Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • کوئٹہ میں ینگ ڈاکٹرز کا ریڈ زون میں احتجاج،پولیس کا لاٹھی چارج:پولیس والے ہی زخمی ہوگئے

    کوئٹہ میں ینگ ڈاکٹرز کا ریڈ زون میں احتجاج،پولیس کا لاٹھی چارج:پولیس والے ہی زخمی ہوگئے

    کوئٹہ :کوئٹہ میں ینگ ڈاکٹرز کا ریڈ زون میں احتجاج،پولیس کا لاٹھی چارج:پولیس والے ہی زخمی ہوگئے،اطلاعات کے مطابق کوئٹہ میں ینگ ڈاکٹرز نے ریڈ زون جانے کی کوشش کی جس پر پولیس نے ان پر لاٹھی چارج کیا اور 20 ڈکٹروں کو گرفتار کر لیا جبکہ 6 پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے۔

    یاد رہے کہ بلوچستان کے ینگ ڈاکٹرز نے آج مطالبات کےحق میں ریڈزون میں وزیراعلیٰ ہاؤس کےسامنے مظاہرے کااعلان کر رکھا تھا۔یہ بھی یاد رہے کہ ینگ ڈاکٹرز مطالبات کے حق میں گزشتہ ڈیڑھ ماہ سےزائد عرصے سے ہڑتال اور احتجاج پر ہیں۔

    کوئٹہ سے ذرائع کے مطابق ینگ ڈاکٹرز کی سنڈیمن اسپتال سے انسکمب روڈ پر احتجاجی ریلی میں ینگ ڈاکٹرز کےعلاوہ پیرا میڈیکل اسٹاف اور نرسز کےنمائندے بھی شریک ہیں۔ینگ ڈاکٹرز کی ریلی کےموقع پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے جبکہ ریڈزون کو جانے والےراستے خاردار تاریں لگا کر بند کردیے گئے ہیں۔

    ترجمان وائی ڈی اے کے مطابق پولیس کے تشدد سے10 سے زائد ینگ ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل عملےکےارکان زخمی ہوگئے۔

    دوسری طرف کوئٹہ کے سرکاری اسپتالوں میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال کے باعث ان ڈور سروسز اور او پی ڈیز بند ہیں۔ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال کے باعث مریضوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    مریضوں کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت اور محکمہ صحت ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال پر بے توجہی اور بےحسی کا شکار ہیں، انہیں عوام کے کسی مسئلے کا ادراک نہیں ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال کا نوٹس لیتے ہوئے اسے فوری ختم کروائے تاکہ عوام کو سہولت میسر آسکے۔

  • کورونا وبا:ملک میں اموات اور مثبت کیسز کی شرح میں اضافہ

    کورونا وبا:ملک میں اموات اور مثبت کیسز کی شرح میں اضافہ

    پاکستان میں عالمی وبا کورونا وائرس سے اموات میں اضافہ، ایک دن میں مزید 13 افراد جاں بحق ہو گئےجبکہ ایک دن میں دنیا بھر میں 27 لاکھ 72 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے-

    باغی ٹی وی : نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 44 ہزار 120 کورونا ٹیسٹ کیے گئے مزید 2 ہزار 74 کورونا کیسز رپورٹ ہوئے۔

    کورونا وبا:ملک میں ایک ہزار 467 کیسز رپورٹ،2 افراد جاں بحق

    این سی او سی کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں ملک میں کورونا کیسز کی مجموعی تعداد 13 لاکھ 9 ہزار 248 جبکہ اموات کی مجموعی تعداد 28 ہزار 987 ہو گئی ہے اور مثبت کیسز کی شرح 4.70 فیصد رہی۔

    سندھ میں کورونا کے کیسز کی تعداد 4 لاکھ 90 ہزار010، خیبر پختونخوا میں ایک لاکھ 81 ہزار842، پنجاب میں 4 لاکھ 48 ہزار 924، اسلام آباد میں ایک لاکھ 9ہزار 660، بلوچستان میں 33 ہزار 664، آزاد کشمیر میں 34 ہزار 715 اور گلگت بلتستان میں 10 ہزار 433 ہو گئی ہے۔

