Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • افغان وزیرخارجہ امیر خان متقی کی ایران میں اہم ملاقاتیں،وادی پنجشیرکے کمانڈراحمد مسعود سے مذاکرات

    افغان وزیرخارجہ امیر خان متقی کی ایران میں اہم ملاقاتیں،وادی پنجشیرکے کمانڈراحمد مسعود سے مذاکرات

    قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی کی قیادت میں اس وقت ایران میں امارت اسلامیہ کے وفد نے مزاحمتی محاذ کے رہنما احمد مسعود اور صوبہ ہرات کے سابق گورنر اسماعیل خان سے ملاقات کی ہے۔

    "ہاں، ہم نے احمد مسعود، کمانڈر اسماعیل خان اور دیگر افغانوں سے ملاقات کی۔ ہم نے ان سب کو یقین دلایا کہ وہ واپس آ سکتے ہیں اور بے فکر زندگی گزار سکتے ہیں،” متقی نے امارت اسلامیہ کے قطر میں قائم دفتر کے ترجمان محمد نعیم کی طرف سے پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں کہا۔

    ایرانی میڈیا نے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ تہران نے اس ملاقات کی میزبانی کی، انہوں نے مزید کہا کہ افغان فریقین کے درمیان اچھی بات چیت ہوئی۔

    دریں اثنا، طالبان نے پیر کو تصدیق کی کہ انہوں نے ہفتے کے آخر میں طالبان مخالف اتحاد کے سینئر رہنماؤں کے ساتھ بات چیت کی۔

    یہ ملاقات اپنی نوعیت کی پہلی ملاقات تھی، جس میں طالبان کی جانب سے اپنے سابق مخالفین کو شامل کرنے کی کوششوں پر زور دیا گیا۔ قومی مزاحمتی فرنٹ کے نام سے جانے والے اس اتحاد کی قیادت طالبان مخالف جنگجو احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود کر رہے ہیں، جنہیں 2001 میں قتل کر دیا گیا تھا۔

    اگست کے وسط میں طالبان کے کابل میں داخل ہونے کے بعد یہ گروپ متحد ہو گیا جب افغان حکومت فرار ہو گئی اور افغان فورسز نے طالبان پر قبضے کے لیے بہت کم یا کوئی مزاحمت پیش نہیں کی۔ احمد مسعود کے ساتھ مغربی صوبہ ہرات کے سابق گورنر اسماعیل خان بھی شامل تھے۔

    تہران میں اتوار کی ملاقات طالبان اور ان کے مخالفین کے درمیان میل جول کی پہلی علامتوں میں سے ایک ہے۔

    سابق صدر حامد کرزئی اور قومی مصالحتی کونسل کے سابق سربراہ عبداللہ عبداللہ سمیت سابقہ ​​امریکی حمایت یافتہ افغان حکومتوں کے کئی سرکردہ رہنما طالبان کے قبضے کے بعد کابل میں ہی رہے۔

  • پاکستان رومانیہ کے سرمایہ کاروں اور تاجروں کوسرمایہ کاری کے وسیع مواقع فراہم کرے گا:شاہ محمود قریشی

    پاکستان رومانیہ کے سرمایہ کاروں اور تاجروں کوسرمایہ کاری کے وسیع مواقع فراہم کرے گا:شاہ محمود قریشی

    اسلام آباد:وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے پیر کو رومانیہ کے سرمایہ کاروں اور تاجروں پر زور دیا کہ وہ پاکستان میں تجارت اور سرمایہ کاری کے وسیع مواقع سے استفادہ کریں۔پاکستان رومانیہ کے سرمایہ کاروں اور تاجروں کوسرمایہ کاری کے وسیع مواقع فراہم کرے گا:شاہ محمود قریشی

    اپنے رومانیہ کے ہم منصب بوگڈان اوریسکو کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ رومانیہ کے سرمایہ کاروں کے لیے نہ صرف دوطرفہ تجارتی تعلقات کو فروغ دینے بلکہ پاکستان کے وسطی ایشیا کے لیے برآمدات کا مرکز بننے کے امکانات کے حوالے سے بھی بڑی صلاحیت موجود ہے۔ بازار اب دنیا کے لیے کھولے جا رہے تھے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان چین کے ساتھ اقتصادی راہداری بنا رہا ہے اور گوادر پورٹ کی تعمیر دنیا کو خشکی میں گھرے وسطی ایشیائی جمہوریہ اور افغانستان کے لیے کھول دے گی۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ رومانیہ کی قیادت سے ملاقاتوں میں اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان افہام و تفہیم کو مزید فروغ دینے کے وسیع مواقع موجود ہیں کیونکہ یہ آگے بڑھنے کا صحیح وقت ہے۔

    رومانیہ کے ہم منصب کے مطابق، انہوں نے مزید کہا کہ COVID چیلنج کے باوجود گزشتہ مالی سال کے دوران دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت میں تقریباً 50.6 فیصد اضافہ ہوا۔ تاہم، یہ ان کے دوطرفہ تعلقات اور یورپی یونین کے ساتھ تجارتی مواقع کے تناظر میں حقیقی صلاحیت کے قریب نہیں تھا، انہوں نے مشاہدہ کیا۔

    وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان فائدہ مند پوزیشن پر ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ GSP+ اسٹیٹس کے ساتھ، انہوں نے محسوس کیا کہ یہ EU اور پاکستان دونوں کے لیے باہمی طور پر فائدہ مند رہا ہے۔

  • دیامیربھاشاڈیم کی تعمیرمیں حائل آخری بڑی رکاوٹ بھی دورہوگئی:پاکستان کامیابی سے آگے بڑھ رہاہے:عمران خان

    دیامیربھاشاڈیم کی تعمیرمیں حائل آخری بڑی رکاوٹ بھی دورہوگئی:پاکستان کامیابی سے آگے بڑھ رہاہے:عمران خان

    اسلام آباد:دیامیربھاشاڈیم کی تعمیرمیں حائل آخری بڑی رکاوٹ بھی دورہوگئی:پاکستان کامیابی سے آگے بڑھ رہاہے:اطلاعات کے مطاق آج کا دن پاکستانیوں کےلیے ایک خوشی کا دن ہے جس دن خیبرپختونخوا میں ہربن قبیلے اور گلگت بلتستان میں تھور قبیلے کا گرینڈ جرگہ بالآخر زمین کے ایک چھوٹے سے ٹکڑوں کے تنازع پر تصفیہ پر پہنچ گیا جس نے چند دنوں سے پاکستان کے سب سے بڑے ڈیم، دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کو روک رکھا تھا

     

     

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر وزیراعظم نے لکھا کہ دیامربھاشا ڈیم پروجیکٹ کے حوالے سے تاریخی پیشرفت خوش آئند ہے، دیامر اور اپرکوہستان کے عمائدین کے گرینڈ جرگہ نے دیرینہ مسئلہ حل کر لیا، تھور اور ہربن قبائل کے درمیان ایک دہائی پرانا تنازعہ چل رہا تھا۔

     

     

    دیامر بھاشا ڈیم پر تاریخی دیو اور اچھی خبر۔ دیامر اور اپر کوہستان کے عمائدین کے گرینڈ جرگہ نے دہائیوں پرانا تھور اور ہربن قبائل کا تنازعہ طے کر لیا ہے۔ یہ ڈیم کی ہموار اور بروقت تکمیل کی اجازت دے گا اور ساتھ ہی جی بی اور کے پی کے درمیان سرحدی تنازعہ کے حل کے لیے راہ ہموار کرے گا۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ اس ترقی سے ڈیم کی ہموار اور بروقت تکمیل کے ساتھ ساتھ جی بی اور کے پی کے درمیان سرحدی تنازعہ کے حل کی راہ ہموار ہوگی۔

     

    تقریباً 8 کلومیٹر کا متنازع علاقہ وفاقی حکومت کے کنٹرول میں ہے اور رینجرز 2014 سے شاہراہ قراقرم پر گشت کر رہی ہے، جب دونوں قبائل کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں چار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

    4,500 میگاواٹ کے اس ڈیم کو پاکستان کی توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے اور آبپاشی کے لیے پانی کا ذخیرہ فراہم کرنے کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔

  • پاکستان کی پہلی قومی سلامتی پالیسی کے اہم نکات سامنے آ گئے

    پاکستان کی پہلی قومی سلامتی پالیسی کے اہم نکات سامنے آ گئے

    اسلام آباد:پاکستان کی پہلی جامع قومی سلامتی پالیسی کے اہم نکات سامنے آ گئے ، اس حوالے سے اس قومی پالیسی کی دستایزات پرمشتمل سو سے زائد صفحات کا آدھا حصہ پبلک کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق 100سے زائد صفحات پر مشتمل پالیسی کا آدھا حصہ پبلک کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، وزیر اعظم عمران خان جمعہ کو 50 صفحات پر مشتمل غیر خفیہ پالیسی کے نکات کا اجراء کرینگے، پالیسی اکانومی، ملٹری اور ہیومن سکیورٹی تین بنیادی نکات پر مشتمل ہے۔

    ذرائع کے مطابق اکانومی سکیورٹی کو قومی سلامتی پالیسی میں مرکزی حیثیت دی گئی، پاکستان میں قومی سلامتی سے متعلق پہلی بار جامع پالیسی تیار کی گئی، سلامتی پالیسی پر سالانہ بنیادوں پر نظرثانی کی جائے گی، نئی حکومت کو پالیسی پر ردوبدل کا اختیار حاصل ہو گا، نیشنل سیکیورٹی کمیٹی پالیسی کی وارث ہو گی۔

    ذرائع کے مطابق ہر مہینے حکومت نیشنل سکیورٹی کمیٹی کو عملدرآمد رپورٹ پیش کرنے کی پابند ہو گی، پالیسی میں دو سے زائد ایکشن وضع کئے گئے، پالیسی ایکشن کا حصہ کلاسیفائیڈ تصور ہو گا، خطے میں امن، رابطہ کاری اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارت پالیسی کا بینادی نقطہ ہو گا۔

