Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • معرکہ حق میں،فیلڈ مارشل نے اپنے جوانوں کو تیار کیا اور کمال کی کارکردگی دکھائی ،وزیراعظم

    معرکہ حق میں،فیلڈ مارشل نے اپنے جوانوں کو تیار کیا اور کمال کی کارکردگی دکھائی ،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ معرکہ حق میں بھارت کو جو سبق سکھایا وہ زندگی بھر یاد رکھے گا،میرے پاس فیلڈ مارشل کا فون آتا ہے کہ میں آپ کو یہ خبر دینا چاہتا ہوں کہ دشمن نے ہم پر حملہ کردیا مجھے کہنے لگے وزیراعظم آپ مجھے اجازت دیں، ہم ان کو وہ سبق سکھائیں گے کہ وہ زندگی بھر یاد رکھے گا۔

    لندن میں اوورسیز پاکستانیز کے کنونشن سے خطاب کے دوران شہباز شریف نےکہا کہ میرے لیے خوشی کی بات ہے کہ سمندر پار پاکستانیوں کے سامنے کھڑا ہوں، آپ کے پاکستان کے وہ سفیر ہیں جو بیرون ملک دن رات محنت کرتے ہیں،دن میں آپ دیار غیر میں انتہائی محنت سے رزق حلال کماتے ہیں، میں اس بات کا اعتراف کرنا چاہتا ہوں کہ آپ اپنی محنت سے جو رزق کماتے ہیں، یہ جو سال گزرا ہے آپ نے پاکستان اپنی خون پسینے کی کمائی سے ساڑے 38 ارب ڈالر اپنے ملک بھجوائے ہیں۔

    وزیراعظم نے کہا کہ نہ صرف معاشی طور پر بلکہ سیاسی طور پر جس طرح آپ ہر جگہ پاکستان کا دفاع کرتے ہیں، اس کے لیے بھی آپ سب کو سیلوٹ پیش کرتا ہوں،سب سے پہلے آپ سب کو 10 مئی 2025 کی عظیم فتح کی مبارکباد دینا چاہتا ہوں، یہ وہ فتح ہے جس نے دشمن کو وہ سبق سکھایا جو وہ زندگی بھر یاد رکھے گا، جب ہم پر الزامات لگائے گئے تو ہم نے یہ بیان دیا کہ پاکستان کا پہلگام واقعے سے دور دور تک تعلق نہیں،پہلگام واقعے کی شفاف تحقیقات کے لیے میں نے عالمی کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے کہ یہ پاکستان کے خلاف جھوٹے الزامات لگائے جارہے ہیں لیکن ہمسایہ ملک نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔

    دنیا پاکستان کو مسائل کے حل میں ایک شریکِ کار کے طور پر جانتی ہے،صدرِ مملکت

    انہوں نے کہا کہ اس کے جواب میں 6 مئی کو دشمن نے پاکستان کے خلاف حملہ کیا جس میں بے گناہ پاکستانی شہید ہوئے، مساجد کو شہید کیا گیا اور سویلینز پر حملے کیے گئے، جس پر پاکستان کو اپنے دفاع میں کارروائی کرنی پڑی، ایک جھٹکے میں دشمن کے 6 جہاز زمین بوس ہوگئے، دشمن کو چند گھنٹوں میں پتا چل گیا کہ یہ بات بہت دور تک چلی جائے گی، میرے پاس فیلڈ مارشل کا فون آتا ہے کہ میں آپ کو یہ خبر دینا چاہتا ہوں کہ دشمن نے ہم پر حملہ کردیا مجھے کہنے لگے وزیراعظم آپ مجھے اجازت دیں، ہم ان کو وہ سبق سکھائیں گے کہ وہ زندگی بھر یاد رکھے گا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ دوست ممالک میں ایک سربراہ نے مجھ سے پوچھا وہ کون سی دو باتیں جو اس عظیم فتھ کی وجہ بنی، میں نے کہا کہ افواج پاکستان کی دلیری، شجاعت، پروفیشنلزم ، اللہ پر بھروسہ اور دوسرے نمبر پر سیاسی وعسکری قیادت کی سوچ میں یکسانیت جب کہ تیسری بات جب فیصلہ ہوا تو ملٹری لیڈرشپ نے مڑ کر نہیں دیکھا، فیلڈ مارشل نے اپنے جوانوں کو تیار کیا اور کمال کی کارکردگی دکھائی جب کہ ہمارے شاہنیوں نے ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی قیادت میں دشمن کے جہازوں کو گرایا،عظیم پاکستانیوں اللہ نے آپ کو وہ فتح دی ہے کہ آج مغرب سے لیکر مشرق تک لوگ جب پاکستان کے سبز پاسپورٹ کو دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں ہم سلام پیش کرتے ہیں۔

