Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • ججوں کی ریٹائڑ منٹ کے بعد نوکریوں اور پنشن کا معاملہ

    ججوں کی ریٹائڑ منٹ کے بعد نوکریوں اور پنشن کا معاملہ

    پاکستان میں کئی برسوں سے قانون نافذ کرنے والے وکلاء اور ججز کی ریٹائڑمنٹ کے بعد کی نوکریوں کے حوالے سے کوئی مضبوط فیصلہ نہیں لیا گیا- اور موجودہ پالیسیوں میں کئی مسائل ظاہر ہوتے ہیں-

    مرحومہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما ارون جیٹلی نہ نے ایک بار اپوزیشن میں ججوں کی پنشن اور قبل از ریٹائرمنٹ سےمتعصبانہ فیصلوں سے بچنے کے لیے قابل ستائش مقدمہ پیش کیا- انھوں نے کہا کہ اس وقت سب سے اہم چیلنج جو اقتصادی لبرلائزیشن کے بعد آایا وہ یہ ہے کہ ملک کے کئی ہائی کورورٹ قانونی طور پر بہت منافع بخش بھی بن گئے ہیں- لہذا بہترین شخص جج بننے کو تیار نہیں ہیں – امید ہے کہ کسی مرحلے پر معزز وزیر قانون اپنے آپ پر اس سوال کو ضرور لاگو کریں گے کہ ایسا ادارہ جس میں با صلاحیت شخص جج بننے کے لیے تیار نہیں تو یہ ایک سنگین مسئلہ بن جائے گا- میرے خیال میں ججوں کے لئے ریٹائرمنٹ کے بعد کے مواقع پیدا کرنے میں ہم ہر قانون سازی میں بہت دور ہیں۔ آپ کی تجویز ہے کہ ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھا دی جائے ہیں۔ براہ کرم یہ کریں ، لیکن ایک شرط کے ساتھ۔- چند قابل ذکر معزز مردوں کو چھوڑ کر ،ہر ایک ، ریٹائرمنٹ کے بعد ملازمت چاہتا ہے اور ہم ان کے لیے بڑی بہادری سے نوکریوں کی تشکیل کر رہے ہیں۔ اگر ہم اسے تخلیق نہیں کرتے ہیں تو ، وہ خود اسے تخلیق لیں گے۔

    مجھے خوشی ہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے پر نظرثانی کرتے ہوئے کہا ، "سی آئی سی کے ہر ممبر کو ریٹائرڈ جج ہونا چاہئے۔” کسی کالج کی فیس کا حساب کرنا ایک اکاؤنٹنگ کا طریقہ ہے۔ عدالتی حکم کے ذریعے سپریم کورٹ نے کہا ، "میڈیکل کالجز اور انجینئرنگ کالجوں کی فیسوں کو ریٹائرڈ ججوں کے ذریعہ لازمی طور پر مقرر کیا جانا چاہئے”۔ اور کہا ، "ہر ریاست میں ہم نے مزید ملازمتیں پیدا کیں۔” میرے خیال میں لوٹیئنس بنگلے پر قبضہ جاری رکھنے کا یہ پورا فتنہ ہے۔ اور اس لیے ، براہ کرم پولیسیوں کا جائزہ لیں ، جب تک کہ یہ قطعی ضروری نہ ہو ، ان میں سے کچھ کو بھی عدالتی سیٹ اپ میں شامل کرلیا جانا چاہیے ، ریٹائر ہونے والے ججوں کو ان کی آخری تنخواہ کے برابر پنشن ادا کریں۔ریٹائرمنٹ کے بعد ملازمت کی خواہش ریٹائرمنٹ سے پہلے کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتی ہے – یہ عدلیہ کی آزادی کے لئے خطرہ ہے- اور ایک بار جب وہ ریٹائرمنٹ سے قبل کے فیصلوں پر اثرانداز ہوتا ہے تو ، اس کا خود ہی عدلیہ کے کام کاج پر منفی اثر پڑتا ہے-

    پاکستان کے بھی کئی معززججز اور وکلاء مثلا اعتزاز احسن، احمر بلال ، سلیمان راجہ وغیرہ پر بھی یہی قانون لاگو ہوتا ہے- پاکستان میں بھی عدلیہ کی نطر میں ریٹائڑڈ ججز اوروکلاٰءکے لیے بنائے گئے پنشن اور بعد ازریٹائڑمنٹ نوکریوں کے لیے بنائی گئیں پالیسیوں پر نظرثانی کرنے کی کوشش کرنی چاہیے-

  • ون چیمپیئن شپ مکسڈ مارشل آرٹس (ایم ایم اے) فائٹ میں پاکستان اور  بھارت آخر کون جیتا؟؟

    ون چیمپیئن شپ مکسڈ مارشل آرٹس (ایم ایم اے) فائٹ میں پاکستان اور بھارت آخر کون جیتا؟؟

    ون چیمپیئن شپ مکسڈ مارشل آرٹس (ایم ایم اے) فائٹ میں پاکستان نے بھارت کو شکست سے دوچار کردیا۔ سنگا پور میں ہونے والے مقابلے میں پاکستان کے فائٹر احمد مجتبیٰ نے بھارتی حریف راجو راہول کو ناک آؤٹ کردیا۔ بھارتی سورما پاکستانی شاہین کا رنگ میں مقابلہ ہی نہ کرپایا اور پہلے راؤنڈ میں پہلے ہی مکے میں ڈھیر ہوگیا۔ احمد وولورین مجتبیٰ کے نام سے اپنی پہچان رکھنے والے پاکستانی فائٹر نے بھارتی سورما کو پہلے ہی راؤنڈ میں سینے پر ایسا مکا مارا کہ وہ دوبارہ اٹھ ہی نہیں پایا اور میچ ختم ہوگیا۔ خیال رہے کہ احمد مجتبیٰ کو اس فائٹ کیلئے سوئنگ کے سلطان وسیم اکرم اور دنیا کے تیز ترین باؤلر کا ریکارڈ رکھنے والے شعیب اختر نے بھرپور سپورٹ کا اعلان کیا تھا۔ شعیب اختر نے کہا تھا کہ اگر احمد مجتبیٰ یہ فائٹ جیتے تو وہ خود ان کا ایئر پورٹ پر استقبال کریں گے۔

  • پاکستان ہر سطح پرکشمیریوں کی سفارتی، اخلاقی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا، معاون خصوصی وزیر اعلیٰ

    پاکستان ہر سطح پرکشمیریوں کی سفارتی، اخلاقی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا، معاون خصوصی وزیر اعلیٰ

