Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • پولیس سیکیورٹی پلان کو ہرلحاظ سے ٹھوس اورغیرمعمولی بنانا ہے:آئی جی سندھ

    پولیس سیکیورٹی پلان کو ہرلحاظ سے ٹھوس اورغیرمعمولی بنانا ہے:آئی جی سندھ

    کراچی :آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے کہا ہے کہ پولیس سیکیورٹی پلان کو ہر لحاظ سے ٹھوس اور غیرمعمولی بنانا ہے۔تفصیلات کے مطابق چائنا قونصل جنرل کی 13 رکنی وفد کے ساتھ آئی جی سندھ نے ملاقات کی ہے۔

    اطلاعات کے مطابق آج قونصل جنرل چائنا Li Bijian نے 13 رکنی وفد کے ساتھ آئی جی سندھ غلام نبی میمن سے سنٹرل پولیس آفس کراچی میں ملاقات کی اور باہمی دلچسپی کے امور سمیت صوبہ سندھ میں جاری مختلف ترقیاتی پروجیکٹس،سی پیک روٹ سے وابستہ چائنیز باشندگان ماہرین اور دیگر اسٹاف کے حفاظتی اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

    آئی جی سندھ نے قونصل جنرل چائنا کی سنٹرل پولیس آمد پر انکا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ پولیس امن وامان کی صورتحال پر مکمل کنٹرول اور عوام کے جان ومال کے تحفظ جیسی ذمہ داریوں میں ناصرف ہمہ وقت مستعد اور الرٹ ہے بلکہ سیکیورٹی حکمت عملی اور لائحہ عمل میں وقتاً فوقتاً مشاورت اور تجاویز کے عمل پر بھی فوکس رکھے ہوئے ہے جسکا مقصد پولیس سیکیورٹی پلان کو ہر لحاظ سے ٹھوس اور غیرمعمولی بنانا ہے۔

    ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی نے وفد کو کراچی یونیورسٹی دہشت گردانہ حملے کے کیس پر بریفنگ دی اور ابتک کی پیش رفت سے آگاہ کیا جبکہ ڈی آئی جی ایس پی یو/سی پیک نے چائنا پاکستان اقتصادی راہداری پر سیکیورٹی کے جملہ امورسے بھی تفصیلی آگاہی دی۔اس موقع پر قونصل جنرل چائنا نے صوبے میں جاری سیکیورٹی کے مجموعی اقدامات پر حکومت چائنا کی جانب سے سندھ پولیس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حکومت چائنا کا سندھ پولیس کے ساتھ تعاون جاری رہیگا۔

    ملاقات کے موقع پر ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی،ڈی آئی جی ہیڈکوارٹرزسندھ،ڈی آئی جی ایس پی یو/سی پیک،ڈی آئی جی آئی ٹی،ڈی آئی جی سی آئی اے،ایس پی فارنرز سیکیورٹی سیل کے علاوہ اے آئی جی آپریشنز سندھ اور اے آئی جی ایڈمن سی پی او اور سی ٹی ڈی کے افسران بھی موجود تھے۔

  • پی سی بی نےسینٹرل کنٹریکٹ کا اعلان کردیا

    پی سی بی نےسینٹرل کنٹریکٹ کا اعلان کردیا

    لاہور:پی سی بی نےسینٹرل کنٹریکٹ کا اعلان کردیا،اطلاعات کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ ( پی سی بی) نے سینٹرل کنٹریکٹ 23-2022 کا اعلان کر دیا جس کا اطلاق یکم جولائی سے ہو گا۔

    پی سی بی کے نئے سینٹرل کنٹریکٹ میں مجموعی طور پر 33 کھلاڑیوں کو شامل کیا گیا ہے جبکہ کپتان سمیت 5 کھلاڑیوں کو ریڈ اور وائٹ بال دونوں فارمیٹ کے کنٹریکٹ مل گئے ہیں۔

    10 کھلاڑیوں کو صرف ریڈ بال کنٹریکٹ دیا گیا ہے اور 11 کھلاڑیوں کو صرف وائٹ بال کنٹریکٹ ملا ہے۔ ڈومیسٹک کرکٹ میں اچھی کارکردگی والے 7 کھلاڑی ایمرجنگ کیٹگری کا حصہ ہیں جبکہ اظہر علی ریڈ بال کنٹریکٹ کی اے اور فواد عالم بی کٹیگری میں شامل ہیں۔

