Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • خبردار:ہوشیار:پاکستان میں ذیابیطس کے3لاکھ سےزائد مریض ٹانگوں سے محروم ہوسکتے ہیں :ماہرین صحت

    خبردار:ہوشیار:پاکستان میں ذیابیطس کے3لاکھ سےزائد مریض ٹانگوں سے محروم ہوسکتے ہیں :ماہرین صحت

    کراچی :خبردار:ہوشیار:پاکستان میں ذیابیطس کے3 لاکھ سے زائد مریضوں کو ٹانگوں سے محرومی کا خدشہ ہے:ماہرین صحت نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ،اطلاعات کے مطابق کورونا کی وبا کے دوران پاکستان سمیت دنیا بھر میں ذیابیطس کے نتیجے میں ہونے والے پیروں کے زخموں کے بعد ٹانگیں کٹنے اور معذوری کی شرح میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔اس حوالے سے ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ اگریہی صورت حال رہی تو پھر معاملات بہت ہی خراب ہوجائیں گے

    پاکستان میں شوگر یعنی ذیابطس سے ہونے والے نقصانات سے آگاہی اور اس کے تدارک کے لیے ہونے والے اس بہت ہی اہم سمٹ میں ماہرین نے بہت ہی سنہری باتیں کیں‌، ماہرین کا کہنا تھا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو خدشہ ہے کہ 2022 میں پاکستان میں 3 لاکھ سے زائد افراد ذیابیطس کی وجہ سے ہونے والے پیروں کے زخموں کے نتیجے میں اپنی ٹانگوں سے محروم ہو سکتے ہیں۔ان خدشات کا اظہار ڈائبیٹک فٹ انٹرنیشنل کے صدر اور نامور ماہر ذیابیطس پروفیسر ڈاکٹر زاہد میاں نے کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

    کراچی میں اس حوالے سے ہونے والی تحقیقات کے حوالے سے جو چیزیں سامنے آئی ہیں اس میں کہا گیاہے کہ اس موقع پر ذیابطیس کی وجہ سے ٹانگیں کٹنے سے بچانے کے لیے مقامی دوا ساز کمپنی ہائی کیو فارما اور بقائی انسٹیٹیوٹ آف ڈائیبیٹالوجی اینڈ اینڈوکرائنولوجی کے درمیان کراچی میں 30 ڈائبیٹک فٹ کلینکس کے قیام کے معاہدے پر بھی دستخط کیے گئے۔

    معاہدے کے تحت بقائی انسٹیٹیوٹ آف ڈائیبیٹولوجی اینڈ اینڈوکرائنولوجی کے ماہرین مقامی دوا ساز ادارے کے ساتھ مل کر کراچی میں 30 کلینکس قائم کریں گے تاکہ ذیابطیس کی وجہ سے پیروں میں ہونے والے زخموں کا علاج کرکے ایسے مریضوں کی ٹانگوں کو کٹنے سے بچایا اور ان کو معذوری سے محفوظ رکھا جا سکے۔

    ڈاکٹر زاہد میاں کا کہنا تھا کہ عالمی ذیابیطس فیڈریشن کے مطابق پاکستان میں تین کروڑ تیس لاکھ سے زائد افراد ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہیں جبکہ ذیابیطس کے مرض میں مبتلا افراد میں ٹانگیں کٹنے کی شرح 20 سے 40 فیصد تک ہوتی ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر ذیابیطس کے مریضوں میں سے 10 فیصد افراد کی ٹانگیں بھی ناقابل علاج زخموں کی وجہ سے کاٹنی پڑیں تو پاکستان میں اگلے سال تین لاکھ سے زائد افراد معذور ہو جائیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ ان میں سے تقریبا 85 فیصد افراد کو معذوری سے بچایا جا سکتا ہے جس کے لیے پاکستان میں 3 ہزار سے زائد ڈائبیٹک فٹ کلینکس قائم کرنے کی ضرورت ہے جہاں پر عالمی معیار کا علاج فراہم کیا جائے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ان کا ادارہ پاکستان کے مختلف دواساز کمپنیوں کی مالی اور فنی معاونت سے پاکستان بھر میں فٹ کلینکس قائم کر رہا ہے، کراچی میں کئی سالوں سے قائم فٹ کلینکس کی بدولت لوگوں کی ٹانگیں کٹنے کی شرح میں کافی حد تک کمی آئی ہے۔

    بقائی انسٹی ٹیوٹ آف ڈائیبیٹولوجی اینڈ اینڈوکرائنولوجی کے ڈائریکٹر پروفیسر عبدالباسط کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ذیابیطس میں مبتلا اکثر افراد کو اپنی بیماری کا علم ہی نہیں ہوتا۔

    انہوں نے کہا جب ان افراد میں اس مرض کی تشخیص ہوتی ہے اس وقت تک جسم کے کئی اعضا خراب ہو چکے ہوتے ہیں جبکہ پیروں میں خون کی سپلائی یا تو بہت کم یا ختم ہو چکی ہوتی ہے جس کے نتیجے میں پیروں میں درد محسوس کرنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے، ایسے مریضوں کو اگر کوئی زخم لگتا ہے تو انہیں پتہ نہیں چلتا اور جلد ہی وہ زخم شوگر کی وجہ سے اتنا خراب ہو جاتا ہے کہ پاؤں اور ٹانگ کاٹنے کی نوبت آجاتی ہے۔

    پروفیسر عبد الباسط کا کہنا تھا کہ ڈائبیٹک فٹ کلینکس قائم ہونے کے نتیجے میں ایسے مریضوں کا بہتر اور کامیاب علاج ہو سکے گا اور لوگوں کو معذوری سے بچایا جا سکے گا۔ہائی کیو فارما کے مینیجنگ ڈائریکٹر عاطف اقبال کا کہنا تھا کہ ان کا ادارہ ملک بھر میں اس طرح کے 500 ڈائبیٹک فٹ کلینکس قائم کرنے کی کوشش کرے گا تاکہ لاکھوں لوگوں کو معذوری سے بچایا جا سکے۔

  • اپوزیشن کے سارے کےسارےمنصوبے ادھورے رہ گئے : حکومت کو بڑی حمایت مل گئی

    اپوزیشن کے سارے کےسارےمنصوبے ادھورے رہ گئے : حکومت کو بڑی حمایت مل گئی

    لاہور:اپوزیشن کے سارے کےسارےمنصوبے ادھورےحکومت کو بڑی حمایت مل گئی ،اطلاعات کے مطابق ایک بار پھر اپوزیشن کے سارے کے سارے منصوبے ادھورے رہ گئے ہیں‌ ، یہ بھی اطلاعات ہیں‌ کہ وفاقی حکومت کو منی بجٹ کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے سے قبل بڑی حمایت مل گئی

