Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • بھارتی جیلوں میں نظربند کشمیری سیاسی رہنمائوں کی زندگیوں کو شدید خطرہ:تازہ واقعہ میں کشمیری جانبحق

    بھارتی جیلوں میں نظربند کشمیری سیاسی رہنمائوں کی زندگیوں کو شدید خطرہ:تازہ واقعہ میں کشمیری جانبحق

    نئی دلی :بھارتی جیلوں میں نظربند کشمیری سیاسی رہنمائوں کی زندگیوں کو شدید خطرہ:تازہ واقعہ میں کشمیری جانبحق
    ،اطلاعات کے مطابق بھارتی دارلحکومت نئی دلی میں مہلک کورونا وبا تیزی سے پھیل رہی ہے جس کی وجہ سے تہاڑ جیل سمیت نئی دلی کی دیگر جیلوں میں غیر قانونی طورپر نظربند کشمیری سیاسی رہنمائوں کی زندگیوں کو شدید خطرہ لاحق ہے ۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے علاوہ چار سو کے قریب بھارتی اراکین پارلیمنٹ اور دلی پولیس کے تین سو اہلکار مہلک کورونا وائرس میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ جیل حکام کے اعدادو شمار کے مطابق نئی دلی کی تہاڑ جیل میں 29جبکہ منڈولی جیل کے 17قیدی بھی کورونا وائر س میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ نئی دلی کی تینوں جیلوں میں موجود قیدیوں کی مجموعی تعداد سات جنوری تک 18ہزار528تھی جن میں سے سب سے زیادہ 12ہزار 669قیدی تہاڑ ،4ہزار18منڈولی اور ایک ہزار841روہنی جیل میں قید ہیں۔

    واضح رہے کہ نئی دلی کی جیلوں میں قیدیوں کورونا وائرس کے تیزی سے مبتلا ہونے کی وجہ سے کشمیری سیاسی نظربندوں کی زندگیوں کو شدید خطرہ لاحق ہے۔اس وقت کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ کے علاوہ کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما شبیر احمد شاہ، محمد یاسین ملک، نعیم احمد خان، الطاف احمد شاہ، ایاز محمداکبر، پیر سیف اللہ، راجہ معراج الدین کلوال، فاروق احمد ڈار، شاہد الاسلام، دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی، ناہیدہ نسرین، انسانی حقوق کے کارکن خرم پرویز، انجینئر رشید اور کشمیری تاجر ظہور احمد وتالی تہاڑ، جودھ پور، آگرہ، ہریانہ اور بھارت کی دیگر جیلوں میں غیر قانونی طورپر نظربند ہیں اوران کے مہلک وائر س میں مبتلا ہونے کا شدیدخطرہ ہے ۔

    ادھر ایک تازہ واقعہ میں غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کپواڑہ جیل میں ایک نوجوان قیدی مردہ حالت میں پایاگیا ہے ۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق 19سالہ خورشید احمد وانی ڈسٹرکٹ جیل کپواڑہ میں مردہ حالت میں پایاگیا ہے ۔بھارتی جیل حکام پر اکثر جیلوں میں قیدیوں کی موت کا الزام عائد کیاجاتا ہے ۔

  • ساتویں مردم شماری بھی ماضی کی طرح مستقل رہائشی ایڈریس کی بنیاد پر کرنے کا فیصلہ

    ساتویں مردم شماری بھی ماضی کی طرح مستقل رہائشی ایڈریس کی بنیاد پر کرنے کا فیصلہ

    کراچی: ملک میں ساتویں مردم شماری ماضی کی طرح مستقل رہائشی ایڈریس کی بنیاد پر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہےملک میں سماجی و معاشی منصوبہ بندی کے لیے مردم شماری بہت اہم ہے کیونکہ اس سے ملک کی آبادی اور اس کے تناسب کو مد نظر رکھ کر ہی حکومت منصوبہ بندی کرتی ہے۔

    باغی ٹی وی : پاکستان میں بین الاقوامی اصولوں کے بالکل برعکس 1981 سے 2017 تک dejure یعنی مستقل رہائشی ایڈریس بنیادوں پر مردم شماری کی گئی جس سے ملک کے اہم شہروں کی آبادی متاثر ہوئی ہے بالخصوص ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کی آبادی کو ہمیشہ گھٹا کر دکھا گیا ہے چھٹی مردم شماری میں بھی کراچی کی آبادی ایک کروڑ 60لاکھ ظاہر کی گئی ہے جسے سپریم کورٹ سمیت تمام سیاسی جماعتوں نے غلط قرار دیا ہے۔

    نجی خبررساں ادارے”ایکسپریس” کےمطابق آئی بی اے کےفیکلٹی ممبرماہر اقتصادیات اور محقق عاصم بشیر خان کاکہناہےدنیابھرمیں مردم شماریdefectoبنیاد پر کی جاتی ہے یعنی جو انسان جہاں سکونت اختیار کرتا ہے اسے وہاں شمار کیا جاتا ہے جبکہ پاکستان میں ہونے والی مردم شماری کے موقع پرمستقل ایڈریس کی بنیاد پر کی جارہی ہے یعنی کوئی شہری مردم شماری کے موقع پر کسی علاقے میں کئی سالوں سے رہائش پذیر ہے لیکن اس کے شناختی کار ڈ پر مستقل ایڈریس کسی دوسرے اضلاع یا صوبے کا درج ہے تو اسے مستقل ایڈریس والے علاقے میں شمارکیا جاتاہے، باوجود اس کے کہ وہ مردم شماری کے موقع پراس علاقے میں موجود ہے جہاں وہ کئی برسوں سے برسرروزگار ہے۔