    ذرائع کے مطابق ہائبرڈ وار فیئر بھی قومی سلامتی کمیٹی کا حصہ ہو گا، ملکی وسائل کو بڑھانے کی حکمت عملی دی گئی ہے، کشمیر کو پاکستان کی سلامتی پالیسی میں اہم قرار دیا گیا، مسئلہ کشمیر کا حل پالیسی کی ترجیحات میں شامل ہے، پالیسی پر سیاسی فریقین کو اعتماد میں لینے کے لئے نیشنل سیکیورٹی ڈویژن آمادہ ہو گیا، بڑھتی آبادی کو ہیومن سکیورٹی کا بڑا چیلنج قرار دیا گیا۔ شہروں کی جانب ہجرت، صحت، پانی اور ماحولیات بھی پالیسی کا حصہ ہے۔

    ذرائع کے مطابق فوڈ اور صنفی امتیاز ہیومن سیکیورٹی کے اہم عنصر ہے ایران پر پابندیاں ختم ہونے کے بعد حکومت کو معاملات آگے بڑھانے کا اختیار کی بھی تجویز ہے، گڈ گورننس، سیاسی استحکام ،فیڈریشن کی مضبوطی پالیسی کا حصہ ہے۔

  • کور کمانڈرز کانفرنس: سکیورٹی صورتحال، بارڈر مینجمنٹ کے امور پر تبادلہ خیال

    کور کمانڈرز کانفرنس: سکیورٹی صورتحال، بارڈر مینجمنٹ کے امور پر تبادلہ خیال

    راولپنڈی:کور کمانڈرز کانفرنس: سکیورٹی صورتحال، بارڈر مینجمنٹ کے امور پر تبادلہ خیال ،اطلاعات کے مطابق اج جی ایچ کیو میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیرِ صدارت کور کمانڈرز کانفرنس میں داخلی سکیورٹی کی صورتِ حال اور بارڈر مینجمنٹ کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیرِ صدارت 246ویں کور کمانڈرز کانفرنس جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) میں منعقد ہوئی، ملکی داخلی سکیورٹی کی صورتحال اور بارڈر مینجمنٹ امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق کانفرنس کے شرکاء کو آپریشن ردالفساد کی تازہ ترین پیش رفت اور کامیابیوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے مری کے برفانی طوفان اور بلوچستان میں شدید بارشوں سے پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال کے متاثرین کو مدد کو سراہا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ نے ان قدرتی آفات کے دوران ریلیف آپریشن میں شامل فارمیشن کی کوششوں کی تعریف کی۔

    آرمی چیف نے فارمیشنز کی آپریشنل تیاریوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تربیت اور جنگی تیاریاں جاری رکھنے پر زور دیا۔

  • لندن میں خالصتان ریفرنڈم توامریکی سینٹ میں سکھوں کی نسل کشی ُ کی مذمتی قراردادمتفقہ طورپر منظور

    لندن میں خالصتان ریفرنڈم توامریکی سینٹ میں سکھوں کی نسل کشی ُ کی مذمتی قراردادمتفقہ طورپر منظور

    نیوجرسی:لندن میں خالصتان ریفرنڈم توامریکی سینٹ میں سکھوں کی نسل کشی ُ کی مذمتی قراردادمتفقہ طورپر منظور اطلاعات کے مطابق امریکہ کی شمال مشرقی ریاست نیو جرسی کی سینیٹ نے متفقہ طور پر ایک مذمتی قرارداد میں بھارت کی طرف سے 1984میں سکھوں کے قتل عام کو نسل کشیُ قرار دیتے ہوئے امریکی صدر اور دیگر حکام سے اس سلسلے میں آواز بلند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سینیٹر سٹیفن ایم سوینی کی طرف سے پیش کی گئی قرارداد امریکی صدر اور نائب صدر، امریکی سینیٹ کے اکثریتی اور اقلیتی لیڈروں ،امریکی ایوان نمائندگان کے اسپیکر اور اقلیتی لیڈر اور کانگریس کے ہر رکن کو بھجوائی جائیگی ۔

    قرارداد میں کہاگیا ہے کہ بھارتی پنجاب کی سکھ برادری نے جس کے ارکان سو برس قبل ہجرت کر کے امریکہ آگئے امریکہ اور نیو جرسی کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔سکھوں کی نسل کشی یکم نومبر 1984کو نئی دلی میں بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے قتل کے بعد جھارکھنڈ، مدھیہ پردیش، ہریانہ، اتراکھنڈ، بہار، اتر پردیش، مغربی بنگال، ہماچل پردیش، راجستھان، اڑیسہ، جموں و کشمیر، چھتیس گڑھ، تریپورہ، تامل ناڈو، گجرات، آندھرا پردیش، کیرالہ، اور مہاراشٹرریاستوں میں شروع ہو ئی۔

