قائداعظم ٹرافی کے ابتدائی راؤنڈ میں قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے جانے والے میچ میں سدرن پنجاب نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔ کپتان شان مسعود 26 کے مجموعی اسکور پر آؤٹ ہوگئے۔ سدرن پنجاب کی دوسری وکٹ 50، تیسری 70 اور چوتھی 74 رنز پر گری۔ تاہم اوپنر سمیع اسلم کی دوسرے اینڈ سے مزاحمت جاری رہی۔ سمیع اسلم نے پانچویں وکٹ کی شراکت میں عدنان اکمل کے ساتھ مل کر 217 رنز جوڑے۔ دن کے اختتام پر سمیع اسلم نے 19 چوکوں کی مدد سے 151اور عدنان اکمل نے 14 چوکوں کی مدد سے 106 رنز بنائے ۔ دونوں کھلاڑی میچ کے دوسرے روز سدرن پنجاب کی جانب سے 291 رنز 4 کھلاڑی آؤٹ سے کھیل کا دوبارہ آغاز کریں گے۔ شان مسعود 12، عمران رفیق 5، صہیب مقصود 6 اور عمر صدیق 4 اسکور بنا کر آؤٹ ہوئے۔ سنٹرل پنجاب کی جانب سے وقاص مقصود نے 3 اور حسن علی نے 1 کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔
Tag: پاکستان
-

فضائی میزبان/ ائیر ہوسٹس ، تحریر محمد فہد شیروانی
دنیا کے سب سے پہلے فضائی میزبان ہونے کا اعزاز جرمنی سے تعلق رکھنے والے "Heinrich Kubis” کو حاصل ہے۔ ہینرچ کو یہ اعزاز مارچ 1912 میں حاصل ہوا جب اس نے جرمن ایئرلائن میں سفر کرنے والے مسافروں کی پہلی بار میزبانی کی۔
دنیا کی پہلی ایئرہوسٹس ہونے کا اعزاز "Ellen church” کو 25 سال کی عمر میں 1930 میں حاصل ہوا جب “United Airlines” نے ان کی خدمات حاصل کیں۔ انٹرنیشنل رولز کے مطابق ائیر ہوسٹس بننے کے لئے اُن لڑکیوں کو ترجیح دی جاتی ہے جو اچھی شکل و صورت کی حامل ہوں، جن کا وزن 100 سے 116 پونڈ ہو، جن کا قد 5 فٹ 4 انچ سے کم نہ ہو، ذہنی جسمانی طور پر مکمل فٹ ہوں اور مقامی زبان کے ساتھ ساتھ مختلف زبانوں خصوصا انگریزی پر عبور حاصل ہو۔
1936 میں ایئرہوسٹس نے باقاعدہ طور پر فضائی میزبان کی اہمیت حاصل کی اور فضائی کمپنیوں نے مرد سٹیورڈز کی نسبت ائیر ہوسٹس کو ہائر کرنے پر ترجیح دینا شروع کردی۔ انتہائی پرکشش تنخواہ و سہولیات کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں مفت کی سیر کی وجہ سے اس پروفیشن نے جلد ہی لڑکیوں میں مقبولیت حاصل کر لی اور کو اپنی جانب راغب کیا اور ائیر ہوسٹس کی نوکری لڑکیوں کے لئے کشش کا باعث بن گئی۔ ایک سروے کے مطابق دنیا بھر کی زیادہ تر لڑکیوں/خواتین کی خواہش ہوتی/رہی ہے کہ وہ ائیر ہوسٹس بن جائیں۔
ائیر ہوسٹس اور سٹیورڈز کا شمار جہاز کے عملے میں ہوتا ہے اور ان کا براہ راست تعلق مسافروں کو دی جانے والی سہولیات سے ہے۔ ائیر ہوسٹس کا اہم کردار جہاز میں سفر کرنے والے مسافروں کو حفاظتی امور سے آگاہ کرنا اور ان کی رہنمائی کرنا ہے۔ ائیر ہوسٹس اور فضائی عملے کو باقاعدہ تربیت دی جاتی ہے کہ کسی بھی قسم کی ہنگامی صورتحال میں وہ مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنائیں رکھیں گے۔ اس کے علاوہ مسافروں کی صحت اور خوارک سے متعلق خیال رکھنا بھی ان کے فرائض میں شامل ہے۔
موجودہ ہوائی/فضائی قوانین کے مطابق ہر پرواز سے پہلے ائیر ہوسٹس مسافروں کو حفاظتی بریفنگ دیتی ہیں۔ اس بریفنگ میں حفاظتی اقدامات اور ایمرجنسی کی صورت میں جہاز سے نکلنے کے طریقہ کار اور راستوں کی بارے میں بتایا جاتا ہے۔ ہر پرواز سے قبل مکمل جانچ پڑتال کی جاتی ہے اور مسافروں کو حفاظتی بیلٹ لگانے کی تلقین کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ایئرہوسٹس اس بات کو بھی یقینی بناتی ہیں کہ جہاز کے ایمرجنسی راستوں کے قریب سیٹوں پر بیٹھے مسافر کی بھی قسم کی ہنگامی صورتحال میں عملے کے ساتھ مدد کریں گے۔ پرواز کے دوران فضائی کمپنی کی جانب سے مسافروں کو دی جانے والی سہولیات مثلاً آئی پیڈ، کمبل، کشن، فوڈ وغیرہ کا خیال رکھنا بھی ایئرہوسٹس کی ذمہ داری میں شامل ہے لیکن ائیر ہوسٹس کی سب سے اہم ذمہ داری مسافروں کی حفاظت کو بہر صورت یقینی بنانا ہے۔
دنیا بھر کی فضائی کمپنیوں میں فضائی میزبانوں میں لڑکیوں کی تعداد مردوں کی نسبت بہت زیادہ ہے۔ ہر ملک کے اپنے قوانین کے تحت میں جہاز میں ایئرہوسٹس کی تعداد کا تعین کیا جاتا ہے۔ابتدا میں 50 سیٹوں سے کم تعداد کے جہاز میں ایئرہوسٹس کا ہونا لازم نہی تھا مگر اب ایسا نہیں ہے۔ موجودہ دور میں جدید سہولیات اور حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے اب تقریباً ہر جہاز میں ائیر ہوسٹس کا ہونا لازم ہے۔ بلکہ اب تو پرائیوٹ جہاز کے لئے بھی ائیر ہوسٹس کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں اور انہیں جہاز کے عملے میں لازم وملزوم سمجھا جاتا ہے۔
ائیر ہوسٹس کو دوران پرواز ہونے والی کسی بھی قسم کی ایمرجنسی کے لئے خصوصی تربیت دی جاتی ہے جن میں ابتدائی طبی امداد، دوران پرواز بچے کی پیدائش، ہائی جیکنگ، کیبن میں دھواں بھر جانا، پانی پر لینڈنگ اور ہنگامی انخلا وغیرہ شامل ہیں۔ ایسی صورتحال میں مسافروں کو ائیر ہوسٹس و فضائی عملے کی ہدایات کے مطابق ان کے ساتھ مکمل تعاون کرنا چاہئے تاکہ ایمرجنسی کے صورتحال پر آسانی سے قابو پایا جا سکے۔ -

پاکستانی باکسر محمد وسیم نے فلپائنی حریف کو 62 سیکنڈ میں ناک آؤٹ کر دیا
دبئی: پاکستانی باکسر محمد وسیم نے دبئی میں منعقدہ پروفیشنل فائٹ جیت لی۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان باکسر محمد وسیم نے یو اے ای میں منعقدہ پروفیشنل فائٹ میں کامیابی حاصل کرلی، محمد وسیم نے فلپائن کے باکسر کو پہلے ہی راؤنڈ میں ناک آؤٹ کردیا۔
