Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • حمزہ عباسی اور آئٹم سانگ، نوید شیخ کا بلاگ

    حمزہ عباسی اور آئٹم سانگ، نوید شیخ کا بلاگ

    پاکستان میڈیا انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے حمزہ علی عباسی آج کل ایک نجی ٹی وی چینل سے رئیلٹی شو کو جج کر رہے ہیں۔ اس شو میں ایک بچی کی پاکستانی آئٹم سانگ "مجھے کہتے ہیں بلی” پر کی گئی پرفارمنس کو حمزہ علی عباسی نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ حمزہ نے لڑکی کو پرفارمنس کے دوران ہی روک دیا اور بھاشن دیتے ہوئے کہا ” میں پاکستانی فلم ڈائریکٹرز و پروڈیوسرز کی منتیں کرتا ہوں کہ ہماری فلموں میں آئٹم سانگ نہ رکھا کریں ہماری بچیاں ان گانوں پر پرفارم کرتی ہیں جو کہ مناسب نہیں ہے”۔

    مزید پڑھیئے: تحریک انصاف کا بجٹ بم ۔۔۔ کپتان اجازت دے تو تھوڑا سا گھبرا لیں … نوید شیخ

    حمزہ علی عباسی کے اس رویے کو مختلف شعبہ ہائے زندگی تعلق رکھنے والے افراد نے مختلف طریقے سے جج کیا۔ جہاں بعض حلقوں نے حمزہ کی اس بات کو سراہا وہاں کئی حلقوں نے اسے کڑی تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔ خصوصا سوشل میڈیا پر ان کی اس رائے کو خوب آڑھے ہاتھوں لیا گیا۔
    شوبز کے اندرونی حلقوں نے حمزہ کی رائے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ حمزہ عباسی اپنی فلم میں نازیبا اور فحش سین بھی فلما چکے ہیں۔ فلم "جوانی پھر نہیں آنی” میں انہوں نے مختصر لباس میں موجود لڑکی کے ساتھ سوئمنگ پول میں اور ساحل سمندر پر ایسے سین عکسبند کئے جن پر آج وہ تنقید کر رہے ہیں۔

    مزید بڑھیے: عمران خان پر چارج شیٹ ۔۔۔ نوید شیخ

    شوبز کی بعض حلقوں میں تو یہ چہ مگوئیاں بھی ہیں کہ اس آئٹم سانگ "مجھے کہتے ہیں بلی” پر فلم میں صدارتی ایوارڈ یافتہ پاکستانی فلمسٹار مہوش حیات نے پرفارم کیا تھا اور چونکہ حمزہ علی عباسی اور مہوش حیات کی آپس میں بنتی نہیں ہے تو حمزہ علی عباسی نے موقع کا فائدہ اٹھا کر در پردہ مہوش حیات کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

    مزید پڑھیے : عثمان بزدار کے کارنامے ۔۔۔نوید شیخ

    رئیلٹی شو میں حمزہ علی عباسی کے اس رویے اور لڑکی کے آئٹم سانگ پر کی گئی پرفارمنس کی تنقید کو "پبلسٹی سٹنٹ” بھی کہا جا رہا ہے تاکہ اس سے رئیلٹی شو اور چینل کی ریٹنگ میں اضافہ ہو۔ اگر چینل اور ججز آئٹم سانگ پر کی گئی پرفارمنس کے خلاف تھے تو وہ گانا اس سٹیج پر کیوں چلایا گیا اور ظاہر ہے یہ گانا چینل کی مینجمنٹ کی اجازت اور پروڈیوسر/ڈائریکٹر کی مرضی سے ہی چلایا گیا ہوگا۔ اگر چینل اور ججز کی پالیسی میں ایسے گانے نہیں تھے تو ایسا گانا منتخب کیوں ہوا اور اس پر پرفارمنس کیسے ہو گئی، یہ ایک ایسا سوال ہے جو حمزہ عباسی کی تنقید کے بعد ججز اور انتظامیہ کے کردار کو مشکوک بناتا ہے کیونکہ شو میں حصہ لینے والی بچی اور گانا تو پہلے سے ہی فائنل کیا جا چکا ہوتا ہے تو پھر پرفارمنس کی بعد ایسی دوغلی پالیسی کیوں ؟
    امید ہے کہ چینل انتظامیہ اور حمزہ علی عباسی اس کی وضاحت ضرور دیں گے۔

     

     

    اپنی رائے دینے کے لیے ای میل کریں
    naveedsheikh123@hotmail.com

    ٹویٹر پر فالو کریں

     

  • بلوچستان بھی پاکستان ہے… محمد عبداللہ

    بلوچستان بھی پاکستان ہے… محمد عبداللہ

    اللہ کی عظیم نعمتوں اور معدنیات سے مالا مال مگر حکمرانوں کی عدم توجہی کا شکار ہمارا بلوچستان پاکستان کا ہی صوبہ ہے. دوران سفر میں نے کراچی سے کوئٹہ اور کوئٹہ سے فورٹ منرو تک بلوچستان کے بیسیوں شہر دیکھے، سنگلاخ چٹانیں، خشک پہاڑ، میلوں تلک پھیلی سطح مرتفع، کہیں کہیں فروٹس کے باغات اور درختوں کے جھنڈ، بکریوں کے ریوڑ اور خوبصورت بچے دیکھنے والوں کو اپنے سحر میں مبتلا کردیتے ہیں.


    لیکن یہ سحر بہت جلد ٹوٹ جاتا ہے کہ جب بیسیوں میل تک آپ کو پانی میسر نہ آئے، جب وہاں سے نکلنے والی بیش قیمت گیس تو لاہور، پشاور تک مل جائے ،اس کی رائلٹی سرداروں کی جیب میں چلی جائے اور سوئی کا باسی پنجاب ، سندھ اور کے پی کے میں جاتی گیس کے پائپ کے اطراف سے لکڑیاں اور گھاس پھونس اکٹھی کرکے اپنی پیٹھ پر لادے گھر جائے اور اس سے چولہا جلائے، جب سفر کرتے ہوئے سینکڑوں کلومیٹرز تک آپ کو موبائل سگنلز نہ ملیں.

    عورت اور اسلامی معاشرہ… محمد عبداللہ

    ہم گرائمرز، ایچی سن، کیڈٹس کالجز اور اسکول کے رسیا لوگوں کا بلوچستان کی خوبصورتی کا سحر اس وقت دھڑام سے گرتا ہے جب بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں خیمہ اور ٹاٹ اسکول بھی میسر نہ ہوں. جہاں معمولی بیماریوں سے لے کر سنگین بیماریوں تک کے علاج پر اس لیے نہ توجہ دی جائے کہ بوڑھی ماں اور باپ کی دو چار سال مزید عمر کے لیے کون سینکڑوں کلومیٹر کا سفر کرکے کوئٹہ اور کراچی جائے. مجھے کوئٹہ سمیت پورے بلوچستان میں ایک بھی شہر پنجاب کے شہروں کے ہم پلہ نظر نہ آئے نہ سہولیات کے اعتبار سے اور نہ بلند و بالا بلڈنگز کے اعتبار سے. ہاں سرداروں کے وسیع و عریض محل، نت نئی گاڑیوں، جدید اسلحہ سے لیس محافظوں کی فوج ظفر موج آپ کو بتائے گی کہ بلوچستان کے مسائل کے پیچھے کیا عوامل کارفرماء ہیں.

    کیا اس لیے تقدیر نے چنوائے تھے تنکے ….. محمد عبداللہ

    میں نے بلوچستان کا بڑا مہذب نقشہ آپ کے سامنے رکھا ہے کہ مجھے الفاظ نہیں میسر کہ بلوچستان کی محرومیوں کی جو صورتحال جو آنکھوں نے دیکھی اس کو بیان کروں.

    تعلیم و صحت وغیرہ بنیادی انسانی حقوق ہیں مگر بلوچستان کے زیادہ تر لوگوں کو یہ انسانی حقوق میسر نہیں ہیں. ہاں میسر ہے تو وہ دھماکے ہیں، سازشیں ہیں، کلبھوشنز ہیں، براہمداغ و ماما قدیر ہیں، سرمچار ہیں، فراری ہیں اور ان سب کی وجہ سے فوجی آپریشنز میسر ہیں.
    جب صادق سنجرانی، قاسم سوری، جام کمال، طلال و سرفراز بگٹی اور اختر مینگل جیسے لوگ جو پاکستان کے اعلیٰ ترین عہدوں اور پارلیمنٹ کی کرسیوں پر براجمان ہیں وہ بلوچستان کے جائز حقوق کی آئینی اور قانونی جنگ نہیں لڑیں گے اور بلوچستان کی دگردوں صورتحال پر توجہ نہیں دیں گے تو پھر براہمداغ بگٹی وغیرہ جیسے راتب اغیار پر دم ہلانے والے محرومیوں کے ستائے بلوچوں کو استعمال کریں گے، پھر کلبھوشن دہشت گردی کے نیٹ ورک قائم کریں گے. پھر محمود اچکزئی جیسے لوگ این ڈی ایس کے آلہ کار بنیں گے.

    پاکستان کے دیگر صوبوں اور ہر طرح کی سہولیات سے لیس شہروں میں بیٹھ کر یہ بات کرنا تو بہت آسان ہے کہ بلوچستان کی بات نہ کرنا، وہاں کے حقوق پر آواز نہ اٹھانا کہیں دشمن تمہارے ان مطالبات کو غلط استعمال نہ کرلے تو جناب والا پھر پنجاب اور کے پی کے اور سندھ کے مسائل اور جرائم پر بات کرنے اور سوشل میڈیا پر آواز اٹھانے کو بھی تو دشمن غلط مقصد اور بدنامی کے لیے استعمال کر سکتا ہے لیکن ہم وہ متواتر کیے چلے جاتے ہیں.
    ہمیں اور نہ ہی بلوچستان کے لوگوں کو اپنی افواج اور دیگر سکیورٹی کے اداروں سے کوئی گلہ یا شکوہ ہے کیونکہ یہ ادارے تو ان کو سازشوں سے بچاتے ہیں، حفاظت کرتے ہیں اور آفات اور مسائل میں حتیٰ المقدور بلوچستان کے غریب باسیوں کی مدد بھی کرتے ہیں.