    چیف سلیکٹر محمد وسیم نے کہا کہ سینٹرل کنٹریکٹس میں 12 ماہ کی کارکردگی کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ بابر اعظم، محمد رضوان اور شاہین شاہ آفریدی ریڈ اینڈ وائٹ دونوں کی اے کیٹیگری میں شامل ہیں اور اکٹھے کنٹریکٹس سے چند کھلاڑیوں کو اہمیت نہیں دی جاتی۔ ریڈ اور وائٹ بال میں فارمیٹ کو ترجیح دی جائے گی۔

    اظہر علی ریڈ بال کنٹریکٹ کی اے اور فواد عالم بی کٹیگری میں شامل ہیں۔ عبداللہ شفیق، نسیم شاہ اور نعمان علی ریڈ بال کی سی کٹیگری کا حصہ ہیں جبکہ ڈی کٹیگری میں عابد علی، سرفراز احمد، سعود شکیل، شان مسعود اور یاسر شاہ شامل ہیں۔

    فخر زمان اور شاداب خان وائیٹ بال کنٹریکٹ کی کٹیگری اے میں شامل ہیں اور حارث رؤف بی اور محمد نواز کٹیگری سی کا حصہ ہیں۔ آصف علی، حیدر علی، خوشدل شاہ، محمد وسیم جونیئر کٹیگری ڈی میں شامل ہیں اور شاہنواز دھانی، زاہد محمود اور عثمان قادر بھی کٹیگری ڈی میں شامل ہیں۔علی عثمان، حسیب اللہ، کامران غلام، محمد حارث، محمد حریرہ، قاسم اکرم اور سلمان علی آغا ایمرجنگ کنٹریکٹ کا حصہ ہوں گے۔

  • ایران اور قطر کے وزراء خارجہ کے درمیان بات چیت:سعودی عرب بھی متحرک

    ایران اور قطر کے وزراء خارجہ کے درمیان بات چیت:سعودی عرب بھی متحرک

    دوحہ:ایران اور قطر کے وزراء خارجہ کے درمیان بات چیت:سعودی عرب بھی متحرک ،اطلاعات ہیں کہ دوحہ مذاکرات اصل میں سعودی عرب کی خواہش کے مطابق ہورہےہیں اوراس کا مقصد ایران اور سعودی عرب کے درمیان حالات کومعمول پرلانا ہے ، ادھر اس سلسلے میں یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ اسلامی جمہوریہ ایران اور ان کے قطری ہم منصب نے ہونے والی ٹیلی فونی گفتگو کے دوران دوحہ مذاکرات سمیت باہمی اور علاقائی مسائل پر بات چیت کی۔

    قطر کے محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ ملک کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ "محمد بن عبدالرحمن آل ثانی” اور وزیر خارجہ ایران "حسین امیر عبداللہیان” نے گزشتہ شب ٹیلی فونی گفتگو کے دوران باہمی اور علاقائی مسائل سمیت ایران جوہری مذاکرات پر بات چیت کی۔ یہ ٹیلی فونی گفتگو ایسے وقت ہوئی ہے کہ جب دوحہ میں پابندیوں کے خاتمے اور ایٹمی معاہدے کے حوالے سے مذاکرات کا نیا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔

    ایران کے نائب وزیر خارجہ علی باقری کنی نے بدھ کی صبح کو قطر کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سے ایک ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور علاقائی تبدیلیوں پر گفتگو کی۔

    علی باقری کنی نے دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات کو تہران-دوحہ کے درمیان تعلقات کے لیے ایک قیمتی سرمایہ قرار دیا گیا ہے کہ ان کا ملک قطر سے تعاون کے لیے پُرعزم ہے۔

    دریں اثناء قطری وزیر خارجہ نے ایرانی صدر اور امیر دونوں ممالک کے درمیان متعدد دوروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کے باہمی تعلقات کو بڑھانے میں ایران اور قطر کے صوبے پختہ عزم کا اظہار کیا۔

    ایران کے اعلی مذاکرات کار نے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر قطر کی تعمیر کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ دوحہ میں رضامندی کی منسوخی پر بات چیت کی میزبانی اور بات چیت کے فروغ کے لیے قطر کی نیک نیتی ظاہر کرتی ہے۔

  • پاکستان کی جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کیلئے 20 رکنی  ٹیم کا اعلان

