Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • وزیرتعلیم شفقت محمود نے بڑا اعلان کردیامگرکن کےلیے؟تفصیلات جاریں

    وزیرتعلیم شفقت محمود نے بڑا اعلان کردیامگرکن کےلیے؟تفصیلات جاریں

    اسلام آباد: وزیرتعلیم شفقت محمود نے بڑا اعلان کردیامگرکن کےلیے؟تفصیلات جاریں ،اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے ادارہ جاتی اصلاحات کے اجلاس کا انعقاد کیا گیا جس میں متروکہ وقف املاک بورڈ کی کمیٹی کو وزیر اعظم کی ٹاسک فورس کی سفارشات پر عمل درآمد کی صورتحال کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔

    اجلاس میں وزیر تعلیم شفقت محمود نے آئندہ میٹنگ میں ای ٹی پی بی کے زیر انتظام سکولوں کا جواز طلب کرلیا ہے۔

    چیئرمین سی سی آئی آر نے ای ٹی پی بی کو ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں تمام ضروری ریکارڈ اور تیاری کے ساتھ آئیں جبکہ سیکرٹری فیڈرل پبلک سروس کمیشن نے اہم کاموں، بھرتیوں کے طریقوں، شکایات کے ازالے اور خالی آسامیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔

    اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیرتعلیم شفقت محمود نے کہا کہ سی ایس ایس کے ذریعے بھرتی کے علاوہ مختلف وزارتوں اور ڈویژنوں کی خالی آسامیوں پر جنرل بھرتی کا عمل سالوں تک التوا کا شکار رہتا ہے ، اس عمل کو 6 ماہ میں مکمل کرنے کے لیے فوری اصلاحات کی ضرورت ہے۔

    شفقت محمود نے کہا کہ ایف پی ایس سی پر 70 فیصد کام کا بوجھ 16 گریڈ کی بھرتیوں کی وجہ سے ہے، اس پر نظرثانی کی ضرورت ہے جبکہ سیکرٹری ایف پی ایس سی اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور سی سی آئی آر کو 16 گریڈ کی بھرتی متعلقہ وزارت، ڈویژن خود کرنے کے لیے تجویز بھیجیں۔

    وزیرتعلیم شفقت محمود کا مزید کہنا تھا کہ ایف پی ایس سی 17 اور اس سے اوپر کے گریڈ کی بھرتی کا عمل کرے گی، اس مقصد کے لیے ایف پی ایس سی کے آرڈیننس میں ترمیم کی جائے گی۔

  • قومی خواتین کرکٹ ٹیم کا تربیتی کیمپ 27 جنوری سے شروع ہوگا

    قومی خواتین کرکٹ ٹیم کا تربیتی کیمپ 27 جنوری سے شروع ہوگا

    لاہور:آئی سی سی ویمنز ورلڈکپ 2022 کی تیاریوں کے لیےقومی خواتین کرکٹ ٹیم کا تربیتی کیمپ 27 جنوری بروز جمعرات سے کراچی میں قائم کردہ منیجڈ آئسولیشن میں شروع ہوگا۔ایونٹ چار مارچ سے تین اپریل تک نیوزی لینڈ میں جاری رہے گا۔

    اسٹیٹ بنک اسٹیڈیم میں جاری رہنے والے دس روزہ تربیتی کیمپ میں شریک قومی خواتین کرکٹرز ہیڈ کوچ ڈیوڈ ہیمپ کی زیرنگرانی فٹنس اور اسکلز سیشنز میں شرکت کریں گی۔ اس دوران چار پریکٹس میچز بھی کھیلے جائیں گے۔ پریکٹس میچز میں شریک چھ انڈر 16 لڑکے بھی منیجڈ آئسولیشن کا حصہ ہوں گے۔

    کراچی پہنچنے پر اسکواڈ میں شامل تمام ارکان کی آرائیول کوویڈ 19 ٹیسٹنگ کی جائے گی، جس کے نتائج منفی آنے کی صورت میں انہیں منیجڈ آئسولیشن میں بھیج دیا جائے گا۔ دوسرے کوویڈ 19 ٹیسٹ کی رپورٹ منفی آنے پر منیجڈ آئسولیشن کے تیسرے روز کھلاڑیوں کو انڈور میں بھی آپس میں ملنے کی اجازت ہوگی۔

    وکٹ کیپر سدرہ نواز کا پیر کو لیا گیا ٹیسٹ مثبت آیا تھا، لہٰذا وہ اپنے گھر میں آئسولیشن مقرر کرنے کے بعدتاخیر سے کیمپ کو جوائن کریں گی۔

