سی سی پی او لاہور منشیات کے خاتمے کے میدان میں آ گئے۔ لاہور پولیس کی ڈرگ ایڈوائزری ٹریننگ حب اور تعلیموں اداروں کے تعاون سے آگاہی مہم کا آغاز۔ تعلیمی اداروں میں منشیات کے بڑھتے ہوۓ رحجان کے خلاف آگاہی مہم کےلئے خصوصی تقریب منقعد کی گئی۔سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کی بطور مہمان خصوصی شرکت آگاہی تقریب میں تعلیمی اداروں کے سربراہان و فول پرسن نے شرکت کی۔
سی سی پی او لاہور کا کہنا ہے کہ "لاہور پولیس نے منشیات فروشوں کےخلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا ہے۔45 یوم میں منشیات فروشوں کےخلاف 1334 مقدمات میں 1353 ملزمان کو گرفتار کیا گیا،
ملزمان کے قبضہ سے 498 کلوگرام چرس، 09 کلو 463 گرام ہیروئن، 05 کلو افیون، 120 گرام آئس اور شراب کی 15 ہزار 815 بوتلیں برآمد کیں گئیں، سال 2020 میں منشیات فروشی پر 8205 مقدمات درج کئے گئے، لاہور پولیس کینال روڈ پر نشئیوں کے خلاف ایکشن جاری کئے ہوئے ہے، منشیات فروشی اور قمار بازی کے مکروہ دھندے میں ملوث بڑے مگرمچھ کو پکڑا جارہا ہے، نوجوان نسل کو نشہ کی لت سے محفوظ رکھا جائے، منشیات کی سپلائی کو روکنے کیلئے سوسائٹی کو مثبٹ کردار ادا کرنا ہوگا، انسدادِ منشیات کےلئے ہم سب کو مل کر کام کرنا ہوگا، بچوں کی کردار سازی میں والدین اور اساتذہ قلیدی کردار ادا کریں، سکولز،کالجز اور یونیورسٹیز میں آگاہی لیکچرز کا اہتمام کیا جائے گا”
Tag: پاکستان
-

منشیات کے خاتمے کیلئے سربراہ لاہور پولیس غلام محمود ڈوگر میدان میں آگئے
-

پاکستان اور بھارت کے نازک تعلقات کی وجہ سے سکیورٹی معاملہ انتہائی اہم
بھارت میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے لیے پی سی بی ٹیم
بھجوانےسےپہلے سکیورٹی پلان طلب کرے گا۔بھارتی ویزہ ایشو نہیں، اصل پریشانی قومی کھلاڑیوں کے حفاظتی انتظامات ہیں۔آئی سی سی کے سکیورٹی وفد میں ہر ممبر ملک کا ایک ایک فرد شامل ہوتاہے۔ پاکستان اور بھارت کے نازک تعلقات کی وجہ سے سکیورٹی معاملہ انتہائی اہم ہے۔
پی سی بی حکام آئی سی سی سے قومی ٹیم کی حفاظت کی ٹھوس یقین دہانی چاہتےہیں۔آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئن شپ کا فائنل ایشیاکپ کے رواں برس انعقاد کی راہ میں بڑی رکاوٹ بننےلگا۔ ایشیا کپ اور آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنلز دونوں جون میں شیڈول ہیں۔بھارتی ٹیم کے ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل میں رسائی کی صورت میں ایشیا کپ نہیں ہوسکے گا۔ -

پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن جنرل کونسل اجلاس، اہم فیصلے کر دیے گئے
پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن جنرل کونسل اجلاس ہوا جس میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) سید عارف حسن نے صدارت کی۔
جنرل ہاوس نے بھی پی او اے ایگزیکٹو بورڈ کے فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے پاکستان اتھلیٹکس فیڈریشن کی پی او اے سے رکنیت ختم کرنے کی منظوری دی۔ پی او اے جنرل کونسل نے سابق سیکرٹری پاکستان آرچری فیڈریشن کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لانے کی بھی منظوری دی۔ جنرل کونسل نے پی او اے صدر سید عارف حسن اور سیکرٹری خالد محمود پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔ نیشنل گیمز ہر دو سال کی بجائے چار سال بعد کرائی جانے کی تجویز پر معاملہ سپورٹس کمیشن کے سپرد کیا۔ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن اجلاس میں ساوتھ ایشین گیمز کو دو کی بجائے چار سال بعد کرانے کی تجویز دی ۔ ساوتھ گیمز کی میزبانی اور وزیر اعظم سے ملاقات کے حوالے سے بریف کیا جسے ہاوس کی جانب سے پی او اے کی کوششوں کو سراہا۔ سیکرٹری جنرل پی او اے نے پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کی ہونے والی ایکٹیوٹی کے حوالے سے بریف کیا۔ اجلاس میں 20-2019 آڈٹ رپورٹ کی بھی منظوری کے ساتھ ساتھ نئے مالی سال کے لیئے آڈیٹر کی تعیناتی کی گئی۔ اجلاس میں 34 ویں نیشنل گیمز کے انعقاد کے حوالے سے بھی بریف کیا گیا۔اجلاس میں پی او اے کی مختلف کمشن اور کمیٹیز کےسربراہان نے اپنی رپورٹ پیش کی۔ اجلاس میں چھٹی ایشین ان ڈور اینڈ مارشل گیمز کی تیاریوں کے حوالے سے بریف کیا گیا۔ ٹوکیو اولمپک، پانچویں اسلامک سالیڈیریٹی گیمز اور تیسری ایشین یوتھ گیمز میں شرکت اور تیاریوں کے حوالے سے بریف کیا گیا۔ اجلاس میں برمنگھم کامن ویلتھ گیمز کی بیٹن کی آمد کے حوالے سے بتایا گیا۔ اجلاس میں پی او اے ایگزیکٹو کمیٹی کے فیصلوں کی بھی منظوری دی گئی۔ پی او اے جنرل کونسل اجلاس میں 23 ممبران نے آن لائن جبکہ 80 کے قریب ممبران نے فزیکلی اجلاس میں شرکت کی۔ پی او اے کے تمام مالی معاملات کو آن لائن ویب سائیٹ پر جاری کیا جائے گا، تمام اخراجات کے حوالے سے تمام آڈٹس رپورٹ موجود ہیں -

بابراعظم کی کپتانی میں دن بدن نکھار، ٹی ٹونٹی سیریز کو جیتنے کا اچھا موقع، انضمام الحق
جنوبی افریقہ کے خلاف ٹی ٹونٹی سیریز: پاکستان کے لیے ورلڈکپ کی تیاری کا سنہری موقع ہے، انضمام الحق
پاکستان اور جنوبی افریقہ کے مابین ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل سیریزمیں شامل میچز 11، 13اور 14 فروری کو قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے جائیں گے۔یہ پہلا موقع ہوگا کہ جب دونوں ٹیمیں ٹی ٹونٹی فارمیٹ میں اس مقام پر مدمقابل آئیں گی۔ یہ تیرواں موقع ہوگا کہ جب قذافی اسٹیڈیم لاہور کسی انٹرنیشنل ٹی ٹونٹی میچ کی میزبانی کرے گا۔پاکستان کرکٹ ٹیم نے یہاں کھیلے گئے 11 میں سے 7 ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچوں میں کامیابی حاصل کی جبکہ ایک میچ بارش کے باعث منسوخ ہوگیا تھا۔ٹی ٹونٹی کرکٹ کی عالمی رینکنگ میں پاکستان 259پوائنٹس کے ساتھ چوتھے جبکہ جنوبی افریقہ کی ٹیم 252پوائنٹس کے ساتھ پانچویں نمبر پر موجود ہے۔اس موقع پر لیجنڈری بیٹسمین اور پاکستان کے سابق کپتان انضمام الحق کا پی سی بی ڈیجٹل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہنا ہے کہ قذافی اسٹیڈیم لاہور میں شیڈول ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل سیریز دونوں ممالک کے لیے آئی سی سی ٹی ٹونٹی ورلڈکپ کی تیاریوں کا سنہری موقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں اسکواڈز قدرے نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل ہیں مگر ٹیسٹ سیریز کی فاتح پاکستان کا مورال بلند ہوگا۔ لیجنڈری بیٹسمین نے کہا کہ جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز اور ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ کے بعد پاکستان ٹی ٹونٹی ورلڈکپ کے لیے اپنا کمبی نیشن فائنل کرلے گا، لہٰذا یہ سیریز نوجوان کھلاڑیوں کے لیے قومی ٹیم میں مستقل جگہ بنانے کا ایک بہترین موقع بھی ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کرکٹ ٹیم کوجنوبی افریقہ کے خلاف ہوم گراؤنڈ کا ایڈوانٹیج ہوگا مگر اس اسکواڈ کی خاص بات بہترین آلراؤنڈرز کی موجودگی ہے، فہیم اشرف،عماد بٹ، دانش عزیز اور خوشدل شاہ لوئربیٹنگ آرڈر میں برق رفتار بیٹنگ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔انضمام الحق نے کہا کہ پاکستان کا ماضی میں ٹی ٹونٹی کی نمبر ون ٹیم بننے کی بڑی وجہ بھی آلراؤنڈرز پر انحصار کرنا تھا۔