    9 مئی کیس: خدیجہ شاہ نے سزا کیخلاف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا

    ان کا کہنا تھا کہ معرکہ حق کے آپریشن کے بعد سیز فائر ہوچکا اور اب ہم امن چاہتے ہیں، ہم ترقی وخوشحالی، ملک میں بیروزگاری کا خاتمہ اور سرمایہ کاری چاہتے ہیں اور میں نے یہ آفر کئی مرتبہ دی ہے جو پوری دنیا نے سنی ہے، میں نے کہا ہے کہ ہم کشمیر، پانی، تجارت اور کاؤنٹر ٹیررازم پر بات کرنا چاہتے ہیں اور برابری کی بنیاد پر بات کرکے یہ مسائل حل کرنا چاہتے ہیں،کشمیر کا مسئلہ حل ہونا، بنیادی ستون ہے، اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے بغیر باہمی تعلقات استوار ہوسکتے ہیں تو وہ احمقوں کے جنت میں رہتے ہیں، کشمیریوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، انہیں اپنا حق ملے گا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ غزہ میں جو اس وقت ظلم وستم کیا جارہا ہے، 64 ہزار سے زائد افراد شہید ہوچکے ہیں جس میں بچے، خواتین اور بزرگ شامل ہیں جب کہ جو زندہ ہیں ان کا کھانا پانی اور ادویات تک بند کردی گئی ہیں، غزہ کی پٹی کے تناسب سے جتنی شہید ہوچکی ہیں، پچھلے 100 سال کے دوران ہونے والی جنگوں میں بھی اتنی زندگیاں تباہ نہیں ہوئیں،میں سمجھتا ہوں کہ اب وقت آگیا ہے کہ اس خطے کو امن چاہیے جس کے لیے اسلامی ممالک کو آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، اگر ہم فیصلہ کرلیں تو جس طرح ہم نے بھارت کے 6 جہاز گرائیں ہیں ویسے ہم غربت کا خاتمہ بھی کرکے دکھائیں گے اور پاکستان کو قرضوں سے نجات دلائیں گے، یہ مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں ہے۔

    9 مئی کیس: خدیجہ شاہ نے سزا کیخلاف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا

  • رواں سال کا دوسرا سورج گرہن آج رات کو ہو گا

    رواں سال کا دوسرا سورج گرہن آج رات کو ہو گا

    رواں سال کا دوسرا سورج گرہن آج رات کو ہو گا تاہم یہ سورج گرہن پاکستان میں نہیں دیکھا جا سکے گا۔

    رواں سال کا دوسرا سورج گرہن 21 اور 22 ستمبر کی درمیانی شب کو ہو گا۔ لیکن یہ پاکستان میں نہیں دیکھا جا سکے گاسورج گرہن کا آغاز 21 ستمبر کو پاکستانی وقت کے مطابق رات 10 بج کر 30 منٹ پر ہو گا اور 22 ستمبر کو 12 بجکر 42 منٹ پر سورج گرہن اپنے عروج پر ہو گاجزوی سورج گرہن کا اختتام رات 2 بجکر 55 منٹ پر ہو گا،پاکستان کے علاوہ پیسیفیک، اٹلانٹک، انٹارکٹیکا اور آسٹریلیا کے کچھ حصوں میں سورج گرہن دیکھا جاسکے گا۔

