Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • صادق سنجرانی کا ڈی جی ایف آئی اے ڈاکٹر ثناء اللہ عباسی سے ان کے بھائی کے انتقال پر اظہار افسوس

    صادق سنجرانی کا ڈی جی ایف آئی اے ڈاکٹر ثناء اللہ عباسی سے ان کے بھائی کے انتقال پر اظہار افسوس

    اسلام آباد۔ : صادق سنجرانی کا ڈی جی ایف آئی اے ڈاکٹر ثناء اللہ عباسی سے ان کے بھائی کے انتقال پر اظہار افسوس ،اطلاعات کے مطابق چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے ڈی جی ایف آئی اے ڈاکٹر ثناء اللہ عباسی سے ان کے بھائی کے انتقال پر اظہار افسوس کیا۔چیئرمین سینیٹ نے ڈی جی ایف آئی اے سے اسلام آباد میں تعزیت کی اور مرحوم کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوابی بھی کی۔

    چیئرمین سینیٹ نے غمزدہ خاندان سے اظہا ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں ڈاکٹر ثناء اللہ عباسی اور سوگوار خاندان کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔

    چیئرمین سینیٹ نے دعا کی کہ اللہ تعالی مرحوم کی مغفرت اور درجات بلند کرے اور سوگواران کو یہ صدمہ صبر اور حوصلے کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اس موقع پر چیئرمین سینیٹ کے ہمراہ سینیٹرز محسن عزیز، حافظ عبد الکریم اور فیصل سلیم رحمان بھی موجود تھے۔

  • پاکستان تحریک انصاف کی آئینی نظرثانی کمیٹی کا اہم اجلاس

    پاکستان تحریک انصاف کی آئینی نظرثانی کمیٹی کا اہم اجلاس

    اسلام آباد::پاکستان تحریک انصاف کی آئینی نظرثانی کمیٹی کا اہم اجلاس ،اطلاعات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی آئینی نظرثانی کمیٹی کے اہم اجلاس میں پارٹی آئین حتمی منظوری کے لئے وزیراعظم و چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔منگل کوپاکستان تحریک انصاف کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیر منصوبہ بندی و مرکزی سیکرٹری جنرل اسد عمر نے اجلاس کی صدارت کی ۔

    ایڈیشنل سیکرٹری جنرل عامر محمود کیانی، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین، گورنر پنجاب چوہدری سرور،وزیر بحری امور علی حیدر زیدی اور گورنر سندھ عمران اسماعیل نے اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف کے آئین کے خدوخال پر تفصیلی غور کیا گیا۔

    اجلاس میں جماعتی آئین میں ترامیم کے حوالے سے مختلف امکانات کا بھی مفصل جائزہ لیا گیا۔آئینی کمیٹی نے آئین کے حوالے سے اپنی رپورٹ کو حتمی شکل دے دی جو کہ حتمی منظوری کیلئے وزیراعظم و چیئرمین پاکستان تحریک انصاف کی خدمت میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

  • پی سی آئی ویبینار: 9 ایشیائی ممالک نے چین کی ’ویکسین ہیومینٹیرینزم‘ کو شاندار الفاظ میں سراہا۔

    پی سی آئی ویبینار: 9 ایشیائی ممالک نے چین کی ’ویکسین ہیومینٹیرینزم‘ کو شاندار الفاظ میں سراہا۔

    اسلام آباد: پاکستان چائینہ انسٹیٹیوٹ(پی سی آئی) نے علاقائی اقتصادی رابطے پر ایک غیر معمولی نوعیت کا حامل 9 ملکی کانفرنس کی میزبانی کی جس کا موضوع ’’بیلٹ اینڈ روڈ تعاون: عوام کے درمیان تعلقات کو فروغ دینا‘‘ تھا۔اس ویبینار میں پاکستان، بنگلہ دیش، ملائیشیا، نیپال، سری لنکا اور تھائی لینڈ کی "فرینڈز آف سلک روڈ” تنظیموں کے نمائندوں کے علاوہ انڈونیشیا، فلپائن اور چین کے تھنک ٹینکس کے نمائندوں نے شرکت کی۔

    اس ویبینار میں مقررین نے زندگی کے مختلف شعبوں کی نمائندگی کرتے ہوئے تبادلہ خیال کیا اور کہا کہ ‘ایشیائی صدی’ میں تعمیر و ترقی کے لیےبی آر آئی کی ضرورت ہے اورکثیر جہتی تعاون کو مضبوط بنانے، بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو(بی آر آئی) کو فروغ دینے پر زور دیا کیونکہ یہ ایشیائی ممالک کے مشترکہ مفادات کا ترجمان ہے۔ انہوں نے ثفافتی تبادلے اور مشاورت کے ذریعے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو(بی آر آئی) کی اعلیٰ معیار ی ترقی کے لیے تجاویز بھی پیش کیں۔ 9 ممالک کے مقررین نے اپنی تقاریر میں ادارہ جاتی تعاون، ڈس انفارمیشن اور من گھڑت خبروں کا مقابلہ کرنے پر اتفاق کیا اور ‘نئی سرد جنگ’ کے تصور کو سختی سے مسترد کیا۔