    قومی خواتین اسکواڈ 9 فروری کی صبح نیوزی لینڈ روانہ ہوگا۔

    اسکواڈ:
    بسمہ معروف (کپتان)، ندا ڈار (نائب کپتان)، ایمن انور، عالیہ ریاض، انعم امین، ڈیانا بیگ، فاطمہ ثناء، غلام فاطمہ، جویریہ خان، منیبہ علی، ناہیدہ خان، نشرہ سندھو، عمیمہ سہیل، سدرہ امین اور سدرہ نواز(وکٹ کیپر)

    ٹریولنگ ریزرو: ارم جاوید، نجیہ علوی (وکٹ کیپر) اور طوبہٰ حسن

    اسپورٹ اسٹاف: عائشہ جلیل (ٹیم منیجر)، ڈیوڈ ہیمپ (ہیڈ کوچ)، ارشد خان (اسسٹنٹ کوچ)، کامران حسین (اسسٹنٹ کوچ)، صبور احمد (اسٹرینتھ اینڈ کنڈیشنگ کوچ)، زبیر احمد (ویڈیو اینالسٹ)، احسن افتخار ناگی (میڈیا اینڈ ڈیجیٹل کنٹنٹ مینیجر) اور رفعت گل (فزیو تھراپسٹ)

    آئی سی سی ویمنز ورلڈکپ 2022 میں پاکستان کے میچز:
    6 مارچ : پاکستان بمقابلہ بھارت بمقام بے اوول، ترنگا
    8 مارچ: پاکستان بمقابلہ آسٹریلیا بمقام بے اوول، ترنگا
    11 مارچ : پاکستان بمقابلہ جنوبی افریقہ بمقام بے اوول، ترنگا
    14 مارچ : پاکستان بمقابلہ بنگلہ دیش بمقام سیڈون پارک، ہملٹن
    21 مارچ : پاکستان بمقابلہ ویسٹ انڈیز بمقام سیڈون پارک، ہملٹن
    24 مارچ: پاکستان بمقابلہ انگلینڈبمقام ہیگلے اوول کرائسٹ چرچ
    26 مارچ : پاکستان بمقابلہ نیوزی لینڈبمقام ہیگلے اوول کرائسٹ چرچ

  • ٹیکس سال 2019 کا آڈٹ کرنے کے لیے ایف بی آر نے تھرڈ پارٹی کی خدمات حاصل کرنے کافیصلہ

    ٹیکس سال 2019 کا آڈٹ کرنے کے لیے ایف بی آر نے تھرڈ پارٹی کی خدمات حاصل کرنے کافیصلہ

    اسلام آباد:ٹیکس سال 2019 کا آڈٹ کرنے کے لیے ایف بی آر نے تھرڈ پارٹی کی خدمات حاصل کرلیں ،اطلاعات کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) ٹیکس سال 2019 کے لیے کمپنیوں، ایسوسی ایشن آف پرسنز (AoPs) اور افراد کا آڈٹ کرنے کے لیے انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس، اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے کیس تھرڈ پارٹی کے سپرد کرنے کافیصلہ کرلیا ہے

    ذرائع کے مطابق ایف بی آر کو ٹیکس سال 2019 کے لیے کمپنیوں، اے او پیز اور افراد کے کیسز کا آڈٹ کرنے کے لیے تھرڈ پارٹی آڈیٹرز کے لیے فنڈنگ ​​کی منظوری درکار ہے۔

    ایف بی آر رینڈم بیلٹنگ کے ذریعے آڈٹ کے لیے کیسز کا انتخاب کرے گا۔ کیسز کا انتخاب رسک بیسڈ آڈٹ مینجمنٹ سسٹم (RAMS) کے ذریعے آڈٹ کے لیے کیا جائے گا۔ فنڈنگ ​​کی منظوری کے بعد، پھر ایف بی آر تھرڈ پارٹی آڈیٹرز کا انتخاب کرے گا۔

    ایف بی آر ٹیکس سال 2019 کے لیے کمپنیوں، اے او پیز اور افراد کے تھرڈ پارٹی آڈٹ کے لیے 50,000 سے زیادہ انکم ٹیکس کیسز کا احاطہ کرسکتا ہے

    انکم ٹیکس آرڈیننس، 2001 کے تحت، بورڈ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس کی ایک فرم کا تقرر کر سکتا ہے جیسا کہ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آرڈیننس، 1961 کے تحت بیان کیا گیا ہے یا لاگت اور مینجمنٹ اکاؤنٹنٹس کی ایک فرم جیسا کہ کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاؤنٹنٹس ایکٹ 1966 کے تحت بیان کیا گیا ہے کسی بھی شخص یا افراد کے طبقے کے انکم ٹیکس کے معاملات، اور اس طرح کے آڈٹ کا دائرہ بورڈ یا کمشنر کیس ٹو کیس کی بنیاد پر طے کرے گا۔

    یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ تھرڈ پارٹی آڈیٹرز آڈٹ کے لیے منتخب کیے گئے ٹیکس دہندگان کے ڈیٹا کی رازداری کو یقینی بنانے کے لیے رازداری کے ضابطے کی پابندی کرنے کے پابند ہوں گے۔

