Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • مہنگائی اورسخت کاروباری شرائط کے باوجود گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد اضافہ

    مہنگائی اورسخت کاروباری شرائط کے باوجود گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد اضافہ

    کراچی: قیمتوں میں بڑے پیمانے پر اضافے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے آٹو فنانسنگ پر پابندی اور بلند شرح سود کے باوجود مالی سال22 میں کاروں کی فروخت گزشتہ مالی سال میں ایک لاکھ 39 ہزار 613 یونٹس کے مقابلے میں 51 فیصد بڑھ کر 2 لاکھ 10ہزار 633 یونٹس ہو گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق عیدالفطر کی تعطیلات سے قبل مئی 2022 میں کاروں کی فروخت بڑھ کر 19ہزار 395 یونٹس تک پہنچ گئی جو اپریل 2022 میں 18ہزار 626 یونٹس تھی۔

    صارفین کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کے نتیجے میں پک اپ اور جیپوں کی فروخت میں 43 فیصد اضافہ ہوا جو 28 ہزار 34 یونٹس کے مقابلے میں 40 ہزار 255 یونٹس تک پہنچ گئی، ان مہنگی گاڑیوں کی ماہانہ فروخت مئی 2022 میں گر کر 3 ہزار 498 یونٹس پر آ گئی جو اپریل 2022 میں 3 ہزار 917 یونٹس تھی۔گزشتہ مہینوں میں اسمبلرز کی طرف سے کی گئی بڑی ایڈوانس بکنگ کی وجہ سے کار، پک اپ اور جیپ اسمبلرز انتہائی خوش ہیں۔تاہم ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے سنی کمار کا ماننا ہے کہ معاشی سست روی، شرح سود میں اضافے اور اسٹیٹ بینک کی جانب سے مالی معاونت مزید سخت کرنے سے گاڑیوں کی فروخت پر نمایاں اثر پڑے گا۔

    پاکستان آٹو موٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے مطابق ہونڈا سوک اور سٹی کی مشترکہ فروخت مالی سال 2022 کے 11 ماہ میں 42 فیصد بڑھ کر 31ہزار 776 یونٹس ہو گئی جبکہ مالی سال 2021 کی اسی مدت میں یہ تعداد 22ہزار 450 یونٹس تھی۔

     

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”505854″ /]

    اکتوبر2021 سے مارچ 2022 تک ماڈل میں مکمل تبدیلی کی وجہ سے ٹویوٹا کرولا اور یارِس کی فروخت 42 ہزار 912 یونٹس سے 114 فیصد بڑھ کر 52 ہزار 75 یونٹس ہوگئی جبکہ سوزوکی سوئفٹ کی فروخت 2 ہزار 108 یونٹس سے 114 فیصد بڑھ کر 4 ہزار 514 یونٹس تک جا پہنچی۔

    مالی سال 2022 کے 11 ماہ میں مارکیٹ میں نئی آنے والی ہنڈائی الینٹرا اور سوناٹا کی فروخت بالترتیب 3 ہزار 120 اور 2 ہزار 581 یونٹس رہی۔

    سوزوکی کلٹس اور ویگن آر کی فروخت مالی سال 2022 کے 11 ماہ میں بالترتیب 36 فیصد اور 78 فیصد بڑھ کر 20 ہزار 701 اور 20 ہزار 997 یونٹس ہو گئی جو کہ مالی سال 2021 کے 11 ماہ میں بالترتیب 15 ہزار 240 اور 11 ہزار 805 یونٹس تھی۔

    اسی طرح رواں مالی سال کے 11 ماہ میں سوزوکی بولان 800 سی سی اور آلٹو 660 سی سی کی فروخت بالترتیب 33 فیصد اور 75 فیصد بڑھ کر 11 ہزار 145 اور 63 ہزار 711 یونٹس ہو گئی جہاں گزشتہ سال دونوں گاڑیوں کے بالترتیب 8 ہزار 9 اور 36 ہزار 504 یونٹس سے زائد فروخت ہوئے تھے۔

    ٹرکوں کی کل فروخت (ہینو، ماسٹر، اسوزو، اور جے اے سی) 3 ہزار 343 یونٹس سے 59.6 فیصد بڑھ کر 5 ہزار 337 یونٹس ہو گئی جو مقامی طور پر تیار کردہ اور درآمد شدہ سامان کی نقل و حمل میں اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔علاوہ ازیں ماسٹر کی سیلز میں 4 فیصد اضافے کے باوجود بسوں کی فروخت 599 یونٹس سے 4.5 فیصد کم ہوکر 572 یونٹ رہ گئی۔

    ٹویوٹا فارچیونر اور جدید ملٹی پرپز گاڑیوں کی مشترکہ فروخت مالی سال 2021 کے 11 ماہ میں 9 ہزار 789 یونٹس سے بڑھ کر 16 ہزار 149 ہو گئی، 14فیصد کی چھلانگ کے ساتھ ہنڈائی ٹسکن کی فروخت 3 ہزار 517 یونٹس کے مقابلے میں 3 ہزار 998 یونٹس رہی اور ہونڈا بی آر۔وی کی فروخت 3ہزار 536 یونٹس سے 7 فیصد بڑھ کر 3ہزار 773 یونٹس ہو گئی۔

  • سعودی عرب کا 25 یونیورسٹیوں میں پاکستانی طلبہ کیلئے سکالرشپس کا اعلان

    سعودی عرب کا 25 یونیورسٹیوں میں پاکستانی طلبہ کیلئے سکالرشپس کا اعلان

    لاہور: سعودی عرب نے پاکستانی طلبہ کو خوشخبری سناتے ہوئے 25 یونیورسٹیوں میں سکالر شپس کا اعلان کر دیا ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) پاکستان کی ویب سائٹ پر جاری کردہ بیان کے مطابق ڈپلومہ، بیچلرز، ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کے طلبہ سکالرشپ سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