    ہمیں شکوہ ہے تو سب سے پہلے بلوچستان کے سرداروں سے ہے، پاکستان کے ستر سال کے حکمرانوں سے ہے، موجودہ پارلیمنٹ میں بیٹھے لوگوں پر ہے جو بلوچستان کے مسائل و معاملات کو پاکستان کا مسئلہ نہیں سمجھتے.
    اگر آپ واقعی بلوچستان میں امن لانا چاہتے ہیں اور دشمن کی سازشوں کو پنپنے کا موقع نہیں دینا چاہتے، کلبھوشنوں اور براہمداغ جیسوں کے نیٹورکس قائم نہیں ہونے دینا چاہتے تو بلوچستان میں تعلیم و صحت اور روزگار پر ترجیحی بنیادوں پر کام کیجیئے کہ بلوچستان بھی پاکستان ہے.

    Muhammad Abdullah
  • تحریک انصاف کا بجٹ بم ۔۔۔ کپتان اجازت دے تو تھوڑا سا گھبرا لیں … نوید شیخ

    تحریک انصاف کا بجٹ بم ۔۔۔ کپتان اجازت دے تو تھوڑا سا گھبرا لیں … نوید شیخ

    یہ بات ہی غلط ہے کہ عمران حکومت نے یہ اپنا پہلا بجٹ پیش کیا ہے۔ دو اضافی منی بجٹوں سے تحریک انصاف اس قوم کو پہلے ہی نواز چکی ہے۔جن کے ثمرات سے ہم رمضان اور عید پر استفادہ حاصل کرچکے ہیں. اس میں کوئی دورائے نہیں ہے کہ یہ آئی ایم ایف کا بجٹ ہے جو صرف اردو زبان میں پیش کیا گیا ہے۔

    سب سے پہلے بات کر لیتے ہیں۔ کہ جب سے عمران خان اقتدار میں آئیں ہیں انھوں نے کیا تیرچلائے ہیں اور کتنے پیسے اکٹھے کر لیے ہیں۔ حالت یہ ہے کہ حکومت اقتصادی سروے کے تقریباً تمام اہداف حاصل کرنے میں مکمل فیل ہو گئی ہے۔ یہ وہ کارکردگی ہے جس کے بلند وبانگ دعوے کیے جاتے تھے ۔ اور اب بھی کیے جارہے ہیں۔ اس نئے بجٹ میں ہر چیز پر نئے ٹیکس لاگوکر دیے گئے ہیں۔ شاید ہی کوئی چیز بچی ہو جو ٹیکسوں سے مستثنی ہو۔ چلیں سگریٹ، مشروبات، سی این جی، ایل این جی، سیمنٹ اور گاڑیوں پر عائد ٹیکسز کی شرح میں اضافہ توشاید یہ سوچ کر کیا گیا ہو کہ یہ سب عیاشی کے زمرے میں آتی ہیں۔ اور اس ملک میں عیاشی صرف حکومت اور وزیروں کا ہی حق ہے ۔ مگرتبدیلی کے دعوے داروں نے کوکنگ آئل، گھی، چینی پر ٹیکسوں میں اضافہ کرکے ثابت کردیا۔ کہ تبدیلی سرکار بھی گزشتہ حکومتوں کی طرح ہی عوام دشمن اور غریب دشمن ہے ۔

    مزید پڑھیے : عثمان بزدار کے کارنامے ۔۔۔نوید شیخ

     

    عمران خان کی نظر میں چینی اتنی بڑی عیاشی ہے کہ اس پرعائد 8 فیصد سیلز ٹیکس کو بڑھا کر 17 فیصدکردیا گیا ہے۔ جس سے چینی کی فی کلو گرام قیمت میں ساڑھے 3 روپے سے زائد کا اضافہ ہونے کی نوید ہے۔ ایسا ہوناہی تھا۔اس عوام کا مقدر ہی ایسا ہے جب حکومت بنی ہی شوگرمافیا کی مدد سے ہو ۔ جب شوگرمافیانااہلی کے باوجود کابینہ اجلاسوں میں ڈھٹائی سے بیٹھتی ہو۔ تو عوامی استعمال کی اشیاء پر ہی ٹیکس لگائے جاتے ہیں مافیاز پر نہیں ۔ چکن، مٹن اور مچھلی کی سیمی پروسسڈ اور ککڈ اشیاء پر 17 فیصد سیلز ٹیکس تجویز کیا گیا ہے۔ کیونکہ غریب تو کھاتا ہی دال سبزی ہے ۔ گو شت تو امیروں کے چونچنلے ہیں۔ سو اچھا ہی ہوا اس پر ٹیکس لگا دیا گیا ۔ حکومت نے دودھ، بالائی، خشک اور بغیر فلیور والے دودھ پر بھی 10 فیصد ٹیکس تجویز کیا ہے۔ یہ بھی لگثرری ایٹمز ہیں ۔غریبوں کی پہنچ سے تو یہ پہلے ہی بہت دورہیں۔

    مزید بڑھیے: عمران خان پر چارج شیٹ ۔۔۔ نوید شیخ

     

    حکومت نے ہزار سی سی اور اس سے چھوٹی گاڑیو ں پر 2.5فیصد ٹیکس عائد کرکے بھی احسن اقدام کیا ہے۔ کیونکہ گاڑی تو صرف امیر بندہ ہی رکھ سکتا ہے۔مگر متوسط طبقہ پتہ نہیں کیوں اس فیصلے پر تڑپ اُٹھا ہے۔ عام آدمی پیدل چلے ، سائیکل رکھے ، موٹرسائیکل چلائے گاڑی سے اس کا کیا لینا دینا۔ حکومت کا یہ بہت اچھا فیصلہ ہے ۔ اس ملک میں تمام حقوق صرف امیروں کے لیے ہیں ۔ اسی لیے تو مہنگی اور بڑی بڑی گاڑیوں پر ٹیکس میں کمی کر کے امیر افراد کو مزید فائدہ پہنچایاگیا ہے۔ کیونکہ امیروں کے پیسوں سے ہی تو کپتان حکومت میں آئے ہیں ۔ غریبوں اور متوسط طبقے کے ووٹ تو ہر کوئی لے لیتا ہے۔شاید نوجوانوں کے لیڈر کو کسی نے یہ نہیں بتایا کہ کم پاور اور نسبتاً کم قیمت گاڑیاں متوسط طبقہ استعمال کرتا ہے۔ یہ وہ گاڑیاں ہیں جنہیں تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد پرائیویٹ ٹیکسی کے طور پر چلا کر سفید پوشی برقرار رکھنے کی جدو جہد میں استعمال کرتے تھے جن پر اب ٹیکس لگا کر حکومت نے صرف ظلم نہیں کیا ۔ بلکہ اپنا ووٹ بینک بھی متاثر کر لیا ہے۔

    اعلی تعلیم بھی صرف امیروں کے بچوں کا حق ہے اس لیے اس بجٹ میں اعلی تعلیم کا بجٹ 57 ارب سے کم کرکے 43 ارب کردیاگیاہے۔کیونکہ تمام جاگیردار اور وڈیرے خود اسمبلیوں میں موجود ہیں اس لیے زراعت پر ٹیکس لاگو نہیں کیا گیا ۔ اس اسمبلی میں جتنے بیٹھے ہیں۔ یہ خود تو دور کی بات شاید ان کے ملازم بھی17500 روپوں میں اپنے گھر کا خرچہ نہ چلا سکیں ۔ ٹیکسوں کی بھرمار اور اتنی مہنگائی کے بعد سرکاری ملازموں کی تنخواہوں میں دس فیصد اضافہ کرنا حاتم طائی کی قبر پر لات مارنے کے مترادف ہے۔

    مزید پڑھیے: پاکستانی آٹوموبائل مافیا کو نکیل کون ڈالے گا ؟. نوید شیخ

     

    حکومت خود تو ٹیکس نیٹ بڑھانے میں مکمل ناکام رہی ہے مگر جو پہلے سے ٹیکس دے رہے تھے ان کو مزید نچوڑا جا رہا ہے۔ بجٹ میں عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا گیا ہر چیز پر ہر کسی نے ہر حال میں ٹیکس دینا ہے ۔ پہلے صرف ان ڈائریکٹ ٹیکس دیتے تھے ۔ اب ان ڈائریکٹ ٹیکس کے ساتھ ساتھ ڈائریکٹ ٹیکس بھی دینا ہوگا۔ جس طرح اس حکومت نےٹیکسوں کی بھرمار کی ہے۔ اب ٹیکس ادا کرنے کے لیے بھی ہر کسی کو ایک نئی نوکری کرنی پڑے گی ۔

    ریاستِ مدینہ کا نعرہ لگا کرتحریک انصاف نے اس قوم کے ساتھ وہ کیا ہے کہ شاید یہ قوم آئندہ کبھی کسی کا اعتبار نہ کرے۔ اس بجٹ سے اندازہ ہواہے کہ اصل نیا پاکستان اب بنا ہے ۔
    شکریہ تحریک انصاف
    شکریہ عمران خان
    اگر اجازت ہو تو اب تھوڑا سا گھبرا لیں ۔

    اپنی رائے دینے کے لیے ای میل کریں
    naveedsheikh123@hotmail.com

    ٹویٹر پر فالو کریں

  • ملک ترقی کیسے کر سکتا ہے…. فیصل ندیم

    ملک ترقی کیسے کر سکتا ہے…. فیصل ندیم

    کیا آپ کو یہ بات مذاق نہیں لگتی کہ ہم ایٹم بم بنا چکے ہیں طیارے بنا رہے ہیں ٹینک بنا رہے ہیں دنیا کا بہترین میزائل سسٹم بھی ہم نے ہی تخلیق کیا ہے کل ہم دفاعی ضروریات پوری کرنے کیلئے دنیا کے محتاج تھے آج ہم دنیا کو یہ چیزیں برآمد کررہے ہیں اگر ہم یہ سب کرسکتے ہیں تو سب کچھ کرسکتے ہیں ۔۔۔۔۔