    وزیراعظم عمران خان کو نااہل قرار دینے کی درخواست ناقابل سماعت قرار

    عاصم بشیر خان کا کہنا ہے کہ اگر اس بار بھی dejure بنیاد یعنی مستقل رہائشی ایڈریس کی بنیاد پر مردم شماری کی گئی تو اس کی نتائج منصفانہ و شفاف نہیں ہوں گے جو نہ صرف قومی خزانے کے ضیاع کا سبب بنے گا بلکہ ایک بار پھر اس کے نتائج متنازع بنیں گے ایک ہزار 40حلقوں کا تجزیہ کیا ہے جہاں پر بعض حلقوں کے سینسز بلاکس میں خانہ شماری صفر اور آبادی بھی صفرکی گئی ہے جبکہ عملی طور پر اگر اس مقام کا مشاہدہ کیا جائے تو وہاں گھر اور افراد موجود ہیں اور کئی سال سے رہائش پذیر ہیں سندھ میں 86 ایسے بلاک ہیں جن میں گھرانوں کی تعداد بھی صفر ہے اور آبادی بھی صفر،1981 کی مردم شماری کے مطابق کراچی کی آبادی 54 لاکھ 37 ہزار984 تھی جس کی صحت اور اعداد و شمار پر کئی سوالیہ نشان تھے۔

    کورونا وبا:ملک میں ایک ہزار 467 کیسز رپورٹ،2 افراد جاں بحق

    ادارہ شماریات کے ایک آفیسر نے نام ظاہرنہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ملک میں ساتویں مردم شماری کے لیے منصوبہ بندی بھی dejure بنیادوں پر کی جارہی ہے، اس ضمن میں 5اکتوبرکو فیڈرل کابینہ کے اجلاس میں dejure بنیادوں پر مردم شماری کی منظوری دیدی گئی ہے جبکہ کونسل آف کامن انٹرسٹ سے اس کی منظوری لی جائے گی ماضی 1981، 1998 اور2017 میں ہونے والی مردم شماری بھی dejure یعنی مستقل ایڈریس کی بنیادوں پر کرائی گئی تھی اگرچہ کہ dejureکی پالیسی یہ ظاہر کی جاتی ہے کہ جو شہری چھ ماہ سے جہاں رہائش پذیر ہے اسے وہیں شمار کیا جاتا ہے لیکن عملاً ایسا ہوتا نہیں ہے، کم ازکم کراچی کے معاملے میں ایسا نہیں ہوتا۔

    میڈیکل طالبہ کی خودکشی کا معاملہ:اپوزیشن لیڈرحلیم عادل کا ورثاء سےمکمل مدد اور تعاون کا اعلان

    علاوہ ازیں اس ضمن میں جماعت اسلامی نے وفاقی حکومت کی ساتویں مردم شماری کو dejure بنیادوں پر کرانی کی پالیسی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہوا ہے، جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت نے 2017 کی مردم شماری dejure بنیاد پرکی جس کی وجہ سے کراچی کی آبادی نصف ظاہر ہوئی، تحریک انصاف کی حکومت اگلی مردم شماری بھیdejure بنیادوں پر کرانے کیلیے جارہی ہے جو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے سوا کچھ نہیں۔

    میڈیکل طالبہ کی خودکشی کا معاملہ:اپوزیشن لیڈرحلیم عادل کا ورثاء سےمکمل مدد اور تعاون کا اعلان

    جبکہ وفاقی ادارہ شماریات کے چیف شماریات ڈاکٹر نعیم الظفرکا کہنا ہے کہ کچھ سیاسی جماعتوں اوراسٹیک ہولڈر زنے dejureپر اعتراض اٹھایا ہے اور defecto بنیادوں پر مردم شماری کرانے کا مطالبہ کیا ہے، اگرdefecto پر مردم شماری کرانے کے لیے جاتے ہیں توسیکیورٹی کی ضروریات اور بجٹ اتنا زیادہ ہوجاتا ہے کہ پاکستان اس کا متحمل نہیں ہوسکتا، دنیا بھر میں dejure بنیادوں پر ہی مردم شماری کی جاتی ہے، defecto پر دنیا میں صرف ان ممالک میں مردم شماری کرائی جاتی ہے جہاں آبادی بہت کم ہے، پاکستان آبادی کے لحاظ سے بڑا ملک ہے جو defecto پر مردم شماری کرانے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

    واضح رہے کہ اگلی مردم شماری کیلیے23ارب روپے اخراجات آئیں گے اور رواں مالی سال 5ارب روپے مختص کردیئے گئے ہیں، نئی مردم شماری کا آغاز 2022میں ہونے جارہا ہے۔

    مری سانحہ: اسسٹنٹ کمشنرمری، ڈی سی راولپنڈی اور سی ٹی او کےخلاف اندراج مقدمہ کی…

    واضح رہے کہ پاکستان میں مردم شماری ہر 10 سال بعد ہوتی ہے۔سب سے پہلی مردم شماری آزادی کے چار سال بعد 1951ء میں ہوئی تھی۔ پھر 1961،1972،1981 اور 1998 میں ہوئی۔1972 والی مردم شماری اصل میں 1971 کو ہونی والی تھی، مگر بھارت سے جنگ کی وجہ سے ایک سال تاخیر ہوئی اور پھر 1991 کی مردم شماری سیاسی گہما گہمی کے باعث موخر ہوئی۔ پاکستان میں آخری بار مردم شماری 2017ء میں کرائی گئی۔