    پاکستان کی جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کیلئے 20 رکنی ٹیم کا اعلان

    پاکستان کی جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کےلیے20رکنی ٹیم کا اعلان کر دیا گیا-

    باغی ٹی وی : پاکستان کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر محمد وسیم نے 20 رکنی ٹیم کا اعلان کیا انہوں نے بتایا کہ بابر اعظم کپتان اور محمد رضوان نائب کپتان ہوں گے شاہین شاہ آفریدی ریڈ اینڈ وائٹ دونوں کی اے کیٹیگری میں شامل ہیں اور اکٹھے کنٹریکٹس سے چند کھلاڑیوں کو اہمیت نہیں دی جاتی ریڈ اور وائٹ بال میں فارمیٹ کو ترجیح دی جائے گی۔

    ٹی ٹوئنٹی میچز کی میزبانی لاہور اور کراچی کو ملنے کا امکان:ذرائع

    انہوں نے کہا کہ فاسٹ باؤلر محمد عباس ٹیم میں جگہ نہ بنا سکے جبکہ حارث سہیل اور شان مسعود کو جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز سے ڈراپ کیاگیا ہےامام الحق ابھی ریڈ بال کرکٹ کےلیے تیار نہیں ہیں ریڈبال اوروائٹ بال دونوں فارمیٹ کوترجیح دی گئی ہےسینٹرل کنٹریکٹس میں 12 ماہ کی کارکردگی کو مدنظر رکھا گیا ہے ہمارا کیلنڈر مصروف جا رہا ہے اور دو الگ کنٹریکٹس ہوں گے۔ ریڈ بال اسکواڈ اور وائٹ الگ الگ ہو گا۔


    چیف سلیکٹر نے کہا کہ ریڈ اور وائٹ بال کیٹگری میں مجموعی طور پر 33 کھلاڑی شامل ہیں۔ کپتان سمیت 5 کھلاڑیوں کو ریڈ اور وائٹ بال کنٹریکٹ مل گئے ہیں 10 کھلاڑیوں کو ریڈ بال کنٹریکٹ دیا گیا ہے اور 11 کھلاڑیوں کو وائٹ بال کنٹریکٹ ملا ہے۔

    ون ڈے باؤلنگ رینکنگ میں شاہین شاہ آفریدی کی ایک درجہ ترقی

    انہوں نے کہا کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں اچھی کارکردگی والے 7 کھلاڑی ایمرجنگ کیٹگری کا حصہ ہیں جبکہ اظہر علی ریڈ بال کنٹریکٹ کی اے اور فواد عالم بی کٹیگری میں شامل ہیں ،عبداللہ شفیق، نسیم شاہ اور نعمان علی ریڈ بال کی سی کٹیگری کا حصہ ہیں –

    چیف سیلیکٹر نے کہا کہ ڈی کٹیگری میں عابد علی، سرفراز احمد، سعود شکیل، شان مسعود اور یاسر شاہ شامل ہیں فخر زمان اور شاداب خان وائیٹ بال کنٹریکٹ کی کٹیگری اے میں شامل ہیں اور حارث رؤف بی اور محمد نواز کٹیگری سی کا حصہ ہیں۔

    محمدوسیم نے کہا کہ آصف علی، حیدر علی، خوشدل شاہ، محمد وسیم جونیئر، شاہنواز دھانی، زاہد محمود اور عثمان قادر کٹیگری ڈی میں شامل ہیں۔علی عثمان، حسیب اللہ،کامران غلام،محمد حارث ،محمد حریرہ، قاسم اکرم اور سلمان علی آغا ایمرجنگ کنٹریکٹ کا حصہ ہوں گے۔

    سہ فریقی ٹی ٹونٹی سیریز کے شیڈول کا اعلان

  • پاکستان کے نامورمصور "صادقین” کا یومِ پیدائش منایا جا رہا ہے

    پاکستان کے نامورمصور "صادقین” کا یومِ پیدائش منایا جا رہا ہے

    پاکستان کے نامور مصور "صادقین” کا یومِ پیدائش منایا جا رہا ہے-

    باغی ٹی وی : صادقین کا پورا نام سید صادقین حسین نقوی تھا . خطاطی ان کا خاندانی فن تھا، سادات امروہہ کے جس گھرانے میں انہوں نے 30 جون 1930ء کوآنکھ کھولی وہ فنِ خطاطی کےحوالےسے پہچانا جاتا تھاصادقین کی ابتدائی تعلیم امروہہ میں ہی ہوئی، پھرآگرہ یونیورسٹی سے بی اے کیا اور جب ہندوستان کی تقسیم عمل میں آئی تو وہ اپنے خاندان کے ہمراہ کراچی آگئے۔

