Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • کیپٹل ہِل پر حملہ مسلح گروہوں کے رہنماوں کو سخت کی سزائیں:سابق صدر کے خلاف بھی گھیرا تنگ

    کیپٹل ہِل پر حملہ مسلح گروہوں کے رہنماوں کو سخت کی سزائیں:سابق صدر کے خلاف بھی گھیرا تنگ

    واشنگٹن : کیپٹل ہِل پر حملہ مسلح گروہوں نے کیا:سخت قید کی سزائیں:سابق صدر کے خلاف بھی گھیرا تنگ ،اطلاعات کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن کی صدارتی فتح کی تصدیق کو روکنے کی کوشش میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کے امریکی کانگریس کی عمارت، کیپیٹل ہل، پر دھاوا بولنے کو آج ایک سال ہوگیا ہے۔ اب تک سات سو سے زیادہ افراد پر وفاقی جرائم کا الزام لگایا جا چکا ہے۔

    سازشی نظریے کیو اینوں کے نام نہاد شامن جیکب چانسلی، جنہوں نے سر پر سینگ سجائے اور سمور دار کھال پہنے ہجوم کی قیادت کی، کو41 ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ پراپرٹی کے کاروبار سے وابستہ جینا رائن نامی خاتون، جو کیپٹل ہل میں بلوائیوں کا حصہ بننے سے قبل نجی جہاز پر واشنگٹن ڈی سی پہنچی تھی اور بعد میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ اس لیے جیل نہیں جائیں گی کیونکہ ان کے ’بال سنہرے ہیں‘ اور ’رنگ سفید‘ ہے، ان کو 60 دن قید کی سزا دی گئی ہے۔

     

    ادھر اس حوالے سے انتہائی دائیں بازو کے مسلح گروہ جیسے ’پراؤڈ بوائز‘ اور ’اوتھ کیپرز‘ کے اراکین کے خلاف مزید پیچیدہ مقدمات کی سماعت جاری تھی جس کے بعد ان کے حوالے سے باقاعدہ آج اعلان کیا گیا کہ تمام سازشیوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے

    ادھر حکام نے جمعرات کو بتایا کہ انتہائی دائیں بازو کے اوتھ کیپرز ملیشیا گروپ کے بانی اور رہنما سٹیورٹ رہوڈز کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور ان پر 6 جنوری کو امریکی کیپیٹل پر حملے میں بغاوت کی سازش کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

    روڈس کسی انتہا پسند گروپ کا وہ اعلیٰ ترین رکن ہے جسے مہلک محاصرے میں گرفتار کیا گیا ہے اور یہ پہلا موقع ہے جب محکمہ انصاف نے کیپیٹل پر حملے کے سلسلے میں بغاوت کی سازش کا الزام لگایا ہے۔

    رہوڈز پر اوتھ کیپرز کے ایک درجن سے زائد دیگر اراکین اور ساتھیوں کے ساتھ فرد جرم عائد کی گئی ہے، جو حکام کا کہنا ہے کہ صدر جو بائیڈن کی جیت کی تصدیق کو روکنے کے ارادے سے واشنگٹن آئے تھے۔

    رہوڈز 6 جنوری کو کیپیٹل کی عمارت میں داخل نہیں ہوئے تھے لیکن ان پر الزام ہے کہ انہوں نے تشدد کو بھڑکانے میں مدد کی جس نے ووٹ کی تصدیق میں خلل ڈالا۔ اوتھ کیپرز کیس وفاقی حکام کی جانب سے 6 جنوری کو اب تک کا سب سے بڑا سازشی کیس ہے، جب ہزاروں ٹرمپ حامی فسادیوں نے پولیس کی رکاوٹوں پر دھاوا بول دیا اور کھڑکیوں کے شیشے توڑ دیے، درجنوں افسران کو زخمی کر دیا اور قانون سازوں کو بھاگنے پر مجبور کیا۔

    لیکن اب ایسے لگ رہا ہےکہ جیسے اب امریکی عدالتیں اس کیس کوانجام تک پہنچانے کےلیے کوشاں ہیں