    ایک ایسا ملک جو ہمیشہ درآمدی بل کے خسارہ کا شکار رہتا ہے وہ کیسے ترقی کرسکتا ہے اگر اس کے ہر بازار کی ہر دکان کی ہر الماری غیر ملکی مصنوعات سے بھری ہوگی گاڑیاں بسیں ہیوی ٹرک تو بڑی شے ہے بچوں کیلئے بنایا گیا پلاسٹک کا کھلونا بھی ہم کسی اور ملک سے درآمد کررہے ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔ق
    ایسا نہیں ہے کہ ہم میں صلاحیت نہیں ہے اگر صلاحیت نہ ہوتی تو دفاعی سازوسامان کے ساتھ دنیا کے بہترین سرجیکل آئٹمز ، اسپورٹس کا بہترین سامان ، معیاری الیکٹریکل اپلائنسز اور بہترین سینیٹری آئٹمز ہم نہ بنا رہے ہوتے ۔۔۔۔۔
    اس پوری کیفیت کی سب سے بڑی ذمہ دار ہمیشہ سے ہماری حکومتیں رہی ہیں جو صنعتکار کو اپنی صنعت چلانے کیلئے بہتر سہولیات اور ماحول دینے میں ناکام رہی ہیں چھوٹے چھوٹے اجازت ناموں کیلئے لمبے اور تھکا دینے والے طریقہ کار اور ہر منظوری پر رشوت کا بھاری بھرکم بوجھ کبھی بھی صنعتی ترقی کے فروغ کو سبب نہیں ہوسکتا مہنگی بجلی مہنگی گیس اور سازگار ماحول کی غیر موجودگی میں درآمدات کوگھٹا کر برآمدات بڑھانا مشکل نہیں ناممکن ہے ۔۔۔۔

    بھاری بھرکم بیرونی و اندرونی قرضہ ،بجٹ خسارہ ، گردشی قرضہ جات ہمیشہ ہر حکومت کا مسئلہ رہے ہیں بدقسمتی سے ہر آنے والی حکومت نے اپنی سیاست اور ووٹ بنک کو تحفظ دینے کیلئے حقیقی مسائل حل کرنے کے بجائے ان کے شارٹ ٹرم حل کی جانب توجہ کی ہے نتیجتاً ہر آنے والی حکومت میں ہم مسائل کے حل کے بجائے مسائل کی دلدل میں مزید دھنستے چلے گئے ہیں ۔۔۔۔۔
    ان مسائل کے حل کا ایک ہی طریقہ ہے درآمدی اشیاء کی آمد کے طریقہ کار کو مشکل سے مشکل تر بنایا جائے غیرملکی اشیاء پر ڈیوٹیوں میں اضافہ کیا جائے جبکہ ملکی صنعت کو سازگار ماحول سستی بجلی سستی گیس فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ بیرون ملک موجود سفارتخانوں کو استعمال کرتے ہوئے اس کیلئے نئی منڈیاں تلاش کی جائیں ( یہ بھی ایک المیہ ہے کہ بیرون ممالک پاکستان کی نمائندگی کیلئے بننے والے سفارتخانوں میں تقرریاں سیاسی رشوت کے طور پر کی جاتی ہیں نتیجتاً سفارتخانے عیاشی کے اڈے کے طور پر تو استعمال ہوتے ہیں پاکستان کی نمائندگی کیلئے نہیں ) ۔۔۔۔
    ملکی صنعت کی ترقی کیلئے ضروری ہے کہ اس کیلئے خام مال کی فراہمی کو نہایت آسان اور سہل بنایا جائے ضرورت پڑنے پر حکومت ان اشیاء پر سبسڈی بھی فراہم کرے تاکہ صنعتکار کی دلچسپی بڑھائی جائے سکے پاکستان میں کارخانے لگانے والے ہر بیرونی سرمایہ کار کو ضروری سہولیات فوری اور آسانی کے ساتھ فراہم کرنے کے ساتھ انہیں پابند کیا جائے کہ وہ ٹیکنالوجی بھی ٹرانسفر کریں گے ٹیکنالوجی کے حصول کے بغیر اغیار کی محتاجی کا خاتمہ ممکن نہیں ہے ۔۔۔۔۔

    جان لیجئے حکومتیں عوامی تعاون کے بغیر کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی اس لیے عوامی سطح پر شعور کی بیداری کی مہم چلانا ضروری ہے ہر دکان ہر مارکیٹ میں میڈ ان پاکستان اشیاء کو نمایاں کرکے رکھنا ضروری ہے عوام کو سمجھانا ضروری ہے کہ آپ کے شوق کی تکمیل یا چند روپوں کی بچت ملک و قوم کی بہت بڑی تباہی کا سبب ہے اس لئے میڈ ان پاکستان اشیاء کا انتخاب کیجئے تاکہ ہم غیرملکی قرضہ جات سے نجات حاصل کرکے غیروں کے تسلط سے حقیقی آزادی حاصل کرسکیں ۔۔۔۔
    ململ شعور کے ساتھ ہم یہ سمجھتے ہیں تمام کاموں سے پہلے یہ کام ضروری ہے پورا زور لگا کر اپنی عوام کو میڈ ان پاکستان پر لانا چاہئے پاکستان کیلئے پاکستانیوں کیلئے اپنے لئے اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کیلئے ضروری ہے پاکستانی میڈ ان پاکستان اشیاء کا استعمال کریں ۔۔۔۔
    اس مقصد کے حصول کیلئے نصاب تعلیم میں باقاعدہ مضامین شامل کئے جائیں جن میں طلبہ کو اس مسئلہ کی حساسیت سمجھائی جاسکے اور وہ عملی میدان میں اترنے کے بعد خود غرضی کا شکار ہوکر غیروں کے آلۂ کار بننے کے بجائے محب وطن اور مفید شہری بن سکیں ۔۔۔۔
    علماء اور مساجد کے خطیب حضرات اس مسئلہ میں بہت زیادہ معاونت کرسکتے ہیں ان کی باقاعدہ ورکشاپس کروائی جائیں تاکہ وہ میڈ ان پاکستان کو ایک قومی و ملی مسئلہ سمجھ کر اپنے متعلقین کو قائل کرسکیں ۔۔۔۔
    میڈیا ( پرنٹ الیکٹرانک سوشل ) کو عوامی شعور کی بیداری کیلئے بھرپور طور پر استعمال کیا جائے تاکہ عام پاکستانی جان سکے کہ اس کا حقیقی نفع نقصان کہاں پر ہے ۔۔۔۔۔

    امید ہے جذبہ حب الوطنی سے سرشار ہوکر لکھی گئی اس تحریر کو آپ تحریک بنا کر آگے چلائیں گے پاکستان اللہ کا انعام ہے اس انعام کی قدر اسی طرح ممکن ہے کہ اسے ہر طرح سے غیر ملکی تسلط سے آزاد کروایا جائے

    پاکستان زندہ باد
    پاکستانی قوم پائندہ باد

  • رمضان اور ہماری منافقت … نوید شیخ

    رمضان اور ہماری منافقت … نوید شیخ

    رمضان مسلمانوں کے لیے سب سے متبرک مہینہ ہے ۔ اسی ماہ میں قرآن پاک کا نزول ہوا۔مگر پاکستان میں ہر سال اس ماہ میں لڑائی جھگڑے اور دیگر غلط کاموں میں اضافہ ہوجاتا ہے ۔ اس ماہ میں شیطان تو قید ہو جاتاہے مگر ہمارانفس آزادہوجاتاہے ۔ بے شک بابا بلھے شاہ نے درست فرمایاتھا کہ – میری بُکل دے وچ چور – یعنی میری چادر میں ہی چور چھپا ہے۔

    رمضان آتے ہی سب نماز،تروایح، باقاعدہ قرآن پاک تلاوت میں مشغول ہو جاتے ہیں . مساجد میں حاضری میں ناقابل یقین حد تک اضافہ ہو جاتاہے ۔ داڑھیاں بڑھا لی جاتی ہیں۔ہاتھ میں تسبیح اورسر پر ٹوپیاں بڑے اہتمام سے پہنی جاتی ہیں۔جو کہ بہت اچھی بات ہے ۔مگر جھوٹ،چغل خوری، سود ، حرام کمانا، ملاوٹ،ذخیرہ اندوزی،جعلی دوائیاں، رشوت لینا ، رشوت دینا،چوری چکاری،دھوکہ دہی،لعن طعن کرنا نہیں چھوڑتے ۔کسی کا حق مارنا ہو تو ہم میں سے کو ئی پیچھے نہیں رہتا۔ بھائی بھائی کاحق مار لیتا ہے بیٹا باپ کو مار دیتا ہے بھائی بہن کی زمین پر قبضہ کر لیتا ہے ۔

    مزید پڑھیے : ملاوٹ کا ناسور … نوید شیخ

    بڑے بڑے رئیس۔ امیر کبیر۔ روزانہ سینکڑوں لوگوں کو سحری اور افطاری کروا کر نیکیاں تو کماتے ہیں مگر اپنے ورکروں کو وقت پر تنخواہ دیتے وقت ان کو موت پڑ جاتی ہے۔امیر تو پھر امیر ہیں- عام آدمی بھی کچھ کم نہیں ۔ورکر طبقہ روزہ رکھ کر اگر کام پر آہی جائے تو ایسا محسوس کروا تا ہے کہ جیسے اس کا کام پر آنا احسان ہو ،روزہ رکھ کر کام میں ڈنڈی مارنا ، جھوٹ بولنا، دھوکہ دینا ، گالی گلوچ کرنا اُس نے سب روضے کے نام پر حلال کر لیا ہے۔

    دکان دار جہاں افطاریاں کرواتے ہیں وہیں قوم شعیب علیہ السلام کے وطیرہ پر پوری طرح عمل پیرا ہیں۔ ناپ تول میں کمی، مہنگائی، ملاوٹ پہلے سے بھی زیادہ کرتے ہیں۔ کیونکہ نیکیوں کے ساتھ ساتھ سیزن بھی تو سمیٹنا ہے۔ دوکانداروں کے لیے رمضان کی برکتیں ایسی ہوتی ہیں کہ باقی گیارہ مہینوں کے برعکس صرف اس ماہ میں ہر چیز دو گنا،تین گنازیادہ قیمت پر بیچی جاتی ہے۔جگہ جگہ گھٹیا تیل سے بنے پکوڑے، سموسے ، جلیبیاں، گلے سڑے پھلوں والی فروٹ چاٹ روزہ رکھ کر دھڑلے سے لوگوں کو بیچی جاتی ہیں ۔