    خیال رہے کہ قومی اسمبلی میں منی بجٹ کو پیش کیا جائے گا، جس میں آئی ایم ایف کی شرائط کو مد نظر رکھتے ہوئے بجلی، پٹرول سمیت دیگر اشیاء کی قیمتوں کو بڑھایا جائے گا جبکہ دیگر پر ٹیکسز میں اضافہ کیا جائے گا۔

    ذرائع کے مطابق منی بجٹ کی منظوری کے معاملے پر مسلم لیگ ق نے حکومت کی حمایت کا فیصلہ کر لیا ہے، ق لیگ منی بجٹ کو سپورٹ کرے گی۔حکومت کے ساتھ اتحادیوں کے رابطوں میں ق لیگ نے یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا ہے کہ اتحادی کی حیثیت سے منی بجٹ کو سپورٹ کریں گے۔

    یاد رہےکہ اس سے پہلے بھی اس وقت اپوزیشن کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا جب پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا گیا تھا ، اس موقع پر بھی پاکستان مسلم لیگ قائداعظم نے ملک کی بہتری کی خاطرحکومت کی حمایت کی اور اسی حمایت کی وجہ سے ملک میں‌ بڑے عرصے کے بعد کچھ بہتر قانون سازی ہوئی ہے

    اس وقت حکومت کے دیگراتحادیوں کی طرف سے بھی یہی توقع کی جارہی ہےکہ وہ حکومت کی حمایت کریں گے اور حکومت اپنے مقصد میں‌ کامیاب ہوجائے گی

    ادھر آج اس منی بجٹ کے خلاف اپوزیشن کی طرف سے ایک بار پھر ایوان کومچھلی منڈی بنا دیا گیا قومی اسمبلی میں منی بجٹ پر گونج سنائی دی جانے لگی، اپوزیشن حکومت پر برس پڑی، اپوزیشن نے منی بجٹ پیش کیے جانے پر حکومت کا بھرپور مقابلہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی صدارت میں ہوا، اجلاس کے دوران اپوزیشن منی بجٹ کے معاملے پر حکومت پر برس پڑی، مسلم لیگ ن ، پاکستان پیپلز پارٹی سمیت دیگر جگہوں پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

    قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما خواجہ آصف نے منی بجٹ معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ایک سرنڈر 1971 میں کیا تھا، اس سے زیادہ خطرناک سرنڈر اب کیا جا رہا ہے، حکمران پاکستان کی خودمختاری کو سرنڈر کرنے جا رہے ہیں،

    اس موقع پر سابق وزیراعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ قومی اسمبلی اجلاس منی بجٹ کے حوالے سے ایوان کے اندر اور باہر چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں، عوام پہلے ہی مہنگائی کے ہاتھوں تباہ حال ہے۔ سب کواس حوالے سے تشویش ہے، اگرکوئی منی بل، منی بجٹ آئے گا توعوام کے دکھوں میں اضافہ ہوگا۔

    وزیر مملکت علی محمد خان نے کہا کہ پی ٹی ڈی سی اور سیاحت کے شعبے کو مکمل طور پر صوبوں کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، پی ٹی ڈی سی کے اثاثے اور ملازمین صوبوں کے حوالے کرنے کا عمل شروع ہوچکا ہے، مرکزی سطح پر ٹورزم بورڈ کام کرے گا، حکومت مقامی و غیر ملکی سیاحت کے فروغ کے لیے کام کرے گی

  • سابق وزیر خزانہ سرتاج عزیز کی اہلیہ کی وفات پا گئیں‌:    سیاسی رہنماوں کی طرف سے تعزیت کا سلسلہ جاری

    سابق وزیر خزانہ سرتاج عزیز کی اہلیہ کی وفات پا گئیں‌: سیاسی رہنماوں کی طرف سے تعزیت کا سلسلہ جاری

    اسلام آباد: سابق وزیر خزانہ سرتاج عزیز کی اہلیہ کی وفات پا گئیں‌،اطلاعات کے مطابق سابق وزیرخزانہ سرتاج عزیز کی اہلیہ محترمہ آج شام قضائے الٰہی سے وفات پا گئی ہیں‌، بیگم سرتاج عزیز کی وفات کی خبر پرملک بھر کی سیاسی و سماجی شخصیات نے گہرے دکھ اور رنج کا اظہارکیا ہے ،

    دیگررہنماوں کی طرف نواز لیگ کے صدر پاکستان کے اپوزیشن لیڈرشہبازشریف نے بیگم سرتاج عزیز کی وفات پرافسوس کرتے ہوئے اسے سرتاج فیملی کےلیے ایک بہت بڑا صدمہ قرار دیا ہے

     

     

    شہبازشریف نے اس حوالے سے اظہارافسوس کرتے ہوئے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر کہا ہے کہ "پارٹی کے سینئر راہنما، سابق وزیر خزانہ محترم سرتاج عزیز کی اہلیہ کی وفات پر تمام اہل خانہ سے تعزیت اور افسوس کرتا ہوں۔ غم کی اس گھڑی میں ہم سب ان کے ساتھ شریک ہیں۔ اللہ تعالی مرحومہ کو اپنے جوار رحمت میں بلند مقام اور پسماندگان کو صبرجمیل عطا فرمائے۔ آمین

     

    دوسری طرف خاندان کی طرف سے ان کی نمازجنازہ کی ادائیگی کے حوالے سے بتا دیا گیا ہےکہ آج شام 4 بجے ان کی نمازجنازہ ادا کردی گئی ہے اور بیگم سرتاج عزیز کو ایچ 8 قبرستان میں دفن کردگیا ہے

     

    لواحقین کی طرف سے یہ بھی پیغآم جاری جاری دیا گیا ہے کہ  کل  30 دسمبر سہ پہر 3 بجے چک شہزاد فارم اسلام آباد میں رسم سوئم ادا کی جائے گی

     

     

  • پاکستان زندہ باد :داسو واقعے میں ملوث تمام دہشت گرد اور سہولت کار گرفتار

    پاکستان زندہ باد :داسو واقعے میں ملوث تمام دہشت گرد اور سہولت کار گرفتار

    پشاور:پاکستان زندہ باد :داسو واقعے میں ملوث تمام دہشت گرد اور سہولت کار گرفتار،اطلاعات کے مطابق صوبہ خیبر پختونخواہ کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) جاوید اقبال وزیر کا کہنا ہے کہ داسو واقعے میں ملوث تمام دہشت گرد اور سہولت کار گرفتار کیے جاچکے ہیں۔