  • آئی ایم ایف کا وفد 25 ستمبر کوپاکستان،کا دورہ کرے گا

    آئی ایم ایف کا وفد 25 ستمبر کوپاکستان،کا دورہ کرے گا

    آئی ایم ایف کا وفد 25 ستمبر کو پاکستان کا دورہ کرے گا، تاکہ 7 ارب ڈالر کے ای ایف ایف معاہدے کے تحت ملک کی کارکردگی کا جائزہ لے، جو 2025 کی پہلی ششماہی کا احاطہ کرتا ہے، اس جائزے میں مارچ تا جون سہ ماہی کے دوران اہم معاشی اہداف پر عملدرآمد کا جائزہ لیا جائے گا۔

    ٹاپ لائن سیکیورٹیز کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کے آئی ایم ایف کے اہداف پر پورا اترنے کے امکانات روشن ہیں، جن میں زرمبادلہ کے ذخائر اور سواپ پوزیشنز سے متعلق اہداف بھی شامل ہیں، اسی طرح مالی سال 2025 کے پرائمری بیلنس کے اعداد و شمار بھی آئی ایم ایف کی پیش گوئیوں کے مطابق ہیں۔

    آئی ایم ایف کی اصلاحات پر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ پاکستان خصوصاً آف شور ڈرلنگ، مائننگ اور ویب 3.0 ٹیکنالوجیز جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے، اس سمت میں ایک اہم سنگ میل اپریل 2025 میں ہونے والا پاکستان منرل انویسٹمنٹ فورم تھا، جس میں 50 سے زائد ممالک کے 5 ہزار سے زیادہ مندوبین شریک ہوئے تھے۔

    رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ امریکا نے پاکستان کے آف شور ہائیڈرو کاربن وسائل میں نئی دلچسپی ظاہر کی ہے، جو کہ ملک کے غیر دریافت شدہ قدرتی وسائل کی ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں، ریکو ڈیک جو ایک اہم منصوبہ ہے، آئندہ چند ہفتوں میں مالیاتی بندش تک پہنچنے کی توقع ہےپاکستان شدید بارشوں اور سیلاب سے بھی نبردآزما ہے، جو بلوچستان اور آزاد کشمیر کے علاوہ ملک کے بیشتر حصوں کو متاثر کر رہا ہے۔

    مرکزی بینک کے مطابق حالیہ سیلاب کی شدت ماضی کے مقابلے میں کم ہے، تاہم ٹاپ لائن نے خبردار کیا کہ یہ سیلاب وقتی طور پر معاشی اصلاحات میں رکاوٹ ڈال سکتے ہیں، پاکستانی معیشت کی لچکدار حیثیت کے باعث معیشت جلد بحالی کی طرف لوٹ آئے گی،سیلاب کی وجہ سے ریلیف اخراجات میں اضافہ اور سرکاری آمدنی پر دباؤ متوقع ہے، جس کے باعث مالی سال 2026 کے لیے بجٹ خسارے کا تخمینہ 4.1 فیصد سے بڑھا کر 4.8 فیصد کردیا گیا ہے۔

    فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سے اب توقع ہے کہ وہ مالی سال 2026 میں 13 کھرب 60 روپے کے ٹیکس جمع کرے گا، جو پہلے 14 کھرب 10 ارب روپے کا ہدف تھا، یہ کمی سست معاشی بحالی اور سیلاب کے جی ڈی پی پر متوقع اثرات کی عکاسی کرتی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق مرکزی بینک اب مالی سال 2026 تک پالیسی ریٹ کو برقرار رکھنے کا امکان رکھتا ہے، جب کہ پہلے شرح سود میں ممکنہ اضافے کا اندازہ لگایا گیا تھا،یہ تبدیلی بنیادی طور پر غذائی افراط زر کے خطرات، سیلاب کے باعث بڑھتے درآمدی بلز، اور جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر کی گئی ہے، جن میں اسرائیل اور قطر میں حالیہ کشیدگیاں بھی شامل ہیں جو تیل کی قیمتوں کو متاثر کرسکتی ہیں۔