    مزید پڑھیے: پاکستانی آٹوموبائل مافیا کو نکیل کون ڈالے گا ؟. نوید شیخ

    صدقہ ، زکوة، خیرات دیتے وقت ذاتی تشہیر پر زورزیادہ رہتا ہے ۔فیس بک ،ٹویٹر، اخبارات ایسی تصویروں سے بھرے ہوتے ہیں جس میں کبھی کوئی راشن تو کبھی عیدکے کپڑے غربیوں میں تقسیم کررہا ہوتا ہے۔ مسجدوں کی رونقیں خوب بحال کی جاتی ہیں ہر کوئی اس تیزی میں رہتا ہے کہ ہر حال میں نماز باجماعت ادا کی جائے ۔مگر کوئی یہ فکر نہیں کرتاکہ دن بھر اس نے روزہ رکھ کرکیسے کیسے دونمبریاں کی ہیں ۔ کتنے جھوٹ بولے ہیں ۔کتنے لوگوں کا حق مارا ہے ۔رمضان کے آخری عشرے میں جب ہر کوئی عید کے لیے نئے کپڑے اور جوتے خریدتا ہے ۔ لاری اڈوں پر پردیسیوں کا رش بڑھ جاتا ہے ۔ تب کاروباری حضرات اپنے ریٹس ایسے بڑھاتے ہیں جیسے یہ عید ان کی زندگی کی آخر عید ہو۔

    مزید بڑھیے: عمران خان پر چارج شیٹ ۔۔۔ نوید شیخ

    رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا ”جو آدمی روزہ رکھتے ہو ئے باطل کام اور باطل کلام نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو اس کے بھوکا پیاسا رہنے کی کوئی ضرورت نہیں۔(صحیح بخاری،جلدنمبر 1،صفحہ نمبر:255)

    رمضان کا مقدس مہینہ اس بات کا متقاضی ہے کہ ہم کھانے پینے سے ہاتھ روک کے اپنے اردگرد بسنے والے غریبوں،مسکینوں اور بے سہاروں کا خیال کریں۔یہ سمجھنا ہوگا کہ اللہ پاک اپنے حقوق تو معاف کردے گا مگر جو دھوکا،مکر و فریب ، چور بازاری اور منافع خوری ہم اپنے بھائیوں سے کرتے ہیں وہ اللہ پاک ہر گز معاف نہیں کرے گا۔

    اپنی رائے دینے کے لیے ای میل کریں
    naveedsheikh123@hotmail.com

    ٹویٹر پر فالو کریں

  • دیکھنا کہیں وقت گزر نہ جائے؟؟؟ صفی اللہ کمبوہ

    دیکھنا کہیں وقت گزر نہ جائے؟؟؟ صفی اللہ کمبوہ

    آج وقت ہے ہر پاکستانی اپنا کردار ادا کرے
    سوشل میڈیا کا مورچہ سنبھالے. پوسٹ, ویڈیو پیغام اور کمنٹ کے ساتھ اپنے ملک کی سالمیت اور افواج پاکستان کے لیے بھرپور آواز اٹھائے.
    PTM ہو یا ان کی حمایتی کوئی بھی سیاسی جماعت اور اس کے نام نہاد لیڈر جوکہ ملک دشمنوں اور دہشت گردوں کے دوست ہیں. ان سب کی گز گز لمبی زبانوں کو بند کروانا آج ہر محب وطن پاکستانی کی ذمہ داری ہے.

    آج اپنی سیاسی وابستگی کسی سے بھی ہو.. مطلب کسی سے بھی.. کسی بھی سیاسی پارٹی سے. مگر ہمیں سیاسی وابستگی نہیں دیکھنی بلکہ ملک کی سالمیت دیکھنی ہے. جو ملک کے دشمنوں کو افطاریوں میں دعوت دیں وہاں پلان بنائیں, آرمی کی چیک پوسٹ پر حملہ کریں وہ دہشت گرد گروہ اور سیاسی گماشتے ان کی سپورٹ کریں زبان درازی کریں اپنے اداروں پر, افواج پاکستان پر. یہ کسی صورت قابل قبول نہیں ہوسکتا.
    میں مرسکتا ہوں مگر اپنے شہدا, کے خون سے غداری نہیں کرسکتا. پاک فوج ہماری فوج ہے. ہر پاکستانی اس خطرناک سازش کو سمجھیں. ڈراموں, فلموں, کہانیوں, کارٹونوں اور میچوں سے باہر نکل کر زرا حیقیت کی دنیا میں آجاو. اب وقت نہیں ہے زیادہ کہ ہم غفلت کی نیند سوئیں. دشمن اب پھر گھیرا ڈال رہے ہیں. اندر اور باہر سے ملک مخالف آوازیں اٹھانے والے متحرک ہوچکے ہیں. منظور پشتین, گلالئی اسماعیل, علی وزیر, محسن ڈارڑ, محمود اچکزئی, اسفند یار ولی, ملالہ اور دیگر سیاسی جماعتوں میں چھپے ہوئے دہشتگردوں کے حمایتی اپنا کام پوری محنت سے کررہے ہیں. مگر پاکستانی نوجوان سویا ہوا ہے. لڑکوں لڑکیوں کو پتا ہی نہیں کہ ملک کے خلاف کتنی بڑی سازش ہورہی ہے, کل میں نے ایک تقریب میں لڑکوں کی بڑی تعداد سے پوچھا کہ بتاو PTM کیا ہے اور اس نے پاکستان کے خلاف کیا محاذ گرم کیا ہوا ہے تو کوئی بتانے والا نا تھا , کیونکہ ہماری نوجوان نسل کی دلچسپی کچھ اور ہے. شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے. اقبال کا شاہین ایسا تو نا تھا. پاکستانی نوجوان, مسلمان عوام, کو ایسا ہونا چاہیے کہ یہ حالات کی نبض پر ہاتھ رکھ کر دیکھیں تو پتا چل جائے کہ صورتحال کیا ہے اور میرے کرنے کا کام کیا ہے.
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والے وہ مجاہد سپاہی وہ لشکر جو تکفیری اور ملک دشمنوں سے ٹکرا گئے وہ پاک فوج کے جانباز جو دفاع وطن میں جان کی بازی ہار گئے ان کو کل قیامت کے دن کیا منہ دکھاؤ گئے. سوچو زرا ؟؟؟
    ان شہدا نے کس بات پر قربانیاں دی ہیں کبھی خیال تو کرو. آؤ آگے بڑھو اور کردار ادا کرو ایک ایک دوست کو, کلاس فیلو, رشتہ دار کو, ہمسائے کو, امام مسجد کو, سکول ٹیچر کو, عالم دین کو, تاجر کو, ریڑھی والے کو, محنت کش کو, کسان کو, مزدور کو, دکاندار کو, ہر پاکستانی بھائی جان کو آج صورتحال سے آگاہ کرو اور ذہن سازی کرو ورنہ کہیں کل ہم بھی عراق, شام, فلسطین, افغانستان نا بن جائیں.
    اللہ تیری پناہ مانگتے ہیں ہم.
    اللہ ہمیں توفیق عطا فرما ہم تیرے دئیے ہوئے ملک کی حفاظت کریں اللہ ہماری افواج پاکستان کے سپاہیوں اور مجاہدوں کو ہمت و حوصلہ عطا فرما تاکہ دشمنان پاکستان کو نیست و نابود کریں.
    پاک فوج زندہ باد
    پاکستان پائندہ باد

  • میں کھلاڑی تو اناڑی …. فرحان شبیر

    میں کھلاڑی تو اناڑی …. فرحان شبیر

    آج کل کھلاڑیوں کا مقابلہ اناڑیوں کے ساتھ پڑا ہوا ۔ شور اتنا ہے کہ رگ رگ میں محشر برپا ۔ ارے روکو، پکڑو یہ دیکھو اناڑی اور اسکی اناڑیوں کی ٹیم کیا کر رہی ہے ، ہائے کاروبار کو جان کر رہے ہیں ۔ یہ ملک ڈبو رہے تباہ کررہے ہیں ۔ پیاز کی پرتوں کی طرح کھل رہے ہیں برف کی باٹ کی طرح پگھل رہے ہیں ۔ وغیرہ وغیرہ وغیرہ وغیرہ
    جب تک کھلاڑی حکومت میں تھے سارے دانشوڑ ٹریڈ ڈیفیسٹ کے خطرناک حد تک بڑھنے ، امپورٹ میں پانچ سالوں تک ایک ڈالر تک اضافہ نہ ہونے ، ڈیٹ ٹو جی ڈی ریشو ریڈ لیول کراس کر جانے تک کی خبروں کو ایک آنکھ پر ہاتھ رکھ کر پڑھتے رہے دوسری آنکھ کے سامنے ہمیشہ اشتہارات نظر آتے تھے لہذا معیشت پر بات کرنا وقت کا ضیاع ہوتا تھا ۔ ہائے یہ اگر اس وقت اپنے کیلکولیٹر نکال لیتے تو شاید اسوقت اتنی بھک منگی صورتحال نہ ہوتی ۔ یہ سیانے گرگئے تھے سجدے میں جب وقت قیام آیا ۔

    کھلاڑی اتنے فنکار تھے کہ آنے والی حکومت کے ہاتھ پاوں باندھنے کے لئیے جاتے جاتے کمال ڈھٹائی کے ساتھ آنے والے سال بجٹ تک خود بناکر گئے ۔ جس میں ریونیو کی قربانی کر کے مختلف طبقات کو ٹیکسز کی چھوٹ دے کر نوازا گیا ۔ تاکہ آنے والی حکومت ریونیو کلیکشن کا ہدف پورا کر ہی نہ پائے ۔ سب کو خوش کرنا تھا لہذا سیلیریڈ پرسن کے ٹیکس کی شرح سے لیکر slabs تک ریلیکس کر کے چلے گئے ۔ بظاہر عوام کو اچھا لگا کہ حکومت نے ریلیف دیا لیکن یہ ریلیف حب علی سے زیادہ بغض معاویہ کا شاخسانہ تھا ۔