    انکم ٹیکس آرڈیننس، 2001 کے سیکشن 216(7) کے تحت رازداری کو چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ فرموں کے ذریعے اسٹامپ پیپرز پر یقینی بنایا جائے گا جیسا کہ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ آرڈیننس، 1961 کے تحت بیان کیا گیا ہے

    آڈٹ کے معیار کو بہتر،معیاری اور بروقت یقینی بنانے کے لیے، تھرڈ پارٹی آڈیٹرز کو ٹیکس دہندگان کے مالیاتی گوشواروں میں اعلان کردہ ٹرن اوور کے مطابق تین مختلف زمروں میں تقسیم کیا جائے گا۔

    ایف بی آر کی فیلڈ فارمیشنز بشمول ان لینڈ ریونیو آڈٹ افسران اور افسران کی دیگر کیٹیگریز کو اس سال آڈٹ کیسز تفویض نہیں کیے جائیں گے۔ انہیں بے ترتیب رائے شماری کے ذریعے منتخب ہونے والے مقدمات کو نوٹس جاری کرنے کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔

  • سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مرکزی ملزم کی ڈی پی او وہاڑی پوسٹنگ پر حیرت ہے:تحریک منہاج القرآن

    سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مرکزی ملزم کی ڈی پی او وہاڑی پوسٹنگ پر حیرت ہے:تحریک منہاج القرآن

    لاہور:سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مرکزی ملزم کی ڈی پی او وہاڑی پوسٹنگ پر حیرت ہے:تحریک منہاج القرآن نےاپنے ردعمل کا اظہار کردیا، اطلاعات کے مطابق سانحہ ماڈل کیس کے مدعی منہاج القرآن انٹرنیشنل کے رہنما جواد احمد نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مرکزی کردار اور نامزد پولیس افسر طارق عزیز کی ڈی پی او وہاڑی پوسٹنگ پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ سابق قاتل حکومت کی طرح اس دور میں بھی سانحہ ماڈل ٹاؤن کے قاتلوں کو ترقیاں اور پسندیدہ پوسٹس مل رہی ہیں،

    سانحہ ماڈل کیس کے مدعی منہاج القرآن انٹرنیشنل کے رہنما جواد احمد نے کہا ہے کہ طارق عزیز کو انسداد دہشتگردی عدالت لاہور نے بطور ملزم طلب کر رکھا ہے،ابھی انہیں کسی عدالت نے بری نہیں کیا،قتل عام کیس کے ملزم اہم عہدوں پر ہونگے تو لاء اینڈ آرڈر اور نظام انصاف کا اللہ حافظ ہے۔ہم اپنے بے گناہ کارکنوں کے قاتلوں اور ان کے محافظوں کو قانون کے کٹہرے میں ضرور لائیں گے،

    سانحہ ماڈل کیس کے مدعی منہاج القرآن انٹرنیشنل کے رہنما جواد احمد نےکہا ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں ملوث تمام کرداروں کو کیفر کردار کو پہنچیں گے۔ تحریک انصاف کی حکومت بنانے میں عوامی تحریک کے کارکنان کا خون شامل ہے جب بھی کسی نامزد قاتل کو ترقی ملتی ہے تو ہمارا خون کھولتا ہے، عمران خان کو بشکل انصاف مظلوموں کا ساتھ دینا چاہیے۔

    جواد حامد نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں 14 بے گناہوں کے قتل میں نامزد پولیس افسر طارق عزیز کی ڈی پی او وہاڑی پوسٹنگ پر حیرت اور افسوس ہے۔جواد حامد نے کہا کہ موجودہ دور حکومت میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ملزمان اور اہم کرداروں کو پہلے سے بہتر عہدوں پر تعینات کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ 7سال گزر جانے کے بعد بھی سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مظلوموں کو انصاف نہیں ملا۔

  • بھارت کا یوم جمہوریہ یوم سیاہ:مسلمانوں کےقاتل مودی اورمودی نوازوں کی مذمت کرتی ہوں:مشعال حسین ملک

    بھارت کا یوم جمہوریہ یوم سیاہ:مسلمانوں کےقاتل مودی اورمودی نوازوں کی مذمت کرتی ہوں:مشعال حسین ملک

    سری نگر:بھارت کا یوم جمہوریہ یوم سیاہ ہے:مسلمانوں کے قاتل مودی اور مودی نوازوں کی مذمت کرتی ہوں:اطلاعات کے مطابق حریت راہنما محمد یاسین ملک کی اہلیہ نے یوم سیاہ کے موقع پرکہا کہ اپنے کشمیری ماؤں، بہنوں، بزرگوں اور بھائیوں کوان کی قربانیوں اورناقابل تسخیر جذبے کو سلام پیش کرتی ہوں ۔