محمد وسیم نے پروفیشنل باکسنگ کیریئر کا 9واں مقابلہ جیتا ہے، انہوں نے کامیابی مقبوضہ کشمیر کے عوام کے نام کردی۔باکسر محمد وسیم نے کامیابی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فائٹ جیتنے پر بہت خوش ہوں، آئندہ بھی پاکستان کا نام روشن کرتا رہوں گا۔ محمد وسیم کا کہنا تھا کہ میرے غیرملکی ٹرینر ڈینی وان نے اسکاٹ لینڈ میں پچھلے چھ سے سات ماہ سخت ٹریننگ کرائی جس کا رزلٹ آج کامیابی کی صورت میں ملا ہے۔ باکسر وسیم کا کہنا تھا کہ ٹرینر نے میری خامیوں پر قابو پانے میں میری بھرپور مدد کی۔ واضح رہے کہ محمد وسیم ایک سال بعد رنگ میں دوبارہ اترے تھے، جیت سے ان کی رینکنگ میں بہتری آئے گی۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال باکسر محمد وسیم کو جنوبی افریقا کے باکسر مورتی متھالنے کے ہاتھوں ورلڈ ٹائٹل فائٹ میں شکست ہوئی تھی۔
محمد وسیم کو مسلسل آٹھ فائٹ میں کامیابی کے بعد پہلی بار جنوبی افریقی باکسر کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ -

مصباح نے فٹنس جانچنے کیلئے عمراکمل کو طلب کرلیا
پاکستان کے جارح مزاج کرکٹر عمر اکمل کو نئے چیف سلیکٹر و ہیڈ کوچ مصباح الحق نے فٹنس جانچنے اور قومی ٹیم میں ایک اور موقع دینے کیلئے نیشنل کرکٹ اکیڈمی طلب کرلیا ،
عمر اکمل کو فٹنس کے بہتر نہ ہونے اور ڈسپلن کی خلاف ورزی کے سبب قومی کرکٹ ٹیم سے باہر کیا گیا تھا ، آخری دفعہ عمر اکمل کو پاکستان کپ میں کھیلتے دیکھا گیا تھا، پاکستان کپ میں بلے کیساتھ ان کی پرفارمنس بہترین تھی لیکن ان کی فٹنس انٹرنیشنل سٹینڈرڈ کی نہیں تھی اس لیے انہیں قومی ٹیم کے ورلڈ کپ 2019 سکواڈ میں شامل نہیں کیا گیا تھا -

اگست کے مہینے میں گاڑیوں کی فروخت میں 41 فیصد کمی
کراچی: آٹو موبائل سیکٹر میں اگست کے مہینے میں 41 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کی بنیادی وجہ روپے کی قدر کی گراوٹ، افراط زر کی بڑھتی ہوئی شرخ اور بڑی عید کی چھٹیاں اور قربانی کے اخراجات کو بتایا گیا ہے ،
تفصیلات کے مطابق پچھلے سال اگست میں فروخت ہونے والی نئی گاڑیوں کی تعداد 17662 تھی جبکہ اس مالی سال کے اگست میں فروخت ہونے والی گاڑیوں کی تعداد 10496 بتائی گئی ہے جو کہ ایک ریکارڈ کمی ہے ، -

پاکستان میں تعلیمی معیار اساتزہ کی ناکامی یا حکومت کی : علی چاند
تکنیکی معنوں میں تعلیم سے مراد وہ رسمی طریقہ کار ہے جس کے ذریعے ایک معاشرہ اپنی اخلاق و عادات اپنی آنے والی نسل کو منتقل کرتا ۔ تعلیم کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پہلی وحی کا پہلا لفظ ہی ” پڑھ ” تھا ۔ حدیث شریف میں علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض کیا گیا ہے ۔ غزوہ بدر میں جب کفار قیدی بناٸے گے تو انہیں اس شرط پر رہاٸی دی گٸی کہ وہ دس دس مسلمان بچوں کو پڑھنا لکھنا سیکھا دیں ۔
ترقی یافتہ ممالک میں شرح خواندگی دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ وہاں کے تقریبا سو فیصد لوگ ہی تعلیم یافتہ ہیں ۔ اور جب محکوم قوموں ،قرضوں کے بوجھ تلے دبی قوموں کے حالات کا جاٸزہ لیا جاٸے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہیں کہ ان اقوام میں شرح خواندگی انتہاٸی کم ہے اور ایسی قومیں تعلیم پر بالکل بھی توجہ نہیں دیتیں ۔ تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کی ضمانت ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں تعلیم کی اہمیت پر کسی بھی حکومت نے زور نہیں دیا اور نہ ہی تعلیمی بجٹ میں کوٸی خاطر خواہ اضافہ کیا ہے ۔ مختلف حکومتوں نے ابتداٸی تعلیم مفت تو کر دی لیکن معیار تعلیم بلند نہ کیا جاسکا ۔ پاکستان میں دو طرح کے تعلیمی نظام موجود ہوں ایک امیر کے لیے دوسرا غریب کے لیے ۔ امیر کا بچہ تو پراٸیویٹ سکولوں کی مہنگی ترین فیس ادا کر بہتر تعلیم حاصل کر لیتا ہے جبکہ غریب کا اتنے پیسوں میں پورا مہینہ چولہا جلتا ہے ۔ پاکستان میں سکول میں داخل ہونے والے بچوں کی تعداد بھی سکول چھوڑنے والے بچوں سے کافی کم ہے ۔ اس کی بنیادی وجہ ایک تو والدین کی عدم دلچسپی ہے دوسرا اساتذہ کا سخت ترین رویہ اور مار پیٹ ہے جو غریب کے بچوں کو جانور سمجھ کر جیسا مرضی سلوک روا رکھتے ہیں اور بچہ تنگ آکر خود ہی سکول سے بھاگ جاتا ہے ۔ تعلیمی معیار میں کمی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہاں اساتذہ کو صرف تنخواہ سے غرض ہے ، اس بات سے کوٸی غرض نہیں اس ملک کا مستقبل سنور رہا ہے یا بگڑ رہا ہے ۔ پاکستان میں آج بھی وہی نظام تعلیم راٸج ہے جو آج سے 30 40 سال پہلے تھا ۔ وہی طریقہ ہاٸے تدریس وہی نصاب ، اگر نصاب میں کوٸی تبدیلی آتی بھی ہے تو صرف وہی جس سے مسلمانوں کے احساسات مجروح ہوں ، جس سے مسلمانوں کے بنیادی عقاٸد کو چھیڑا جا سکے ۔ اساتذہ سمجھتا ہے اس کو تنخواہ مل رہی ہے اس لیے اسے جدید طریقہ تدریس کی طرف دھیان دینے کی کوٸی ضرورت نہیں ۔
پاکستان میں ابھی تک بہت سے گھوسٹ سکول ہیں جو حکومتی کھاتے میں تو ہیں ، اساتذہ کو تنخواہیں اور سکول کو فنڈ مل رہا ہے لین اس سکول کا دنیا میں کوٸی وجود نہیں ۔ مختلف حکومتوں نے فیس معاف کر کے کتابیں مفت تقسیم کر دیں ، اساتذہ کے لیے بھی لازمی قرار دیا گیا کہ ہر سکول میں بچوں کی اتنی تعداد ہو ،لیکن نتیجہ پھر بھی صفر ہےکیونکہ گورنمنٹ کی توجہ نہ ہونے کے برابر ہے ۔ حکومت تو سرکاری سکول ، ان میں راٸج طریقہ تدریس ، دیگر سہولیات اور معیار تعلیم کو تو تب توجہ دے جب ان عوامی نماٸندوں کے بچے ان سکول میں داخل ہوں ۔ عوامی نماٸندوں ، حکومتی وزیروں ، مشیروں کے بچے تو ملک سے باہر رہتے ہیں ، وہی کے رسم ورواج اپناتے ہیں ، وہی سے تعلیم حاصل کرتے ہیں اس لیے ان لوگوں نے کبھی پاکستانی بچوں کو اپنا بچہ سمجھنا گوارا نہیں کیا تو تعلیم اپنے بچوں جیسی کیسے دلواٸیں ۔ ویسے بھی اگر حکومتی وزیر ، مشیر پاکستانی بچوں کا معیار تعلیم اپنے بچوں جیسا کر لیں تو پھر یہ سیاستدان اور ان کے بچے حکمرانی کس پر کریں ۔اس لیے ایک سازش کے تحت ان سیاستدانوں اور ملک کی بھاگ دوڑ سنبھالنے والوں نے کبھی تعلیم پر توجہ ہی نہیں دی ۔