    پھر اس ٹیم کے سب سے بڑے کھلاڑی اسحاق ڈار کا کارنامہ غلط اعداد و شمار پیش کرنا تھا ۔ ملکی قرضوں کی تفصیل 2016 میں آن ریکارڈ اسمبلی میں غلط جمع کرائی ، فارن ریزرو کے حوالے سے جھوٹ ، بانڈز کے اجرا اور انکی شرح منافع پر جھوٹ ، پاور کمپنیز کی ادایگیوں کے بارے میں جھوٹ ، حتی کہ ملکی اثاثے کی گروی رکھے جانے کی ڈیٹیل بھی غلط اور جھوٹ کہ آج پتہ چل کر حکومت کے ہوش آڑ رہے ہیں ساورن گارنٹیز کی مد میں ہی ایک ہزار ارب روپے سے زیادہ کا قرضہ چڑھا دیا کھلاڑیوں نے ۔ حالانکہ ان کھلاڑیوں نے سب سے پہلا چونا ہی قرض اتارو ملک سنوارو نعرے سے لگایا تھا ۔
    پھر جاتے جاتے اک ہور وڈے کھلاڑی ، پندرہ بیس سالوں میں تیزی سے ترقی کرتی ائیر لائن ائیر بلو کمپنی کے مالک، شاہد خاقان عباسی صاحب، خزانے پر ایسی جھاڑو پھیر کر گئے کہ آنے والوں کے پاس ایک پیسہ نہ رہے ۔ چودہ سو سے سولہ سو ارب روپے تک کی ادئیگیاں کرکے گئے ۔ جن ایکسپورٹرز کو پانچ سال ریبیٹ کے لئیے رلایا انہیں بھی کچھ ادئیگیاں اسی دور میں ہوئیں ۔ پھر ادئیگیاں ہی نہیں عباسی صاحب نے تو ایک ارب روپیہ الیکشن سے پہلے وزیر اعظم کے صوابدیدی فنڈ سے نکال کر اپنے بیٹے کے کے حوالے کر دئے، قوم کے ان پیسوں سے جو صوابدیدی فنڈ میں ضرورت مندوں کی مدد کے لئیے ڈالے جاتے ہیں عباسی صاحب کے حلقے کے لوگوں کو عمرہ پیکج دیا گیا ۔ کیا یہ اندھے تھے جو خزانے کی خانہ خراب حالت نظر نہیں آرہی تھی یا واقعی آنے والی حکومت کو ہر حالت میں کانا کرنا تھا ۔

    ادھر پنجاب گورنمنٹ کے کھلاڑیوں نے اپنی تصویروں اور شہزادے شہزادیوں کی پروجیکشن پر میڈیا بھر میں 430 ارب روپے کے ادھار اشتہار چلا دئیے کہ دیتے رہینگے آنے والے ۔ ورنہ تو میڈیا جانے اور نئی حکومت ۔ میڈیا خود ہی قدموں پر جھکا کر اپنے پیسے نکال لے گا ۔ ۔ واہ یہی تو کھلاڑی پن ہوتا ہے ۔ اپنی ہینگ لگے نہ پھٹکری عوام کے پیسوں سے پبلسٹی کا ڈھول بجاو اور سیاست میں رنگ بھی چوکھا لاو ۔ اب یہی 430 ارب روپیہ اس نئی پنجاب گورنمنٹ کے گلے پڑ گیا ۔ انہی پیسوں کا نہ دینا ہی تو ہے جو میڈیا پر ہر صافی و ناصافی اناڑی اناڑی کی گردان لگائے ہوئے ہے ۔ کسی کو چائے کے نہ پوچھے جانے کا غم ہے تو کسی کو اپنی بے قدری کا ۔ یہ کھلاڑیوں کی عنایت خسروانہ کا فیضان ہے جو آج بڑے بڑے دانشوڑ عمران خان کو ناکام ٹہرانے کے لئیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں ۔

    مسلہ یہ ہے یا تو یہ بے چارے معیشت جانتے نہیں اور اگر جانتے تو کھلاڑیوں سے دو چار Basic سے سوال کبھی نہ کبھار تو ضرور پوچھتے ۔ کیونکہ سوال تو یہ بنتا ہے کہ دو ارب ڈالر کے ٹریڈ ڈیفیسیٹ کو بیس ارب ڈالرز تک پہنچانے پر اسحاق ڈار کو اچھا تو کیا صرف معیشت دان بھی کیسے گردانا جاسکتا ہے اتنا تو ایک منشی بھی سمجھتا ہے آمدنی اٹھنی اور خرچہ ایک روپئیا اور جو گدھے اس ٹریڈ ڈیفیسٹ میں نو ماہ میں ہی 30 فید کمی لے آئے وہ آپکی نظر میں کیسے اور بھلا کس طرح اناڑی ہیں ۔

    اناڑیوں نے PIA کا loss روک دیا واہ بھئی واہ بڑے زبردست اناڑی ہیں ۔ کھلاڑیوں کو تو شرم آنی چاہئیے کہ پی آئی اے کے نام پر دس سالوں سے ری ویمپنگ ری ویمپنگ کا شور مچانے کے باوجود بھی خسارہ 400 ارب پر پہنچا دیا ۔ جو کہ جمہوریت کے بہترین انتقام کے سب سے بڑے کھلاڑی زرداری کے دور میں شاید 200 ارب تھا ۔ دماغ گھوم کر رہ جاتا ہے کہ آج کے اس دور میں بھی پی آئی اے پر حاضری یا attendance ہاتھ سے رجسٹر میں لکھی جاتی تھی ان بچوں نے اٹیینڈنس کا سسٹم Thumb والا کیا جو آج کے چورن چٹنی بیچنے والوں نے بھی کرالیا ہے ۔ کیا عباسی صاحب کی اپنی ائر لائن ائیر بلو میں بھی اٹینڈینس کا یہی نظام ہوگا اسکا جواب میں آپ پر چھوڑتا ہوں ۔

    اور کیا گنوائیں کھلاڑیوں کی فنخاریاں ؟ چلو یہ ہر وقت کھلاڑی اناڑی کا شوڑ مچانے والے دانشوڑ ہی کسی ایک ادارے کا ، بس صرف کسی ایک ادارے کا نام بتا دیں جسے ان مہان کھلاڑیوں نے خسارے سے نکال کر منافع میں لایا ہو ۔ کوئی ایک ادارہ ۔ اور ایسا نہیں ہے کہ دنیا کے ملکوں کے ادارے نہیں کما رہے تھے ۔ Emirates ائیر لائن ہماری PIA کو منہ چڑاتی چڑاتی دنیا کے آسمانوں پر چھا گئی ۔ اور اسکی انگلی پکڑ کر اڑانے والی پی آئی اے اپنے بال و پر نچتے دیکھتی رہی ۔

    اسٹیل مل تباہ حال ، جالے پڑھ گئے ۔ وہ اسٹیل مل جو ہماری آج کی امپورٹ بل کی کئی ادائگئیوں سے نجات دلا جو آج ہم اسٹیل کی امپورٹ کی صورت میں لاد رہے ہیں ، ایک بوچھ بن گئی ہے ۔ اسکے ایمپلائز کی تنخواہیں بھی یہ اناڑی کلئیر کر رہے ہیں کہ وہ چلے تو آنے والے دنوں میں چار پیسے بھی کمائے ۔ کوئی سوچ سکتا یے کہ جس ملک میں CPEC سے لیکر دیگر بڑے بڑے پراجیکٹس میں اسٹیل کی بے تحاشہ کھپت ہو، چائنا سے لیکر ملک کی دیگر اسٹیل ملز سے حکومت کو اسٹیل کی Buying کرنا پڑھ رہی ہو اسکی اپنی خود کی سمندری جیٹی رکھنے والی اسٹیل مل سسک سسک کر گھٹ گھٹ کر دم توڑ رہی ہو مسلسل خسارے میں چلانی پڑھ رہی ہو لیکن ریاض لال جی سے لیکر شریفوں کی اپنی اسٹیل فیکٹریاں فولاد پہ فولاد ڈھالے جارہی ہوں ۔ ہذا من فضل ربی ۔ اپنی فیکٹری میں ایک مزدور اضافی نہ رکھو ۔ PIA، اسٹیل مل ، OGDCL , PPL ,M اور ان جیسے سارے کماو پوت اداروں کو بھر دو سیاسی کارکنوں سے ، مس مینیجمنٹ کے ذریعے ڈس انٹیگریٹ کرا دو تباہ کرا دو ۔ اور بعد میں اسکریپ بھی نہ چھوڑو ۔

    اسی پاکستان میں ہم دیکھ رہے تھے کہ کورئیر سروسز کے میدان روز روز نئی کمپنیاں نمودار ہورہی تھیں ۔ چیتا ، لیپرڈ، ٹی سی ایس ، DHL ، پھر ڈائیئوو والوں کی بھی کارگو ہینڈلنگ ، پھر ٹرک ٹرالر سے کارگو ہینڈلنگ الگ بزنس ۔ 2۔2 بلین ڈالرز کی کارگو ہینڈلنگ مارکیٹ سے ساری یہ پرائویٹ کمپنیاں اپنا اپنا حصہ وصول کر رہی تھیں وہیں ہمارا اپنا Pakistan post ” ڈاکیا ڈاک لایا ڈاکیا ڈاک لایا والے” سسٹم میں پھنسا ہوا تھا ۔ کسی کھلاڑی کو کبھی توفیق ہی نہیں ہوئی کہ پاکستان پوسٹ کے گاوں گاوں دوردراز کے علاقوں تک بنے بنائے اس سسٹم کو ذرا سا اپ گریڈ کر کے، ڈیجیٹلائز کرکے اور موبائل ایپس پر لاکر کچھ کما کر ملک کے خزانے میں تھوڑا کچھ پیسہ ڈال بھی دیں ۔ اب یہی ” اناڑی” اسی پاکستان پوسٹ کو ڈیجیٹل مارکیٹ میں لے آئے ۔ منی ٹرانفسر کی سہولیات سے موبائل بینکنگ انڈسٹری میں سے بھی اپنا شئیر لیا اور ساتھ میں سامان کی زیادہ ترسیل سے کام بھی زیادہ ہوا ۔6 ارب کا منافع ہوگیا پاکستان پوسٹ کو ۔ یہ آگے اور زیادہ ہونا ہے کیونکہ Cpec کی صورت میں اس پورے خطے میں ٹرانسپوٹیشن سیکٹر میں بیس فیصد کا اضافہ ہوگا ۔ تبھی ہم دیکھ رہے ہیں کہ روٹھی ہوئی ائیر لائینز پھر سے پاکستان واپسی کے روٹس کھول رہی ہیں ۔