    پاکستان کا سعودی عرب اور تاجکستان کے ساتھ تعاون بڑھانے پر اتفاق

    ایچ ای سی کی جانب سے بیان میں کہا گیا کہ سکالرشپ میں پاکستان میں رہنے والے طلبہ کے لیے 75 فیصد جبکہ سعودی عرب میں مقیم پاکستانی طلبہ کے لیے 25 فیصد کوٹہ رکھا گیا ہے، علم سیاسیات، قانون، تعلیم، ایڈمنسٹریشن، معاشیات، انجینئرنگ، کمپیوٹر سائنس، زراعت، عربی، اسلامک سٹڈیز اور میڈیا سائنسز میں سکالرشپس کا اعلان کیا گیا ہے۔

    سکالرشپس کے لیے پاکستان اور آزاد کشمیر کے طلبہ درخواستیں دے سکتے ہیں، پروگرام میں بیچلرز کی ڈگری کے لیے درخواست دینے والے طلبہ کی عمر 17 سے 25، ماسٹرز کے لیے 30 اور پی ایچ ڈی کے لیے 35 سال ہونی چاہیے۔

    سعودی عرب پاکستان کے ذمہ واجب الادا 3 ارب ڈالرز واپسی کی مہلت بڑھا رہے ہیں‌:سعودی…

    سعودی عرب 25 یونیورسٹیوں میں سکالرشپ کے مواقع فراہم کر رہا ہے، ہر یونیورسٹی میں 5 فیصد طلبہ کو انرول کیا جائے گا جبکہ دو جامعات میں رجسٹریشن کا تناسب مختلف رکھا گیا ہے، پرنسز نور بنتِ عبدالرحمٰن یونیورسٹی برائے خواتین (ریاض) میں 8 فیصد پاکستانی اور کشمیری طلبہ جبکہ مدینہ منورہ میں واقع جامعہ اسلامیہ میں مجموعی طور پر 85 فیصد نشستوں پر رجسٹریشن کی جائے گی۔

    ویب سائٹ پر جاری کردہ طریقہ کار کے مطابق جامعہ، سعودی وزارت تعلیم کو درخواست بھیجے گی اور اہل طلبہ کو سکالرشپ فراہم کرے گی، درخواست دینے والے طلبہ کے لیے شرط عائد کی گئی ہے کہ ان کو کسی ادارے سے نکالا گیا ہو نہ ہی ان کا کوئی کریمنل ریکارڈ ہو، بصورت دیگر درخواست کو مسترد کردیا جائے گا۔

    سعودی عرب میں 19سالہ لڑکی جنسی تبدیلی کے بعد لڑکا بن گئی

    سکالرشپ والے طلبہ کو 3 ماہ کا وظیفہ اور ریٹرن ٹکٹ بھی دیا جائے گا، مفت میڈیکل سمیت دیگر سہولیات فراہم کی جائیں گی، سائنس میں سکالرشپ حاصل کرنے والے طلبہ کو 900 سعودی ریال جبکہ دیگر شعبہ جات میں طلبہ کو 850 سعودی ریال ماہانہ دیئے جائیں گے۔

    سکالر شپس دینے والی 25 یونیورسٹیوں کے نام درج ذیل ہیں:

    جدہ یونیورسٹی، بشاہ یونیورسٹی، اُم القرا یونیورسٹی، اسلامک یونیورسٹی، امام محمد ابنِ سعود اسلامک یونیورسٹی، کند سعود یونیورسٹی، کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی، حفار الباطن یونیورسٹی، کنگ فیصل یونیورسٹی، کنگ خالد یونیورسٹی، قاسم یونیوسٹی، طیبہ یونیورسٹی، طائف یونیورسٹی، یونیورسٹی آف حائل، جزان یونیورسٹی، الجوف یونیورسٹی، البہا یونیورسٹی، طابق یونیورسٹی، نجران یونیورسٹی، نادرن بارڈر یونیورسٹی، پرنس ستام بن عبدالعزیز یونیورسٹی، شقرا یونیورسٹی، مجمہ یونیورسٹی۔

  • مشرف واپس آنا چاہیں تو حکومت سہولیات فراہم کرے:نواز شریف

    مشرف واپس آنا چاہیں تو حکومت سہولیات فراہم کرے:نواز شریف

    لندن :مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے کہا ہے کہ اگر پرویز مشرف واپس آنا چاہیں تو حکومت کو چاہیے کہ ان کو تمام تر سہولیات فراہم کرے۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری اپنے بیان میں نواز شریف نے لکھا کہ میری پرویز مشرف سے کوئی ذاتی دشمنی یا عناد نہیں ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ اپنے پیاروں کے بارے میں جو صدمے مجھے سہنا پڑے۔ وہ کسی اور کو بھی سہنا پڑیں۔ ان کی صحت کے لئے اللّہ تعالی سے دعاگو ہوں۔ وہ واپس آنا چاہیں تو حکومت سہولت فراہم کرے۔

    خیال رہے کہ آج ہی پاک فوج کے ترجمان کی جانب سے جاری ایک اہم بیان میں کہا گیا ہے کہ پرویز مشرف کی صحت بہت خراب ہے۔ اللہ انہیں صحت دے۔ ہماری لیڈرشپ کا موقف ہے کہ پرویز مشرف کو واپس آجانا چاہیے لیکن یہ فیصلہ ان کی فیملی نے کرنا ہے۔

     

    سابق وزیراعظم نوازشریف نے سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے‌حوالے سے اپنے خیالات کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ میری پرویز مشرف سے کوئی ذاتی دشمنی یا عناد نہیں۔ نہیں چاہتا کہ اپنے پیاروں کے بارے میں جو صدمے مجھے سہنا پڑے، وہ کسی اور کو بھی سہنا پڑیں۔ ان کی صحت کے لیے اللّہ تعالی سے دعاگو ہوں۔ وہ واپس آنا چاہیں تو حکومت سہولت فراہم کرے۔