    انہوں نے سالانہ کارکردگی کی بریفنگ میں بتایا کہ داسو واقعے میں انٹیلی جنس تعاون سے تمام دہشت گرد گرفتار ہوئے۔ ڈی آئی جی کا کہنا تھا کہ داسو واقعے میں ملوث سہولت کار بھی گرفتار ہیں، واقعے کے خودکش بمبار کی مکمل شناخت ہوچکی تھی۔ پاکستان میں موجود مذکورہ پورا نیٹ ورک گرفتار ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ پشاور سی ٹی ڈی نے آئی ایس کے 3 بڑے گروپ مقابلوں میں ختم کیے، جنوبی اضلاع میں دہشت گردی کرنے والے 9 دہشت گرد مارے گئے۔ جاوید اقبال وزیر کا کہنا تھا کہ صوبے میں قبائلی جھگڑوں سمیت 237 دہشت گردی کے واقعات ہوئے، سنہ 2021 میں 561 ایف آئی آرز درج ہوئیں جو گزشتہ سال سے زیادہ ہیں۔

    ڈی آئی جی نے مزید بتایا کہ 599 ہائی پروفائل دہشت گرد گرفتار ہوئے، گرفتاردہشت گردوں کے سر کی قیمت 20 کروڑ روپے تھی۔ منی لانڈرنگ کے خلاف سب سے زیادہ کارروائیاں پختونخواہ کے محکمہ انسداد دہشت گردی نے کیں۔

  • ٹی 20 پلیئر آف دی ایئر کی نامزدگیوں کا اعلان، پاکستان کے محمد رضوان بھی شامل

    ٹی 20 پلیئر آف دی ایئر کی نامزدگیوں کا اعلان، پاکستان کے محمد رضوان بھی شامل

    لندن :ٹی 20 پلیئر آف دی ایئر کی نامزدگیوں کا اعلان، پاکستان کے محمد رضوان بھی شامل ،اطلاعات کے مطابق اس سال پاکستان کے وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان آئی سی سی ٹی 20 پلیئر آف دی ایئر کی نامزدگیوں میں شامل ہیں۔

    اس حوالے سے بتایا جارہا ہے کہ آئی سی سی نے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کے پلیئرز آف دی ایئر کی نام زدگیوں کا اعلان کر دیا ہے۔کرکٹ کی بین الاقوامی تنظیم کی جانب سے سال کے بہترین کھلاڑی کے چناؤ کے لیے نامزد 4 کھلاڑیوں میں پاکستان کے محمد رضوان کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

    پلیئر آف دی ایئر کے لیے نامزد دیگر کھلاڑیوں میں انگلینڈ کے جوز بٹلر، سری لنکا کے ہسارنگا اور آسٹریلیا کے مچل مارش کے نام بھی شامل ہیں۔یاد رہے کہ محمد رضوان ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کے ایک کلینڈر ایئر میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی ہیں۔

    یاد رہے کہ چند دن پہلے قومی وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان کے لیے ایک اور اعزاز کا اعلان ہوا ہے ، اطلاعات ہیں‌ کہ برطانیہ کے کاؤنٹی کرکٹ کلب سسکس نے پاکستان کے وکٹ کییر بیٹر محمد رضوان کے ساتھ معاہدہ کر لیا۔

     

    سسکس کرکٹ کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں بتایا گیا کہ ہمیں یہ بتا کر بہت خوشی ہو رہی ہے کہ ہم نے پاکستان کے وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان کے ساتھ معاہدہ کر لیا ہے۔

    ٹی ٹوئنٹی کے ایک کلینڈر ائیر میں 2000 رنز بنانے والے قومی بلے باز نے بھی سسکس کاؤنٹی کے ساتھ معاہدے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ 2022 کے شاندار سیزن کی جانب دیکھ رہا ہوں۔

    محمد رضوان کے سسکس کرکٹ کے ساتھ معاہدے پر انگلش ویمن ٹیم اور سسکس کی کرکٹر سارہ ٹیلر نے بھی سوشل میڈیا پر ایک بیان جاری کیا تھا۔

  • اومی کرون ویرینٹ کے پیش نظر تقریبات کو ملتوی کردینا چاہیے:عالمی ادارہ صحت کا پیغام

    اومی کرون ویرینٹ کے پیش نظر تقریبات کو ملتوی کردینا چاہیے:عالمی ادارہ صحت کا پیغام

    جنیوا: اومی کرون ویرینٹ کے پیش نظر تقریبات کو ملتوی کردینا چاہیے:عالمی ادارہ صحت کا پیغام، اطلاعات کے مطابق عالمی ادارہ صحت(ڈبلیو ایچ او) نے کورونا وائرس کے نئے ویرینٹ اومی کرون کے حوالے سے نیا بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ کم شدت کے باوجود اومی کرون نظام صحت کو متاثر کرسکتا ہے۔

    ڈبلیو ایچ او کے مطابق حالیہ تحقیق بتاتی ہے کہ اومی کرون کی شدت کم ہے، لیکن اس کے پھیلاؤ کی رفتار بہت زیادہ ہے۔ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ اومی کرون پھیلاؤ کو روکنے کیلئے چین اور جرمنی نے دوبارہ سخت پابندیاں لگا دی ہیں۔

    خیال رہے کہ کچھ روز قبل عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس نے کہا تھا کہ اومی کرون ویرینٹ کے پیش نظر تقریبات کو ملتوی کردینا چاہیے، اومی کرون ویرینٹ پر قابو پانے کیلئے ہالیڈے ایونٹس کو مؤخر یا منسوخ کردینا چاہئے، کیوں کہ ایک ایونٹ منسوخ کرنا ایک زندگی ختم کرنے سے بہتر ہے۔

    ادھر چین میں کورونا وائرس کے سبب پابندیوں کا دائرہ وسیع کردیا گیا ہے، چین کے شہر یان آن کے مختلف علاقوں میں عوام کو گھروں میں رہنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔

    چین کے شہر شیان میں شہریوں کو گھروں سے نکلنے کی اجازت نہیں ہے جبکہ شہر میں ہر 3 دن میں خاندان کے ایک فرد کو ضروری سامان لانے کی اجازت ہے۔