    کورونا وبا کے دوران خدمات سرانجام دینےوالے ورکرزمیں تعریفی اسناد اور شیلڈزتقسیم

    کورونا کے سبب سب سے زیادہ اموات پنجاب میں ہوئی ہیں جہاں 13 ہزار083افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ سندھ میں 7 ہزار 691، خیبرپختونخوا 5 ہزار 945، اسلام آباد 967، گلگت بلتستان 186، بلوچستان میں 367 اور آزاد کشمیر میں 748 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

    دوسری جانب دنیا میں کورونا کی نئی لہر میں تیزی برقرار ہے ایک دن میں دنیا بھر میں 27 لاکھ 72 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ، اسپین میں ایک لاکھ 35،ارجنٹائن میں ایک لاکھ 34 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے-

    کورونا،ڈیلٹا،اومی کرون،فلورونا کے بعد ڈیلٹا کرون:نیاوائرس کتنا خطرناک ہے ماہرین نے…

    بھارت میں ایک لاکھ 85 ہزار،برطانیہ میں ایک لاکھ 20 ہزارسے زائد کیسز رپورٹ ، فرانس میں 3 لاکھ68 ہزار،اٹلی میں 2 لاکھ 20 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ کئے گئے جبکہ امریکہ میں 6 لاکھ 72 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے-

    جاپان نےکورونا کے پھیلاؤ کا ذمہ دار امریکی فوجی اڈوں کو قرار دے دیا

  • "باغی ٹی وی”کی10ویں سالگرہ:پاکستان سمیت دنیا    بھرکےدلوں کی دھڑکن:مبارکباد،نیک خواہشات کےپیغامات

    "باغی ٹی وی”کی10ویں سالگرہ:پاکستان سمیت دنیا بھرکےدلوں کی دھڑکن:مبارکباد،نیک خواہشات کےپیغامات

    لاہور:”باغی ٹی وی”کی آج 10 ویں سالگرہ:پاکستان سمیت دنیابھرمیں‌ لوگوں کے دل کی دھڑکن بن گیا،تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا کی دنیا کے نئے اورابھرتے ہوئے ٹی وی چینل جسے دنیا”باغی ٹی وی ” کے نام سے جانتی ہے کامیابیوں کے ساتھ اپنے قیام کے 10 سال مکمل کرلیئے ہیں‌

    "باغی ٹی وی ” جس کا آغازآج سے ٹھیک 10 سال پہلے لاہورشہر میں ہوا آج دنیا کے کم وبیش 195 ممالک میں دیکھا اورسنا جاتا ہے ، سوشل میڈیا کے اس نئے ٹی وی چینل کے قیام کا مقصد کرپشن ، جہالت ، ظلم اور زیادتی کے خلاف جدوجہد کرنا اوران برائیوں کے خاتمے کے لیے معاشرے کی آوازکو بلند کرنا اوراسے مناسب فورم پر پیش کرنا تھا اورہے بھی اور رہے گا بھی

    اس چینل نے جہاں ان برائیوں کے خلاف جدوجہد جاری رکھی وہاں حق ، سچ ، مظلوم کی مدد اوردنیا سے جہالت ختم کرنےکے لیے اپنا بھرپورکردار ادا کیا جسے دنیا تسلیم بھی کرتی ہے

    اس کے ساتھ ساتھ "باغی ٹی وی ” نے معاشرے کی دیگر اہم مسائل کو بھی اجاگر کیااس دوران بہت سی رپورٹس پرسرکاری حکام ، سرکاری اداروں نے کارروائیاں کیں

    اس ٹی وی چینل نے پہلی مرتبہ پچھلے سال رمضان المبارک میں 24 گھنٹے پورا مہینہ لائیو نشریات چلاکرایک ریکارڈ قائم کردیا جوکہ اس سے پہلے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے کسی ٹی وی چینل کو یہ اعزاز حاصل نہیں

    باغی ٹی وی کا ہیڈ آفس یا سینٹرل آفس لاہور ڈی ایچ اے میں ہے ،جبکہ کراچی میں باغی ٹی وی کا صوبائی دفتر ہے جہاں سے کراچی سمیت پورے سندھ میں معیاری خبریں اورتجزیے تبصرے فراہم کیے جارہے ہیں‌ اس کے ساتھ ساتھ باغی ٹی وی کے ملک بھرمیں نمائندے ہیں