    پاکستان میں پہلی مردم شماری قیام پاکستان کے 4 سال بعد 1951 میں کرائی گئی تھی اور اسکے مطابق پاکستان کی مجموعی آبادی ساڑھے 7 کروڑ سے زائد تھی جس میں مغربی پاکستان کی آبادی 3 کروڑ 37 لاکھ جبکہ مشرقی پاکستان کی آبادی 4 کروڑ 20 لاکھ تھی۔

    مری میں ریاستی ڈھانچے کو بہتر بنایا جائے،ابھی تک انگریزوں کےڈھانچے پر چل رہا…

    دوسری مردم شماری 1961 میں ہوئی جس میں پاکستان کی مجموعی آبادی 9 کروڑ 30 لاکھ ریکارڈ کی گئی۔ اس مردم شماری میں مغربی پاکستان کی آبادی 4 کروڑ 28 لاکھ جبکہ مشرقی پاکستان کی آبادی 5 کروڑ تھی۔

    سقوط ڈھاکہ کے باعث تیسری مردم شماری ایک سال کی تاخیر کے ساتھ 1972 میں ہوئی۔ جس کے مطابق پاکستان کی آبادی 6 کروڑ 53 لاکھ تھی۔ 1981 میں ہونے والی چوتھی مردم شماری میں پاکستان کی آبادی 8 کروڑ 37 لاکھ ہوگئی۔

    سترہ سال کے طویل عرصے بعد 1998 میں ہونے والی پانچویں مردم شماری میں پاکستان کی آبادی 13 کروڑ 8 لاکھ 57 ہزار ریکارڈ کی گئی۔ جس کے بعد متعدد مرتبہ مردم شماری کی تاریخیں دی گئیں مگر اب 19 سال بعد ہونے والی چھٹی مردم شماری کا آغاز پندرہ مارچ سے ہوا جوکہ پہلی مرتبہ 2 مرحلوں میں کروائی گئی

    مردم شماری کے لیے گھروں میں آنے والے اہلکار گھر کے سربراہ کے نام اور پھر یہاں رہنے والوں کا اندراج کرتے۔ اس کے لیے گھر کے سربراہ کا شناختی کارڈ ہونا ضروری ہوتا اور اگر وہ دستیاب نہ ہو تو انھیں کوئی بھی ایسی دستاویز فراہم کرنا ہوتی جس سے ان کی شناخت کی تصدیق ہو سکے۔

    مری میں سیاحوں کا داخلہ غیر معینہ مدت کے لئے بند

    حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی طرح معلومات کو چھپانے یا غط بیانی کرنے والے کو پچاس ہزار روپے جرمانہ اور چھ ماہ قید کی سزا ہو سکتی ہے پہلی بار ملک میں خواجہ سرا برادری کو بھی مردم شماری میں شمار کیا گیا سپریم کورٹ کی طرف سے اس بارے میں از خود نوٹس کے بعد گزشتہ سال ہی ملک میں مردم شماری کا فیصلہ کیا گیا-

    پاکستان میں 70 سالہ تاریخ کی چھٹی مردم شماری کے موقع پر وزارت داخلہ نے خانہ و مردم شماری کے موقع پر پاک آرمی کو ان افراد کیخلاف جو کہ معلومات دینے میں تعاون نہ کریں یا غلط معلومات فراہم کرے تو ان کیخلاف موقع پر ہی کارروائی کرتے ہوئے خصوصی عدالتی اختیارات استعمال کرنے کا اختیار دیا تھا-

    بلاول بھٹو اور شہباز شریف کا سانحہ مری پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ

  • کورونا وبا:ملک میں ایک ہزار 467 کیسز رپورٹ،2 افراد جاں بحق

    کورونا وبا:ملک میں ایک ہزار 467 کیسز رپورٹ،2 افراد جاں بحق

    پاکستان میں عالمی وبا کورونا وائرس سے مزید 2 افراد جاں بحق ہو گئے-

    باغی ٹی وی : نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 43 ہزار 540 کورونا ٹیسٹ کیے گئے مزید ایک ہزار 467 کورونا کیسز رپورٹ ہوئے۔

    کورونا وبا کے دوران خدمات سرانجام دینےوالے ورکرزمیں تعریفی اسناد اور شیلڈزتقسیم

    این سی او سی کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں ملک میں کورونا کیسز کی مجموعی تعداد 13 لاکھ7ہزار174 جبکہ اموات کی مجموعی تعداد 28 ہزار 974 ہو گئی ہے اور مثبت کیسز کی شرح 3.33 فیصد رہی۔


    سندھ میں کورونا کے کیسز کی تعداد 4 لاکھ 88 ہزار608، خیبر پختونخوا میں ایک لاکھ 81 ہزار 790، پنجاب میں 4 لاکھ 48 ہزار 479، اسلام آباد میں ایک لاکھ 9ہزار 495، بلوچستان میں 33 ہزار 661، آزاد کشمیر میں 34 ہزار 708 اور گلگت بلتستان میں 10 ہزار 433 ہو گئی ہے۔

    وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری کورونا وائرس کا شکار ہو گئیں