لیجنڈری کرکٹر نے کہاکہ اسپن باؤلنگ میں عثمان قادر، ظفر گوہر، ذاہد محمود اور محمد نواز جیسے باصلاحیت کھلاڑیوں کی موجودگی سے پاکستان کے اعتماد میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ فاسٹ باؤلنگ کے شعبے میں شاہین شاہ آفریدی، حارث رؤف، محمد حسنین اور حسن علی کی دستیابی سے پاکستان کو بہت فائدہ ہوگا۔ سابق کپتان قومی کرکٹ ٹیم نے کہا کہ بابراعظم الیون کا سب سے اہم کھلاڑی خود بابراعظم ہوگا، وہ وائیٹ بال کرکٹ کے شاندار بلے باز ہیں، حریف ٹیم کے لیے ہوم گراؤنڈ میں انہیں قابو کرنا آسان نہیں ہوگا۔ انضمام الحق نے کہا کہ ٹیسٹ سیریز میں کامیابی سے بابراعظم کو بطور کپتان بھی بہت اعتماد ملا ہوگا۔ انہوں نےمزید کہا کہ بابراعظم کی کپتانی میں دن بدن نکھار آرہا ہے، 18 سال بعد ٹیسٹ سیریز میں جنوبی افریقہ کو شکست دینے کے بعد اب پاکستان کے پاس دونوں ممالک کے مابین قذافی اسٹیڈیم لاہور میں شیڈول اس پہلی ٹی ٹونٹی سیریز کو جیتنے کا بھی اچھا موقع ہے۔
-

خصوصی افراد کی فلاح و بہبود اور پاکستان میں معذوری کی ابھرتی صورتحال کے متعلق کیا اقدامات عمل میں لا رہے ہیں ؟
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی زیرِ صدارت گورنر ہاؤس ، پشاور میں خصوصی افراد کی بہبود کے متعلق اجلاس میں معاونِ خصوصی صحت ڈاکٹر فیصل سلطان ، گورنر خیبر پختونخواہ کی شرکت اور عالمی ادارہ صحت کے نمائندگان بھی شریک تھے۔ صدر مملکت کو خصوصی افراد کی فلاح و بہبود اور پاکستان میں معذوری کی ابھرتی صورتحال کے متعلق بریفنگ۔
یونیورسل ہیلتھ کوریج کا کم لاگت والا موثر پیکیج تیار کرنے والا پاکستان دنیا کا پہلا ملک بن گیا ، معذور افراد کی بحالی اور متعدی امراض سے بچاؤ کیلئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی ضرورت ہے، خصوصی افراد کیلئے معاون ٹیکنالوجی عالمی ، علاقائی اور ریاستی سطح پر مقبول ہو رہی ہے، حکومت خصوصی افراد کو ٹیکنیکل ، ووکیشنل اور ہنرمندی کی تعلیم دے کر معاشی طور پر خودمختار بنانے پر توجہ دے رہی ہے، وزیر اعظم عمران خان افراد کیلئے 2000 روپے ماہانہ وظیفہ دینے کا اعلان کر چکے ہیں، خصوصی افراد کے حقوق ایکٹ 2020 ء سے خصوصی افراد کو قومی ترقی میں شامل کرنے میں مدد ملے گی، حکومت خصوصی افراد کی فلاح اور معاشرےمیں ان کی شرکت بڑھانے کیلئے پرعزم ہے،
خصوصی افراد کے ڈیٹا کی تیاری کے بعد انہیں آسان شرائط پر قرض فراہم کیا جائے گا، پوسٹ گریجویشن کلاسوں میں داخلہ لینے والے خصوصی طلباء کو فیسوں کی معافی دی جائے گی، خصوصی طلباء کی مدد کے لئے 50،000 روپے اسکالرشپ فراہم کی جارہی ہیں ، صدر عارف علوی -

ججوں کی ریٹائڑ منٹ کے بعد نوکریوں اور پنشن کا معاملہ
پاکستان میں کئی برسوں سے قانون نافذ کرنے والے وکلاء اور ججز کی ریٹائڑمنٹ کے بعد کی نوکریوں کے حوالے سے کوئی مضبوط فیصلہ نہیں لیا گیا- اور موجودہ پالیسیوں میں کئی مسائل ظاہر ہوتے ہیں-
مرحومہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما ارون جیٹلی نہ نے ایک بار اپوزیشن میں ججوں کی پنشن اور قبل از ریٹائرمنٹ سےمتعصبانہ فیصلوں سے بچنے کے لیے قابل ستائش مقدمہ پیش کیا- انھوں نے کہا کہ اس وقت سب سے اہم چیلنج جو اقتصادی لبرلائزیشن کے بعد آایا وہ یہ ہے کہ ملک کے کئی ہائی کورورٹ قانونی طور پر بہت منافع بخش بھی بن گئے ہیں- لہذا بہترین شخص جج بننے کو تیار نہیں ہیں – امید ہے کہ کسی مرحلے پر معزز وزیر قانون اپنے آپ پر اس سوال کو ضرور لاگو کریں گے کہ ایسا ادارہ جس میں با صلاحیت شخص جج بننے کے لیے تیار نہیں تو یہ ایک سنگین مسئلہ بن جائے گا- میرے خیال میں ججوں کے لئے ریٹائرمنٹ کے بعد کے مواقع پیدا کرنے میں ہم ہر قانون سازی میں بہت دور ہیں۔ آپ کی تجویز ہے کہ ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھا دی جائے ہیں۔ براہ کرم یہ کریں ، لیکن ایک شرط کے ساتھ۔- چند قابل ذکر معزز مردوں کو چھوڑ کر ،ہر ایک ، ریٹائرمنٹ کے بعد ملازمت چاہتا ہے اور ہم ان کے لیے بڑی بہادری سے نوکریوں کی تشکیل کر رہے ہیں۔ اگر ہم اسے تخلیق نہیں کرتے ہیں تو ، وہ خود اسے تخلیق لیں گے۔