    باغی ٹی وی کی نشریات اس وقت 4 بین الاقوامی زبانوں میں جاری ہیں ، ان میں قومی زبان اردو،انگلش ، چینی اور پشتوزبان میں نشریات جاری ہیں اور اس بات کا بھی امکان ہےکہ اگلے چند ہفتوں تک ہمسائیہ ممالک میں نشریات پہنچانے کے لیے وہاں کی زبانوں میں بھی نشریات شرو ع ہوجائیں اور زیادہ امکان بھارت کے کونے کونے تک اس چینل کی نشریات کو پہنچانا ہے

    اس کے علاوہ باغی ٹی وی کے چاہنے والوں کا حلقہ پوری دنیا تک پھیلا ہوا ہے ، اگریہ کہا جائے کہ باغی ٹی وی کے دنیا کے تمام براعظموں میں چاہنے والے موجود ہیں‌

    جہاں اس ٹی وی چینل کی کامیابی کا ذکربڑی خوشی سے کیا جارہا ہے وہاں اگر باغی ٹی وی کی رہنمائی کرنے والی اہم شخصیت کا اگرذکرنہ کیا جائے تو ناانصافی ہوگی

    یہ شخصیت ہیں معروف صحافی ، سنیئر تجزیہ نگار،مشرق وسطیٰ ، جنوبی ایشیا اوردفاعی امور کے ماہر مبشرلقمان ہیں ، مبشرلقمان باغی ٹی وی کی سرپرستی فرما رہے ہیں

    اس موقع پر یہ بھی یاد رہےکہ مبشرلقمان نے اس دور میں باغی ٹی وی کے ملازمین کوحوصلے دیئے جب بڑے بڑئے میڈیا ڈان اپنے ملازمین کی تنخواہیں اورمراعات ہڑپ کرچکے تھے

    ان حالات میں مبشرلقمان نے نہ صرف ملازمین کے حوصلے بلند کئے بلکہ ان کو بروقت تنخواہیں اورمراعات دینے کا سلسلہ قائم رکھا جوآج تک جاری وساری ہے

    باغی ٹی وی کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ اس چینل سے معاشرے میں فرقہ واریت کے خاتمے اورباہمی بھائی چارے کی فضا قائم کرنے کے لیے جدوجہد کے انداز میں کوششیں جاری وساری رکھی ہیں‌

    باغی ٹی وی پردست شفقت رکھنے والے سنیئر تجزیہ نگارمبشرلقمان نے کبھی بھی اس چینل پرعریانی وفحاشی کوپروموٹ کرنے کی اجازت نہیں دی بلکہ سختی سے اسلامی اور ملی اقدار کی پاسداری کرنے کا حکم دیا جو ان کی دینی شعار سے محبت کا ایک فطری انداز ہے

    باغی ٹی وی کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ دنیا میں سب سے پہلے جب کرونا وائرس نے چین میں پنجے گاڑنے شروع کیئے تو اس وقت باغی ٹی وی ہی تھا جس نے سب سے پہلے اس خطرے سے آگاہ کیا اوراج تک رہنمائی کا یہ سلسلہ جاری ہے

    ان حالات میں جب کرونا نے دنیا کواپنی لپیٹ میں لے لیا اورنظام زندگی درہم برہم ہوگیا بڑے بڑے ادارے تباہ ہوگئے ، ان حالات میں میڈیا کی دنیا میں بھی بہت زیادہ مشکلات آئیں اوراکثروبشتر میڈیا گروپس میں ایک سقوط سا آگیا تھا لیکن اس مشکل دور میں بھی "باغی ” ٹی وی ہی وہ ایک ایسا منظم ادارہ ہے جس کی مینجمنٹ نے اس مشکل دور میں بھی نہ صرف اپنا وجود برقرار رکھا بلکہ پاکستان بھر میں اپنے نمائندگان کو بھی متحرک رکھا

    اس دوران "باغی ” ٹی وی نے ایک نیا انداز نیا اسٹائل دیا جوپہلے پاکستان میں اس قدر متعارف نہیں تھا ،

    "باغی ” ٹی وی نے اپنے ایڈیٹرز کوورک فرام ہوم کا نیا انداز دیا

    اس نئے انداز میں "باغی ” ٹی وی کے ایڈیٹران کو گھر سے کام کرنے کی اجازت دی اورپھرایسا میکنزم ڈیزائن دیا کہ لاہور میں بیٹھ کرپورے ملک سے ایڈیٹراان اورنمالئندگان کے کام کی لائیو مانیٹرنگ کرکے سب کو پیچھے چھوڑ دیا