  • امید ہے سعودی عرب باہمی مفادات اور حساسیت کو مدنظر رکھے گا، بھارت

    امید ہے سعودی عرب باہمی مفادات اور حساسیت کو مدنظر رکھے گا، بھارت

    بھارت نے امید ظاہر کی ہے کہ سعودی عرب دونوں ممالک کے درمیان باہمی مفادات اور حساسیت کو مدنظر رکھے گا۔

    ’روئٹرز‘ کے مطابق سعودی عرب اور ایٹمی طاقت پاکستان نے بدھ کو دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، اگرچہ معاہدے کی تفصیلات کم ظاہر کی گئی ہیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ ریاض کو اس معاہدے کے تحت ایک عملی ایٹمی تحفظ حاصل ہو جائے گا،معاہدے میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی فریق پر ہونے والی جارحیت کو دونوں کے خلاف جارحیت سمجھا جائے گا۔

    بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ کے دوران صحافیوں سے کہا کہ بھارت اور سعودی عرب کے درمیان ایک وسیع اسٹریٹجک شراکت داری ہے جو پچھلے چند برسوں میں خاصی گہری ہوئی ہے،ہم توقع کرتے ہیں کہ اس اسٹریٹجک شراکت داری میں باہمی مفادات اور حساسیتوں کو مدنظر رکھا جائے گا۔

    سعودی عرب بھارت کو تیل برآمد کرنے والے سب سے بڑے ممالک میں سے ایک ہے، اور اس سال دونوں ممالک نے خام تیل اور مائع پیٹرولیم گیس کی سپلائی میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہےبھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی نے اس سال کہا تھا کہ دونوں ممالک ریفائنری اور پیٹروکیمیکل منصوبوں میں مشترکہ سرمایہ کاری کے امکانات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں،جمعرات کو بھارتی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ وہ اس بات سے آگاہ ہے کہ یہ معاہدہ زیر غور تھا اور نئی دہلی کے لیے اس کے مضمرات کا مطالعہ کرے گی-

    پاکستان واحد ایٹمی طاقت رکھنے والا مسلم ملک ہے، اس کے پاس 6 لاکھ سے زیادہ فوجی ہیں جو اپنے بڑے حریف بھارت کے خلاف دفاع پر توجہ مرکوز کرتے ہیں،دونوں پڑوسی 3 بڑی جنگیں لڑ چکے ہیں، ساتھ ہی متعدد جھڑپیں بھی ہوئیں، جن میں مئی میں ہونے والا 4 روزہ تصادم بھی شامل ہے، جو کئی دہائیوں میں ان کے درمیان سب سے شدید لڑائی تھی۔

  • رواں سال کا دوسرا سورج گرہن کب ہو گا؟

    رواں سال کا دوسرا سورج گرہن کب ہو گا؟

    رواں سال 2025کا دوسرا سورج گرہن 21 اور 22 ستمبر کی درمیانی شب ہوگا ، پاکستان میں دکھائی نہیں دے گا۔

    محکمہ موسمیات کلائمیٹ ڈیٹا پروسیسنگ سینٹر کے مطابق سال 2025 کے دوسرے سورج گرہن کا آغاز 21ستمبر کو پاکستانی وقت کے مطابق رات 10 بجکر 30 منٹ پر ہوگا اور 22 ستمبر کو رات 12 بجکر 42 منٹ پر سورج گرہن اپنے عروج پر ہوگا جزوی سورج گرہن کا اختتام رات 2 بجکر 55 منٹ پر ہوگا پیسیفیک، اٹلانٹک، انٹارکٹیکا اور آسٹریلیا کے کچھ حصوں میں سورج گرہن دیکھا جاسکے گا،رواں سال کا دوسرا سورج گرہن بھی پاکستان میں دکھائی نہیں دے گا ۔