    کشمیریوں کو حق خود ارادیت ملنے تک عالمی امن کا خواب پورا نہیں ہو سکتا، فردوس عاشق اعوان۔
    بھارتی ریاستی دہشت گردی ہزاروں بے گناہ کشمیریوں کی جان لے چکی،مودی نے 6لاکھ فوجیوں کو نہتے کشمیریوں کے قتل عام پر مامور کر دیا
    بھارت میں تمام اقلیتیں ہندوتوا مائنڈ سیٹ کا شکار ہیں۔پاکستان ہر سطح پرکشمیریوں کی سفارتی، اخلاقی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا
    معاون خصوصی وزیر اعلیٰ کا تقریب سے خطاب
    لاہور05فروری: اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں کشمیری بہن بھائیوں کو حق خود ارادیت دلوانے کیلئے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنا اور احساس دلانا ہو گا کہ کشمیریوں کو حق خود ارادیت ملنے تک عالمی امن کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔ پاکستانی قوم کشمیریوں کو انکا حق دلوانے کیلئے ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ کشمیر پاکستان کے وجود کا حصہ ہے اسکے بغیر پاکستان نا مکمل اور ادھورا ہے۔پاکستان ہر سطح پرکشمیریوں کی سفارتی، اخلاقی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا۔ وزیر اعظم عمران خان نے کشمیریوں کے ترجمان اور وکیل بن کر عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کا وعدہ اپنے جنرل اسمبلی کے خطاب میں وعدہ پورا کیا اور دنیا کو بارآور کروایا کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے دعویدار بھارت نے کس طرح کشمیرکو دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل کر رکھا ہے۔
    ان خیالات کا اظہار معاون خصوصی وزیر اعلیٰ پنجاب ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے لاہور پریس کلب میں یوم کشمیر کے حوالے سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ معاون خصوصی نے کہا کہ بھارتی فوج نے کشمیر میں بہنوں،بیٹیوں کی عصمت دری کی خوفناک داستانیں رقم کی ہیں اور وہاں نوجوانوں کی پیلٹ گن سے بینائی چھینی جا رہی ہے۔ بھارت کشمیریوں کی بینائی تو چھین سکتا ہے مگر ان سے آزادی کے خواب نہیں چھین سکتا۔ کشمیری عوام کے اظہار رائے پر پابندی لگانے کے باوجود انکی آواز پہلے سے زیادہ گونج رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی نے 6لاکھ سے زائد فوج کو نہتے کشمیریوں پر چڑھائی کیلئے وقف کر رکھا ہے۔ کشمیر کی آزادی کی خاطر اپنی جائیں قربان کرنے والے شہدا، حریت رہنماؤں کے حوصلے اور ان تمام کشمیریوں کو جنہوں نے آزادی کی شمع روشن رکھنے کیلئے اپنی نسلوں کی قربانی دی، پاکستانی قوم کی طرف سے سلام پیش کرتی ہوں۔ ہندوستان نے طاقت کے بل بوتے پر کشمیریوں کی آواز دبانے کی کوشش کی مگر اب یہ ہتھکنڈے ناکام ہو چکے ہیں۔ سوشل میڈیا کے دور میں کشمیریوں کی آواز کسی صورت دبائی نہیں جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت یوم یکجہتی کشمیر سرکاری سطح پر بھرپور انداز میں منا رہی ہے،وزیر اعلیٰ پنجاب نے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کی مہم کی سربراہی کی۔ پنجاب کے تعلیمی اداروں میں کشمیر کے حوالے سے تقریری مقابلوں، ملی نغموں اور مشاعروں کا اہتمام کیا گیا ہے۔ بھارت میں تمام اقلیتیں ہندوتوا مائنڈ سیٹ کا شکار ہیں۔مودی کا سکھوں اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ بدسلوکی سے اب دنیا آگاہ ہے۔ پاکستان کے 22کروڑ عوام مودی کو اس کے ناپاک عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے اور لہو کے آخری قطرے اور بندوق کی آخری گولی تک کشمیری بہن بھائیوں کا ساتھ دیں گے۔قبل ازیں اپنے ٹویٹر پیغام میں معاونِ خصوصی وزیراعلی پنجاب نے کہا کہ بھارتی ریاستی دہشت گردی میں اب تک ہزاروں بے گناہ کشمیری شہید ہوچکے ہیں۔ ایک لاکھ 7 ہزار 813 بچے یتیم، 22ہزارخواتین بیوہ ہوچکیں، بھارتی درندہ فوج 11ہزار 234 کشمیری خواتین کو اجتماعی زیادتیوں کا نشانہ بنا چکی ہے مگر مسلسل ظلم کا سامنا کرتے کشمیریوں کے حوصلے چٹانوں سے بھی بلندہیں۔ بعد ازاں ڈسکہ میں فرینڈز آف کشمیر کے زیر اہتمام یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر منعقدہ کشمیر کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ اقوام عالم اور بالخصوص انسانی حقوق کی علمبردار تنظیموں کو مظلوم کشمیریوں کی چیخ وپکارکیوں سنائی نہیں دیتی ان کو بھارتی فوج کے مظالم کیوں نظر نہیں آتے۔ انہوں نے کہاکہ کشمیر ہماری شہ رگ ہے اور اپنی شہ رگ کو دشمن کی گرفت سے آزاد کرائے بغیر ہر گز آرام نہیں بیٹھیں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اقوام عالم اپنی منظور شدہ قرار داد پر عملدرآمد کروائے اور کشمیر یوں کو استصواب رائے کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دلا کر اپنی ذمہ داریاں انجام دیں۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے ڈسکہ میں اظہار یکجہتی ریلی کی قیادت کی جو میلاد چوک سے شروع کر بنگلہ چوک میں اختتام پذیر ہوئی۔ ریلی کے شرکا نے کشمیر بنے گا پاکستان اورکشمیریوں سے رشتہ کیا لاالہ الاللہ۔۔۔کے نعرے لگائے