    یاد رہے کہ ادھر آج ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پرویز مشرف کو وطن واپس لانے کیلئے ان کی فیملی سے رابطہ کیا گیا ہے۔ پرویزمشرف کی فیملی کے جواب کے بعد انتظامات کئے جا سکتے ہیں۔ پرویز مشرف کی صحت کی صورتحال میں ادارے کا اور قیادت کا موقف ہے کہ ان کو واپس آنا چاہیے۔ اسی سلسلے میں پرویز مشرف کے خاندان سے رابطہ کیاگیا۔ پرویز مشرف کی واپسی کا فیصلہ ان کی فیملی اور ان کے ڈاکٹرز نے کرنا ہے کہ وہ ان کو ایسی کنڈیشن میں سفر کرنے کی اجازت دے سکتے ہیں یا نہیں؟

    انہوں نے کہا کہ اگریہ دونوں چیزیں سامنے آجاتی ہیں تو اس کے بعد ہی کوئی انتظامات کیےجاسکتے ہیں، انسٹی ٹیوشن محسوس کرتاہے کہ جنرل مشرف کو اگر ہم پاکستان لاسکیں تو لانا چاہیے کیوں کہ ان کی کنڈیشن ایسی ہے۔

  • وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی ایرانی صدر ابراہیم ریئسی سے ملاقات:اہم معاملات پرگفتگو

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی ایرانی صدر ابراہیم ریئسی سے ملاقات:اہم معاملات پرگفتگو

    تہران :وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی ایرانی صدر ابراہیم ریئسی سے ملاقات،اطلاعات کے مطابق پاکستان کے وزیرخارجہ بلاول بھٹوزرداری اس وقت ایران کے دورے پرہیں اوران کی وزیرخارجہ کے بعد اب ایرانی صدر سے ملاقات بھی ہوچکی ہے جس میں‌دوطرف تعلقات اوراسلامی برادرانہ رشتے پرکھل کربات ہوئی ہے

    یاد رہے کہ اس سے پہلے وزیرخارجہ بلاول بھٹو نے تہران میں ایرانی ہم منصب کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی وزیرخارجہ کے ساتھ ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی، ملاقات میں دوطرفہ تجارت اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    انہوں نے کہا کہ ایرانی وزیرخارجہ کے ساتھ تجارت ،زائرین کو سہولیات کی فراہمی پر بات ہوئی، باہمی مشاورت سے تعلقات میں مزید بہتری آئے گی، قیدیوں کے تبادلے پر ایرانی ہم منصب سے بات ہوئی۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ ایرانی ہم منصب کو پاکستان آنے کی دعوت دیتا ہوں، پاکستان اور ایران افغانستان مہاجرین کو پنا دیے ہوئے ہیں، ایران بھی افغانستان میں امن کا خواہاں ہے۔وزیرخارجہ بلاول بھٹو نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہے۔

    مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبد اللہیان نے بھی کہا کہ ایران ہمیشہ مذاکرات کا حامی رہا ہے اور اس کا خیال ہے کہ سفارتکاری سے حتمی سمجھوتہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ویانا مذاکرات کا عمل آگے بڑھانے کے لئے ایران نے اہم اقدامات کئے یہاں تک کہ ایران اور گروپ چار جمع ایک کے درمیان مذاکرات اور ایران اور امریکہ کے درمیان پیغامات کا تبادلہ ہوا اور ایران نے اس بات کو ثابت کر دیا کہ وہ ایک اچھے اور پائیدار و مستحکم سمجھوتے کے حصول کے لئے مذاکرات کا قائل ہے۔

    انہوں نے علاقے کے مسائل کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ تہران، افغانستان میں ایک وسیع البنیاد حکومت کی تشکیل پر زور دیتا رہا ہے تاکہ اس ملک کے مسائل حل ہو سکیں۔
    ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ تہران پورے فلسطین میں ایک ایسی متحدہ حکومت کی تشکیل کا خواہاں ہے کہ جس کا دارالحکومت بیت المقدس بنے۔

  • پاکستان پرامن ملک اور ہمارا دوسرا گھر ہے،بھارتی سکھ یاتری

    پاکستان پرامن ملک اور ہمارا دوسرا گھر ہے،بھارتی سکھ یاتری

    جوڑ میلے میں شرکت کے لیے پاکستان آئے سکھ یاتریوں نے کرتاپور کا دورہ کیا۔ترجمان متروکہ وقف بورڈ املاک کے مطابق ان سکھ یاتریوں کی مختلف سنگتوں نے نارووال ضلع کی تحصیل شکرگڑھ میں واقع کرتارپور کے مقام پر واقع دنیا کے سب سے بڑے گوردوارہ صاحب کا درشن کیا۔

    سنگتوں کے گوردوارہ صاحب کرتارپور پہنچنے پر گیانی صاحب،سردار اندرجیت سنگھ پاکستان گوردوارہ پربندھک کمیٹی،مترکہ وقف املاک بورڈ کے ایڈیشنل سیکرٹری شرائن رانا شاہد‘ڈپٹی سیکرٹری عمران گوندل ودیگر انتظامیہ کے افسران نے مہمانوں کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔چیئرمین بورڈ حبیب الرحمن گیلانی کے احکامات کی روشنی میں مہمانوں کے لیے
    بہترین انتظامات کئے گئے۔ اس موقع پر بھارت سے آئے سکھ یاتریوں نے حکومت پاکستان کی جانب سے کئے گئے شاندار انتظامات پر حکومت کا شکریہ ادا کیا۔

