Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • سی ٹی اولاہور کی طرف سے وارڈنز کوتعریفی اسناد اور نقد انعامات تقسیم کئے گئے

    سی ٹی اولاہور کی طرف سے وارڈنز کوتعریفی اسناد اور نقد انعامات تقسیم کئے گئے

    سی ٹی او کیپٹن(ر)لیاقت علی ملک کی طرف سے بہترین ڈیوٹی پر 144 وارڈنز کو تعریفی اسناد اور نقد انعامات تقسیم کئے گئے،سٹی ٹریفک پولیس میں کارکردگی کی بنا پر ہر ہفتے سینکڑوں وارڈنز کو انعامات دیئے جا رہے ہیں، اس حوالے سے سی ٹی او کیپٹن(ر)لیاقت علی ملک کا کہناتھاکہ ٹریفک وارڈنز کوتعریفی اسناد سے نوازنے کا مقصد ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ان کے مورال کو مزید بڑھانا ہے۔

    سی ٹی او لاہور نے باہمی رضامندی پر 25 پٹرولنگ افسران، وارڈنز، ٹریفک اسسٹنٹس کے تبادلے کر دیئے، وارڈنز کو ان کے من پسند ٹریفک سیکٹرز میں تعینات کر دیا گیا،سٹی ٹریفک پولیس میں وارڈنز کی تعیناتی کیلئے کم از کم چھ ماہ کا عرصہ درکار ہے،ٹریفک سیکٹر میں چھ ماہ گزر کے بعد وارڈنز نئی تعیناتی کیلئے درخواست دے سکتے ہیں، سی ٹی او کیپٹن(ر)لیاقت علی ملک کا کہنا تھا کہ ٹرانسفر پوسٹنگ کیلئے وارڈنز کو کسی قسم کی سفارش کی ضرورت نہیں، سٹی ٹریفک پولیس میں حقیقی میرٹوکریسی پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے، علاوہ ازیں وارڈنز کی ویلفیئر پر خاصی توجہ دی جا رہی ہے۔

  • مختلف شاہراہوں پر بارش کا پانی جمع ہونے کی وجہ سے عوام متاثر

    مختلف شاہراہوں پر بارش کا پانی جمع ہونے کی وجہ سے عوام متاثر

    مختلف شاہراہوں پر بارش کا پانی جمع ہونے کے باوجود وارڈنز ٹریفک کی روانی کو یقینی بنانے میں مصروف رہے۔صبح سویرے ہونے والی بارش کے باعث شہرکی مصروف شاہراو¿ں اور چوکوں ریلوے اسٹیشن، اچھرہ، جی ون مارکیٹ اور نواز شریف چوک،مال روڈ،قینچی چونگی فیروز پور روڈ،ڈیوس چوک اور لاہور پریس کلب چوک میں پانی کھڑا رہا،جس پر سی ٹی او لاہور نے ڈویڑنل افسران کو واسا انتظامیہ سے مسلسل رابطے میں رہنے کی ہدایت کی،ڈی ایس پیز خود چوکوں میں موجود رہتے ہوئے ٹریفک کو رواں دوان رکھتے رہے۔

  • محب وطن بلوچ کی ہلالی پرچم سے وفا … عبدالحمید صادق

    محب وطن بلوچ کی ہلالی پرچم سے وفا … عبدالحمید صادق

    جب محبت اپنے عروج کو پہنچتی ہے تو پھر اس کی راہ میں بڑی سے بڑی رکاوٹ بھی زیر ہو جایا کرتی ہے….. ایسا ہی کچھ معاملہ بلوچوں کے دلوں کی دھڑکن، محب وطن بلوچ رہنما جناب سراج رئیسانی شہید کا تھا، وہ وطن کی محبت میں مارے مارے پھرتے تھے، ان کا جینا مرنا پاکستان کے لیے تھا.
    اپنے ہر پروگرام اور سفر میں سبز ہلالی پرچم کو اپنے ساتھ رکھتے تھے….. یوں محسوس ہوتا تھا کہ جیسے اس پرچم کے بغیر ان کی زندگی نامکمل ہے…… اور واقعتاً یہ بات حقیقت ثابت ہوئی.
    انہوں نے پاکستان کی محبت میں ڈیڑھ کلو میٹر لمبا جھنڈا بنوایا اور ان کی یہ خواہش تھی کہ یہ جھنڈا بلوچستان کے بلند و بالا پہاڑوں پر اس انداز سے لہرایا جائے کہ دور سے آنے والے لوگوں نظر آئے اور وطن دشمنوں کو للکارے.
    بلوچستان کہ جہاں اس قدر وطن دشمن تنظیمیں موجود ہوں، وہاں پاکستان کا جھنڈا اتنی دلیری سے لہرانا کوئی عام بات نہیں کیونکہ ایک وقت تھا کہ وہاں پاکستان کا نام لینے والوں کو گولی مار دی جاتی تھی.
    افسوس کہ انڈین فنڈڈ بی ایل اے نے سراج رئیسانی کو شہید کر دیا لیکن یہ جھنڈا اس کے بعد ان کے بہادر بیٹے جمال رئیسانی نے اس پہاڑی پر لگا کر اپنے والد کی خواہش پورا کر دیا ایسا بہادر بلوچوں اور افواج پاکستان کی قربانیوں کی وجہ سے آج دشمن کی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری تباہ ہو گئی۔
    وہ بلوچستان کہ جہاں لوگ عدالتوں میں کھڑے ہو کر پاکستان مخالف نعرے لگاتے تھے آج وہی نادانی میں بھٹک جانے والے بلوچ جوق در جوق ریاست پاکستان کو تسلیم کر کے پہاڑوں سے اتر کر ، ہتھیار پھینک کر پاکستان کا جھنڈا لہرا رہے ہیں۔
    ان کے بیٹے جمال کا کہنا ہے کہ بابا کی یہ خواہش تھی کہ وطن کی محبت میں جان قربان کر جاؤں اور وہی ہوا کہ بابا جان کو پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانے اور سبز ہلالی پرچم لہرانے کی پاداش میں شہید کیا گیا اور ہمیں اس بات پر فخر ہے.
    آج وہی بلوچستان ہے کہ جس میں دشمن کی مسلسل سازشوں کی وجہ سے پاکستان کا نام لینا بھی مشکل تھا آج وہاں محب وطن بلوچوں اور افواج پاکستان کی کوششوں اور قربانیوں کی وجہ سے ہر شخص وطن پر جاں نچھاور کرنے کو تیار ہے.
    اللہ تعالٰی دشمن کی سازشوں کو ناکام کرے اور جناب رئیسانی کی اس عظیم قربانی کو قبول فرمائے. آمین
    ہم تو مٹ جائیں گے اے ارض وطن لیکن
    تم کو زندہ رہنا ہے قیامت کی سحر ہونے تک