    باغی ٹی وی کے اس اسٹائل کے بعد اب ایسے کئی ٹی وی چینلز نے بھی یہی اندازاختیارکیا ہے

    باغی ٹی وی کے 10 سال کے مکمل ہونے پر پاکستان سمیت دنیا بھر سے مبارک باد کے پیغامات بھیجے جارہے ہیں‌ اور اس کی دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کے لیے دعاوں کا سلسلہ بھی جاری ہے

    جہاں اس موقع پر دنیا بھر سے مبارکباد کے پیغامات آرہے ہیں وہاں باغی ٹی وی کے سرپرست مبشرلقمان نے بھی چاہنے والوں کا شکریہ ادا کیا ہے اوراس عزم کا اظہارکیا ہے کہ وہ پہلے سے بہتر انداز میں باغی کی خدمات کوپیش کرنے کی کوشش کریں گے اوراپنے قارین کو کبھی مایوس نہیں کریں‌گے

  • بڑی حیرانی کی بات ہےکہ کابل کےبازاروں میں خوراک بہت لیکن لوگوں کےپاس خریدنےکےپیسے نہیں،اقوام متحدہ

    بڑی حیرانی کی بات ہےکہ کابل کےبازاروں میں خوراک بہت لیکن لوگوں کےپاس خریدنےکےپیسے نہیں،اقوام متحدہ

    بڑی حیرانی کی بات ہے کہ کابل کے بازاروں میں خوراک بہت لیکن لوگوں کے پاس خریدنے کے پیسے نہیں، اقوام متحدہ نے یہ بات بتا کرساتھ ہی افغانستان میں انسانی بحران سے بچنےکیلئےامدادکی اپیل کردی ۔

    افغانستان میں سخت سردی کے آغاز کے ساتھ ہی انسانی بحران تیزی سے بڑھ رہا ہے ،طالبان کے اقتدار پر قبضے اور بین الاقوامی پابندیوں کے بعد سے ملک کی معیشت بیٹھ گئی ہے۔

    برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق خراب معیشت کے باعث افغانستان میں بے روزگاری میں اضافہ ہوگیاجبکہ تقریباً 10 لاکھ بچے شدید غذائی قلت کے خطرے سے دوچار ہیں۔

    دوسری جانب اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ افغانستان میں انسانی بحران سے بچنے کیلئے رواں سال 5 بلین ڈالرز امداد کی ضرورت ہے جبکہ افغانستان کے پڑوسی ممالک میں مقیم 5.7 ملین افغان مہاجرین کی مدد کیلئے 623 ملین ڈالرز درکار ہیں۔

    اقوام متحدہ کے ایڈ چیف مارٹن گریفتھس کا کہنا ہے کہ افغانستان پر مکمل انسانی بحران منڈلا رہاہے،افغان عوام پر امداد کے دروازے بند نہ کریں، افغانستان میں بڑے پیمانے پر پھیلنے والی بھوک، بیماری، غذائی قلت اور اموات کو روکنے میں اقوام متحدہ مدد کریں۔

    مارٹن گریفتھس کا کہنا ہے کہ افغانستان میں امدادی پیکج کےبغیر کوئی مستقبل نہیں ہوگا۔

    ادھر ذرائع کے مطابق امریکہ نے بھی افغانستان کے لیے ہنگامی امداد کا اعلان کیا ہے اورکہا ہے کہ امریکہ افغان عوام کی مشکلات کم کرنے کی بھرپورکوششیں جاری رکھے گا ،

  • افغان وزیرخارجہ امیر خان متقی کی ایران میں اہم ملاقاتیں،وادی پنجشیرکے کمانڈراحمد مسعود سے مذاکرات

    افغان وزیرخارجہ امیر خان متقی کی ایران میں اہم ملاقاتیں،وادی پنجشیرکے کمانڈراحمد مسعود سے مذاکرات

    قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی کی قیادت میں اس وقت ایران میں امارت اسلامیہ کے وفد نے مزاحمتی محاذ کے رہنما احمد مسعود اور صوبہ ہرات کے سابق گورنر اسماعیل خان سے ملاقات کی ہے۔