    کورونا کے سبب سب سے زیادہ اموات پنجاب میں ہوئی ہیں جہاں 13 ہزار081افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ سندھ میں 7 ہزار 682، خیبرپختونخوا 5 ہزار 943، اسلام آباد 967، گلگت بلتستان 186، بلوچستان میں 367 اور آزاد کشمیر میں 748 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

    اومی کرون ویرینٹ: خصوصی ویکسین کا ٹرائل ماہ رواں میں شروع کرنے کا اعلان

    امریکی کمپنی فائزر کے سی ایس او نے اعلان کیا ہے کہ عالمی وبا قرار دیےجانے والے کورونا وائرس کی نئی قسم اومیکرون کے خلاف تیار کردہ خصوصی ویکسین کی آزمائش ماہ رواں کے اختتام تک انسانوں پر شروع کردی جائے گی۔

    موقر جریدے انسائیڈر کے مطابق فائزر کی جانب سے یہ اعلان ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے کہ جب پوری دنیا میں اومیکرون کے حوالے سے شدید تحفظات اور خدشات پیدا ہو چکے ہیں –

    اومیکرون ویرینٹ کے باعث کورونا کیسوں میں اضافے پر تشویش

    چیف سائنٹیفک آفیسر مائیکل ڈولسٹن کے مطابق کلینکل ٹرائلز کا بنیادی مقصد اس بات کی جانچ کرنا ہو گا کہ نئی ویکسین اومیکرون کے خلاف کس قدر مؤثر ثابت ہو گی؟ البتہ ان کا کہنا تھا کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ اومیکرون کے لیے مخصوص ویکسین کی ضرورت پڑے گی یا نہیں؟-

    رپورٹس کے مطابق فائزر اپنی اس اپ ڈیٹڈ ویکسین کو مارچ تک مارکیٹ کرنے کے حوالے سے ابھی تک پرعزم ہے۔

    کورونا،ڈیلٹا،اومی کرون،فلورونا کے بعد ڈیلٹا کرون:نیاوائرس کتنا خطرناک ہے ماہرین نے ڈرا دیا

    امریکی نشریاتی ادارے سی این بی سی کے مطابق فائزر کے سی ای او البرٹ بورلا کا اس سلسلے میں کہنا ہے کہ ویکسین مارچ تک تیار ہو جائے گی لیکن وہ یہ بات نہیں جانتے ہیں کہ وہ استعمال بھی ہو گی یا نہیں؟

    کمپنی فائزر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کلینیکل ٹرائلز کا مقصد موجودہ ویکسین اور اومیکرون کے لیے اپ ڈیٹ ویکسین کے مدافعتی ردعمل کا موازنہ کرنا ہے۔ ٹرائل میں رضاکاروں کو ویکسین کی چوتھی خوراک استعمال کرائی جائے گی۔

  • کیا بروقت اقدامات سے سانحہ مری کو روکا جا سکتا تھا؟  وزیراعظم کا وفاقی وزرا سے سوال

    کیا بروقت اقدامات سے سانحہ مری کو روکا جا سکتا تھا؟ وزیراعظم کا وفاقی وزرا سے سوال

    اسلام آباد: سانحہ مری کے حوالے سے منعقدہ اجلاس میں وفاقی وزرا ضلعی انتظامیہ کے حق میں بول پڑے ہیں –

    باغی ٹی وی : وزیراعظم کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں سانحہ مری پر تفصیلی بریفنگ دی گئی جس کے دوران بتایا گیا کہ ایک لاکھ 64 ہزار گاڑیاں مری میں داخل ہوئیں۔

    پاکستان کو انتہائی مطلوب دہشت گرد اور ٹی ٹی پی ترجمان محمد خراسانی افغانستان میں مارا گیا

    وزیراعظم نے منعقدہ اجلاس میں استفسار کیا کہ کیا بروقت اقدامات سے سانحہ مری کو روکا جا سکتا تھا؟ جس کے جواب میں وفاقی وزرا نے مری انتظامیہ کی حمایت کی ر وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے اس موقع پر کہا کہ صورتحال کے دوران انتظامیہ اور پولیس نے بہترین کام کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ حالات پولیس کے کنٹرول سے باہر تھے، اس لیے رینجرز کو طلب کرنا پڑا جبکہ شام پانچ 5 ہی مری جانے والے راستے بند کردیے گئے تھے۔

    الیکشن کمیشن نے اسحاق ڈار کی سینیٹ کی رکنیت بحال کر دی

    وزیراعظم عمران خان نے اس موقع پر کہا کہ موجودہ دور میں سیاحت ایک نئی حقیقت ہے ان کا کہنا تھا کہ سیاحت بڑھ گئی ہے لیکن انفراسٹرکچر کئی دہائیاں پیچھے ہے نئےہوٹلز کی تعمیرکے ساتھ پرانے اسٹرکچر کو بہتر کرنا لازمی ہے بڑھتے ہوئے سیاحوں کو معیاری رہائش کی فراہمی ایک چیلنج ہے۔

    علاوہ ازیں اعلیٰ سطحی اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے ریسکیو آپریشن میں سول اداروں اورفوج کی کاوش کی بھی تعریف کی۔

    کورونا وبا کے دوران خدمات سرانجام دینےوالے ورکرزمیں تعریفی اسناد اور شیلڈزتقسیم

    دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی صدر میاں شہباز شریف نے قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہونے سے قبل میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ سانحہ مری حادثہ نہیں مجرمانہ غفلت ہے شہباز شریف نے پارلیمنٹ ہاؤس میں بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ سانحہ مری پر پوری قوم افسردہ اور غم میں مبتلا ہے۔