  • بھارت … ذرا سوچ سمجھ کر …

    بھارت … ذرا سوچ سمجھ کر …

    ویسے تو بھارت خطے میں ایشین ٹائیگر بن کر نہ صرف پاکستان بلکہ چین کو بھی ناکوں چنے چبوانے کا خواہشمند ہے مگر زمینی حقیقت پر غور کیا جائے تو حقائق اس کے بلکل برعکس ہیں۔ بھارتی الیکشن ہوں یا پاکستان کسی سیاسی بحران کا شکار۔ بھارت نے ہمیشہ بمبئی حملے، سمجھوتہ ایکسپریس اور پلوامہ جیسے گھناونے کھیل کھیلے اور اس کے فورا بعد بھارتی میڈیا اپنے ٹوپی ڈرامے شروع کر دیتا ہے۔ بھارتی میڈیا بھارت کو دنیا کی ہیبت ناک جنگی طاقت اور تیسری بڑی فوجی قوت قرار دیتا ہے۔ مگر حقائق اس کے برعکس ہیں۔

    1948 کی کشمیر جنگ ہو ۔ 1965 کی جنگ ہو۔ کارگل ہو۔ سرحدی جھڑپیں ہوں یا حالیہ فلاپ ایئر سڑائکس بھارتی فوج کو ہمیشہ منہ کی کھانا پڑی ہے ۔ یہاں تک کہ جنگ کے محاذ پر بھی مار کھائی اور انفارمیشن وار فیر میں بھی مار کھائی۔ بھارتی فوج کے پاس موجود اسلحہ نہ صرف میوزیم میں رکھنے کے قابل ہے بلکہ بھارتی فوجی خود بھی بدحالی کا شکار ہے. یہی وجہ ہے کہ بھارتی فوج میں اوسطا سالانہ 113 اور ماہانہ 9 اہلکاراپنی زندگی کا خاتمہ کررہے ہیں ۔ جس کی وجہ ان کی کسمپرسی اور مورال کا فقدان ہے۔ اکثر بھارتی فوجیوں کو جنگی محاذ پر کھانے کے لیے دو وقت کی روٹی تک نہیں مل پاتی ۔ بھارتی ہواباز پاکستانی ایف 16 اور جے ایف 17 تھنڈر کا سامنا کرنے سے ایسے گھبراتے ہیں جیسے کوا غلیل سے ۔ کبھی انکا سربجیت پکڑا جاتا ہے تو کبھی ابھی نندن چائے پینے یہاں چلا آتاہے۔کیونکہ
    The tea is fantastic
    بھارت کے زیر قبضہ کشمیر سے روز اطلاعات آتی رہتی ہیں کہ اتنے فوجی فلاں نہتے نوجوان نے مار دیے ۔ توکبھی فوج کے کمیپوں میں گھس کر مجاہدین نے قیامت برپا کر دی۔ جوکہ بزدل بھارتی فوج کی پیشہ ورانہ مہارت کے حوالے سے ذلت آمیز سوالیہ نشان ہے۔ بھارت کے چالیس فیصد میزائل تجربات کی ناکامیاں ان کی نا اہلیوں کا واضح ثبوت ہیں۔

    مزید پڑھیئے: تحریک انصاف کا بجٹ بم ۔۔۔ کپتان اجازت دے تو تھوڑا سا گھبرا لیں … نوید شیخ