    "ہاں، ہم نے احمد مسعود، کمانڈر اسماعیل خان اور دیگر افغانوں سے ملاقات کی۔ ہم نے ان سب کو یقین دلایا کہ وہ واپس آ سکتے ہیں اور بے فکر زندگی گزار سکتے ہیں،” متقی نے امارت اسلامیہ کے قطر میں قائم دفتر کے ترجمان محمد نعیم کی طرف سے پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں کہا۔

    ایرانی میڈیا نے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ تہران نے اس ملاقات کی میزبانی کی، انہوں نے مزید کہا کہ افغان فریقین کے درمیان اچھی بات چیت ہوئی۔

    دریں اثنا، طالبان نے پیر کو تصدیق کی کہ انہوں نے ہفتے کے آخر میں طالبان مخالف اتحاد کے سینئر رہنماؤں کے ساتھ بات چیت کی۔

    یہ ملاقات اپنی نوعیت کی پہلی ملاقات تھی، جس میں طالبان کی جانب سے اپنے سابق مخالفین کو شامل کرنے کی کوششوں پر زور دیا گیا۔ قومی مزاحمتی فرنٹ کے نام سے جانے والے اس اتحاد کی قیادت طالبان مخالف جنگجو احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود کر رہے ہیں، جنہیں 2001 میں قتل کر دیا گیا تھا۔

    اگست کے وسط میں طالبان کے کابل میں داخل ہونے کے بعد یہ گروپ متحد ہو گیا جب افغان حکومت فرار ہو گئی اور افغان فورسز نے طالبان پر قبضے کے لیے بہت کم یا کوئی مزاحمت پیش نہیں کی۔ احمد مسعود کے ساتھ مغربی صوبہ ہرات کے سابق گورنر اسماعیل خان بھی شامل تھے۔

    تہران میں اتوار کی ملاقات طالبان اور ان کے مخالفین کے درمیان میل جول کی پہلی علامتوں میں سے ایک ہے۔

    سابق صدر حامد کرزئی اور قومی مصالحتی کونسل کے سابق سربراہ عبداللہ عبداللہ سمیت سابقہ ​​امریکی حمایت یافتہ افغان حکومتوں کے کئی سرکردہ رہنما طالبان کے قبضے کے بعد کابل میں ہی رہے۔

  • پاکستان رومانیہ کے سرمایہ کاروں اور تاجروں کوسرمایہ کاری کے وسیع مواقع فراہم کرے گا:شاہ محمود قریشی

    پاکستان رومانیہ کے سرمایہ کاروں اور تاجروں کوسرمایہ کاری کے وسیع مواقع فراہم کرے گا:شاہ محمود قریشی

    اسلام آباد:وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے پیر کو رومانیہ کے سرمایہ کاروں اور تاجروں پر زور دیا کہ وہ پاکستان میں تجارت اور سرمایہ کاری کے وسیع مواقع سے استفادہ کریں۔پاکستان رومانیہ کے سرمایہ کاروں اور تاجروں کوسرمایہ کاری کے وسیع مواقع فراہم کرے گا:شاہ محمود قریشی

    اپنے رومانیہ کے ہم منصب بوگڈان اوریسکو کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ رومانیہ کے سرمایہ کاروں کے لیے نہ صرف دوطرفہ تجارتی تعلقات کو فروغ دینے بلکہ پاکستان کے وسطی ایشیا کے لیے برآمدات کا مرکز بننے کے امکانات کے حوالے سے بھی بڑی صلاحیت موجود ہے۔ بازار اب دنیا کے لیے کھولے جا رہے تھے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان چین کے ساتھ اقتصادی راہداری بنا رہا ہے اور گوادر پورٹ کی تعمیر دنیا کو خشکی میں گھرے وسطی ایشیائی جمہوریہ اور افغانستان کے لیے کھول دے گی۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ رومانیہ کی قیادت سے ملاقاتوں میں اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان افہام و تفہیم کو مزید فروغ دینے کے وسیع مواقع موجود ہیں کیونکہ یہ آگے بڑھنے کا صحیح وقت ہے۔

    رومانیہ کے ہم منصب کے مطابق، انہوں نے مزید کہا کہ COVID چیلنج کے باوجود گزشتہ مالی سال کے دوران دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت میں تقریباً 50.6 فیصد اضافہ ہوا۔ تاہم، یہ ان کے دوطرفہ تعلقات اور یورپی یونین کے ساتھ تجارتی مواقع کے تناظر میں حقیقی صلاحیت کے قریب نہیں تھا، انہوں نے مشاہدہ کیا۔

    وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان فائدہ مند پوزیشن پر ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ GSP+ اسٹیٹس کے ساتھ، انہوں نے محسوس کیا کہ یہ EU اور پاکستان دونوں کے لیے باہمی طور پر فائدہ مند رہا ہے۔

  • دیامیربھاشاڈیم کی تعمیرمیں حائل آخری بڑی رکاوٹ بھی دورہوگئی:پاکستان کامیابی سے آگے بڑھ رہاہے:عمران خان

    دیامیربھاشاڈیم کی تعمیرمیں حائل آخری بڑی رکاوٹ بھی دورہوگئی:پاکستان کامیابی سے آگے بڑھ رہاہے:عمران خان

    اسلام آباد:دیامیربھاشاڈیم کی تعمیرمیں حائل آخری بڑی رکاوٹ بھی دورہوگئی:پاکستان کامیابی سے آگے بڑھ رہاہے:اطلاعات کے مطاق آج کا دن پاکستانیوں کےلیے ایک خوشی کا دن ہے جس دن خیبرپختونخوا میں ہربن قبیلے اور گلگت بلتستان میں تھور قبیلے کا گرینڈ جرگہ بالآخر زمین کے ایک چھوٹے سے ٹکڑوں کے تنازع پر تصفیہ پر پہنچ گیا جس نے چند دنوں سے پاکستان کے سب سے بڑے ڈیم، دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کو روک رکھا تھا

     

     

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر وزیراعظم نے لکھا کہ دیامربھاشا ڈیم پروجیکٹ کے حوالے سے تاریخی پیشرفت خوش آئند ہے، دیامر اور اپرکوہستان کے عمائدین کے گرینڈ جرگہ نے دیرینہ مسئلہ حل کر لیا، تھور اور ہربن قبائل کے درمیان ایک دہائی پرانا تنازعہ چل رہا تھا۔

     

     

    دیامر بھاشا ڈیم پر تاریخی دیو اور اچھی خبر۔ دیامر اور اپر کوہستان کے عمائدین کے گرینڈ جرگہ نے دہائیوں پرانا تھور اور ہربن قبائل کا تنازعہ طے کر لیا ہے۔ یہ ڈیم کی ہموار اور بروقت تکمیل کی اجازت دے گا اور ساتھ ہی جی بی اور کے پی کے درمیان سرحدی تنازعہ کے حل کے لیے راہ ہموار کرے گا۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ اس ترقی سے ڈیم کی ہموار اور بروقت تکمیل کے ساتھ ساتھ جی بی اور کے پی کے درمیان سرحدی تنازعہ کے حل کی راہ ہموار ہوگی۔

     

    تقریباً 8 کلومیٹر کا متنازع علاقہ وفاقی حکومت کے کنٹرول میں ہے اور رینجرز 2014 سے شاہراہ قراقرم پر گشت کر رہی ہے، جب دونوں قبائل کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں چار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

    4,500 میگاواٹ کے اس ڈیم کو پاکستان کی توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے اور آبپاشی کے لیے پانی کا ذخیرہ فراہم کرنے کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔

  • پاکستان کی پہلی قومی سلامتی پالیسی کے اہم نکات سامنے آ گئے

    پاکستان کی پہلی قومی سلامتی پالیسی کے اہم نکات سامنے آ گئے

    اسلام آباد:پاکستان کی پہلی جامع قومی سلامتی پالیسی کے اہم نکات سامنے آ گئے ، اس حوالے سے اس قومی پالیسی کی دستایزات پرمشتمل سو سے زائد صفحات کا آدھا حصہ پبلک کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق 100سے زائد صفحات پر مشتمل پالیسی کا آدھا حصہ پبلک کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، وزیر اعظم عمران خان جمعہ کو 50 صفحات پر مشتمل غیر خفیہ پالیسی کے نکات کا اجراء کرینگے، پالیسی اکانومی، ملٹری اور ہیومن سکیورٹی تین بنیادی نکات پر مشتمل ہے۔

    ذرائع کے مطابق اکانومی سکیورٹی کو قومی سلامتی پالیسی میں مرکزی حیثیت دی گئی، پاکستان میں قومی سلامتی سے متعلق پہلی بار جامع پالیسی تیار کی گئی، سلامتی پالیسی پر سالانہ بنیادوں پر نظرثانی کی جائے گی، نئی حکومت کو پالیسی پر ردوبدل کا اختیار حاصل ہو گا، نیشنل سیکیورٹی کمیٹی پالیسی کی وارث ہو گی۔