    یاد رہے کہ چند روز قبل پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں چاند گرہن کا دلکش نظارہ ہوا تھا۔

    زمین پر سورج گرہن اس وقت لگتا ہے جب چاند دورانِ گردش زمین اور سورج کے درمیان آ جاتا ہے، جس کی وجہ سے سورج کا مکمل یا کچھ حصہ دکھائی دینا بند ہو جاتا ہے۔ اس صورت میں چاند کا سایہ زمین پر پڑتا ہے۔ چونکہ زمین سے سورج کا فاصلہ زمین کے چاند سے فاصلے سے 400 گنا زیادہ ہے اور سورج کا محیط بھی چاند کے محیط سے 400 گنا زیادہ ہے، اس لیے گرہن کے موقع پر چاند سورج کو مکمل یا کافی حد تک زمین والوں کی نظروں سے چھپا لیتا ہے۔

    سورج گرہن ہر وقت ہر علاقے میں نہیں دیکھا جا سکتا، اس لیے سائنسدانوں سمیت بعض لوگ سورج گرہن کا مشاہدہ کرنے کے لیے دور دراز سے سفر طے کرکے گرہن زدہ خطے میں جاتے ہیں۔ مکمل سورج گرہن ایک علاقے میں تقریباً 370 سال بعد دوبارہ آ سکتا ہے اور زیادہ سے زیادہ سات منٹ چالیس سیکنڈ تک برقرار رہتا ہے۔ البتہ جزوی سورج گرہن کو سال میں کئی دفعہ دیکھا جا سکتا ہے،یورپ میں دیکھا گیا 1999ء کا مکمل سورج گرہن تاریخ میں سب سے زیادہ دیکھا جانے والا سورج گرہن تھا۔

  • پاک-سعودیہ معاہدہ ایک چھتری ہے،خواجہ آصف

    پاک-سعودیہ معاہدہ ایک چھتری ہے،خواجہ آصف

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے جس کا مقصد دونوں ممالک کی سلامتی کو یقینی بنانا ہے-

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہاکہ،اس کے لیے جو کچھ ہمارے پاس ہے، وہ اس معاہدے کے تحت بالکل دستیاب ہوگا، یہ معاہدہ ایک ’چھتری‘ ہے، جس کے تحت اگر کسی ایک ملک پر حملہ ہوا تو دونوں مل کر جواب دیں گے، پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی طاقت ہے جس نے 1998 میں ایٹمی تجربات کیے اور اس حیثیت کو کبھی چیلنج نہیں کیا گیا،جو کچھ ہمارے پاس ہے، وہ اس معاہدے کے تحت بالکل دستیاب ہوگا۔

    وزیر دفاع نے واضح کیا کہ یہ معاہدہ کسی تیسرے ملک کے خلاف نہیں بلکہ صرف دفاعی نوعیت کا ہے،ہم نے کسی کا نام نہیں لیا، لیکن جو بھی جارحیت کرے گا، اُسے مشترکہ ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا یہ کوئی جارحانہ یا توسیع پسند معاہدہ نہیں بلکہ دفاعی ہے، جیسا کہ امریکا کے بھی دنیا کے کئی ممالک سے ایسے ہی معاہدے ہیں، اس معاہدے کے بارے میں امریکا یا کسی تیسرے فریق کو اعتماد میں لینے کی کوئی ضرورت نہیں تھی، کیونکہ یہ پاکستان اور سعودی عرب کا دوطرفہ حق ہے،پاکستان کی سرزمین پر قبضے کی کوئی نیت نہیں، لیکن اپنی حفاظت ہمارا بنیادی حق ہے۔