    اسلام آباد چیر پرسن پیس اینڈ کلچرآرگنائزیشن وحریت راہنما محمد یاسین ملک کی اہلیہ نے 26جنوری کے حوالے سے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ 26جنوری 1950ء کا دن بھارتی یوم جمہوریہ نہیں بلکہ یوم سیاہ ہے ۔

    انکا کہنا تھا کہ آج کے دن 75 سال قبل بھارتی افواج بین الاقوامی قانون اور انسانی اصولوں کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے سرینگرپر غیر قانونی طور پر قبضہ کرنے اور جموں و کشمیر کے لوگوں کو محکوم بنانے کے لیے اتری تھیں۔

    مشعال حسین ملک نے کہا کہ جس کے بعد آج تک بھارتی افواج مقبوضہ جموں وکشمیر میں ظلم وبربریت کی انتہاکرچکی ہیں ،کئی ماؤں کی گودوں کو اُجاڑ دیا گیا،کئی نوجوان بھارتی افواج کے ظُلم سے شہادت پاچکے ،کئی نوجوان اور عورتیں بھارتی بیلٹ گنز کا شکار ہوکراپنی بینائی کھوچکے ہیں ۔

    مشعال حسین ملک نے کہا کہ 5اگست2019ء کوبھارت نے ایک مقبوضہ وجموں کشمیر پر ایک اور ظُلم کیا اور وہ یہ کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو تبدیل اور اس کے آبادیاتی ڈھانچے کو تبدیل کرنےکی ایک بڑی سازش رچی اوراس صورتحال میں عالمی برادری خاموش تماشائی کا کرداراداکررہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ہمیشہ کی طرح پاکستان نے بین الاقوامی قانون ، متعلقہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) کی قراردادوں کے ذریعے مسترد کیا۔

    مشعال حسین ملک نے بتایا کہ نو لاکھ سے زائد بھارتی قابض افواج نے 80 لاکھ کشمیریوں کو حراست میں لے کر مقبوضہ علاقے کو دنیا کی سب سے بڑی کھلی جیل میں تبدیل کر دیا ہے۔

    انکا کہنا تھا کہ بھارت کے غیر انسانی فوجی محاصرے، مسلسل ناکہ بندی، مسلسل تشدد اور وحشیانہ جبر اور مقبوضہ علاقے کے آبادیاتی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی کوششوں نے ’ہندوتوا‘ سے چلنے والی بی جے پی اور آر ایس ایس کی حکومت اور اس کے انتہا پسندانہ عزائم کا اصل چہرہ دکھا دیا ہے ۔

    مشعال حسین ملک نے بتایا کہ بھارتی مظالم کی ہولناک نوعیت اور پیمانے کے باوجود، اور بھارتی ریاستی دہشت گردی کی بدترین شکل کا سامنا کرنے کے باوجود،مقبوضہ جموں وکشمیر کی عوام نے ہمیشہ کی طرح غیر معمولی جرات، طاقت اور لچک کا مظاہرہ کیا ہے انہوں نے ثابت کر دیا ہے کہ بھارت وحشیانہ طاقت کے استعمال سے ان کی مرضی نہیں توڑ سکتا ۔

    حریت راہنما محمد یاسین ملک کی اہلیہ نے مزید کہا کہ میں اپنے کشمیری ماؤں ،بہنوں ،بزرگوں اور بھائیوں کو یوم سیاہ کے موقع پر ان کی قربانیوں اور ان کے ناقابل تسخیر جذبے کو سلام پیش کرتی ہوں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ اوریہ عہد کرتی ہوں کہ جب تک کشمیری بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں میں درج جائز حق خودارادیت حاصل نہیں کر لیتی انشا اللہ اپنی جدوجدجاری رکھوں گی ۔

    یاد رہے کہ بھارت کا یوم جمہوریہ آج مقبوضہ کشمیر میں یوم سیاہ کے طور پر منایا جائے گا۔حریت کانفرنس کی اپیل پر وادی میں مکمل ہڑتال ہوگی، بھارت مخالف مظاہرے اور ریلیاں نکالی جائیں گی۔

  • مرزا شہزاد اکبر کے بعد وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب کون؟اہم نام سامنے آگیا

    مرزا شہزاد اکبر کے بعد وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب کون؟اہم نام سامنے آگیا

    اسلام آباد:مرزا شہزاد اکبر کے بعد وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب کون؟اہم نام سامنے آگیا،اطلاعات کے مطابق قانون دان شہزاد اکبر کے مستعفی ہونے کے بعد ایک اہم اور بڑے ہی متحرک شخص کو معاون خصوصی احتساب بنائے جانے کا امکان ہے۔

    تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے سابق مشیر برائے داخلہ شہزاد اکبر کی جگہ نئے ناموں کے لیے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے مشاورت مکمل کر لی گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق بریگیڈئر (ر) مصدق عباسی کو معاون خصوصی احتساب بنائے جانے کا امکان ہے۔یاد رہے کہ بریگیڈیئر (ر) مصدق عباسی سابق ڈی جی نیب رہے ہیں۔

     

     

     

     

    یاد رہے کہ 24 جنوری کو سابق مشیر برائے احتساب اور داخلہ مرزا شہزاد اکبر نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا تھا۔شہزاد اکبر کی جانب سے استعفیٰ دینے کا یہ اعلان پیر کے روز ٹوئٹر اکاؤنٹ پر کیا گیا۔

    ٹویٹ میں ان کا کہنا تھا کہ میں نے وزیراعظم کے مشیر کی حیثیت سے استعفیٰ دے دیا۔ میں مخلصانہ امید رکھتا ہوں کہ احتساب کا عمل وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں پی ٹی آئی کے منشور کے مطابق جاری رہے گا۔ وہ پارٹی کے ساتھ منسلک رہیں گے اور بحیثیت قانون دان اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔

     

     

    یونیورسٹی آف لندن کے گریجویٹ اور پیشے کے لحاظ سے قانون دان شہزاد اکبر اگست 2020 سے وزیراعظم عمران خان کی کابینہ میں مشیر کی حیثیت سے کام کر رہے تھے، اس سے قبل وہ معاون خصوصی کے عہدے پر فائز رہے تھے۔ انہوں نے پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے بنائے گئے ’ایسٹ ریکوری یونٹ‘ کے سربراہ کے طور پر کام کیا۔

     

     

    حکومت کا حصہ بننے سے بیرسٹر شہزاد اکبر، قومی احتساب بیورو (نیب) کے ڈپٹی پروسیکیوٹر کی حیثیت سے بھی کام کرتے رہے ہیں۔

  • پاکستان کی خوش قسمت جوڑی:رضوان کے بعد بابراعظم سب پربازی لے گئے

    پاکستان کی خوش قسمت جوڑی:رضوان کے بعد بابراعظم سب پربازی لے گئے

    دبئی:پاکستان کی خوش قسمت جوڑی:رضوان کے بعد بابراعظم سب پربازی لے گئے،اطلاعات کے مطابق پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے کرکٹ کے میدان میں ایک ایسی خوش قسمت اور خوبصورت جوڑی دی ہے جوپاکستان کے لیے بڑے بڑے اعزازات جیتنے کے سبب بن رہے ہیں‌،

    چند دن پہلے پاکستان کرکٹ ٹیم کے د رویش صفت کھلاڑی محمد رضوان کوعالمی اعزاز ملا توآج آئی سی سی ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں پاکستان ٹیم کے کپتان بابر اعظم کی پہلی پوزیشن برقرار ہے۔

    آئی سی سی کی جانب سے جاری کی گئی تازہ ترین ون ڈے رینکنگ کے مطابق بھارت کے سابق کپتان ویرات کوہلی بھی بدستور دوسرے نمبر پر موجود ہیں جبکہ پاکستان کے فخر زمان کا 12 واں نمبر ہے۔

    ون ڈے بولرز کی رینکنگ میں نیوزی لینڈ کے ٹرینٹ بولٹ پہلے نمبر پر ہیں جبکہ آسٹریلیا کے جوش ہیزل ووڈ دوسرے اور انگلینڈ کے کرس ووکس ایک درجے ترقی کے ساتھ تیسرے نمبر پر آ گئے ہیں۔

    ٹی ٹوئنٹی بیٹسمینوں کی رینکنگ میں بابر اعظم کا پہلا نمبر برقرار ہے جبکہ پاکستان کے محمد رضوان دوسرے نمبر پر آ گئے ہیں۔ جنوبی افریقا کے ایڈن مارکرم تیسرے اور انگلینڈ کے ڈیوڈ ملان چوتھے نمبر پر موجود ہیں۔

    آل راؤنڈرز رینکنگ
    ون ڈے آل راونڈرز کی رینکنگ میں بنگلادیش کے شکیب الحسن پہلے نمبر پر ہیں جبکہ ٹی ٹوئنٹی آل راؤنڈرز کی رینکنگ میں افغانستان کے محمد نبی پہلے نمبر پر ہیں۔

  • ٹرانسپریسی انٹرنیشنل کرپٹ افرادکےخلاف ثبوت دے:       کارروائی ہوگی:زبانی الزامات ہوئےتوپھرحساب دیناپڑےگا

    ٹرانسپریسی انٹرنیشنل کرپٹ افرادکےخلاف ثبوت دے: کارروائی ہوگی:زبانی الزامات ہوئےتوپھرحساب دیناپڑےگا