    اس ویبینار کی نظامت کے فرائض پی سی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مصطفیٰ حیدر سید نے ادا کیے۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ "شاہراہِ ریشم کے دیرینہ دوست پاکستان” نے 2019 میں اپنے آغاز کے بعد سےسی پیک کے ذریعے بی آر آئی سے حاصل ہونے والے فوائد اور متعدد مواقعوں کے بارے میں بہتر تفہیم اور معلومات فراہم کیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بی آر آئی نے ترقی پذیر ممالک میں انسانی ترقی کو فروغ دینے کے لیے ایک متبادل ترقیاتی ماڈل فراہم کیا ہے جو بی آر آئی سے پہلے مغرب اور اس کے اداروں پر منحصر تھے۔ انہوں نے بی آر آئی کو عوام پر مبنی ترقی پر مبنی اتفاق رائے پر مبنی پہل کاری قرار دیا۔ مزید برآں، انہوں نے کمیونسٹ پارٹی آف چائینہ کی گزشتہ ماہ منعقد ہونے والےچھٹے مکمل اجلاس کے دوران ایک تاریخی قرارداد پاس کرنے کے اقدام کو خوش آئند قرار دیا جس نے مستقبل کے لیے ایک واضح وژن فراہم کیا ہے۔

    سینیٹ کی دفاعی کمیٹی اور پاکستان چائینہ انسٹیٹیوٹ کے چیئرمین سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ سی پیک اوربی آر آئی کے ذریعے سےعوام کو ثمرات حاصل ہو رہے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ بی آر آئی کسی ملک کے خلاف نہیں اور اسے وِن -وِن تعاون ماڈل کا حامل قرار دیا کیونکہ یہ جامع ہے اور اس کا مقصد رابطہ کاری کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے مزیدکہا کہ سال 2021 چین کی کمیونسٹ پارٹی کی تاریخ کا ایک اہم سال تھا کیونکہ اسے سی پی سی کی سو سالہ سالگرہ کے طور پر منایا گیا اور اسی سال چین نے غربت کا مکمل خاتمہ کیا۔ انہوں نے چین کی کووڈ- 19وبا پر قابوپانے کی کامیاب حکمت عملی اور دیگر ممالک کو اس سے بچانےکے لیے ویکسین کی فراہمی کو قابلِ تعریف دیاجس کے سبب لاکھوں انسانی جانیں بچ گئی ۔نیز انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کے خطرات سے بچاؤ کے لیے اقدامات میں چین کی قیادت کی بھی تعریف کی۔

    اس ویبینار میں چین کی رینمن یونیورسٹی کے انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئرز کے ڈائریکٹر پروفیسر وانگ ییوئی نے کہا کہ کووڈ-19 وباکے بعد کا دور زندگی کو’نئے معمول’ کے مطابق ڈھالنے کا ہے۔ انہوں نے مزیدکہا کہ اس مشکل وقت میں کثیرالجہتی ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے اور بی آر آئی کو کثیرالجہتی کو آگے بڑھانے کے بہترین محرک کے طور پر لیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے چین کی زیرو کول پالیسی کا بھی خیرمقدم کیا جو چین نے برقرار رکھا اور اس سے موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرات سے بچاؤمیں بھی مدد ملے گی۔

    نیپال کے "فرینڈز آف سلک روڈ کلب” کے جنرل سکریٹری کلیان راج شرما نے اس موقع پر کہا کہ بی آر آئی کے آغاز کے بعد سے چین اور نیپال کے اقتصادی تعلقات مزید مستحکم ہوئے ہیں اور نیپال کی اقتصادی اور سماجی ترقی کی رفتار اب بی آر آئی پر منحصر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین کے ساتھ ان تعلقات کو آگے بڑھانے کی تحریک16-2015 میں ہندوستان کی طرف سے غیر اعلانیہ ناکہ بندی کے بعد ملی۔

    بنگلہ دیش چائینہ سلک روڈ فورم” کے چیئرمین دلیپ باروا نے بھارت اور مغربی ممالک کی جانب سے پھیلائے جانے والے بی آر آئی مخالف پروپیگنڈے کا مشترکہ طور پر مقابلہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے بی آر آئی کو صدر شی جن پنگ کا معاشی ماسٹر اسٹروک قرار دیا جس سے ایشیا میں بنیادی ڈھانچے میں بہتری آئی ہے۔ مزید برآں انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش میں بی آر آئی کے بارے میں مثبت تاثر پایا جاتا ہےکیونکہ بنگلہ دیش کو اس پہل کاری کے فوائد حاصل ہونے کا آغاز ہوا ہے ۔

    اس ویبینار میں تھائی چائنیز کلچر اینڈ اکانومی ایسوسی ایشن کی اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل دارات پوچمونگکول نے کہا کہ تھائی لینڈ چین کے ساتھ اپنے تعلقات خاص طور پر بی آر آئی کے ضمن میں مزید مضبوط کر رہا ہے کیونکہ اس سے تھائی عوام فوائد حاصل کر رہے ہیں۔