    روس: ایئرپورٹ کی آفیشل ویب سائٹ ہیک

    پاکستان پر پابندیوں کے بعد سعودی عرب کی حمایت بڑی اہم تھی،اسحاق ڈار

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے پانچ ججز کا چیف جسٹس کے اختیارات اور اقدامات کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع

  • پاکستان پر پابندیوں کے بعد سعودی عرب کی حمایت بڑی اہم تھی،اسحاق ڈار

    پاکستان پر پابندیوں کے بعد سعودی عرب کی حمایت بڑی اہم تھی،اسحاق ڈار

    نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے پاکستان اور سعودی عرب میں ہونے والا معاہدے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دیگر ملک بھی اس طرح کے معاہدے کا حصہ بننے کی خواہش رکھتے ہیں۔

    لندن میں جمعہ کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئےاسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ہونے والا معاہدہ ہمیشہ سے موجود ہے،سعودی عرب سے معاہدہ ایک رات میں طے نہیں پایا گیا اور اسکی تفصیلات طے کرنے میں کئی ماہ لگے ہیں، سعودی عرب نے ہمیشہ مشکل وقت میں پاکستان کاساتھ دیا اس سلسسلے میں انہوں نے ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان پر لگنے والی پابندیوں اور اس موقع پر سعودی کردار کی مثال،دی،پاکستان پر پابندیوں کے بعد سعودی عرب کی حمایت بڑی اہم تھی۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے پانچ ججز کا چیف جسٹس کے اختیارات اور اقدامات کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع

    واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کے حالیہ دورۂ سعودی عرب کے موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تاریخی دفاعی معاہدہ ہوا، معاہدے کے مطابق، اگر پاکستان یا سعودی عرب میں سے کسی ایک ملک پر حملہ ہوتا ہے تو اسے دونوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا،معاہدے کے تحت دونوں ممالک دفاع، انٹیلیجنس، ٹریننگ، اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں قریبی تعاون کریں گے، جبکہ پاکستان کو حرمین شریفین کے دفاع میں اہم کردار دیا گیا ہے۔

    پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی ہے، بین القوامی امورکی ایک یورپی ماہر نے تو اسے آسمانی بجلی سے تعبیر کیا ہے تو ایک دوسرے نے گیم چنیجر قرار دے دیا۔

    اُرمچی میں پاکستان اور چین کے درمیان 3 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط

  • پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا

    پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا

    پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی دفاعی معاہدے کے تناظر میں پاکستان علما کونسل کی اپیل پر ملک بھر میں آج یومِ تشکر منایا گیا۔

    پاکستان علما کونسل کی اپیل پر ملک بھر کی مساجد میں جمعے کے خطبات میں پاک-سعودی معاہدے پر اللہ کا شکر ادا کیا گیا اور مسلم اُمّہ کے اتحاد و امن کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں،پاکستان علما کونسل کے چیئرمین حافظ طاہر محمود اشرفی نے اس موقع پر کہا کہ یہ دن صرف پاکستان یا سعودی عرب کے لیے نہیں، بلکہ پوری اُمتِ مسلمہ کے اتحاد اور سلامتی کے لیے باعثِ شکر ہے،انہوں نے معاہدے کو اُمت کے لیے نئی طاقت قرار دیا۔

    واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کے حالیہ دورۂ سعودی عرب کے موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تاریخی دفاعی معاہدہ ہوا، معاہدے کے مطابق، اگر پاکستان یا سعودی عرب میں سے کسی ایک ملک پر حملہ ہوتا ہے تو اسے دونوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا،معاہدے کے تحت دونوں ممالک دفاع، انٹیلیجنس، ٹریننگ، اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں قریبی تعاون کریں گے، جبکہ پاکستان کو حرمین شریفین کے دفاع میں اہم کردار دیا گیا ہے۔