  • عمر عطا بندیال پاکستان کے اگلے چیف جسٹس ہوں گے:صدر نے منظوری دیدی

    عمر عطا بندیال پاکستان کے اگلے چیف جسٹس ہوں گے:صدر نے منظوری دیدی

    اسلام آباد:صدر مملکت عارف علوی نے سپریم کورٹ کے جج، جسٹس عمر عطا بندیال کی بطورچیف جسٹس آف پاکستان تعیناتی کردی۔اور پاکستان کے اگلے چیف جسٹس عمرعطا بندیال ہوں گے

    جسٹس عمر عطا بندیال کی تعیناتی 2 فروری 2022 سے ہوگی۔ موجودہ چیف جسٹس آف پاکستان، جسٹس گلزار احمد یکم فروری 2022 کو ریٹائر ہوجائیں گے۔جسٹس عمر عطا بندیال اس وقت جسٹس گلزار کے بعد سپریم کورٹ کے سینیئر ترین جج ہیں۔

    صدر مملکت نے نئے چیف جسٹس کی تعیناتی آئین کے آرٹیکل 175 اے کے تحت کی ہے۔

    چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کی اگلے ماہ فروری میں ریٹائرمنٹ کے بعد آئین کے مطابق سپریم کورٹ کے جسٹس عمر عطا بندیال 2 فروری 2022 کو پاکستان کے اگلے چیف جسٹس کے عہدے کا حلف اٹھائیں گے ۔

    جسٹس عمرعطا بندیال 2فروری2022سے ایک سال سات ماہ 15دن کے لیے اس عہدے پرفائزرہیں گے ۔واضح رہے کہ جسٹس گلزار احمد سمیت عدلیہ کے سات سینئر ججز رواں سال ریٹائر ہو جائیں گے۔ ان میں سپریم کورٹ کے پانچ ججز اور لاہور ہائی کورٹ کے دو ججز شامل ہوں گے۔

    سپریم کورٹ کے جج 65 سال کی عمر کو پہنچنے کے بعد ریٹائر ہوتے ہیں جبکہ ہائی کورٹ کے جج 62 سال کی عمر میں عہدہ سے ریٹائر ہوتے ہیں۔رواں سال ریٹائر ہونے والے ججز میں جسٹسگلزار جو کہ یکم فروری کو ریٹائر ہو جائیں گے جن کے بعد سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی محمد امین احمد 5 مارچ کو ریٹائر ہونگے

    4 اپریل کوجسٹس مقبول باقر ، جسٹس مظہر عالم خان مندوخیل 13 جولائی اور جسٹس سجاد علی شاہ 13 اگست کو ریٹائر ہوں گے۔لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس سردار احمد نعیم 30 جون 2022 کو ریٹائر ہونگے جبکہ جسٹس چوہدری مسعود جہانگیر 2 دسمبر کو ریٹائر ہو جائیں ۔

  • میشا شفیع کی حاضری سے استثنا کی درخواست مسترد، قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

    میشا شفیع کی حاضری سے استثنا کی درخواست مسترد، قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

    لاہور:مقدمے میں میشا شفیع کی جانب سے مجسٹریٹ کے روبرو ایک دن کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی گئی۔ مجسٹریٹ نے درخواست مسترد کرتے ہوئے میشا شفیع کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔

    معروف سنگر علی ظفر کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلانے کے مقدمے میں لاہور کی مقامی عدالت نے میشا شفیع کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے۔

    سوشل میڈیا پر جنسی ہراساں کرنے کے الزام میں مہم چلانے پر ایف آئی اے نے علی ظفر کی مدعیت میں میشا شفیع کے خلاف مقدمہ درج کر رکھا ہے۔

    مقدمے میں میشا شفیع کی جانب سے مجسٹریٹ کے روبرو ایک دن کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی گئی۔ مجسٹریٹ نے درخواست مسترد کرتے ہوئے میشا شفیع کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔

    مجسٹریٹ نے میشا شفیع سمیت تمام ملزمان کو 8 فروری کو طلب کر لیا ہے۔

    خیال رہے کہ میشا شفیع ہتک عزت کے کیس میں 4 اور 5 جنوری کے علاوہ 8 جنوری کو بھی عدالت میں پیش ہوئی تھیں جب کہ 10 جنوری کو بھی وہ عدالت میں پیش ہوئیں مگر کیس کی سماعت نہ ہوسکی اور انہیں اگلی سماعت پر طلب کرلیا گیا۔

    گلوکارہ میشا شفیع 10 جنوری کو بھی عدالت میں جرح کے لیے پیش ہوئیں اور اپنی حاضری مکمل کروائی، فاضل جج کے رخصت پر ہونے کے باعث ڈیوٹی جج نے سماعت کیے بغیر ہتک عزت کیس کی کارروائی ملتوی کردی اور میشا شفیع کو آئندہ سماعت پر دوبارہ عدالت پیش ہونے کا حکم دیا۔

    دوران سماعت علی ظفر کے وکلا نے میشا شفیع کے کیس کو ڈیوٹی جج کو سماعت کا اختیار دینے کی استدعا کی، جس پر عدالت نے کاروائی کیے بغیر ہی سماعت ملتوی کی۔

    اس سے قبل میشا شفیع 8 جنوری کو بھی جرح کے لیے پیش ہوئی تھیں جب کہ 4 اور تین جنوری کو بھی ان سے جرح کی گئی تھی۔

  • 7 ویں مردم شماری کی منظوری:کس نے دی منظوری نام سامنے آگیا

    7 ویں مردم شماری کی منظوری:کس نے دی منظوری نام سامنے آگیا

    اسلام آباد:7 ویں مردم شماری کی منظوری:کس نے دی منظوری نام سامنے آگیا،اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت مشترکہ مفادات کونسل اجلاس میں 7 ویں مردم شماری کے انعقاد کی منظوری دے دی گئی۔

    وزیر اعظم عمران خان کی صدارت مشترکہ مفادات کونسل کا 49 واں اجلاس ہوا، اجلاس میں وزرائے اعلٰیٰ، وفاقی وزراء کے علاوہ ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن، تمام صوبائی چیف سیکرٹریز، چیئرمین نادرا، چیف کمشنر اسلام اور دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔

    وزیراعظم نے وزرائے اعلیٰ کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ صوبوں کے مطالبات کے مطابق کونسل کے اجلاسوں کی تعداد میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

    مشترکہ مفادات کونسل اجلاس میں 3 نکاتی ایجنڈا زیر غور آیا، مشترکہ مفادات کونسل نے ساتویں مردم شماری کے انعقاد کی منظوری دے دی جبکہ کونسل نے مردم شماری مانیٹرنگ کمیٹی کے قیام کی بھی منظوری دے دی۔

    اعلامیے میں بتایا گیا کہ فیصلہ ہوا ہے کہ مردم شماری سے قبل خانہ شماری کرائی جائے گی، کمیٹی مردم شماری کی سرگرمیوں کی نگرانی کریگی، مشترکہ مفادات کونسل نے ساتویں مردم شماری ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، جی آئی ایس مانیٹرنگ سسٹم کے ذریعے کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    اعلامیے کے مطابق اجلاس نے مالی سال 2020-21 کے لیے مشترکہ مفادات کونسل کی سالانہ رپورٹ کی منظوری دی، مالی سال 2020-21 کے دوران مجموعی طور پر 6 اجلاس منعقد، 21 ایجنڈا آئٹمز پر غور کیا گیا، مشترکہ مفادات کونسل سیکرٹریٹ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان موثر رابطہ کاری میں سہولت فراہم کرے گا۔

    اعلامیہ میں بتایا گیا کہ اجلاس میں کراچی کے لیے پانی کی اضافی ضروریات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، اور سیاسی اور تکنیکی سطح پر صوبوں کے موقف اور پانی سے متعلق مسائل پر مفاہمت کے لیے کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا، کمیٹی کراچی کے لیے پانی کی اضافی ضروریات کے معاملے کو دیکھے گی۔

    وزیراعظم نے کہا ہے کہ حکومت مردم شماری کا قابل اعتبار ڈیٹا رکھنا چاہتی ہے، یہ ڈیٹا شہریوں کی فلاح و بہبود کے لیے پالیسیوں اور منصوبوں کو شروع کرنے کے لیے استعمال ہوگا۔