    لاہور:ٹرانسپریسی انٹرنیشنل کرپٹ افراد کے خلاف ثبوت دے:کارروائی ہوگی:زبانی کلامی الزامات ہوئے توپھرحساب دینا پڑے گا ،پچھلے کئی دنوں‌ سے ایک بحث چل رہی ہےکہ پاکستان میں کرپشن بڑھی ہے اور اس کا گراف مزید نیچے چلا گیا ہے، اس حوالے سے پاکستان میں کچھ ایسی این جی اوز گاہے بگاہے ایسی رپورٹ اس وقت پیش کرتی رہتی ہیں جبک حکومت کو سیاسی طور پرنقصان پہنچانا مقصود ہو

    اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ واقعی پاکستان میں کرپشن میں اضافہ ہوا ہے اور تو اس کے لیے ایسے الزامات لگانے والوں کو ثبوت دینے چاہیں تاکہ حکومت ان کرپٹ افراد اور اداروں کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کرسکیں اور اس برائی کا خاتمہ کرسکیں ،

    ٹرانسپریسی انٹرنیشنل کو چاہیے کہ وہ حکومت کے ساتھ ان افراد کے نام شیئر کرے اور جو کرپشن کی گئی ہے اس کا ثبوت دے ، ایسے زبانی کلامی اہل وطن پرالزام تراشی کا یہ مناسب انداز نہیں ہے ، ٹرانسپریسی انٹرنیشنل کا یہ کہنا ہے کہ پاکستان میں کرپشن بڑھی ہے تو کون ہے کرپٹ؟

    اس این جی او نے تو پوری قوم کو کرپٹ بنادیا،ہر سنُنے والے کو پتہ ہی نہیں‌ کہ کون کرپٹ ہے ،ایسے اندھے الزامات کی صورت میں تو ہرکوئی ایک دوسرے کی طرف شک سےدیکھے گا ،یہ شک انسانوں کے درمیان محبت اوراعتماد کو تباہ کرکے رکھ دیتا ہے ، ایسے اندھے الزامات ہرشخص اپنے مخالف پرمن گھڑت الزامات کی تیراندازی کرکے اس کی شخصیت کو داغدار کرنے کی کوشش کرے گااور یہی کچھ ہورہا ہے،

    ان الزامات کےبعد ماتحت اپنے افسران کی طرف شک کی نظرسے دیکھیں تویہ بھی اچھا نہیں اوراگرافسران اپنے ماتحت عملے کو شک کی نظرسےدیکھیں تو یہ بھی اچھا نہیں ، ٹرانسپریسی انٹرنیشنل نے تواس بیماری کے علاج کی بجائے الٹا بیماراور نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے

    یورپ ، مغرب اور دیگردنیا میں پہلے ثبوت رکھے جاتے ہیں اورپھردعویٰ کیا جاتا ہے لیکن یہاں تو معاملہ ہی الٹ ہے ، الزامات کی بوچھاڑ کی کردی گئی اور ثبوت ایک بھی نہیں

    جہاں تک تعلق ہے وزیراعظم عمران خان کے کرپشن کے خلاف دعووں کا تو یہ الزامات عمران‌ خان نے تو نہیں لگائے تھے ، یہ تو نوازشریف نے آصف علی زرداری اور پی پی کی حکومت آئی تو اس نے نوازشریف کی شریفانہ کرپشن کے ثبوت سب کے سامنے رکھ دیئے اور یہ احتساب کا عمل بھی نوازشریف کے دور سے شروع ہوا تھا جب سیف الرحمن کومیاں نوازشریف نے کہا کہ آصف علی زرداری اور پی پی کو اس حد تک داغدار کردیں کہ وہ سیاست میں زندہ ہونے کے قابل نہ رہ جائیں

    اور پھرسابق صدر جنرل پرویز مشریف نے نوازشریف کا مشن جاری رکھتے ہوئے احتساب کا آگے بڑھانے کی کوشش کی اور پھرایک وقت آیا کہ اپنا اقتداربچانے کی خاطرشریف برادران اور آصف علی رزداری کی کرپشن کوڈیل کےذریعے حلال کربیٹھے ، اس کےبعد پی پی اور ن لیگ نے موجودہ احتسابی عمل کی بنیاد رکھی

    بات ہورہی ہے کہ عمران خان نے کسی پر براہ راست کرپٹ ہونے کا الزام نہیں لگایا ، بلکہ انہوں نے ان حقائق کا حوالہ دیا جونوازشریف اور پی پی قیادت نے ایک دوسرے کے خلاف پیش کیے تھے اور جس کرپشن پرعدالت عظمیٰ نے نوازشریف کوبد عنوان اور مافیا قرار دے کروزارت عظمیٰ‌کے منصب سے الگ کردیا تھا

    ان حالات میں ٹرانسپریسی انٹرنیشنل کو چاہیے کہ وہ ثبوت پیش کرے جس طرح‌ شریف برادران اور آصف علی زرداری کے خلاف عدالتوں میں ثبوت ہیں

