Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف کا یوم تکبیر پر ٹویٹ

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف کا یوم تکبیر پر ٹویٹ

    یوم تکبیر کے تاریخی دن پاکستان اسلامی دنیا کی پہلی جوہری قوت بن کر ابھرا۔ وزیراعظم نوازشریف نے خطرات، دھمکیوں اور لالچ کی پرواہ نہ کرتے ہوئے قائدانہ صلاحیتوں کا بے مثال مظاہرہ کرتے ہوئے فیصلہ کن انداز میں پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیربنادیا۔ قومی سلامتی کے لئے جوہری صلاحیت ناگزیر ہے.

  • کشمیر و بھارت میں مسلمانوں پر ظلم کی انتہا کرنے والے مودی کو لداخ میں چینی قبضے پر سانپ سونگھ گیا از طہ منیب

    تین دن قبل چائنہ نے پانچ ہزار فوج کے ساتھ پانچ اطراف شمالی سکم، گولان ، ناکولا پاس سے بھارت پر چڑھائی کی اور تقریباً پانچ کلو میٹر تک لداخ اندر گھسنے کے بعد قبضہ کرتے ہوئے اسی خیمے گاڑ دئیے ، پچاس کے قریب بھارتی فوجی گرفتار کیے ھو بعد ازاں انڈین آفیشلز کے رونے دھونے پر چھوڑ دئیے گئے، چینی فوج نے گولیاں بارود پھونکنے کی بجائے کنگ فو ، کراٹے، مارشل آرٹس کا مظاہرہ کرتے ہوئے ، مکوں ، گھونسوں ، ٹھڈوں ، دھکوں اور ڈنڈوں سے پیچھے دکھیلا جبکہ گالیوں ، ڈانٹ ڈپٹ کی بھی وارفئر اس بار دیکھنے میں آئی جب چینی فوج میں موجود ایک فوجی نے ارناب گوسوامی کے انداز میں بھارتی افسر کو سمجھایا جو منتوں ترلوں سے سمجھانے آیا تھا کہ کچھ صبر لیں ہمارے بڑے آ رہے ہیں وہ مل بیٹھ کر بات کر لیں گے وغیرہ وغیرہ ، اسی طرح ایک جگہ ہند کی بہادر آرمی آنگلش و چینی زبان میں ایک بینر اٹھائے کھڑی تھی کہ جس جگہ آپ کھڑے ہیں یہ معاہدہے کے مطابق یہ جگہ ہماری ہے تو آپ پلیز گو بیک۔ چائنہ نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے ٹھیک اگلے دن اپنے شہریوں کو بھارت چھوڑنے کا اعلان کر دیا۔

    آج کی اطلاعات کے مطابق چائنہ نے مزید اپنے مزید پانچ ہزار فوجی بڑھا کر کل دس ہزار تعداد کر دی ہے جنہوں نے پیش قدمی کرتے ہوئے لداخ کی ایک پوری وادی ملکیت کا دعویٰ کر دیا ہے ، اسی طرح سیٹلائیٹ تصاویر کے مطابق لداخ کے قریب چینی سائڈ پر موجود ائر بیس پر چائنہ بڑی تعداد میں تعمیرات کر رہا ہے جس چائنہ کے لداخ سے متعلق مستقبل کی پلاننگ واضح ہوتی ہے۔

    کشمیر کی متنازعہ حیثیت کا خاتمہ ، بلوچستان میں دہشتگردی ، گلگت بلتستان میں فنڈنگ امریکی ایماء پر بھارت کی پاکستان و چین کے مشترکہ پراجیکٹ سی پیک کے خلاف بڑی سازش کو منطقی انجام تک پہنچانے یا کسی حد تک بھارت کو لداخ میں محدود کرنے کی چینی پلاننگ ہو سکتی ہے۔

    چائنہ سے مار کھانے، منتیں ترلے، درخواستیں اور جواب کے بجائے بینر اور احتجاج کرنے والی یہ فوج وہی ہے جس کے سربراہ مودی ڈھاکہ میں کھڑا ہوکر اعتراف کرتا ہے کہ ہم نے رت بہایا تو تمہیں پاکستان سے آزادی ملی،یہ وہی فوج ہے نے کشمیر میں میں ستر سالوں سے جاری ظلم و ستم میں شدت پیدا کی، آرٹیکل 370 کو ختم کرکے نو ماہ تک بدترین لاک ڈاؤن رکھا ، یہ وہی مودی کا بھارت ہے جس نے کشمیر کی امتیازی حیثیت کو ختم کرنے کے بعد بابری مسجد کا یکطرفہ فیصلہ کروا کر رام مندر کی تعمیر کا فیصلہ کروایا ، یہ وہی امت شاہ کا انڈیا ہے جس نے سیٹیزن شپ امینڈمنٹ ایکٹ لگا کر سینہ ٹھونک کر کہا ہم نے جو کہا کیا ، اور ہر بار کشمیر میں عسکریت پسندی کی ہوئی کسی کاروائی پر چون انچ کا سینہ پھلا کر پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے دعویدار مودی کو چائنہ کی لداخ میں پیشقدمی اور بھارتی ذلت پر سانپ سونگھ گیا ہے، دہلی خاموش ہے، کسی قسم کی سرجیکل اسٹرائک ، گھس کر مارنے کی بھڑک تاحال سامنے نہیں آسکی۔ تاہم بھارتی متشدد دفاعی تجزیہ جنرل ر بخشی نے احتجاجاً اپنی ایک سائڈ کی مونچھیں کٹوا لی ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ بھارت کے جنونی عوام، چیختے چنگھاڑتے اینکرز اور بھڑکیں مارتے وزرا کیا پالیسی اپناتے ہیں۔