    وزیراعظم نے مشترکہ مفادات کونسل کے مستقل سیکرٹریٹ کےقیام پرکونسل کے اراکین کو مبارکباد دیتے ہوئےکہا کہ مستقل سیکرٹریٹ کا قیام وفاقی اورصوبائی حکومتوں کے درمیان باہمی تعاون کے جذبے کوظاہر کرتا ہے،وفاقی حکومت تمام وفاقی اکائیوں اور اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے قومی مسائل کے حل کے لیے پرعزم ہے۔

  • ہم آپ کا کراچی گھر کا ایڈریس جانتے ہیں:ترامیم مسترد ہونے پربلاول کی وزیرخزانہ کوشریفانہ دھمکی

    ہم آپ کا کراچی گھر کا ایڈریس جانتے ہیں:ترامیم مسترد ہونے پربلاول کی وزیرخزانہ کوشریفانہ دھمکی

    اسلام آباد:بلاول بھٹو نے منی بجٹ میں تجویز دی کہ نان ، تندور ، چپاتی ، بند ، رس ، تندور اور ریسٹورنٹس پرٹیکس واپس لیا جائے۔ وزیر خزانہ شوکت ترین نے نے بلاول بھٹو کی ترامیم کی مخالفت کردی۔

    چیئرمین پی پی بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا وزیر خزانہ ایک طرف کہہ رہے کہ وہ روٹی، ڈبل روٹی کی ترامیم مان رہے ہیں ، اگر وہ مان رہے ہیں تو پھر ہماری ترامیم کی مخالفت کیوں کررہے ہیں ، وزیرخزانہ یہ بھی کہتے ہیں انہیں سمجھ نہیں آتی کہ اپوزیشن کیوں شور مچا رہے ہیں ، ہم آپ کا کراچی گھر کا ایڈریس جانتے ہیں، جائیں عوام سے پوچھیں وہ کیوں شور مچا رہے ہیں ۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ آپ عوام کے پاس نہیں آئینگے تو ہم عوام کو آپ کے پاس لے آئیں گے اور آپ سے پھر پوچھیں گے مہنگائی کیوں؟ آپ اتنے کی سنجیدہ ہیں تو اس آئی ایم ایف کے بجٹ کو مسترد کریں، ہمارے ساتھ آئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم ان معاشی حالات سے عوام کو نکالیں گے۔

    غریبوں کےنام پرسیاست کرنےوالوجلد”پتے لگ جان گے”کہ آپ نےکتنا مال بنایا:شوکت ترین کا اپوزیشن کوجواب ،اطلاعات کے مطابق قومی اسمبلی اجلاس کے دوران ضمنی مالیاتی بل پر اپوزیشن کی ترامیم مسترد کر دی گئیں۔

    دوسری طرف اپوزیشن کے شور مچانے پر وزیرخزانہ شوکت ترین نے کہا کہ اپوزیشن کی غریب نوازی کے حقائق بہت جلد سامنے آنے والے ہیں اور اس ملک کے بیچارے غریبوں کو بھی معلوم ہوجائے گا کہ ان کے نام پرسیاست کرنے والوں کو کتنا فائدہ پہنچا

    قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت ہوا، اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے بھی شرکت کی۔ ان کی آمد پر ارکان اسمبلی نے ڈیسک بجا کر استقبال کیا جبکہ اپوزیشن نے وزیراعظم کیخلاف نعرے لگائے۔

    اجلاس کے دوران ضمنی بجٹ پر پیپلز پارٹی نے ترمیم پیش کی جبکہ سپیکر نے ترمیم پر زبانی رائے شماری دی جسے اپوزیشن نے چیلنج کیا، سپیکر کی ترمیم کے حق میں ووٹ دینے والوں کو کھڑے ہونے کی ہدایت کی، سپیکر کی ہدایت پر پیپلز پارٹی کی ترمیم پر گنتی کی گئی ہے۔ ترمیم کےحق میں 150 جبکہ مخالفت میں 168 ووٹ پڑے۔