    قرارداد میں سکھ مذہب کو دنیا کا پانچواں بڑا مذہب قرار دیا گیا ہے جس کے دنیا بھر میں تقریبا تیس کروڑ نوے لاکھ ماننے والے ہیں جن میں سے دس لاکھ امریکہ میں مقیم ہیں۔قرارداد کے مطابق تین دن تک جاری رہنے والی سکھوں کی نسل کشی میں تیس ہزار سے زائد سکھوں کو بے دردی سے قتل کیا گیا۔قرارداد میں16اپریل 2015کو کیلیفورنیا کی ریاستی اسمبلی کی طرف سے متفقہ طور پر منظور کی گئی ایک قراردادکا حوالہ دیاگیا ہے جس میں بھارتی حکومت کی طرف سے سکھوں کے منظم قتل عام کا اعتراف کیا گیاہے۔

    قرارداد میں 1984کے سکھ نسل کشی کے دوران اپنی جانیں گنوائیں۔17اکتوبر 2018کو پنسلوانیا کی دولت مشترکہ کی جنرل اسمبلی نے متفقہ طور پر قرارداد HR-1160منظور کی جس میں نومبر 1984میںسکھوںپر ظلم و تشدد کو نسل کشی ُ قرار دیا گیا۔

    قرارداد میں کہاگیا ہے کہ عینی شاہدین، صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی طرف سے اکٹھے کئے گئے شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار براہ راست اور بالواسطہ طریقوں سے سکھوں کے قتل عام میں ملوث تھے اور وہ یہ سلسلہ بند کرانے میں ناکام رہے۔2011میں بھارتی ریاست ہریانہ کے علاقوں ہوند چلر اور پٹودی کے دیہات میں اجتماعی قبریںدریافت ہوئی ہیں۔

    نئی دہلی کے تلک وہار محلے کی "بیوہ کالونی” میں آ بھی ہزاروں سکھ خواتین انصاف کی منتظر ہیںجن کی اجتماعی عصمت دری کی گئی اور ان کے شوہر، والد اور بیٹوں کو قتل کردیا۔سکھوں کے قتل عام میں زندہ بچ جانیوالی آخر کار ہجرت کر کے امریکہ چلے گئے اور انہوں نے فریسنو، یوبا سٹی، سٹاکٹن، فریمونٹ، گلینروک، پائن ہل، کارٹریٹ، نیو یارک سٹی اور فلاڈیلفیا میں سکونت اختیار کی اور بڑی سکھ برادریاں قائم کیں۔

    1984میں پورے بھارت میں ریاستی سرپرستی میں سکھوں پر وحشیانہ ظلم و تشدد اور انکے قتل عام کا اعتراف ، انصاف اور احتساب کی جانب ایک اہم اور تاریخی قدم ہے، جودیگر ممالک کی حکومتوں کیلئے ایک مثال بھی ہے ۔ریاست نیو جرسی کی سینیٹ کی طرف سے منظور کی گئی قرارداد امریکی صدر اور نائب صدر، امریکی سینیٹ کے اکثریتی اور اقلیتی لیڈروں ،امریکی ایوان نمائندگان کے اسپیکر اور اقلیتی لیڈر اور کانگریس کے ہر رکن کو بھجوائی جائیگی ۔

  • بھارتی جیلوں میں نظربند کشمیری سیاسی رہنمائوں کی زندگیوں کو شدید خطرہ:تازہ واقعہ میں کشمیری جانبحق

    بھارتی جیلوں میں نظربند کشمیری سیاسی رہنمائوں کی زندگیوں کو شدید خطرہ:تازہ واقعہ میں کشمیری جانبحق

    نئی دلی :بھارتی جیلوں میں نظربند کشمیری سیاسی رہنمائوں کی زندگیوں کو شدید خطرہ:تازہ واقعہ میں کشمیری جانبحق
    ،اطلاعات کے مطابق بھارتی دارلحکومت نئی دلی میں مہلک کورونا وبا تیزی سے پھیل رہی ہے جس کی وجہ سے تہاڑ جیل سمیت نئی دلی کی دیگر جیلوں میں غیر قانونی طورپر نظربند کشمیری سیاسی رہنمائوں کی زندگیوں کو شدید خطرہ لاحق ہے ۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے علاوہ چار سو کے قریب بھارتی اراکین پارلیمنٹ اور دلی پولیس کے تین سو اہلکار مہلک کورونا وائرس میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ جیل حکام کے اعدادو شمار کے مطابق نئی دلی کی تہاڑ جیل میں 29جبکہ منڈولی جیل کے 17قیدی بھی کورونا وائر س میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ نئی دلی کی تینوں جیلوں میں موجود قیدیوں کی مجموعی تعداد سات جنوری تک 18ہزار528تھی جن میں سے سب سے زیادہ 12ہزار 669قیدی تہاڑ ،4ہزار18منڈولی اور ایک ہزار841روہنی جیل میں قید ہیں۔