    طالب علمی کے زمانے ہی سے صادقین گھروں کی دیواروں پر نقاشی، تصویر کشی اور خطاطی کیا کرتے تھے۔ چوبیس برس کی عمر میں صادقین کے فن پاروں کی پہلی نمائش کوئٹہ میں ہوئی۔ 1960ء میں صادقین کی فنی صلاحیتوں کے اعتراف میں انہیں تمغہ امتیاز سے نوازا گیا۔ اکتیس برس کی عمر میں صادقین کو فرانس کے اعلیٰ سول اعزاز کا حقدار قراردیا گیا۔

    صادقین کی وجہ شہرت فن مصوری کے کسی ایک شعبے میں کمال دکھانے کے باعث نہیں تھی بلکہ انہوں نے مصوری کے کئی شعبوں میں ایسے کمالات دکھائے ہیں کہ اب شاید ہی کوئی ان کی جگہ اس قدر ہمہ جہت انداز میں اپنا فن پیش کرسکے۔ صادقین نے سینکڑوں فن پارے تخلیق کیے اور ان میں سے زیادہ تر اپنے مداحوں کو بطور تحفہ عنایت کردیے۔ صادقین کی تخلیقات کی مشرق وسطیٰ، امریکا اور یورپ میں کامیاب نمائشیں ہوئیں۔

    1970ء میں انہوں نے سورۂ رحمن کی آیات کو انتہائی دلکش انداز میں پینٹ کیا اور مصورانہ خطاطی کے ایک نئے دبستان کی بنیاد ڈالی۔

    صادقین کے دوستوں کا کہنا تھا کہ اکثر فنکاروں کی طرح صادقین کی شخصیت میں یکسر مختلف اور متضاد رنگ موجود تھے۔ اٹھائیس فروری 2002ء کو موہٹّا پیلس میوزیم، کراچی میں ڈان میڈیا گروپ کے سربراہ حمید ہارون کے زیرانتظام صادقین کے فن پاروں کی نمائش منعقد کی گئی تھی، جس میں صادقین کے دو سو سے زائد نایاب شاہکار پیش کیے گئے۔

    اس نمائش کے ذریعے صادقین کے اندر چھپا وہ ہمہ جہت فنکار سامنے آسکا جو شاید فوجی آمر ضیاءالحق کی اسلامائزیشن کے نام پر فنون لطیفہ کو تباہ کرنے کی پالیسی کی بناء پر محض خطاطی کے دامن میں پناہ لینے پر مجبور ہوگیا تھا۔ مذکورہ نمائش کے منتظمین نے بطور خاص یہ کوشش کی تھی کہ عام لوگ چونکہ صادقین کو صرف اسلامی خطاطی کے حوالے سے جانتے ہیں، اس لیے خطاطی کے فن پاروں کے بجائے صادقین کے فن کے اس شاندار رُخ کو عام لوگوں کے سامنے پیش کیا جائے جو کہیں چھُپ گیا ہے۔ دو ہفتے جاری رہنے والی اس نمائش کو چھیاسی ہزار افراد نے دیکھا، جو صادقین کی مقبولیت کی ایک بہت بڑی دلیل ہے۔

    خود صادقین بھی خطاطی سے کہیں زیادہ مصوری کی دیگر جہتوں میں کیے گئے کام کو اہمیت دیتے تھے۔ ایک مرتبہ صادقین سے کسی نے پوچھا کہ کیا قرآنی آیات کی خطاطی کی وجہ سے انہیں اسلامی مصور کہا جا سکتا ہے؟ صادقین نے اختلاف کرتے ہوئے جواب دیا تھا کہ میرا اصل فن مصوری یعنی تصویریں بنانا ہے اور میری خطاطی بھی میری مصوری کے ہی زیرِ اثر ہے۔