مجھے خوشی ہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے پر نظرثانی کرتے ہوئے کہا ، "سی آئی سی کے ہر ممبر کو ریٹائرڈ جج ہونا چاہئے۔” کسی کالج کی فیس کا حساب کرنا ایک اکاؤنٹنگ کا طریقہ ہے۔ عدالتی حکم کے ذریعے سپریم کورٹ نے کہا ، "میڈیکل کالجز اور انجینئرنگ کالجوں کی فیسوں کو ریٹائرڈ ججوں کے ذریعہ لازمی طور پر مقرر کیا جانا چاہئے”۔ اور کہا ، "ہر ریاست میں ہم نے مزید ملازمتیں پیدا کیں۔” میرے خیال میں لوٹیئنس بنگلے پر قبضہ جاری رکھنے کا یہ پورا فتنہ ہے۔ اور اس لیے ، براہ کرم پولیسیوں کا جائزہ لیں ، جب تک کہ یہ قطعی ضروری نہ ہو ، ان میں سے کچھ کو بھی عدالتی سیٹ اپ میں شامل کرلیا جانا چاہیے ، ریٹائر ہونے والے ججوں کو ان کی آخری تنخواہ کے برابر پنشن ادا کریں۔ریٹائرمنٹ کے بعد ملازمت کی خواہش ریٹائرمنٹ سے پہلے کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتی ہے – یہ عدلیہ کی آزادی کے لئے خطرہ ہے- اور ایک بار جب وہ ریٹائرمنٹ سے قبل کے فیصلوں پر اثرانداز ہوتا ہے تو ، اس کا خود ہی عدلیہ کے کام کاج پر منفی اثر پڑتا ہے-
پاکستان کے بھی کئی معززججز اور وکلاء مثلا اعتزاز احسن، احمر بلال ، سلیمان راجہ وغیرہ پر بھی یہی قانون لاگو ہوتا ہے- پاکستان میں بھی عدلیہ کی نطر میں ریٹائڑڈ ججز اوروکلاٰءکے لیے بنائے گئے پنشن اور بعد ازریٹائڑمنٹ نوکریوں کے لیے بنائی گئیں پالیسیوں پر نظرثانی کرنے کی کوشش کرنی چاہیے-
-

ون چیمپیئن شپ مکسڈ مارشل آرٹس (ایم ایم اے) فائٹ میں پاکستان اور بھارت آخر کون جیتا؟؟
ون چیمپیئن شپ مکسڈ مارشل آرٹس (ایم ایم اے) فائٹ میں پاکستان نے بھارت کو شکست سے دوچار کردیا۔ سنگا پور میں ہونے والے مقابلے میں پاکستان کے فائٹر احمد مجتبیٰ نے بھارتی حریف راجو راہول کو ناک آؤٹ کردیا۔ بھارتی سورما پاکستانی شاہین کا رنگ میں مقابلہ ہی نہ کرپایا اور پہلے راؤنڈ میں پہلے ہی مکے میں ڈھیر ہوگیا۔ احمد وولورین مجتبیٰ کے نام سے اپنی پہچان رکھنے والے پاکستانی فائٹر نے بھارتی سورما کو پہلے ہی راؤنڈ میں سینے پر ایسا مکا مارا کہ وہ دوبارہ اٹھ ہی نہیں پایا اور میچ ختم ہوگیا۔ خیال رہے کہ احمد مجتبیٰ کو اس فائٹ کیلئے سوئنگ کے سلطان وسیم اکرم اور دنیا کے تیز ترین باؤلر کا ریکارڈ رکھنے والے شعیب اختر نے بھرپور سپورٹ کا اعلان کیا تھا۔ شعیب اختر نے کہا تھا کہ اگر احمد مجتبیٰ یہ فائٹ جیتے تو وہ خود ان کا ایئر پورٹ پر استقبال کریں گے۔
-

پاکستان ہر سطح پرکشمیریوں کی سفارتی، اخلاقی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا، معاون خصوصی وزیر اعلیٰ
کشمیریوں کو حق خود ارادیت ملنے تک عالمی امن کا خواب پورا نہیں ہو سکتا، فردوس عاشق اعوان۔
بھارتی ریاستی دہشت گردی ہزاروں بے گناہ کشمیریوں کی جان لے چکی،مودی نے 6لاکھ فوجیوں کو نہتے کشمیریوں کے قتل عام پر مامور کر دیا
بھارت میں تمام اقلیتیں ہندوتوا مائنڈ سیٹ کا شکار ہیں۔پاکستان ہر سطح پرکشمیریوں کی سفارتی، اخلاقی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا
معاون خصوصی وزیر اعلیٰ کا تقریب سے خطاب
لاہور05فروری: اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں کشمیری بہن بھائیوں کو حق خود ارادیت دلوانے کیلئے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنا اور احساس دلانا ہو گا کہ کشمیریوں کو حق خود ارادیت ملنے تک عالمی امن کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔ پاکستانی قوم کشمیریوں کو انکا حق دلوانے کیلئے ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ کشمیر پاکستان کے وجود کا حصہ ہے اسکے بغیر پاکستان نا مکمل اور ادھورا ہے۔پاکستان ہر سطح پرکشمیریوں کی سفارتی، اخلاقی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا۔ وزیر اعظم عمران خان نے کشمیریوں کے ترجمان اور وکیل بن کر عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کا وعدہ اپنے جنرل اسمبلی کے خطاب میں وعدہ پورا کیا اور دنیا کو بارآور کروایا کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے دعویدار بھارت نے کس طرح کشمیرکو دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل کر رکھا ہے۔