    ذرائع کے مطابق ہر مہینے حکومت نیشنل سکیورٹی کمیٹی کو عملدرآمد رپورٹ پیش کرنے کی پابند ہو گی، پالیسی میں دو سے زائد ایکشن وضع کئے گئے، پالیسی ایکشن کا حصہ کلاسیفائیڈ تصور ہو گا، خطے میں امن، رابطہ کاری اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارت پالیسی کا بینادی نقطہ ہو گا۔

    ذرائع کے مطابق ہائبرڈ وار فیئر بھی قومی سلامتی کمیٹی کا حصہ ہو گا، ملکی وسائل کو بڑھانے کی حکمت عملی دی گئی ہے، کشمیر کو پاکستان کی سلامتی پالیسی میں اہم قرار دیا گیا، مسئلہ کشمیر کا حل پالیسی کی ترجیحات میں شامل ہے، پالیسی پر سیاسی فریقین کو اعتماد میں لینے کے لئے نیشنل سیکیورٹی ڈویژن آمادہ ہو گیا، بڑھتی آبادی کو ہیومن سکیورٹی کا بڑا چیلنج قرار دیا گیا۔ شہروں کی جانب ہجرت، صحت، پانی اور ماحولیات بھی پالیسی کا حصہ ہے۔

    ذرائع کے مطابق فوڈ اور صنفی امتیاز ہیومن سیکیورٹی کے اہم عنصر ہے ایران پر پابندیاں ختم ہونے کے بعد حکومت کو معاملات آگے بڑھانے کا اختیار کی بھی تجویز ہے، گڈ گورننس، سیاسی استحکام ،فیڈریشن کی مضبوطی پالیسی کا حصہ ہے۔

  • کور کمانڈرز کانفرنس: سکیورٹی صورتحال، بارڈر مینجمنٹ کے امور پر تبادلہ خیال

    کور کمانڈرز کانفرنس: سکیورٹی صورتحال، بارڈر مینجمنٹ کے امور پر تبادلہ خیال

    راولپنڈی:کور کمانڈرز کانفرنس: سکیورٹی صورتحال، بارڈر مینجمنٹ کے امور پر تبادلہ خیال ،اطلاعات کے مطابق اج جی ایچ کیو میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیرِ صدارت کور کمانڈرز کانفرنس میں داخلی سکیورٹی کی صورتِ حال اور بارڈر مینجمنٹ کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیرِ صدارت 246ویں کور کمانڈرز کانفرنس جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) میں منعقد ہوئی، ملکی داخلی سکیورٹی کی صورتحال اور بارڈر مینجمنٹ امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق کانفرنس کے شرکاء کو آپریشن ردالفساد کی تازہ ترین پیش رفت اور کامیابیوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے مری کے برفانی طوفان اور بلوچستان میں شدید بارشوں سے پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال کے متاثرین کو مدد کو سراہا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ نے ان قدرتی آفات کے دوران ریلیف آپریشن میں شامل فارمیشن کی کوششوں کی تعریف کی۔

    آرمی چیف نے فارمیشنز کی آپریشنل تیاریوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تربیت اور جنگی تیاریاں جاری رکھنے پر زور دیا۔

  • لندن میں خالصتان ریفرنڈم توامریکی سینٹ میں سکھوں کی نسل کشی ُ کی مذمتی قراردادمتفقہ طورپر منظور

    لندن میں خالصتان ریفرنڈم توامریکی سینٹ میں سکھوں کی نسل کشی ُ کی مذمتی قراردادمتفقہ طورپر منظور

    نیوجرسی:لندن میں خالصتان ریفرنڈم توامریکی سینٹ میں سکھوں کی نسل کشی ُ کی مذمتی قراردادمتفقہ طورپر منظور اطلاعات کے مطابق امریکہ کی شمال مشرقی ریاست نیو جرسی کی سینیٹ نے متفقہ طور پر ایک مذمتی قرارداد میں بھارت کی طرف سے 1984میں سکھوں کے قتل عام کو نسل کشیُ قرار دیتے ہوئے امریکی صدر اور دیگر حکام سے اس سلسلے میں آواز بلند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سینیٹر سٹیفن ایم سوینی کی طرف سے پیش کی گئی قرارداد امریکی صدر اور نائب صدر، امریکی سینیٹ کے اکثریتی اور اقلیتی لیڈروں ،امریکی ایوان نمائندگان کے اسپیکر اور اقلیتی لیڈر اور کانگریس کے ہر رکن کو بھجوائی جائیگی ۔