    اجلاس کے دوران پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ وزیرخزانہ شوکت ترین بتائیں منی بجٹ کی ضرورت کیوں پیش آئی، کیا ریونیومیں کمی یا اخراجات بڑھ گئے ہیں، عوام پر 350ارب کا بوجھ ڈالاجائے گا۔ ہرماہ پٹرول اوربجلی مہنگی کی جارہی ہے۔

    شاہد خاقان عباسی کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ یہ ٹیکس کا طوفان نہیں ہے، 343 ارب میں سے 200 ارب ریفنڈ ہو جائیں گے۔ یہ ٹیکس نہیں یہ معیشت کی ڈاکومینٹیشن ہے۔ سب کو معلوم ہو گا کس نے کتنا کمایا، واویلا مچا رہے ہیں کہ غریب تباہ ہو گیا۔

    اجلاس میں رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے کہا کہ علی وزیر کے پروڈکشن آرڈر کیوں جاری نہیں ہوئے، اپوزیشن نے مشترکہ طور پر پروڈکشن آرڈر کیلئے درخواست دی تھی، آپ نے وزیرستان کو ایوان میں حق سے محروم رکھا۔

  • افغانستان کو انسانی بحران سے بچانے کیلئے فوری کاوشوں کی ضرورت ہے: آرمی چیف

    افغانستان کو انسانی بحران سے بچانے کیلئے فوری کاوشوں کی ضرورت ہے: آرمی چیف

    راولپنڈی:آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ افغانستان کو انسانی بحران سے بچانے کیلئے عالمی برادری کی فوری کاوشوں کی ضرورت ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق امریکی ناظم الامور اینجلا ایگلر نے جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) کا دورہ کیا اور سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی، علاقائی سلامتی کی صورتحال، افغانستان اور مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق امریکی ناظم الامور نے علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستانی کردار، کاوشوں کو سراہا۔

    اس موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ افغانستان کو انسانی بحران سے بچانے کیلئے عالمی برادری کی فوری کاوشوں کی ضرورت ہے۔

  • بھارتی عدالتی نظام بھارتی فوج کےزیراثر:تحریک آزادی کشمیراورپاکستان کے‌خلاف مشترکہ حکمت عملی ہے

    بھارتی عدالتی نظام بھارتی فوج کےزیراثر:تحریک آزادی کشمیراورپاکستان کے‌خلاف مشترکہ حکمت عملی ہے

    سرینگر:بھارتی عدالتی نظام بھارتی فوج کےزیراثر:تحریک آزادی کشمیراورپاکستان کے‌خلاف مشترکہ حکمت عملی ہے:حریت کانفرنس نے انکشاف کردیا ،بھارت کے غیر قانونی زیرقبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ قابض بھارتی فورسز نے کالے قوانین کی آڑ میں علاقے میں سول انتظامیہ اور عدالتی اداروں کا مکمل کنٹرول حاصل کر رکھا ہے جس کے تحت لوگوں کو گرفتار کیا جاتا ، تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور بغیر کسی جرم کے قتل کیا جاتا ہے۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور تسلیم شدہ حق خودارادیت کا جائز مطالبہ اٹھانے کی وجہ سے کشمیری سیاسی قیدیوں کے ساتھ روا رکھے گئے غیر انسانی رویے کی مذمت کی۔ ترجمان نے بھارتی ناجائز قبضے کے خلاف جاری مزاحمتی تحریک کو خالصتاً ایک سیاسی اور مقامی تحریک قرار دیتے ہوئے کہ بھارتی سامراجی نظام حکمرانی عوام کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے پیش آرہا ہے اور فوج اور پیرا ملٹری دستوں کے ذریعے ان کے بنیادی حقوق کو پامال کر رہا ہے۔

    ترجمان نے فسطائی بھارتی جیل حکام کے ہاتھوں کل جماعتی حریت کانفرنس کے غیر قانونی طور پر نظر بند رہنماﺅں اور کارکنوں کی حالت زار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نظربندوں کو بنیادی سہولیات میسر نہیں اور انہیں تنگ و تاریک سیلوں میں رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طبی سہولیات اور صحت بخش غذا کی عدم فراہمی کی وجہ سے نظر بند متعدد امراض کا شکار ہو گئے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب کوروانا کی وبا نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے نظربندوں کو جیل حکام کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔

    انہوں نے محمد مقبول بٹ، محمد افضل گورو، سید علی گیلانی، محمد اشرف صحرائی، علی محمد آہنگر، مشتاق احمد بٹ اور عبدالرشید سمیت جسمانی تشدد، عدالتی جانبداری یا طبی غفلت سے دوران حراست شہید ہونے والے رہنماﺅں کو شاندار خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے بھارت اور مقبوضہ علاقے کی بدنام زمانہ جیلوں میں بند حریت رہنماو¿ں کے خلاف مجرمانہ رویے پر بھارت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ترجمان نے خبردار کیا کہ اگر مزاحمتی رہنماو¿ں اور کارکنوں کے ساتھ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا تو اس کی تمام تر ذمہ داری بھارت پر عائد ہوگی۔

    ترجمان نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ، شبیر احمد شاہ، محمد یاسین ملک، ڈاکٹر شفیع شریعتی، ڈاکٹر محمد قاسم فکتو، آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی، ناہیدہ نسرین، ڈاکٹر جی ایم بٹ، امیر حمزہ، محمد یوسف میر، محمد یوسف فلاحی، الطاف فنتوش، ایاز اکبر، پیر سیف اللہ، راجہ معراج الدین کلوال، نعیم احمد خان، شاہد الاسلام، فاروق احمد ڈار، ظہور احمد وٹالی، مقصود احمد بٹ، شاہد یوسف، شکیل یوسف، مشہد یوسف، راشد یوسف صحرائی، اسد اللہ پرے، شوکت حکیم، معراج الدین نندا، رفیق احمد گنائی، پیر ہلال احمد، اب رشید لون، شکیل بٹ، غضنفر اقبال عابد زرگر، شوکت احمد خان، نذیر احمد شیخ، ظہور احمد بٹ، محمود ا، میر توبہ، محمد طوبیٰ، ظہور احمد بٹ۔ محمد ایوب ڈار، قادر بٹ، عاقب نجار، عارف وانی، امتیاز احمد، شیخ فاروق، نذیر پٹھانسمیت دیگر نظر بندوں کی استقامت کو سلام پیش کیا۔

    ترجمان نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل، ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ اور انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس پر زور دیا کہ وہ اپنی ٹیموں کے بھارتی جیلوں کے دورے اور کشمیریوں نظر بندوں کی حالت زار کا جائزہ لینے کیلئے بھارت پر دباو ڈالے ۔

  • مقبوضہ کشمیر:بھارتی فوجی صحافیوں کو بڑے پیمانے پر ہراساں کر رہے ہیں:ہیومن رائٹس واچ

    مقبوضہ کشمیر:بھارتی فوجی صحافیوں کو بڑے پیمانے پر ہراساں کر رہے ہیں:ہیومن رائٹس واچ

    نیویارک:انسانی حقوق کے عالمی ادارے ہیومن رائٹس واچ نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ بھارت کے زیر قبضہ جموںوکشمیر میں صحافیوں کو حکام کی طرف سے بڑے پیمانے پر دھمکیوں اور خوف و ہراساں کا سامنا ہے جس میں دہشت گردی کے الزامات کے تحت چھاپے اور گرفتاریاں بھی شامل ہیں۔

    کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق ہیومن رائٹس واچ نے اپنی رپورٹ 2022جس میں 2021کے واقعات کا احاطہ کیا گیا ہے کہا کہ بھارتی فوج اور پولیس نے گزشتہ برس ستمبر میں چار کشمیری صحافیوں کے گھروں پر چھاپے مارے اور ان کے فون اور لیپ ٹاپ ضبط کر لیے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ برس جون میںآزادی اظہار کے بارے میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے اور صوابدیدی حراست پر ورکنگ گروپ نے جموں و کشمیر کی صورتحال کو کور کرنے والے صحافیوں کی حراست اور دھمکیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ ستمبر 2021 میںکل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی کی وفات کے بعد بھارت نے ان کے جنازے میں بڑے پیمانے پر لوگوںکی شرکت کو روکنے کے لیے دو دن کے لیے تقریباً مکمل مواصلاتی بلیک آوٹ نافذ کیا۔ سید علی گیلانی کے اہلخانہ کا کہنا تھا کہ انہیں آخری رسومات ادا کرنے کا حق نہیں دیا گیا۔