  • ہوشیار، اب نکلیں گی عوام کی چیخیں، خان کا نیا پینترا،نواز شریف کی نئی چال

    ہوشیار، اب نکلیں گی عوام کی چیخیں، خان کا نیا پینترا،نواز شریف کی نئی چال

    ہوشیار، اب نکلیں گی عوام کی چیخیں، خان کا نیا پینترا،نواز شریف کی نئی چال
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے ان ساڑھے تین سالوں میں عوام کی ان سے وابستہ کوئی امید پوری نہیں ہوئی ۔ کوئی آس پوری نہیں ہوئی۔ عوام کی مشکلات حد سے زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ مہنگائی سمجھ سے باہر ہے۔ لوگ روٹی سے تنگ ہیں۔ افراتفری پھل پھول رہی ہے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کرپٹ لیڈر کپتان کی پالیسیوں کے سبب اپنے بونے قد خوفناک حد تک بڑھا چکے ہیں۔ وہ کرپشن جس کو کپتان نے ختم کرنا تھا۔ کپتان کی غلط پالیسیوں کے سبب پہلے سے بہت زیادہ ہو گئی ہے۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ وہ کام جو اپوزیشن کے لوگ تا حیات نہیں کر سکتے تھے۔ عمران خان کی نااہلیوں اور غلط فیصلوں نے کر دیا ہے۔ کہتے ہیں کسی بھی قوم کو زنجیروں میں جکڑنا ہو تو اسے قرضہ دیا جائے وہ بھی سود پر۔ یہ جو منی بجٹ عوام پر نازل کیا جا رہا ہے ۔ سب ان ہی قرضوں کی وجہ سے ہے ۔ وزارت خزانہ کے ترجمان جتنا مرضی کہتے رہیں کہ منی بجٹ میں عام آدمی کے استعمال کی کسی چیز پر ٹیکس نہیں لگے گا۔ لوگ ماننے کو تیار نہیں کیونکہ یہ سب فضولیات ہیں ۔ ایک مثال دے دیتا ہوں ۔ کہ ۔ اس بار جو کئی پاکستانیوں کے بجلی کے بل دیکھ کر اوسان خطا ہو گئے تھے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس کی سب سے بڑی وجہ بنیادی ٹیرف اور سرچارج میں اضافہ تھا ۔ سچ یہ ہے کہ 2021 میں بجلی 18روپے 71پیسے فی یونٹ تک مہنگی کر دی گئی ہے ۔ گزشتہ ایک سال میں بجلی کی قیمت میں 9 بار اضافہ کیا گیا یوں بجلی صارفین پر 650ارب روپےکااضافی بوجھ ڈالاگیا۔ تو یہ جتنا مرضہ کہتے رہیں کہ پوری دنیا میں مہنگائی ہے لیکن ہم مینیج کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ سب جھوٹ ہے ۔ مسئلہ ہی سب سے بڑا یہ ہے کہ یہ کچھ بھی مینیج نہیں کر رہے ہیں ۔ یہ آئی ایم ایف کے حکم پر بس عوام پر ظلم کیے جارہے ہیں ۔ دوسری جانب ہر سیزن میں تجربہ کار کھلاڑی شیخ رشید آج کل خوب فرنٹ فٹ پر آ کر کھیل رہے ہیں اور ایک پیش کش داغ دی ہے کہ نواز آئیں اور چوبیس گھنٹے میں ویزہ اور ٹکٹ مفت دیں گے۔ انہوں نے یہاں تک ہی بس نہیں کی۔ یہ بھی کہہ دیا کہ شریف اور زرداری دونوں کرپٹ اور گیٹ نمبر چار کی پیداوار ہیں۔ اس پر رانا ثناء اللہ کہاں چپ رہنے والے تھے ۔ وہ کہتے ہیں شیخ رشید کا بیان بتاتا ہے کہ حکومت کی ٹلی بج گئی۔ ۔ تو کہنے والے تو کہہ رہے ہیں ۔ کہ برطانیہ میں نواز شریف کا مزید قیام قانونی طور پر ممکن نہیں اس لئے وآپسی ان کی مجبوری ہو گی۔ ۔ کہنے کا مقاصد یہ ہے کہ عمران خان نے ایسے لوگ چن چن کر لگائے ہیں جنہیں نہ تو سیاسی سمجھ بوجھ ہے اور نہ ہی وہ زمینی حقائق کا علم رکھتے ہیں۔ بلکہ اس حکومت کا ہر مشیر کسی مافیا کا نمائندہ ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ کسی حکومتی نمائندے سے بات کریں تو وہ حکومت کی کارگردگی گنواتے ہوئے تھکتے نہیں اور کہتے ہیں اپوزیشن ہمیں کام نہیں کرنے دیتی ہے صرف ہم پر تنقید کرتی ہے۔ کپتان کی مجبوریاں کیا ہیں۔ کوئی نہیں جانتا۔ عمران خان پہلے دن سے کہتے آ رہے ہیں کہ کسی کو چھوڑوں گا نہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ ابھی تک کسی کو پکڑا ہی کب ہے کہ نہ چھوڑیں گے۔ عمران خان اور کچھ نہ کرتے کم از کم یہ سرکاری افسران کی ایکڑوں میں پھیلی ہوئی کوٹھیاں ہی ایک کنال کے گھر پر محیط کر دیتے۔ یہ جی او آرز، ریلوے کے افسران، بیورو کریسی کی کنالوں اور ایکڑوں پر پھیلی ہوئی کوٹھیاں ہی سائز میں لے آتے، پروٹوکول ہی کنٹرول کرلیتے تو لوگ سمجھتے کچھ تبدیلی آئی ہے۔ اگر ریاست مدینہ کا نام لیا ہی تھا تو ملک میں کوئی قانون ، کوئی انصاف کا نظام ہی قائم کر دیتے ۔ الٹا اس کے برعکس ظلم کا نظام انھوں نے قائم کر دیا ہے ۔ ہوا کیا وزیراعظم نے کار چھوڑ کر ہیلی کاپٹر پر گھر جانا شروع کر دیا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کروڑوں کی گاڑیاں منگوانے لگے۔ پہلی بار ڈی سی، کمشنر، ڈی آئی جی اور دیگر عہدوں پر تعیناتی کے پیسوں کی بازگشت فضاؤں میں سنی جانے لگی۔ یہ ہے اصل کارکردگی ۔۔۔ جو وزیر مشیر نہیں بتاتے ۔ پھر کپتان اگر یہ سمجھتے ہیں کہ تحریک انصاف کو پانچ وفاقی وزراء کے سپرد کر کے وہ مطلوبہ نتائج حاصل کر لیں گے۔ تو ان کی مرضی ہے لیکن بادی النظر میں معاملہ اتنا آسان نہیں جتنا انہوں نے سمجھ لیا ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ جہاں عمران خان نے پارٹی تنظیمیں توڑ دی ہیں۔ تو اسد عمر کو نیا جنرل سیکرٹری لگا دیا ہے ۔ پنجاب میں شفقت محمود، جنوبی پنجاب میں خسرو بختیار اور خیبر پختونخواہ میں پرویز خٹک کو لگا دیا ہے ۔ میں آپ کو بتاوں اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔ الٹانقصان ہی ہونا ہے ۔ یہ عمران خان کی نااہلی اور ناتجربہ کاری ہے ۔ کہ کبھی بھی کوئی جرنیل جنگ کے دوران اپنی فوج کا مورال نہیں گراتا ۔۔ جیسے عمران خان نے کیا ہے ۔ یہ پی ٹی آئی میں آخری کیل ٹھونکنے کے مترداف ہے ۔ آنے والے دنوں میں آپکو اس کا رزلٹ مل جائے گا ۔کیونکہ ایک تنظیمی طور پر انتشار کا شکار جماعت کو اگر درست کرنا اتنا ہی آسان ہوتا تو یہ کام بہت پہلے ہو سکتا تھا۔ اب انتشار کم ہونے کی بجائے مزید بڑھے گا کیونکہ یہ نئی انتظامی باڈی اپنی پسند ناپسند پر کام کرے گی اور ناراضی کو مزید بڑھائے گی کم نہیں کر سکے گی۔ دراصل اسد عمر کو جنرل سکریرٹی بنا کے کپتان نے ایک بار پھر جواء کھیلا ہے۔ وہی جواء جو وہ انہیں وزیر خزانہ بنا کے کھیل چکے ہیں اور نتائج آج تک پوری قوم بھگت رہی ہے کیا ان میں پارٹی منظم کرنے کی صلاحیت ہے؟ کیا ان کے چاروں صوبوں میں رابطے ہیں، کیا ان کا کوئی ایسا سیاسی بیک گراؤنڈ ہے، جو ایسی سیاسی پوسٹ کے لئے ضروری ہوتا ہے۔ یہ درست ہے وہ عمران خان کے با اعتماد ساتھی ہیں، مگر یہاں معاملہ ایک پارٹی کو سیدھی راہ پر لگانے کا ہے۔ پھر اگر انہیں یہ ذمہ داری سونپی بھی ہے تو انہیں وزارت کے جھنجھٹ سے آزاد کر دینا چاہئے تاکہ وہ مکمل توجہ تحریک انصاف کے تنظیمی ڈھانچے کی بحالی پر دے سکیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ کہنے کو عمران خان یہ بھی کہتے ہیں اب پارٹی کے معاملات وہ خود دیکھیں گے کیا ایسا ممکن ہے اوپر سے لے کر یونین کونسل تک ایک ڈھانچہ بنائے بغیر معاملات کو کیسے سیدھا کیا جا سکتا ہے۔ ان کو لگتا ہے کہ ٹویٹر پر ٹرینڈ چلوا دو ۔ جو تنقید کرے اسکو پی ٹی آئی کی گالم گلوچ بریگیڈ برا بھلا کہے تو پارٹی مقبول ہے ۔ ایسا نہیں ہوتا ۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں کچھ عرصہ پہلے کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات ہوئے تو اپنے ہی امیدواروں کے خلاف سرگرم کردار ادا کرنے والے کوئی اور نہیں پی ٹی آئی کے ناراض کارکن تھے جس کی وجہ سے ہر جگہ شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ کپتان نے پرویز خٹک کو تحریک انصاف خیبرپختونخوا کا صدر بنا دیا ہے سب جانتے ہیں کہ موجودہ وزیر اعلیٰ محمود خان سے ان کی نہیں بنتی۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یہ بھی ایک سامنے کا سچ ہے کہ پرویز خٹک خیبرپختونخوا میں ایک گروپ کی سرپرستی کرتے ہیں افواہیں گرم ہیں کہ شاید پرویز خٹک کو آنے والے دنوں میں صوبائی اسمبلی کا ممبر بنا کے وزیر اعلیٰ بھی مقرر کر دیا جائے۔ یہ بھی ایک بہت بڑا جوا ہو گا۔ جو الٹا بھی پڑ سکتا ہے۔ کیونکہ خیبرپختونخوا کی سیاست کا مزاج سب سے مختلف ہے۔ وہاں ذاتی مفادات کو پارٹی مفاد پر ترجیح دینے کا ایک رواج موجود ہے حالیہ بلدیاتی انتخابات میں تحریک انصاف کو شکست بھی اسی لئے ہوئی ہے کہ ارکانِ اسمبلی نے اپنے ہی امیدواروں کی مخالفت کی۔ پرویز خٹک اگرچہ ایک اچھے وزیر اعلیٰ رہے ہیں۔ ان کے دور میں خیبرپختونخوا کے اندر ترقیاتی کام بھی ہوئے۔ گڈ گورننس بھی موجود تھی۔ تاہم پارٹی کے صوبائی صدر کی حیثیت سے وہ ایک منتشر تنظیمی ڈھانچے کو یکجا کر سکیں گے یہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ جہاں تک پنجاب کا تعلق ہے تو اسے دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ وسطی پنجاب کا صدر شفقت محمود کو اور جنوبی پنجاب کا صدر خسرو بختیار کو بنا دیا گیا ہے۔ یہ دونوں وفاقی وزراء ہیں اور بطور وفاقی وزیر یہ شاید ہی پنجاب کے مختلف شہروں کے دورے پر گئے ہوں۔ شفقت محمود کا سیاسی وژن تو ہے لیکن پارٹی منظم کرنے کا سیاسی تجربہ نہیں۔ انہیں بہت عرصہ لگے گا یہ سمجھنے میں کہ تحریک انصاف تنظیمی لحاظ سے کس سطح پر کھڑی ہے۔ لاہور میں علیم خان کو کارنر کیا گیا۔ جو پارٹی اور وزارت سے ہی بددل ہو گئے۔ سب سے دلچسپ تقرری جنوبی پنجاب میں کی گئی۔ خسرو بختیار کو صدر بنا دیا گیا ہے۔ جن کے بارے میں ابھی تک یہ تاثر موجود ہے وہ حکومت کے اتحادی ہیں تحریک انصاف کے رکن نہیں یاد رہے کہ عام انتخابات سے پہلے وہ تحریک صوبہ محاذ بنا کے ایک معاہدے کے تحت تحریک انصاف کے اتحادی بنے تھے۔ ان کا زیادہ تر سیاسی حلقہ رحیم یار خان تک محدود ہے۔ البتہ ان کے بارے میں یہ تاثر موجود ہے وہ جہانگیر ترین گروپ سے تعلق رکھتے ہیں۔ کیا ان کے آنے سے شاہ محمود قریشی گروپ نظر انداز ہو جائے گا؟ ایسا ہوا تو جنوبی پنجاب میں بھی تحریک انصاف ایک نئی کشمکش سے دو چار ہو جائے گی۔ دراصل عمران خان کو قدرت نے بہت ہی اچھا موقع دیا تھا کہ ملک کو پٹڑی پر چڑھا دیتے۔ پر موقع اب ضائع ہوچکا ہے