    واضح رہے کہ نئی دلی کی جیلوں میں قیدیوں کورونا وائرس کے تیزی سے مبتلا ہونے کی وجہ سے کشمیری سیاسی نظربندوں کی زندگیوں کو شدید خطرہ لاحق ہے۔اس وقت کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ کے علاوہ کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما شبیر احمد شاہ، محمد یاسین ملک، نعیم احمد خان، الطاف احمد شاہ، ایاز محمداکبر، پیر سیف اللہ، راجہ معراج الدین کلوال، فاروق احمد ڈار، شاہد الاسلام، دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی، ناہیدہ نسرین، انسانی حقوق کے کارکن خرم پرویز، انجینئر رشید اور کشمیری تاجر ظہور احمد وتالی تہاڑ، جودھ پور، آگرہ، ہریانہ اور بھارت کی دیگر جیلوں میں غیر قانونی طورپر نظربند ہیں اوران کے مہلک وائر س میں مبتلا ہونے کا شدیدخطرہ ہے ۔

    ادھر ایک تازہ واقعہ میں غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کپواڑہ جیل میں ایک نوجوان قیدی مردہ حالت میں پایاگیا ہے ۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق 19سالہ خورشید احمد وانی ڈسٹرکٹ جیل کپواڑہ میں مردہ حالت میں پایاگیا ہے ۔بھارتی جیل حکام پر اکثر جیلوں میں قیدیوں کی موت کا الزام عائد کیاجاتا ہے ۔

  • ساتویں مردم شماری بھی ماضی کی طرح مستقل رہائشی ایڈریس کی بنیاد پر کرنے کا فیصلہ

    ساتویں مردم شماری بھی ماضی کی طرح مستقل رہائشی ایڈریس کی بنیاد پر کرنے کا فیصلہ

    کراچی: ملک میں ساتویں مردم شماری ماضی کی طرح مستقل رہائشی ایڈریس کی بنیاد پر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہےملک میں سماجی و معاشی منصوبہ بندی کے لیے مردم شماری بہت اہم ہے کیونکہ اس سے ملک کی آبادی اور اس کے تناسب کو مد نظر رکھ کر ہی حکومت منصوبہ بندی کرتی ہے۔

    باغی ٹی وی : پاکستان میں بین الاقوامی اصولوں کے بالکل برعکس 1981 سے 2017 تک dejure یعنی مستقل رہائشی ایڈریس بنیادوں پر مردم شماری کی گئی جس سے ملک کے اہم شہروں کی آبادی متاثر ہوئی ہے بالخصوص ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کی آبادی کو ہمیشہ گھٹا کر دکھا گیا ہے چھٹی مردم شماری میں بھی کراچی کی آبادی ایک کروڑ 60لاکھ ظاہر کی گئی ہے جسے سپریم کورٹ سمیت تمام سیاسی جماعتوں نے غلط قرار دیا ہے۔

    نجی خبررساں ادارے”ایکسپریس” کےمطابق آئی بی اے کےفیکلٹی ممبرماہر اقتصادیات اور محقق عاصم بشیر خان کاکہناہےدنیابھرمیں مردم شماریdefectoبنیاد پر کی جاتی ہے یعنی جو انسان جہاں سکونت اختیار کرتا ہے اسے وہاں شمار کیا جاتا ہے جبکہ پاکستان میں ہونے والی مردم شماری کے موقع پرمستقل ایڈریس کی بنیاد پر کی جارہی ہے یعنی کوئی شہری مردم شماری کے موقع پر کسی علاقے میں کئی سالوں سے رہائش پذیر ہے لیکن اس کے شناختی کار ڈ پر مستقل ایڈریس کسی دوسرے اضلاع یا صوبے کا درج ہے تو اسے مستقل ایڈریس والے علاقے میں شمارکیا جاتاہے، باوجود اس کے کہ وہ مردم شماری کے موقع پراس علاقے میں موجود ہے جہاں وہ کئی برسوں سے برسرروزگار ہے۔

    وزیراعظم عمران خان کو نااہل قرار دینے کی درخواست ناقابل سماعت قرار

    عاصم بشیر خان کا کہنا ہے کہ اگر اس بار بھی dejure بنیاد یعنی مستقل رہائشی ایڈریس کی بنیاد پر مردم شماری کی گئی تو اس کی نتائج منصفانہ و شفاف نہیں ہوں گے جو نہ صرف قومی خزانے کے ضیاع کا سبب بنے گا بلکہ ایک بار پھر اس کے نتائج متنازع بنیں گے ایک ہزار 40حلقوں کا تجزیہ کیا ہے جہاں پر بعض حلقوں کے سینسز بلاکس میں خانہ شماری صفر اور آبادی بھی صفرکی گئی ہے جبکہ عملی طور پر اگر اس مقام کا مشاہدہ کیا جائے تو وہاں گھر اور افراد موجود ہیں اور کئی سال سے رہائش پذیر ہیں سندھ میں 86 ایسے بلاک ہیں جن میں گھرانوں کی تعداد بھی صفر ہے اور آبادی بھی صفر،1981 کی مردم شماری کے مطابق کراچی کی آبادی 54 لاکھ 37 ہزار984 تھی جس کی صحت اور اعداد و شمار پر کئی سوالیہ نشان تھے۔