    افغان طالبان نے برطانوی جوڑے کو رہا کردیا

    پاک سعودی تزویراتی دفاعی معاہدےکا مقصد صرف استحکام ہے،دفتر خارجہ

    سعودیہ سے معاہدہ،پاکستان نے بیرونی طاقتوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا،تجزیہ:شہزاد قریشی

  • پاک سعودی تزویراتی دفاعی معاہدےکا مقصد صرف استحکام ہے،دفتر خارجہ

    پاک سعودی تزویراتی دفاعی معاہدےکا مقصد صرف استحکام ہے،دفتر خارجہ

    دفتر خارجہ نے کہاہے کہ پاک سعودیہ باہمی تزویراتی دفاعی معاہدہ کسی تیسرے ملک کے خلاف خطرے کے طور پر استعمال نہیں ہوگا۔

    ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہا کہ آیا پاک سعودی تزویراتی دفاعی معاہدہ صرف اسرائیل کو نشانہ بنانے کے لیے ہے یا اس کا وسیع تر ایجنڈا ہے، اور کیا پاکستان اپنے جوہری ہتھیار اب تیسرے ملک کو پیشکش کر رہا ہے؟ اس پر ترجمان نے کہا کہ ’پاکستان اور سعودی عرب کا تاریخی برادرانہ تعلق ہے جسے اب نئی بلندیوں پر لے جایا جا رہا ہے، معاہدے کا مقصد صرف استحکام ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے باہمی تعلقات منفرد اور دیرینہ ہیں، دونوں ممالک کی قیادت ان تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جانا چاہتی ہے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعلقات 1960 سے جاری ہیں، موجودہ باہمی تزویراتی دفاعی معاہدہ کسی تیسرے ملک کے خلاف خطرے کے طور پر استعمال نہیں ہوگا۔

    فتنہ الخوارج سے متعلق وزیر اعظم کے بیان پر ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ وزیر اعظم کا بیان نہایت واضح ہے افغانستان کے ساتھ اچھے ہمسائیگی والے تعلقات چاہتے ہیں یہ بیان افغانستان کو سفارتی ذرائع سے بھجوایا گیا ہے نمائندہ خصوصی صادق خان کا دورہ معمول کا ہے، جونہی ان کا نیا دورہ افغانستان طے ہوگا، میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بگرام ایئربیس سے متعلق بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ بگرام کا معاملہ کابل میں افغان حکومت اور امریکی حکومت کا باہمی معاملہ ہے، ہم اُن ملکوں کی خودمختاری کا احترام کرتے ہیں۔

    ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نےکہاکہ، صدر آصف علی زرداری اس وقت چین کے دورے پر ہیں جہاں انہوں نے اعلیٰ چینی حکام سے ملاقاتیں کیں۔ صدر زرداری نے چین کی لڑاکا طیارے بنانے والی فیکٹری کا دورہ بھی کیا اور پاکستان کے فضائی دفاع میں جے ایف-17 اور جے-10C طیاروں کے کردار کو سراہا۔

    پاکستان میں دہشتگردوں کی بھارتی سرپرستی کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان دفترِ خارجہ نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ بیرونی سرزمین سے بدامنی پھیلانے سے باز رہے اور اپنے ہاں انسانی حقوق کی حالت بہتر بنائے۔ بھارتی پراپیگنڈا اور اشتعال انگیز بیانات خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں، بھارتی میڈیا کو الزامات کی بجائے بھارت کی طرف سے ہونے والے قتل و غارت اور دہشت گردی کی مہمات پر غور کرنا چاہیے۔ پاکستان نے ہمیشہ بھارتی روایتی قوت کو تحمل اور ذمہ داری کے ساتھ روکا ہے۔

    اُنہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے خلاف ایٹمی الزامات بھارت کا خودساختہ اور گمراہ کن بیانیہ ہے پاکستان جموں و کشمیر سمیت تمام مسائل کے پرامن حل پر یقین رکھتا ہے۔ پاکستان ایک ذمہ دار ملک کے طور پر خطے میں امن، استحکام اور بامقصد مذاکرات کا خواہاں ہے۔