    صادقین انڈیا گئے تو انہوں نے ایک بڑا عرصہ دہلی میں گزارا۔ ہندوستانی حکومت نے انہیں مکمل پروٹوکول کے ساتھ ان کے آبائی شہر امروہہ لے جانے کا اہتمام کیا۔ ایسا لگتا تھا کہ جیسے پورا شہر ہی ان کے استقبال کے لیے اُمڈ آیا ہو۔ انہیں ہاتھی پر بٹھا کر جلوس کی شکل میں ان کے آبائی گھر لے جایا گیا۔ اُس وقت کی ہندوستانی وزیرِاعظم اندرا گاندھی کی طرف سے اس گھر کی چابیاں بطورِ تحفہ پیش کی گئیں۔

    صادقین نے چابیاں یہ کہتے ہوئے واپس کر دیں کہ ‘میں اس گھر کو امروہہ کے باسیوں کی نذر کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ وہ یہاں ایک کتب خانہ قائم کریں گے۔’

    صادقین اپنے فن پاروں میں میورالز کو بہت اہمیت دیتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ میورالز بناتے ہوئے انہیں کچھ ایسا محسوس ہوا کرتا کہ وہ ان مناظرمیں اور ان لوگوں میں جن کی وہ تصویریں بنا رہے ہوتے ، گویا وہ ان کے چاروں اور زندہ ہیں اور وہ ان میں سانس لے رہے ہیں۔

    صادقین نے اپنا پہلا میورل کراچی ایئر پورٹ پر بنایا، کراچی میں جناح ہسپتال اور منگلا ڈیم کے علاوہ سینڑل ایکسائز لینڈ، کمشنر کلب اور سروسز کلب کی دیواروں پر موجود شاہکار صادقین کی تخلیقات کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ 1961ء میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کراچی کی لائبریری میں وقت کے خزانے کے نام سے شاندار میورل تخلیق کیا، اس عظیم الشان فن پارے میں انہوں نے سقراط سے لے کر آئن اسٹائن تک ہر عہد کے علمی اور سائنسی ارتقائی ادوار کو اس قدر مہارت اور خوبصورتی سے پیش کیا ہے کہ دیکھنے والا مبہوت ہوکر رہ جاتا ہے۔

    غالب کی صدسالہ برسی کے موقع پر 1969ء میں صادقین نے کلام غالب پر پچاس وسیع وعریض اللسٹریشنز تیار کیں۔

    صادقین کو کئی ملکی غیر ملکی ایوارڈز، انعامات اور اعزازات سے نوازا گیا۔ ان کے شاہکار ‘The Last Supper’ نے سب سے زیادہ شہرت حاصل کی۔

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان، منگلا ڈیم پاور ہاؤس، لاہور میوزیم، علیگڑھ مسلم یونیورسٹی، بنارس ہندو یونیورسٹی، جیولوجیکل انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا، فریئر ہال کراچی، ابو ظہبی پاور ہاؤس اور پنجاب یونیورسٹی جیسی اہم عمارتوں کے علاوہ بالخصوص پیرس کے مشہور زمانہ شانزے لیزے میں صادقین کے منقش فن پارے آنے والی نسلوں کو صادقین کی فنی عظمت کی یاد دلاتے رہیں گے۔

    بھرپور ستائش ملنے کے باوجود صادقین دنیا کی بھیڑ میں گم ہونے کے بجائے اپنے فن کی دنیا میں ہی رات دن مگن رہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے دنیا اس جوہر نایاب کو صحیح معنوں میں پہچان نہ سکی، وہ جانتے تھے کہ وہ دنیا کو کیا دے رہے ہیں، لیکن ان کے ہم وطنوں کی بڑی تعداد ان کی صلاحیتوں سے بے خبر رہی۔

    شاید بہت کم لوگوں کو یہ علم ہو کہ صادقین بہت اچھے شاعر بھی تھے، ان کی رباعیات بھی اسی قدر کمال کی ہیں جس قدر کہ ان کی مصوری کے شاہکار کمال کا درجہ رکھتے ہیں۔ ان کی رباعیات پر مشتمل دو کتابیں ‘رباعیاتِ صادقین خطّاط’ اور ‘رباعیاتِ صادقین نقّاش’ شائع ہوچکی ہیں۔

    صادقین کا انتقال 10 فروری 1987ء کو کراچی میں ہوا۔ انہیں سخی حسن قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا، لیکن ان کا فن انہیں ہمیشہ زندہ رکھے گا۔