  • پاکستان مسلم لیگ پنجا ب کے زیر اہتمام یوم یکجہتی کشمیر ریلی کا انعقاد

    پاکستان مسلم لیگ پنجا ب کے زیر اہتمام یوم یکجہتی کشمیر ریلی کا انعقاد

    کشمیر کی آزادی تک تحریک ختم نہیں ہوگی،پورا پاکستان کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے،سینیٹر کامل علی آغا
    حکومت نے موثر طور پر مسئلہ کشمیر پوری دنیا میں اٹھایا،یورپی ممالک کی پارلیمنٹ میں بھی مسئلہ کشمیر اٹھایا گیا
    میاں منیر، خدیجہ عمر فاروقی، سید بلال مصطفی شیرازی، ذوالفقار پپن، سہیل چیمہ، سجاد بلوچ،جہانگیر اے جھوجھہ ایڈووکیٹ، آمنہ الفت و دیگر کا خطاب
    لاہور( )پاکستان مسلم لیگ پنجاب کے جنرل سیکرٹری سینیٹر کامل علی آغاکی زیر قیادت مسلم لیگ ہاؤس سے مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی تک ریلی نکالی گئی ریلی میں ،کشمیر کے حق میں فلک شگاف نعرے لگائے گئے،کشمیر بنے گا پاکستان مودی کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے ہم کشمیر کی آزادی تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے کشمیر ہماری شہ رگ ہے ہم کشمیر ی بھائیوں کی آزادی کیلئے خون کے آخری قطر تک جنگ لڑیں گے عالمی قوتوں کو کشمیر کے ایشو پر اپنا کردار ادا کرے اور کشمیریوں پر ظلم و ستم ختم کیا جائے لگائے گئے،ریلی میں میاں محمد منیر، خدیجہ فاروقی ایم پی اے، ماجدہ زیدی،جہانگیر اے جھوجھہ ایڈووکیٹ، سید بلال مصطفی شیرازی،ذوالفقار پپن،سہیل چیمہ، سجاد بلوچ،انجینئر شہزاد الہٰی،جیمز ناز، آمنہ الفت، عزیرہ سعید، نصیر آرائیں، اشیاق گوہر ایڈووکیٹ، جاوید گورائیہ وکی گجر،چوہدری عاشق،شیخ فیصل،شیخ عمر، افضال تارڑذیلدار،اسلم گل سمیت عہدیداروں و کارکنوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ریلی سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ پنجاب کے جنرل سیکرٹری سینٹر کامل علی آغا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کی آزادی تک تحریک ختم نہیں ہوگی پورا پاکستان کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ آزادی کشمیریوں کا حق، بھارت نوشتہ دیوار پڑھ لے،انہوں نے کہا کہ عالمی برادری بھارت کی جارحیت اور بربریت کا فوری نوٹس لے۔پوری قوم پاک فو ج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے پاک فوج بھارتی جارحیت کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے بھارت نے پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھا تو افواج پاکستان ایسا جواب دے گی کہ بھارت کی آنے والی نسلیں بھی یادر کھیں گی۔کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی تحریک اپنی منزل تک پہنچ چکی ہے۔بھارت کشمیریوں کی جانوں کا دشمن بن چکا ہے بھارت میں آزادی کی متعدد تحریکیں چل رہی ہے بھارت جلد ٹکڑے ٹکڑے ہوگا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میاں منیر، خدیجہ عمر فاروقی، سید بلال مصطفی شیرازی، ذوالفقار پپن، سہیل چیمہ، سجاد بلوچ،جہانگیر اے جھوجھہ ایڈووکیٹ، آمنہ الفت نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت جتنی فوج بڑھاتا ہے، تحریک آزادی اتنی زیادہ مضبوط ہورہی ہے۔پاکستانی قوم کشمیریوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے کشمیر میں قابض بھارتی فوج سے کشمیریوں کاحق خودارادیت کو دبایا نہیں جاسکتا۔کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اس کی آزادی کیلئے پاکستان مسلم لیگ اپنی تمام تر توانائیاں استعمال کرے گی اور کشمیروں کو ان کا حق دلوایا جائے گا۔مقررین نے کہا کہ امت مسلمہ ایک ہوجائے اتحاد،تنظیم،یقین محکمہ پر عمل پیرا ہوکر کشمیر کی آزادی کیلئے کام کریں

  • کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی بند کرنے کا وزیر خارجہ نے کیا دنیا سے مطالبہ

    کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی بند کرنے کا وزیر خارجہ نے کیا دنیا سے مطالبہ