    شینزن یونیورسٹی کے انسٹیٹیوٹ آف گلوبل گورننس اینڈ ایریا اسٹڈیز کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈائی یونگ ہونگ نے کہا کہ بین الاقوامی صورتحال سبز ترقی کو آگے بڑھانے، سبز کاروباری طریقوں کو اپنانے اور انسانی ترقی کو فروغ دینے کی متقاضی ہے۔ امریکہ جس ا یک قطبی دنیا کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے وہ ختم ہو رہی ہے اور ایک کثیر قطبی دنیا ابھر رہی ہے۔ اس کثیر قطبی دنیا میں بی آر آئی انسانی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔

    پاتھ فائنڈر فاؤنڈیشن سری لنکا کی سینئر محقق پروفیسر گائتری ڈی زوئیسا نے اس موقع پرکہا کہ سری لنکا بی آر آئی کے اہم شراکت دار ممالک میں سے ایک ہے اور بی آر آئی کے آغاز کے بعد سے چینی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے آگاہ کیا کہ کولمبو پورٹ سٹی پروجیکٹ چین سے 100فیصد ایف ڈی آئی کے ذریعے مکمل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے چین اور سری لنکا کے درمیان تعلیم، سائنس اور صحت کے شعبوں میں تعاون کی نئی راہیں ہموار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

    ملائیشیا چائینہ فرینڈ شپ ایسوسی ایشن کے رہنما ڈاکٹر جی پی دوریسامی نے کہا کہ ملائیشیا کے چین کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ انہوں نے ’نوآبادیاتی ذہنیت‘ کو ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

    کمیونسٹ پارٹی آف نیپال (یونیفائیڈ مارکسسٹ-لیننسٹ) کے پولیٹیکل بیورو ممبر آنند پرساد پوکھرل نے ٹرانس ہمالیائی ملٹی ڈائمینشنل کنیکٹیویٹی نیٹ ورک کے بارے میں بات کی جو کہ بی آر آئی کے ایک خاص حصے کے طور پر نیپال اور چین کے درمیان ایک اقتصادی راہداری ہے اور یہ نیپال کی تعمیر و ترقی کا ایک تاریخی موقع ہے۔ بنیادی ڈھانچہ بین الاقوامی دباؤ کے باوجود 2017 میں دونوں ممالک کے مفاہمت ناموں پر دستخط کے بعد سے نیپال میں بی آر آئی منصوبوں کی اعلیٰ معیار ی ترقی کا سفر جاری ہے۔

    ایشیا پروگریس فورم کولمبو کےکنوینر پروفیسر کے ڈی این ویرا سنگھے نے اس دوران کہا کہ بی آر آئی شراکت دار ممالک کی اقتصادی بحالی کا موجب بنا ہے۔ انہوں نے چین اور سری لنکا کے تعلقات کی تاریخ پر روشنی ڈالی جو صدیوں پرانے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ مزید مضبوط ہوئے ہیں۔

    انڈونیشیائی تھنک ٹینک سی ایس آئی ایس کی ویرونیکا ایس سرسوتی نے کہا کہ جس طرح سے چین نے عالمی وباپر قابو پایا ہے اسے دوسرے ممالک نمونہ عمل کے طور پر لے سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بی آر آئی نے چین اور شراکت دار ممالک کے درمیان ٹیکنالوجی کی منتقلی کو ممکن بنایا ہے۔ آسیان ممالک میں بی آر آئی کے منصوبے پوری رفتار کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خوشحالی اور ترقی کی نئی راہیں ہموار ہو رہی ہیں۔

    فلپائن-برکس اسٹریٹجک اسٹڈیز کے بانی ہرمن لارل نے چین کی ویکسین انسان دوستی کی تعریف کی جس نے وباکے پھیلاؤ کو روکنے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔
    اس ویبینار میں شرکاء نے ڈیجیٹل شراکت داری کے ذریعے اپنے تعلقات کو ادارہ جاتی بنانے پر اتفاق کیا۔ آخر میں سینیٹر مشاہد حسین نے شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئےکہا کہ چین کے خلاف امریکہ کے مہمات کی اصل وجہ یہ ہے کہ ہارورڈ یونیورسٹی کی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق سال 2020 میں چین نے 1.5 ارب سمارٹ فونز،250 ملین کمپیوٹرزاور 25 ملین کاریں تیار کرتے ہوئے دنیا کے ہائی ٹیک مینوفیکچرر کے طور پر امریکہ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

  • ضامن بھی چورکا اہم راز نکلا :نواز شریف وطن واپس نہ آئے، حکومت کا شہباز کیخلاف عدالت سے رجوع کا فیصلہ

    ضامن بھی چورکا اہم راز نکلا :نواز شریف وطن واپس نہ آئے، حکومت کا شہباز کیخلاف عدالت سے رجوع کا فیصلہ

    لاہور:ضامن بھی چورکا اہم راز نکلا :نواز شریف وطن واپس نہ آئے، حکومت کا شہباز کیخلاف عدالت سے رجوع کا فیصلہ ،اطلاعات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی وفاقی حکومت نے سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی لندن سے وطن واپس نہ آنے کے معاملے پر پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کیخلاف عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