    بھارتی سکھ یاتریوں لکی سنکھ‘رنجیت سنگھ اور گوبند سنگھ نے کہا کہ پاکستان ایک پرامن ملک ہے‘ پنجاب حکومت نے جس طرح ہمارے لئے سیکورٹی کے انتظامات کئے ہیں اس کے لیے ہم بے حد شکر گزار ہیں‘متروکہ وقف املاک بورڈ نے بھی ہمارے مذہبی مقامات کی دیکھ بھال کے لئے بہت اچھے اقدامات کئے ہیں جس پر ہمیں دلی خوشی ہوئی ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں‘ مذہبی دورہ کے کے دوران پاکستانیوں نے ہمیں جتنی عزت اور محبت دی ہم اس کو فراموش نہیں کرسکتے‘ہم یہاں سے محبتیں سمیٹ کر واپس جائیں گے۔واضح رہے کہ بھارت سمیت دنیا بھر سے سکھ مذہب کے ماننے والوں کی کثیر تعداد جو کہ سکھ مذہب کے پانچویں گرو شہید گرو ارجن دیو جی کی یاد میں لگنے والے جوڑمیلے میں شرکت کے لئے پاکستان میں موجود ہے

  • امریکی صدرکا دورہ اسرائیل وسعودی عرب موخر:جولائی میں دورہ متوقع

    امریکی صدرکا دورہ اسرائیل وسعودی عرب موخر:جولائی میں دورہ متوقع

    لاہور:امریکی صدرکا دورہ اسرائیل وسعودی عرب موخر:جولائی میں دورہ متوقع،اطلاعات کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنا دورہ اسرائیل وسعودی عرب موخرکردیاہے اب وہ اگلے ماہ اسرائیل، مغربی کنارے اور سعودی عرب کا دورہ کریں گے، وائٹ ہاوس کے ذرائع کے مطابق مشرق وسطیٰ کے اپنے دورے کے بارے میں کئی مہینوں کی قیاس آرائیوں کو ختم کر دیا ہے۔

    وائٹ ہاوس کے ذرائع کے مطابق جوبائیڈن کے 13 سے 16 جولائی کے درمیان ہونے والے اس دورے میں پورے خطے اور اس سے باہر کے تقریباً ایک درجن ہم منصبوں کے ساتھ مصروفیات شامل ہوں گی۔ان کا پہلا پڑاؤ اسرائیل ہو گا،”یہ صدر بائیڈن کا بطور صدر ملک کا پہلا دورہ ہو گا، اور یہ ایک نوجوان سینیٹر کی حیثیت سے اسرائیل کے ان کے پہلے دورے کے تقریباً 50 سال بعد آیا ہے۔”

    دورہ سعودی عرب میں توانائی پر بات چیت سے زیادہ اہم امور پرتوجہ مرکوزکی جائے…

    صدر کے شیڈول کے بارے میں وائٹ ہاؤس کی ترجمان کرائن جین پیئر نے کہا کہ بائیڈن اسرائیلی رہنماؤں سے ملاقات کریں گے تاکہ اسرائیل کی سلامتی، خوشحالی اور وسیع تر خطے میں اس کے بڑھتے ہوئے انضمام پر بات چیت کی جا سکے۔اسرائیل میں اپنے مذاکرات کے بعد صدر فلسطینی صدر محمود عباس اور دیگر فلسطینی حکام سے ملاقات کے لیے مقبوضہ مغربی کنارے، فلسطین کا رخ کریں گے۔

    وائٹ ہاوس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر جوبائیڈن "دو ریاستی حل کے لیے اپنی تاحیات وابستگی کا اعادہ کرنے اور ان طریقوں پر بات کرنے کے منتظر ہیں جن سے ہم ایک ایسے سیاسی افق کو دوبارہ زندہ کر سکتے ہیں جو اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے لیے یکساں آزادی، سلامتی، خوشحالی اور وقار کے یکساں اقدامات کو یقینی بنا سکے۔

    جوبائیڈن نےروسی تیل اورگیس کی تمام درآمدات پرپابندی لگا دی:روس نےجوابی کارروائی کی…

    مغربی کنارے کے اپنے دورے کے بعد، بائیڈن جدہ، سعودی عرب جائیں گے، جہاں وہ خلیج تعاون کونسل کے سربراہی اجلاس کے علاوہ مصر،عراق اور اردن جی سی سی 3 میں شرکت کریں گے۔جدہ میں صدر کی بات چیت کے بارے میں جین پیئر نے کہا کہ بائیڈن اپنے ہم منصبوں کے ساتھ دو طرفہ، علاقائی اور عالمی مسائل پر بات کریں گے۔

    ترجمان نے کہا، "ان میں یمن میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کی حمایت بھی شامل ہے، جس کی وجہ سے سات سال قبل جنگ شروع ہونے کے بعد سے سب سے زیادہ پرامن دور رہا ہے۔”انہوں نے کہا کہ "وہ علاقائی اقتصادی اور سیکورٹی تعاون کو وسعت دینے کے ذرائع پر بھی بات کریں گے، بشمول نئے اور امید افزا انفراسٹرکچر اور موسمیاتی اقدامات، نیز ایران سے خطرات کو روکنے، انسانی حقوق کو آگے بڑھانے، اور عالمی توانائی اور غذائی تحفظ کو یقینی بنانا”۔جوبائیڈن کی ترجیحات میں شامل ہیں

    جین پیئر نے مزید کہا کہ بائیڈن "شاہ سلمان کی قیادت اور ان کی دعوت کو سراہتے ہیں” اور "سعودی عرب کے اس اہم دورے کے منتظر ہیں، جو تقریباً آٹھ دہائیوں سے امریکہ کا اسٹریٹجک پارٹنر رہا ہے۔”سعودی سرکاری پریس ایجنسی (SPA) نے منگل کو تصدیق کی کہ یہ دورہ 15 سے 16 جولائی کے درمیان ادا کیا جائے گا۔