  • صحافی کی بے دردی سے پٹائی، دو پولیس اہلکار معطل

    صحافی کی بے دردی سے پٹائی، دو پولیس اہلکار معطل

    بھارتی پنجاب حکومت نے موہالی سے شائع ہونے والے ایک مقامی اخبار کے صحافی کی بے رحمی سے پٹائی کرنے والے دونوں پولیس اسسٹنٹ سب انسپکٹر کو معطل کر دیا ہے. مقامی پنجابی اخبار کے صحافی میجر سنگھ پنجابی ایک مقامی گرودوارے میں دو گروپوں کی ایک مفاہمتی میٹنگ کی کوریج کے لئے گئے. جب کہ اسی دوران موہالی پولیس اسٹیشن فیز 1 کے دو اسسٹنٹ سب انسپکٹروں (اے ایس آئی) نے ان کی پٹائی کر دی جس سے وہ شدید زخمی ہو گئے۔ میجر سنگھ پنجابی کی تصویریں اور ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد صحافیوں کی کئی تنظیموں نے سخت احتجاج کیا جس کے بعد ملزم پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا۔ میجر سنگھ اس وقت موہالی کے سول ہاسپٹل میں زیرعلاج ہیں۔ میجر سنگھ نے کہا کہ 22 مئی کی دوپہر کو وہ گرودوارے میں دو گروپوں کے درمیان ایک میٹنگ کو کور کرنے گئے تھے جب وہ وہاں پہنچے تواے ایس آئی اوم پرکاش اور امرناتھ کو دیکھا، جو ایک شخص جسپال سنگھ کو پکڑ کرکمرے سے باہر لا رہے تھے. انہوں نےاپنے موبائل فون سے اسے ریکارڈ کرنا شروع کر دیا اور جسپال سے بات کرنے کی کوشش کی۔ پولیس نے انہیں ویڈیو بناتے سے روکا لیکن انہوں نے پولیس کو بتایا کہ وہ صحافی ہیں اور کوریج کے لئے آئے ہیں اس کے باوجود دونوں پولیس اہلکارزبردستی انہیں ایک نجی گاڑی میں بٹھاکرموہالی کے فیز 1 پولیس اسٹیشن لے گئے۔ انہیں جس گاڑی میں بٹھایا گیا اس کا نمبر پلیٹ ہریانہ کا تھا۔ انہوں نے بتایاکہ گاڑی سے اترنے سے پہلے ہی اے ایس آئی اوم پرکاش نے ڈنڈے سے ان کی پٹائی شروع کر دی۔ دونوں انہیں گھسیٹ کر لاک اپ میں لے گئے، جہاں نہ صرف انہیں پیٹا کیا گیا بلکہ بے عزت بھی کیا گیا۔ ان کی پگڑی بھی کھول دی جب کہ وہ باربار پولیس والوں کو کہتے رہے کہ ان کی پگڑی کو ہاتھ نہ لگائیں لیکن انہوں نے ایک نہ سنی. اس کے ساتھ ساتھ ان کی جیب میں موجود کنگا بھی پھینک دیا.انہوں نے کہا کہ ان کے بائیں پیر، دونوں بازو اور پیٹھ میں شدید چوٹیں آئیں. موہالی کے ڈپٹی کمشنر گریش دیالن کا کہنا ہے کہ انہوں نے موہالی کے ایس ڈی ایم جگدیپ سہگل کو معاملے کی آزادانہ تحقیقات کر کے تین دنوں میں رپورٹ پیش کرنے کو کہا ہے۔اس دوران چنڈی گڑھ پریس کلب اور چنڈی گڑھ جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے صدربلوندر سنگھ اور ڈوسرے نے پنجابی پر حملے کی مذمت کی اور قصور واروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا.

  • طیارے کےالمناک حادثہ پربھارتی ہندووں کا انتہائی شرمناک رویہ

    طیارے کےالمناک حادثہ پربھارتی ہندووں کا انتہائی شرمناک رویہ

    پاکستان پر دہشت گردی کا الزام لگانے والےدنیا کےسب سے بڑے دہشت گرد ریندر مودی کے ملک بھارت کے عوام کی ذہنیت بھی مودی کی طرح دہشت گردانہ ہو چکی ہے.