    کاش ۔۔۔ پاکستان کو عبرتناک سبق کی دھمکیاں دینے والا بھارتی میڈیا خواب خرگوش سے باہر آ کر پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی کے کرشمات دیکھے تو ان کے ہوش ٹھکانے آجائیں گےاور یہی میزائل ایٹمی وارہیڈ لے جانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔دہلی،کولکتہ ، مدراس ، ممبئی سمیت شاید ہی بھارت کا کوئی شہر۔ قصبہ ۔ ٹکڑا یا جزیرہ ہو جو پاکستانی میزائلوں کی زد میں نہ ہو۔ بھارت کی
    Cold start doctrine کو پہلے ہی پاکستانیtactical nuclear arms کی بدولت
    old start doctrine بن چکی ہے ۔ جس کا اعتراف بھارتی فوج کے چیف وی کے سنگھ پہلے ہی کر چکے ہیں ۔ پاکستانی مسلح افواج کو جن چیلنجز کا سامنا ہے وہ کوئی راز نہیں ۔ پاکستانی فوج کے اخراجات بھارتی فوج کے مقابلے میں تقریباً ایک چوتھائی سے بھی کم ہیں۔ مگر دہشتگردی کے خلاف جنگ ہو یا روایتی دشمن بھارت کی جانب سے جارحیت کا مظاہرہ پاک فوج ہمیشہ سرخرو ہوئی ہے۔ جس طرح پاک فوج نے سوات۔ شمالی اور جنوبی وزیر ستان سے دہشتگردوں کا خاتمہ کیا ہے پوری دنیا اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ پاک افواج ایک battle hardened فوج ہے۔

    مزید پڑھیے : عثمان بزدار کے کارنامے ۔۔۔نوید شیخ

    ماہرین کے مطابق اگر بڑی جنگ چھڑ جائے تو بھارت جنگ میں مصروف اپنی فوج کو زیادہ سے زیادہ 10 روز تک اسلحہ اور گولہ بارود فراہم کرسکتا ہے۔ بھارتی فوج کے پاس موجود 68 فیصد اسلحہ اور آلات بہت پرانے ہیں۔ بھارتی ایئر فورس کے جہاز اڑتے تابوت ہیں جواکثر اپنے وزن سے آپ ہی گرتے رہتے ہیں . یہ جہاز کسی بھی لحاظ سے ایف سولہ تو ایک طرف جے ایف 17تھنڈر کا ہی مقابلہ نہیں کر سکتے جبکہ پاکستان کے پاس دنیا کے بہترین پائیلٹ موجود ہیں۔ ہیومن ریسورس اور ٹریننگ کے لحاظ سے پاکستان اور بھارت کی فوج کا کوئی مقابلہ بنتا ہی نہیں ہے۔

    مزید بڑھیے: عمران خان پر چارج شیٹ ۔۔۔ نوید شیخ

    اگر بھارتی نیوی پر نظر ڈالی جائے تو آپ کو آئے روز خبریں ملیں گی کہ وہ اپنے ہی جہاز اور آبدوزوں کو اُڑانے میں مصروف ہیں۔ کبھی بھارتی نیوی کے شرمناک اسکینڈل سامنے آتے ہیں تو کبھی انکی کھڑی نیوکلیئر آبدوز چھوٹی سی غلطی کے سبب سمندر برد ہو جاتی ہے ۔ مگر اس سب کے باوجود بھارت اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہیں آتااور پاکستان کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا ۔ بلوچستان میں دہشتگردی ہو یا عالمی سطح پر پاکستان کو بدنام کروانے کی سازش ہر معاملے کے پیچھے بھارت ہی نظر آتا ہے ۔ ان تمام محاذوں پر بھی بھارت کے مقدر میں سبکی ہی ہے ۔ اس سال کے آغاز میں بھارتی دھمکیوں کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا تھا کہ
    ” انڈیا کو جو چیز روک رہی ہے وہ ہماری قابل بھروسہ جوہری صلاحیت ہے تاہم وہ ہمارا عزم آزمانا چاہتا ہے تو آزما لے لیکن اس کا نتیجہ وہ خود دیکھے گا”
    بے شک اس فوج کی وجہ سے ہی یہ ملک محفوظ اور قائم ودائم ہے ۔
    پاک فوج زندہ باد
    پاکستان پائندہ باد

    اپنی رائے دینے کے لیے ای میل کریں
    naveedsheikh123@hotmail.com

    ٹویٹر پر فالو کریں

  • مجھے کامیابی ناکامی سے کوئی مطلب نہیں ہے

    مجھے کامیابی ناکامی سے کوئی مطلب نہیں ہے

    بھارتی اداکارہ راکل پریت سنگھ کہتی ہیں کہ مجھے کامیابی یہ ناکامی سے کوئی فرق نہیں پڑتا میں صرف اچھا کام کرنا چاہتی ہوں.
    اداکارہ راکل پریت سنگھ بالی وڈ کے لیے نئی لیکن جنوبی بھارت کی فلم انڈسٹری کے بڑے اداکاروں میں شامل ہیں اور کچھ عرصہ پہلے ہی انہوں نے اجے دیوگن کے ساتھ فلم ’دے دے پیار دے‘ میں کام کیا ہے جس میں وہ مرکزی کردار ادا کر رہی ہیں.
    دلی یونیورسیٹی سے تعلق رکھنے والی راکل پریت سنگھ کو بچپن سے ھی فلموں کا شوق تھا پنجابی آرمی آفیسر کے گھر پیدا ہونے والی راکل پریت سنگھ نے 18 سال کی ہی عمر میں ہی ماڈلنگ کرنا شروع کر دیا تھا.
    کہا جاتا ہے کہ راکل پریت سنگھ نے جنوبی بھارت کی فلموں سے اپنے فلم کیرئر کا آغاز کیا ہے. لیکن راکل پریت سنگھ نے ایک انٹرویو میں بتایا کے ان کی پہلی فلم ہندی یاریاں تھی.
    راکل پریت سنگھ نے کیا ہے کہ کامیابی ہویہ ناکامی مجھے ان باتوں سے کوئی مطلب نہیں ہے .
    مجھے بس اپنی فلم کی رلیز سے مطلب ہے کہ وہ کدھر کدھر رلیز ہو رہی ہے.
    راکل پریت سنگھ کہتی ہیں کہ مجھے بس کیمرے کے سامنے رہنا پسند ہے مجھے پیسے سے کوئی مطلب نہیں ہے اور نہ ہی میں پیسے کے لیے کام کرتی ہوں

