے، پاکستان کی آبادی صرف یہاں محدود نہیں، دنیا کے ہر کونے میں پاکستانی موجود ہیں، خارجہ پالیسی کا براہ راست اثر ہر پاکستانی کی زندگی پر مرتب ہوتا ہے، پاکستان امریکہ اور چین سفارتی تعلقات کے قیام میں پل کا کردار ادا کر چکا ہے، ابھی بھی پاکستان عالمی طاقتوں کے مابین ایک پل کا کردار ادا کر سکتا ہے ہم معاشی ترقی کے لیے امریکا ساتھ بھی انگیج منٹ چاہتے ہیں عالمی طاقتوں امریکا اور چین کے درمیان اقتصادی انگیجمنٹس کی بنا پر یہ قضیہ اتنا نہیں بڑھا جتنا بڑھ سکتا تھا۔ ہمیں ان اقتصادی انگیجمنٹس کو اتنا بڑھانا ہو گا کہ ہم ان کی خارجہ پالیسی اور پالیسی سازوں کو متاثر کر سکیں۔ اس طرح سے ہم جارح کو بے نقاب کر سکتے ہیں۔

    بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ اسلاموفوبیا کی مہم خطرناک حد کو چھونے لگی ہے۔ بی جے پی رہنماؤں کے بیانات نے بھارت میں تشدد کو ہوا دی ہے وہاں ہندووتوا ذہنیت پنپ رہی ہے محترمہ بے نظیر شہید کے دور میں بھارت سے معاشی انگیجمنٹ مضبوط تھی۔ ہمیں بھارت کے ساتھ اقتصادی انگیجمنٹس بڑھانا ہوں گی ہم پسند کریں یا نہیں بھارت ہمارا ہمسایہ ملک ہے-

    بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم پاکستانی اس وقت انسانیت کے ایک مشکل ترین دوراہے پر کھڑے ہیں۔ ماحولیاتی تبدیلیوں کا اتنا سنجیدہ چیلنج ہے کہ کوئی پاکستانی اس کا انکار نہیں کر سکتا ہمیں اس وقت کووڈ کے باعث سپلائی چین کے براہ راست اثرات کا سامنا ہے۔یوکرائن کی جنگ کا ہر پاکستانی کی زندگی پر براہ راست اثر پڑا ہے یہ وقت ہے کہ اس وقت اقتصادی سفارت کاری پر توجہ دی جاے اور انگیج کیا جائے۔ افغانستان خود تاریخ کے مشکل دوراہے پر موجود ہے پاکستان کے ہر طرف بحرانوں کا انبار ہے۔

    تگڑا شو کرنےلگا ہوں ،بتاؤں گا نہیں،پاکستان کے لیےسب نے میرے ساتھ آنا ہے ،عمران خان

  • عمران خان اپنی کارکردگی سے متعلق کوئی  بات نہیں کرتے ،انکا رونا صرف یہ ہے حکومت سے کیوں نکالا،خواجہ آصف

    عمران خان اپنی کارکردگی سے متعلق کوئی بات نہیں کرتے ،انکا رونا صرف یہ ہے حکومت سے کیوں نکالا،خواجہ آصف

    وزیردفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ عمران خان اپنی کارکردگی سے متعلق کوئی بات نہیں کرتے.مہنگائی صرف پاکستان میں نہیں پوری دنیا میں ہے-

    باغی ٹی وی : وزیردفاع خواجہ آصف ماضی میں عوام کے لیے کچھ نہیں کیا گیا ،روس یوکرین جنگ کی وجہ سے پیٹرول او ر گیس کی قیمتیں اوپر گئیں،عمران خان اپنی کارکردگی سے متعلق کوئی بات نہیں کرتے ،مہنگائی صرف پاکستان میں نہیں پوری دنیا میں ہے،عمرا ن خان کےدور میں ریکارڈ قرضے لیے گئے،عمران خان کہتے ہیں ان کے خلاف سازش ہوئی جس میں ادارے شامل ہیں ،توانائی بحران سے نمٹنے کے لیے ہمیں شمسی توانائی سے بجلی کی پیداوار پر کام کرنا ہوگا-

    30سال میں ہماری معاشی پالیسی سب سے بہتر تھی،عمران خان

    خواجہ آف نے کہا کہ ہمیں پیٹرول کی قیمت پھر بڑھانا پڑی کیونکہ معیشت کھنڈرات کی صورت ملی،متحدہ عرب امارات اور ہماری پیٹرول کی قیمت اس وقت بھی برابر ہے،آئی ایم ایف معاہدے میں شرائط پی ٹی آئی کی لگائی ہوئی تھیں ،عمران خان کا رونا صرف یہ ہے کہ ان کو حکومت سے کیوں نکالا گیا،جو قیمتیں وہ چھوڑ کے گئے ان کے ساتھ رہنا دشوار ہوا،ہماری مارکیٹس رات ایک بجے تک کھلی ہوتی ہیں ،دنیا میں یہ کہیں نہیں ہوتا، کراچی کے علاو ہ باقی شہر اپنے اوقات پر نظر ثانی کریں تو 4 ہزارمیگاواٹ بجلی بچ سکتی ہے،دنیابھرمیں ساڑھے 6 بجےمارکیٹیں بندہوتی ہیں،ملک کومعاشی بحران سےنکالنےکیلئےسب کومل کرکام کرناہوگا،ہمیں پانی،بجلی،گیس کےاستعمال میں کفایت شعاری کرناہوگی-

    قمر زمان کائرہ نے کہا کہ اس وقت ہمارا انحصار اور سہارا صرف عوام ہیں،مشکل فیصلے کرنے کے علاوہ ہمارے پاس کوئی آپشن نہیں –

    پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا تاریخی کارنامہ،گردوں کی 83سالہ مریضہ کو بنا کنٹراسٹ انجکشن کے…

    وزیرمملکت پیٹرولیم ڈویژن مصدق ملک نے کہا کہ عمران خان نے فیصلہ کیا اور بارودی سرنگ بچھائی، کسی کابینہ یا ای سی سی میں سائن نہیں کیا گیا، عمران خان قیمت نہیں بڑھاتےتوسرکاری خزانے پر 100 ارب سے 130 ارب تک بوجھ بڑھتا،عمران خان نے 1500 سے 1200ارب روپے کی سبسڈی دی ،پورے دفاعی اخراجات 1500 ارب روپے ہیں،ہمارے سخت فیصلوں کے ذمہ دار عمران خان ہیں ،بڑی استقامت کے ساتھ مشکل فیصلے کر کے اس بحران سے نکلیں گے،عمران خان نےپیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہ بڑھانےکاسیاسی فیصلہ کیا،آج گیس کی مد میں 1400 ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہ بڑھاکرخزانےپربوجھ ڈالاگیا-

    سینیٹ کا اجلاس:اپوزیشن کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر ایوان سے واک آؤٹ

    وفاقی وزیر مواصلات اسعد محمود نے کہا کہ ہنگامی بنیادوں پر معاشی معاملات سے متعلق کام کررہے ہیں ،ہمیں یقین ہے کہ ہم جلد ان حالات سے نکل جائیں گے،میثاق معیشت کی دعوت بھی دیتے رہے، بوجھل دل کے ساتھ بیٹھے ہیں ،ہم کوشش کریں گے کہ تاجر برادری کوبھی اعتماد میں لیں ،بجلی بحران سے نجات دینے کی پوری کوشش کریں گے-

    حالات کی سنگینی پر میں عنقریب سپریم کورٹ جا سکتا ہوں ،شیخ رشید