    کشمیر میں ہونے والے ظلم و بربریت کی طرف دھیان نہ کرنے والے بھارتی گھٹیا ذہنیت کی مالک عوام نے پاکستان میں ہونے والے المناک طیارے کے حادثہ پر انتہائی شرمناک رویہ اختیار کیا ہے سوشل میڈیا پرجتنے گھٹیا کمنٹس بھارتی عوام نے دئے دنیا بھر میں اس کی مثال نہیں ملتی. اگر آج ہٹلر زندہ ہوتا تو اس کا سر بھی شرم سے جھک جاتا. دنیا کے کسی بھی مذہب میں انسانیت پر کسی بھی طرح کے سانحہ گزرنے پردکھ اور افسوس کا اظہار کیا جاتا ہے لیکن بھارتی مودی کے ہندوتوا کا پرچار کرنے والے عوام کو شرم نہیں آئی.

  • پاکستان کی معیشت کے لئے سی پیک کے ثمرات

    پاکستان کی معیشت کے لئے سی پیک کے ثمرات

    پاکستان اور چین ’سدابہار سٹرٹیجک کوآپریٹو شراکت دار‘ ہیں۔ ہم باہمی احترام و مفاد، یکساں نفع مند تعاون اور مشترکہ ترقی کی بنیاد پر خطے میں امن، ترقی اور استحکام کے فروغ کے لئے کاربند ہیں۔ ہمارے تعلقات باہمی گہرے اعتماد اور ہم آہنگی پر مبنی ہیں۔ عوام کی معاشی ترقی اور طویل المدتی خوشحالی ہماری حکومتوں کی اولین ترجیح ہے۔ سی پیک ’ بیلٹ اینڈ روڈ‘ (بی۔آر۔آئی) تصور کا فلیگ شپ منصوبہ ہے جو پاکستان کی قومی ترقی میں مثبت و شفاف نمایاں تبدیلی لانے والا کلیدی منصوبہ ہے۔ پاکستان سمجھتا ہے کہ خطے کو معاشی بندھن میں باندھنے اور راستوں سے جوڑنے کا عمل پورے علاقے میں وسیع البنیاد شرح نمو کو تیز کرنے کا باعث بنے گا۔ ہم نے بارہا اس امر کو نمایاں کیا ہے کہ سی پیک منصوبہ جات سے متعلق ہمارا کل قرض ہمارے مجموعی قومی قرض کے 10 فیصد سے بھی کم ہے۔ مزید برآں چین سے لیاجانا والا قرض 20 سال کے بعد ادا کرنا ہے اور اس کا شرح سود2.34 فیصد ہے۔ اگر گرانٹس بھی اس میں شامل کرلی جائیں تو یہ شرح دو فیصد پر آجاتی ہے۔ بعض تبصرہ نگاروں اوررہنماوں کے سی پیک سے متعلق پاکستان کے قرض کے بارے میں دعوے حقائق کے برعکس ہیں۔
    اعادہ کیاجاتا ہے کہ سی پیک ایک طویل المدتی منصوبہ ہے جس سے توانائی، انفراسٹرکچر، صنعت کے فروغ اور روزگارکے نئے مواقع پیدا کرنے میں بڑی مدد ملی ہے۔ پاکستان اور چین کے درمیان باہمی مفاد کے امور زیرغور لانے کے کئی طریقہ ہائے کار موجود ہیں۔ ان امور کو دوطرفہ طورپر نمٹانے کے لئے دونوں ممالک مستقل رابطے میں رہتے ہیں۔

  • بھارت نے کوئی حرکت کی تو انجام بہت برا ہو گی، پاکستان کی وارننگ

    پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھارت کو للکارتے ہوئے وارننگ دی ہے کہ اگر بھارت نے کوئی حماقت کی تواسے فوری طور پر مناسب جواب ملے گا۔ ملتان میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال دنیا کے سامنے ہے اور کسی سے ڈھکی چھپی نہیں.انہوں نے کہا کہ کورونا کےبعد پوری دنیا کو اس کی توقع تھی کہ بھارت کشمیر میں نرمی کرےگالیکن بد قسمتی سےایسا نہیں ہوابلکہ بھارت نے پاکستان کو بھی آنکھیں دکھانا شروع کردیں. انہوں نے کہا کہ خطے میں بھارت ایڈ ونچر کرنا چاہتا ہے جب کہ حکومت پاکستان کی خواہش ہے کہ امن کیلئے سازگار ماحول قائم کیا جائے. وزیر خارجہ نے کہا کہ اسرائیل میں چینی سفیر کی ہلاکت پر ابھی کوئی قیاس آرائی نہیں کروں گا. انہوں نے مزید کہا کہ ہم ہزاروں کی تعداد میں بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کو وطن واپس لائے ہیں جب کہ بیرون ملک موجود ایک لاکھ 10 ہزار افراد واپس آنا چاہتے ہیں، باہر سے آنے والوں کو قرنطینہ کرنا ایک بڑا مسئلہ ہے ان کی وطن واپسی سے قبل ہم قرنطینہ کی گنجائش بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

  • ارطغرل غازی نے دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑ دئیے، تحریر طہ منیب