    یہ پوچھے جانے پر کہ کیا صدر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کریں گے، سینئر عہدیدار نے کہا کہ بائیڈن اپنے ہم منصبوں اور سعودی قیادت سے ملاقات کریں گے۔تو انہوں نے کہا کہ کیوں نہیں ملاقات ضرور ہوگی

    امریکی صدر جوبائیڈن نے طویل عرصے سےمحمد بن سلمان کے ساتھ بیٹھنےاحتراز کیا ہے، جسے امریکی انٹیلی جنس نے استنبول میں سعودی قونصل خانے میں واشنگٹن پوسٹ کے صحافی جمال خاشقجی کے 2018 کے بہیمانہ قتل کا حکم دیا تھا۔صدر نے 2019 میں کہا تھا کہ وہ خاشقجی کے قتل کی وجہ سے سعودی عرب کو ایک "پریوا” ریاست بنائیں گے۔

    عہدیدار نے کہا کہ صدر سعودیوں کے ساتھ انسانی حقوق کے مسائل اٹھائیں گے۔تو اہلکار کا جواب تھا کہ امریکہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات استوار کرنا چاہتا ہے نہ کہ خواہ مخواہ مسائل کو ہوادینا چاہتا ہے

  • عالمی جنگ کی تیاری:ایٹمی ملک تیزی سےجدید جوہری ہتھیاربنانےلگے

    عالمی جنگ کی تیاری:ایٹمی ملک تیزی سےجدید جوہری ہتھیاربنانےلگے

    لاہور:عالمی جنگ کی تیاری:ایٹمی ملک تیزی سے جدید جوہری ہتھیاربنانےلگے،تفصیلات کے مطابق ایک بین الاقوامی تحقیق کے مطابق، سرد جنگ کے بعد پہلی بار اگلی دہائی میں عالمی جوہری ہتھیاروں میں اضافہ متوقع ہے۔اوریہ بھی اطلاعات ہیں کہ ایٹمی ملک بڑی تیزی سے جوہری ہتھیاربنانے میں بڑی چُستی کا مظاہرہ کررہی ہیں

    اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (SIPRI) نے اپنی نئی جاری کردہ سالانہ تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کی اہے کہ دنیا کی نو جوہری ہتھیاروں سے لیس ریاستیں – امریکہ، روس، برطانیہ، فرانس، چین، ہندوستان، پاکستان، اسرائیل اور شمالی کوریا اپنے جوہری ہتھیاروں کو اس رفتار سے جدید اور توسیع دینے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں جس کا امکان اگلی دہائی میں بڑھ جائے گا۔اس کے ساتھ ساتھ ہرمُلک دوسرے پرسبقت لے جانے کی کوشش میں بھی ہے

    اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (SIPRI) نےاپنی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ۔”اس بات کے واضح اشارے ہیں کہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد سے عالمی جوہری ہتھیاروں کی کمی کے لیے سنجیدہ کوششیں شروع ہوگئی تھیں مگرپچھلے چارپانچ سال سے دنیا میں پیدا ہونے والے نئے تنازعات نے ایک بارپھران ملُکوں کو محتاط رہنے پر مجبور کردیا ہے

    ولفریڈ وان جوSIPRI کےبڑے پیمانےپرتباہی کےہتھیاروں کےپروگرام کےڈائریکٹرہیں نےخطرے کی نشاندہی کرتےہوئےکہا ہےکہ تمام جوہری ہتھیاروں سےلیس ریاستیں اپنےہتھیاروں اوراپنی فوجی حکمت عملیوں میں اپنےکردارکوبڑھا رہی ہیں یااپ گریڈکررہی ہیں،ان کا کہنا تھا کہ نہ صرف اسلحہ سازی میں ایک دوسرے سےسبقت لےجانےکی خواہش ہےبلکہ اب اعلانیہ طوریہ ملک اس قسم کی گفتگو کررہےہیں جوکہ "یہ ایک انتہائی تشویشناک رجحان ہے۔

    اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (SIPRI)کےماہرین کا کہنا ہےکہ روس اورامریکہ کےپاس مجموعی طورپر90 فیصد سےزیادہ جوہری ہتھیارہیں،جب کہ دیگر سات ممالک یا تونئےہتھیاروں کےنظام کو تیارکررہے ہیں یا تعینات کررہےہیں۔

    اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (SIPRI)کےدفاعی ماہرین نےزوردے کرکہا کہ چین خاص طورپر اپنے جوہری ہتھیاروں میں کافی حد تک توسیع کررہا ہے،سیٹلائٹ کی تصاویرسے300 سےزیادہ نئےمیزائل سائٹس کی تعمیرکا اشارہ ملتا ہے۔

    اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (SIPRI) کےدفاعی تجزیہ نگاروں نےمزید کہا، خیال کیا جاتا ہےکہ نئے موبائل لانچرزاورایک آبدوزکی فراہمی کے بعد گزشتہ سال چینی فوج کی آپریشنل فورسزکوکئی اضافی جوہری وار ہیڈزتفویض کیےگئےتھے۔

  • پاکستان کا سوئٹزرلینڈ:وادی سوات:گھرکوآگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

    پاکستان کا سوئٹزرلینڈ:وادی سوات:گھرکوآگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

    لاہور:پاکستان کا سوئٹزرلینڈ:وادی سوات آگ لگنے کے واقعات نےآزمائش میں‌ ڈال دیا،دنیا جانتی ہے کہ پاکستان کی شمال مغربی وادی سوات اپنی برف پوش چوٹیوں، چمکتی نیلی جھیلوں، سرسبز و شاداب مرتفع اور گھنے جنگلات کی وجہ سے ہر سال لاکھوں سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔

    وادی سوات اپنے مماثل دلکش مناظر کی وجہ سے "پاکستان کا سوئٹزرلینڈ” کے نام سے جانا جاتا ہے، یہ وادی گزشتہ سال تقریباً 2 ملین لوگوں کی طرف سے دیکھنے والی پسندیدہ جگہ رہی۔اس کے باوجود، یہ حال ہی میں بڑے پیمانے پر جنگل کی آگ کی وجہ سے سرخیوں میں رہا ہے جس نے پچھلے تین ہفتوں کے دوران 14,000 ایکڑ سے زیادہ جنگل کے احاطہ کو جلا دیا ہے۔

    ہری پور: نجف پور کے پہاڑوں پر آگ لگ گئی

    خشک موسمی حالات کے علاوہ، بہت سی آگ مقامی لوگوں نے جان بوجھ کر لگائی تھی تاکہ صدیوں پرانے قانون سے فائدہ اٹھایا جا سکے جو انہیں جنگلات کی ملکیت حکومت کے ساتھ بانٹنے کی اجازت دیتا ہے۔”شمائلات” یا مشترکہ جائیداد کا قانون، جسے طاقتور یوسف زئی قبیلے نے 16ویں صدی میں وادی سوات پر قبضہ کرنے کے بعد متعارف کرایا تھا، مقامی برادریوں کو جنگلات کی ملکیت حکومت کے ساتھ بانٹنے کی اجازت دیتا ہے۔

    شانگلہ اور سوات کے پہاڑی سلسلوں میں آگ بھڑک اٹھی

    قانون کے مطابق، وہ جنگلات کے خالی حصے کو کاٹ سکتے ہیں اور اپنے اپنے علاقوں میں اپنے مویشیوں کو چرانے کے لیے چراگاہوں کا استعمال کر سکتے ہیں۔تاہم، وہ درختوں کو نہیں کاٹ سکتے سوائے شاخوں کے یا جلانے والی لکڑیوں کے۔شاید اسی وجہ سے آگ لگائی جارہی ہے یہ قانون، جو برطانوی نوآبادیاتی دور میں بھی تبدیل نہیں ہوا،1969 میں سابقہ ​​شاہی ریاست کے شامل ہونے کے بعد پاکستان نے بھی کچھ ترامیم کے ساتھ اپنایا تھا۔

    شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخواہ کے محکمہ جنگلات کے ترجمان لطیف الرحمان نے کہا کہ "ہم نے سوات میں حالیہ برسوں میں جان بوجھ کر جنگل میں لگنے والی آگ کے بڑھتے ہوئے رجحان کو دیکھا ہے۔ اور اس رجحان کے پیچھے بنیادی مقصد زراعت کے لیے مزید زمینیں حاصل کرنا ہے۔” جس میں سوات واقع ہے۔

    لطیف الرحمان کہتے ہیں کہ مقامی لوگ بڑھتی ہوئی آبادی اور خوراک کی ضروریات کی وجہ سے اپنی زرعی زمینوں میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان جرائم پیشہ افراد کا یہ بھی خیال ہے کہ "اس کے لیے، درختوں سے جنگل کی زمینوں کو صاف کرنے کا بہترین طریقہ آگ ہے۔

    "ان کی غلط رائے میں، درخت زراعت سے کم اہم ہیں۔ یہ پورے ماحولیاتی سائیکل کو برباد کر رہا ہے، لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب کے خطرات کو بڑھا رہا ہے،” انہوں نے برقرار رکھا۔

    چین ؛کرونا کے بعد نیا عذاب ، جنگلات کوآگ لگ گئی 19 آگ بجھانے والے ہلاک درجنوں موت…

    پشاور یونیورسٹی میں شعبہ ماحولیات کے سربراہ محمد نفیس نے کہا کہ شمائلٹ دراصل صدیوں پرانی قبائلی روایت ہے جسے بعد میں برطانوی نوآبادیاتی حکومت اور پاکستانی حکومت نے قانون کا درجہ دے دیا تھا۔شاملات کی اصل روایت کے مطابق نفیس نے کہا کہ دریا، پہاڑ، ندیاں اور جنگل کسی قبیلے کی مشترکہ ملکیت ہیں۔

    لیکن 1969 کی شمولیت کے بعد پاکستانی حکومت نے جنگل کے درختوں کو ریاست کی ملکیت قرار دیتے ہوئے کچھ تبدیلیاں کیں، جبکہ مقامی لوگوں کو جنگل کی زمینوں کی کٹائی اور گھریلو استعمال کے لیے درختوں کی شاخیں حاصل کرنے کا حق دیا گیا۔

    ایک اور غیر تحریری قانون، اس نے آگے کہا، ایک کسان جس کی زمین پہاڑی جنگل کو چھوتی ہے، ملحقہ جنگل کے جھاڑو کو صاف کرنے اور اسے اپنی زمین کے ٹکڑے میں شامل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

    "وادی سوات میں جنگل کی آگ” کے عنوان سے ایک مقالہ لکھنے والے نفیس کا کہنا ہے کہ خوبصورت وادی میں جنگلات کی بڑھتی ہوئی کٹائی کے پیچھے جان بوجھ کر لگنے والی آگ اور لاپرواہی دو اہم عوامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ 1947 میں آزادی کے وقت سوات میں جنگلات کا 30 فیصد حصہ تھا جو آہستہ آہستہ کم ہو کر 15 فیصد سے بھی کم ہو گیا ہے۔

    "فی الحال، صرف دور دراز اور اونچے پہاڑ ہی گھنے جنگلات کے ساتھ بچ گئے ہیں۔ بصورت دیگر، کم اونچائی والے پہاڑوں پر جنگلات زرعی زمینوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔

    اس وقت سوات میں 70% جنگلات شاملات کے قانون کے تحت آتے ہیں، جب کہ باقی 30% یا تو ریاست کے کنٹرول میں ہیں یا نجی ملکیت میں ہیں۔سوات اور شانگلہ اور بونیر کے ملحقہ اضلاع میں چیڑ کے جنگلات میں لگی آگ بجھانے کے لیے فائر فائٹرز کو فوج کے ہیلی کاپٹروں کی مدد حاصل ہے۔

    محکمہ جنگلات کے مطابق ہوا سے لگنے والی آگ نے ہزاروں درخت جل کر راکھ کر دیے ہیں اور پرندوں اور جانوروں کی کئی نایاب نسلوں کو ہلاک کر دیا ہے۔شانگلہ ضلع میں گزشتہ ہفتے جنگل میں لگنے والی آگ سے تین خواتین سمیت کم از کم چار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

    محکمہ جنگلات کی تازہ ترین رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں 200 سے زائد جنگلات میں آگ لگنے کی اطلاع ملی ہے، خاص طور پر سوات، شانگلہ اور بونیر کے اضلاع میں۔210 جنگل کی آگ میں سے، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 55 مقامی لوگوں نے جان بوجھ کر شروع کیں، جب کہ صرف 12 آگ خشک موسم کی وجہ سے لگی۔ بقیہ 143 آگ لگنے کی وجوہات کی تحقیقات جاری ہیں۔اس نے مزید کہا کہ تقریباً دو درجن مقامی لوگوں کو گزشتہ تین ہفتوں کے دوران جان بوجھ کر جنگلات کو آگ لگانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

    سوات کے چیف فاریسٹ آفیسر وسیم خان کہتے ہیں کہ جنگلات سے لگنے والی آگ میں سے 95 فیصد یا تو "شمائلات” یا نجی ملکیت میں آتی ہیں۔انہوں نے "بے قابو” سیاحت، مقامی لوگوں کی "لاپرواہی” اور آسمانی بجلی کو جنگل کی آگ کے لیے دیگر محرکات کے طور پر حوالہ دیا، جو ان کے بقول ایک طویل عرصے سے چل رہا مسئلہ ہے۔

    "بہت سے معاملات میں، مقامی لوگ اونچائی پر چلنے والی چراگاہوں اور سڑی ہوئی اور خشک گھاس کے جنگلات کو کنٹرول شدہ جلانے کے ذریعے صاف کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن یہ کنٹرول شدہ جلنا بعض اوقات بے قابو ہو کر پورے جنگل کو لپیٹ میں لے لیتا ہے،‘‘ اس نے کہا۔

    اطلاعات کے مطابق پکنک کرنے والوں کے ایک گروپ کی جانب سے جھاڑیوں کو آگ لگانے کے بعد ایک بہت بڑی جنگل میں آگ بھڑک اٹھی، جس نے گزشتہ ماہ کے آخر میں جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں دیودار کے ایک جنگل کو تباہ کر دیا اور تین افراد ہلاک ہو گئے۔حکومت کی جنگلات کی کاوشوں کو نقصان پہنچانا

    محکمہ جنگلات کے ترجمان رحمان نے کہا کہ حکومت جان بوجھ کر آگ لگانے میں ملوث پائے جانے والے مشتبہ افراد پر جیل کی سزا کے ساتھ بھاری جرمانے عائد کرے گی۔

    ماضی میں فوجداری قوانین پر عمل درآمد نہ ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ جان بوجھ کر آگ لگانے میں ملوث شخص کو ہر درخت کے لیے 100,000 پاکستانی روپے ($487) تک جرمانہ اور دو سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

    پاکستان ان 10 ممالک میں سے ایک ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں کا سب سے زیادہ خطرہ ہیں۔

    جنگل کی آگ کی تازہ ترین لہر نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے پرچم بردار "10 بلین ٹری سونامی” منصوبے کو نقصان پہنچایا ہے، جن کی پاکستان تحریک انصاف پارٹی اب بھی صوبہ خیبر پختونخواہ پر حکومت کر رہی ہے۔
    درخت لگانے کے پرجوش منصوبے، جس کا مقصد ملک کے تیزی سے ختم ہونے والے جنگلات کے احاطہ کو بحال کرنا ہے، اقوام متحدہ کی جانب سے بھی تسلیم کیا گیا ہے۔

    پاکستان نے گزشتہ سال اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے اشتراک سے اپنی تاریخ میں پہلی بار عالمی یوم ماحولیات کی تقریبات کی میزبانی کی۔

  • افغانستان: پاکستان نے کابل میں محمد علی جناح ہسپتال افغان حکومت کے حوالے کر دیا

    افغانستان: پاکستان نے کابل میں محمد علی جناح ہسپتال افغان حکومت کے حوالے کر دیا

    افغانستان: کابل میں پاکستان کی جانب سے بنائے گئے دو سو بستروں پر مشتمل محمد علی جناح اسپتال کو افغان حکومت کے حوالے کر دیا گیا۔

    باغی ٹی وی :افغانستان کےدارالحکومت کابل میں 14 جون 2022 کو پاک افغان تعاون فورم کے زیرانتظام جناح اسپتال کابل کو افغان حکومت کے حوالے کر دیا گیا جذبہ خیر سگالی کے تحت اسپتال کے عملے میں ایک ماہ کی تنخواہیں تقریباً 52 ہزار امریکی ڈالر بھی تقسیم کی گئیں۔

    ’ہم سکھ ہیں مگر رسول پاک ﷺ کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کریں گے:دنیا بھرکے سکھوں کا اعلان

    یونیورسٹی آف لاہور اور افغان وزارت صحت کے درمیان کابل کے محمد علی جناح اسپتال میں مفاہمت نامے پر دستخط ہوئے اور اس موقع پر پاکستان کے سفیر منصور احمد خان اور افغانستان کے وزیر صحت قلندر امداد بھی موجود تھے۔