  • اپنے پہناوے کو لے کر میں بچپن سے ہی کافی دقیا نوسی ہوں، ماہرہ خان

    اپنے پہناوے کو لے کر میں بچپن سے ہی کافی دقیا نوسی ہوں، ماہرہ خان

    پاکستان کی صف اول کی اداکارہ ماہرہ خان کا کہنا ہے کہ چاہتی تو لمبا عرصہ بیرون ملک رہنے کے باعث شارٹس اور ٹی شرٹ پہن سکتی تھی لیکن میں کافی دقیانوسی ہوں ۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق اداکارہ ماہرہ خان نے حال ہی میں دیئے گئے انٹرویو میں اپنی زندگی سے متعلق کئی اہم انکشافات کئے کہ کس طرح انہوں نے اپنی طلاق کے بعد بیٹے کی پرورش کی اور راستے میں آنے والی رکاوٹوں کو کیسے دور کیا ۔

    ماہرہ خان نے کہا کہ اپنے پہناوے کو لے کر میں بچپن سے ہی کافی دقیا نوسی ہوں، مجھے نہیں معلوم کہ ایسا کیوں ہے، حالانکہ میں کئی عرصہ بیرون ملک رہ چکی ہوں، چاہوں تو شارٹس اور ٹی شرٹ پہن سکتی ہوں۔

    ماہرہ خان کی 37ویں سالگرہ ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

    اداکارہ نے مداحوں سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ ناظرین کو اچھا نہیں لگتا اگر میں کپڑوں میں سے ذرا سی بھی ٹانگ دکھا دوں، وہ اسے ناپسند کرتے ہیں میں ناظرین کی جانب سے آنے والی رائے سے آگاہ ہوتی ہوں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں ان کے بارے میں بہت زیادہ سوچتی ہوں۔

    واضح رہے کہ ماہرہ خان نے اپنے شوبز کیریئر کا آغاز 2006 میں بطور وی جےکیا اور 2011 میں شعیب منصور کی فلم ’بول‘ سے لالی وڈ فلم نگری میں قدم رکھا جس میں انہوں نے معاون کردار نبھایا ماہرہ خان نے یوں تو 2011 میں پہلا ڈرامہ ’نیت‘ کیا تھا، لیکن شہرت اور عروج ڈرامہ سیریل ’ہمسفر‘ سے حاصل کیا، جس میں انہوں نے ’خرد‘ کا مرکزی کردار ادا کیا، جسے پاکستان سمیت بھارت میں بھی خوب پسند کیا گیا 2015 میں فلم ’بن روئے‘ کی جب کہ 2016 میں فلم ’ہو من جہاں‘میں جلوہ گر ہوئیں۔

    عامر خان اور فاطمہ ثنا شیخ خفیہ طور پر شادی کے بندھن میں بندھ گئے؟

    اس کے بعد 2017 میں ان کی بالی وڈ ڈبیو فلم ’رئیس‘ ریلیز ہوئی جس میں انہوں نے بالی وڈ کنگ شاہ رخ خان کے ساتھ اداکاری کے جوہر دکھائے ا،ہرہ خان نے کانز فیسٹیوال میں بھی جلوے دکھائے ماہرہ خان نے اپنی بہترین کارکردگی سے متعدد ایورڈز اپنے نام کیے جن میں لکس اسٹائل ایوارڈ، پاکستان میڈیا ایوارڈ، ہم ایوارڈ، ہم اسٹائل ایوارڈ اور دیگر شامل ہیں حال ہی میں ماہرہ دبئی مصالحہ ایوارڈز میں ایشیا کی با اثر خاتون کے اعزاز سے بھی نوازی گئیں ماہرہ خان نے اس سال کامیابی کی ایک اور سیڑھی پر قدم رکھا اور انہیں لوریل برانڈ کا خیر سگالی سفیر بھی منعقد کیا گیا۔

    ناسا کے انجینئر کی زندگی پر مبنی سینما تاریخ کی خوفناک ترین فلم

    رواں برس ماہرہ نے 8 ویں بیروت انٹرنیشنل ایوارڈز فیسٹیول (بی آئی اے ایف) میں شرکت کی جہاں انہوں نے صرف اپنے خوبصورت انداز سے ہی سب کو متاثر نہیں کیا بلکہ انھیں 2 ایوارڈز سے بھی نوازا گیا ماہرہ خان نہ صرف فلاحی کاموں میں آگے ہیں بلکہ انسٹا گرام پر بھی وہ مقبول ترین سپر اسٹارز میں سے ایک ہیں ماہرہ خان کی ایک اور میگا فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ بھی ریلیز کیلئے تیار ہے۔

    راکھی ساونت کے شوہر رتیش کی پہلی بیوی منظرعام پر آگئی

  • بچوں میں جنسی ہراسانی سے متعلق آگاہی کیلئے پاکستان کی پہلی اینیمیٹڈ سیریز ’سُپرسوہنی‘ ریلیز کیلئے تیار

    بچوں میں جنسی ہراسانی سے متعلق آگاہی کیلئے پاکستان کی پہلی اینیمیٹڈ سیریز ’سُپرسوہنی‘ ریلیز کیلئے تیار

    بچوں میں جنسی ہراسانی سے متعلق آگاہی کیلئے پاکستان کی پہلی اینیمیٹڈ سیریز ’سُپرسوہنی‘ ریلیز کیلئے تیار ہے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق لاہور کے معروف سماجی ادارے ’ سماج ‘ نے پاکستان میں جرمنی کے سفارت خانے کے تعاون سے اینیمیٹڈ سیریز تیار کی ہے ’سُپر سوہنی‘ کے نام سے بنائی گئی اس اینیمیٹڈ سیریز کا مقصد بچوں کے ساتھ ہونے والے جنسی ہراسانی کے واقعات کے حوالے سے آگہی فراہم کرنا اور ان کی روک تھام ہے۔