    اسلام آباد (چنگیز خان جدون و اقراء لیاقت علی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے ایوان صدر میں یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ھوئے کہا کہ ہم اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے یہاں جمع ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک اس امر کو یقینی نہ بنایا جائے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں قابض بھارتی اقواج کے ہاتھوں روزانہ کی بنیاد پر ان کے بنیادی حقوق کی پامالی کا خاتمہ نہیں ہوتا۔یہ اظہارِ یکجہتی اس وقت تک نامکمل ہے جب تک بین الاقوامی برادری کی جانب سے کشمیریوں کے ساتھ حق خودارادیت کی فراہمی کا وعدہ ایفا نہیں ہو جاتا۔شاہ نے کہا کہ آج سے تقریباً ڈیڑھ سال قبل، 5 اگست 2019 کو بھارت نے جب مقبوضہ جموں و کشمیر میں غیر آئینی اور یکطرفہ اقدامات اٹھائے تو اسے یہ غلط فہمی تھی کہ کشمیری انہیں قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول کر لیں گے۔اسے یہ غلط فہمی تھی کہ وہ عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکنے میں کامیاب ہو جائے گا۔بھارت کو یہ غلط فہمی تھی کہ وہ کشمیریوں کو ان خوداردایت کے جائز حق سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے محروم کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔لیکن ایسا نہ ہو سکا اور نہ ہی ہو سکے گا۔ انشاء اللہ۔ بھارت کو اس کے مذموم مقاصد میں ہمیشہ ناکامی ہو گی۔آج کشمیریوں کے بنیادی حقوق غصب کرنے والے ہندوستان کا چہرہ، عالمی برادری کے سامنے پوری طرح بے نقاب ہو چکا ہے۔ بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں نے وہاں کی نام نہاد جمہوریت کی قلعی کھول دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افسوس ناک امر یہ ہے کہ عالمی سطح پر مذمت کے باوجود بھارت نے اپنی روش تبدیل نہیں کی اور بھارت آج ایک طرف غیرقانونی طورپر اپنے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں آبادی کےغیرقانونی طورپر تناسب میں تبدیلی کے ذریعے غاصبانہ تسلط کو طول دینے کی کوشش کررہا ہے تو دوسری جانب اس کی سیاسی و عسکری قیادت پاکستان کے خلاف مسلسل زہر اگل رہی ہے ۔
    یورپی یونین ڈس انفولیب کی رپورٹ نے پاکستانی موقف کی توثیق کردی ہے کہ بھارت۔جھوٹی اطلاعات پھیلا کر عالمی سطح پر پاکستان کو بدنام کرنے کی گھناؤنی سازش میں ملوث ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت، مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے عرصہ دراز سے مظلوم کشمیریوں کو اپنے جبرو استبداد کا نشانہ بنا رہا ہے قابض بھارتی اقواج نے غیر انسانی ہتھکنڈوں سے 80 لاکھ کشمیریوں کا محاصرہ کررکھا ہے۔نہتے کشمیری ایسے کمیونیکیشن بلیک آو¿ٹ،کا سامنا کر رہے ہیں، جس کی مثال موجودہ دور میں کہیں دکھائی نہیں دیتی۔وزیر خارجہ نے کہا کہ نام نہاد ”محاصروں، چھاپوں اور تلاشی “ کی کارروائی اور جعلی مقابلوں میں کشمیری نوجوانوں کا ماورائے عدالت قتل، معمول بن چکا ہے۔کشمیریوں کے بنیادی حقوق کو غصب کیا جا رہا ہے، انہیں ان کے زندہ رہنے،بنیادی آزادیوں،تعلیم سمیت دیگر حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے۔پرامن مظاہرین پر پیلٹ گنز کا وحشیانہ استعمال کیا جاتا ہے ، کشمیریوں کو اجتماعی طور پر سبق سکھانے کیلئے ان کے گھروں کو مسمار اور املاک کو تباہ کیا جاتا ہے۔بھارت، غیر قانونی طور پراپنے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں اپنے غاصبانہ تسلط کوطول دینے کیلئے، غیر کشمیریوں کو غیرقانونی طریقے سے کشمیر میں آباد کرنے کی مذموم کوشش کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں قابض بھارتی اقواج کے مظالم کی پردہ پوشی کیلئے بھارت کالے قوانین کا سہارا لے رہا ہے نہتے کشمیریوں کو ان کے حق خود ارادیت سے محروم رکھا جا رہا ہے۔جب بھارتی قابض افواج کے ہاتھوں لاکھوں کشمیریوں کی نسل کشی کا خطرہ لاحق ہو تو عالمی برادری صورت حال سے نظریں نہیں چرا سکتی۔میں یہ بات وزیر خارجہ کے طورپر نہیں کہہ رہا ہوں بلکہ یہ حقیت ’جینو ا۔سائیڈ ۔واچ ‘جیسے غیر جانبدار مبصر ین بیان کر رہے ہیں اور اس حوالے سے ’الرٹ‘ بھی جاری ہو چکا ہے۔قریشی نے کہا کہ بھارت کی جانب سے کشمیریوں کے حق خودارادیت کا انکار، عالمی برادری کی توہین کے مترادف ہے۔تنازعہ جموں وکشمیر کے حل کے حوالے سے، عالمی برادری کی ترجمان، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعدد قراردادیں موجود ہیںجنہیں بھارت ماننے سے مسلسل انکاری ہے۔بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں اجتماعی عالمی ضمیر کیلئے لمحہ ءفکریہ ہے۔ہندوستان یہ نہیں کہہ سکتا کہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ اس متنازعہ علاقے میں وہ جو بھی کرے گا، وہ اسکا اندرونی معاملہ ہو گا۔عالمی برادری نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔قریشی نے کہا کہ انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والی علاقائی و عالمی تنظیموں، میڈیا، سول سوسائٹی اور دنیا کی اہم پارلیمانوں کی جانب سے اس حوالے سے سامنے آنیوالی مذمت مسئلے کی نزاکت اور اہمیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کے حوالے سے عالمی برادری کی جانب سے سامنے آنا والا ردعمل اہمیت کا حامل ہے لیکن محض یہ ردعمل نا کافی ہے۔عالمی برادری کا کوئی بھی ردعمل اس وقت تک موثر ثابت نہیں ہو گا جب تک ہندوستان کو انسانیت کے خلاف ان سنگین جرائم کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاتا۔کوئی ردعمل اس وقت تک کارآمد ثابت نہیں ہو سکتا جب تک کشمیریوں کو ”خودارادیت“ کا ان کا جائز حق نہیں دلایاجاتا۔ہم ایک دفعہ پھر عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بھارت کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں ڈھائے جانے والے انسانیت سوز مظالم کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے اس پر زور دے کہ:مقبوضہ جموں و کشمیر میں بلاجواز طورپر جاری مسلسل محاصرے کو فی الفور ختم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سلسلہ بند کرے۔کمیونیکیشن (مواصلاتی روابط) بلیک آئوٹ، نقل و حرکت اور پرامن اجتماعات پر عائد پابندیوں ختم کرے۔بھارتی جیلوں میںبلاجواز قید کشمیری قیادت فی الفور رہا کی جائے اور انہیں کشمیریوں کے جذبات کی ترجمانی سے نہ روکا جائے۔تمام گرفتار کشمیری نوجوانوں کو رہا کیا جائے۔آبادی کے تناسب میں تبدیلی کے لئے نافذ کئے گئے غیرقانونی ڈومیسائل قوانین واپس لے اور غیر کشمیریوں کو جاری ہونے والے ڈومیسائل منسوخ کئے جائیں۔مقبوضہ جموں وکشمیر میں تعینات بھارتی قابض فوج کے جرائم کو قانونی جواز فراہم کرنے کے لیے نافذ کردہ کالے قوانین کالعدم کرے۔حقائق کا جائزہ لینے کیلئے اقوام متحدہ کے مبصرین، انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں اور بین الاقوامی میڈیا کومقبوضہ جموں و کشمیر جانے کی اجازت دی جائے۔جنگ بندی کے معاہدوں اور ورکنگ باؤنڈری کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے۔مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشت گردوں بند کی جائے۔اقوام متحدہ کی نگرانی میں آزادانہ اور شفاف استصواب رائے کے ذریعے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو ان کا جائز حق خودارادیت دیا جائے
    آخر میں، میں’ ایلس۔ ولز‘ کے اس معروف قول کا حوالہ دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ ”ہمیں مظلوم کی حمایت کرنی چاہئے کیونکہ ہماری خاموشی مظلوم کا نہیں بلکہ ظالم کا حوصلہ بڑھاتی ہے“ آخر میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آئیے۔ یکجہتی کشمیر کے اس دن کے موقع پر ہم عہد کریں کہ بھارتی مظالم کا شکار نہتے کشمیریوں کی حمایت جاری رکھیں گے اور ان پر ڈھائے جانے والے ظلم کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گے۔

