لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور کےڈاکٹرز اور نرسزز پر مشتمل وفد نےریڈیو پاکستان پشاور کا دورہ کیا ، ڈاکٹرز اورنرسزکے وفدکو 9 اور10 مئی کو جلائی گئی عمارت کے مختلف حصوں کا دورہ کرایا گیا، ڈاکٹرز کے وفد نے9 مئی کے سانحے کی بھرپور الفاظ میں مذمت کی ،وفد نے شہدائے پاکستان کو خراج ِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ”فوج کا دشمن ملک کا دشمن‘ ہے. وفد شرکا نے 9مئی کے دل سوز واقعات پر گہرے دکھ و افسوس کا اظہار کیا اور مستقبل میں اس قسم کے واقعات نہ ہونے اور پرامن احتجاج پر زور دیا،وفد نے یہ بات واضح کر دی کہ مہذب اقوام قومی اثاثوں کو نقصان نہیں پہنچاتے بلکہ پرامن طریقے سے اپنا احتجاج ریکارڈ کراتے ہیں،پاکستان کا ایسا ادارہ جس نے پاکستان کی بہتری میں اپنا کردار ادا کیا ہو اس پہ حملہ آور ہونا کوئی مہذب اقدام نہیں ہے سانحہ 9مئی کے دوران پاکستان کو بہت نقصان پہنچا ،ہم سب کو امن کا پیغام دیتے ہیں آخر میں وفد نے پر زور مطالبہ کیا کہ سانحہ 9مئی میں ملوث تمام شرپسندوں کو قانون کے کٹہرے میں لاکر سخت سزا دی جائے،
Tag: پشاور

کل کوئی بھی وکیل عدالت میں پیش نہیں ہو نگے
خیبر پختون خوا بار کونسل نے کل سے عدالتی بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے، چئیرمین ایگزیکٹیو سید مبشر شاہ ایڈوکیٹ کے مطابق ہڑتال کی کال پاکستان بار کونسل نے دی ہے، سید مبشر شاہ ایڈوکیٹ نے کہا کہ کوئٹہ میں قتل ہونے والے معروف قانون دان عبدالرزاق شر کےقتل کے خلاف ہڑتال کرہے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ پروسیجر ایکٹ کے خلاف حکم امتناعی جاری کرنے سمیت دیگر امور پر بھی ہڑتال کی کال دی گئی ہے ۔ چئیرمین ایگزیکٹیو سید مبشر شاہ ایڈوکیٹ نے اس بات پر زور دیا کہ کل کوئی بھی وکیل عدالت میں پیش نہیں ہوگا اور اس ضمن میں تمام وکلا تنظیموں کو باقاعدہ طور پر آگاہ کردیا گیا ہے، واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے وکیل عبدالرزاق شر کو گزشتہ روز ائیرپورٹ روڈ پر فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا۔

قتل مقدمے میں نامزد پی ٹی آئی کے رہنما کی ضمانت درخواست پر سماعت
قتل مقدمے میں نامزد پاکستان تحریک انصاف کے سابق ڈپٹی سپیکر خیبر پختونخوا محمود جان کی ضمانت درخواست پر سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ کے عدالت میں ہوئی درخواست پر سماعت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سید بادشاہ نے کی .استغاثہ کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ پولیس نے کیس کا ریکارڈ بھی عدالت میں جمع کردیا ہے اور مدعی کی جانب سے وکیل پیش ہوئے اور وکالت نامہ جمع کرنے کی استدعا کی گئ عدالت نے ضمانت درخواست پر دلائل کے لیے سماعت ملتوی کردی، درخواست پر مزید سماعت 12 جون کو ہوگی
پولیس کے مطابق ملزم نے تھانہ ریگی کے حدود میں عیسی خیل قوم کے جلوس پر فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوگئے تھے ملزم سابق ڈپٹی سپیکر خیبر پختونخواہ محمود جان کا علاقے میں عیسی خیل قوم سے زمینی تنازعہ ہے ،
9 مئی ہنگامہ آرائی،سابق مشیر کی ضمانت منظور
انسداد دھشتگردی عدالت پشاور میں 9 اور 10 مئی کو نامزد پی ٹی آئی سابق مشیر قانون عارف یوسفزئی کی عبوری ضمانت کے درخواست پر سماعت ہوئی ، سماعت ای ٹی سی جج ڈاکٹر عامر نظیر نے کی،عدالت نے سابق مشیر قانون کے عبوری ضمانت میں 17 جون تک توسیع کر دی، ملزم پر تھوڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کے دوران نجی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کا الزام ہے، جس کے خلاف تھانہ خان رازق میں مقدمہ درج ہے،دوسری جانب 9 اور 10 مئی واقعات میں تھوڑ کے الزام میں گرفتار ملزم عبد الرحمان کو عدالت میں پیش کیا گیا،
تفتیشی افسر کے مطابق ملزم پر 9 اور 10 مئی کو تھوڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کا الزام ہےلہذا ملزم سے تفتیش کی ضرورت ہے، تفتیشی افسر نے استدعا کی ملزم کو جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا جائے، عدالت نے جسمانی ریمانڈ کی استدعا منظور کرتے ہوئے ملزم کو ایک روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا،
پشاور میں ڈبلیو ایس ایس پی کے ملازمین کا احتجاج
پشاور ڈبلیو ایس ایس پی کے ملازمین اپنے مطالبات کے حق میں پشاور پریس کلب کے سامنےاحتجاج کر رہے ہے،ڈبلیو ایس ایس پی جانب سے احتجاج تنخواہوں کی عدم آدایئگی اور فںڈز نہ ملنے کی وجہ سے کیا جا رہا ہے، ڈبلیو ایس ایس پی کی احتجاج کی وجہ سے شہر میں صفائی ستھرائی کا عمل بھی روک دیا گیا ہے لہذا آج پشاور شہر صفائی سے محروم رہے گا،دوسری جانب ڈبلیو ایس ایس پی کے ملازمین کا کہنا ہے کہ ہم احتجاج نہیں کرنا چاہ رہے لیکن 7 ماہ سے ہماری تنخواہوں کی عدم آدائیگی کی وجہ سے ہمارے گھروں کے چھولہے ٹھنڈے پڑ گئے ہے اور ہمارے بچے فاقوں سے گزر رہے ہے،لہذا حکومت وقت سے ہمارا مطالبہ ہے کہ فوری طور پر ہماری تنخواہوں اور فنڈز کی فراہمی یقینی بنائے ،مطالبات نہ ماننے کی صورت میں احتجاج کو تب تک جاری رکھا جائے گا جب تک مطالبات پورے نہیں ہوتے،