    خیال رہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف علاج کی غرض سے نومبر 2019ء کو برطانیہ روانہ ہوئے تھے اور تاحال واپس نہ آ سکے، ان کی برطانیہ جانے سے متعلق پاکستان مسلم لیگ ن کےصدر میاں محمد شہباز شریف نے عدالت میں گارنٹی دی تھی۔

    ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف وطن واپسی کے معاملے پر وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کیخلاف عدالت سےرجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، حکومت شہباز شریف کے خلاف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کرے گی۔

    حکومتی ذرائع کے مطابق شہباز شریف نے سابق وزیراعظم کی وطن واپسی کی ضمانت دی تھی، نواز شریف کے واپس نہ آنے پر شہباز شریف کے خلاف کاروائی کی درخواست کی جائیگی۔

    نجی ٹی وی سے گفتگو کے دوران تصدیق کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم نوازشریف کی واپسی کے لیے عدالتوں کو خود نوٹس لینا چاہیے تھا، شہبازشریف نے نوازشریف کی وطن واپسی کی عدالت میں ضمانت دی تھی، نوازشریف کوکہا تھا کہ جرمانہ ادا کریں اورعلاج کے لیے باہرچلے جائیں، نوازشریف کوواپس لانے کے لیے 10 دن تک عدالت یاد دہانی کے لیے جارہے ہیں۔

    خیال رہے کہ گزشتہ چند روز سے مسلم لیگ ن کی طرف سے اعلان کیا جا رہا ہے کہ سابق وزیراعظم جلد واپس آ جائیں گے، سابق سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا تھا کہ آئندہ ماہ لندن جاؤں گا اور نواز شریف کو واپس لے کر آؤں گا۔

    آج میڈیا سے گفتگو کے دوران وفاقی وزیر اطلاعات نے اعلان کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ن لیگ والے نہیں بلکہ ہم مسلم لیگ ن کے قائد کو وطن واپس لائیں گے کیونکہ حکومت ملزمان کی حوالگی سے متعلق برطانیہ سےبات کر رہی ہے۔

  • نواز لیگ کو خطرات لاحق :پیپلز پارٹی کا 5 جنوری کو لاہور میں میدان لگانے کا اعلان:

    نواز لیگ کو خطرات لاحق :پیپلز پارٹی کا 5 جنوری کو لاہور میں میدان لگانے کا اعلان:

    لاہور:نواز لیگ کو خطرات لاحق :پیپلز پارٹی کا 5 جنوری کو لاہور میں میدان لگانے کا اعلان: ،اطلاعات کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی نے حکومت مخالف تحریک شروع کرنے سے قبل 5 جنوری کو لاہور میں میدان لگانے کا اعلان کر دیا۔اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ پی پی قیادت سے نوازلیگ وسطی پنجاب کے کچھ اہم لوگوں نے پہلے ہی رابطے کررکھے ہیں

    ادھر اسی حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ پارٹی ذرائع کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی 5 جنوری کو صوبائی دارالحکومت لاہور کے حلقہ این اے 133 میں جلسہ عام کرے گی ، اس حلقے میں پی پی چیئر مین بلاول بھٹو زرداری خطاب کریں گے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو کی طرف سے خطاب میں اہم اعلان اور آئندہ کی حکمت عملی کا اعلان کیا جائے گا، آصف زرداری اور بلاول بھٹو باری باری لاہور کے دورے کریں گے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو شہید کی برسی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ آپ نے ڈیل ڈیل کی باتیں ٹی وی پر سنی ہوں گی۔ تجزیہ کاروں اور کالم نگاروں سے یہ باتیں سنی ہوں گی، یاد رکھیں یہ وہی شکلیں ہیں، وہی قلم ہیں جو شہید بی بی بینظیر پر ڈیل کا الزام لگا رہے تھے۔

    5 جنوری کو حکومت کے خاتمے کی بنیاد لاہور میں رکھیں گے۔ یہاں کبھی آر او الیکشن تو کبھی آر ٹی ایس الیکشن کرائے گئے۔ یہاں کبھی کسی چودھری کو استعمال گیا تو کبھی کسی نثار کو استعمال کیا جاتا رہا اور جمہوریت پر ڈاکہ ڈالا جاتا رہا ہے۔ آج پاکستان کے عوام کٹھ پتلی راج بھگت رہے ہیں۔ سلیکٹڈ راج بھگت رہے ہیں۔

    حکومت کیخلاف احتجاج کے سلسلے سے متعلق بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم نے مل کرجدوجہد کرنی ہے، ملک کے کونے، کونے تک پیپلزپارٹی کا پیغام پہنچانا ہے، جن گھروں پر پیپلزپارٹی کے پرچم تھے وہاں دوبارہ پرچم کولہرانا ہے۔ آپ اٹھیں، ہمیں کسی ڈیل کی ضرورت نہیں، ہماری ڈیل شہدا کی قبروں اورعوام سے ہے، وعدہ ہے ہم گاؤں، گاؤں، شہر، شہر پہنچنے والے ہیں، تمام صوبائی عہدیدارتیاری پکڑیں میں آرہا ہوں، گلگت بلتستان، کشمیر، راجہ پرویزاشرف، قمر زمان کائرہ تیاری پکڑیں، پنجاب بھی پہنچنے والے ہیں، ملک کے ہرکونے تک پہنچیں گے۔