    انہوں نے حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے استفسار کیا تھا کہ اس سے بڑھ کر انتظامیہ کی غفلت اور کیا ہو سکتی ہے؟اس سانحے کا پورا احتساب ہونا چاہیے۔

    وفاقی حکومت کا بس چلے توسانحہ مری کی ذمہ داری سندھ پر ڈال دے

  • پاکستان کو انتہائی مطلوب دہشت گرد اور ٹی ٹی پی ترجمان محمد خراسانی افغانستان میں مارا گیا

    پاکستان کو انتہائی مطلوب دہشت گرد اور ٹی ٹی پی ترجمان محمد خراسانی افغانستان میں مارا گیا

    پاکستان کو انتہائی مطلوب دہشت گرد محمد خراسانی افغانستان کے صوبے ننگرہار میں مارا گیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق پاکستان کو انتہائی مطلوب کالعدم ٹی ٹی پی کا دہشتگرد محمد خراسانی آخر کار اپنے انجام کو پہنچ گیا ہے دہشت گرد محمد خراسانی کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کا ترجمان تھا جس کا اصل نام خالد بلتی تھا دہشت گرد محمد خراسانی میران شاہ میں دہشت ردی کا مرکز چلا رہا تھا تاہم آپریشن ضربِ عضب کی کامیابی کے بعد محمد خراسانی افغانستان بھاگ گیا محمد خراسانی شاہد اللہ شاہد کے بعد کالعدم ٹی ٹی پی کا ترجمان بنا۔

    محمد خراسانی
    دہشت گردمحمد خراسانی پاکستان کے معصوم عوام اور سکیورٹی فورسز پر حملوں اور کارروائیوں میں ملوث تھا، کالعدم ٹی ٹی پی کے مختلف دھڑوں کومتحد کرنے میں مصروف تھا اور وہ کالعدم ٹی ٹی پی کے سربراہ مفتی نور ولی محسود کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف دہشتگردانہ کارروائیوں کی منصوبہ بندی کررہا تھا محمد خراسانی نے حال ہی میں پاکستان کے اندر مختلف کارروائیوں کا بھی اشارہ دیا تھا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے ترجمان پاک فوج میجر جنرل بابر افتخار نے میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا تھا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے خلاف آپریشن ہو رہا ہے، موجودہ افغان حکومت کی درخواست پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے مذاکرات کا آغاز کیا گیا لیکن کچھ چیزیں ناقابل قبول تھیں، تنظیم غیر ریاستی عنصر ہے جو پاکستان میں کوئی بڑا حملہ نہیں کر سکی۔ کالعدم ٹی ٹی پی میں اندورنی اختلافات بھی ہیں جبکہ افغان حکومت کو کہا ہے کہ اپنی سرزمین کو ہمارے خلاف استعمال نہ ہونے دیں۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے حالیہ مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہورہےنہ ان کے ساتھ اب جنگ بندی کا کوئی معاہدہ ہے،آپریشن جاری ہےترجمان پاک فوج کے مطابق کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ جنگ بندی کا معاہدہ 9 دسمبرکوختم ہوگیا جنگ بندی کایہ معاہدہ غیرریاستی جنگجوعناصر کے ساتھ مذاکرات سے قبل موجودہ افغان حکومت کی درخواست پراعتماد سازی کےلیے اٹھایا گیا۔

    میجر جنرل بابرافتخار کاکہنا تھا موجودہ افغان عبوری حکومت کا تقاضہ تھا کالعدم ٹی ٹی پی ان کی سرزمین استعمال نہ کرے اسی لیے طالبان حکومت نے کہا کہ وہ ٹی ٹی پی کو مذاکرات کی میز پر لائیں گےاور ان سے کہیں گے کہ وہ پاکستان کے مطالبات مانیں لیکن ظاہر ہے کہ یہ چیزیں اب تک طےنہیں ہوئیں کالعدم ٹی ٹی پی کوئی اکائی نہیں ہ۔اس میں اندرونی اختلافات ہیں۔ کچھ مسائل اورکچھ شرائط تھیں جن پر ہماری طرف سے کوئی بات چیت نہیں کی جا سکتی تھی اس لیے اس وقت کوئی جنگ بندی نہیں ہے ہم آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں اور اس وقت تک آپریشن جاری رکھیں گے جب تک دہشت گردی کی لعنت سے چھٹکارا حاصل نہ کرلیں۔

  • ملک میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں معمولی اضافہ

    ملک میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں معمولی اضافہ

    ملک میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں معمولی اضافہ ہوگیا۔

    باغی ٹی وی : انٹربینک میں ڈالر کی قیمت ایک پیسے اضافےکے بعد 176.68 روپے ہے جبکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت 179.50روپے پر برقرار رہی۔


    ادھر پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج کاروباری ہفتے کے پہلے روز مثبت رجحان رہا پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا 100 انڈیکس 541 پوائنٹس اضافے سے 47887 پر بند ہوا۔کاروباری دن میں 100 انڈیکس 764 پوائنٹس کے بینڈ میں رہا بازار میں آج 35.69 کروڑ شیئرز کے سودے ہوئے جن کی مالیت 11.87 ارب روپے رہی۔ مارکیٹ کیپٹلائزیشن 82 ارب روپے بڑھ کر7854 ارب روپے ہوگیا ہے۔