  • مائرہ خان نے کیا پنجابی گانے پر ڈانس

    مائرہ خان نے کیا پنجابی گانے پر ڈانس

    مائرہ فلم کی دنیا میں تو ویسے سب کے دلوں پر راج کرتی ہی ہیں لیکن انہوں نے پنجابی گانے پر ڈانس کر کہ اج سب کو دیکھا دیا ہے کہ وہ ایک اچھی ڈانسر بھی ہیں.
    مئراہ نے ایک پنجابی گانے پر ویڈیو بنا کر اپلوڈ کی جو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے بہت سے لوگ بہت شوق سے دیکھ بھی رہے ہیں اور اگئے بھی شیئر کر رہیے ہیں.
    ویڈیو میں مئرہ کے ساتھ بلال بھی اپنا جلوہ دیکھاتے ہوے نطر آہ رہے ہیں بلال تو کچھ ہی دیر میں پیچھے ہٹ گئے لیکن کافی دیر تک اپنی اداوں کا جلوہ دیکھاتی رہیتی ہیں.
    maira-khan-ka-punjabi-dance
    یاد رہے کہ ڈانس کی ویڈیو مائرہ اور بلال کی عید الضحیٰ پر انے والی نئی فلم سپر سٹار کی شوٹینگ کے درمیان بنائی گئی تھی امید ہے کہ فلم بھی گانے کی طرح سب کے دلوں پر راج کرے گی

  • باجی بنی انویسٹر

    باجی بنی انویسٹر

    فلم میرا یعنی باجی جس کی کاسٹ میں آمنہ الیاس، اسامہ خالد بٹ ،علی کازمی، محسن عباس ،نیر اعجاز ،نشو ،اور باجی یعنی میرا شامل ہیں
    اس فلم میں ساری کاسٹ ایک طرف اور میرا جو کہ اس فلم کا ٹایٹل رول ادا کر رہی ہیں ایک طرف کیونکہ ساری فلم میں آپ کو باجی باجی ےیعنی میرا ہی نظر آیے گی کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ فلم باجی کی انویسٹر خود میرا ہی ہیں اس کا اندازا لوگوں کو تب ہوا جب ،اے ار وای، کے مارنگ شو میں فلم کی پرموشن کے لیے ساری کاسٹ اور فلم کے ڈائرئکٹر ثاقب ملک بھی آئے تو ثاقب ملک نے ایک انقشاف کیا کہ میں پچھلے 15 سال سے فلم بنانے کی کوشیش کر رہا تھا انہوں نے یہ بھی یہ کہا کہ کئی سین شوٹ کرتے ہوئے میرا نے میری مدد کی کہ کون سا سین کتنا وایڈ ہونا چاہیے اور کتنا ٹایٹ ہونا چاہیے ثاقب ملک جو کہ بڑے مانے ہوئے ویڈیو ڈائریکٹر ہیں کیا انہوں نے پندرہ سالوں میں فلم بنانے کی یہ تیاری کر رکھی تھی کہ سیٹ پر ان کو کوئی دوسرا بتا رہا ہے کہ سین کو شوٹ کس طرح سے کرنا ہے ایک تو میرا یعنی باجی نے یہ ثابت کر دیا کہ تم ٹی وی والوں کو کیا پتا کی فلم کیسے شوٹ کرتے ہیں اور اتنے مانے جانے والے ویڈیؤ ڈائریکٹر خوشی سے ان کی بات مانتے رہے یا تو انہوں نے کہی اندر اپنے اپ میں یہ تسلیم کر لیا تھا کہ واقع ہم ٹی وی والوں کو فلم شوٹ کرنا نہیں آتی یہ پھر وہ باجی یعنی میرا جی کی بات اس لیے مان رہے تھے کہ وہ خود اس فلم کی انویسٹر ہیں اس لیے ساری فلم میں خود باجی یعنی میرا جی خود دیکھائی دے رہی ہیں اور باقی ساری کاسٹ صرف سپورٹینگ کاسٹ کے طور پر کام کرتی ہوئی دیکھائی دے رہی ہے صرف نیر اعجاز کے