    ارطغرل غازی ترکی کی ایک معروف ڈرامہ سریل ہے جو ترکی کے سرکاری چینل ٹی آر ٹی کی پروڈکشن ہے، تین سو سے زائد اقساط اور پانچ سیزنز پر مبنی یہ سیریل خلافت عثمانیہ کی بنیاد رکھنے والے ترک قائی قبیلے ایک سردار ارطغرل غازی کی زندگی کے نشیب و فراز ، سازشوں و چالوں اور بیک وقت عیسائیوں، منگولوں اور اندرونی سازشوں کا مقابلہ کرکے ترک ریاست کے قیام کی کہانی ہے جو بعد ازاں اسکے تیسرے بیٹے عثمان کے نام سے ایک ترک ریاست سے بڑھ کر خلافت عثمانیہ کی بنیاد پر منتج ہوتی ہے۔ کورلش عثمان کے نام سے ایک نئی سیریز ارطغرل کا تسلسل ہے اور اسکے بیٹے عثمان کی زندگی پر بنائی گئی ہے جسکا پہلا سیزن ٹی آر ٹی ترک سرکاری چینل پر دکھایا جا رہا ہے۔

    ارطغرل اسلامی روایات جہاد، عدل و انصاف اور دیگر شعائر کی ترجمانی کرتا فلم و ڈرامہ انڈسٹری کا شاہکار ہے، جس نے دنیا بھر میں مقبولیت کے ریکارڈ توڑے ہیں۔ متعدد تراجم اور سب ٹائٹلز کے ساتھ چوبیس سے زیادہ ممالک کے سرکاری و غیر سرکاری چینلز پر دکھایا جانے والا یہ ڈرامہ ہالی وڈ انڈسٹری پر بم بن کر گرا ہے۔ نیویارک ٹائمز تک کو آرٹیکل لکھنا پڑ گیا کہ ترکی اس ڈرامے کو بنیاد بنا کر خلافت عثمانیہ تجدید نو پر گامزن ہے۔ سعودیہ عرب، متحدہ عرب امارات نے فتویٰ کی بنیاد پر سرکاری طور پر ارطغرل کو بین کیا جبکہ بھارت نے بھی بین کیا ہے۔

    ارطغرل یوٹیوب چینل پرصرف دو ہفتوں میں ایک ملین سبسکرائبرز

    چند ماہ قبل وزیراعظم پاکستان کی ترک صدر طیب ارگان سے ملاقات کے بعد ارطغرل کے اردو ترجمہ کی پاکستانی سرکاری چینل پی ٹی وی پر آن ائر کرنے کی خواہش کا اظہار کیا جو تسلیم کیا گیا، ٹی آر ٹی ارطغرل پی ٹی وی کے نام سے رمضان سے چند دن قبل یوٹیوب پر ایک نیا چینل بنایا اور روزانہ کی بنیاد پر شام سات بج کر پینتالیس منٹ پر نئی قسط اپلوڈ کی جاتی ہے جس کی ری پیٹ رات اور اگلے دن بارہ بجے دکھائی جاتی ہے۔ ارطغرل اردو کا یوٹیوب چینل مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کرتے ہوئے صرف دو ہفتوں میں ایک ملین سبسکرائبرز کا عدد عبور کر چکا ہے جبکہ یوٹیوب پر ورلڈ ریکارڈ ایک مہینے میں چھے اعشاریہ چھے ملین سبسکرائبرز کا ہے، اب پی ٹی وی کا اگلا ہدف یقیناً پچیس اپریل تک چھے ملین سے زائد سبسکرائبرز لے کر ورلڈ ریکارڈ بنانے کا ہے یہ ہدف مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔ اس مقبولیت نے پی ٹی وی کے مردہ گھوڑے میں جان ڈال دی ہے جو گزشتہ ایک دہائی سے زوال کا شکار تھا۔

    پی ٹی وی کی پروموشنل ٹویٹ

    یوٹیوب پر اب تک اپلوڈ کی گئی ہر قسط کے ویوز ملینز میں ہیں

    ارطغرل ڈرامہ سیریل یوٹیوب پر اب تک اپلوڈ ہوئی تمام چودہ اقساط میں ہر ایک کے ویوز ملینز میں ہیں۔ ارطغرل غازی ٹویٹر پاکستان پر اب تک متعدد بار ٹرینڈنگ ٹاپک بن چکا ہے اس وقت بھی ٹاپ ٹرینڈ ارطغرل سے متعلق ہی ہے۔ #ErtugrulYoutubeRecord ۔فیس بک پر گزشتہ دو ہفتوں سے ارطغرل زیر بحث ہے، جہاں ارطغرل کے حامیوں کی بڑی تعداد اس کے فوائد و ثمرات گنوا رہی ہے وہاں فریق مخالف بھی فتاویٰ اور دیگر دلائل کے ہمراہ میدان میں ہے۔ ٹک ٹاک پاکستان پر بھی ہر دوسری ویڈیو کا عنوان ارطغرل ہی ہے۔