خیبر پختونخواہ میں نو اور دس مئی کےپر تشدد واقعات میں ملوث ملزمان کے خلاف کریک ڈاؤن
9 اور 10 مئی کے پر تشدد واقعات میں ملوث 248 سرکاری ملازمین کی نشاندہی کی گئی ہے،پولیس کے مطابق ملازمین کا تعلق محکمہ تعلیم،صحت،پی ڈی اے اور دیگر محکموں سے ہے، پولیس حکام کے مطابق تمام ملازمین کو تمام شواہد ویڈیوز ،تصاویر اور متعلقہ محکموں کی مدد سے لی گئی ہے پولیس نے مزید بتایا کہ اب تک کے کاروائی میں 30 سرکاری ملازمین کو معطل کر دیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ پر تشدد واقعات میں ملوث افراد کی نشاندہی کا عمل جاری ہے جس کے لئے خصوصی انوسٹی گیشن ٹیم بھی تشکیل دی گئی ہے جس کی مدد سے 9 اور 10 مئی کے واقعات میں ملوث لوگوں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جا ئے گا،واضح رہے کہ خیبر پختونخوا میں جلاؤ گھیراّؤ کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کاروائی عمل میں لانے کا سلسلہ جاری ہے،جس کے نتیجے میں نجی اور سرکاری اداروں کے ملازمین کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ آخری شر پسند کے گرفتاری تک یہ سلسلہ جاری رہے گا،

پشاور بی آر ٹی کی سروس رواں دواں رہے گی
پشاور میں بی آر ٹی سروس کل سے بند نہیں کی جارہی،صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ شاہد خٹک کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت نے بی آر ٹی سروس چلانے والی نجی کنمپنی کے 380 ملین کے بقایا جات تھے جن میں 250 ملین ادا کردیے گئے ہے، بی آر ٹی سروس کسی صورت بند نہیں کی جائے گی،اور عوام کو کسی صورت اس سہولت سے محروم نہیں کیا جائے گا انہوں نے مزیدکہا کہ نجی کمپنی کے ذمے حکومت کے بھی اربوں روپے کےبقایاجات ہیں، جس کی نجی کمپنی نےایک ماہ میں جگہ خالی کرنے اور بقایاجات ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔یاد رہے کہ پچھلے دنوں نجی کمپنی کی جانب سے واجبات ادا نہ کرنے کی صورت بی آر ٹی تمام ٹرمینل کو بند کرنے دھمکی دی تھی،
ا
پشاور متنی میں غیر قانونی اسلحہ سمگل کرنے کی کوشش ناکام
پشاور تھانہ متنی پولیس کی اہم کارروائیوں کے نتیجے میں 2کے دوران بھاری تعداد میں غیر قانونی اسلحہ سمگل کرنے کی کوشش ناکام بنا دی گئی ہے اور 3 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے،ملزمان سوزوکی گاڑیوں کے زریعے بھاری تعداد میں اسلحہ پشاور سمیت دیگر اضلاع اور صوبوں کو سمگل کرنے کی کوشش کررہے تھے جس میں 66 عدد پستول، 4 عدد پستول بشکل ایم پی فور، 830 عدد مختلف میگزینز، 3 عدد بندوق، 1 عدد کلاشنکوف، 1 عدد رائفل، سینکڑوں عدد مختلف بور کے کارتوس سمیت اسلحہ سمگلنگ میں استعمال ہونے والی دو سوزوکی گاڑیاں بھی برآمد کی گئی ہے،ملزمان کے خلاف مقدمات درج کرکے مزید تفتیش شروع کردی گئی ہے،جس کے نتیجے میں مزید ملزمان اور اسلحہ کی نشاندہی ہونے کا امکان ہے،