ان خیالات کا اظہار معاون خصوصی وزیر اعلیٰ پنجاب ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے لاہور پریس کلب میں یوم کشمیر کے حوالے سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ معاون خصوصی نے کہا کہ بھارتی فوج نے کشمیر میں بہنوں،بیٹیوں کی عصمت دری کی خوفناک داستانیں رقم کی ہیں اور وہاں نوجوانوں کی پیلٹ گن سے بینائی چھینی جا رہی ہے۔ بھارت کشمیریوں کی بینائی تو چھین سکتا ہے مگر ان سے آزادی کے خواب نہیں چھین سکتا۔ کشمیری عوام کے اظہار رائے پر پابندی لگانے کے باوجود انکی آواز پہلے سے زیادہ گونج رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی نے 6لاکھ سے زائد فوج کو نہتے کشمیریوں پر چڑھائی کیلئے وقف کر رکھا ہے۔ کشمیر کی آزادی کی خاطر اپنی جائیں قربان کرنے والے شہدا، حریت رہنماؤں کے حوصلے اور ان تمام کشمیریوں کو جنہوں نے آزادی کی شمع روشن رکھنے کیلئے اپنی نسلوں کی قربانی دی، پاکستانی قوم کی طرف سے سلام پیش کرتی ہوں۔ ہندوستان نے طاقت کے بل بوتے پر کشمیریوں کی آواز دبانے کی کوشش کی مگر اب یہ ہتھکنڈے ناکام ہو چکے ہیں۔ سوشل میڈیا کے دور میں کشمیریوں کی آواز کسی صورت دبائی نہیں جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت یوم یکجہتی کشمیر سرکاری سطح پر بھرپور انداز میں منا رہی ہے،وزیر اعلیٰ پنجاب نے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کی مہم کی سربراہی کی۔ پنجاب کے تعلیمی اداروں میں کشمیر کے حوالے سے تقریری مقابلوں، ملی نغموں اور مشاعروں کا اہتمام کیا گیا ہے۔ بھارت میں تمام اقلیتیں ہندوتوا مائنڈ سیٹ کا شکار ہیں۔مودی کا سکھوں اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ بدسلوکی سے اب دنیا آگاہ ہے۔ پاکستان کے 22کروڑ عوام مودی کو اس کے ناپاک عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے اور لہو کے آخری قطرے اور بندوق کی آخری گولی تک کشمیری بہن بھائیوں کا ساتھ دیں گے۔قبل ازیں اپنے ٹویٹر پیغام میں معاونِ خصوصی وزیراعلی پنجاب نے کہا کہ بھارتی ریاستی دہشت گردی میں اب تک ہزاروں بے گناہ کشمیری شہید ہوچکے ہیں۔ ایک لاکھ 7 ہزار 813 بچے یتیم، 22ہزارخواتین بیوہ ہوچکیں، بھارتی درندہ فوج 11ہزار 234 کشمیری خواتین کو اجتماعی زیادتیوں کا نشانہ بنا چکی ہے مگر مسلسل ظلم کا سامنا کرتے کشمیریوں کے حوصلے چٹانوں سے بھی بلندہیں۔ بعد ازاں ڈسکہ میں فرینڈز آف کشمیر کے زیر اہتمام یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر منعقدہ کشمیر کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ اقوام عالم اور بالخصوص انسانی حقوق کی علمبردار تنظیموں کو مظلوم کشمیریوں کی چیخ وپکارکیوں سنائی نہیں دیتی ان کو بھارتی فوج کے مظالم کیوں نظر نہیں آتے۔ انہوں نے کہاکہ کشمیر ہماری شہ رگ ہے اور اپنی شہ رگ کو دشمن کی گرفت سے آزاد کرائے بغیر ہر گز آرام نہیں بیٹھیں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اقوام عالم اپنی منظور شدہ قرار داد پر عملدرآمد کروائے اور کشمیر یوں کو استصواب رائے کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دلا کر اپنی ذمہ داریاں انجام دیں۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے ڈسکہ میں اظہار یکجہتی ریلی کی قیادت کی جو میلاد چوک سے شروع کر بنگلہ چوک میں اختتام پذیر ہوئی۔ ریلی کے شرکا نے کشمیر بنے گا پاکستان اورکشمیریوں سے رشتہ کیا لاالہ الاللہ۔۔۔کے نعرے لگائے -

پاکستان مسلم لیگ پنجا ب کے زیر اہتمام یوم یکجہتی کشمیر ریلی کا انعقاد