    گزشتہ برس جولائی میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چار ماہرین نے بھارتی حکومت کو خط لکھ کر محمد اشرف خان صحرائی کی دوران حریت وفات کی تحقیقات پر زور دیا تھا جنہیں جولائی 2020 میں پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔ گزشتہ برس مارچ میں اقوام متحدہ کے پانچ ماہرین کے نے بھارتی حکومت کو خط لکھ کر کشمیری سیاست دان وحید پری کی نظربندی، ایک دکاندار عرفان احمد ڈار کی حراست میں قتل اور نصیر احمد وانی کی جبری گمشدگی کے بارے میں معلومات طلب کیں۔

    انہوں نے جابرانہ اقدامات اور مقامی آبادی کے خلاف بنیادی حقوق کی منظم خلاف ورزیوں کے ساتھ ساتھ دھمکیوں، تلاشیوں اور ضبطیوں کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا۔ ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ کہ فروری 2021 میں بھارتی حکومت نے بالآخر مقبوضہ جموں و کشمیر میں 18 ماہ سے نافذ انٹرنیٹ بندش ختم کر دی جو نئی اگست 2019 میں مقبوضہ علاقے کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے بعد نافذ کی گئی تھی۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ کالا قانون آرمڈ فورسز ایکٹ جو مقبوضہ جموں و کشمیر اور بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں میں نافذ العمل ہے بھارتی فورسز اہلکاروں کو استثنیٰ فراہم کرتا ہے۔

  • ملک کے بیشترعلاقوں میں موسم شدید سرد

    ملک کے بیشترعلاقوں میں موسم شدید سرد

    ملک میں حال میں بارشوں اور بالائی علاقوں میں شدید برفباری کے باعث گزشتہ چند دنوں سے سردی کی شدت میں اضافہ برقرار ہے-

    باغی ٹی وی : محکمہ موسمیات کے مطابق آج ریکارڈ کیےگئےکم سےکم درجہ حرارت لہہ منفی 16،استور منفی 12،گوپس منفی 10،زیارت منفی 09، اسکردو منفی 07، پلوامہ، شوپیاں،بارہ مولہ منفی 06،ہنزہ منفی 05، بگروٹ منفی 04، مالم جبہ ،کوئٹہ ،سری نگر،اننت ناگ ،دروش منفی 03،میر کھانی،پاراچنار منفی 02، راولاکوٹ اور مری میں منفی 01 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا –

    خواجہ معین الدین چشتیؒ کے سالانہ عرس کی تقریب کورونا ہدایات کے مطابق ہو گی

    دوسری جانب کم سے کم درجہ حرارت اسلام آباد میں 03، لاہور06 ،کراچی09 ،پشاور 02،کوئٹہ منفی 03، مظفر آباد 01، گلگت 02، مری منفی01، فیصل آباد06، ملتان05، سری نگرمنفی 03، جموں 05 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا –

    پاسپورٹ کی سال 2022 کی رینکنگ جاری ،فہرست میں پاکستان کا نمبر کونسا؟

    دوسری جانب بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں موسم شدید سرد ہےمحکمہ موسمیات کے مطابق صوبے کے بیشتر علاقوں میں شدید سردی کی صورتحال برقرار ہے، شمالی ، وسطیٰ اور جنوبی اضلاع میں صبح کے وقت درجہ حرارت میں کمی آنے سے موسم شدید سرد ہے نوکنڈی میں کم سے کم درجہ حرارت صفر، ژوب اور پنجگورمیں 1، دالبندین میں 2، سبی میں 4، تربت میں 8 اور گوادر میں 10ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    مری سانحہ،انکوائری کی ضرورت نہیں،ذمہ دار پھانسی کے حق دار ہیں،عدالت