پشاور میں سرکاری تنصیبات کی دیواروں پر تاریخی فن پاروں کا آغاز
پشاور شہر کی تاریخ و کلچر کو اجاگر کرنے کے لئے دپٹی کمشنر پشاور شاہ فہد کے ہدایت پر اسٹنٹ کمشنر راؤ ہاشم کی زیر نگرانی وال آرٹ اور فن پاروں کا آغاز کیا گیا ہے،جس میں خیبر ٹیچنگ ہسپتال ،لیڈی ریڈنگ ہسپتال،کی بیرونی دیواروں اور جی پی او کی بیرونی دیواروں سمیت ٹاؤن تھانے کے دیواروں پر کام کا آغاز کیا گیا ہے،آرٹ کا مقصد پشاور شہر کے تاریک کو اجاگر کرنا ہےاسکے علاوہ جس طرح شہر نے ترقی کے مراحل طے کئے ہے وہ تمام تر کامیابیاں فن پاروں اور آرٹ کی شکل میں عوام کے سامنے لایا جائے گا،جس کی مدد سے عوام میں پشاور شہر کی تاریخ کے حوالے جان کاری ملے گی،دیواروں پر فن پاروے بنانے میں پشاور شہر کے مختلف ارٹسٹ حصہ لے رہے ہے،اس کے علاوہ سٹوڈنٹس کو بھی بڑی تعداد میں اس مہم کا حصہ بن کے اپنے کے جوہر دکھانے کا موقع مل رہا ہے،

مہمند اور تیراہ میں زیتون کی شجرکاری مہم کا آغاز
سیکیورٹی فورسز نے مہمند اور تیراہ (ضلع خیبر) میں محکمہ زراعت خیبر پختونخواہ کے تعاون سے زیتون کی شجرکاری مہم کا آغازکر دیا،
مہم کا مقصد "پاکستان میں کمرشل پیمانے پر زیتون کی کاشت کو فروغ دینا” ہے ،مہم کو بہتر موسمی حالات میں پیوند کاری کے ذریعے زیتون کی پیداوار کو بڑھانا ہے مہم میں قدرتی طور پر پائے جانے والے زیتون کی پیداوار کو بہتر بنانے کے لیے جنگلی زیتون کی پیوند کاری شامل ہے مہمند میں مجموعی طور پر 2216 زیتون کے درخت لگائے گئے ہیں اس کے علاوہ 5029 جنگلی زیتون کے درختوں کی پیوند کاری بھی کی گئی ہے جن میں مجموعی طور پر 13,950 بیج بوئے گئے ہیں ضلع خیبر کے علاقے تیراہ میں کل 1000 اطالوی Arbequina Olive Stem کی پیوند کاری کی جا رہی ہے تاکہ آنے والے سالوں میں پیداوار کو بہتر بنایا جا سکے اس سلسلہ میں بڑی تیزی سے کام جاری ہے تاک کم سے کم مدت میں بہتر نتائج حاصل کئے جا سکیں
صحافیوں کو ہراساں کرنے کیخلاف ازخود نوٹس کیس،سپریم کورٹ کا بڑا حکم
پولیس ملزمان کی ویڈیو کیوں نہیں بناتی؟ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا اظہار برہمی
امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے مطالبہ کیا تھا کہ مالاکنڈ ڈویژن کو وادی زیتون قرار دیا جائے اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بے شمار قدرتی وسائل سے نوازا ہے،پنجاب، خیبر پختونخوا، فاٹا اور بلوچستان کے پہاڑی علاقوں میں موجود جنگلی زیتون کے کئی کروڑ درخت بھی قدرت کا بیش بہا انعام ہیں لیکن افسوس کہ ہم اس بے حد مفید درخت کو بڑے پیمانے پر قلم کاری کے ذریعے کارآمد نہیں بنا سکے ہیں جنگلی زیتون کے درختوں پر قلم کاری کرکے ملک کو اربوں روپے سالانہ کی آمدنی حاصل ہوسکتی ہے