    بلاول کا کہنا تھا کہ جہاں میں نہیں پہنچ سکتا وہاں آصف زرداری، فریال تالپور، آصفہ بی بی پہنچیں گے، کٹھ پتلی کے خلاف جنگ کرنے کے اعلان کا وقت آچکا ہے، پانچ جنوری کولاہورمیں اپنا بیس بنائیں گے۔ ان کوضمنی، سینیٹ الیکشن، لوکل گورنمنٹ کو گھرسے شکست ہوئی، ان کے جانے میں دیرنہیں جیالے تیاری پکڑیں، اگلا الیکشن اوروزیراعظم، وزرائے اعلیٰ بھی آپ کے ہوں گے۔

  • دھرنے پردھرنا کیا دھرنا :گوادرمیں‌ دھرنے پردھرنا

    دھرنے پردھرنا کیا دھرنا :گوادرمیں‌ دھرنے پردھرنا

    گوادر:دھرنے پردھرنا کیا دھرنا :گوادرمیں‌ دھرنے پردھرنا ،اطلاعات کے مطابق گوادر حق دو تحریک کےسربراہ مولاناہدایت الرحمان نے ایک بار پھر دھرنا دے دیا۔
    گوادر میں منشیات کےخلاف پولیس تھانے کے سامنے دھرنا دیا جا رہا ہے جس میں لوگوں کی بڑی ‏تعداد موجود ہے۔

    مظاہرین نے منشیات کی روک تھام کیلئے پولیس کو ایک ہفتےکی ڈیڈ لائن دی ہے۔ مظاہرین سے ‏خطاب میں مولانا ہدایت الرحمان کا کہنا تھا کہ ایک ہفتے تک منشیات کے اڈے بند نہ کئےتو ‏قانون ہاتھ میں لیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہمارے مطالبات میں صاف پانی کی فراہمی کے ساتھ ساتھ منشیات کی روک تھام ‏کے لیے ٹھوس اقدامات شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمان کی قیادت میں گوادر دھرنا ایک ماہ سے زائد عرصے جاری رہا جس کا وزیراعظم نے نوٹس لیا اور حکومت سے کامیاب مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کیا گیا تھا۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو اور حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمان کے مابین ہونے والے معاہدے پر دستخط کیے گئےتھے۔

    گزشتہ منگل کو ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزیراعظم نے’حق دو گوادر کو‘ تحریک کے طویل احتجاجی دھرنے کا نوٹس لیتے ہوئے 2 وفاقی وزراء اسد عمر اور زبیدہ جلال کو گوادر جانے کی ہدایت کی تھی۔

    وزیراعظم عمران خان نے دونوں وزراء کو ہدایت کی تھی کہ گوادر کے عوام کے مسائل کے جلد حل کی سفارشات مرتب کریں۔

    واضح رہے کہ گوادر تحریک کے شرکاء سمندر میں غیرقانونی ٹرالنگ روکنے، مکران میں چیک پوسٹوں کے خاتمے اور گوادر کو پینے کے پانی کی فراہمی سمیت دیگر مطالبات کے حق میں احتجاج کررہے تھے۔

  • اسرائیل نے شامی بندرگاہ پر میزائلوں سے حملہ کردیا

    اسرائیل نے شامی بندرگاہ پر میزائلوں سے حملہ کردیا

    تل ابیب :اسرائیل نے شامی بندرگاہ پر میزائلوں سے حملہ کردیا،اطلاعات کے مطابق اسرائیل نے شام کی بندرگاہ لطاکیہ پر ایک مہینے میں دوسری بار حملہ کیا ہے۔

    شامی سرکاری میڈیا کے مطابق اسرائیل کی جانب سے لطاکیہ پر فضائی حملہ کیا گیا، اسرائیل نے لطاکیہ پورٹ پر متعدد میزائل داغے، اسرائیلی میزائلوں نے لطاکیہ پورٹ کےکنٹینریارڈ کو نشانہ بنایا،جس سے وہاں آگ لگ گئی اور بھاری مالی نقصان ہوا۔

    رپورٹ کے مطابق اسرائیلی میزائلوں سے قریب موجود ایک اسپتال اور چند رہائشی عمارتوں کو بھی جزوی نقصان پہنچا۔شامی حکام کی جانب سے حملے میں کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں دی گئی ہے۔

    اسرائیلی فوجی ترجمان نے شام میں فضائی حملےکی خبرپر ردعمل سےگریز کرتے ہوئے کہا ہےکہ غیرملکی میڈیا کی خبروں پر ردعمل نہیں دیتے۔اس سے قبل 7 دسمبر کو بھی اسرائیل کی جانب سے لتاکیہ پورٹ کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا تھا۔