    مجھے یہ بھی حیرانی ہوتی ہے کہ مُحَمَّد بن سلمان بھی بے وقوف تھا کہ اس نے کہا کہ وہ عمران خان وزیراعظم بننے کا انتظار کرہے تھے ۔ زمانے کے سرد و گرم دیکھے ہوئے ملائیشیا کے قابل احترام وزیراعظم مہاتیر مُحَمَّد بھی غالبا عقل سے پیدل ہوگئے ہیں بقول نارووال کے ارسطو ” اناڑی کے ہاتھ استرا دیکھ کر بھی سنبھل نہیں رہے جو بھاگ بھاگ کر دامے درمے سخنے پاکستان میں انویسٹمینٹ کے پلان لیکر آرہے ہیں ابھی کل ہی کویت نے 22 ارب ڈالرز کی انویسٹمینٹ کا ارادہ ظاہر کیا ہے ۔ 2 لاکھ 20 ہزار فی یونٹ کے لحاظ سے آسانی سے بنائے والے گھروں کی اسکیم تک لانچ کرنے کا ارادہ ظاہر کرہے ہیں ۔
    پھر سب بڑھ کر کیا یہ چین کو بھی سمجھ نہیں آرہا کہ” او تیری تو۔۔۔ لٹ گئے۔۔ برباد ہوگئے۔۔۔ یہ پاکستان میں کون اناڑی آگئے۔۔۔ یہ کس کے ہاتھوں میں استرا آگیا ۔۔۔۔وغیرہ وغیرہ ۔ یہاں تو چین کا عالم یہ ہے انہی اناڑیوں کے وزیراعظم کو دورے پر بلا کر پاکستان کو آسیان ممالک ( ملائشیا ، ویٹ نام وغیرہ ) کی طرح کا ڈیوٹی فری معاہدہ کرلیتا ہے کہ ” چل جانی 313 پراڈکٹس ڈیوٹی فری لے آو ” ۔ اس میں پاکستان اگر صرف گارمنٹس میں ہی فوکس کر لے تو وہ ہی اپنے کو کافی ہے بھائی ۔ ایک تو پاکستان کی بہترین کپاس ، ہمارا پہلے سے ٹیکسٹائل میں برسوں کا تجربہ اور ابھی بھی انسٹالڈ اینڈ ان پلیس انڈسٹری اور تیسری اور سب سے بڑی بات چین کی کپڑے کی پوری مارکیٹ ۔ آپ کو جان کر حیرت ہوگی کہ چین سالانہ 625 ارب ڈالرز کے کپڑے ، گارمنٹس اور اس سے متعلقہ آرٹیکلز import کرتا ہے یعنی دنیا سے خریدتا ہے تو اب ہمارے پاکستانی گارمنٹس ایکسپورٹرز کے لئیے سوا ارب لوگوں کی ایک بہت بڑی مارکیٹ کھل گئی ہے ۔ جوکہ بہت بڑی اپرچونٹی ہے پاکستان کے لئیے اپنے پیروں پر دوبارہ کھڑے ہونے کے لئیے ۔ کیونکہ ٹیکسٹائل فارن ایکسچینج کے ساتھ لیبر فورس کو کھپانے میں بھی نمبر ون سیکٹر رہا ہے پاکستان کا ۔

    میں حیران ہوں کہ یہ اچھے اناڑی ہیں جو ٹیکس کی دنیا کا معتبر ترین نام شبر زیدی کو لے آتے ہیں ایف بی آر کو سنبھالنے کے لئیے ۔ جس نے آتے آہی پاکستان کی معیشت کی خرابی کی روٹ کاز کو ختم کرنے کے لئیے کام شروع کردیا ۔ یعنی معیشت کی ڈاکومینٹیشن ۔ بلیک اکانومی جب سامنے ائیگی تب ہی پاکستان کی معیشت بھی سدھرے گی ۔ ہاں جہاں تک بات آئی ایم ایف کے معاہدے کی ہے تو اس منزل تک نوبت نہ پہنچنے کی ہم نے بھی بہت دعا کی تھی لیکن” بیگرز آر نوٹ چوزرز” والی بات کہ اگر پچھلوں نے اس حال میں چھوڑا ہوتا تو کچھ اکڑ بھی دکھاتے ۔ وہ تو ابتدائی بھاگ دوڑ رنگ لائی دوست ممالک بروقت آگے بڑھے اور یوں پچھلے ایک سال میں پندرہ سولہ ارب روپیہ اسی پاکستان بچاو مد میں آگیا ۔ یہ تھوڑی بہت اکڑ اور بھاگ دوڑ ہی کام آگئی کہ آئی ایم ایف کا شکنجہ اتنا سخت نہیں جتنا پہلے لگنے کا امکان اور رویوں کا پلان تھا ۔ تھوڑا اطمینان یہ تسلی دیکر بھی ہوا کہ امریکہ ہی کے نہیں روس اور چین کے بھی آئی ایم ایف میں شئیرز ہیں ۔ لہذا وہ بھی اب آئی ایم ایف کو اپنا گندہ کھیل کھل کر نہیں کھیلنے دینگے ۔
    اپنا کہنا تو یہ ہے اناڑی ٹن کے لگے رہیں دو چار اناڑیوں نے بھی کام دکھا دیا تو قوم کی ان کھلاڑیوں سے جان چھوٹ جائیگی جو ملک کے لئیے نہیں اپنی سینچریاں بنانے کے لئیے کھیلتے رہے اور قوم کی جان بھی ایسے کمنٹریٹروں سے چھوٹ جائے جنہوں نے مداریوں کو کھلاڑی بتا بتا کر قوم کو چونا لگائے رکھا ۔

  • تیری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں پے …فرحان شبیر

    تیری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں پے …فرحان شبیر

    تیری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں پے ۔
    پاکستان اور بھارت ایک ساتھ ہی آزاد ہوئے اور ایک ساتھ ہی دنیا کے نقشوں پر نمودار ہوئے ۔ پاکستان بنانے والوں پر مذہب کا استعمال کرنے کا طعنہ کسا جاتا رہا جبکہ بھارت والوں کے سیکولرازم اور ہندو نہیں بلکہ انڈین نیشنلزم کی مثالیں دیں جاتی رہیں کہ ہندوستان میں سارے انڈین ہیں نو مسلم ، نو عیسائی ، نو ہندو وغیرہ وغیرہ ۔
    چلو اب مودی کی فتح نے کچھ باتیں تو کلئیر کردیں کہ مسلمان چاہے ادھر کا یا ادھر کا یا مشرق وسطی کا ، بھلے کتنا ہی چول بنا رہے کتنا ہی اپنے دین سے لاتعلق رہے اسکا وجود ہی دل دشمناں میں کانٹے کی طرح کھٹکتا رہیگا ۔ دو قومی نظریہ کل بھی درست تھا آج بھی تر و تازہ ہے ۔ بانیان پاکستان نے اسے بہت پہلے محسوس کرلیا تھا اور ہندو کے دانتوں سے چھین کر مسلمانوں کو ایک ملک لیکر دیا ۔ بہت کہا جارہا تھا کہ ہندوستانیوں کو لگ پتہ گیا ہے لہذا اب وہ مودی کی مذہب کی سیاست کا چورن نہیں پھانکیں گے لیکن چشم فلک کی آنکھ نے یہ نظارہ بھی دیکھا کہ خود کو سیکولر کہلانے والے ملک میں ہندو دھرم کا علم لہرائے نریندر مودی اور امیت شاہ جیسے کٹر مسلم دشمن رہنما اپنی قوم سے پہلے سے زیادہ اکثریت لینے میں کامیاب ہوگئے ۔

    یہ تو ہمارے ہاں کا اندھیرا ہے جس میں ادھر والوں کو پتہ ہی نہیں کہ آس پاس میں ہو کیا رہا ہے ۔ کس طرح پورے کا پورے بھارت ہندو انتہا پسندی کے نرغے میں آکر ہندوستان بنتا جارہا ہے یا بنگلہ دیش میں پاکستان کا نام لینے والوں پر کس طرح زمین تنگ کی جارہی ہے ۔ یا اسرائیل کے حالیہ الیکشن میں ایک طرف جیتنے والا کٹر یہودی نیتھن یاہو اور دوسری جانب ہارنے والا اس سے بھی کٹر یہودی انکا سابق آرمی چیف تھا ۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی فتح میں بھی یہاں زیادہ سے زیادہ وائٹ ریسسزم کو ہی دیکھا گیا حالانکہ اس کی بھی فتح میں ایک بہت بڑا کردار ایونجیلیکلز کرسچین اور امریکی زائینوسٹ نظریات کے حامی jews کا ہے ۔
    میرے ہاں تمہارے چاہنے والے ، بھارت نواز حلقے قوم کو ہمیشہ تمہارا ایک نقلی چہرہ ہی دکھاتے رہے ۔ اور جس کسی نے بھارتی لابی ، Raw کی کاروائیوں ، بنگلہ دیش بنانے کی سازشوں ، بلوچستان میں را کے کلبھوشن نیٹ ورک کے عزائم ، کے پی کے میں پہلے ٹی ٹی پی اور اب پی ٹی ایم کر بات کی اسے اسٹیبلشمنٹ کا حواری، بوٹ پالیشیا ، غیرت بریگیڈ ، انڈین فوبیا کا شکار اور آسان الفاظ میں جمہوریت کا دشمن قرار دے کر نکو بنا دیا ۔ حالانکہ سری لنکا، بنگلہ دیش ، افغانستان اور بشمول میرے (پاکستان تک میں ) ہندوستان کی خفیہ اور اعلانیہ سامراجی کاروائیوں کی ایک تاریخ گواہ ہے ۔ خدا کا شکر ہے آج انٹرنیٹ کی وجہ سے دوسرے ممالک کے رائٹرز اور صحافیوں کے مضامین اور کتابیں بآسانی مل جاتے ہیں اور میرے لوگوں کو بھی حال سے لیکر ماضی کو سمجنے میں مدد مل جاتی یے ۔