  • امریکہ اور پاکستان کے مابین دوستانہ ماحول، نجی شعبے میں توانائی بڑھانے کا عزم

    امریکہ اور پاکستان کے مابین دوستانہ ماحول، نجی شعبے میں توانائی بڑھانے کا عزم

    امریکہ اور پاکستان کا ماحول دوست توانائی کیلئے نجی شعبے میں سرمایہ کاری بڑھانے کا عزم.
    اسلام آباد، 3 فروری2021 :
    امریکی حکومت نے امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (USAID) کی جانب سے اور حکومت پاکستان ، اقوام متحدہ کے صنعتی ترقی کے ادارے (UNIDO ) اور مقامی شراکت داروں کے تعاون سے پاکستان پرائیویٹ سیکٹرانرجی منصوبے کا آج آغاز کر دیا ہے جس کا مقصد ماحول دوست توانائی کیلئے نجی شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔ یہ منصوبہ چھوٹے اور درمیانے درجے کی توانائی صلاحیتوں کیلئے نہ صرف مددگار ثابت ہوگا بلکہ پاکستان بھر میں مقامی اور قومی اقتصادی ترقی کا باعث بھی بنے گا۔
    پاکستان کے نجی سیکٹر کیلئے توانائی کا یہ منصوبہ کم لاگت اور قابل تجدید توانائی وسائل کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے توانائی کے شعبے میں مزید سرمایہ کاری کو فروغ دے گا جو کہ اقتصادی ترقی کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔UNIDO توانائی دوست (کلین انرجی) منصوبے کے حوالے سے مالی وسائل تک رسائی کیلئے کلین انرجی ڈویلپرز کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔

    یو ایس ایڈ کی مشن ڈائریکٹر جولی کوئنن کے مطابق پائیدار، کم لاگت توانائی پاکستان کی اقتصادی ترقی کے حوالے سے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ نجی شعبے میں سرمایہ کاری کی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے نہ صرف اقتصادی ترقی میں اضافہ ہوگا بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہونگے۔ ماحولیاتی تبدیلی کے وزیر ملک امین اسلم کے مطابق یو ایس ایڈ کے مالی تعاون کے تحت یہ منصوبہ حکومت پاکستان کی ماحول دوست، کم لاگت اور قابل تجدید توانائی کے حصول کی کوششوں کو پایہ تکمیل تک پہنچائے گا۔
    پاکستان میں توانائی کے شعبے میں نجی سرمایہ کاری کا منصوبہ یو ایس ایڈ او رحکومت پاکستان کے درمیان طویل مدت شراکت داری کے تحت جاری ہے۔ یو ایس ایڈ نے 2010 سے آجتک حکومت پاکستان کے ساتھ مل کر نیشنل گرڈ میں 3900 میگا واٹ بجلی شامل کی ہے۔ سرمایہ کاری کے ان مواقعوں کا فائدہ براہ راست 47 ملین پاکستانیوں کو پہنچا جبکہ نجی شعبے میں 2.3 ارب ڈالرکی سرمایہ کاری ہوئی۔ یو ایس ایڈ نے نہ صرف نئی ٹرانسمیشن لائنز کی تنصیب کی بلکہ ہوا کے ذریعے نیشنل گرڈ کو بجلی فراہمی اور پیداوار میں اضافے کیلئے سب اسٹیشنز بھی قائم کئے گئے۔ نہ صرف یہ بلکہ تھرمل اور ہائیڈرو الیکٹرک پاور پلانٹس کی بحالی میں بھی تعاون کیا گیا۔

  • خواتین تشدد  کیس کی وجہ سامنے آ گیئ ، کانسٹیبلز  کے خلاف انکوائری رپورٹ طلب۔

    خواتین تشدد کیس کی وجہ سامنے آ گیئ ، کانسٹیبلز کے خلاف انکوائری رپورٹ طلب۔

    خواتین پر تشدد کی ویڈیو وائرل ہونے پر ضلعی پولیس سربراہ دلاور خان بنگش کا نوٹس آ گیا۔
    ملوث پولیس آفسران /اہلکاران کو معطل کرکے لائن حاضر کر دیا گیا، اور اُن کے خلاف محکمانہ کاروائی کرنے کا حکم بھی دیا گیا۔
    تفصیلات کے مطابق: گزشتہ روز سیدو شریف کے محلہ برکلے سے ایک شخص تھانہ سیدوشریف آکر رپورٹ درج کرتے ہوئے کہا کہ ہم اہل خانہ کے ہمرہ سیر کرنے کے لئے ملم جبہ گئے تھے اور گھر کے سارے کمرے اور مین گیٹ کو تالا لگایا تھا، شام کے قریب گھر پہنچ کر گھر کا تالا کھولا پایا گیا، گھر کے اندر جا کر دیکھا تو کھڑی کی پر لگا ہوا جال بھی کٹ شدہ تھا، گھر کے تالاشی لینے پر معلوم ہوا کہ گھر سے کسی نامعلوم ملزم/ملزمان نے چوری کرکے 19تولے سونا اور نقدرقم 99000چوری کرکے لے گئے ہیں۔ جس پر ضلعی پولیس سربراہ دلاور خان بنگش نے نوٹس لیتے ہوئے جلد از جلد ملزمان کو گرفتار کرنے کا حکم دیا، پولیس ٹیم نے کاروائی کرتے ہوئے تین خواتین کو گرفتار کر لیا، گرفتار خواتین میں مسماۃ رخسانہ زوجہ علی خان، مسماۃ محبوبہ زوجہ سلیمان، مسماۃ حضرہ زوجہ اقبال سکنہ بنوں حال بٹ خیلہ کو گرفتار کر لیا، گرفتار چور گروہ سے مال مسروقہ 19تولے سونا اور 99ہزار نقد رقم برآمد کی۔
    آج مورخہ 03-02-2021کو سوشل میڈیا پر درجہ بالا چوری کرنے والے خواتین پر تشدد کرنے کا ویڈیو وائرل ہوا جس میں پولیس اہلکاران گرفتار خواتین پر تشدد کر رہے ہیں،وائرل شدہ ویڈیو پر ضلعی پولیس سربراہ دلاور خان بنگش نے نوٹس لیتے ہوئے وقوعہ میں ملوث سب انسپکٹر رفیع اللہ ایس ایچ اُو تھانہ سیدو شریف، سب انسپکٹر آیاز ایڈیشنل ایس ایچ اُو کوکارئی، کانسٹیبل فضل خالق، کانسٹیبل محمد عالم، کانسٹیبل اسحاق کو معطل کرکے لائن حاضر کر لیا اور ملوث اہلکاران کے خلاف محکمانہ کاروائی کرنے کا حکم کرتے ہوئے ایس پی انوسٹی گیشن نذیر خان اور ڈی ایس پی سٹی پیر سیدخان، ڈی ایس پی کبل بادشاہ حضرت پر مشتمل ایک تفتیشی ٹیم تشکیل کرکے 24گھنٹوں کے اندر اندر انکوائری مکمل کرکے رپورٹ طلب کی ہیں۔

  • کون کس وقت کیا کرے گا؟ ٹی ٹونٹی سیریز: شیڈیول جاری

    کون کس وقت کیا کرے گا؟ ٹی ٹونٹی سیریز: شیڈیول جاری

    پاکستان بمقابلہ جنوبی افریقہ ٹی ٹؤنٹی سیریز: ٹریننگ سیشنز کا شیڈیول

    پاکستان اور جنوبی افریقہ کے مابین پہلا ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچ 11 فروری کو قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلا جائے گا۔ قومی ٹی ٹونٹی اسکواڈ میں شامل کرکٹرز تین فروری بروز بدھ کو لاہور پہنچیں گے- جنوبی افریقہ کے ٹی ٹونٹی کرکٹرز بھی تین فروری کی صبح لاہور ائیرپورٹ پہنچیں گے- اس سلسلے میں پاکستان اور جنوبی افریقہ کے ٹی ٹونٹی اسکواڈز میں شامل کھلاڑیوں کی ٹریننگ سیشنز کا شیڈول مندرجہ ذیل ہے۔ اس دوران کوئی ورچوئل میڈیا سیشنز نہیں ہوگا.

    بدھ، تین فروری کودونوں اسکواڈز میں شامل ٹی ٹونٹی کرکٹرز کی لاہور آمد. جنوبی افریقہ کرکٹ ٹیم کی پاکستان آمد کی تصاویر اور ویڈیوز پاکستان کرکٹ بورڈ فراہم کرے گا.

    جمعرات، 4 فروری کوآرام کے دن کے لیے مقرر کردیا گیا-

    جمعہ، 5 فروری کو صبح 11 سے دوپہر 2 بجے تک: جنوبی افریقہ کا قذافی اسٹیڈیم لاہور میں ٹریننگ سیشن ہوگا- سہ پہر 4 سے شام 7 بجے تک: پاکستان کا قذافی اسٹیڈیم لاہور میں ٹریننگ سیشن ہوگا- فوٹوگرافرز اور ٹی وی نیوز کیمرہ پرسنز کو صرف میڈیا گیلری فار اینڈ بلڈنگ سے ٹریننگ کی کوریج کی اجازت ہوگی.

    ہفتہ، 6 فروری کو دوپہر 12:30 سے سہ پہر 3:30 بجے تک: جنوبی افریقہ کا قذافی اسٹیڈیم لاہور میں ٹریننگ سیشن ہوگا- شام 5 سے رات 8 بجے تک: پاکستان کا قذافی اسٹیڈیم لاہور میں ٹریننگ سیشن ہوگا- فوٹوگرافرز اور ٹی وی نیوز کیمرہ پرسنز کو صرف میڈیا گیلری، فار اینڈ بلڈنگ سے ٹریننگ کی کوریج کی اجازت ہوگی.

    اتوار، 7 فروری کوصبح 11 سے دو پہر 2 بجے تک: جنوبی افریقہ کا قذافی اسٹیڈیم لاہور میں ٹریننگ سیشن ہوگا- سہ پہر 4 سے رات 7 بجے تک: پاکستان کا قذافی اسٹیڈیم لاہور میں ٹریننگ سیشن ہووگا- فوٹوگرافرز اور ٹی وی نیوز کیمرہ پرسنز کو صرف میڈیا گیلری فار اینڈ بلڈنگ سے ٹریننگ کی کوریج کی اجازت ہوگی.

    پیر، 8 فروری کودوپہر 12:30 سے سہ پہر 3:30 بجے تک: جنوبی افریقہ کا قذافی اسٹیڈیم لاہور میں ٹریننگ سیشن ہوگا- شام 5 سے رات 8 بجے تک: پاکستان کا قذافی اسٹیڈیم لاہور میں ٹریننگ سیشن ہوگا- فوٹوگرافرز اور ٹی وی نیوز کیمرہ پرسنز کو صرف میڈیا گیلری فار اینڈ بلڈنگ سے ٹریننگ کی کوریج کی اجازت ہوگی.

  • میچز کے تحت جڑواں شہروں میں میٹروبس سروس کا نیا شیڈول جاری!

    میچز کے تحت جڑواں شہروں میں میٹروبس سروس کا نیا شیڈول جاری!

    ساؤتھ افریکہ اور پاکستان کے مابین میچز کا معاملہ

    ساؤتھ افریکہ اور پاکستان کے مابین میچز کی بنا پر جڑواں شہروں میں میٹروبس سروس کا نیا شیڈول جاری کردیا گیا- میٹرو بس سروس صبح 6 سے 8 بجے تک مسافروں کو سفری سہولیات فراہم کرے گی- صبح 8 سے لیکر 10 بجے تک میٹرو بس سروس بند رکھی جائے گی- 10 سے 12 بجے تک دوبارہ میڑو بس سروس مسافروں کیلئے دستیاب ہوگی- دوپہر 12 سے 2 بجے تک میٹرو بس سروس بند رکھی جائے گی- 2 بجے سے لیکر رات 10 بجے تک میٹروبس سروس بحال رہے گی- 4 فروری تک اس شیڈول کے مطابق جڑواں شہروں میں میٹروبس سروس چلے گئ-

    4 فروری سے نیا شیڈول جاری کیا جائے گا-

  • کرونا ویکسین کی پاکستان میں آمد: لائحہ عمل تیار

    کرونا ویکسین کی پاکستان میں آمد: لائحہ عمل تیار

     پاکستان میں کورونا ویکسین کا سلسلہ اگلے دودن میں شروع ہوجائیگا۔ ڈاکٹریاسمین راشد

    پوری دنیانے پاکستان میں کوروناوائرس پر قابوپانے کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کوسراہاہے-  حکومت چین کی کمپنی سائنوفارمانے پاکستان کے ہیلتھ کئیرورکرزکیلئے کوروناوائرس کی5لاکھ کی تعدادمیں ویکسین کاتحفہ بھیجاہے- کوروناویکسین کسی وی آئی پی کونہیں ملے گی،ہماری پہلی ترجیح فرنٹ لائن ہیلتھ کئیرورکرزہیں:صوبائی وزیرصحت کی پریس کانفرنس-

    صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشدنے کہاہے کہ پاکستان میں کورونا ویکسین کا سلسلہ اگلے دودن میں شروع ہوجائیگا۔کوروناوائرس کہیں گیانہیں بلکہ ہمیں اس وباء سے بچاؤ کیلئے ہرقسم کی احتیاطی تدابیرپر سختی سے عملدرآمدکرناچاہیے۔گذشتہ 24گھنٹوں کے دوران پنجاب میں 443افرادمیں کوروناوائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔11افراد کوروناوائرس کے باعث جان کی بازی ہارچکے ہیں۔لاہورمیں کوروناوائرس کے مثبت کیسز کی شرح 3.95،راوالپنڈی میں 1.9اور فیصل آبادمیں 3.39ہے۔گذشتہ24گھنٹوں کے دوران تقریباً15ہزارکوروناوائرس کے تشخیصی ٹیسٹ ہوئے ہیں۔پنجاب میں کنٹیکٹ ٹریسنگ الحمداللہ باقی صوبوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔پوری دنیانے پاکستان میں کوروناوائرس پر قابوپانے کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کوسراہاہے۔لاہورمیں 18،گوجرانوالہ میں 1اورگجرات میں 1سمیت دیگرشہروں میں سمارٹ لاک ڈاؤنزکے ذریعے تقریباً5634افرادکو محدودکردیاگیاہے۔

    سرکاری ہسپتالوں میں کوروناوائرس کے متاثرہ افرادسے زیادہ صحت یاب ہونے والوں کی تعداد ہے۔پنجاب میں الحمداللہ تمام ایس اوپیز پرعملدرآمدکرواتے ہوئے تعلیمی اداروں کوکھول دیاگیاہے۔محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیرمحکمہ تعلیم کے ساتھ مل کرتعلیمی اداروں میں آگاہی سیمینارزکے ذریعے ایس اوپیز پرعملدرآمدکے حوالے سے اہم کرداراداکرے گا۔8فروری کوتعلیمی اداروں کے کھولنے بارے دوبارہ کوروناوائرس کی صورتحال کاجائزہ لیاجائیگا۔ان خیالات کااظہارانہوں نے آج ڈی جی پی آرہیڈ کوارٹرزمیں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیرکیپٹن(ر)محمد عثمان یونس،سپیشل سیکرٹری محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ اینڈمیڈیکل ایجوکیشن سلوت سعیداور ڈائریکٹرالیکٹرانک میڈیا روبینہ افضل سمیت میڈیانمائندگان کی کثیرتعدادموجودتھی۔

        صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشدنے اس موقع پر مزیدکہا کہ حکومت چین کی کمپنی سائنوفارمانے پاکستان کے ہیلتھ کئیرورکرزکیلئے کوروناوائرس کی5لاکھ کی تعدادمیں ویکسین کاتحفہ بھیجاہے۔جس پرحکومت پاکستان کی جانب سے حکومت چین کا شکریہ اداکرناچاہتی ہوں۔چین سے آئی کوروناوائرس ویکسین کی پہلی کھیپ اسلام آبادپہنچ چکی ہے۔این سی اوسی کے مطابق بروزبدھ تمام وزراء اعلی بیک وقت تمام ہیلتھ ورکرز کو کوروناوائرس کی ویکسین لگانے کا آغازکرینگے۔خوشخبری یہ ہے کہ کوویکس نے پاکستان کیلئے 70ملین کوروناوائرس ویکسین خریدلی ہے اور وہ انشاء اللہ اس مہینے کے رواں ہفتے سے پاکستان آناشروع ہوجائیگی۔این سی اوسی کی ٹیکنیکی ٹیم نے پنجاب میں کوروناویکسین کو محفوظ بنانے کے طریقہ کارکوسراہاہے۔

    کوروناویکسین کو محفوظ بنانے کیلئے سیکرٹری محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیرکیپٹن(ر)محمد عثمان یونس نے اس موقع پر کہاہے کہ پنجاب میں 189ویکسینیشن سنٹرزقائم کئے گئے ہیں جن میں کوروناویکسین لگوانے والوں کامکمل ڈیجیٹل ڈیٹامحفوظ بنائیاجائیگا۔ابھی تک تقریباً4لاکھ فرنٹ لائن ہیلتھ کئیرورکرزکی رجسٹریشن کردی گئی ہے۔جن میں رجسٹرڈ ہونے والوں میں بہت بڑی تعدادجنرل پریکٹیشنرزکی بھی موجود ہے۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ویکسینیشن سنٹرزکی تعدادمیں اضافہ کردیاجائے گا۔پنجاب کے 36اضلاع میں اب تک 600سے زائدافرادکی ٹیکنیکی تربیت کرواچکے ہیں۔ماسٹرٹرینرزکوتیارکیاگیاہے۔فیز1میں ترجیحی بنیادوں پرکوروناوائرس کے مریضوں کا علاج کرنے والے فرنٹ لائن ہیلتھ کئیرورکرزکویہ ویکسین لگائی جائے گی۔اب70ہزارویکسین آرہی ہے جسکی دوسری کھیپ اگلے21دن میں مزیدمل جائیگی۔کوروناوائرس ویکسین کومحفوظ بنانے کیلئے پنجاب کے 36اضلاع میں 2500کے قریب آئس لائن ریفری جنریٹیرزموجودہیں اور ویکسین کی تمام اضلاع میں ترسیل کیلئے بھی پنجاب پولیس کی مددحاصل کی گئی ہے۔

        صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشدنے اس موقع پر مزیدکہاہے کہ چائنہ کونسائنہ کے ساتھ کوروناویکسین کے ٹرائلز کئے گئے ہیں جس کے نتائج اگلے دوہفتوں میں ہمارے پاس آجائینگے۔کوویکس نے پاکستان کی 20فیصدآبادی کیلئے مفت کوروناویکسین دینے کا وعدہ کیاہے جورواں ماہ کے آخریامارچ کے آغازمیں پاکستان آناشروع ہوجائیگی۔حکومت پنجاب نے ضرورت پڑنے پرکوروناویکسین کی خریداری کیلئے 1ارب اور 80لاکھ روپے کی خطیر رقم مختص کی ہوئی ہے۔سرکاری ہسپتالوں کے ساتھ ساتھ نجی ہسپتالوں میں کوروناوائرس کے مریضوں کا علاج کرنے والے فرنٹ لائن ہیلتھ کئیرورکرزکومفت ویکسین لگائی جائیگی۔فرنٹ لائن ہیلتھ کئیرورکرزہماری پہلی ترجیح ہے۔اس کے بعد65سال سے زیادہ عمرکے افرادکوویکسین لگائی جائیگی۔اگلے چارسے پانچ ماہ کے دوران کوروناویکسین کی وافرمقدارپاکستان میں دستیاب ہوگی۔

        صوبائی وزیر صحت نے اس موقع پر مزیدکہاکہ حکومت نے آتے ہی صحت اور تعلیم کے شعبہ جات کی بہتری کیلئے بے پناہ تاریخی اقدامات اٹھائے ہیں۔ہماری حکومت نے32ہزارڈاکٹرز،نرسز،پیرامیڈیکل سٹاف،میل نرسز،فارماسٹس اورفزیوٹھراپسٹس بھرتی کئے ہیں۔سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کیلئے 42ارب روپے کی خطیررقم مختص کی گئی ہے۔ٹی بی،ہیپاٹائٹس اور ایڈزکے مریضوں کومفت ادویات کی فراہمی میں کسی قسم کا مسئلہ نہیں رہا۔اس سال سرکاری ہسپتالوں میں 10ارب روپے کا طبی سامان خریداگیاہے۔سرکاری ہسپتالوں کی بہتری کیلئے تمام تر وسائل بروئے کارلانے کے بعدمریضوں کوعلاج معالجہ میں کسی قسم کی پریشانی کا سامنانہیں ہوناچاہئے۔پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کے علاج کو یقینی بنانے کیلئے دو سرویلنس ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جن کی سربراہی ڈی جی ہیلتھ سرسزڈاکٹرہارون جہانگیر اور ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کئیراینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈاکٹرآصف طفیل کررہے ہیں۔سرکاری ہسپتالو ں میں صفائی،ڈاکٹرزکی حاضری،ادویات کی فراہمی ودیگرانتظامی امورکی روزانہ کی بنیادپرمانیٹرنگ جاری ہے۔غفلت پرایم ایس شاہدرہ ٹیچنگ ہسپتال،ایم ایس ڈی ایچ کیوہسپتال شیخوپورہ اورایم ایس اوکاڑہ ساؤتھ ہسپتال کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے معطل کیاگیاہے۔وزیراعلی پنجاب سردارعثمان بزدارنے سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کے علاج میں مشکل آنے پر فورا سخت ایکشن لینے کا حکم دیاہے۔پنجاب کے تمام نرسنگ سکولوں کو نرسنگ کالجزمیں منتقل کردیاگیاہے اور نرسزکا وظیفہ21ہزارروپے سے بڑھاکر31ہزرروپے کردیاگیاہے۔ نرسوں کی سیٹوں میں 1600سے بڑھاکر2350تک اضافہ کردیاگیاہے۔

        صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشدنے مزیدکہاکہ وزیر اعظم عمران خان اور وزیراعلی پنجاب سردارعثمان بزدارکا تمام افرادکوصحت اورتعلیم کی تمام بنیادی سہولیات دینا اولین ترجیحات میں شامل ہے۔خیبرپختونخواہ میں تمام خاندانوں کو یونیورسل ہیلتھ کوریج کی سہولت دی جاچکی ہے اور انشاء اللہ پنجاب میں دسمبر2021تک تمام 2کروڑ93لاکھ خاندانوں میں صحت سہولت کارڈزکی تقسیم کو یقینی بنادیاجائیگا۔اس مالی سال کے اندرڈی جی خان اور ساہیوال ڈویژنز کے تمام خاندانوں میں صحت سہولت کارڈزتقسیم کردئیے جائینگے۔میڈیکل کالجزمیں سیٹوں پر افواہیں بے بنیادہیں۔پنجاب نے ہمیشہ بڑے بھائی ہونے کا حق اداکیاہے۔پنجاب کے میڈیکل کالجز میں باقی صوبوں کی335نشستیں مختص ہیں جو تقریباً تین میڈیکل کالجز کی تعدادبن جاتی ہے۔کسی صوبے کی سیٹ میں کمی کی تمام ترخبریں بے بنیاداور من گھڑت ہیں۔شیخ زیدہسپتال کے وفاق میں واپس جانے کی وجہ سے 2سیٹیں کم ہوئی ہیں۔ہمارے پاس سندھ،آزادجموں کشمیر،بلوچستان،فاٹا اورخیبرپختونخواہ کی سیٹوں کا کوٹہ موجودہے۔گلگت بلتستان کی 55سیٹیں اسی طرح موجودہیں۔شیخ زیدکی 2نشتوں کے کوٹہ کوبھی اپنی سیٹیں بڑھاکرتعدادمکمل کرلی گئی ہے۔پرسوں وزیر اعلی پنجاب سردارعثمان بزدار کوروناویکسین کاباقاعدہ آغازکرینگے۔کوروناویکسین صرف صوبہ سندھ کونہیں بلکہ پاکستان کو بطور عطیہ مل رہی ہے۔

        صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشدنے صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوے کہاکہ لاہورمیں کوروناوائرس کے مثبت کیسزکی تعدادسب سے زیادہ ہے۔کوروناویکسین کسی وی آئی پی کونہیں ملے گی۔میرے سمیت میری کسی سیکرٹری کو نہیں ملے گی۔ہماری پہلی ترجیح فرنٹ لائن ہیلتھ کئیرورکرزہیں۔پوری دنیانے پنجاب حکومت کی جانب سے کوروناوائرس پرقابوپانے کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کوسراہا۔گذشتہ سال کوروناوائرس کے مریضوں کے علاج کیلئے 14ارب روپے خرچ کئے گئے اور مزید2ارب روپے کی خطیررقم مختص کی گئی ہے۔20بی ایس ایل لیول تھری لیبز تیارہوچکے ہیں۔بیرون ملک جانے والے مزدوروں کوبھی کوروناویکسین لگائی جائیگی۔حکومت پنجاب نے اپنے بجٹ میں بھی کوروناویکسین کی خریداری کیلئے خطیررقم مختص کررکھی ہے۔ویکسین رجسٹرڈ ہونے کے بعد نجی سیکٹربھی بیرون ملک سے منگواسکتاہے۔پولیس اور صحافیوں سمیت تمام فرنٹ لائن ورکرزکوبھی کوروناویکسین لگائی جائیگی۔

    اخلاقی طورپرکسی کوبھی زبردستی ویکسین نہیں لگائی جاسکتی ہے۔1166پرمیسج کرکے اپنے آپ کورجسٹرڈکروایاجاسکتاہے۔پوارسال اس وائرس کو سمجھنے میں لگاہے اس لئے ویکسین لگانے کے بعداثرات کا صحیح جائزہ لیاجاسکتاہے۔اپوزیشن کبھی حکومت سے خوش نہیں ہوسکتی ہے۔ہم سندھ کووقت پرویکسین کی فراہمی کو یقینی بنارہے ہیں۔چین ہرلحاظ سے پاکستان کا ساتھ دے رہاہے۔کوروناوائرس ویکسین کے معمولی سائیدافیکٹس ہوسکتے ہیں۔ٹائیفائیڈ ویکسین کیلئے عملہ کی کسی قسم کی کمی نہیں ہے۔خصوصی ٹائیفائیڈ ویکسین مہم کیلئے محکمہ سپیشلائزہیلتھ کئیراینڈ میڈیکل ایجوکیشن کے عملہ کی مددلی گئی ہے۔صحت سہولت کارڈزکے حامل افراد270ہسپتالوں میں مفت علاج کی سہولت حاصل کرسکتے ہیں۔تمام انسٹی ٹیوٹس آف کارڈیالوجی کو ام پینل کیاگیاہے۔صحت سہولت کارڈ کے حامل افرادہرقسم کی ان ڈور سہولت مفت حاصل کرسکتے ہیں۔جس میں نیوروسرجری،سیزیرین،ڈائیلسزاور ٹراماسمیت دیگربیماریوں کاعلاج شامل ہے۔