    امریکی اتحاد کے ترجمان کول ہارپر کا کہنا تھا کہ عالمی اتحاد کے فوجی عراق سے نہیں نکلیں گے بلکہ عراقی حکومت کے اعلان کے مطابق ان کا کردار جنگی سے مشورتی میں تبدیل ہو جائے گا۔

    رپورٹ کے مطابق امریکا کی سربراہی میں نام نہاد داعش مخالف عالمی اتحاد کے ترجمان نے دعوی کیا ہے کہ عالمی اتحاد کی عراق میں کوئی فوجی چھاونی نہیں ہے۔

    ہارپر نے الجزیرہ چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی اتحاد کے فوجی، صوبہ الانبار کی عین الاسد چھاونی، کردستان علاقے میں اربیل اور بغداد میں مشترکہ آپریشنل کمانڈ سینٹر میں موجود ہیں۔

    انہوں نے دعوی کیا کہ عالمی اتحاد نے ابھی تک عراق میں جنگی کردار ادا نہیں کیا ہے بلکہ ان کی نئی ذمہ داری، عراقی فوج اور کرد میلیشیا پیشمرگہ کی ٹریننگ اور ان کو مشورے دینا ہے۔

    امریکی فوج کے اس کمانڈر نے کہا کہ عالمی اتحاد کے فوجی عراق سے نہیں نکلیں گے بلکہ عراقی حکومت کی جانب سے کئے گئے اعلان کے مطابق اتحاد کے فوجیوں کا کردار جنگی سے مشورتی کردار میں بدل جائے گا، اسی لئے اس نئے کردار کے ساتھ عراق میں ہمارا باقی رہنا، بغداد حکومت کی درخواست کی وجہ سے ہے۔

    ہارپر کا کہنا تھا کہ عراق کے اندر امریکی فوجیوں پر ہونے والے نقصان کے بارے میں امریکی اتحاد کے پاس کوئی اعداد و شمار نہیں ہے۔

  • مقبوضہ کشمیر:بھارتی فوج نےیاسین ملک کے بھانجوں کو گرفتار کرلیا:مشعال ملک

    مقبوضہ کشمیر:بھارتی فوج نےیاسین ملک کے بھانجوں کو گرفتار کرلیا:مشعال ملک

    اسلام آباد:مقبوضہ کشمیر:بھارتی فوج نےیاسین ملک کے بھانجوں کو گرفتار کرلیا:مشعال ملک،اطلاعات کے مطابق حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں یاسین ملک کے بھانجوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

    اپنے ایک بیان میں مشعال ملک نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں یاسین ملک کے بھانجوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے، بھارتی فوج یاسین ملک کی فیملی کو مختلف طریقوں سے ہراساں کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ بوڑھی ماں اور بہن کو بھی تنگ کیا جارہا ہے جب کہ عالمی دنیا کشمیر میں بھارتی مظالم پر خاموش تماشائی ہے۔

    مشعال ملک نے کہا کہ یاسین ملک کو جیل میں ڈرانے اور دھمکانے کے لیے انکی فیملی کو ہراساں کیا جارہا ہے۔انکا کہنا تھا کہ اشفاق اور شعیب کا جرم اتنا ہے کہ وہ یاسین ملک کے بھانجے ہیں۔

    یاسین ملک کی اہلیہ نے کہا کہ اشفاق کی عمر 23 سال ہے جب کہ شعیب کی عمر 27 سال ہے۔مشعال ملک نے کہا کہ یاسین ملک کو گرفتار ہوئے تین سال ہونے کو ہیں۔

    ادھرغیر قانونی طور پربھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (پی اے جی ڈی) نے کہا ہے کہ حیدر پورہ جعلی مقابلے کے بارے میں بھارتی پولیس کی پریس بریفنگ پرانی کہانی کا اعادہ ہے۔

    کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق پی اے جی ڈی کے ترجمان نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ عوام میں یہ گہرا تاثر پایاجاتا ہے کہ اس واقعے میں شہید ہونے والے شہریوں کو بھارتی فورسز نے انسانی ڈھال کے طورپر استعمال کیاور پولیس کا تازہ بیان ایک من گھڑت کہانی اور پردہ پوشی کی کوشش لگتا ہے۔انہوں نے کہاکہ اس سے عوام اور شہداءکے اہلخانہ کے جائز خدشات دورنہیں ہونگے۔

    انہوں نے کہا کہ ہمیںپختہ یقین ہے کہ قابل اعتماد عدالتی تحقیقات سے کم کسی چیز سے شکوک دور نہیں ہونگے ۔انہوں نے کہاکہ انتظامیہ کو مزید تاخیر کئے بغیر مقررہ وقت کے اندر اندر عدالتی تحقیقات کا حکم دینا چاہیے۔واضح رہے بھارتی پولیس نے حیدر پورہ جعلی مقابلے میں ملوث بھارتی فورسز کے اہلکاروں کو بری الذمہ قراردیاتھا۔