  • چین پاکستان کی خوشحالی کیلئے حمایت جاری رکھے گا.  ترجمان زاؤ لیجیان

    چین پاکستان کی خوشحالی کیلئے حمایت جاری رکھے گا. ترجمان زاؤ لیجیان

    چینی وزارت خارجہ کے ترجمان زاؤ لیجیان نے کہا ہے کہ چین پاکستان کی حمایت جاری رکھے گا۔

    چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان زاؤ لیجیان نے کا کہنا ہے کہ چین پاکستان کی معاشی ترقی، لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے اور مالی استحکام کوبرقرار رکھنے کے لیے پاکستان کی حمایت جاری رکھے گا۔

    انھوں نے انٹرنیشنل پریس سینٹر (آئی پی سی) میں معمول کی نیوز بریفنگ کے دوران کہا کہ چین اور پاکستان سدا بہار سٹرٹیجک شراکت دار ہیں ، چین نے معاشی ترقی، لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے ہمیشہ پاکستان کی مدد کی ہے۔ چین دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعلقات استوار کرنے کیلیے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔

    ترجمان نے کہا کہ پاکستانی حکومت اور چینی سفارتخانہ چینی اداروں کے تحفظ کے حوالے سے قریبی رابطے اور ہم آہنگی کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ پاکستان حکومت نے سی پیک اور بین الحکومتی تعاون کے منصوبوں میں شامل چینی اہلکاروں کے تحفظ کیلیے ایک خصوصی سیکیورٹی فورس قائم کی اور پاکستان میں چینی عہدیداروں کی حفاظت بھی

  • مشرف کی راولپنڈی منتقلی کی خبریں بے بنیاد قرار

    مشرف کی راولپنڈی منتقلی کی خبریں بے بنیاد قرار

    سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے قریبی ذرائع نے سابق صدر کی پاکستان منتقلی اور راولپنڈی کے اسپتال میں زیر علاج ہونے کی خبروں کی تردید کرتے پوئے بتایا ہے کہ ان کی پاکستان منتقلی کی خبریں بے بنیاد ہیں اور وہ تاحال وطن واپس نہیں آرہے ہیں۔

    سابق صدر کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ پرویز مشرف تاحال دبئی میں ہیں، ان کو دبئی سے پاکستان شفٹ کرنے کی سوشل میڈیا پر زیرگردش خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے پہلے بھی ایسی خبریں آئی تھیں کہ سابق صدر پرویز مشرف وطن واپس آرہے ہیں لیکن اس وقت سابق صدر کے خاندان والوں نے ردعمل دیا تھا کہ پاکستانی حکام کی طرف سے رابطہ کیا گیا مگر وہاں پر طبعی سہولیات دستیاب نہیں ہیں.

  • بلوچستان میں مون سون بارشیں،پی ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کردیا

    بلوچستان میں مون سون بارشیں،پی ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کردیا

    بلوچستان کے محکمہ پی ڈی ایم اے نے مون سون بارشوں کے حوالے سے الرٹ جاری کردیا۔

    باغی ٹی وی : محکمہ پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے ) کی جانب سے صوبے کے 13 اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو لکھے گئے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ صوبے میں یکم سے 5 جولائی تک بارشوں کا امکان ہے ،بارشوں سے صوبے کے پہاڑی علاقوں کے ندی نالوں میں طغیانی کا خطرہ ہے ضلعی انتظامیہ مون سون کی بارشوں کے دوران ہنگامی صورتحال کیلئے تیار رہے ۔

    مراسلے میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ محکمے ضروری عملے اور مشینری کو الرٹ رکھیں ،گہرے پانی ،ڈیمز اور دریاؤں کے قریب پکنک پر پابندی عائد کردی جائے جبکہ عوام یکم سے 5 جولائی تک غیر ضروری سفر سے گریز کرے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے مختلف علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا سندھ کے ساحلی اضلاع میں آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے جبکہ اسلام آباد میں بادل چھا گئے، گرمی کی شدت میں کم ہو گئی ہے آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے-

    ملک بھر میں موسم کی صورتحال

    محکمہ موسمیات کے مطابق خضدار،قلات،بارکھان،لسبیلہ،تربت اور آواران میں بارش کا امکان ہے،خطۂ پوٹھوہار،گوجرانوالہ، سیالکوٹ اورنارووال میں بارش متوقع ہے جبکہ لاہوراوربہاولنگرمیں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے-