کشمیر کی آزادی تک تحریک ختم نہیں ہوگی،پورا پاکستان کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے،سینیٹر کامل علی آغا
حکومت نے موثر طور پر مسئلہ کشمیر پوری دنیا میں اٹھایا،یورپی ممالک کی پارلیمنٹ میں بھی مسئلہ کشمیر اٹھایا گیا
میاں منیر، خدیجہ عمر فاروقی، سید بلال مصطفی شیرازی، ذوالفقار پپن، سہیل چیمہ، سجاد بلوچ،جہانگیر اے جھوجھہ ایڈووکیٹ، آمنہ الفت و دیگر کا خطاب
لاہور( )پاکستان مسلم لیگ پنجاب کے جنرل سیکرٹری سینیٹر کامل علی آغاکی زیر قیادت مسلم لیگ ہاؤس سے مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی تک ریلی نکالی گئی ریلی میں ،کشمیر کے حق میں فلک شگاف نعرے لگائے گئے،کشمیر بنے گا پاکستان مودی کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے ہم کشمیر کی آزادی تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے کشمیر ہماری شہ رگ ہے ہم کشمیر ی بھائیوں کی آزادی کیلئے خون کے آخری قطر تک جنگ لڑیں گے عالمی قوتوں کو کشمیر کے ایشو پر اپنا کردار ادا کرے اور کشمیریوں پر ظلم و ستم ختم کیا جائے لگائے گئے،ریلی میں میاں محمد منیر، خدیجہ فاروقی ایم پی اے، ماجدہ زیدی،جہانگیر اے جھوجھہ ایڈووکیٹ، سید بلال مصطفی شیرازی،ذوالفقار پپن،سہیل چیمہ، سجاد بلوچ،انجینئر شہزاد الہٰی،جیمز ناز، آمنہ الفت، عزیرہ سعید، نصیر آرائیں، اشیاق گوہر ایڈووکیٹ، جاوید گورائیہ وکی گجر،چوہدری عاشق،شیخ فیصل،شیخ عمر، افضال تارڑذیلدار،اسلم گل سمیت عہدیداروں و کارکنوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ریلی سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ پنجاب کے جنرل سیکرٹری سینٹر کامل علی آغا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کی آزادی تک تحریک ختم نہیں ہوگی پورا پاکستان کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ آزادی کشمیریوں کا حق، بھارت نوشتہ دیوار پڑھ لے،انہوں نے کہا کہ عالمی برادری بھارت کی جارحیت اور بربریت کا فوری نوٹس لے۔پوری قوم پاک فو ج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے پاک فوج بھارتی جارحیت کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے بھارت نے پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھا تو افواج پاکستان ایسا جواب دے گی کہ بھارت کی آنے والی نسلیں بھی یادر کھیں گی۔کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی تحریک اپنی منزل تک پہنچ چکی ہے۔بھارت کشمیریوں کی جانوں کا دشمن بن چکا ہے بھارت میں آزادی کی متعدد تحریکیں چل رہی ہے بھارت جلد ٹکڑے ٹکڑے ہوگا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میاں منیر، خدیجہ عمر فاروقی، سید بلال مصطفی شیرازی، ذوالفقار پپن، سہیل چیمہ، سجاد بلوچ،جہانگیر اے جھوجھہ ایڈووکیٹ، آمنہ الفت نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت جتنی فوج بڑھاتا ہے، تحریک آزادی اتنی زیادہ مضبوط ہورہی ہے۔پاکستانی قوم کشمیریوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے کشمیر میں قابض بھارتی فوج سے کشمیریوں کاحق خودارادیت کو دبایا نہیں جاسکتا۔کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اس کی آزادی کیلئے پاکستان مسلم لیگ اپنی تمام تر توانائیاں استعمال کرے گی اور کشمیروں کو ان کا حق دلوایا جائے گا۔مقررین نے کہا کہ امت مسلمہ ایک ہوجائے اتحاد،تنظیم،یقین محکمہ پر عمل پیرا ہوکر کشمیر کی آزادی کیلئے کام کریں -

کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی بند کرنے کا وزیر خارجہ نے کیا دنیا سے مطالبہ