علاوہ فلم دیکھنے والوں کو کسی نے متاثر نہیں کیا وہ بھی اس لیے کہ نیر اعجاز فلم سے ہیں باقی سب لوگ ٹی وی سے ہیں اور ایک دفع پھر ٹی وی والوں نے فلم دیکھنے والوں کو بہت مایوس کیا اور اس فلم کے میوزک نے بھی فلم کو زرہ سپارٹ نہیں کیا جیسا کہ دیکھا گیا ہے اس خطے میں ہٹ ہونے والی فلموں کی کہانی اچھی اور موسیقی بہت دل آویز ہوا کرتی تھی جس کی وجہ سے لوگ فلم دیکھ کر محظوظ ہوا کرتے تھے اور بار بار اس فلم کو دیکھنے کے لیے سینما گھروں میں اتے تھے مگر اب ایسا نہیں ہوتا نہ کوئی آچھی کہانی لکھنے والے کو ترجح دیتا ہے اور نہ ہی اچھی موسیقی یعنی فلم کی موسیقی ترتیب دینے والے کے پیچھے کوئی جاتا ہے فلم کا گانا بھی سکرپٹ کا ایک حصہ ہوتا ہے جو کہانی کو لے کر آگے چلتا ہے فلم کے گانے میں جو شعاری ہوتی ہیں وہ گانے سے پہلے والی کہانی کو گانے کے بعد والی کہانی سے جوڑتی ہے یہ ائک فلم والا ہی سوچ سکتا ہے کہ گانے کی سچویشن کیسے بنانی ہے جبکہ ٹی وی والوں کو یہ بات سمجھ نہیں آتی اسی لیے فلم باجی کا کوئی گانا لوگوں کے کانوں سے ہوتا کی دلوں میں نہیں اترا اس فلم کی موسیقی دینے والوں نے کچھ پرانی لائن اور پرانی دھنوں کو ہی ری ڈو کر دیا کیا ہمارے پاس اسے موسیقار یہ شاعر موجود نہیں جو کسی بھی فلم کے لیے نئے گانے بنا سکیں وسے ثاقب ملک کی پندرہ سال کی محنت یہ رنگ لائے گی کیا انہوں نے ایسا سوچا ہوگا لہازا ہماری پنجابی فلم کا مزاق اڑاتے تھے یہ اڑاتے ہیں وہ اپنے فلم دیکھنے والوں کی تعداد اتنی تو بنا لیں جتنی پنجابی فلم دیکھنے والوں کی تھی
    اگر اپ کو فلم بنانے کا اتنا ہی شوق ہے تو فلم بنایئں ضرور بنایئں اپنے پیسوں سے بنایئں یہ کسی کے پیسوں سے بنایئں ایک بات کا خیال رکھیں کہ اپنے کام کے ساتھ انصاف ضرور کریں جو لوگ اپنی محنت کی کمائی سے ٹکٹ لے کر آپکی فلم دیکھنے اتے ہیں خدارا انکو مایوس مت کریں .
    فلم ماڈرن ہے اس میں کوئی شک نہیں لیکن ثاقب ملک کو چاہیے کہ وہ بھی سینما میں بیٹھ کر فلمیں دیکھا کریں گھر میں ٹی وی پر فلم دیکھنے سے کبھی نہیں پتا چلے گا کہ فلم کیسے بناتے ہیں
    ارتضیٰ بنی میرا ،میرا بنی باجی (ثاقب کی ) اور باجی ارتضیٰ سفر دوبارہ شروع .
    پرانی فلموں میں ہسپتال کی نرس کا کردار ماں نبھاتی تھی لیکن اب ہیرون بنی باجی
    جہان ثاقب ملک کو خاص طور پر ناظرین سے معافی مانگنی چاہیے جو سر میں درد لے کر اٹھے وہاں ایس سلمان اور مرحومہ نیر سلطانہ کی قبر پر جا کر بھی معافی مانگنی چاہیے .
    ثاقب ملک نے باجی ٹائٹل کے ساتھ وہی سلوک کیا جو کچھ عرصہ پہلے مومنہ اور آحد رضا میر نے ،کوکو کورینا، کے ساتھ کیا لہازا میں اپنے حصے کی پیناڈول کھانے جا رہا ہوں