    پی ٹی وی کا یوٹیوب ریکارڈ ٹویٹر پر بھی ٹاپ ٹرینڈ

    جہاں پاکستان کے بہت سے معروف لوگوں حمزہ علی عباسی و دیگر نے اسکی حمایت کی اور دیکھنے کی درخواست کی وہاں لالی وڈ انڈسٹری کے کچھ بڑے نام جیسا کہ شان شاہد نے اسکی مخالفت کی اور اپنے ہیروز پر کام کرنے کی تجویز دی۔قطع نظر اختلافات کے ارطغرل غازی ڈرامہ سیریل اس سے بہت بہتر ہے جو پروڈکشن پاکستانی اور انڈین ڈرامہ و فلم انڈسٹری پیدا کر رہی ہے۔

  • FATF اور اس کا طریقہ کار کیا ہے، پاکستان ہی FATF کے چنگل میں کیوں؟؟

    FATF اور اس کا طریقہ کار کیا ہے، پاکستان ہی FATF کے چنگل میں کیوں؟؟

    پاکستان کے الیکٹرانک، پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا پر پچھلے کچھ عرصہ سے FATF کی خبروں، تبصروں، تجزیوں اور پیشین گوئیوں سے بھرا پڑا ہے اس کی وجہ بھی آپ لوگوں کو معلوم ہے کہ پاکستان جون 2018 سے FATF کی گرے لسٹ میں اور FATF کے دیئے گئے ایکشن پلان پر عمل درآمد کرتا چلا آرہا ہے لیکن FATF کسی طور مطئمن ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا ہم اس پر بات کریں گے کہ آخر اس کی وجوہات کیا ہیں کہ FATF آخر پاکستان سے خوش کیوں نہیں ہورہا حالانکہ 16 فروری سے اکیس فروری تک جاری رہنے والے اجلاس سے قبل ہمارے دوست ممالک نے بھی بڑی یقین دہانیاں کروائی تھیں اور عزت مآب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی بڑے دعوے کیے تھے کہ فلاں بھی ہمارے ساتھ ہے اور فلاں بھی ہمارے ساتھ لیکن اجلاس کے بعد وہی FATF کے محبوبہ کی خواہشات کی طرح بڑھتے ہوئے "ڈو مور” کے مطالبات ہیں.
    ہمارے بہت سارے احباب تو FATF کو ہی نہیں جانتے کہ یہ کیا بلا ہے اور کیونکر ہمارے سروں پر مسلط ہوئی ہے.FATF کا قیام جولائی 1989 میں جی سیون (G-7) ممالک کے فرانس منعقدہ اجلاس میں کیا گیا تھا. بعدازاں اس کی تعداد بڑھتی رہی اور ابھی دو علاقائی تنظیموں سمیت 39 ممالک اس FATF کا حصہ ہیں. بنیادی طور پر یہ بین الحکومتی ٹاسک فورس ہے جو منی لانڈرنگ جیسے جرائم کے خلاف ملکوں کے مشترکہ اقدامات کے لیے قائم کی گئی مگر نائن الیون کے بعد جب دنیا میں دہشت گردی اور War Against Terror کی صدائیں متواتر سنائی دی جانے لگیں تو FATF کے بنیادی مقاصد میں منی لانڈرنگ کے ساتھ ساتھ ٹیرر فنانسنگ کو مانیٹر کرنے اور اس کی روک تھام کے لیے اقدامات کا اضافہ کیا گیا. FATF منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ کی روک تھام کے لیے ٹیکنیکل طریقہ کار کو اختیار کرتی ہے اور ممبر ممالک میں ایسے قوانین وضع کرواتی ہے جن کی زد میں آکر ٹیرر فنانسنگ اور منی لانڈرنگ جیسے جرائم کی روک تھام ہوسکے اور ان میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لاکر سزائیں وغیرہ دی جاسکیں.
    اس FATF کے طریقہ کار اور اسٹینڈرڈ سب ممالک کے لیے ایک جیسے ہوتے ہیں. جو ممالک ان اسٹینڈرڈز پر پورا نہ اتریں اور وہاں سے افراد یا تنظیمیں منی لانڈرنگ یا ٹیرر فنانسنگ میں ملوث ہوں تو ان پر نظر رکھنے اور وہاں سے ان جرائم کے خاتمے کے لیے اقدامات کرنے کے لیے ان کو گرے لسٹ میں ڈالا جاتا ہے. جو ممالک FATF کے دیئے گئے ایکشن پلان پر عمل کرکے ان جرائم پر قابو پالیں تو ان کو دوبارہ سے وائٹ کردیا جاتا ہے اس کے لیے سال میں تین دفعہ جائزہ سیشنز ہوتے ہیں جن میں ممبر مماک کے نمائندے شامل ہوتے ہیں یہ جائزہ سیشنز فروری، جون اور اکتوبر میں ہوتے ہیں. لیکن اگر ان سبھی جائزہ سیشنز کے بعد بھی کوئی ملک FATF کے دیئے گئے ایکشن پلان پر عمل نہ کرسکے تو اس کو بلیک لسٹ کردیا جاتا ہے اور بین الاقوامی سطح پر اس ملک کے ساتھ لین دین اور برآمدات و درآمدات متاثر ہوجاتی ہیں ، آئی ایم اور ورلڈ بینک جیسی تنظیمات بھی اس ملک سے ہاتھ کھینچ لیتی ہیں وغیرہ وغیرہ.
    یہ تو تھیں پڑھی لکھی باتیں جو قوائد و ضوابط کا حصہ ہوتی ہیں یا ہیں لیکن آپ کو یہ بات جان کر بڑا تعجب ہوگا کہ اس وقت FATF کی گرے لسٹ میں پاکستان کے علاوہ جو ممالک شامل ہیں 90 فیصد دنیا ان کے نام تک بھی نہیں جانتی ہے اور FATF کی حالیہ بلیک لسٹ میں صرف دو ملک شمالی کوریا اور ایران شامل ہیں. یعنی بجز ان تین سرکردہ ممالک کے باقی ساری دنیا بہت شریف ہے. امریکہ جس نے وار آن ٹیرر کے نام پر ملکوں کے ملک اجاڑ دیئے، لاکھوں انسانوں کو قتل کیا، امریکن خفیہ ایجنسیاں جو دنیا بھر میں اپنے پنجے گاڑی بیٹھی ہیں وہ FATF کی نظر میں بالکل شریف ہیں. بھارت کہ جس کی مسلسل لابنگ اور کوششوں سے پاکستان FATF کا منظور نظر ٹھہرا ہے اس کی اپنی کیفیت دیکھیں تو ایک کلبوشن یادیو اور اس کی ٹیرر فنانسنگ کا سب سے بڑا ثبوت ہے جو اپنے مکمل نیٹ ورک کے ساتھ پکڑا گیا تھا اس کے علاوہ بھارت کی اپنی سبھی ہمسائیہ ریاستوں میں ٹیرر پھیلانے کے لیے کی گئی فنانسنگ بڑی پاک صاف ہے جو FATF کی پکڑ میں نہیں آتی.کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی اور کشمیریوں کی نسل کشی FATF کے کسی قانون یا معیار کے نزدیک جرم نہیں ٹھہرتا جو اسے کلین چٹ دی ہوئی ہے.