  • حکومت نے عالمی صورتحال دیکھتے ہوئے قومی سلامتی پالیسی تشکیل دی: ترجمان پاک فوج

    حکومت نے عالمی صورتحال دیکھتے ہوئے قومی سلامتی پالیسی تشکیل دی: ترجمان پاک فوج

    اسلام آباد:حکومت نے عالمی صورتحال دیکھتے ہوئے قومی سلامتی پالیسی تشکیل دی:اطلاعات کے مطابق پاکستان کی پہلی قومی سلامتی پالیسی کی تشکیل اور منظور پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ترجمان پاک فوج میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ حکومت نے عالمی صورتحال دیکھتے ہوئے کر قومی سلامتی پالیسی تشکیل دی۔

    نیشنل سکیورٹی پالیسی کی منظوری کے بعد پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل بابر افتخار کی طرف سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری کردہ بیان کے مطابق قومی سلامتی پالیسی کااجراءاہم سنگ میل ہے۔ پاکستان کی قومی سلامتی مضبوط بنانےمیں پالیسی انتہائی اہم ہے۔

     

     

    ترجمان پاک فوج کے مطابق جامع فریم ورک، قومی سلامتی کے پہلوؤں پر باہمی روابط کو تسلیم کرتی ہے۔ قومی سلامتی پالیسی ابھرتے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ناگزیر ہے۔ حکومت نےعالمی صورتحال دیکھتےہوئے پالیسی تشکیل دی۔ افواج پاکستان قومی سلامتی پالیسی کے وژن کے مطابق کرداراداکریں گی۔

    اس سے قبل وفاقی کابینہ نے ایک تاریخی اقدام کے طور پر شہریوں پر مرکوز ملک کی پہلی جامع قومی سلامتی پالیسی کی منظوری دے دی ہے جس کی بنیاد اقتصادی سلامتی پر مبنی ہے۔

     

     

     

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری کے ہمراہ مشترکہ میڈیا بریفنگ میں کابینہ اجلاس کے فیصلوں کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے مشیر برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف نے کہا کہ گزشتہ روز قومی سلامتی کمیٹی کی جانب سے قومی سلامتی پالیسی (این ایس پی) کی توثیق کے بعد کابینہ نے اس کی منظوری دے دی ہے۔ میں اس کامیاب کوشش پر پوری قوم کو مبارکباد پیش کرنا چاہتا ہوں کیونکہ اگر کسی ملک کا قومی سلامتی کا وژن غیر واضح ہے تو اس کے تحت پالیسی بنانا بہت مشکل ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ اس پالیسی میں قومی سلامتی کے مجموعی پہلوؤں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے اور وزیر اعظم کی قیادت میں یہ ضابطہ بندی کی گئی ہے کہ اقتصادی سلامتی پالیسی کا بنیادی مرکز ہوگی۔ مضبوط معیشت دفاعی اور انسانی سلامتی پر مزید اخراجات کو یقینی بنا سکے گی۔ بیرونی اقدامات کے حوالے سے پالیسی کا مقصد ’’امن‘‘ہے۔

    نیشنل سکیورٹی پالیسی کے تحت قومی ہم آہنگی کے لئے ملک نے اپنے ثقافتی اور نسلی تنوع کے سب سے اہم پہلو کی نشاندہی کی ہے، اس حوالے سے قومی اتحاد قائم کیا جانا چاہئے۔ ہم ایک اسلامی ریاست ہیں اور اسلامی ملک کا نظریہ رکھتے ہیں لہذا قومی ہم آہنگی کے پالیسی پہلوؤں کو ملک کے تنوع پر مرکوز ہونا چاہئے، تنوع کے تمام پہلوؤں کو پالیسی کے دیگر عناصر کے ساتھ ساتھ لیا جائے گا۔

    مشیر قومی سلامتی کا کہنا تھا کہ نیشنل سکیورٹی پالیسی کے انسانی تحفظ کے پہلوؤں کی بنیادی توجہ آبادی ہے جو تحفظ صحت، آب و ہوا اور پانی، خوراک کی حفاظت اور صنف کے متعلق ہے۔ جہاں تک اقتصادی سلامتی کا تعلق ہے، اس پالیسی نے اس پر مناسب بحث کی ہے۔ پاکستان کی دوسری اہم تشویش معیاری انسانی وسائل کی تیاری ہے جو کہ مقامی سطح پر معیشت پر حتمی اثرات مرتب کرے گی، مزید برآں اقتصادی تحفظ کے باب میں بھی بات چیت کی گئی، پالیسی کے دیگر عناصر خودمختاری، علاقائی سالمیت پر روشنی ڈالتے ہیں جو دفاع اور فوجی سلامتی سے متعلق ہے۔

    انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی پالیسی کی تشکیل کا عمل 2014 میں دوبارہ شروع ہوا جو 7 سال میں مکمل ہوا کیونکہ اس میں بہت سی حساسیتیں اور پیچیدگیاں تھیں جبکہ اس عمل میں بڑے پیمانے پر گفت و شنید کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ تمام وفاقی وزارتوں اور صوبوں کے چار راؤنڈ کئے گئے ہیں جہاں انہوں نے گزشتہ سالوں میں ان پٹ دیا ہے۔ سول ملٹری قیادت اور اداروں نے مل کر کام کیا اور تمام سٹیک ہولڈرز کے اتفاق رائے کے بعد دستاویز کی منظوری دی گئی۔