  • کھیل کے میدان میں نفرت کی جنگ ۔۔۔ طارق محمود عسکری

    کھیل کے میدان میں نفرت کی جنگ ۔۔۔ طارق محمود عسکری

    گزشتہ ہفتہ کے روز پاکستان اور افغانستان کے درمیان کرکٹ ورلڈ کپ کا میچ کھیلا گیا دونوں ملکوں کے کرکٹ شائقین نے انتہائی دلچسپی اور جوش و خروش سے اپنی اپنی ٹیموں کو نعرے بازی اور جھنڈے لہرا کر سپورٹ کیا اس میچ کے دوران لڑائی جھگڑے کے چند ایک ناخوشگوار واقعات بھی پیش ائے۔ ویسے تو اس طرح کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں خاص طور پر چند یورپی ممالک کی فٹ بال ٹیموں کے درمیان اسٹیڈیم میں لڑائی مار کٹائی کے واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں لیکن گزشتہ کرکٹ میچ کے دوران اسٹیڈیم کے اندر اور باہر پاکستانی شائقین پر تشدد کے واقعات بلکل الگ نوعیت کے ہیں کیونکہ ان واقعات میں ملوث پشتون قوم کی نام نہاد نمائندہ جماعت پی ٹی ایم ہے جس نے انتہائی منصوبہ بندی کے تحت پروپیگنڈہ کرنے اور مارکٹائی کے لیے کرکٹ میچ کو منتخب کیا۔ اسی میچ کے دوران ہوائی جہاز اسٹیڈیم کے اوپر سے گزرا جس کے پیچھے بینرز پر پاکستان مخالف تحریریں درج تھیں ان واقعات کے بعد پاکستانی عوام میں بھی افغانیوں کے خلاف شدید غم و غصہ پایا گیا اور سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کے خلاف نفرت انگیز پوسٹوں کا سلسلہ شروع ہو گیا جو تاحال جاری ہے پی ٹی ایم اس سے پہلے بھی پاکستان اور اس کی افواج کو اپنے زہریلے پروپیگنڈہ کا نشانہ بناتی رہی ہے اور اب تو مسلح کارروائیوں کا آغاز بھی کر دیا ہے جن میں سے ایک کا تزکرہ میں نے اپنے گزشتہ کالم میں کیا تھا۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا واقعی پی ٹی ایم کے پاس اتنے وسائل موجود ہیں کہ وہ یورپ اور امریکہ میں جا کر اس طرح کے متشدد پاور شو کر سکتی ہے؟ دراصل حقائق اس کے منافی ہیں کرکٹ میچ کے دوران لڑائی مارکٹائی، پاکستان مخالف نعرے بازی اور جہاز کے پیچھے بینرز لہرانا اس کے بس کی بات نہیں ہے بلکہ پی ٹی ایم کے جھنڈے تلے انڈین انٹیلیجنس ایجنسی راء اور افغانستان کی این ڈی ایس پاکستان کے خلاف نبرد آزما ہیں افغانیوں اور پاکستانی پختونوں سے بہادر، مہمان نواز اور وفادار قوم دنیا میں کہیں اور کوئی نہیں ہے دشمن (انڈیا، امریکہ، اسرائیل اور چند پچھلی صفوں میں شامل مسلم ممالک) اپنے اپنے مشترکہ مفادات کے حصول کے لیے چند پختونوں (پی ٹی ایم) کو خریدنے میں کامیاب ہو گئے ہیں اور ان کے چہرے کے پیچھے پاکستان کے خلاف سازشوں کے جال بچھائے جا رہے ہیں کرکٹ میچ میں بھی شرپسند افغانی، انڈین اور پی ٹی ایم کا بکائو مال تھا تاکہ پاکستانیوں کو پختونوں اور پختونوں کو پاکستانیوں کے خلاف کر کے نفرت کی آگ کو بھڑکایا جائے اور پاکستان میں قومیت اور فرقہ وارانہ فسادات شروع ہوں ایک بار پھر کہتا ہوں پاکستانی پختونوں اور افغانیوں سے زیادہ پاکستان کا وفادار اور کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔ لہذا پختونوں اور افغانیوں کو برا مت کہیں بلکہ پاکستانی اداروں کو پی ٹی ایم، این ڈی ایس اور راء کے خلاف اپنی کارروائیوں کو مزید موثر بنانا چاہیے۔ عین ممکن ہے کہ قارئین جس وقت میرا یہ کالم پڑھ رہے ہوں اس وقت پی ٹی ایم کے جھنڈے کے پیچھے امریکہ، اسرائیل، انڈیا اور افغانستان کی این ڈی ایس امریکہ میں قوام متحدہ کے دفتر کے سامنے پاکستان مخالف زہریلا احتجاجی مظاہرہ کر رہے ہوں جس میں ممکنہ طور پر مظاہرین ان پاکستانی سیاسی جماعتوں کے کارکنان بھی ہو سکتے ہیں جو اس وقت پی ٹی ایم کے نہاد لیڈروں کے پروٹیکشن آرڈرز کی فکر میں ہیں اور ان کو بہادر بچے کہتی ہیں۔ آخر میں پاکستانی قوم سے کہنا چاہتا ہوں کہ ہر پختون یا افغانی پی ٹی ایم نہیں ہے ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں اور پاکستان کے اصل دشمنوں انڈیا، امریکہ، اسرائیل، این ڈی ایس اور ان کے ایجنٹوں کو پہچانئے۔ دشمن پاکستان میں قومیت کی بنیاد پر اور فرقہ وارانہ فسادات چاہتا ہے آپ اس سازش کو ناکام بنائیں اور پاکستانی افواج کے ساتھ کھڑے رہیں۔
    پاکستان ذندہ باد

  • کیا ٹیم پاکستان ایک اور سرپرائز دے پائے گی ؟؟؟ اسد عباس خان

    کیا ٹیم پاکستان ایک اور سرپرائز دے پائے گی ؟؟؟ اسد عباس خان

    انگلستان کا موسم اور پاکستان کرکٹ ٹیم کی کارکردگی بارے پیش گوئی کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔ یہ کب °360 ڈگری کی پِھرکی لے نہ تو اعداد وشمار اور تیکنیک کی باریکیوں میں پھنسے تجزیہ نگار بتا سکتے ہیں نہ جدید ٹیکنالوجی "Unpredictable team” کی اس گتھی کو سلجھا سکتی ہے۔ ہونی کو انہونی اور ناممکن کو ممکن بنانا کوئی ان سے سیکھے، غیر متوقع نتائج دینے میں ٹیم پاکستان بین الاقوامی کرکٹنگ سرکل میں ہمشیہ بریکنگ نیوز کی صورت مرکز نگاہ رہتی ہے۔
    ورلڈ کپ سے قبل پہلے آسٹریلیا اور پھر انگلینڈ کے خلاف ایک روزہ بین الاقوامی میچز کی لگا تار دو سیریز وائٹ واش ہو گئے۔ ورلڈ کپ وارم اپ میچ میں افغانستان کی بے نام (بے بی) ٹیم سے ہار گئے۔ اس مایوس کن کارکردگی پر شائقین کرکٹ پریشان تو تھے ہی، رہی سہی کسر ویسٹ انڈیز کے خلاف نکل گئی جب گرین شرٹس صرف 105 رنز پر ڈھیر ہو کر باآسانی سات وکٹوں سے شکست کھا گئے تو ورلڈ کپ میں کچھ اچھا کرنے کی سب امیدیں ٹوٹ گئیں۔ لیکن دنیا اس وقت حیرت زدہ رہ گئی جب ٹیم پاکستان نے 3 جون کو نوٹنگھم کے کرکٹ گراؤنڈ پر اس ورلڈ کپ کی "موسٹ فیورٹ” اور ورلڈ نمبر ون انگلینڈ کو گھر میں گھس کر مار دیا تو امیدوں کے چراغ ایک بار پھر روشن ہو گئے۔ 7 جون کو سری لنکا بمقابلہ پاکستان برسٹل کے کرکٹ گراؤنڈ میں جیت بارش کے نام درج ہوئی اور 16 جون کو ورلڈ کپ کے سب سے بڑے مقابلے میں ہندوستان سے بری ہار پر ہر کوئی اس ٹیم کو کوسنے لگا اور معاملات کھیل سے نکل کر کھلاڑیوں کی ذاتیات اور ان کے اہل خانہ پر گالم گلوچ تک پہنچ گئے۔ غصیلے شائقین کرکٹ کا کپتان سرفراز احمد اور چیف سلیکٹرز سابقہ لیجنڈ انضمام الحق خاص طور پر نشانہ بنے۔ اور جب اگلا میچ آسٹریلیا سے بھی ہارا تو شائقین کرکٹ کا غم و غصہ بجا تھا لیکن۔۔!
    سوشل میڈیا سے ریگولر میڈیا تک عوام، ریٹائرڈ سابقہ پلیئرز، تجزیہ نگار، سیاست دان غرض ہر کوئی اپنے دل کی بھڑاس نہایت منفی انداز میں نکالنے لگے جو من حیث القوم ہمارے لیے واقعی قابل تشویش بات ہے۔ پوائنٹس ٹیبل پر پاکستان سے نیچے صرف افغانستان کی ٹیم تھی اور ٹیم پاکستان کا ورلڈ کپ میں سفر تمام ہونے کے تبصرے شروع ہو چکے تھے۔ جبکہ کچھ سر پِھرے اب بھی 92 کے ورلڈ کپ کے ساتھ مماثلت ڈھونڈ ڈھونڈ کر اعلان کناں تھے۔ ٹویٹر پر کسی دیش بھگت نے لکھا کہ میری والدہ بتاتی ہیں جب 92 میں پاکستان اپنا پانچواں میچ ہارا تھا تو اس دن ہم نے ٹینڈے پکائے ہوئے تھے اور آج 2019 میں بھی پانچویں میچ کی ہار اور ٹینڈے ہی پکے ہیں۔
    اور پھر ابھی تک ہوا بھی کچھ یوں ہی ہے۔ شاہینوں نے اونچی پرواز لی اور 23 جون کو لندن کے تاریخی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ پر ساوتھ افریقہ کی ٹیم کو پھینٹا لگانے کے بعد 26 جون کو اب تک ورلڈ کپ میں ناقابل شکست نیوزی لینڈ کو بھی رگید ڈالا تو ایک بار پھر دنیا ورطہ حیرت تھی۔ لیکن ابھی عشق کے دو امتحان اور بھی ہیں افغانستان اور بنگلادیش کے خلاف باقی بچے دو میچز میں کامیابی حاصل کر کے ہی ٹیم پاکستان سیمی فائنل میں جگہ بنا سکتی ہے۔ جہاں بالخصوص بنگلادیش کے خلاف پوری طاقت لگانی ہو گی وہ ٹیم 2015ء ورلڈ کپ کے بعد سے شاندار کرکٹ کھیل رہی ہے۔ اور ٹیم پاکستان کو گزشتہ چار میچز میں لگا تار شکست کا مزہ بھی چکھا چکی ہے جہاں سال 2015ء میں اظہر علی کی کپتانی میں دورہ بنگلادیش پر تین ایک روزہ مقابلوں کی سیریز میں وائٹ واش کی خفت کا سامنا کرنا پڑا اور گزشتہ برس متحدہ عرب امارات میں ہونے والے ایشیاء کپ مقابلوں میں سرفراز احمد کی کپتانی میں شکست بھی شامل ہے۔ اس ورلڈ کپ میں بھی پوائنٹس ٹیبل پر ٹیم پاکستان کے برابر جبکہ نیٹ رن ریٹ کی بنیاد پر وہ ہم سے بہتر پوزیشن میں ہے۔ لیکن یہاں بھی اگر مگر کی صورتحال کا خطرہ بہرحال موجود ہے۔ انگلینڈ کو اپنے آئندہ دو میچز (بمقابلہ ہندوستان و بمقابلہ نیوزی لینڈ) میں سے کم از کم ایک میچ ہارنا بھی ہو گا۔ جو کہ پاکستان سے پِٹنے کے بعد سری لنکا اور آسٹریلیا سے بھی شکست کھا کر شدید مشکلات میں گھری ہوئی ہے۔
    کون کہاں کھڑا ہو گا یہ تو اگلے ہفتے ہی پتہ چلے گا البتہ دنیا اس بات کی قائل ہے کہ پاکستان کو جب بھی "Underestimate” کیا گیا تو ہمیشہ ٹیم پاکستان نے "Strike” کرتے ہوئے مخالف کو "Surprise” دیا ہے اور یہ رِیت کھیل کے علاوہ باقی شعبہ ہائے زندگی میں بھی شامل ہے۔
    1992ء کا ورلڈ کپ ہو یا 2017ء کی چیمپیئن ٹرافی ٹیم پاکستان ہمیشہ ایسے سرپرائز دینے کے لیے مشہور ہے۔ کیا اس بار بھی ایسا ہونے والا ہے۔۔۔۔ یا سرفراز دھوکہ دے گا۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟ چند روز تک سب سامنے آ جائے گا لیکن ایک بات تو طے ہے "تم جیتو یا ہارو سنو ہمیں تم سے پیار ہے” کے نغمے گاتے شائقین کرکٹ کو اس ٹیم سے بے لوث محبت ہے۔

  • بوم بوم کے بعد ایک اور آفریدی کی دھوم ۔۔۔ سلمان آفریدی ۔۔۔

    بوم بوم کے بعد ایک اور آفریدی کی دھوم ۔۔۔ سلمان آفریدی ۔۔۔

    ساؤتھ افریقہ اور نیوزی لینڈ کو شکست دینے کے بعد پاکستان کی کرکٹ ٹیم ایک بار پھر دنیا میں ہونے والے چرچوں کا موضوع بن چکی ہے۔ پاکستان بلاشبہ دنیا کو ہر طرح سے سرپرائز دینے کی اہلیت رکھتا ہے۔ اس کی 360 درجے کی Unpredictibility کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا , ہارنے پر آئیں تو برادرانہ خیر سگالی کے جذبے کے تحت آئ سی سی رینک بورڈ پر پڑی دسویں نمبر کی افغان ٹیم سے ہار جائیں اور اگر دھول چٹانے کا ارادہ کر لیں تو نمبر ون کو بھی اڑا کے رکھ دیں۔پاکستانی کرکٹ ٹیم کے اس کم بیک کی تعریف دوست دشمن ہر ایک کی زبان پر ہے۔ اپنے اتحاد اچھی پلاننگ اور کھلاڑیوں پر اعتماد کے نتیجے میں پاکستان نے ایک ایسی ٹیم کو شکست سے دوچار کیا جو اس ورلڈ کپ میں ایک بھی میچ نہیں ہاری تھی ۔ آئ سی سی سکور بورڈ پر پوائنٹ سکورنگ کا یہ سفر بطور ٹیم ایک ساتھ پرفارم کرنے سے ہی ممکن ہوا۔ حارث سہیل اور اور
    بابر اعظم کی پائیدار بیٹنگ اور محمد عامر اور شاہین شاہ آفریدی کی جنہیں شہنشاہ آفریدی کہا جا رہا ہے کی خوبصورت باؤلنگ نے اس میچ کو یادگار بناتے ہوے ٹیم کی کارکردگی کو چار چاند لگا دیے۔ یہ میچ ایک Must Win میچ تھا جس میں ہار یا جیت پاکستان کرکٹ ٹیم کے ورلڈ کپ سے باہر ہونے یا اس دوڑ کاحصہ بنے رہنے کا فیصلہ کرتی۔ اس میچ نے جہاں ٹیم سلیکشن اور اس کے طریقہ کار کو بہتر کرنے کی ضرورت کو نمایاں کیا وہیں ٹیم کی جانب سے پاکستان کو جتانے کے لیے پیش کیاجانیوالا جذبہ بھی قابل قدر قرار پایا۔

    اگر بیٹنگ لائن کی بات کریں تو پاکستان کی جانب سے بابر اعظم نے پریشر کے باوجود شاندار سینچری مکمل کی اور مشکل پچ پر جہاں بال ڈیڑھ ڈیڑھ گز تک سپن ہو رہی تھی نہایت عقلمندی سے پریشر پوائنٹس کھیلے۔ ایسی مشکل پچ پر حارث سہیل کی بابر اعظم کے ساتھ شاندار پارٹنرشپ اور Run Chase نے پاکستان کو جتانے میں اہم کردار ادا کیا۔ شاندار بیٹنگ کے ساتھ ساتھ جاندار باؤلنگ نے اس وکٹری کے اس سفر کو آسان بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ 19 سالہ شاہین شاہ آفریدی کی جانب سے سات لگاتار اوورز جن میں انہوں نے نیوزی لینڈ کے بلے بازوں کو باندھ کر رکھا اور تین وکٹیں حاصل کیں کمال کے تھے۔فریدی کی جانب سے Maiden Overs , نیوزی لینڈ کے ٹاپ آرڈر کو دھبڑدوس کرنا , بہترین باؤلنگ ٹیکنیکس کا استعمال اور ہارڈ لیگ پر بے مثال باؤلنگ کا مظاہرہ اس ورلڈ کپ کے بہترین باؤلنگ سپیلز میں شمار کیا جا رہا ہے ۔

    اس بہترین کارکردگی سے جہاں کھلاڑیوں کے اپنے وقار اور اعتماد میں اضافہ ہوا ہے وہیں پاکستان کرکٹ ٹیم اجتماعی طورپر بھی مزید پر اعتماد ہوئی ہے۔ بابر اور حارث کی بیٹنگ کے ساتھ ساتھ آفریدی صاحب کی باؤلنگ نے گیم پر قوم کے اعتماد میں بھی اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے ایسے وقت میں جب ٹیم نے ان پر اعتماد کیا اس اعتماد پر پورا اتر کر دکھایا۔ اسی حوالے سے سوشل میڈیا پر محو گردش ایک خوبصورت اور محظوظ کرنے والا جملہ جو اس بلاگ کے لکھنے کا باعث بھی بنا نظر سے گزرا جو کچھ یوں تھا کہ

    "نیوزی لینڈ والے تیاری عامر کی کر کے آئے تھے پیپر میں آفریدی آ گیا ”

    اس جملے کو پڑھنے کے بعد چہروں پر ابھرنے والی دلکش مسکراہٹوں کو ہمارا سلام ۔۔۔