ترقی یافتہ ممالک میں بچے کو نصابی سرگرمیوں کے علاوہ ہنر بھی سکھایا جاتا ہے تاکہ بچہ عقل و شعور حاصل کر کے اپنا مستقبل سنوار سکے ۔ جبکہ پاکستان میں رٹہ سسٹم کے ذریعے کلرک وغیرہ ہی بنانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ ہمارے ملک میں انجنیرنگ ، طب ، وکالت ، اور صنتی و ساٸنسی تعلیم دی جاتی ہے اس کا معیار بھی ترقی یافتہ ممالک سے انتہاٸی کم ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں ہر طرح کی تعلیم پاکستان کی قومی زبان میں ہی دی جاٸے تاکہ لوگ جو پیسہ انگریزی سیکھنے میں لگاتے ہیں اس کی بچت بھی کر سکیں اور اپنی قومی زبان میں تعلیم ہونے کی وجہ سے بہت سے پیچیدہ تعلیمی مساٸل بھی خود حل کر سکیں گے ۔ انگریزی کو رٹہ لگانے کی بجاٸے تعلیم کو سمجھ کر حاصل کر سکیں ۔ جب تک مسلمان تعلیم حاصل کر کے اپنی عقل و دماغ سے کام لیتے ہوٸے کاٸنات میں غوروفکر کرتے رہے تب تک دنیا کے حکمران رہے اور جب سے مسلمان انگریزوں کی تعلیم کو انگریزی میں رٹہ لگاتے رہے آزاد ہو کر بھی انگریزوں کے محکوم ہیں ۔
پاکستان حقیقی معنوں میں تبھی ترقی کرے گا جب یہاں اسلامی تعلیمات کے مطابق معیار تعلیم کو بلند کر کے ، معیاری طریقہ تدریس کے ذریعے ، شفیق اساتذہ کی زیر نگرانی جدید تعلیم دی جاٸے گی ۔ تاکہ بچے کی عقل و شعور کی گرہیں کھلیں اور وہ کاٸنات میں غور وفکر کر کے تجربات کے ذریعے کلرک بننے کی بجاٸے دنیا کی حکمرانی کی سوچ رکھیں ۔
-

مقبوضہ وادی میں کرفیو کے انتالیس دن پاکستانی خواتین کیا کریں؟؟؟ تحریر خنیس الرحمن
آج وادی کشمیر میں کرفیو کو ایک ماہ سے زائد دن بیت چکے ہیں۔پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار دیکھا عوامی سطح پر لوگوں میں کشمیریوں کے لئے تڑپ پیدا ہوئی۔کیوں نا ہوتی کشمیرتو ہماری شہ رگ ہے۔کشمیرکے بغیرتو پاکستان ہی نامکمل ہے۔کشمیر سے تو ہمیں دینی محبت ہے۔وہ اپنے آپ کو پاکستانی سمجھتے ہیں اورہیں بھی تو پھر ہم کیوں نا ان کے لیے تڑپیں۔وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے کشمیر آور منانے کا اعلان کیا اسلام آباد سے لیکر کراچی تک پورا پاکستان وزیر اعظم کی کال پر باہر نکلا۔میں نے بذات خود اس چیز کو محسوس کیاکہ سب پاکستانی مسلکی و جماعتی تعصبات سے نکل کر سڑکوں پر نکلے۔اب بھی ہمیں خاموش رہنے کی ضرورت نہیں کشمیر میں ابھی تک ایک ماہ گزرنے کے باوجود کرفیو نہیں ہٹایا گیا۔ہمیں مزید تحریک کو تیز کرنا ہوگا۔
آپ جانتے ہیں کہ ہر تحریک میں خواتین کا کلیدی کردار رہا ہے۔اگر آپ آج سے چودہ سو سال پیچھے چلے جائیں تو اسلام کی سربلندی کے لیے جدوجہد کرنے والی خواتین کی آپ کو کثیر تعداد نظر آئے گی۔سمیہ بنت خباط ؓ سے لے کر اندلس کی اس بیٹی تک جس کے بارے اقبال رحمہ اللہ علیہ کچھ یوں منظر کشی فرماتے ہیں
یہ سعادت،حور صحرائی!تری قسمت میں تھی
غازیان ِدیں کی سقائی تری قسمت میں تھی
جب پاکستان بنا تو اس وقت بھی خواتین نے انگریزوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے آزادی کی بھرپورتحریک چلائی۔خواتین کے اس کارواں میں موجود مادر ملت فاطمہ جناح،بیگم محمد علی جوہر،بیگم رعنا لیاقت علی،بیگم سلمی تصدق حسین ودیگر خواتین کو آج بھی تاریخ کے اوراق میں یاد رکھا جاتا ہے۔قوم ان کی خدمات پر فخر کرتی ہے اور انہیں خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔جیسا کہ میں پہلے بھی ذکر کرچکا ہوں پاکستان ابھی نامکمل ہے کیونکہ اس کی شہ رگ بدن سے جدا ہے۔آج کشمیر کے اندر بھی آزادی کے لیے خواتین کا کردار کسی سے مخفی نہیں۔سیدہ آسیہ اندرابی آج مردوں کے شانہ بشانہ کشمیر کی آزادی کے لیے جدوجہد کررہی ہیں۔آسیہ اندرابی صاحبہ ایک ایسے مرد مجاہد کی رفیقہ حیات ہیں جس نے اپنی آدھی زندگی سلاخوں کے پیچھے گزار دی۔آسیہ اندرابی صاحبہ نے بھی اپنی زندگی کشمیر خواتین کی اصلاح اورتحریک آزادی کے لئے وقف کر رکھی ہے۔وہ کشمیر کی سب سے متحرک تنظیم دختران ملت کو چلا رہی ہیں۔کہا جاتا ہے کہ کشمیر کی تاریخ میں کئی سیاسی و دینی جماعتوں نے کروٹیں بدلیں اپنے نظریات بدلے لیکن آسیہ اندرابی صاحبہ پہلی خاتون لیڈر ہیں جو آج بھی اپنے مؤقف پر ڈٹ کر کھڑی ہیں۔وہ 6ستمبر،یوم آزادی و یوم تجدید عہد اور ہر قومی دن پر دختران ملت کے مرکزی سیکرٹریٹ میں تقریب کا اہتمام کرتی ہیں. جہاں پاکستان کا قومی ترانہ پڑھا جاتا ہے. پاکستان کا پرچم لہرایا جاتا ہے. بھارت سے یہ کہاں ہضم ہوتا ہے وہ آپا آسیہ اندرابی اور ان کی قیادت کو زندانوں می ڈال دیتا ہے. لیکن وہ باہمت خاتون پیچھے ہٹنے والی نہیں, جھکنے والی نہیں ڈٹ کر کھڑی ہے. آج انہوں نے خواتین کی ایسی کھیپ تیار کرلی ہے جو ہاتھوں میں پتھر تھامے بھارتی افواج کے سامنے سینہ سپر ہے. کشمیر کی ناجانے کتنی مائیں, بہنیں اور بیٹیاں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرچکی ہیں.میں سلام پیش کرتا ہوں کشمیر کاز کے سب سے بڑے حمایتی جنرل حمید گل رح کی صاحبزادی کو جنہوں نے یہ بیڑہ اپنے سر اٹھایا ہے کہ پاکستانی خواتین کو یہ پیغام دیا ہے اگر کشمیر کی بیٹی کرفیو میں نکل سکتی ہے, اگر کشمیری ماں بھارتی فوج کے خوف کے باوجود باہر نکل سکتی تو پاکستان کی ماں, بہن اور بیٹی کیوں نہیں نکل سکتی. جنرل حمید گل رح کی صاحبزادی عظمٰی گل صاحبہ نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ میری سب مائیں اور بہنیں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لئے 13 ستمبر کو 4 بجے ڈی چوک پہنچیں. میں سمجھتا ہوں پاکستان کی ہر بہن, بیٹی اور ماں کو ان کی خاطر نکلنا ہوگا جن کو پاکستان کی آواز اٹھانے پر پابند سلاسل کردیا جاتا ہے .ہم نکل کر دنیا کو یہ پیغام دیں کہ ہماری مائیں اور بہنیں کشمیریوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں اور دنیا واقعی دیکھے کہ جاگ اٹھا ہے پاکستان…! -