    ڈاکٹر معید یوسف نے نجی شعبے، تعلیمی اداروں اور ماہرین کی عدم شرکت کے حوالے سے تنقید کے بارے میں کہا کہ 2014 سے تعلیمی اداروں، یونیورسٹیوں کے طلباء اور نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے 600 سے زائد پاکستانی ماہرین نے پالیسی بنانے کے لئے اپنا کلیدی ان پٹ فراہم کیا۔ یہ ایک بھرپور مشاورتی عمل تھا جہاں اس دستاویز کے ایک ایک لفظ پر وسیع بحث کی گئی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وزیر اعظم نے ہدایت کی ہے کہ قومی سلامتی ڈویژن (این ایس ڈی) پالیسی کے نفاذ اور اس حوالے سے درپیش درپیش مسائل کے بارے میں این ایس سی کو ماہانہ بنیادوں پر آگاہ کرے گا۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ یہ اجتماعی طور پر ایک خفیہ دستاویز ہوگی لیکن اگلے ہفتے یا دس دنوں میں وزیر اعظم کی جانب سے مکمل عوامی ورژن جاری کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی میں قومی سلامتی اور قومی معیشت کے باب شامل ہیں، اس حوالے سےجتنا زیادہ بحث کی جائے گی اتنا ہی بہتر ہوگا۔

    انہوں نے پوری قوم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں میں اپنے تمام ساتھیوں، سول اور مسلح افواج کی قیادت کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہوں گا جنہوں نے اہم کردار ادا کیا۔

    ڈاکٹر معید نےمختلف سوالات کے جواب میں کہا کہ قومی سلامتی پالیسی ایک چھتری ہے جس میں معاشی، انسانی، داخلی، فوجی اور دیگر سیکورٹی خدشات جیسے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ پیر کو وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی (این ایس سی) کا اجلاس ہوا جس میں ملک کی پہلی قومی سلامتی پالیسی کی منظوری دی گئی۔

    اجلاس کے دوران پاکستان کی پہلی قومی سلامتی پالیسی 2022-2026 کو قومی سلامتی کے مشیر نے منظوری کے لیے پیش کیا۔ اجلاس میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی، وزیر دفاع پرویز خٹک، وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری، وزیر داخلہ شیخ رشید احمد، وزیر خزانہ شوکت ترین، وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، تمام سروسز چیفس، قومی سلامتی کے مشیر اور دیگر اعلیٰ سول اور فوجی حکام نے شرکت کی۔

  • سندھ حکومت صرف اتنا ہی بتادےکہ 1150 ارب کہاں خرچ کرتے ہیں‌:ایم کیوایم نے پوچھ لیا

    سندھ حکومت صرف اتنا ہی بتادےکہ 1150 ارب کہاں خرچ کرتے ہیں‌:ایم کیوایم نے پوچھ لیا

    کراچی :سندھ حکومت صرف اتنا ہی بتادےکہ 1150 ارب کہاں خرچ کرتے ہیں‌:ایم کیوایم نے پوچھ لیا ،اطلاعات کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما خواجہ اظہار الحسن نے سوال کیا کہ سندھ حکومت کو 1150 ارب روپے ملتے ہیں لیکن یہ کہاں خرچ کئے جارہے ہیں.

    کراچی میں تاجر برادری کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ سندھ حکومت کو 900 ارب روپے وفاق سے اور 250 روپے کراچی سے سالانہ ملتے ہیں، یہ 1150 ارب روپے کہاں خرچ کئے جارہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے ایم کیوایم سے بات کی ہے، ہم انکے اس دعوے کو مسترد کرتے ہیں۔

    ایم کیو ایم رہنما نے کہا کہ انہوں نے ساڑھے تین منٹ میں بل پاس کیا، ہم کہتے ہیں کوئی بھی بات کرنے سے پہلے یہ بل منسوخ کیا جائے، ہم تاجر برادری کی یہاں آمد پر انکے شکر گزار ہیں۔تاجر برادری نے کہا کہ میں سندھ حکومت کے نافذ کردہ قانون کو مسترد کرتا ہوں، میں مطالبہ کرتا ہوں کے میئر کو مکمل با اختیار کیا جائے۔

    انہوں نے کہا کہ پورے کراچی کی حالت بہت بری ہے، اگر یہ نہیں سنبھال سکتے تو کراچی کو الگ صوبہ بنا دیا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں تو افسوس کرنے کو بھی دل نہیں کرتا، اب جہاد کرنے کا وقت ہے، اس شہر کراچی کے مسائل کو حل کرنے کے لئے اب ہم سب کو یکجا ہونا پڑے گا۔

    تاجر برادری نے کہا کہ اظہار الحسن نے اعداد و شمار بتائے کہ کس طرح کراچی کے ساتھ زیادتیاں ہورہی ہیں، میں تمام تاجر بھائیوں سے کہتا ہوں کہ سب اکٹھے ہوکر جدوجہد کریں۔