    10 اقساط پر مبنی ’سُپر سوہنی‘ کی پہلی قسط جمعہ31 دسمبر کو ریلیز کی جائے گی پاکستان میں جرمنی کے سفارت کار برنارڈ شلاگ ہیک نے ’سُپر سوہنی‘ کا ٹیزر بھی ٹوئٹر پر شیئر کیا ہے۔


    رنارڈ شلاگ ہیک نے امید ظاہر کی ہے کہ ’سُپر سوہنی‘ کے ذریعے بچوں میں بیدار ہونے والا شعور انہیں ایسی صورت حال سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

    صبا قمر اور زاہد احمد کی فلم "گھبرانا نہیں ہے” کا ٹیزر جاری

    انہوں نے لکھا کہ ہمارے پارٹنرز سماج جنسی ہراسانی جیسے سنگین مسئلے پر آگاہی اجاگر کرنے کے لیے ایک ویڈیو سیریز شروع کر رہے ہیں۔ یہ کافی اہم پراجیکٹ ہے جس سے مجھے امید ہے کہ بچے اپنے آپ کو اس قسم کے واقعات سے محفوظ رکھنے کے لئے بہت کچھ سیکھ سکیں گے۔ مجھے اس پراجیکٹ کا شدت سے انتظار ہے-

    ’سُپر سوہنی‘ بنانے والی سماجی تنظیم ’سماج‘ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سحر مرزا کا کہنا ہے کہ اینیمیشن بچوں کی توجہ حاصل کرنے اور سکھانے کے لیے بہترین طریقہِ اظہار ہےبچوں کے ساتھ جنسی جرائم اکثرشرم اور بے عزتی کے خوف سے درج ہی نہیں ہوتے، سُپر سوہنی دیکھنے کے بعد بچوں کو ناصرف جنسی ہراسیت کی مختلف اقسام سے آگہی ملے گی بلکہ اس کے بعد وہ اپنے والدین یا نگرانوں سے اس مسئلے پر بلا خوف بات کر سکیں گے۔

    ’سُپر سوہنی‘ مصنف ابدال احمد جعفری کا کہنا تھا کہ اُمید ہے کہ یہ سیریز مستقبل میں بچوں کے ساتھ رونما ہونے والے واقعات کی روک تھام میں مدد گار ثابت ہو گی۔

    گوگل کا معین اختر کی سالگرہ پر خراج تحسین

  • ولن يؤخرالله نفساإذاجاءأجلها ۚوالله خبيربماتعملون:2021 میں‌ نامورپاکستانی شخصیات جو دنیا فانی سےکوُچ کرگئیں

    ولن يؤخرالله نفساإذاجاءأجلها ۚوالله خبيربماتعملون:2021 میں‌ نامورپاکستانی شخصیات جو دنیا فانی سےکوُچ کرگئیں

    لاہور:ولن يؤخر الله نفسا إذا جاء أجلها ۚ والله خبير بما تعملون:سال 2021 میں‌ نامور پاکستانی شخصیات جو دنیا فانی سے کوُچ کرگئیں،تفصیلات کے مطابق ویسے تو اس ملک کے ہزاروں باسی اگلے جہان میں بسیراکرنےکے لیے موت کے منہ سے گزرتے ہوئے قبرستان کی وادی میں چلے گئے اورپھروہاں سے ہرکُوچ کرنے والے اپنے رب کے پاس پہنچ گیا ، دعا ہے کہ اللہ تعالٰی تمام وفات پانے والوں کی مغفرت فرمائے اور ان کے درجات بلند کرے

     

     

    جہاں تک تعلق ہےکہ کچھ نامور شخصیات کا توسب سے پہلے ذکرکرتے ہیں‌کہ 2021 میں پاکستان کے نامور ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا انتقال ہو گیا، ان کی عمر 85 برس تھی ڈاکٹرعبد القدیر خان نے نومبر 2000 میں ککسٹ نامی درسگاہ کی بنیاد رکھی۔ عبد القدیرخان وہ مایہ ناز سائنس دان ہیں جنہوں نے آٹھ سال کے انتہائی قلیل عرصہ میں انتھک محنت و لگن کی ساتھ ایٹمی پلانٹ نصب کرکے دنیا کے نامور نوبل انعام یافتہ سائنس دانوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا تھا۔

    بزرگ حریت رہنما سید علی گیلانی طویل علالت کے بعد جہان فانی سے کوچ کر گئے۔ ان کے ساتھ مقبوضہ وادی کی آزادی کےلئے کی جانے ولای ایک طویل جدوجہد کا باب بھی ختم ہو گیا۔ قابض بھارتی انتظامیہ نے سید علی گیلانی کو گزشتہ12 برس سے سرینگر میں گھر میں مسلسل نظر بند کر رکھا تھا، جسکی وجہ سے انکی صحت انتہائی گر چکی تھی۔ سید علی گیلانی کو 20برس تک بھارت اور مقبوضہ کشمیر کی جیلوں میں قید رکھا گیا۔

    پاکستان کے سابق صدر پاکستان ممنون حسین بھی کئی عرصے کی علالت کے بعد انتقال کر گئے، سابق صدر پاکستان ممنون حسین 2013 سے 2018 تک پاکستان کے صدر رہے اور ان کا شمار مسلم لیگ ن کے سینئر رہنماو¿ں میں ہوتا تھا۔ مرحوم ممنون حسین 23 دسمبر 1940 میں پیدا ہوئے۔ وہ جون1999 سے اکتوبر1999 تک گورنرسندھ بھی رہے تھے۔

    19 اپریل 1955 میں پیدا ہونے والے کامیڈی کے بادشاہ عمر شریف بھی اپنے مداحوں کو چھوڑ گئے، 14 سال کی عمر سے اسٹیج اداکاری شروع کرنے والے عمر شریف دیکھتے ہی دیکھتے کامیڈی کی دنیا کے کنگ بن گئے،ٹی وی، اسٹیج ایکٹر، فلم ڈائریکٹر، کمپوزر، شاعر، مصنف، پروڈیوسر یہ تمام صلاحیتیں عمر شریف کی شخصیت کی پہچان بنیں۔