    پاکستان کی جانب سے سکھ یاتریوں کو ویزوں کے اجرا سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے شفقت علی خان نے کہا کہ پاکستان سکھوں کے مذہبی مقامات کا کسٹوڈین ہے پاکستان ہر سال دنیا بھر سے آنے والے سکھ یاتریوں کو خوش آمدید کہتا ہے بھارت کی جانب سے یاتریوں کو کرتارپور راہداری کے استعمال سے روکنا افسوسناک ہے۔

    انہوں نے کہا کہ 1974 کے مذہبی مقامات کے پروٹوکول کے تحت پاکستان یاتریوں کو خوش آمدید کہنے کے لیے ہمیشہ تیار ہے۔ پاکستان نے کرتارپور راہداری کبھی بند نہیں کی۔ بھارتی رویہ یاتریوں کے لیے رکاوٹ ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ گردوارہ کرتارپور صاحب مکمل طور پر بحال اور فعال ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی 26 ستمبر کو اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں تقریر کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان دفترِ خارجہ نے کہا کہ وزیراعظم کی تقریر 26 ستمبر کو متوقع ہے، جس کی تفصیلات جلد جاری کی جائیں گی۔

    جنرل اسمبلی سیشن کے حاشیے پر وزیراعظم کی ملاقاتوں سے متعلق ایک سوال پر ترجمان نے کہا کہ وزیراعظم کی ملاقاتوں کا شیڈول ابھی طے کیا جا رہا ہے اور جیسے ہی وہ حتمی ہوگا، میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔

  • اُرمچی میں پاکستان اور چین کے درمیان 3 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط

    اُرمچی میں پاکستان اور چین کے درمیان 3 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط

    پاکستان اور چین کے درمیان 3 اہم مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے، جن کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان صنعتی تعاون، زرعی جدت اور عوامی تحفظ کو فروغ دینا ہے۔

    دستخط صدر آصف علی زرداری کی موجودگی میں،کئےگئے،معاہدوں میں لائیو اسٹاک انڈسٹری میں جدت، پاکستان میں جدید ٹیکسٹائل انڈسٹریل پارک کے قیام اور فائر ٹرکس و ایمرجنسی آلات کی فراہمی شامل ہیں،صدر آصف علی زرداری نے اس موقع پر کہا کہ یہ یادداشتیں خوراک کے تحفظ، صنعتی ترقی، برآمدات میں اضافے اور آفات سے نمٹنے کی قومی صلاحیت کو بہتر بنائیں گی،لائیو اسٹاک سیکٹر کی بہتری دیہی علاقوں میں روزگار کے مواقع بڑھائے گی جبکہ جدید ٹیکسٹائل پارک کا قیام برآمدات اور صنعتی ترقی کو نئی جہت دے گا، فائر ٹرکس اور جدید ایمرجنسی آلات کی فراہمی عوامی تحفظ اور ریسکیو آپریشنز کو مضبوط کرے گی-

    تقریب میں سینیٹر سلیم مانڈوی والا، پاکستان کے سفیر برائے چین اور چین کے سفیر برائے پاکستان بھی شریک تھے،بعد ازاں صدر آصف علی زرداری اُرمچی سے کاشغر روانہ ہو گئے، سنکیانگ کے نائب گورنر نے صدر آصف علی زرداری کو رخصت کیا، اس موقع پرچینی اور پاکستانی اہلکار بھی موجود تھے۔

    سعودیہ سے معاہدہ،پاکستان نے بیرونی طاقتوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا،تجزیہ:شہزاد قریشی

    امریکا نے بھارت کو ایک اور جھٹکا دے دیا

    پرائیویٹ حج اسکیم کے تحت درخواستوں کی وصولی کا آج سے آغاز