اسلام آباد (چنگیز خان جدون و اقراء لیاقت علی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے ایوان صدر میں یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ھوئے کہا کہ ہم اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے یہاں جمع ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک اس امر کو یقینی نہ بنایا جائے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں قابض بھارتی اقواج کے ہاتھوں روزانہ کی بنیاد پر ان کے بنیادی حقوق کی پامالی کا خاتمہ نہیں ہوتا۔یہ اظہارِ یکجہتی اس وقت تک نامکمل ہے جب تک بین الاقوامی برادری کی جانب سے کشمیریوں کے ساتھ حق خودارادیت کی فراہمی کا وعدہ ایفا نہیں ہو جاتا۔شاہ نے کہا کہ آج سے تقریباً ڈیڑھ سال قبل، 5 اگست 2019 کو بھارت نے جب مقبوضہ جموں و کشمیر میں غیر آئینی اور یکطرفہ اقدامات اٹھائے تو اسے یہ غلط فہمی تھی کہ کشمیری انہیں قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول کر لیں گے۔اسے یہ غلط فہمی تھی کہ وہ عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکنے میں کامیاب ہو جائے گا۔بھارت کو یہ غلط فہمی تھی کہ وہ کشمیریوں کو ان خوداردایت کے جائز حق سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے محروم کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔لیکن ایسا نہ ہو سکا اور نہ ہی ہو سکے گا۔ انشاء اللہ۔ بھارت کو اس کے مذموم مقاصد میں ہمیشہ ناکامی ہو گی۔آج کشمیریوں کے بنیادی حقوق غصب کرنے والے ہندوستان کا چہرہ، عالمی برادری کے سامنے پوری طرح بے نقاب ہو چکا ہے۔ بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں نے وہاں کی نام نہاد جمہوریت کی قلعی کھول دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افسوس ناک امر یہ ہے کہ عالمی سطح پر مذمت کے باوجود بھارت نے اپنی روش تبدیل نہیں کی اور بھارت آج ایک طرف غیرقانونی طورپر اپنے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں آبادی کےغیرقانونی طورپر تناسب میں تبدیلی کے ذریعے غاصبانہ تسلط کو طول دینے کی کوشش کررہا ہے تو دوسری جانب اس کی سیاسی و عسکری قیادت پاکستان کے خلاف مسلسل زہر اگل رہی ہے ۔
یورپی یونین ڈس انفولیب کی رپورٹ نے پاکستانی موقف کی توثیق کردی ہے کہ بھارت۔جھوٹی اطلاعات پھیلا کر عالمی سطح پر پاکستان کو بدنام کرنے کی گھناؤنی سازش میں ملوث ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت، مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے عرصہ دراز سے مظلوم کشمیریوں کو اپنے جبرو استبداد کا نشانہ بنا رہا ہے قابض بھارتی اقواج نے غیر انسانی ہتھکنڈوں سے 80 لاکھ کشمیریوں کا محاصرہ کررکھا ہے۔نہتے کشمیری ایسے کمیونیکیشن بلیک آو¿ٹ،کا سامنا کر رہے ہیں، جس کی مثال موجودہ دور میں کہیں دکھائی نہیں دیتی۔وزیر خارجہ نے کہا کہ نام نہاد ”محاصروں، چھاپوں اور تلاشی “ کی کارروائی اور جعلی مقابلوں میں کشمیری نوجوانوں کا ماورائے عدالت قتل، معمول بن چکا ہے۔کشمیریوں کے بنیادی حقوق کو غصب کیا جا رہا ہے، انہیں ان کے زندہ رہنے،بنیادی آزادیوں،تعلیم سمیت دیگر حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے۔پرامن مظاہرین پر پیلٹ گنز کا وحشیانہ استعمال کیا جاتا ہے ، کشمیریوں کو اجتماعی طور پر سبق سکھانے کیلئے ان کے گھروں کو مسمار اور املاک کو تباہ کیا جاتا ہے۔بھارت، غیر قانونی طور پراپنے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں اپنے غاصبانہ تسلط کوطول دینے کیلئے، غیر کشمیریوں کو غیرقانونی طریقے سے کشمیر میں آباد کرنے کی مذموم کوشش کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں قابض بھارتی اقواج کے مظالم کی پردہ پوشی کیلئے بھارت کالے قوانین کا سہارا لے رہا ہے نہتے کشمیریوں کو ان کے حق خود ارادیت سے محروم رکھا جا رہا ہے۔جب بھارتی قابض افواج کے ہاتھوں لاکھوں کشمیریوں کی نسل کشی کا خطرہ لاحق ہو تو عالمی برادری صورت حال سے نظریں نہیں چرا سکتی۔میں یہ بات وزیر خارجہ کے طورپر نہیں کہہ رہا ہوں بلکہ یہ حقیت ’جینو ا۔سائیڈ ۔واچ ‘جیسے غیر جانبدار مبصر ین بیان کر رہے ہیں اور اس حوالے سے ’الرٹ‘ بھی جاری ہو چکا ہے۔قریشی نے کہا کہ بھارت کی جانب سے کشمیریوں کے حق خودارادیت کا انکار، عالمی برادری کی توہین کے مترادف ہے۔تنازعہ جموں وکشمیر کے حل کے حوالے سے، عالمی برادری کی ترجمان، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعدد قراردادیں موجود ہیںجنہیں بھارت ماننے سے مسلسل انکاری ہے۔بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں اجتماعی عالمی ضمیر کیلئے لمحہ ءفکریہ ہے۔ہندوستان یہ نہیں کہہ سکتا کہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ اس متنازعہ علاقے میں وہ جو بھی کرے گا، وہ اسکا اندرونی معاملہ ہو گا۔عالمی برادری نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔قریشی نے کہا کہ انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والی علاقائی و عالمی تنظیموں، میڈیا، سول سوسائٹی اور دنیا کی اہم پارلیمانوں کی جانب سے اس حوالے سے سامنے آنیوالی مذمت مسئلے کی نزاکت اور اہمیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کے حوالے سے عالمی برادری کی جانب سے سامنے آنا والا ردعمل اہمیت کا حامل ہے لیکن محض یہ ردعمل نا کافی ہے۔عالمی برادری کا کوئی بھی ردعمل اس وقت تک موثر ثابت نہیں ہو گا جب تک ہندوستان کو انسانیت کے خلاف ان سنگین جرائم کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاتا۔کوئی ردعمل اس وقت تک کارآمد ثابت نہیں ہو سکتا جب تک کشمیریوں کو ”خودارادیت“ کا ان کا جائز حق نہیں دلایاجاتا۔ہم ایک دفعہ پھر عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بھارت کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں ڈھائے جانے والے انسانیت سوز مظالم کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے اس پر زور دے کہ:مقبوضہ جموں و کشمیر میں بلاجواز طورپر جاری مسلسل محاصرے کو فی الفور ختم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سلسلہ بند کرے۔کمیونیکیشن (مواصلاتی روابط) بلیک آئوٹ، نقل و حرکت اور پرامن اجتماعات پر عائد پابندیوں ختم کرے۔بھارتی جیلوں میںبلاجواز قید کشمیری قیادت فی الفور رہا کی جائے اور انہیں کشمیریوں کے جذبات کی ترجمانی سے نہ روکا جائے۔تمام گرفتار کشمیری نوجوانوں کو رہا کیا جائے۔آبادی کے تناسب میں تبدیلی کے لئے نافذ کئے گئے غیرقانونی ڈومیسائل قوانین واپس لے اور غیر کشمیریوں کو جاری ہونے والے ڈومیسائل منسوخ کئے جائیں۔مقبوضہ جموں وکشمیر میں تعینات بھارتی قابض فوج کے جرائم کو قانونی جواز فراہم کرنے کے لیے نافذ کردہ کالے قوانین کالعدم کرے۔حقائق کا جائزہ لینے کیلئے اقوام متحدہ کے مبصرین، انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں اور بین الاقوامی میڈیا کومقبوضہ جموں و کشمیر جانے کی اجازت دی جائے۔جنگ بندی کے معاہدوں اور ورکنگ باؤنڈری کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے۔مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشت گردوں بند کی جائے۔اقوام متحدہ کی نگرانی میں آزادانہ اور شفاف استصواب رائے کے ذریعے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو ان کا جائز حق خودارادیت دیا جائے
آخر میں، میں’ ایلس۔ ولز‘ کے اس معروف قول کا حوالہ دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ ”ہمیں مظلوم کی حمایت کرنی چاہئے کیونکہ ہماری خاموشی مظلوم کا نہیں بلکہ ظالم کا حوصلہ بڑھاتی ہے“ آخر میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آئیے۔ یکجہتی کشمیر کے اس دن کے موقع پر ہم عہد کریں کہ بھارتی مظالم کا شکار نہتے کشمیریوں کی حمایت جاری رکھیں گے اور ان پر ڈھائے جانے والے ظلم کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گے۔