    اور پاکستان جو امریکہ کی war on terror میں شامل ہونے کی غلطی کربیٹھا تھا اور تاحال اپنے ہی گلی محلوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے ہزاروں جانیں اس دہشت گردی کی نظر ہوچکی ہیں، پاکستان کی اکانومی کا بھٹہ اس دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بیٹھ چکا ہے اور دنیا بجائے پاکستان کی کوششوں کا اعتراف کرکے پاکستان کو اس اکنامک کرائسز سے نکلنے میں مدد دینے کے پکڑ کر FATF کے کٹہرے میں بٹھا کر ڈو مور کی ایک لمبی فہرست تھما دی کہ جاؤ یہ یہ کام کرکے آؤ، فلاں فلاں بندے کو جکڑ کر سزاء دے کر آؤ کہ وہ اسلامی معاشی نظام کے تحت صدقے اور زکوٰة جیسی معمولی رقومات سے دنیا کا بہترین ریلیف کا نیٹورک چلا کر ہمارے سودی اور سامراجی نظاموں کے خلاف ایک صاف شفاف اسلامی نظام کیوں کھڑا کر رہے ہیں.
    پاکستان نے FATF کی ایما پر پاکستان میں جن افراد کو پکڑ کر سزاؤں سے نوازا ہے اور ان کے سبھی ادارے حتیٰ کے ایمبولینسز، ڈسپنسریز اور اسکولز تک اپنی تحویل میں لے لیے ہیں ان کو ماضی میں پاکستان کی عدالتیں بالکل کلیئر کرچکی ہیں اور دنیا بلکہ حتیٰ کہ اقوام متحدہ تک یہ مانتی اور جانتی ہے کہ ان افراد کا دہشت گردی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اور اب اس شخص کو جس کیس میں گیارہ سال قید بمع جرمانے کے سزاء سنائی گئی وہ کیس بھی بڑا دلچسپ ہے کہ ان پر کوئی دہشت گردی اور ٹیرر فنانسنگ وغیرہ کا جرم تو ثابت نہیں ہوسکا البتہ انہوں مساجد اور مراکز بنائے ہیں جو شاید دہشت گردی کے لیے استعمال ہوسکیں.
    لیکن FATF ہے کہ وہ ماننے کو تیار نہیں ہے اور اس نے پاکستان میں ڈو مور کی مزید لسٹ تھما کر جون تک وقت دے دیا ہے. تو صاف سمجھ آرہی ہے کہ FATF اور اس کے اسٹینڈرڈ بذات خود کوئی مسئلہ نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے اسٹیک ہولڈرز اور ان کے مفادات اصل ایشو ہیں. کیونکہ پاکستان نے اپنے بے گناہ لوگوں کو فقط اس لیے جیلوں میں بھیجا ہے اور کوئی جرم ثابت نہ ہونے پر بھی سزائیں سنائی ہیں لیکن دنیا اس کو ماننے کو تیار نہیں ہے. حالانکہ حافظ سعید وہ شخص ہیں جو کبھی امریکہ کے خلاف نہیں لڑے البتہ سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کے بعد ناٹو سپلائی پر ملک گیر کمپین کی تھی اور دوسری طرف جو لوگ براہ راست امریکہ سے لڑتے رہے امریکہ ان کو پھولوں کے ہار پہنا رہا ہے، گلبدین حکمت یار کا ریڈ کارپٹ استقبال ہوتا ہے، جس حقانی نیٹورک کے نام پر ساری دنیا پاکستان کو مطعون کرتی رہی اسی سراج الدین حقانی کا کالم نیویارک ٹائمز میں پبلش ہورہا ہے. افغانستان سے امریکہ کے نکلنے تک پاکستان کا FATF کی گرے لسٹ سے نکلنا مشکل معلوم ہوتا ہے اسی طرح پاکستان CPEC ایک ایسا جرم ہے پاکستان کو جو سامراجی طاقتوں کو ہضم نہیں ہورہا کچھ تجزیہ نگاروں کے مطابق پاکستان کو CPEC کی سزا بھی FATF کے چنگل میں جکڑ کر دی جارہی ہے.یہ دو بڑی اہم وجوہات سمجھ آتی ہیں جن پر عالمی طاقتیں پاکستان پر FATF کی گرے لسٹ اور بلیک ہونے کے خوف کی صورت پریشر برقرار رکھ کر کچھ لو اور کچھ دو کی مزید پالیسی چاہتی ہیں.
    محمد عبداللہ کے مزید بلاگز پڑھیں