    قرارداد میں کہاگیا ہے کہ بھارتی پنجاب کی سکھ برادری نے جس کے ارکان سو برس قبل ہجرت کر کے امریکہ آگئے امریکہ اور نیو جرسی کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔سکھوں کی نسل کشی یکم نومبر 1984کو نئی دلی میں بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے قتل کے بعد جھارکھنڈ، مدھیہ پردیش، ہریانہ، اتراکھنڈ، بہار، اتر پردیش، مغربی بنگال، ہماچل پردیش، راجستھان، اڑیسہ، جموں و کشمیر، چھتیس گڑھ، تریپورہ، تامل ناڈو، گجرات، آندھرا پردیش، کیرالہ، اور مہاراشٹرریاستوں میں شروع ہو ئی۔

    قرارداد میں سکھ مذہب کو دنیا کا پانچواں بڑا مذہب قرار دیا گیا ہے جس کے دنیا بھر میں تقریبا تیس کروڑ نوے لاکھ ماننے والے ہیں جن میں سے دس لاکھ امریکہ میں مقیم ہیں۔قرارداد کے مطابق تین دن تک جاری رہنے والی سکھوں کی نسل کشی میں تیس ہزار سے زائد سکھوں کو بے دردی سے قتل کیا گیا۔قرارداد میں16اپریل 2015کو کیلیفورنیا کی ریاستی اسمبلی کی طرف سے متفقہ طور پر منظور کی گئی ایک قراردادکا حوالہ دیاگیا ہے جس میں بھارتی حکومت کی طرف سے سکھوں کے منظم قتل عام کا اعتراف کیا گیاہے۔

    قرارداد میں 1984کے سکھ نسل کشی کے دوران اپنی جانیں گنوائیں۔17اکتوبر 2018کو پنسلوانیا کی دولت مشترکہ کی جنرل اسمبلی نے متفقہ طور پر قرارداد HR-1160منظور کی جس میں نومبر 1984میںسکھوںپر ظلم و تشدد کو نسل کشی ُ قرار دیا گیا۔

    قرارداد میں کہاگیا ہے کہ عینی شاہدین، صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی طرف سے اکٹھے کئے گئے شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار براہ راست اور بالواسطہ طریقوں سے سکھوں کے قتل عام میں ملوث تھے اور وہ یہ سلسلہ بند کرانے میں ناکام رہے۔2011میں بھارتی ریاست ہریانہ کے علاقوں ہوند چلر اور پٹودی کے دیہات میں اجتماعی قبریںدریافت ہوئی ہیں۔

    نئی دہلی کے تلک وہار محلے کی "بیوہ کالونی” میں آ بھی ہزاروں سکھ خواتین انصاف کی منتظر ہیںجن کی اجتماعی عصمت دری کی گئی اور ان کے شوہر، والد اور بیٹوں کو قتل کردیا۔سکھوں کے قتل عام میں زندہ بچ جانیوالی آخر کار ہجرت کر کے امریکہ چلے گئے اور انہوں نے فریسنو، یوبا سٹی، سٹاکٹن، فریمونٹ، گلینروک، پائن ہل، کارٹریٹ، نیو یارک سٹی اور فلاڈیلفیا میں سکونت اختیار کی اور بڑی سکھ برادریاں قائم کیں۔

    1984میں پورے بھارت میں ریاستی سرپرستی میں سکھوں پر وحشیانہ ظلم و تشدد اور انکے قتل عام کا اعتراف ، انصاف اور احتساب کی جانب ایک اہم اور تاریخی قدم ہے، جودیگر ممالک کی حکومتوں کیلئے ایک مثال بھی ہے ۔ریاست نیو جرسی کی سینیٹ کی طرف سے منظور کی گئی قرارداد امریکی صدر اور نائب صدر، امریکی سینیٹ کے اکثریتی اور اقلیتی لیڈروں ،امریکی ایوان نمائندگان کے اسپیکر اور اقلیتی لیڈر اور کانگریس کے ہر رکن کو بھجوائی جائیگی ۔