    ماضی کے یادگار مزاحیہ ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھانے والی معروف اداکارہ دردانہ بٹ 83 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں۔ دردانہ بٹ نے اداکاری کا آغاز 70 کی دہائی میں پاکستان ٹیلی ویژن کے مشہور کامیڈی ڈرامہ ’ففٹی ففٹی‘ میں معین اختر کے ساتھ کیا تھا۔ سینئر اداکارہ کو ان کی بہترین صلاحیتوں کے اعتراف میں سال 1985 میں پی ٹی وی کی جانب سے بہترین اداکارہ کا ایوارڈ بھی دیا جا چکا ہے۔

    معروف ڈرامہ نویس اور مکالمہ نگارحسینہ معین بھی اس سال انتقال کر گئیں، پی ٹی وی کی مقبول ترین ڈرامہ نویس کا اعزاز اپنے نام کرنے والی حسینہ معین نے بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر کانپور میں جنم لیا تھا۔ حسینہ معین نے پی ٹی وی کے لیے بہت سے یادگار ڈرامے لکھے جن میں شہزوری، زیر زبر پیش، انکل عرفی، ان کہی، تنہائیاں، دھوپ کنارے، دھند، آہٹ، کہر، پڑوسی، آنسو، بندش اور آئینہ سمیت دیگر شامل ہیں۔

    2021 میں معروف مزاح نگار فاروق قیصر (انکل سرگم) بھی انتقال کرگئے ، ان کا انتقال اسلام آباد میں ہوا ، وہ عارضہ قلب میں مبتلا تھے،فاروق قیصر، مصنف، کالم نگار، کارٹونسٹ اور ٹی وی پروڈیوسر تھے۔ وہ 31 اکتوبر 1945 کو لاہور میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے مختلف مزاحیہ کتب بھی لکھیں جنہیں عوام میں بہت پذیرائی ملی۔

    پاکستان کی پہلی ٹی وی میزبان کا اعزاز رکھنے والی ریڈیو اینکر کنول نصیر 70 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں، کنول نصیر ریڈیو اور ٹی وی سے 5 دہائیوں سے زائد عرصہ وابستہ رہیں، انہوں نے محض 17 برس کی عمر میں کیریئر کا آغاز کیا تھا۔ماضی کی معروف ٹی وی اداکارہ خورشیدشاہد بھی 2021 میں انتقال کرگئیں ،

    2021 میں فلم، ٹی وی اور ریڈیو کے معروف اداکار سہیل اصغر جگر کے کینسر کے باعث دنیا چھوڑ گئے، 1970 کی دیہائی میں لاہور سے بطور ریڈیو جوکی اپنے فنی سفر کا آغاز کرنے والے سہیل اصغر کے مشہور ڈراموں میں ننگے پاو¿ں ، پیاس، کاجل گھر اور سمندر ہے درمیان جیسے ڈرامے شامل ہیں۔

    لیجنڈری اداکارہ بشریٰ انصاری کی بہن اداکارہ سنبل شاہد کورونا وائرس کے باعث انتقال کر گئیں، بشریٰ انصاری کی طرح ان کی بہن سنبل شاہد بھی کئی نامور ڈراموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دِکھا چکی ہیں۔

    اس سال ممتاز اداکارہ نائلہ جعفری بھی انتقال کر گئیں، ان کا انتقال کراچی میں ہوا، وہ طویل عرصے سے کینسر کے مرض میں مبتلا تھیں۔

    فلم اور ڈراموں کے معروف اداکار انور اقبال بھی دنیا چھوڑ گئے، معروف اداکار انور اقبال نے متعدد ڈرامہ سیریل، سیریز اور لانگ پلیز میں کام کیا تھا۔ ان کے مشہور ڈراموں میں آخری چٹان، شاہین، خرمن، بابر، عشق پیچہ، رشتہ انجانے سے، حنا کی خوشبو، پل صراط، دوستیں جو پیار سمیت دیگر شامل ہیں۔ انہوں نے چند اردو فلموں میں بھی کام کیا تھا۔

    رواں سال پاکستانی گلوکار و موسیقار اوراوور لوڈ کے میوزیشن فرہاد ہمایوں کے انتقال کی خبر ان کے آفیشل فیس بک پیج کے ذریعے دی گئی۔ فرہاد ہمایوں نے 2003 میں ’اوور لوڈ‘ نامی میوزک گروپ تشکیل دیا تھا، جس کا شمار ملک کے مشہور میوزک بینڈز میں ہوتا ہے۔

    پاکستان کے ممتازدانشور اور کالم نگار اجمل نیازی74 سال کی عمر میں وفات پاگئے، وہ طویل مدت تک ’بے نیازیاں ‘ کے نام سے معروف قومی اخبار میں کالم بھی لکھتے رہے۔ بہترین کالم نگاری پر سابق صدر آصف علی زرداری نے انہوں ستارہ امتیاز سے نوازا۔

    رواں سال سابق گورنر و وزیر اعلیٰ سندھ ممتاز علی بھٹو بھی انتقال کر گئے، ممتاز علی بھٹو سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے کزن تھے اور ذوالفقار علی بھٹو کی کابینہ میں وفاقی وزیر بھی رہ چکے تھے۔ ممتاز بھٹو نے 22 دسمبر 1971 سے 20 اپریل 1972 تک سندھ کے آٹھویں گورنر کے فرائض سرانجام دیے، بعد ازاں یکم مئی 1972 سے 20 دسمبر 1972 تک وہ صوبہ سندھ کے 13 ویں وزیرِ اعلیٰ بھی رہے۔

    مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما سینیٹر مشاہد اللہ خان 68 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ مشاہد اللہ خان نے 1990 میں مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کی تھی۔ وہ سال 2009 اور 2015 میں سینیٹر منتخب ہوئے۔ مشاہد اللہ خان 2017 سے مئی 2018 تک وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی رہے۔دنیائے ہاکی کے عالمی شہرت یافتہ کھلاڑی نوید عالم خون کے سرطان (بلڈ کینسر) کے سبب انتقال کر گئے ہیں۔وہ شوکت خائم ہسپتال لاہور میں زیرعلاج تھے

     

    آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں                                            سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں

    آ جائیں رعب غیر میں ہم وہ بشر نہیں                                          کچھ آپ کی طرح ہمیں لوگوں کا ڈر نہیں

    اک تو شب فراق کے صدمے ہیں جاں گداز                                    اندھیر اس پہ یہ ہے کہ ہوتی سحر نہیں

    کیا کہئے اس طرح کے تلون مزاج کو                                             وعدے کا ہے یہ حال ادھر ہاں ادھر نہیں

    رکھتے قدم جو وادئ الفت میں بے دھڑک                                     حیرتؔ سوا تمہارے کسی کا جگر نہیں