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah
  • مسئلہ کشمیرپر سستی کس نے دکھائی اور کس کی مجرمانہ خاموشی نے کشمیر کو اس حال میں پہنچایا

    مسئلہ کشمیرپر سستی کس نے دکھائی اور کس کی مجرمانہ خاموشی نے کشمیر کو اس حال میں پہنچایا

    کشمیر ایشو اور کے فریقین کے کرداروں پر تجزیہ!!!
    محمد عبداللہ کی تحریر

    مقبوضہ جموں و کشمیر پر پر ویسے تو قیام پاکستان کے وقت ہی بھارت نے تقسیم ہند کے سبھی اصولوں کو پاؤں تلے روندتے ہوئے اپنی افواج داخل کرکے جابرانہ قبضہ کرلیا تھا اور مسلسل کشمیر میں ظلم و ستم کا بازار گرم کیا ہوا تھا لیکن جب سے نریندر مودی بھارت میں برسر اقتدار آیا ہے تب سے کشمیر کے مسلمانوں پر حالات مزید تنگ سے تنگ ہوتے چلے جا رہے ہیں. مودی نے اپنے پہلے دور حکومت میں وزارت عظمیٰ کا قلمدان سنبھالتے ہی یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ کرکے اس کو بھارت میں ضم کرے گا اور بالآخر دوسری بار وزیراعظم بننے کے بعد پانچ اگست دو ہزار انیس کو نریندر مودی نے کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو ختم کرکے کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دے دیا اور اس فیصلے پر ردعمل سے بچنے کے لیے جموں و کشمیر میں تعینات بھارتی افواج میں یکلخت اضافہ کرکے جموں و کشمیر میں مکمل طور پر کرفیو نافذ کردیا. مقبوضہ وادی کے حالات سے بیرونی دنیا کی آگاہی اور مقامی لوگوں کے بیرونی دنیا سے روابط کو مکمل طور پر کنٹرول کرنے کے لیے مقبوضہ وادی میں انٹرنیٹ اور ہر طرح کے ذریعہ مواصلات کو بند کردیا گیا. کشمیری مسلمان اس سے قبل ہی بھارتی افواج کی سنگینوں تلے مظلومیت کی زندگی گزار رہے تھے مگر اس طویل ترین کرفیو اور ہر طرح کی بندش نے کشمیریوں کی زندگی اجیرن کردی، بیرون ممالک موجود کشمیریوں کے اپنے پیاروں سے روابط مکمل طور پر منقطع ہوچکے تھے اور کسی کو نہیں پتا تھا کہ ان کے عزیز و اقارب کس کیفیت میں ہیں، زندہ بھی ہیں یا بھارتی افواج کے جبر اور ریاستی دہشت گردی کی تاب نہ لاتے ہوئے اس فانی دنیا کو الوداع کہہ چکے ہیں.
    مودی نے اس انتہائی اقدام کے لیے بڑی زبردست ٹائمنگ کا انتخاب کیا ہے. ایک طرف تو پاکستان ایف اے ٹی ایف کے چنگل میں بری طرح سے پھنسا ہوا ہے تو دوسری طرف پاکستان میں سیاسی انتشار اور اکھاڑ پچھاڑ نے بھارت کو اس فیصلے کو کرنے میں خاصی مدد دی ہے. کشمیریوں کا دنیا میں واحد وکیل پاکستان تھا اور ہے لیکن اس موقع پر پاکستانی بھی سوائے آہ و فغاں کرنے کے کچھ نہ کر سکے کہ انٹرنیشنل پریشر اور ایف اے ٹی ایف کے معیار پر پورا اترنے کے چکر میں کشمیر کے نام لیواؤں کو پس دیوار زنداں دھکیل دیا گیا اور نتیجہ یہ نکلا کہ پوری حکومتی مشینری تمام تر افرادی اور مادی وسائل کے باوجود بھی کشمیر پر ایک قابل ذکر احتجاجی پروگرام تک نہ کرسکی. یہ بڑی حیران کن صورتحال تھی کہ مذہبی جماعتوں کی کال پر ہزاروں نہیں لاکھوں لوگ کشمیر کی آواز بنتے تھے مگر بہت بڑے بڑے سیاسی جلسے اور دھرنے کرنے والی جماعت پاکستان تحریک انصاف حکومتی مشینری ہونے کے باوجود بھی کشمیر پر عوام کو جمع کرنے میں ناکام رہی ہے. وزیراعظم کے حکم پر دو تین دفعہ جمعہ کے بعد آدھا گھنٹہ کھڑا رہنا بھی دشوار لگا اور بالآخر وہ بھی چھوٹ گیا. کشمیر پر بھارتی قبضے کے حوالے سے آجاکر پاکستان کے پلڑے میں وزیراعظم پاکستان کی دو چار تقاریر ہیں اور بڑا زبردست موقف ہے لیکن پتا نہیں کیا وجوہات ہیں کہ پاکستان اس موقف کو عالمی سطح پر پھیلانے سے قاصر ہے.