    مفاہمت کی یادداشت کے تحت محمد علی جناح اسپتال میں صحت کی سہولیات کو عالمی معیار کے مطابق اپ گریڈ کر کے اسے تدریسی اسپتال بنا کر استعداد کار میں اضافہ کیا جائے گا۔

    یونیورسٹی آف لاہور جناح اسپتال کابل میں صحت کی سہولیات کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ افغانستان میں طبی عملے کی کمی پوری کرنے کے لیے نرسنگ اور الائیڈ ہیلتھ سائنسز کالجز کھولنے کا مزید منصوبہ بھی رکھتی ہے۔

    جس کے مطابق اسپتال کے ساتھ ہی ایک میڈیکل کالج بھی قائم کیا جائے گا جو عالمی معیار کا ہو گا اور اسے ایک ایسی یونیورسٹی میں اپ گریڈ کیا جائے گا جو افغانستان میں گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ پروگراموں میں معیاری تعلیم فراہم کرے گی۔

    گستاخانہ بیانات،چین کا ردعمل بھی سامنے آگیا

    پاکستان کے سفیر نے افغان وزیر صحت کا کابل اسپتال پاکستانی عملے کے ساتھ تعاون پر شکریہ ادا کیا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان افغان بھائیوں کو صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

    قلندر عباد نے یونیورسٹی آف لاہور اور حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی طرف سے یہی جذبہ مستقبل میں بھی جاری رہنا چاہیے۔

    واضح رہے کہ کابل میں پاکستان کی جانب سے بنایا گیا جناح اسپتال 200 بستروں پر مشتمل ہے اور یہ اس وقت افغانستان کا دوسرا سب سے بڑا اسپتال ہے جناح اسپتال کی تعمیر افغانستان میں پاکستانی امداد اور ترقیاتی منصوبوں کے سلسلے کا حصہ تھی۔

    جناح ہسپتال کا افتتاح 20 اپریل 2019 کو کیا گیا تھا اور اسے عوام کے لیے کھول دیا گیا تھا اور مکمل ہونے پر اس منصوبے کی کل لاگت 2 کروڑ 40 لاکھ ڈالر تھی۔

    روس نے یوکرین سے جنگ کے پہلے 100 دنوں میں پیٹرول سے 93 بلین ڈالر کمائےافغانستان

  • روسی سستےتیل کا بھارت دنیا میں بڑا دوسرا خریدار بن گیا

    روسی سستےتیل کا بھارت دنیا میں بڑا دوسرا خریدار بن گیا

    لاہور:روسی سستےتیل کا بھارت دنیا میں بڑا دوسرا خریدار بن گیا،اطلاعات کے مطابق ایک طرف جہاں روس اور یوکرین کے درمیان جنگ جاری ہے اور اس دوران امریکہ اور نیٹو ممالک کی طرف سے سخت اقتصادی پابندیوں‌کی وجہ سے روس کی منڈیوں میں ایک بحرانی کیفیت سے پیدا ہوگئی تھی وہاں روس کے تیل کے ذخائرسے بھارت نے بہت زیادہ فائدہ اٹھایا اور عالمی معاشی حالات کی درجہ بندی کرنے والے اداروں نے رپورٹ کیا ہے کہ پچھلے ماہ یعنی مئی میں روس بھارت کو دوسرا سب سے بڑا خام تیل فراہم کرنے والا بن گیا،

    رپورٹ کے مطابق، ہندوستانی ریفائنرز نے گزشتہ ماہ روسی تیل کے تقریباً 819,000 بیرل روزانہ حاصل کیے، جبکہ اپریل میں یہ تعداد 277,000 تھی۔جبکہ اس کے ساتھ ساتھ عراق نے ہندوستان کو تیل فراہم کرنے والے سب سے بڑے ملک کے طور پر اپنی پوزیشن برقرار رکھی ہے، جبکہ سعودی عرب جو پہلے دوسرے نمبر پر تھا، تیسرے نمبر پر آ گیا ہے۔

     

    روس نے یوکرین سے جنگ کے پہلے 100 دنوں میں پیٹرول سے 93 بلین ڈالر کمائے

    عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق مجموعی طور پرمئی میں ہندوستان کی تیل کی درآمدات 4.98 ملین بیرل یومیہ رہیں، جو پچھلے مہینے سے 5.6 فیصد اور سال بہ سال تقریباً 19 فیصد زیادہ ہے، کیونکہ گھریلو ریفائنرز بڑھتی ہوئی طلب کے درمیان پیداوار بڑھانے پر مجبور تھے۔

    روس کا یوکرین میں امریکی ہتھیاروں کی کھیپ تباہ کرنے کا دعویٰ

    فروری کے آخر میں شروع ہونے والے یوکرین میں روس کے فوجی آپریشن کے جواب میں مغربی پابندیوں کی وجہ سے تیل کے بہت سے خریداروں نے روسی تیل کولینے سے انکار کردیا تھا ۔ برطانیہ اور امریکہ نے روسی تیل پر پابندیاں لگانے کے لیے اس حد تک آگے بڑھے، یورپی یونین نے بھی چند مہینوں میں اس اقدام کی منصوبہ بندی کی۔ روس، بدلے میں، خریداروں کو راغب کرنے کے لیے اپنے تیل پر ریکارڈ رعایت کی پیشکش کرتا ہے، جس سے چین اور بھارت نے اپنی خریداری میں اضافہ کیا۔

    دنیا ہم سےسستے داموں گندم اوراناج لینےکےلیےعالمی منڈیوں تک رسائی دے:روس

    روس کے ساتھ تعلقات منقطع کرنے کے مطالبات کے باوجود، بھارت نے اعلان کیا کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے بچنے کے لیے اضافی تیل کی سپلائی کی ضرورت ہے، اور نوٹ کیا کہ اس کی روسی درآمدات ملک کی تیل کی مجموعی ضروریات کا محض ایک حصہ ہے۔