    محکمہ موسمیات کے مطابق آزادکشمیر میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے، ٹھٹھہ،بدین،تھرپارکراورکراچی میں چند مقا مات پر بارش متوقع ہے-

    قبل ازیں محکمہ موسمیات کا کہنا تھا کہ مون سون بارشوں کا پہلا سلسلہ جمعے سے شروع ہونے کا امکان ہے جس کے پیش نظر کشمیر، بالائی پنجاب،جنوب مشرقی بلوچستان، بالائی خیبرپختونخوا اورسندھ میں 5 جولائی تک تیز ہواؤں اورگرج چمک کےساتھ بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے مون سون کا دوسرا سلسلہ 6 سے15 جولائی تک متوقع ہےجس میں شدید بارشوں کا امکان ہےمزید برآں عیدالاضحیٰ پر بھی بارش متوقع ہے۔

    مون سون بارشوں کا پہلا اسپیل رواں ہفتے ہی شروع ہونے کا امکان

    محکمہ موسمیات کے چیف میٹرولوجسٹ سردار سرفرا نے بتایا تھا کہ مون سون سسٹم کے ساتھ بحیرہ عرب سے نم ہوائیں بھی ملک پر اثر انداز ہوں گی، ملک کے شمالی حصے میں 30 جون سے بارشوں کا آغاز ہوگا-

    محکمہ موسمیات نے کہا تھا کہ 2 جولائی کی شام یا رات کراچی میں بارشوں کا امکان ہے، جس کی وجہ 30 جون سے پاکستان میں خلیج بنگال سے داخل ہونے والی مون سون ہوائیں ہیں۔

    محکمہ موسمیات کے حالیہ موسمیاتی جائزے کے مطابق ملک کے شمالی حصے میں 30 جون سے بارشوں کا آغاز ہوگا، جبکہ بحیرہ عرب سے نم ہوائیں بھی ملک پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔

    کروٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ آج سے بجلی بنانا شروع کرے گا

    محکمہ تحفظ ماحولیات پنجاب نے آج کا ائیر کوالٹی انڈیکس جاری کردیا ہے-

    محکمہ تحفظ ماحولیات پنجاب کے مطابق ٹاون ہال لاہور میں ائیر کوالٹی انڈیکس 114ریکارڈ کیا گیا ،ٹاون شپ سیکٹر ٹو میں ائیر کوالٹی انڈیکس141ریکارڈ کیا گیا،داروغہ والا انڈسٹریل ایریالاہور میں ائیر کوالٹی انڈیکس 158ریکارڈ کیا گیا،نیشنل ہاکی اسٹیڈیم میں ائیر کوالٹی انڈیکس 160ریکارڈ کیا گیا-

    محکمہ تحفظ ماحولیات پنجاب کا کہنا ہے کہ دوسری جانب تمام ڈیٹا 24 گھنٹے کی بنیادپر مرتب کیا گیا-

    ملک میں بجلی کا شارٹ فال 8 ہزار 911 میگا واٹ تک پہنچ گیا،بجلی کا دورانیہ 18 گھنٹوں…

  • کووڈ وبا کے بعد چین سے کسی بھی اعلیٰ سطح حکومت شخصیت کا پاکستان کا یہ پہلا دورہ

    کووڈ وبا کے بعد چین سے کسی بھی اعلیٰ سطح حکومت شخصیت کا پاکستان کا یہ پہلا دورہ

    لاہور:کووڈ وبا کے بعد چین سے کسی بھی اعلیٰ سطح حکومت شخصیت کی طرف سے پاکستان کے دورے کو بڑی اہمیت دی جارہی ہے، اس حوالے سے بھی یہ دورہ اہم ہےکہ آنے والے مہمان نے آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کے ساتھ ساتھ وزیراعظم شہبازشریف سے بھی ملاقات کی ہے ،

    اسی حوالے سے ن لیگ کی طرف سے خوشی کااظہارکرتےہوئےکہا گیا ہےکہ چائنیز کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے پولٹ بیورو ( Politboru) کے رکن اور سی پی سی کے خارجہ امور کمیشن کے ڈائریکٹر عزت مآب جناب یانگ جیچی ( Yang Jiechi) کا دورہ پاکستان بڑی اہمیت کا حامل ہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ کووڈ وبا کے بعد چین سے کسی بھی اعلیٰ سطح حکومت شخصیت کا پاکستان کا یہ پہلا دورہ خطے میں باہمی تعلقات کی جانب ایک اورمثبت قدم ہے