    مسئلہ کشمیر پر میرے خیال سے چار فریق بنتے ہیں ان میں سے دو تو ڈٹے ہوئے ہیں ان میں سے ایک انڈیا کہ اس نے انتہائی قدم تک اٹھالیا کشمیر کی آئینی خصوصی حیثیت، عالمی سطح پر متنازع حیثیت سب کو بالائے طاق رکھتے کشمیر کو بھارت کے اندر ضم کرلیا ہے اور اب اسرائیل کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کشمیر میں آبادی کا تناسب بدلنے کی پلاننگ چل رہی ہے تاکہ کل کو دنیا کے مجبور کرنے پر اگر رائے شماری کروانی بھی پڑے تو کشمیر ہاتھ سے نہ جائے اس کے لیے بھارت کے ذرائع ابلاغ اور حتیٰ کہ فلم انڈسٹری ملکی اور عالمی رائے عامہ کو ہموار کر رہی ہے ایسی موویز بنائی جا رہی ہیں کہ جن میں دکھایا جا رہا ہے کہ ہندو پنڈتوں پر ظلم کرکے ان کو کشمیر سے نکالا گیا تھا اور وہ اب اپنے گھروں کو واپس جانا چاہ رہے ہیں اسی طرح دوسرا اور سب سے متاثر فریق اہل کشمیر ہیں جو اب تک قربانیاں دیتے چلے آرہے ہیں مگر آزادی کے سوا ان کے منہ سے کوئی لفظ نہیں نکلتا، وہ عزم و استقامت کے پہاڑ بن کر اپنی جگہ ڈٹے ہوئے ہیں، تاریخ کا طویل ترین لاک ڈاؤن اور کرفیو بھی ان کے عزم و استقلال میں لغزش پیدا نہیں کرسکا جبکہ تیسرا فریق عالمی برادری بشمول اقوام متحدہ کا فورم مسئلہ کشمیر پر مجرمانہ خاموشی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور انسانیت کے کسی بڑے قتل عام کے منتظر ہیں ان کی مجرمانہ خاموشی انڈیا کی ہی مددگار ثابت ہورہی ہے جبکہ مسئلہ کشمیر کا چوتھا اور اہم فریق پاکستان کہ جس کی بقاء مسئلہ کشمیر کے حل میں ہے وہ دعوے تو بلند و بانگ رکھتا ہے اور بہت کچھ کرنا بھی چاہتا ہے مگر کچھ بھی کر نہیں پا رہا یا کرنا نہیں چاہ رہا. ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بھارت کی اس ریاستی دہشت گردی پر وزیراعظم پاکستان اور بالخصوص وزیر خارجہ ایک لمحہ بھی ٹک نہ بیٹھتے اور مسلسل لابنگ کرتے عالمی فورمز کو متحرک کرتے، عالمی کانفرنسز اور پریس کانفرنسز کا انعقاد کرتے، اقوام عالم کو مسئلہ کشمیر پر قائل کرنے کے لیے ہنگامی دورے کیے جاتے مگر پتا نہیں وہ کونسی وجوہات ہیں کہ جن کی بنیاد پر پاکستان اب تک نہ تو لابنگ کرسکا، نہ عالمی رائے عامہ کو اپنے حق میں کرنے کے لیے مناسب اقدامات کرسکا یہاں تک کہ ڈھنگ کی کوئی ڈاکیومنٹری یا مووی تک بنا سکا جو عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر اور بھارتی ریاستی دہشت گردی کو اجاگر کرتی. بلاشبہ مسئلہ کشمیر پر وزیراعظم پاکستان عمران خان کی تقاریر بہت جاندار اور بہترین موقف کی حامل ہیں مگر جہاں ریاستوں کی بقاء کا مسئلہ ہو وہاں دو چار تقاریر تک محدود نہیں رہا جاتا وہاں عملی اور ہنگامی اقدامات اٹھانے پڑتے ہیں اور جراتمندانہ فیصلے لینے پڑتے ہیں وگرنہ تاریخ معاف نہیں کیا کرتی.