قائد اعظم محمد علی جناح کی زندگی کا مقصد : علی چاند
انتہاٸی پروقار ، دلفریب ، بلند حوصلہ ،جرأت مند ہستی ، جو نہ کبھی کسی کے آگے جھکے ، نا کبھی ہمت ہاری ، نہ کبھی حوصلہ کم ہوا ، جس بات پر ڈٹ گٸے اس سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹے ،اور پھر دنیا نے دیکھا کہ وہ پروقار انسان ایسا بہادر ، قوی ، جرأت مند نکلا کہ مسلمانوں نے ان کی قیادت میں صرف چند ماہ میں ہی پاکستان جیسا عظیم ملک بنا لیا ۔
کون جانتا تھا کہ 25 دسمبر 1876 کو پونجا جناح کے گھر پیدا ہونے والا بچہ ایک دن اپنا نام اتنا روشن کرے گا کہ دنیا کے تمام مسلمانوں کے لیے جیتی جاگتی زندہ مثال بن جاٸے گا ۔ لوگ غلامی سے چھٹکارا پانے کے لیے اس عظیم انسان کی مثالیں دیں گے ۔ کون جانتا تھا کہ مظلوموں کو آزادی دلوانے والے اس عظیم لیڈر کو اپنا راہنما اور مشعل راہ سمجھیں گے ۔قاٸد اعظم محمد علی جناح 25 دسمبر 1876 کو ایک تاجر پونجا جناح کے گھر پیدا ہوٸے ۔ والدین نے آپ کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی جس کے اثرات پھر پوری دنیا نے دیکھے ۔ والدین نے چھ سال کی عمر میں آپ کو مدرسے میں داخل کروا دیا ۔ پراٸمری تعلیم کے لیے آپ کو گوگل داس پراٸمری سکول میں داخل کروایا گیا ۔ میٹرک کا امتحان آپ نے اعلی نمبروں کے ساتھ سندھ مدرسة السلام ہاٸی سکول سے پاس کیا ۔ 1892 میں آپ نے وکالت کا امتحان پاس کیا ۔ پھر اعلی تعلیم کے لیے انگلستان چلے گے اور بیرسٹر بن کر واپس آٸے ۔ پہلے آپ نے کراچی اور پھر ممبٸی میں وکالت کر کے بہت نام کمایا ۔ آپ کو سیاست سے بہت دلچسپی تھی ۔ شروع میں قاٸد اعظم ہندو مسلم اتحاد کے حامی تھے اس لیے آپ نے 1906 میں کانگریس میں شمولیت اختیار کر لی ۔ کچھ مسلمان راہنماٶں نے آپ کومسلم لیگ میں شمولیت کی دعوت دی اور آپ کو اس پر راضی بھی کر لیا بالآخر آپ نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کر لی ۔ 1913 میں آپ نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی ۔ مسلم لیگ پہلے صرف بڑے لوگوں کی جماعت سمجھی جاتی تھی لیکن آپ کی مسلم لیگ میں شمولیت کے بعد لوگ اسے عام مسلمانوں یعنی اپنی جماعت سمجھنا شروع ہوگے ۔
1929میں قاٸداعظم نے اپنے مشہور چودہ نکات پیش کٸیے جو درج ذیل ہیں :
ہندوستان کا آئندہ دستور وفاقی نوعیت کا ہو گا۔
تمام صوبوں کو مساوی سطح پر مساوی خود مختاری ہو گی۔
ملک کی تمام مجالس قانون ساز کو اس طرح تشکیل دیا جائے گا کہ ہر صوبہ میں اقلیت کو مؤثر نمائندگی حاصل ہو اور کسی صوبہ میں اکثریت کو اقلیت یا مساوی حیثیت میں تسلیم نہ کیا جائے۔
مرکزی اسمبلی میں مسلمانوں کو ایک تہائی نمائندگی حاصل ہو۔
ہر فرقہ کو جداگانہ انتخاب کا حق حاصل ہو۔
صوبوں میں آئندہ کوئی ایسی سکیم عمل میں نہ لائی جائے جس کے ذریعے صوبہ سرحد، پنجاب اور صوبہ بنگال میں مسلم اکثریت متاثر ہو۔
ہر قوم و ملت کو اپنے مذہب، رسم و رواج، عبادات، تنظیم و اجتماع اور ضمیر کی آزادی حاصل ہو۔
مجالس قانون ساز کو کسی ایسی تحریک یا تجویز منظور کرنے کا اختیار نہ ہو جسے کسی قوم کے تین چوتھائی ارکان اپنے قومی مفادات کے حق میں قرار دیں۔
سندھ کو بمبئی سے علاحدہ کر کے غیر مشروط طور پر الگ صوبہ بنا دیا جائے۔
صوبہ سرحد اور صوبہ بلوچستان میں دوسرے صوبوں کی طرح اصلاحات کی جائیں۔
سرکاری ملازمتوں اور خود مختار اداروں میں مسلمانوں کو مناسب حصہ دیا جائے۔
آئین میں مسلمانوں کی ثقافت، تعلیم، زبان، مذہب، قوانین اور ان کے فلاحی اداروں کے تحفظ کی ضمانت دی جائے۔
کسی صوبے میں ایسی وزارت تشکیل نہ دی جائے جس میں ایک تہائی وزیروں کی تعداد مسلمان نہ ہو۔
ہندوستانی وفاق میں شامل ریاستوں اور صوبوں کی مرضی کے بغیر مرکزی حکومت آئین میں کوئی تبدیلی نہ کرے۔
یہ چودہ نکات تحریک پاکستان میں سنگ میل کی حثیت رکھتے ہیں ۔ 1940 میں لاہور منٹو پارک ( موجودہ نام اقبال پارک ) میں ایک قرار داد پیش کی گٸی جسے قرارد داد پاکستان بھی کہا جاتا ہے اس قرار داد میں مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن کا مطالبہ کیا گیا ۔ ہندوٶں اور انگریزوں کی طرف سے اس قرارداد کا بہت مذاق اڑایا گیا لیک مسلمان ارادے کے پکے اور ایمان کے سچے تھے انہوں نے قاٸد اعظم جیسے عظیم لیڈر کی راہنماٸی میں 14 اگست 1947 کو مسلمانوں نے الگ وطن حاصل کر لیا ۔ اس کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے ۔ قاٸد اعظم نے پاکستان بننے کے بعد مہاجرین کی آباد کاری ، پاکستانی معیشیت اور اداروں کی بحالی کے لیے انتھک محنت کی جس کی وجہ سے آپ بہت زیادہ علیل ہوگے ۔