    بھارت کا آرمی چیف بپن راوت آج بھی دھڑلے سے کہتا ہے کہ ” پاکستان سیکیولر شناخت اپنا لے تو سب ٹھیک ہو جائگا” جبکہ میرے ہاں آج بھی احباب بھارت کا ذکر کرتے ہوئے پردہ دار بیبیوں کی طرح شرما کر رہ جاتے ہیں ۔ ہندوستان میں مودی کی جیت یا اسرائیل میں نیتھن یاہو کو پھر سے اقتدار مل جانا ، کبھی انکی نظروں سے نہیں گذرتا کبھی انکے کان کھڑے نہیں کرتا ۔ پی ٹی ایم کے مسائل کا رونا رونے والے کسی لبڑل کو کشمیر کا دکھ نظر نہیں آئیگا اور کشمیر و فلسطین کو گھر کے باہر کا مسلہ قرار دینے والا وہی لبڑل پیرس کے سانحے پر ڈی پیاں رنگین کرتا نظر آئیگا ۔ انکی نظر میں امریکی اسٹیبلشمنٹ کے اخبار کا جمال خاشگجی شہید صحافت اور امریکی اسٹیبلشمنٹ کے کرتوتوں سے پردہ اٹھانے والا جولین اسانج NOBODY ہوتا ہے ۔

    ان دانشوڑوں نے کبھی بھارتی لیڈروں کے اندر برسوں سے بلبلاتے پاکستان دشمنی کے ازلی کیڑے کو نمایاں کیا نہ اسکی خفیہ ایجنسی Raw کے کردار کو موضوع بحث بنایا ۔ سارک کا پورا خطہ بھارت کے مذہبی انتہا پسند لیڈروں کے اکھنڈ بھارت کے جنون میں تباہ ہورہا ہے لیکن ہمارے ہاں ایک طبقہ ہمیشہ سے را کی دی امن کی آشا کی بانسری بجاتا آرہا ہے ۔ نریندر مودی کی دوبارہ کامیابی سے جتنی جلدی ہو سکے میرے پاکستانیوں کو کچھ سبق سیکھ لینا چاہئیے ۔

    ایک تو یہ مذہب کی بنیاد پر سیاست آج بھی ہورہی ہے سو سال پہلے بھی ہورہی تھی اور سو سال بعد بھی ہوتی رہیگی ۔ یہ غلط ہے یا صحیح اس میں آرا ہو سکتی ہیں لیکن دنیا کے سب سے ترقی یافتہ ملک امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ سے لیکر مڈل ایسٹ میں نیتھن یاہو کی جیت تک اور ادھر برازیل میں بولسینیرو کی جیت سے لیکر بھارت میں نریندر مودی تک مذہب کی بنیاد پر ہی سیاست ہورہی ہے ۔ آپ جتنا اپنے ملک میں اسلام کو سائڈ لائن کرا لیں لیکن آج بھی اسرائیل ہو یا بھارت مسلم دشمنی کا نعرہ بکتا ہے ۔ اسکا مطلب یہ نہیں کہ اسلام کا جھنڈا لیکر ساری غیر مسلم دنیا کو اپنا دشمن گردان کر نفرت کرنا شروع کردی جائے ۔ یہ ایک مسلمان کے شایان شان ہی نہیں ہے ۔ لیکن دشمن کی سازشوں سے غافل رہ کر اپنا سروائول بھی نہیں کیا جاسکتا ۔ لہذا مسلمانوں اور پاکستانیوں کو بھی متحد اور متفق ہونا پڑیگا ۔ ورنہ جو حال پچھلے بیس سالوں میں افغانستان ، عراق ، لیبیا ، شام وغیرہ میں ہوچکا ہے وہی ایران ، پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ بھی ہوتا ہوا نظر آرہا ہے ۔

    بھارت جو نہرو کے دور میں غیر وابستہ ممالک کی تحریک کا رکن اور سیکولر مزاج رکھتا تھا آج مودی کے رنگ میں گیروا ہوچکا ہے اور ہندووانہ تعصب میں پاکستان دشمنی کی نفرت کی آگ میں جل رہا ہے ۔ اور جب نہرو جیسے سیکولر کہلوانے لیڈر کی بیٹی بنگلہ دیش بنانے کا کریڈٹ لیتے ہوئے دو قومی نظریے کی ناکامی کا اعلان کرتی ہے تو پھر مودی جیسی کٹر ہندوانہ ذہنیت رکھنے والے لیڈر سے کیا توقع نہ رکھی جائے ۔ بھارت پہلے بھی پاکستان کے دو ٹکڑے کر چکا ہے اور آج بھی مذید ٹکڑے کرنا چاہتا ہے ۔ پہلے را نے مشرقی پاکستان میں اپنا کھیل کھیلا اور میرا ایک بازو کٹ کر جاگرا ۔ جرنیل اور سیاستدان دونوں اس کھیل میں شامل رہے اور قوم 65 کی کامیابی کے خمار میں سوئی پڑی رہی ۔

    اب ایک دفعہ پھر وہی کھیل کھیلا جارہا ہے جب سے چین گوادر میں انٹرسٹد ہوا ہے تب سے بلوچستان توڑ کر فری بلوچستان اور کے پی کو توڑ کر افغانستان میں شامل کرنے کی راہیں ہموار کی جارہی ہیں ۔ مڈل ایسٹ کی ری اسٹرکچرنگ کی طرح پاکستان کی کانٹ چھانٹ بھی pantagon سے لیکر اسرائیلی اور بھارتی ملٹری آفیسز کی ٹیبلوں پر نہ جانے کب سے دھرا ہے ۔ اور اس میں امریکہ اسرائیل اور بھارت تینوں کا انٹرسٹ ہے ۔ کیونکہ مڈل ایسٹ کی ری اسٹرکچرنگ سے اسرائیل کے گریٹر اسرائیل بننے کے خواب کے راستے میں بھی پاکستان ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے کیونکہ پاکستانی اسلام سے کتنا ہی دور ہوجائے ، کٹ مر جائگا لیکن مکہ یا مدینہ پر کسی کا آنکھ اٹھانا بھی برداشت نہیں کریگا کیونکہ وہ عربوں کے نہیں اسکے خدا اور رسول کے گھر ہیں اور کچھ بھی ہو پاکستان بحرحال ایک ایٹمی اور بہترین لڑاکا قوت تو ہے۔ لہذا پہلے تو پاکستانی کے بدن سے روح مُحَمَّد کو نکالا جائے پھر اسکے ڈیفنس کو ختم کیا جائے ۔

    اسی طرح دنیا میں خود کو ایک کھلاڑی منوانے سے پہلے بھارت کو ساوتھ ایشیا میں اپنے آپکو کھلاڑی منوانا ہے اور پاکستان گرتے پڑتے بھی بھارت کا یہ خواب پورا ہونے نہیں دے رہا ۔ لہذا بھارت کے خواب کی تکمیل کے لئیے پڑوسی ریاستوں اور بالخصوص مسلم پاکستان اور بنگلہ دیش کا کمزور اور لاچار ہونا لازمی ہے تو پھر بھلا نیوکلئیر طاقت بننا کیسے قبول کیا جاسکتا ہے ۔ جسے اب بھی شک ہے وہ ایران کے خلاف امریکی چارج شیٹ ملاحظہ کر سکتا ہے ۔ پاکستان کا چین کے ساتھ چلتے ہوئے اپنی معاشی اور دفاعی خودمختاری کی طرف قدم بڑھانا امریکہ اور بھارت کو شدید اضطراب میں ڈالے ہوئے ہے جتنا تیزی پاکستان سی پیک پر دکھا رہا ہے اتنا ہی زور بھارت پاکستان میں پاکستان مخالف کاروائیوں پر لگا رہا ہے ۔

    جیسے Raw نے مشرقی پاکستان میں مکتی باہنی بنائی شیخ مجیب الرحمان پر ہاتھ رکھا ویسے ہی پاکستان میں ایم کیو ایم کے الطاف حسین سے لیکر بلوچ لیڈروں اور طالبان کے مذہبی شدت پسندوں سے لیکر سیکیولر پی ٹی ایم تک سب کو دامے درمے سخنے سپورٹ کیا ۔ افسوس اس بات کا ہے کہ جس جس لیڈر نے پاکستان کے خلاف ذہر اگلا اس اس لیڈر کو ہمارے لبڑلز، ہمارے دانشوڑ حضرات نے سر آنکھوں پر بٹھایا ۔ بلکہ ایک طرح سے انہیں لیڈر بننے میں مدد دی ۔ ناراض بلوچ سے لیکر ناراض بچے کہہ کہہ کر کبھی بھی انکے پروپیگنڈے کے نقائص سامنے نہیں لائے ۔ فوج سے ازلی دشمنی میں جس نے پاکستان کو گالی دی احباب نے اسے گلے لگا کر لیڈر بنا دیا ۔ پتہ نہیں حب علی ہے یا بغض معاویہ ۔