    کورونا وبا:ملک میں ایک ہزار 467 کیسز رپورٹ،2 افراد جاں بحق

    ادارہ شماریات کے ایک آفیسر نے نام ظاہرنہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ملک میں ساتویں مردم شماری کے لیے منصوبہ بندی بھی dejure بنیادوں پر کی جارہی ہے، اس ضمن میں 5اکتوبرکو فیڈرل کابینہ کے اجلاس میں dejure بنیادوں پر مردم شماری کی منظوری دیدی گئی ہے جبکہ کونسل آف کامن انٹرسٹ سے اس کی منظوری لی جائے گی ماضی 1981، 1998 اور2017 میں ہونے والی مردم شماری بھی dejure یعنی مستقل ایڈریس کی بنیادوں پر کرائی گئی تھی اگرچہ کہ dejureکی پالیسی یہ ظاہر کی جاتی ہے کہ جو شہری چھ ماہ سے جہاں رہائش پذیر ہے اسے وہیں شمار کیا جاتا ہے لیکن عملاً ایسا ہوتا نہیں ہے، کم ازکم کراچی کے معاملے میں ایسا نہیں ہوتا۔

    میڈیکل طالبہ کی خودکشی کا معاملہ:اپوزیشن لیڈرحلیم عادل کا ورثاء سےمکمل مدد اور تعاون کا اعلان

    علاوہ ازیں اس ضمن میں جماعت اسلامی نے وفاقی حکومت کی ساتویں مردم شماری کو dejure بنیادوں پر کرانی کی پالیسی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہوا ہے، جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت نے 2017 کی مردم شماری dejure بنیاد پرکی جس کی وجہ سے کراچی کی آبادی نصف ظاہر ہوئی، تحریک انصاف کی حکومت اگلی مردم شماری بھیdejure بنیادوں پر کرانے کیلیے جارہی ہے جو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے سوا کچھ نہیں۔

    میڈیکل طالبہ کی خودکشی کا معاملہ:اپوزیشن لیڈرحلیم عادل کا ورثاء سےمکمل مدد اور تعاون کا اعلان

    جبکہ وفاقی ادارہ شماریات کے چیف شماریات ڈاکٹر نعیم الظفرکا کہنا ہے کہ کچھ سیاسی جماعتوں اوراسٹیک ہولڈر زنے dejureپر اعتراض اٹھایا ہے اور defecto بنیادوں پر مردم شماری کرانے کا مطالبہ کیا ہے، اگرdefecto پر مردم شماری کرانے کے لیے جاتے ہیں توسیکیورٹی کی ضروریات اور بجٹ اتنا زیادہ ہوجاتا ہے کہ پاکستان اس کا متحمل نہیں ہوسکتا، دنیا بھر میں dejure بنیادوں پر ہی مردم شماری کی جاتی ہے، defecto پر دنیا میں صرف ان ممالک میں مردم شماری کرائی جاتی ہے جہاں آبادی بہت کم ہے، پاکستان آبادی کے لحاظ سے بڑا ملک ہے جو defecto پر مردم شماری کرانے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

    واضح رہے کہ اگلی مردم شماری کیلیے23ارب روپے اخراجات آئیں گے اور رواں مالی سال 5ارب روپے مختص کردیئے گئے ہیں، نئی مردم شماری کا آغاز 2022میں ہونے جارہا ہے۔

    مری سانحہ: اسسٹنٹ کمشنرمری، ڈی سی راولپنڈی اور سی ٹی او کےخلاف اندراج مقدمہ کی…

    واضح رہے کہ پاکستان میں مردم شماری ہر 10 سال بعد ہوتی ہے۔سب سے پہلی مردم شماری آزادی کے چار سال بعد 1951ء میں ہوئی تھی۔ پھر 1961،1972،1981 اور 1998 میں ہوئی۔1972 والی مردم شماری اصل میں 1971 کو ہونی والی تھی، مگر بھارت سے جنگ کی وجہ سے ایک سال تاخیر ہوئی اور پھر 1991 کی مردم شماری سیاسی گہما گہمی کے باعث موخر ہوئی۔ پاکستان میں آخری بار مردم شماری 2017ء میں کرائی گئی۔

    پاکستان میں پہلی مردم شماری قیام پاکستان کے 4 سال بعد 1951 میں کرائی گئی تھی اور اسکے مطابق پاکستان کی مجموعی آبادی ساڑھے 7 کروڑ سے زائد تھی جس میں مغربی پاکستان کی آبادی 3 کروڑ 37 لاکھ جبکہ مشرقی پاکستان کی آبادی 4 کروڑ 20 لاکھ تھی۔

    مری میں ریاستی ڈھانچے کو بہتر بنایا جائے،ابھی تک انگریزوں کےڈھانچے پر چل رہا…

    دوسری مردم شماری 1961 میں ہوئی جس میں پاکستان کی مجموعی آبادی 9 کروڑ 30 لاکھ ریکارڈ کی گئی۔ اس مردم شماری میں مغربی پاکستان کی آبادی 4 کروڑ 28 لاکھ جبکہ مشرقی پاکستان کی آبادی 5 کروڑ تھی۔

    سقوط ڈھاکہ کے باعث تیسری مردم شماری ایک سال کی تاخیر کے ساتھ 1972 میں ہوئی۔ جس کے مطابق پاکستان کی آبادی 6 کروڑ 53 لاکھ تھی۔ 1981 میں ہونے والی چوتھی مردم شماری میں پاکستان کی آبادی 8 کروڑ 37 لاکھ ہوگئی۔

    سترہ سال کے طویل عرصے بعد 1998 میں ہونے والی پانچویں مردم شماری میں پاکستان کی آبادی 13 کروڑ 8 لاکھ 57 ہزار ریکارڈ کی گئی۔ جس کے بعد متعدد مرتبہ مردم شماری کی تاریخیں دی گئیں مگر اب 19 سال بعد ہونے والی چھٹی مردم شماری کا آغاز پندرہ مارچ سے ہوا جوکہ پہلی مرتبہ 2 مرحلوں میں کروائی گئی

    مردم شماری کے لیے گھروں میں آنے والے اہلکار گھر کے سربراہ کے نام اور پھر یہاں رہنے والوں کا اندراج کرتے۔ اس کے لیے گھر کے سربراہ کا شناختی کارڈ ہونا ضروری ہوتا اور اگر وہ دستیاب نہ ہو تو انھیں کوئی بھی ایسی دستاویز فراہم کرنا ہوتی جس سے ان کی شناخت کی تصدیق ہو سکے۔

    مری میں سیاحوں کا داخلہ غیر معینہ مدت کے لئے بند

    حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی طرح معلومات کو چھپانے یا غط بیانی کرنے والے کو پچاس ہزار روپے جرمانہ اور چھ ماہ قید کی سزا ہو سکتی ہے پہلی بار ملک میں خواجہ سرا برادری کو بھی مردم شماری میں شمار کیا گیا سپریم کورٹ کی طرف سے اس بارے میں از خود نوٹس کے بعد گزشتہ سال ہی ملک میں مردم شماری کا فیصلہ کیا گیا-

    پاکستان میں 70 سالہ تاریخ کی چھٹی مردم شماری کے موقع پر وزارت داخلہ نے خانہ و مردم شماری کے موقع پر پاک آرمی کو ان افراد کیخلاف جو کہ معلومات دینے میں تعاون نہ کریں یا غلط معلومات فراہم کرے تو ان کیخلاف موقع پر ہی کارروائی کرتے ہوئے خصوصی عدالتی اختیارات استعمال کرنے کا اختیار دیا تھا-

    بلاول بھٹو اور شہباز شریف کا سانحہ مری پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ

  • کورونا وبا:ملک میں ایک ہزار 467 کیسز رپورٹ،2 افراد جاں بحق

    کورونا وبا:ملک میں ایک ہزار 467 کیسز رپورٹ،2 افراد جاں بحق

    پاکستان میں عالمی وبا کورونا وائرس سے مزید 2 افراد جاں بحق ہو گئے-

    باغی ٹی وی : نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 43 ہزار 540 کورونا ٹیسٹ کیے گئے مزید ایک ہزار 467 کورونا کیسز رپورٹ ہوئے۔

    کورونا وبا کے دوران خدمات سرانجام دینےوالے ورکرزمیں تعریفی اسناد اور شیلڈزتقسیم

    این سی او سی کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں ملک میں کورونا کیسز کی مجموعی تعداد 13 لاکھ7ہزار174 جبکہ اموات کی مجموعی تعداد 28 ہزار 974 ہو گئی ہے اور مثبت کیسز کی شرح 3.33 فیصد رہی۔


    سندھ میں کورونا کے کیسز کی تعداد 4 لاکھ 88 ہزار608، خیبر پختونخوا میں ایک لاکھ 81 ہزار 790، پنجاب میں 4 لاکھ 48 ہزار 479، اسلام آباد میں ایک لاکھ 9ہزار 495، بلوچستان میں 33 ہزار 661، آزاد کشمیر میں 34 ہزار 708 اور گلگت بلتستان میں 10 ہزار 433 ہو گئی ہے۔

    وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری کورونا وائرس کا شکار ہو گئیں

    کورونا کے سبب سب سے زیادہ اموات پنجاب میں ہوئی ہیں جہاں 13 ہزار081افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ سندھ میں 7 ہزار 682، خیبرپختونخوا 5 ہزار 943، اسلام آباد 967، گلگت بلتستان 186، بلوچستان میں 367 اور آزاد کشمیر میں 748 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

    اومی کرون ویرینٹ: خصوصی ویکسین کا ٹرائل ماہ رواں میں شروع کرنے کا اعلان

    امریکی کمپنی فائزر کے سی ایس او نے اعلان کیا ہے کہ عالمی وبا قرار دیےجانے والے کورونا وائرس کی نئی قسم اومیکرون کے خلاف تیار کردہ خصوصی ویکسین کی آزمائش ماہ رواں کے اختتام تک انسانوں پر شروع کردی جائے گی۔