آپ کو ڈاکٹرز کے مشورے سے زیارت کے مقام پر بھیج دیا گیا تاکہ آپ کی صحت کچھ سنبھل سکے ۔ لیکن آپ کی صحت جواب دیتی جارہی تھی ۔ 10 ستمبر کو کرنل الہی بخش نے قاٸد اعظم کی صحت کے حوالے سے فاطمہ جناح کو جواب دے دیا ۔ اگلی صبح قاٸد اعظم کو کوٸٹہ سے کراچی اٸیرپورٹ لایا گیا ۔ وہاں سے ایک ایمبولینس میں آپ کا سٹریچر رکھا گیا ۔ ایمبولیس میں آپ کی بہن فاطمہ جناح بھی بیٹھ گٸی ۔ جب ایمبولینس مہاجروں کی ایک گنجان آباد بستی سے زرا آگے پہنچی تو ایمبولینس چلنا رک گٸی ۔ فاطمہ جناح کو بتایا گیا کہ پیٹرول ختم ہوگیا ہے ۔ ایک گھنٹہ بعد دوسری ایمبولینس آٸی اور پھر قاٸد اعظم کو دوسری ایمبولینس کے ذریعے قاٸد اعظم گورنر ہاٶس پہنچایا گیا جہاں انہوں نے کلمہ پڑھتے ہوٸے اپنی جان خالق حقیقی کے حوالے کر دی ۔
کیا ایمبولینس کا واقعی پیٹرول ختم ہوا تھا یا پھر یہ بھی ایک سازش تھی ۔ اگر پیٹرول واقعی ختم ہوا تھا تو کیا ایمبولینس روانہ کرتے وقت چیک نہ کیا گیا تھا ۔ کیا کوٸی اس قدر احمق بھی ہوسکتا ہے کہ اپنے محسن کی حالت کو جانتا ہو پھر بھی ایسا کرے ۔ اور اگر یہ ایک سازش تھی تو قاٸد اعظم اور پاکستان کے ساتھ غداری تھی ۔ دونوں صورتوں میں کیا کبھی کسی نے اس سازش کے پیچھے چھپے چہرے تلاش کرنے کی کوشش کی ۔ کیا کسی نے ان چہروں کو بے نقاب کر کے انہیں سزا دلوانے کی کوشش کی ۔ اگر نہیں تو کیا ہم ایک بے حس قوم نہیں ہیں جنہوں نے اپنے عظیم لیڈر کے احسانات کو بھلا دیا اور کبھی یہ جاننے کی کوشش ہی نہیں کی کہ آخر کون لوگ تھے جو پاکستان سے دشمنی میں اس قدر آگے نکل گے کہ انہوں نے قاٸد اعظم کی جان کی پرواہ بھی نہ کی ؟
کیا ہم میں سے کوٸی اس بہن کا درد محسوس کر سکتا ہے جس کے بھاٸی کو ڈاکٹرز جواب دے چکے ہوں اور اس ایمبولینس کو جان بوجھ کر روکے رکھا گیا ہو جس میں ایک بہن کے سامنے اس کا بھاٸی زندگی کی آخری سانسیں لے رہا ہو ۔ جو کہتے ہیں پیٹرول ختم ہو گیا تھا ،ان کی عقل کو داد دیں یا پھر اپنی قوم کی بے حسی کو ۔ اگر پٹرول ختم ہوگیا تھا تو گنجان آبادی قریب تھی وہاں سے کسی گاڑی کا انتظام کیوں نہ ہوا ۔ اس آبادی سے کسی کی گاڑی سے کہیں سے بھی پٹرول مل سکتا تھا پھر ایک گھنٹے تک کیوں اس بہن کو اذیت میں رکھا گیا جس کے بھاٸی نے اپنی بہن کے ساتھ اپنی تمام تر زندگی اس وطن کے نام کر دی ۔ آخر کیوں کون سے وجوہات تھی کہ ہم نے باباٸے قوم اور مادر ملت کو اذیت دینے والوں کے گریبان نہیں پکڑے ۔ آخر کیوں ہم اتنے بے حس ہوگے کہ محسن پاکستان محمد علی جناح کے ساتھ ان کی بہن کے ساتھ ایسا ظلم کرنے والوں کو کٹہرے میں کھڑا نہیں کیا گیا ۔ وہ بہن جو مادر ملت تھی کہتی ہیں زندگی میں جتنی بھی مشکلات آٸیں یہ ایک گھنٹہ ان سب مشکلات سے بھاری تھا ، تکلیف دہ تھا ۔ آخر کیوں اس بات کو جاننے کی کوشش نہیں کی گٸی کہ آخر کون تھا جس پر قاٸد اعظم کی سانسیں باعث تکلیف تھی ، آخر ایمبولینس کو جان بوجھ کر روکنے میں کسی کا کیا فاٸدہ تھا ؟ ہمیں بحثیت قوم ان حقاٸق کو جاننا ہوگا ۔ ان کالی بھیڑوں کو ڈھونڈنا ہوگا جو تب سے لے کر آج تک وطن پاکستان اور اس سے جڑے ہر مخلص انسان کو نقصان پہنچا رہی ہیں ۔
-

کیا حقیقت کیا افسانہ "مقبوضہ کشمیر امت مسلمہ اور پاکستان” تحریر: فیصل ندیم
کشمیر آج ہر پاکستانی کے دل کی آواز ہے, کشمیر ایک ایسا نام کہ جس کے ساتھ پاکستان کا ہر دل دھڑکتا ہے, بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح نے کہا تھا کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے اور آج یہ شہہ رگ ظالم و جابر دشمن کے ہاتھ میں ہے آج ایک ماہ ہونے کو آیا ہے کشمیر کرفیو کے شکنجے میں ہے کشمیر کی ہر گلی ہر محلے میں آج بھارتی فوج موجود ہے. کشمیریوں کیلئے خوراک ادویات اور دیگر اشیائے ضرورت بند ہیں گھر سے نکلنے کا ایک مطلب ہے گرفتاری ۔
آٹھ سے اسی سال کے لوگ گرفتار ہورہے ہیں.
زخمی اور بیمار ہاسپٹل منتقل نہیں کئے جاسکتے وہاں بھی بھارتی درندے اپنے پنجے تیز کئے موجود ہیں ہاسپٹل جانے کا مطلب بھی گرفتاری ہے ۔۔۔۔
محترم بھائیواپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کو اس طرح ظلم کی چکی میں پستا دیکھ کر ہر پاکستانی مضطرب ہے ہر پاکستانی کے لبوں پر سوال موجود ہے کیا کشمیر پاکستان سے ہمیشہ کیلئے چھین لیا گیا ہے ؟؟؟
آرٹیکل 370 اور 35 اے کے خاتمہ سے یقینی طور پر یہی سمجھا جارہا ہے ہر طرف سقوط کشمیر کی باتیں ہیں ہر زبان کشمیر کا نوحہ پڑھتی دکھائی دے رہی ہے لیکن یہاں تھوڑا سا رک کر بعض امور کا جائزہ لینا ضروری ہے.
آرٹیکل 370 اور 35 اے کشمیر کو بھارتی آئین کی رو سے خصوصی حیثیت دلواتا ہے اس آرٹیکل کی موجودگی میں کوئی غیر کشمیری کشمیر میں جائداد نہیں خرید سکتا کسی غیر کشمیری کو کشمیر میں نوکری نہیں مل سکتی کشمیر کا اپنا جھنڈا اپنا آئین ہے کوئی بھارتی حکومت کشمیریوں کی مرضی کے بغیر کوئی فیصلہ ان پر مسلط نہیں کرسکتی ان تمام تر سہولیات کو دیکھتے ہوئے سمجھ یہی آتا ہے کہ اگر آرٹیکل 370 اور 35 اے اگر ختم کردیا گیا تو کشمیر کی حیثیت بھارت کی ایک ریاست کی سی ہوجائے گی یہاں غیر کشمیریوں کی زبردست یلغار ہوگی جس کے ذریعہ یہاں آبادی کا تناسب بدل دیا جائے گا اور یوں مستقبل میں ہر وہ راستہ جو آزادی کشمیر اور الحاق پاکستان کی طرف جاتا ہوگا بند ہوجائے گا
اس پوری صورتحال پر بحث کرنے سے پہلے ایک بات سمجھنا ضروری ہے کہ حالات کا دھارا کبھی بھی بندوں کے ہاتھ میں نہیں رہا یہ ہمیشہ بندوں کے رب کے ہاتھ میں ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ ماضی اور حال بڑے بڑے عروج زوال کی جانب جاتے دکھائی دیتے ہیں بڑے بڑے سمجھدار لوگوں سے غلطیاں ہوتی ہیں اور ان کی یہ غلطیاں ان کی پوری قوم کے زوال کا سبب بنتی ہے ایسا ہی کچھ نریندر مودی کے ساتھ بھی ہوا ہے بھارت کے گورباچوف مودی سے ایک ایسی غلطی ہوچکی ہے جو ابتدا میں کشمیر کی آزادی اور پھر بھارت کی بربادی کا سبب بننے والی ہے.
کیا حالیہ دنیاوی تاریخ کو تھوڑا سا جاننے والا کوئی فرد انکار کرے گا کہ مسئلہ کشمیر دنیا کی نظروں میں اپنی اہمیت کھو بیٹھا تھا اقوام متحدہ جو اپنی قراردادوں کی رو سے اس مسئلہ کے حل کی ذمہ دار تھی اس مسئلہ کو ردی کی ٹوکری میں نہیں پھینک چکی تھی کیا آرٹیکل 370 اور 35 اے سات لاکھ بھارتی فوج کے کشمیریوں پر بہیمانہ ظلم میں رکاوٹ تھی یقیناً نہیں ۔۔۔
یاد کریں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار مکہ کے ساتھ صلح حدیبیہ کا معاہدہ کیا تھا لگتا یوں تھا سارا معاہدہ کفار مکہ کے حق میں ہے لیکن یہی معاہدہ جزیرة العرب میں کفار کے زوال اور مسلمانوں کے عروج کا سبب بنا تھا اس زمانے میں قبیلے بنو خزاعہ اور بنو بکر بھی اسی علاقہ میں بستے تھے بنو خزاعہ مسلمانوں کا حلیف تھا تو بنو بکر کفار مکہ کا ۔ صلح حدیبیہ کی رو سے ان دونوں قبیلوں کی جنگ کی صورت میں مسلمانوں اور کفار مکہ پر لازم تھا کہ وہ اپنے حلیف کی مدد نہ کریں لیکن کفار مکہ نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے حلیف بنو بکر کی مدد کی اور یوں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو موقع ملا کہ وہ دس ہزار صحابہ رضی اللہ عنہم کو لیکر آگے بڑھیں اور مکة المکرمہ سے کفر و شرک کی ہر علامت کو مٹادیں واللہ یہی صورتحال آج بھی ہے کل کے مشرکین مکہ کی طرح آج کے مشرکین ہند نے مدینہ ثانی پاکستان کو اسی طرح موقع فراہم کیا ہے کہ وہ بھی بتکدہ ہند پر اسی طرح چڑھائی کرے جس طرح کل محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی تھی.
سقوط کشمیر کی بات کرتے پاکستانی دودھ کے جلے ہیں اس لئے چھاچھ کو بھی پھونک پھونک کر پیتے ہیں ان کے ذہنوں میں آج بھی سقوط مشرقی پاکستان زندہ ہے اس لئے ان کے دل ڈرے ہوئے ہیں.
لیکن یہاں سمجھنا چاہئے مشرقی پاکستان ابتدا سے پاکستان کا حصہ تھا وہاں پاکستان کی حکومت پاکستان کا انتظام تھا پاکستانی فوج مشرقی پاکستان کی حفاظت پر مامور تھی اور جب بھارتی حکومت نے سازشوں کے جال بچھا کر اسلام اور پاکستانیت کو پیچھے کیا لسانیت و علاقائیت کو فروغ دیا تو اس طرح کے رخنے ہمارے اور مشرقی پاکستان کے بیچ پیدا ہوئے جہاں سے دشمن کو ہمارے بیچ سرائیت کرنے کا موقع ملا اور اس نے ہمارے بیچ نفرتیں پیدا کرکے ہمیں ٹکڑوں میں بانٹ دیا لیکن کشمیر کی صورتحال مختلف ہے یہاں تقسیم ہند کے وقت سے ہندوستان کی فوج اور ہندوستان کا انتظام موجود ہے کل یہ فوج سات لاکھ تھی آج کچھ اضافے کے ساتھ سات لاکھ اڑتیس ہزار ہوگئی ہے آرٹیکل 370 کو نہ پہلے کسی نے مانا تھا ( پاکستان ، حریت کانفرنس ، کشمیری مجاہدین ) نہ آج کوئی تسلیم کر رہا ہے
یاد کیجئے کچھ دن قبل بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں اپنی ہی قائم کردہ کٹھ پتلی حکومت کو ختم کرکے گورنر راج لگایا تھا وجہ صرف ایک سیاسی حکومت تحریک آزادی کشمیر کو روکنے میں ناکام ہوچکی تھی اب گورنر راج سے اگلا قدم اٹھایا ہے تو اس کی وجہ بھی بنیادی طور پر کشمیریوں کے جذبہ حریت کے سامنے بھارت کا اعتراف شکست ہے
کیا اس حقیقت سے آج کوئی بھی باشعور فرد انکار کرسکتا ہے کہ مودی کے اس اقدام سے مسئلہ کشمیر ایک بار پھر دنیا کی نظروں میں زندہ ہوگیا ہے اقوام متحدہ کب کا مسئلہ کشمیر کو دفن کر چکی تھی لیکن آج چون سال بعد کشمیر پھر سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر آ چکا ہے کیفیت یہ ہے کہ سارا انٹرنیشنل میڈیا میں بھارت پر تھو تھو کی جارہی ہے یورپی پارلیمنٹ برطانوی پارلیمنٹ امریکی اراکین کانگریس سمیت ایمنسٹی انٹرنیشنل اور انسانی حقوق کے دیگر اداروں میں کھلے عام بھارت پر تنقید ہورہی ہے بھارت جو بڑے فخر یہ انداز میں اپنے آپ کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہتا تھا آج پوری دنیا میں ایک فاشسٹ ملک کے طور پر دیکھا جارہا ہے بھارتی سنگھ پریوار کی انتہا پسندی کی داستانیں ساری دنیا میں زبان زد عام ہیں عرصہ دراز بعد دنیا نے بھارت کے مقابلے میں پاکستان کی سفارت کاری کا جارحانہ رخ دیکھا ہے.
اس پوری صورتحال میں ایک سوال جو کانٹے کی طرح پاکستانیوں کے دلوں میں کھٹکتا ہے وہ یہ ہے کہ کشمیریوں پر بہیمانہ تشدد دیکھنے کے باوجود دیگر مسلم ممالک کا طرزعمل کیا ہے وہ پاکستان کے ساتھ آکر کیوں نہیں کھڑے ہوتے اس کا سب سے آسان جواب یہ ہے کہ آج دنیا میں تمام ممالک سب سے پہلے اپنا مفاد دیکھتے ہیں پھر کسی اور کا یہی وجہ ہے کہ مفادات کی ڈور میں بندھے مسلم ممالک بالعموم اور عرب ممالک بالخصوص مسئلہ کشمیر پر کھل کر پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے سے قاصر ہیں اس کے علاوہ ایک اور مسئلہ جو غور طلب ہے وہ یہ ہے کہ اپنے تحفظ کیلئے دنیا سے بھیک مانگتے ان ممالک میں سے کون سا ملک ایسا ہے جو پاکستان کی خاطر خواہ مدد کرنے کے قابل ہے مشرق وسطی میں ایک چھوٹے سے رقبہ اور قلیل آبادی کا حامل ملک اسرائیل ان تمام ممالک کے سینے پر چڑھ کر انہیں رگیدتا دکھائی دیتا ہے پھر بھلا کیسے ہوسکتا ہے کہ یہ آکر پاکستان کا دفاع کرنا شروع کردیں ان تمام ممالک میں سب سے بری صورتحال متحدہ عرب امارات کی ہے جس نے عین اس وقت کہ جب پاکستان بھارت کے بیچ طبل جنگ بجنے کو ہے بھارتی دہشتگرد وزیراعظم نریندر مودی کو اپنے پاس بلا کر اپنے سب سے بڑے سول ایوارڈ نواز دیا امارات کے اس عمل کو پاکستانیوں نے اپنے ساتھ کھلی دشمنی سے تعبیر کیا اور عوامی سطح پر اس حوالہ سے سخت غم و غصے کا اظہار کیا جارہا ہے.
بہت سارے لوگ جو اس کیفیت میں پاکستان کے امت کیلئے کردار پر انگلیاں اٹھا رہے ہیں ان سے ایک سوال تو بنتا ہے کہ وہ ملک جس نے اپنی معیشت کی بنیاد ہی بدکاری پر رکھی ہو ساری دنیا کے لوگوں کو اپنی جانب راغب کرنے کیلئے ہر طرح کے برائی کے اڈے اپنی سرزمین پر بنائے ہوں جن کی زندگی کا واحد مقصد کسی بھی طرح کا حربہ اور طریقہ اپنا کر اپنی عیاشی کو تحفظ دینا ہو وہ کیسے امت کیلئے کوئی تعمیری کردار ادا کرسکتا ہے.
یاد رکھیں پاکستان وہ ملک ہے جس نے اپنی ابتدا سے اپنے لئے کٹھن راستے کا انتخاب کیا ایک طرف عین مسلم ممالک کے بیچ ایک ناجائز ریاست اسرائیل قائم کی جارہی تھی اور وہ اف تک نہ کر سکے تھے تو دوسری طرف اپنے قیام کے ابتدائی مہینوں میں ہی کمزور ترین پاکستان کشمیر کے محاذ پر اپنے سے چھ گنا بڑے دشمن کو للکار رہا تھا ایسے وقت میں کہ جب کشمیر میں بھارت نے اپنی فوجیں داخل کی تھیں اور پاکستان کی افواج کا انگریز کمانڈر جنرل گریسی کسی بھی قسم کے اقدام سے گریزاں تھا تو اسٹیٹ پالیسی کے طور پر قائداعظم محمد علی جناح نے جہاد کا راستہ اختیار کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر کا ایک بڑا حصہ آزاد کروایا تھا وہ نہرو جو کل پاکستان کو ایک کمزور ریاست قرار دیتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ پاکستان شبنم کے قطروں کی مانند ہے جو سورج کی پہلی کرنوں کے ساتھ ہوا میں تحلیل ہوجائے گا آج اقوام متحدہ میں کھڑے ہوکر جنگ بندی کی دہائیاں دے رہا تھا.
یہ پاکستان تھا کہ جس ستمبر 1965 میں اپنے سے کئی گنا عددی اور عسکری قوت رکھنے والے ملک کے دانت کھٹے کیے تھے یہ ٹھیک ہے کہ ہم نے انیس سو اکہتر میں اپنا ایک بازو گنوایا لیکن اس کی بھی وجہ ہندوستان کی بہادری نہیں ہمارا باہمی انتشار تھا لیکن ہم نے ہتھیار نہین ڈالے اور اپنی جنگی صلاحیتوں میں اضافے کی کوشش کرتے رہے دشمن کی ساز شوں کے جال میں پھنس کر زخم زخم ہونے والے پاکستان نے اپنے زخموں سے اٹھنے والی ٹیسوں کو اپنا ہتھیار بنایا تھا اور مستقبل میں اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کے مقابلہ کی تیاری کرتے ہوئے ایٹم بم بنانے جیسے عظیم کارنامے کو سرانجام دیا تھا.
ایسے وقت میں کہ جب دوسرے اسلامی ممالک اپنے اپنے ملکوں میں عیاشی کے اڈے کھول رہے تھے بڑی بڑی اونچی عمارتیں بنانے میں مصروف تھے پاکستان دنیا کا بہترین میزائل سسٹم تشکیل دے رہا تھا پاکستان دنیا کا واحد اسلامی ملک تھا جو دفاعی خود کفالت کی منزل کے حصول کیلئے محنت کرتے ہوئے لڑاکا طیارے جدید ٹینک بکتر بند اور دیگر اسلحہ تیار کررہا تھا.
یہ پاکستان ہی تھا کہ جس نے سرخ ریچھ سوویت یونین کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے للکارا تھا ایسے وقت میں جب دنیا کی بڑی بڑی طاقتیں روس کی خوف سے کانپ رہی تھی پاکستان نے افغانستان کے سنگلاخ پہاڑوں میں اسے شکست فاش دیکر کتنی مسلم اور غیر مسلم ریاستوں کی آزادی کا سامان کیا تھا.
نائن الیون کے بعد افغانستان میں امریکہ کی آمد کے بعد ساری دنیا یہ سمجھ رہی تھی کہ پاکستان ختم ہونے کو ہے یہ پاکستان تھا کہ جس نے بظاہر اپنی مستقل حکمت عملی کو تبدیل کرتے ہوئے یوٹرن لیکر امریکہ سے تعاون کا فیصلہ کیا تھا لیکن وقت نے ثابت کیا کہ یہ فیصلہ صرف اپنی صفیں درست کرنے کیلئے تھا ہر گزرتا دن افغانستان میں امریکہ کیلئے مشکلات میں اضافے کا باعث تھا امریکہ کے ساتھ افغانستان کی سرزمین پر اترنے والے اتحادی ایک ایک کرکے گھر دوڑ رہے تھے جبکہ سپر پاور امریکہ اپنی سپرپاوری بچانے کیلئے میدان میں کھڑا ہونے پر مجبور تھا لیکن مسلسل گرنے والی لاشوں اور اخراجات کے بھاری بھرکم بوجھ نے امریکی سپرپاور کو بھی آخرکار گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا اس جنگ کو جیتنے والے بظاہر افغان طالبان تھے لیکن جن کے ساتھ بیتی تھی وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ اس جنگ میں ان کا اصل حریف کون تھا فاکس نیوز کو دیا گیا امریکی جنرل ڈیمپسی کا انٹرویو سننے کے قابل ہے جس میں امریکی سورما سے جب پوچھا گیا کہ آپ نے عراق اور شام میں داعش کو شکست دیدی لیکن افغانستان میں آپ خود شکست کھا رہے ہیں اس کی کیا وجہ ہے امریکی جنرل نے جواب دیتے ہوئے کہا اس کا جواب صرف ایک لفظ ہے پاکستان ۔۔۔۔
پھر اس نے بیان کرنا شروع کیا کہ امریکیوں کی افغانستان میں آمد کے ساتھ ہی کیسے پاکستان نے مزاحمت کاروں کو منظم کرنا شروع کیا انہیں اپنے پاس پناہ دی انہیں سہولیات فراہم کیں اور پوری جنگ ان کے ساتھ مل کر لڑی.
کیا خیال مسلم ممالک میں کوئی دوسرا ملک ہے جو دنیا کی دو بڑی سپر پاورز کے خلاف مزاحمت کی ایسی تاریخ رکھتا ہو.
یاد رکھیں پاکستان وہ ملک ہے جس نے کشمیر کو ہمیشہ اپنی شہہ رگ قرار دیا ہے بھارت سے ہونے والی سارے جنگوں کا سبب بھی کشمیر ہی ہے آج بھی پاکستان پوری طرح سے کشمیریوں کی پشت پر کھڑا ہے پاکستان کے اسی کردار کے سبب کسی نہ کسی طرح جاری رہنے والی تحریک آزادی کشمیر آج اپنے بام عروج ہر پہنچ چکی ہے اور کیفیت یہ ہے کہ بھارت کو اپنی حمایت کیلئے کشمیر سے ایک قابل ذکر شخص میسر نہیں ہے جس دو قومی نظریہ کو خلیج بنگال میں ڈبونے کا دعوی بھارت کی جانب سے بڑے فخریہ انداز میں کیا جاتا ہے آج پوری آب و تاب سے دوبارہ افق دنیا پر نمودار ہوچکا ہے فاروق عبداللہ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی جیسے سکہ بند بھارت نواز بھی آج اعتراف کرنے پر مجبور ہیں کہ ان سے بھارت کو سمجھنے میں غلطی ہوئی تھی وہ کہہ رہے ہیں ہم غلط تھے اور محمد علی جناح درست ۔۔۔۔
معزز قارئین یقین رکھیں آزادی کشمیر کی منزل قریب تر ہے اپنے حوصلوں کو بلند اور اپنی صفوں میں اتحاد برقرار رکھئے آج کی صورتحال میں دشمن کا سب سے کاری وار وہ پروپیگنڈہ ہے جو وہ پاکستان عوام اور افواج کے بیچ غلط فہمیاں پھیلانے کیلئے کرتا ہے ایسے منفی پروپیگنڈہ سے خود بچنا بھی ضروری ہے تو دیگر پاکستانیوں کو بچانا بھی ضروری ہے اس لئے ہمہ وقت چوکنا اور چوکس رہئے جان لیجئے اس وقت پاکستان میں فرقہ واریت لسانیت علاقائیت سمیت انتشار کی کوئی بھی بات کرنے والا شخص ملک و ملت کا دشمن ہے دوست نہیں ۔۔۔
اللہ رب العزت نے پاکستان کو آج بھرپور دفاعی صلاحیتوں سے نوازا ہے بہت جلد وطن عزیز اپنے معاشی مسائل سے بھی باہر نکل آئے گا اور یہ وہ وقت ہوگا کہ جب پاکستان قائد ہوگا اور ساری دنیا کے مسلمان اس کے پیچھے چلتے ہوئے اپنی کھوئی ہوئی عظمت رفتہ حاصل کریں گے اسی لئے
پاکستان سے محبت کیجئے
پاکستان کی حفاظت کیجئے
اسلام زندہ باد
پاکستان پائندہ باد -

ہمیں 65 کی زبان بھی آتی ہے : علی چاند
پاکستان 14 اگست 1947 کو معرض وجود میں آیا تھا ۔ پاکستان بنانے کا مقصد ایک الگ اسلامی معاشرے کی تشکیل تھا جہاں مسلمان اسلامی قوانین پر آزادی کےساتھ عمل کر سکیں ۔ لیکن بھارت کو کبھی بھی یہ بات گوارا نہیں ہوٸی کہ مسلمان پر امن طریقےسے زندگی گزاریں ۔ بھارت نے پاکستان کو ختم کرنے کے لیے مسلمانوں کی الگ پہچان ختم کرنے کے لیے 6 ستمبر 1965 کو پاکستان پر حملہ کر دیا ۔ پاکستانی افواج نے اپنی غیور اور بہادر عوام کے ساتھ مل کر دشمن کے ناپاک عزاٸم کو خاک میں ملا دیا اور اپنے دشمن کو ایسی ذلت سے دوچار کیا جس کا داغ اگر دشمن دھونا بھی چاہے تو بھی صدیوں میں بھی نا دھو پاٸے گا ۔ پاکستان میں یہ دن یعنی 6 ستمبر کا دن یوم دفاع پاکستان کہلاتا ہے اور تمام پاکستانی ہر سال یوم دفاع پاکستان پورے جوش و جذبے کے ساتھ مناتے ہیں اور اس دن بھارت کو دوبارہ باور کرواتے ہیں کہ اگر تم نے پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھا تو ہم تمہارا وہی حال کریں گے جو 1965 کی جنگ میں کیا تھا ۔ پاکستانی افواج اور عوام نے 6 ستمبر 1965 کی جنگ میں ثابت کردیا کہ ہم بدر و حنین والوں کے وارث ہیں جو نہ تو ڈرتے ہیں نہ بزدلی دیکھاتے اور نہ ہی اپنے کسی دشمن سے خوف زدہ ہوتے ہیں ۔ اس جنگ میں بھی پاکستانیوں نے مسلمانوں کی تاریخ دہراتے ہوٸے دشمن کا تکبر خاک میں ملا دیا اور اپنے سے کٸی گنا بڑے دشمن کو سر اٹھانے کے قابل نہ چھوڑا ۔
اس دن کو منانے کا مقصد یہ ہے کہ ہم دشمن ہر واضع کر دیں کہ ہم اپنے دشمن کا نام و نشان مٹانا جانتے ہیں ، اپنا دفاع کرنا جانتے ہیں اور اپنے وطن کی طرف میلی نگاہ ڈالنے والے کو نیست و نابود کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں ۔ یوم دفاع پاکستان پاکستان کی غیور ، بہادر اور پر عزم افواج اور عوام کا دن ہے جس دن سب پاکستانی چاہے ان کا تعلق کسی بھی شعبے سے ہو یہ عہد کرتے ہیں کہ ہم اپنے وطن پر کبھی آنچ نہیں آنے دیں گے اور پاکستان کی حفاظت میں سر دھڑ کی بازی لگا دیں گے ۔ یوم دفاع پاکستان شجاعت و بہادری کا دن ہے وہ دن جس دن پاکستانی افواج نے اپنی عوام سے مل کر اپنے سے کٸی گنا دشمن کا غرور و تکبر نیست و نابود کر دیا ۔ یوم دفاع پاکستان وہ دن ہے جس دن کی ذلت کا داغ دشمن کبھی نہیں دھو سکتا ۔ یہ دن ناقابل تسخیر جذبوں کا دن ہے ، یہ دن ہر پاکستانی کا سر فخر سے بلند کرنے کا دن ہے ، یہ دن ہماری آن ، بان ، شان اور وطن سے محبت کے ثبوت کا دن ہے ۔ یہ میرے شہیدوں غازیوں ان کے گھر والوں کے زندہ و جاوید جذبوں اور بہادری و جرات کا دن ہے۔ یہ وہ دن ہے جس نے ثابت کیا کہ مسلمان ماٸیں اپنے جگر کے ٹکڑوں کو میدان جنگ میں بھیجتے ہوٸے ذرا بھی خوف نہیں کھاتیں ۔ یہ وہ دن ہے جس نے ثابت کیا کہ ایک بہن اپنے بھاٸی کو وطن کی محبت میں کیسے وطن پر لٹا دیتی ہے ۔ یہ وہ دن ہے جس نے ثابت کیا کہ ایک باپ اپنا جوان خون اور ایک بھاٸی اپنا بازو ( بھاٸی ) کیسے وطن پر قربان کرتا ہے ۔ یہ وہ دن ہے جس نے ثابت کیا کہ یہاں لڑکیاں جوانی میں بیوہ تو ہوسکتی ہیں لیکن کبھی شوہر کو جہاد سے غافل نہیں ہونے دیتی ۔ یہ وہ دن ہے جس نے ثابت کیا کہ یہاں بچے یتیم تو ہو سکتے ہیں لیکن اپنے پیارے وطن پاکستان پر کوٸی آنچ نہیں آنے دیں گے ۔ اس دن نے ثابت کیا کہ یہاں ماتم کر کے اپنے بچوں کے لاشے وصول نہیں ہوتے بلکہ ایک جوان کی شہادت باپ اور بھاٸی کا سینہ فخرسے اور بھی چوڑا کر دیتی ہے ۔ اس دن نے ثابت کیاکہ یہاں ایک جوان کی شہادت بوڑھی ماں کو جوانی کی طاقت ، اور یتیموں کو وقت سے پہلے جوان کر دیتی ہے ۔ اس دن نے ثابت کیا کہ یہاں ایک گھر میں اگر ایک جوان شہیدہو کر آٸے تو اس پر ایسا فخر ہوتا ہے کہ اسی گھر سے دو تین مرد اور رتبہ شہادت پانے کو نکلیں گے ۔ پاکستانی افواج اور عوام نے اس دن دنیا کو ثابت کر دیکھایا کہ ہاں ہم زندہ قوم ہیں ، پاٸیندہ قوم ہیں ۔
اس دن پاکستانیوں نے ثابت کر دیا کہ دنیا کی کوٸی طاقت ہمیں ہرا نہیں سکتی ، دنیا کی کوٸی طاقت ہمیں بزدل نہیں بنا سکتی ۔
پاکستان نے اس سال اپنایوم دفاع پاکستان اپنی شہہ رگ کشمیر کے ساتھ یوم یکجہتی کے طور پر منانے کا علان کیا ہے ۔ بھارت جب پاکستان سے منہ کی کھاتا ہے تو وہ پاکستان کا غصہ مجبور اور بے بس کشمیریوں پر نکالتا ہے ۔ نہ صرف کشمیریوں بلکہ انڈیا میں بسنے والی اقلیتوں کا بھی جینا حرام کر دیا جاتا ہے ۔ اب بھی ایک ماہ ہونے کو ہے بھارت نے کشمیر میں کرفیو لگایا ہوا ہے کشمیری عوام کو بنیادی انسانی حقوق تک میسر نہیں ۔ ادویات اور غذا کی انتہاٸی شدید قلت ہے ۔ عالمی میڈیا چیخ چیخ کر مودی کی ظلم و بربریت دنیا والوں کو دیکھا رہا ہے کہ کیسے بھارتی افواج کشمیری جوانوں ، بوڑھوں ، بچوں اور عورتوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں ۔ پاکستان نے یوم دفاع پاکستان کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر منانے کا اعلان اس وجہ سے کیا ہے تاکہ دنیا بھر کی نظریں کشمیریوں کے حق خود ارادیت اور بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کی طرف دلاٸی جاسکے ۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت پر یہ بھی واضح کیا جاٸے گا کہ ہم نے جس طرح تمہارا غرور 1965 میں خاک میں ملایا تھا اب بھی ہم تم سے اپنہ شہہ رگ چھڑوا کر تمہیں خاک میں ملاٸیں گے ۔ ابھی ہم پر امن اس لیے ہیں تاکہ یہ مسلہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق پر امن طریقے سے حل ہوجاٸے لیکن اگر بھارت نے ہماری امن کی زبان نہ سمجھی تو پھر اسے اسی زبان میں سمجھاٸیں گے جو ہم ان 1965 کی جنگ میں استعمال کی تھی ۔
اللہ پاک میرے وطن کے تمام شہیدوں اور ان کے گھر والوں کے درجات بلند فرماٸے ۔ ہمیں وطن پر مر مٹنے کی توفیق عطا فرماٸے ۔ ہمارے پیارے پاکستان کو شاد و آباد رکھے اور ہمیں ملی غیرت عطا فرماٸے ۔ کشمیر کو آزاد فضاٸیں نصیب فرماٸے ۔ آمین