    وفاقی حکومت کا بس چلے توسانحہ مری کی ذمہ داری سندھ پر ڈال دے

    دوسری جانب ملک میں سونے کی فی تولہ قیمت کوئی اضافہ یا کمی نہیں ہوئی سندھ صرافہ بازار جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق سونے کی فی تولہ قیمت 126200 روپے پر برقرار ہے 10 گرام سونے کی قدر 108196 روپے برقرار ہے جبکہ عالمی صرافہ میں سونے کی قدر 2 ڈالر اضافے سے 1800 ڈالر فی اونس ہے-

    واضح رہے کہ وزیر خزانہ سینیٹر شوکت ترین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک پر حکومت پاکستان کا کنٹرول برقرار رہے گا قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر خزانہ سینیٹر شوکت ترین کا کہنا تھا کہ اگر ہم سینیٹ کو پارلیمنٹ نہیں سمجھتے تو اسے بند کر دیں شوکت ترین کا قیصر شیخ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ میں منتخب سینیٹر ہوں، آپ نے میٹھے انداز میں جوتے مارے روپے کو مصنوعی طریقہ سے روک کر60 ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا گیا۔

    شوکت ترین کے ریمارکس پر کمیٹی رکن احسن اقبال نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ وزیر خزانہ پارلیمان کے سامنے ہیں اس آواز میں بات نہیں کر سکتے احسن اقبال کا کہنا تھا کہ 40 فیصد روپے کی قدر میں کمی کرکے کونسی برآمدات بڑھائی گئیں۔

    وزیر خزانہ نے کمیٹی کو بتایا کہ اسٹیٹ بینک پر حکومت پاکستان کا کنٹرول برقرار رہے گا، حکومت بورڈ آف ڈائریکٹرز کے نام نامزد کرے گی، بورڈ ارکان کے تقرر کی منظوری کا اختیار بھی حکومت کے پاس ہو گا، اسٹیٹ بینک آف پاکستان مادر پدر آزاد نہیں ہو گا۔

    مری میں اموات زیادہ ہوئیں جوقوم سے چھپائی جارہی ہیں،حمزہ شہباز

  • کورونا وبا کے دوران خدمات سرانجام دینےوالے ورکرزمیں تعریفی اسناد اور شیلڈزتقسیم

    کورونا وبا کے دوران خدمات سرانجام دینےوالے ورکرزمیں تعریفی اسناد اور شیلڈزتقسیم

    وفاقی وزیراسد عمر کا کہنا ہے کہ عوام کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ایس او پیز پر عمل کریں او ویکسینیشن لگوائیں-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق این سی او سی نے ان ٹیموں کے اعزاز میں انعامات کی تقریب کا انعقاد کیا جنہوں نے کورونا وائرس وبائی امراض سےنمٹنے کے لیے کام کیا-

    نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر (این سی او سی) نے پیر کے روز صوبائی اور ضلعی ٹیموں کے اعزاز میں تعریفی اسناد اور شیلڈز تقسیم کرنے کی تقریب کا انعقاد کیا جنہوں نے ویکسینیشن کے مقررہ اہداف حاصل کرنے اور کورونا وائرس وبائی امراض سے نمٹنے میں بھر پور کوششیں کیں۔

    جاپان نےکورونا کے پھیلاؤ کا ذمہ دار امریکی فوجی اڈوں کو قرار دے دیا

    تقریب کا اہتمام این سی او سی ہیڈ آفس میں کیا گیا جس کی صدارت چیئرمین این سی او سی وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات اسد عمر، نیشنل کوآرڈینیٹر میجر جنرل محمد ظفر اقبال اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے کی۔

    شیلڈز اور تعریفی خطوط ان اضلاع اور صوبوں کو دیئے گئے جنہوں نے 60 فیصد سے زائد آبادی کو حفاظتی ٹیکے لگانے کا ہدف مکمل کیا اور ان تین دور دراز اضلاع کو جنہوں نے محدود وسائل اور دشوار گزار علاقے کے باوجود زیادہ سے زیادہ ویکسینیشن کے اہداف حاصل کئے۔

    کورونا،ڈیلٹا،اومی کرون،فلورونا کے بعد ڈیلٹا کرون:نیاوائرس کتنا خطرناک ہے ماہرین نے ڈرا دیا

    اضلاع کے نمائندوں میں ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز، چیف ایگزیکٹو آفیسرز، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز، ڈسٹرکٹ ویکسینیشن فوکل پرسن اور ڈیٹا انٹری آپریٹرز شامل ہیں۔

    کورونا وائرس ویکسینیشن مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے تمام کارکنوں کی خدمات کو تسلیم کرنے کے لیے انعامات کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات اسد عمر نے ایک بار پھر لوگوں کو مشورہ دیا کہ وہ خود کو کورونا وائرس سے بچانے کے لیے معیاری آپریٹنگ طریقہ کار (SOPs) پر عمل کریں کووڈ جو اس وقت ملک میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ جن لوگوں کو ابھی تک ویکسین نہیں لگائی گئی وہ جلد از جلد ویکسین لگوائیں جن افراد کو چھ ماہ قبل مکمل طور پر ویکسین لگائی گئی تھی اور ان کی عمر 30 سال سے زیادہ ہے، وہ بوسٹر ڈوز بھی لگوائیں-