    ہر دفعہ کی طرح اس دفعہ بھی پہلے سے پایا جانے والا احساس محرومی کیش کرایا جارہا ہے ۔ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ احساس محرومی تو پاکستان کے ہر شہر میں ہے لیکن بلوچستان اور کے پی اور اسکے قبائلی علاقے اسکا بہت بری طرح کا شکار ہیں ۔ احساس محرومی کا شکار نہ ہوں تو کبھی کسی کو علیحدگی پسندانہ نظریات پھیلانے کا موقع ہی نہ ملے ۔ لیکن یہ کونسا اصول ہے کہ احساس محرومی کا ذمہ دار خالی فوج کو ٹہرا کر سیاستدانوں کو کلین چٹ دے دی جائے ۔ منظور پشتین ، محسن داوڑ ایک طرف تو نقیب محسود کی لاش پر اپنی سیاست چمکاتے ہیں تو دوسری طرف راو انوار جن زرداری صاحب کا اپنا بچہ تھا انہی زرداری صاحب کی افطار میں شرکتیں کرتے ہیں ادھر محسن داوڑ اور علی وزیر فوجی چوکی پر حملہ کر کے بدامنی پھیلاتے ہیں وہیں بلاول بھٹو انہیں کلین چٹ دے دیتا ہے ۔ اسی پی ٹی ایم کی قیادت کو ناراض بچے ناراض بچے کہہ کہہ کر لاہور سے لیکر اسلام آباد تک میں جلسے جلوس کرانے کے لئیے فیسیسلیٹیٹ کیا گیا ۔ لاہور کے منظور پشتین کے جلسے کو پوری لبڑل لابی نے بڑی دلجمعی کے ساتھ گلوریفائی کیا اور پختون قوم کے درد مند بتایا ۔ حالانکہ ان سوالوں کا جواب کوئی نہیں دیتا تھا کہ جب تک فاٹا طالبان کے ہاتھوں تباہ ہورہا تھا اس وقت تو منظور پشتین کہیں کھڑا نہیں تھا اور جب قبائلی علاقوں کو مرجر کے بعد مرکزی دھارے میں لایا جارہا ہے تو یہ لر و بر افغان کا نعرہ لگا رہے ہیں ۔ اور اسی طرح بلوچستان کو بھی ترقی کے راستے پر آنے سے روکنے کے لئیے کوئیٹہ سے لیکر گوادر تک پھر سے دہشت گردی کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔
    ان نازک لمحات میں قوم کا ڈیوائڈ ہونا دشمن کی سب سے بڑی کامیابی ہے اور اس وقت حال یہی ہے کہ نہ ہمیں دشمنوں کا احساس ہے اور نہ انکے عزائم کا ضرورت اس بات کی ہے پاکستانی بھی اب بھارت اسرائیل اور امریکہ کے عزائم کو سمجھیں اور ملک کی تعمیر و ترقی کے لئیے جت جائیں کیونکہ ملک کی مضبوطی قوم کے اتحاد کا تقاضہ کرتی ہے اور اگر قوم ہی ڈیوائڈ ہو تو اسلحے کے انبار بھی کام نہیں آتے ۔

  • کیا اس لیے تقدیر نے چنوائے تھے تنکے ….. محمد عبداللہ

    کیا اس لیے تقدیر نے چنوائے تھے تنکے ….. محمد عبداللہ

    کیا اس لیے چنوائے تھے تقدیر نے تنکے
    کہ بن جائے نشیمن تو کوئی آگ لگا دے
    یہ وطن عزیز پاکستان جو لاکھوں شہداء کے لہو کی قربانی سے قائم ہوا تھا کہ جس کے لیے تاریخ کی بڑی ہجرتوں میں سے ایک ہجرت ہوئی وہ کسی قومیت اور ذات برادری کے لیے نہیں تھی، صوبائیت اور لسانیت کے لیے نہیں تھی. برصغیر پاک و ہند کے مسلمان کسی نعرے، نظریے یا مفاد کے لیے بلکہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی آزادی کے لیے جمع ہوئے تھے.تحریک پاکستان کے ہراول دستے کے سالار اور مسلم لیگ پاک و ہند میں محمد علی جناح کے رفقائے کار بھی بنگالی، پنجابی، بلوچی، سندھی، پختون یا کسی مسلک کی نمائندگی کرنے کے لیے جمع نہیں ہوئے تھے اور نہ ہی کسی نے لسانیت اور قومیت کے حقوق مانگے تھے. کسی کو سندھ، پنجاب،بنگال، بلوچ یا پختون بیلٹ میں مسئلہ نہیں تھا. درحقیقت ہندوستان میں مسئلہ اسلام اور مسلمانوں کو تھا ہندو جو کہ اس برصغیر میں ایک ہزار سال تک محکوم رہے تھے اب وہ اسلام کو کچلنے اور اشوکا کے دور کے ہندوستان کو دوبارہ سے قائم کرنے کے پلان ہندو تواء پر عمل پیراء تھے جس کو سرسید احمد خان، جوہر برادران، محمد علی جناح رحمة اللہ علیہ اور علامہ محمد اقبال رحمة اللہ علیہ و دیگر نے بروقت بھانپ لیا اور قوم کو بیداری کا پیغام دینا شروع کردیا اور تحریک پاکستان شروع ہوئی اور لاکھوں قربانیوں اور ہجرتوں کی دلدوز داستانوں کے بعد نظریہ اسلام لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی بنیاد پر پاکستان جیسی مملکت خداداد کا قیام عمل میں آیا.
    قیام پاکستان کے بعد جب اس نظریہ اسلام کی جگہ ہمارے اندر قومیت اور لسانیت در آئی تو پھر علاقائی حقوق اور محرومیوں کے نعرے سننے کو ملنے لگے جو بنگلہ دیش کی علیحدگی پر منتج ہوئے جس میں واضح طور پر مجرمانہ کردار انہی کا تھا جن کی اولادیں آج بھی پاکستانیت پر لسانیت اور علاقایت کو فوقیت دے رہی ہیں.
    یہ ساری باتیں دہرانے کا مقصد و منشاء یہ ہے کہ پاکستان نے اپنے قیام سے اپنی بقاء اور استحکام کے سفر میں بھی لاتعداد قربانیاں دی ہیں ستر ہزار لاشے اس ملک کے طول و عرض میں اٹھائے گئے ہیں جن میں سول، سیکیورٹی پرسنز، اقلیتیں وغیرہ سبھی شامل ہیں.
    ان قربانیوں اور سیکیورٹی فورسز کے مشکل ترین آپریشنز کے بعد ہم اس قابل ہوئے تھے کہ ملک میں امن و استحکام کو دیکھیں مگر عالمی قوتوں کے پروردہ اور ان کے اس خطے میں مفادات کے نگران لوگوں کو پاکستان کا یہ امن و استحکام گوارہ نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ اس وقت ان کا اس ملک کے نازک ترین مسائل لسانیت، علاقائیت، قومیت اور مسلکیت کی آگ جلاکر اس میں اس ملک میں قائم ہوتے امن کو راکھ کرنا مقصود ہے. اس کے لیے بدقسمتی سے جس علاقے اور بیلٹ کو چنا گیا ہے وہ ماضی میں دہشت گردوں نے بھی اسی علاقے کو اپنی آماجگاہ کے طور پر چنا اور ان علاقوں اور ان کے وسائل پر قابض ہوکر بیٹھ گئے جس کی وجہ سے یہاں کے محب وطن شہریوں کو اپنے ملک کے اندر ہی ہجرتوں پر مجبور ہونا پڑا. سیکیورٹی فورسز نے اپنی ہزاروں جانوں کی قربانی دے کر ان علاقوں کو دہشت گردوں سے واگزار کرا کر یہاں کے شہریوں کو واپس لا بسایا. اب انہی دہشت گردوں کے بھائی بندوں نے لسانیت اور قومیت کی آگ میں جلانے کے لیے اسی علاقے اور انہی لوگوں کو چنا ہے. ابتداء میں پختون بیلٹ کے مسائل اور حقوق کی بات کی گئی جب ان کے مسائل ریاست کی طرف سے حل کیے جانے کی بات ہوئی تو بجائے مذاکرات اور بات چیت کی بجائے اپنے بڑوں (TTP) کی طرح تشدد کا رستہ اختیار کیا اور ہتھیاروں سے لیس ہوکر اپنے ہی ملک کی سیکیورٹی فورسز پر حملہ کردیا.
    پختون بیلٹ کو اپنی لچھے دار باتوں اور جھوٹے اور دلفریب نعروں سے الجھانے کی کوشش کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کو خانہ جنگی کیں مبتلا کرکے عالمی قوتوں کے مفادات کو تحفظ دینے کی بھرپور کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں اور اب تشدد کا رستہ اختیار کرکے پی ٹی ایم نے واضح طور پر اپنے مستقبل کے اقدام کو واضح کردیا کہ وہ کیا چاہتے ہیں.
    یہاں پر میں انتہائی افسوس ناک کردار ادا کیا ہمارے وطن کی نام نہاد سیاسی جماعتوں نے جنہوں نے کہ جو حکومت وقت کی مخالفت میں ریاست پاکستان کے دشمنوں اور غداری پر آمادہ ان پی ٹی ایم والوں کی حمایت کا سلسلہ شروع کردیا ہے اور ان حمایتیوں میں سب سے بلند آواز انہی کی ہے جن کے باپ دادا پاکستان کے دو لخت ہونے میں واضح ترین موجب تھے.
    اب وقت آن پہنچا ہے کہ پختون بیلٹ کی غیور اور محب وطن عوام جو اول تا ابد پاکستانی ہیں جنہوں نے قائد اعظم کی پکار پر لبیک کہا تھا اور ان کی پاکستان سے محبت مسلمہ ہے وہ ان نام نہاد پختون تحفظ موومنٹ جو درحقیقت افغان اور امریکی و بھارتی مفادات کی تحفظ موومنٹ ہے اور انہی کی ایما اور شہہ پر یہ پاکستان کی سالمیت کے درپے ہیں ان کو کھلم کھلا مسترد کردیں پورے پاکستان کی عوام نہ صرف ان کا بلکہ ان کی حمایت میں اٹھنے والی ہر آواز کا بائیکاٹ کرے اور ریاست پاکستان واضح ایکشن لے کر پاکستان کی سالمیت کا تحفظ کرے پوری پاکستانی قوم بشمول قبائلی علاقہ جات کہ سبھی ریاست پاکستان اور مقتدر اداروں کی پشت پر کھڑی ہوگی.

  • میری فٹنس کا راز پانچ وقت کی نماز ہے سینیئرکھلاڑی کا بیان

    پاکستان کرکٹ ٹیم کے سینیئر کھلاڑی شعیب ملک جو 1999 سے ایک روزہ کرکٹ کھیل رہے ہیں وہ اس وقت ورلڈ کپ کھیلنے والے دو سب سے سینیئر کرکٹرز میں سے ایک ہیں. غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میری فٹنس کا راز پانچ وقت کی نماز ہے.
    شعیب ملک کا مزید کہنا تھا کہ جب آپ زیادہ کھیلتے ہیں تو آپ کو اندازہ ہوجاتا ہے کہ اپنے آپ کو کیسے فٹ رکھنا ہے.
    شعیب ملک کا کہنا تھا کہ وہ نوجوان کرکٹرز سے زیادہ فٹ رہنا چاہتے ہیں اور اس میں کامیاب بھی رہتے ہیں.
    شعیب ملک کا مزید کہنا تھا کہ مجھے خود پر اور پاکستانی ٹیم پر مکمل بھروسہ ہے کہ ورلڈ کپ میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے.