پشاور سی ٹی ڈی نے بڈھ بیرمیں کارروائی کرتے ہوئے بھتہ خور، دہشت گرد بہرام کو گرفتار کرلیا، جس کا تعلق افغانستان سے ہے۔ ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق بڈھ بیر کےعلاقے میں کامیاب کارروائی کے دوران خطرناک دہشت گرد بہرام کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ترجمان سی ٹی ڈی نے کہا کہ دہشت گرد بہرام کا تعلق افغانستان سے ہے، اور بھتہ خورگروپ کا اہم ممبر ہے۔سی ٹی ڈی ترجمان نے بتایا کہ دہشت گرد بہرام بھتہ خوری اور دستی بم حملے سمیت متعدد کیسز میں سی ٹی ڈی کو مطلوب تھا۔
Tag: پشاور

پشاور ، چیف ٹریفک آفیسر قمر حیات خان نے ٹریفک پلان پر عملدرآمد سے متعلق انتظامات کا جائزہ
چیف ٹریفک آفیسر قمر حیات خان کا 9ویں محرم الحرام کے سلسلے میں کینٹ کے ماتمی جلوسوں کے روٹس کا دورہ، دورے کے دوران ڈی ایس پی کینٹ سعید خان بھی انکے ہمراہ تھےچیف ٹریفک آفیسر نے محرم الحرام کے دوران شہر بھر میں ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لئے متبادل روٹس پر تعینات نفری سے ملاقات کی‘ چیف ٹریفک آفیسر قمر حیات خان نے ٹریفک پلان پر عملدرآمد سے متعلق انتظامات کا جائزہ لیا جس پر اطمینان کا اظہار کیا،اس موقع پر چیف ٹریفک آفیسر قمر حیات خان نے ٹریفک حکام اور اہلکار ٹریفک پلان پر من و عن عملدرآمد کو یقینی بنائیں تاکہ شہریوں کو کسی قسم کے مشکلات کا سامنا نہ ہو’ ٹریفک حکام اور اہلکاروں سمیت فورک لفٹرز اور چپس رائیڈرز ہمہ وقت موجود رہیں تاکہ سڑکیں رواں دواں ہوں،شہر میں ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لئے متبادل روٹس پر بھاری نفری تعینات کی گئی ہے تاکہ شہریوں کو کسی قسم کے مشکلات کا سامنا نہ ہو‘ ٹریفک حکام شہر بھر میں نو پارکنگ زون میں گاڑیاں کھڑی کرنیوالوں کے خلاف کارروائیاں عمل میں لائیں‘ نو پارکنگ زون کی خلاف ورزی کرنے پر گاڑیوں کو فورک لفٹر کے ذریعے اٹھا کر مالکان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے،
واضح رہے کہ عشرہ محرم کے دوران حکومتی ہدایات کے مطابق ڈبل سواری کے مرتکب افراد اور کالے شیشوں کا استعمال کرنیوالوں کے خلاف بھی کارروائیاں جاری ہے‘ چیف ٹریفک آفیسر قمر حیات خان نے محرم الحرام کے دوران شہریوں کو سہولت فراہم کرنے کے لئے سوشل میڈیا کے تمام سائٹس اور ایم ایف ریڈیو 88.6 پر باقاعدہ متبادل روٹس کے بارے میں آگاہی دینے کے احکامات جاری کر دیئے،اور ٹریفک افسران اور اہلکار محرم الحرام کے دوران ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لئے تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں‘ حکومتی احکامات پر ہر صورت میں عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے جبکہ خلاف ورزی کرنیوالوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا’
خیبر پختونخوا نگران وزیر اطلاعات و اوقاف بیر سٹر جمال کاکا خیل کا محرم کے حوالے سے کئے گئے سیکورٹی اقدامات کا کا جائزہ
خیبر پختونخوا نگران وزیر اطلاعات و اوقاف بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے محکمہ داخلہ کے کنٹرول روم کا دورہ کیا ہے جہاں پر بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل کا محرم الحرام میں مجالس و محافل کی نگرانی کے لیے کئے گئے اقدامات کا جائزہ لیا ، نگران صوبائی وزیر کو سیکرٹری داخلہ و دیگر حکام کی تفصیلی بریفنگ دی،
سینٹرل کنٹرول روم ماہ محرم کے دوران 24/7 کام کر رہی ہے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ مجالس کی نگرانی کے لئے آن لائن سافٹ ویئر بنایا گیا ہے اور روزانہ کی بنیاد پر ڈیٹا سافٹ ویئر کے ذریعے سینٹرل کنٹرول روم کو پہنچتا ہے۔ بریفنگ میں مزید کہا گیا کہ کنٹرول روم میں مختلف اضلاع میں محرم کے جلوسوں اور مجالس کی نگرانی کی جاتی ہے۔ اسی طرح 14 اضلاع میں کل 855 رجسٹرڈ ماتمی جلوس اور 7 ہزار سے زائد مجالس کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ بریفنگ کے مطابق سینٹرل کنٹرول روم میں 9 محکموں کے نمائندے موجود ہیں۔ اسکے علاوہ سوشل میڈیا پر مذہبی منافرت کی بھی مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔ اسکے علاوہ نگراں وزیر نے سٹریٹیجک انالاسز ونگ کا بھی دورہ کیا، حکام نےماہانہ کارکردگی رپورٹ پر بھی بریفننگ دی، نگران وزیر اطلاعات نے کہا محرم الحرام میں سیکیورٹی کے حوالے سے محکمہ داخلہ کا کردار نہایت احسن ہے، کنٹرول روم کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا نگراں صوبائی حکومت لا اینڈ آرڈر پر خصوصی توجہ دے رہی ہے ،
ضلع خیبر مسجد خودکش دھماکے کی کہانی،ٹک ٹاکر کے زبانی
ضلع خیبر میں جمرود سے 15 کلومیٹر کے فاصلے پر علی مسجد نامی علاقے میں منگل کے روزجب ایک مبینہ خودکش بمبار نے ایک مقامی مسجد کے اندر خود کو اڑایا اور دھماکے سے مسجد شہید ہوئی تھی یہ مناظر ایک ویڈیو میں ریکارڈ ہوگئے۔ ویڈیو بنانے والا ایک ٹک ٹاکر تھا جس نے آج نیوز سے گفتگو میں اس پورے واقعے کو بیان کیا ہے۔دھماکے میں خیبر کے ایڈیشنل ایس ایچ او عدنان آفریدی شہید ہوئے جو مبینہ بمبار کو پکڑنے کیلیے مسجد میں داخل ہوئے تھے۔
ٹک ٹاکر کی ریکارڈ کی گئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ عدنان آفریدی اس چھوٹی سی مسجد کے مرکزی ہال میں جھانکنے کی کوشش کر رہے ہیں جب زوردار دھماکے سے شعلے بلند ہوتے ہیں اور مسجد کی چھت مینار سمیت نیچے آگرتی ہے۔
ٹک ٹاکر عاصم خان(نام تبدیل کر دیا گیا) نے آج نیوز کو بتایا کہ کیسے وہ دھماکے کے وقت مسجد کے قریب پہنچا۔
یہ 25 جولائی کی بات ہے جب دوپہر کا وقت تھا، چونکہ گرمی زیادہ تھی اور گرمی کی شدت کم کرنے کے لئے ہم دوست ہفتے میں کم از کم دو تین بار جمرود کے قدرتی چشمے ( غار اوبہ ) کا رخ کرتے ہیں، اسی دن بھی ہم نے دوستوں سمیت یہاں جانے کا پروگرام بنایا،“ ہم وہاں پہنچے اور وہاں کافی دیر تک پانی میں نہاتے رہے، اسی دوران ہم نے فائرنگ کی آواز سنی اور یہ آواز ہمارے نزدیک ہی ایک جگہ سے آرہی تھی، ہم پانی سے نکلے اور میں نے اپنے دوستوں سے کہا کہ قریبی گاوں والوں کا آپس میں کوئی تنازعہ ہوگا لہٰذا ایسے وقت میں یہاں ٹھہرنا خطرے سے خالی نہیں ہے اور ہم وہاں سے جانے لگے. ٹک ٹاکر کے مطابق
“جب ہم نے مسجد کے قریب واقع پل کو کراس کیا تو یہاں پر بہت سے لوگ جمع تھے جن میں پولیس اہلکار بھی تھے، زیادہ تر لوگ ایک دوسرے سے پوچھ رہے تھے کہ یہ کیا ماجرا ہے، لیکن کسی کے پاس صحیح معلومات نہیں تھیں،ایسے میں میں نے اس مجمعے میں کسی سے سنا کہ کچھ افراد جنہوں نے نشہ کیا ہے اور وہ مسجد کے اندر چلے گئے ہیں، اور پولیس ان کو نکالنے کے لئے یہاں آئی ہے.
“میں نے اسی خیال سے موبائل فون نکالا کہ ابھی ان نشئی افراد کو مسجد سے نکالا جائے گا، اور میں ان کی ویڈیو بناؤں گا۔
میں نے ویڈیو سٹارٹ کی، اسی دوران ایک پولیس اہلکار( ایڈیشنل ایس ایچ او عدنان آفریدی ) مسجد کے احاطے میں داخل ہوئے اور چند ہی لمحوں بعد دھماکہ ہوا اور افراتفری کا ایک ماحول پیدا ہوگیا۔
“ہم روڈ پرذرا فاصلے پر کھڑے تھے جبکہ پولیس والے ہم سے آگے تھے جب دھماکہ ہوا تو ہم منٹوں سیکنڈوں میں وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے ۔ہمارے موبائل میں ریکارڈنگ پہلے سے آن تھی اس لئے سب ریکارڈ ہو گیا اور ہم بھاگ نکلے تب تک مسجد کی طرف دھواں ،دھول مٹی ہی دکھائی دے رہی تھی،”اس وقت میرے اعصاب ٹھیک طرح سے کام نہیں کررہے تھے کیونکہ ایک خوفناک دھماکہ ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا، جب گھر پہنچ کر اوسان کچھ بحال ہوئے ہوا اور گھر سے باہر جاکر اپنے دوستوں سے ملا تو مجھے دوستوں سے گفتگو میں ویڈیو کا خیال آیا اور وہ ہم نے ٹک ٹاک پر اپ لوڈ کردی اور کافی لوگوں نے اسے ڈاؤنلوڈ کرکے اپنے اکاؤنٹس سے شیئر کردیا-“”تقریبا تین چارگھنٹے بعد ٹاک ٹاک نے اس ویڈیو کو ہٹا دیا۔“
خیبر پختونخوا میں بارشوں کا سلسلہ آئندہ ہفتے تک جاری رہنے کا امکان
محکمہ موسمیات نے خیبرپختونخوا میں مون سون بارشوں رواں ہفتے جاری رہنےکاامکان ظاہر کیا ہے،صوبےمیں بارشوں کا سلسلہ آئندہ ہفتے تک رہے گا،اس حوالے سے ڈی جی، پی ڈی ایم اے گرج چمک کے ساتھ بارشوں اور تیز ہواؤں کےپیش نظر ضلعی انتظامیہ کو پیشگی اقدامات اٹھانے کی ہدایات جاری کر دی ہے،بالائی اضلاع میں لینڈ سلائیڈنگ اورفلیش فلڈنگ کا خدشہ ہے ۔پی ڈی ایم اے مراسلہ کے مطابقسوات،کوہستان، چترال،مانسہرہ،شانگلہ، دیر،ابیٹ آباد،خیبر،تور غر میں تیز بارشوں سے فلیش فلڈنگ کا خدشہ ظاہر کیا ہے،۔ مراسلہ میں بارشوں کے سبب پشاور،چارسدہ، نوشہرہ، مردان ،ڈی آئی خان اور کے بعض علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ ہے،ضلعی انتظامیہ کو چھوٹی بھاری مشینری کی دستیابی یقینی بنانے کی تلقین بھی کی گئی ہے،۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے برساتی نالوں کی نگرانی اورطوفان کی صورت عوام بجلی کی تاروں، کمزور تعمیرات، سایئن بورڈز اور بل بورڈز سے دور رہنے کی اپیل کی ہے،
حساس بالائی علاقوں میں سیاحوں اور مقامی کمیونٹیز کو ایڈوائزری کی ترسیل یقینی بنائیں۔ پی ڈی ایم اے مراسلہ کے مطابق پیغامات مقامی زبانوں میں پہنچائے جائیں
تمام متعلقہ لائن ڈیپارٹمنٹس روڈ لنکس کی بحالی میں چوکس رہیں۔ مراسلہ میں سڑک کی بندش سے بچنے کے لیے ٹریفک کے لئے متبادل راستے فراہم کر نے اور انتظامیہ اسپیل کے لیے خصوصی منصوبہ بندی کریں۔اسکے علاوہ حساس علاقوں میں صوبائی اور قومی شاہراہوں پرمسافروں کو پیشگی خبردار کیا جائے، متعلقہ حکام بوقت ضرورت لوگوں کومحفوظ انتظار گاہوں میں منتقل کریں۔مراسلہ کے مطابق اسپیل میں ہنگامی خدمات کے اہلکاروں کی دستیابی یقینی بنائیں۔صوبے کے سیاحتی مقامات پرسیاحوں کو موسمی صورت حال سے آگاہ کیاجائے ۔سیاح دوران سفر خصوصی احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ پی ڈی ایم اے کے مراسلے کے مطابق پی ڈی ایم اے ،پی ای او سی کو صورتحال کے بارے میں بروقت آگاہ کیا جانے کی ہدایت کی گئی ہے
مسجد کو شہید کرنے اور انسانی جانوں کا ضیاع کرنے والوں کا اسلام سے کو تعلق نہیں
اسلام امن کا درس دیتا ہے،اسلام کے نام پہ بے گناہ انسانوں کے جانوں کا ضیاع کرنے والے کبھی مسلمان نہیں ہو سکتے نہ ہی وہ دائرہ اسلام میں آسکتے ہے،خیبر پختونخوا کے علاقے جمرود کی جامع مسجد علی میں ہونے والے دھماکے کی علمائے کرام نے شدید مذمت کی ہے اور اس پر اپنے رد عمل کا اظہار کیا ہے۔
علامہ حذیفہ افضل نے کہا ہے کہ مسجد میں خود کش دھماکا کرکے اللہ کے گھر کو شہید کیا گیا، ہر ایسا فرد اور ہر ایسی تنظیم جو بم دھماکوں کے ذریعے مسجد کو شہید کرتی ہے یا انسانوں کی قیمتی جانوں کا ضیاع کرتی ہے، اس تنظیم یا فرد کا اسلام یا انسانیت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ انتظامیہ ایسی تنظیموں پر کڑی نظر رکھے اور ان کا سدباب کرنے کی کوشش کی جائے تاکہ آنے والے وقت میں اللہ کے گھر اور مسلمانوں کی جان و مال ان تنظیموں کے شر سے محفوظ رہ سکیں۔علامہ ڈاکٹر ظہیر عباس قادری نے کہا کہ ایس ایچ او عدنان آفریدی نے دہشتگرد کا تعاقب کیا تاکہ اس کے عزائم کو خاک میں ملا سکیں مگر امن دشمن نے مسجد میں داخل ہوتے ہی خود کو بم دھماکے سے اڑا دیا۔ظہیر عباس قادری نے کہا ہے کہ ان دہشتگردوں نے یہ پہلی مسجد شہید نہیں کی بلکہ پاکستان کے اندر مختلف مواقع پر یہ مساجد اسلامیہ پر حملے کرتے رہے ہیں۔ ایسے لوگ دہشتگرد ہیں اور اسلام کے دشمن ہیں، ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔انہوں نے کہا کہ میں بطور عالم دین اس دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتا ہوں، نبی کریم ؐ کے فرمان کے مطابق یہ لوگ منافقین ہیں۔ اللہ ان کے شر سے پاکستان کو محفوظ رکھے۔
ضلع خیبر میں کے علاقے جمرود میں مسجد پر خودکش حملے کا مقدمہ درج
خیرپختونخوا کے علاقے جمرود کی علی مسجد میں بم دھماکے کا مقدمہ سی ٹی ڈی تھانے میں درج کر لیا گیا جس میں 5 افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔مقدمہ ایس ایچ او گل ولی کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے، ایف آئی آر میں لکھا گیا ہے کہ خودکش حملہ آور اور اس کے ساتھی کی اطلاع پہلے ہی موصول ہو چکی تھی۔ مسجد میں سرچ آپریشن کیا جا رہا تھا کہ دھماکا ہو گیا۔ایف آئی آر کے مطابق دھماکے میں ایڈیشنل ایس ایچ او موقع پر شہید ہوئے، خود کش حملہ ہوتے ہی ملزم کے سہولت کار کو موقع سے زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔مقدمے کے مطابق خود کش حملہ آور اور اس کے ساتھی سے پستول،کارتوس اور نقدی رقم برآمد ہوئی۔
ایف آئی آر میں لکھا گیا ہے کہ خود کش حملہ آور کو جیکٹ اس کے ساتھی نے پہنچائی، گرفتار سہولت کار کی نشاندہی پر ایک خود کش جیکٹ اور دیگر زیر استعمال سامان کو برآمد کر کے ناکارہ بنا دیا گیا۔مقدمے کے مطابق خود کش حملہ آور کا پاؤں موقع سے برآمد کر کے ڈی این اے کے لیے بھجوا دیا گیا ہے۔سی ٹی ڈی میں درج میں مقدمے میں 5 افراد کو نامزد کیا گیا ہے، ایف آئی آر کے مطابق خود کش حملہ آور اور سہولت کار کا ٹارگٹ پولیس موبائل تھی۔
واضح رہے کہ 25 جولائی کو ایک دہشت گرد نے جمرود کے علاقے میں قائم مسجد میں گھسنے کی کوشش کی، پولیس اہلکار نے اسے روکنے کی کوشش کی تو دہشت گرد نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا تھا جس کے نتیجے میں ایڈیشنل ایس ایچ او عدنان آفریدی شہید ہو گئے تھے۔
آئی جی خیبر پختونخوا اختر حیات خان کا نوشہرہ دورہ،سیکورٹی انتظامات کا جائزہ لیا
-انسپکٹر جنرل آف پولیس صوبہ خیبر پختونخواہ اختر حیات خان کانوشہرہ میں کمان اینڈ کنٹرول روم، کینٹ امام بارگاہوں، جلوس کے گزرگاہوں کا دورہ۔محرم الحرام کے حوالے سے کئے گئے سیکورٹی انتظامات کی چیکنگ کی اور اہل تشیع مشران کیساتھ ملاقاتیں کئیں اس موقع پر سیکورٹی انتظامات کے حوالے سے ڈسٹرکٹ پولیس افیسر ناصر محمود نے انکو تفصیلی بریفنگ دی جس آئی جی کے پی کے کے جانب سے اطمینان کا اظہار کیا گیا، انسپکٹر جنرل آف پولیس اخترحیات خان نے محرم الحرام میں امن وامان کے حوالے سے نوشہرہ کا مختصر دورہ کیا۔اس موقع پر ریجنل پولیس افیسر محمد سلیمان اور ڈسٹرکٹ پولیس افیسر ناصر محمود بھی اُنکے ہمراہ تھے۔نوشہرہ پولیس کے چاک و چوبند دستے نے سلامی دی۔انسپکٹر جنرل آف پولیس نے کمانڈ اینڈ کنٹرول روم کا معائنہ کیا۔انسپکٹر جنرل آف پولیس نےنوشہرہ کینٹ کے امام بارگاہوں اور جلوس کے گزرگاہوں کا دورہ کرتے ہوئے تمام سیکورٹی انتظامات چیک کئے۔اہل تشیع مشران سے ملکر ان سے مہیا کردہ سیکورٹی کے بارے میں معلومات حاصل کی۔ ڈسٹرکٹ پولیس افیسر ناصر محمود نے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے واضح کیا کہ محرم الحرام میں امن وامان برقرار رکھنے کے لئے نوشہرہ پولیس تمام تر وسائل کو بروئے کار لا رہی ہے۔ کسی بھی نا خوشگوار واقع سے بچنے کے لئے پولیس افسران و اہلکاران خوش اسلوبی سے اپنی ڈیوٹی سر انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی ناخوشگوار حالات سے نمٹنے کے لئے ریزرو ٹیم ہمہ وقت تیار ہیں۔انسپکٹر جنرل آف پولیس نے محرم الحرام کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کیلئے نوشہرہ پولیس کے سیکورٹی کے لیے اٹھائے گئے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔

علی محمد خان آخر کار جیل سے رہا
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما و سابق وفاقی وزیر علی محمد خان کو 80 روز کی قید کے بعد سینٹرل جیل مردان سے رہا کر دیا گیا۔واضح رہے کہ پشاور ہائی کورٹ نے علی محمد خان کی ضمانت منظور کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دیا تھا۔پشاور ہائی کورٹ کے جج جسٹس اعجاز انور اور جسٹس فضل سبحان پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے درخواست ضمانت پر سماعت کرتے ہوئے فیصلہ سنایا تھا جسٹس اعجاز انور نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ آئندہ سماعت پر ڈپٹی کمشنر مردان عدالت میں پیش ہوں، ایک ڈپٹی کمشنر کو نشان عبرت بنایا جائے گا تو پھر غیر قانونی کام نہیں ہو گا،عدالت نے حکم دیا کہ ڈپٹی کمشنر مردان 8 اگست کو عدالت کے رو برو پیش ہوں، اور اس کے ساتھ ہی کیس کی سماعت 8 اگست تک کے لیے ملتوی کر دی۔واضح رہے کہ علی محمد خان کی گرفتاری 11 مئی کو عمل میں لائی گئی تھی جب عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کارکنوں نے ملک کی اہم تنصیبات پر دھاوا بولا تھا۔ علی محمد خان کی اس سے قبل 6 مرتبہ ضمانت منظور ہوئی مگر ان کو جیل سے باہر آتے ہی پولیس دوبارہ گرفتار کر لیتی تھی۔9 جون کو مردان کی انسداد دہشت گردی عدالت نے الزامات ثابت نہ ہونے پرعلی محمد خان کو مقدمہ سے بری کیا تو اسی دن اینٹی کرپشن کی ٹیم نے فشریز ڈیپارٹمنٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کے الزام میں گرفتار کر لیا تھا۔

پشاور،محرم الحرام کے موقع پر ٹریفک پولیس کی کاروائیاں
محرم الحرام‘ دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر ٹریفک پولیس کی 9010 افراد کے خلاف کاروائی عمل میں لائی گئی ہے ،چیف ٹریفک آفیسر قمر حیات خان کے مطابق غیر رجسٹرڈ گاڑیوں‘فینسی نمبر پلیٹ‘ کالے شیشوں کے استعمال اور ڈبل سواری کے مرتکب درجنوں افراد پر دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر کارروائی‘ سینکڑوں موٹرسائیکلیں ٹرمینل میں بند کر دئے گئے ہے، قانون ہر خاص و عام پر لاگو ہوتا ہے جس سے کوئی مبرا نہیں ہے‘ شہری ٹریفک عملے کے ساتھ تعاون کریں‘ چیف ٹریفک آفیسر قمر حیات خان نے آئی جی پولیس اختر حیات خان اور سی سی پی او پشاور سید اشفاق انور کی ہدایت پر سٹی ٹریفک پولیس پشاور نے شہر کے مختلف سیکٹروں میں ناکہ بندیاں کیں جہاں پر غیر رجسٹرڈ گاڑیاں چلانے‘ کالے شیشے‘ فینسی نمبر پلیٹ استعمال کرنیوالوں اور ڈبل سواری کے مرتکب 9010 افراد کے خلاف کیخلاف کارروائی کی گئی ہے جبکہ سینکڑوں موٹرسائیکلوں کو ٹرمینل میں بند کر دیا گیا ہے،واضح رہے کہ یہ مہم یکم محرم الحرام سے شروع کیا گیا تھا جو تا حال جاری ہے- چیف ٹریفک آفیسر قمر حیات خان نے کہا ہے کہ ٹریفک عملہ قوانین پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لئے تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائے گی جبکہ خلاف ورزی کرنیوالوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائے گی انہوں نے کہا کہ کالے شیشوں کے استعمال‘ غیر رجسٹرڈ گاڑیاں چلانے‘ ڈبل سواری اور فینسی نمبر پلیٹ کے استعمال پر پابندی عائد ہے جس کے خلاف سٹی ٹریفک پولیس پشاور الرٹ ہے اور کسی کے ساتھ نرمی نہیں برتی جائیگی کیونکہ قانون ہر خاص و عام کیلئے یکساں ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہری ٹریفک عملے کے ساتھ تعاون کریں اور ٹریفک قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے محب وطن پاکستانی ہونے کا ثبوت دیں،