    اسد عمر نے تمام گراؤنڈ ورکرز، ویکسی نیشن ٹیموں، این سی او سی، ہیلتھ ورکرز اور وفاقی اور صوبائی اداروں کی مربوط کوششوں کی تعریف کی جنہوں نے مہم کو کامیاب بنانے میں مدد کی انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے خلاف مہم اس لیے یاد رکھی جائے گی کہ پوری قوم نے اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اجتماعی کوششیں کیں۔

    قبل ازیں تقریب کے دوران بتایا گیا کہ 48 فیصد اہل آبادی کو مکمل طور پر ویکسین لگائی گئی ہے۔ 31 دسمبر 2021 تک 71.5 ملین افراد کی ویکسینیشن مکمل ہو چکی ہے۔ صرف دسمبر 2021 میں تقریباً 21.5 ملین افراد کی ویکسینیشن کو یقینی بنایا گیا ہے اور اس کا کریڈٹ صوبوں کو جاتا ہے۔

    اومی کرون کی علامت جو نیند میں سامنے آتی ہے

    تعریفی اسناد اور شیلڈز حاصل کرنے والی ضلعی ٹیموں میں جہلم، میانوالی، منڈی بہاؤالدین، نارووال، اٹک، بھکر، سرگودھا، لودھراں، کراچی ساؤتھ اینڈ ایسٹ، چترال لوئر اینڈ اپر، مستونگ، چمن، لسبیلہ، ہرنائی، آواران، سوراب، نصیر آباد، ہنزہ، غذر، میرپور، تھرپارکر، اورکزئی اور نوادی نیلم شامل ہیں-

    سرفہرست تین اضلاع جنہوں نے زیادہ سے زیادہ آبادی جو ویکسین لھانے کا ہدف حاصل کیا ان میں قلات 87 فیصد ، کراچی جنوبی 82 فیصد ، اسلام آباد 77فیصد شامل ہیں، جبکہ دور دراز علاقوں کے تین اضلاع جنہوں نے دشوار گزار علاقوں اور محدود وسائل کے باوجود ویکسینیشن کے اہداف حاصل کیے ان میں اورکزئی 54 فیصد ،نیلم 56 فیصد اور تھرپارکر 51فیصد شامل ہیں۔

    آخر میں اسد عمر نے اس بات کا اعادہ کیا کہ تمام صوبوں کو موجودہ لہر کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے تمام NPIs اور فرض شناس نظام کی صحیح معنوں میں پیروی کرنی چاہیے۔

    بوسٹر ڈوز لگوانے کے لئے سنٹر قائم، تفصیلات جاری

  • سیالکوٹ: زمین کے تنازع پر معمر خاتون پر بہیمانہ تشدد،وزیراعلیٰ کا نوٹس:مجرم گرفتار

    سیالکوٹ: زمین کے تنازع پر معمر خاتون پر بہیمانہ تشدد،وزیراعلیٰ کا نوٹس:مجرم گرفتار

    سیالکوٹ: سیالکوٹ: زمین کے تنازع پر معمر خاتون پر بہیمانہ تشدد،وزیراعلیٰ کا نوٹس:مجرم گرفتارتفصیلات کے مطابق سیالکوٹ میں انسانیت سوز واقعہ پیش آیا ہے۔ زمین کے تنازع پر معمر خاتون کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ پولیس نے تشدد کرنے والے پانچ ملزمان کو گرفتار کرلیا۔

    تھانہ کوٹلی سید امیر کے علاقے میں معمرخاتون کو بالوں سے پکڑ کر زمین پر گھسیٹا گیا۔ ڈنڈوں اور جوتوں سے سرعام تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔پولیس کے مطابق واقعہ چند روز قبل پیش آیا۔ سیالکوٹ پولیس نے پندرہ مرد اور خواتین کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔

    ڈی پی او سیالکوٹ کی تشکیل کردہ خصوصی ٹیم نے کارروائی کرتے ہوئے خاتون پر تشدد کرنے والے پانچ ملزم گرفتار کرلیے ہیں ۔گرفتار افراد میں ایک مرد اور چار خواتین شامل ہیں۔

    ڈی پی او سیالکوٹ عمر سعید ملک کے مطابق واقعہ میں ملوث باقی ملزمان کی گرفتاری کےلیے ٹیمیں سرچ آپریشن کررہی ہیں۔تمام ملزمان کو گرفتار کرکے سخت سزا دلائی جائے گی۔

    ڈی پی او سیالکوٹ عمر سعید ملک نے کہا کہ بزرگ خاتون پر تشدد شرمناک فعل ہے ایسے بزدلانہ فعل کے مرتکب افراد کسی رعایت کے مستحق نہیں واقع میں ملوث تمام افراد کی گرفتاری تک پولیس کاروائیاں جاری رہیں گی۔ واقع میں ملوث تمام افراد کو گرفتار کر کے قانون کے مطابق سزا دلوائی جائے گی اور متاثرہ خاتون کو انصاف کی فراہمی کی یقین بنائی جائے گی۔

    یاد رہے کہ وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدارنے سیالکوٹ میں بزرگ خاتون پر تشدد کے واقعہ کانوٹس لیتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس سے رپورٹ طلب کرلی ہے اورملزمان کے خلاف قانون کے تحت سخت کارروائی کا حکم بھی دے دیا ہے ،

    وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ مفرور ملزمان کو بھی جلد قانون کی گرفت میں لایا جائے۔بزرگ خاتون کو انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے بزرگ خاتون پر تشدد کرنے والے ملزمان کسی رعایت کے مستحق نہیں۔