    اس ملک کے کس شہری نے کتنی کرپشن کی اور کب سے کب تک کی ،یہ ثبوت فراہم کرے

    ان زبانی کلامی الزامات سے ان لوگوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے کہ جن کے خلاف عدالتوں میں کرپشن کے کیسزثبوتوں کی بنیاد پرچل رہے ہیں اور ان زبانی کلامی الزامات سے ہرشہری دوسرے کی طرف شک کی نظر سے دیکھ رہا ہے اور الزامات کا یہ سلسلہ شیطانیت کی انتہا ہے جوپرامن معاشروں کے پرامن شہریوں کو ایک دوسرے سے دور کردے

    ٹرانسپریسی انٹرنیشنل اپنے الزامات کے ثبوت فراہم کرے ، افراد کے نام بتائے ،محکموں کی نشاندہی کرے اور کتنی کرپشن کی اس کی تفصیلات فراہم کرے ،اگرایسا نہیں ہے تو پھرٹرانسپریسی قوم کے سامنے معافی مانگے اور معافی اس صورت میں قابل قبول ہوگی جب یہ ادارہ ان قوتوں کی نشادہی کرے گا جنہوں‌ نے اس ادارے کو ڈھال بناکرسیاسی فوائد حاصل کرنے کی کوشش کی ،20 سال سے ایسی این جی اوز کی شام غریباں کو جانتا ہوں ، ان کی کرڈیبلٹی کا پہچانتا ہوں

  • بھارت جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کی ماں ہےاور مودی اس کا روح رواں‌ ہے: منیر اکرم

    بھارت جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کی ماں ہےاور مودی اس کا روح رواں‌ ہے: منیر اکرم

    نیویارک :بھارت جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کی ماں ہےاور مودی اس کا روح رواں‌ ہے:اطلاعات کے مطابق اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے کہا ہے کہ بھارت دہشت گردی سے متاثر نہیں بلکہ جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کی ماں ہے۔

    اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بھارت نے 1989سے اب تک اپنے غیر قانونی زیر تسلط جموںو کشمیر میں96ہزارسے زائد کشمیریوں کو شہید کیاجبکہ اس دوران مقبوضہ علاقے میں تقریبا 23ہزارخواتین کو بیوہ، 11ہزار سے زائد خواتین کی بے حرمتی کی گئی اور ایک لاکھ مکانات اور اسکولوں سمیت دیگر عمارتوں کو تباہ کیاگیا۔

    منیراکرم نے کہاکہ 5اگست 2019کے بعد سے 9لاکھ سے زائد بھارتی فوجی مقبوضہ کشمیر میں تعینات ہیںجبکہ بے گناہ کشمیری نوجوانوں کو ماورائے عدالت قتل کرنے کے لیے جعلی مقابلوں کا سہارا لیا جا رہا ہے، کشمیریوں کی املاک کو تباہ اورنظر آتش کر کے انہیںاجتماعی سزائیں دی جا رہی ہیں۔ان کامزید کہنا تھا کہ بھارتی فوجیوں نے مہلک پیلٹ گن کا استعمال کر کے سیکڑوں کشمیری بچوں کونابینا کردیا ہے جبکہ 13ہزار کشمیری نوجوانوں کو زبردستی حراست میں لیا گیا اور مقبوضہ کشمیر کو مسلم اکثریتی ریاست سے ہندو اکثریتی علاقے میں تبدیل کرنے کا عمل جاری ہے۔

    اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے کہاکہ پاکستان نے گزشتہ سال ایک جامع اور تحقیق شدہ ڈوزئیر جاری کیاتھا جس میں 1989سے بھارتی قابض افواج کے جنگی جرائم کے تین ہزار 432واقعات کے آڈیو اور ویڈیو شواہد شامل کئے گئے تھے ۔ انہوں نے کہاکہ ہم سلامتی کونسل سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ان جرائم کے مصدقہ ثبوتوں کا نوٹس لے اور جنگی جرائم و بین الاقوامی انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں پر بھارتی اہلکاروں کو جوابدہ ٹھہرائے۔

    پاکستانی مندوب نے کہاکہ بھارت دہشت گردی کا شکار نہیں ہے بلکہ بھارت جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کی ماں ہے جبکہ پاکستان نے 2014سے انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں سے اپنی سرزمین کو دہشت گرد گروپوں سے پاک کیا۔ انہوں نے کہاکہ ہمارا سب سے بڑا چیلنج بھارت اور افغانستان کی سرزمین سے مسلسل دہشت گردانہ حملے ہیں، ان دہشت گرد حملوں کی مالی معاونت، سرپرستی اور حمایت کی جاتی ہے، بھارتی خفیہ ایجنسی کے تعاون سے ٹی ٹی پی اور جے یو اے پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہے۔

    اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے مزید بتایا کہ 2020میں پاکستانی فوجی اور شہری اہداف کے خلاف ایک ہزار سے زائد سرحد پار دہشت گرد حملے کیے گئے، بھارت نے 29 جون 2020کو کراچی اسٹاک ایکسچینج سمیت پاکستانی فوجی اور شہری اہداف پر حملوں میں معاونت کی، بھارت نے سلامتی کونسل کی فہرست میں شامل دہشت گرد اداروں کی مالی اعانت اور حمایت کی، 23جون 2021کو لاہور اور 14جولائی 2021کو داسو میں چینی اور پاکستانی انجینئروں کا قتل کیا۔

    منیر اکرم نے سلامتی کونسل کی توجہ فروری 2020میں نئی دلی میں مسلم مخالف قتل عام کی طرف بھی مبذول کرائی ۔ انہوں نے کہاکہ بھارت میںروزانہ کی بنیاد پر مسلمانوں کی ٹارگٹ کلنگ کی گئی، گزشتہ سال بھارت میں عیسائی گرجا گھروں پر 400حملے کیے گئے۔پاکستانی مندوب نے کہاکہ دو ہفتے قبل انتہا پسند ہندوتوا کی طرف سے بھارت کے مسلمانوں کی نسل کشی کا اعلان کیا گیا، سلامتی کونسل کو جینوسائیڈ واچ کے سربراہ کی بات ماننی چاہیے کہ ہندوستان میں نسل کشیُ ہو سکتی ہے۔

  • بھارت کا یوم جمہوریہ کشمیری قوم یوم سیاہ کے طورپرمنارہی ہے:مودی فسطائیت کی مذمت جاری

    بھارت کا یوم جمہوریہ کشمیری قوم یوم سیاہ کے طورپرمنارہی ہے:مودی فسطائیت کی مذمت جاری

    سری نگر :بھارت کا یوم جمہوریہ کشمیری قوم یوم سیاہ کے طورپرمنارہی ہے:مودی فسطائیت کی مذمت جاری،اطلاعات کے مطابق کنٹرول لائن کے دونوں جانب اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج بھارت کا یوم جمہوریہ یوم سیاہ کے طور پر منارہے ہیں تاکہ عالمی برادری کویاد دلایا جاسکے کہ بھار ت کی طرف سے کشمیریوں کو انکا حق خودارادیت دینے سے مسلسل انکار ایک جمہوری ملک ہونے کے اس کے دعویٰ کی نفی کرتا ہے ۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق یوم سیاہ منانے کی کال کل جماعتی حریت کانفرنس کے غیر قانونی طور پر نظربند چیئرمین مسرت عالم بٹ، میرواعظ عمر فاروق، شبیراحمد شاہ اورجموں و کشمیر لبریشن فرنٹ نے دی ہے اور دیگر حریت رہنماؤں نے اس کی حمایت کی ہے۔ مقبوضہ جموں وکشمیر میں آج کشمیری سول کرفیو نافذ کر رہے ہیں جبکہ قابض انتظامیہ نے انٹرنیٹ سروس معطل کر دی ہے۔کشمیری اوران کے ہمدرد عالمی برادری کی توجہ مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی ریاستی دہشت گردی کی طرف مبذو ل کرانے کیلئے عالمی دارلحکومتوں میں بھارت مخالف مظاہرے اورریلیاں نکال رہے ہیں۔

    ادھر بھارتی قابض انتظامیہ نے پوری وادی کشمیر اور جموں خطے کے متعدد علاقوں کو نام نہاد سیکورٹی کے نام پر کرفیو جیسی پابندیاں لگا کر فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر دیاہے۔ بھارتی فوجی اور پولیس اہلکارلوگوں کو چیک پوسٹوں پر رکنے پر مجبور کررہے ہیں اور ان کی سخت تلاشی لے رہے ہیں۔ 26 جنوری کی تقریبات کے مرکزی مقامات بالخصوص کرکٹ اسٹیڈیم سونہ وار سرینگر اور مولانا آزاد اسٹیڈیم جموں کے ارد گرد بڑی تعداد میں بھارتی فوجیوں کو تعینات کیا گیا ہے۔

    دونوں اسٹیڈیموں کی طرف جانے والی سڑکوں کی ناکہ بندی کر دی گئی ہے ۔بلند عمارتوں پر ماہر نشانہ باز تعینات کئے گئے ہیں جبکہ لوگوں کی نگرانی کیلئے سراغرسا ں کتے اور ڈرونز اور سی سی ٹی وی کیمرے استعمال کئے جارہے ہیں۔نام نہاد یوم جمہوریہ کے موقع پر بھارت مخالف مظاہروں کو روکنے کے لیے مختلف علاقوں میں نئے بنکرز اور رکاوٹیں بھی کھڑی کی گئی ہیں۔فورسز اہلکار اچانک گھروں کی تلاشی لے رہے ہیں۔