    یاد رہےکہ چائنیز کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے پولٹ بیورو ( Politboru) کے رکن اور سی پی سی کے خارجہ امور کمیشن کے ڈائریکٹر عزت مآب جناب یانگ جیچی ( Yang Jiechi)نے اپنے دورہ پاکستان میں اہم شخصیات سے ملاقاتیں کی ہیں

    پٹرولیم لیوی سے 750 کے بجائے 855 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان

    اس سلسلے میں ایک ملاقات وزیراعظم شہبازشریف سے چین کمیونسٹ پارٹی چین کے ڈائریکٹرکمیشن کی ہے۔ وزیراعظم نے 2.3ارب ڈالر کی سنڈیکیٹ سہولت کی تجدید پر چین کا شکریہ ادا کیا۔وزیراعظم شہبازشریف سے چین کمیونسٹ پارٹی چین کے ڈائریکٹرکمیشن کی ملاقات ہوئی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے چینی صدر اور ہم منصب کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ڈائریکٹر یانگ کا دورہ پاکستان ، پاک چین دوستی ، اسٹریٹجک شراکت داری کا مظہر ہے۔

    چین کے ساتھ اسٹریٹجک پارٹنرشپ بڑھانے کے خواہاں ہیں :آرمی چیف

    وزیراعظم نے تمام شعبوں میں دوطرفہ تعلقات میں مزید بڑھانے پر زور دیا اور کہا کہ اقتصادی تعاون وسیع پیمانے پر پاک چین شرکت داری کی بنیاد بن چکا۔ چین کی غیر متزلزل حمایت ملکی معیشت کو بیرونی جھٹکے سے نمٹنے میں مدد دیتی ہے۔وزیراعظم نے 2.3ارب ڈالر کی سنڈیکیٹ سہولت کی تجدید پر بھی چین کا شکریہ ادا کیا۔

    ہمارے دورمیں مہنگائی کا شور مچانے والوں نے آتے ہی مہنگائی کردی. عمران خان

  • ٹی ٹوئنٹی میچز کی میزبانی لاہور اور کراچی کو ملنے کا امکان:ذرائع

    ٹی ٹوئنٹی میچز کی میزبانی لاہور اور کراچی کو ملنے کا امکان:ذرائع

    لاہور:مختلف ویب سائٹ کی رپورٹس کے مطابق ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے قبل ٹی ٹوئنٹی میچز کے لئے لاہور اور کراچی کا میزبانی ملنے کا امکان ہے۔تفصیلات کے مطابق مختلف سائٹس کی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اس سال آسٹریلیا میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے قبل لاہور اور کراچی انگلینڈ کی سات ٹی ٹوئنٹی میچوں کی میزبانی کرنے کا امکان ہے.

    انگلینڈ کی مرد اور خواتین دونوں ٹیموں کو اصل میں وائٹ بال میچز کے لیے گزشتہ سال پاکستان کا دورہ کرنا تھا لیکن کھلاڑیوں کی ذہنی اور جسمانی صحت کی وجہ سے دورہ منسوخ کر دیا گیا۔تاہم، اس دورے کو دوبارہ شیڈول کیا گیا تھا کیونکہ انگلینڈ کو اب ورلڈ کپ سے قبل سات ٹی ٹوئنٹی میچز میں پاکستان سے کھیلنے والا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق بورڈ نے میچز ملتان اور فیصل آباد سمیت دیگر مقامات پر کرانے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن پھر یہ منصوبہ ختم کر دیا گیا۔“کراچی اور لاہور سیریز کے دو اہم مقامات ہیں اور راولپنڈی کو بھی بیک اپ کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔سائٹس کی رپورٹ کے مطابق کراچی اور لاہور میں شائقین 17 سال بعد انگلینڈ کو پاکستان میں کھیلتا دیکھنا چاہتے ہیں اس لیے کراچی اور لاہور کو ممکنہ طور پر میزبانی کے لئے منتخب کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے بعد انگلینڈ کی ٹیم پاکستان میں تین ٹیسٹ میچز کھیلے گی۔ رپورٹس کے مطابق ٹیسٹ میچوں کی میزبانی کے لیے فیصل آباد، ملتان جیسے مقامات پر غور کیا جائے گا۔