    خیال رہے کہ آئی جی پنجاب نے بزرگ خاتون پر تشدد کے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ملزمان کی گرفتاری کی ہدایت کی تھی۔

  • سانحہ مری کی تحقیقات کیلئے کمیٹی قائم،7 روز میں تحقیقات مکمل کرکے اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت

    سانحہ مری کی تحقیقات کیلئے کمیٹی قائم،7 روز میں تحقیقات مکمل کرکے اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت

    نوٹیفکیشن کے مطابق ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ ظفر نصراللہ کو کمیٹی کا کنوینر مقرر کیا گیا ہے جبکہ صوبائی سیکرٹریزعلی سرفراز، اسد گیلانی اور اے آئی جی فاروق مظہر کمیٹی کے رکن ہوں گے۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ سانحہ مری کی تحقیقاتی کمیٹی کے ٹی او آرز بھی طے کرلیےگئے ہیں۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی سانحہ مری سے متعلق سرکاری محکموں کے ذمہ داروں کا تعین کرے گئی اور تحقیقات کرےگی کہ مری میں سیاحوں اور گاڑیوں کوکنٹرول کرنےکےکیا قدامات کیے؟

    کمیٹی تحقیق کرےگی کہ محکمہ موسمیات کی وارننگ پر اداروں نےکیا لائحہ عمل اختیارکیا؟ کیا میڈیا پر مری آنے سے روکنے کیلئے کوئی وارننگ جاری کی گئی؟

    نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی تحقیقات کرے گی برفانی طوفان کی اطلاع کےبعدکیاحفاظتی اقدامات کیےگئے؟یہ کمیٹی 7 روز میں تحقیقات مکمل کرکے اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

    دوسری جانب پنجاب حکومت کے ترجمان حسان خاور کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے سانحہ پر انکوائری کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا، انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کےبعد ذمہ داران کا تعین اوران کے خلاف کارروائی ہوگی۔

    ان کا کہنا تھاکہ سانحے کی ذمہ داری ضلعی انتظامیہ پر بھی عائد ہوتی ہے، عوام کی بھی غلطی ہے انھیں انتظامیہ کی وارننگ کوسنجیدہ لینا چاہیے تھا۔

    خیال رہے کہ گزشتہ روز مری میں برفانی طوفان اور رش کے باعث 23 افراد اپنی گاڑیوں میں انتقال کرگئے تھے، انتقال کرجانے والوں میں ایک ہی خاندان کے 8 افراد بھی شامل تھے۔

  • پوپ فرانسس کا سانحہ مری پر اظہار افسوس

    پوپ فرانسس کا سانحہ مری پر اظہار افسوس

    ویٹی کن:کیتھولک عیسائیوں کے مذہبی پیشوا پوپ فرانسس نے سانحہ مری پر اظہار افسوس کیا ہے۔ادھر یہ بھی اطلاعات ہیں‌ کہ ویٹی کن میں منعقد تقریب میں سانحہ مری میں جاں بحق افراد کے لیے دعائیں بھی کی گئیں۔

    پوپ فرانسس نے سانحہ مری پر اظہار افسوس کرتے ہوئےکہا ہےکہ وہ لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔

    ادھر یورپین یونین نے پاکستان کے سیاحتی مقام مری میں موسمی حالات کے باعث سیاحوں کی ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    اس حوالے سے پاکستان میں یورپین یونین کے دفتر اور اس کی سفیر اندرولا کامینارا نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کے ذریعے اس حادثے پر اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں مری میں چھٹیاں منانے والوں کی جان جانے کے المناک نقصان کے بارے میں جان کر صدمہ ہوا ہے۔

    انہوں نے اس خوفناک حادثے میں اپنے پیاروں کو کھونے والے خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے ان کے لیے ابدی سکون اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی۔

    خیال رہے کہ مری میں 7 جنوری کی رات کو آنے والے برفانی طوفان نے 20 سے زائد زندگیاں نگل لیں، حکومت نے مری کو آفت زدہ قرار دے کر ایمرجنسی نافذ کردی ہے اور ریسکیو اہلکاروں کی جانب سے امدادی کاموں کا سلسلہ جاری ہے۔

    ادھر وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کو سانحہ مری کی ابتدائی رپورٹ پیش کردی گئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ مری میں 4 روز میں 1 لاکھ 62 ہزار گاڑیاں داخل ہوئیں، اموات کاربن مونو آکسائیڈ کی زیادتی سے ہوئیں ۔

    وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو دورہ مری میں واقعے کے محرکات کی رپورٹ پیش کردی گئی ہے جس کے مطابق 7 جنوری کو 16 گھنٹے میں چار فٹ برف پڑی، 3 جنوری سے 7 جنوری تک 1 لاکھ 62 ہزار گاڑی مری داخل ہوئیں ۔

    وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ٹریفک لوڈ مینجمنٹ نہ کرنے پر برہمی کا اظہا کرتے ہوئے کہا کہ ٹریفک کی روانی کو کنٹرول کرنا کس کا کام تھا؟۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ 16 مقامات پر درخت گرنے سے ٹریفک بلاک ہوئی ، 21 ہزار گاڑیاں واپس بھجوائی گئیں ، 4 سے 5 گاڑیوں میں 22 افراد جاں بحق ہوئے ، یہ افراد کاربن مونو آکسائیڈ کی زیادتی سے جاں بحق ہوئے ، 70 فیصد علاقوں میں بجلی بحال کر دی گئی ہے ۔