    محکمی موسمیات کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے کے شمالی اضلاع میں موسم شدید سرد رہنے کا امکان ہے۔

    کراچی: ڈکیتی مزاحمت پر 3 شہری جاں بحق ایک خاتون زخمی

  • پاسپورٹ کی سال 2022 کی رینکنگ جاری ،فہرست میں پاکستان کا نمبر کونسا؟

    پاسپورٹ کی سال 2022 کی رینکنگ جاری ،فہرست میں پاکستان کا نمبر کونسا؟

    لندن: عالمی درجہ بندی پر نظر رکھنے والے ادارے ہینلے نے پاسپورٹ کی سال 2022 کی رینکنگ جاری کردی جس کے مطابق دنیا کا طاقتور ترین پاسپورٹ امریکہ یا برطانیہ کا نہیں بلکہ جاپانی شہریوں کے پاس ہے جبکہ درجہ بندی میں پاکستان کا 108واں نمبر رہا۔

    باغی ٹی وی : ہینلے کی جانب سے جاری ہونے والی سال 2022 کی رینکنگ میں 111 ممالک کے پاسپورٹس کو تین حصوں دنیا کے طاقت ور، اوسط اور بدترین میں تشکیل دیا گیا ہے جن میں جاپان اور سنگاپور ایک مرتبہ پھر پہلی پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب رہا درجہ بندی میں پاکستان 108وایں نمبر پر آیا، گزشتہ سال کی درجہ بندی میں پاکستان 116 ممالک میں 113 ویں نمبر پر تھا۔

    بیرون ملک سے آنے والوں کیلئے سنٹرل قرنطینہ پالیسی منسوخ:توپھرہوگا کیا؟اس کے متعلق…

    جاپان اور سنگا پور فہرست میں پہلے نمبر پر رہے، ان دونوں ممالک کے پاسپورٹ رکھنے والے 192 ممالک کا بغیر ویزے کے سفر کرسکتے ہیں-

    دوسرے نمبر پر جرمنی اور جنوبی کوریا، تیسرے پر فن لینڈ، اٹلی، اسپین، چوتھے پر آسٹریا، ڈنمارک، فرانس، نیدر لینڈ اور سوئیڈن، پانچویں پر آئرلینڈ اور پرتگال کے پاسپورٹ رہے جن کے حامل افراد بالترتیب 190، 189، 188، 187 ممالک بغیر ویزے کے جاسکتے ہیں۔

    اسی طرح بلیجیئم، نیوزی لینڈ، ناروے، سوئٹزلینڈ، برطانیہ اورامریکا چھٹے، آسٹریلیا، کینیڈا، چیک ری پبلک، مالٹا، یونان ساتویں، پولینڈ اورہنگری آٹھویں،لتھوانیا، سلوواکیا نویں اور ایسٹونیا، لیٹویا، سلووینیا کے پاسپورٹ دسویں نمبر پر رہے، جن کے حامل افراد بالترتیب 186، 185، 183، 182، 181 ممالک کا بغیر اجازت سفر کرسکتے ہیں۔

    پاکستان چوتھا مہنگا ترین ملک بن گیا،پی پی کا حکومت کیخلاف وائٹ پیپر جاری

    پاسپورٹ کی بدترین رینکنگ میں شمالی کوریا 104، نیپال اور فلسطین 105، صومالیہ 106، یمن 107 ، پاکستان 108، شام 109، عراق 110 اور افغانستان کا پاسپورٹ سب سے آخری یعنی 111 ویں نمبر پر رہا۔

    شمالی کوریا کا پاسپورٹ رکھنے والے 39، نیپال، فلسطین کا پاسپورٹ رکھنے والے 37، صومالین پاسپورٹ کے حامل 34، یمن 33، پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والے 31، شام 29، عراق 28 اور افغان پاسپورٹ کے حامل افراد 26 ممالک بغیر ویزے کے سفر کرسکتے ہیں یا انہیں ایئرپورٹ پر ویزا حاصل کرنے کی سہولت دستیاب ہے۔

    شہبازشریف نے منی لانڈرنگ تحقیقات لاہورہائی کورٹ میں چیلنج کردیں