    موقر جریدے انسائیڈر کے مطابق فائزر کی جانب سے یہ اعلان ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے کہ جب پوری دنیا میں اومیکرون کے حوالے سے شدید تحفظات اور خدشات پیدا ہو چکے ہیں –

    اومیکرون ویرینٹ کے باعث کورونا کیسوں میں اضافے پر تشویش

    چیف سائنٹیفک آفیسر مائیکل ڈولسٹن کے مطابق کلینکل ٹرائلز کا بنیادی مقصد اس بات کی جانچ کرنا ہو گا کہ نئی ویکسین اومیکرون کے خلاف کس قدر مؤثر ثابت ہو گی؟ البتہ ان کا کہنا تھا کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ اومیکرون کے لیے مخصوص ویکسین کی ضرورت پڑے گی یا نہیں؟-

    رپورٹس کے مطابق فائزر اپنی اس اپ ڈیٹڈ ویکسین کو مارچ تک مارکیٹ کرنے کے حوالے سے ابھی تک پرعزم ہے۔

    کورونا،ڈیلٹا،اومی کرون،فلورونا کے بعد ڈیلٹا کرون:نیاوائرس کتنا خطرناک ہے ماہرین نے ڈرا دیا

    امریکی نشریاتی ادارے سی این بی سی کے مطابق فائزر کے سی ای او البرٹ بورلا کا اس سلسلے میں کہنا ہے کہ ویکسین مارچ تک تیار ہو جائے گی لیکن وہ یہ بات نہیں جانتے ہیں کہ وہ استعمال بھی ہو گی یا نہیں؟

    کمپنی فائزر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کلینیکل ٹرائلز کا مقصد موجودہ ویکسین اور اومیکرون کے لیے اپ ڈیٹ ویکسین کے مدافعتی ردعمل کا موازنہ کرنا ہے۔ ٹرائل میں رضاکاروں کو ویکسین کی چوتھی خوراک استعمال کرائی جائے گی۔

  • کیا بروقت اقدامات سے سانحہ مری کو روکا جا سکتا تھا؟  وزیراعظم کا وفاقی وزرا سے سوال

    کیا بروقت اقدامات سے سانحہ مری کو روکا جا سکتا تھا؟ وزیراعظم کا وفاقی وزرا سے سوال

    اسلام آباد: سانحہ مری کے حوالے سے منعقدہ اجلاس میں وفاقی وزرا ضلعی انتظامیہ کے حق میں بول پڑے ہیں –

    باغی ٹی وی : وزیراعظم کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں سانحہ مری پر تفصیلی بریفنگ دی گئی جس کے دوران بتایا گیا کہ ایک لاکھ 64 ہزار گاڑیاں مری میں داخل ہوئیں۔

    پاکستان کو انتہائی مطلوب دہشت گرد اور ٹی ٹی پی ترجمان محمد خراسانی افغانستان میں مارا گیا

    وزیراعظم نے منعقدہ اجلاس میں استفسار کیا کہ کیا بروقت اقدامات سے سانحہ مری کو روکا جا سکتا تھا؟ جس کے جواب میں وفاقی وزرا نے مری انتظامیہ کی حمایت کی ر وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے اس موقع پر کہا کہ صورتحال کے دوران انتظامیہ اور پولیس نے بہترین کام کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ حالات پولیس کے کنٹرول سے باہر تھے، اس لیے رینجرز کو طلب کرنا پڑا جبکہ شام پانچ 5 ہی مری جانے والے راستے بند کردیے گئے تھے۔

    الیکشن کمیشن نے اسحاق ڈار کی سینیٹ کی رکنیت بحال کر دی

    وزیراعظم عمران خان نے اس موقع پر کہا کہ موجودہ دور میں سیاحت ایک نئی حقیقت ہے ان کا کہنا تھا کہ سیاحت بڑھ گئی ہے لیکن انفراسٹرکچر کئی دہائیاں پیچھے ہے نئےہوٹلز کی تعمیرکے ساتھ پرانے اسٹرکچر کو بہتر کرنا لازمی ہے بڑھتے ہوئے سیاحوں کو معیاری رہائش کی فراہمی ایک چیلنج ہے۔

    علاوہ ازیں اعلیٰ سطحی اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے ریسکیو آپریشن میں سول اداروں اورفوج کی کاوش کی بھی تعریف کی۔

    کورونا وبا کے دوران خدمات سرانجام دینےوالے ورکرزمیں تعریفی اسناد اور شیلڈزتقسیم

    دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی صدر میاں شہباز شریف نے قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہونے سے قبل میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ سانحہ مری حادثہ نہیں مجرمانہ غفلت ہے شہباز شریف نے پارلیمنٹ ہاؤس میں بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ سانحہ مری پر پوری قوم افسردہ اور غم میں مبتلا ہے۔

    انہوں نے حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے استفسار کیا تھا کہ اس سے بڑھ کر انتظامیہ کی غفلت اور کیا ہو سکتی ہے؟اس سانحے کا پورا احتساب ہونا چاہیے۔

    وفاقی حکومت کا بس چلے توسانحہ مری کی ذمہ داری سندھ پر ڈال دے