خیبر لنڈی کوتل کے مقام پر دو فریقین کے درمیان ہونے والی خونخوار لڑائی میں 14 افراد زخمی ہوگئےہے،
پولیس ذرائع کے مطابق یہ ہولناک واقعہ زمین کے تنازع پر پیش آیا، معمولی تنازع دیکھتے ہی دیکھتے دو فریقین کے درمیان شدید لڑائی جھگڑے کا باعث بن گیا جس میں 14 افراد زخمی ہوگئے۔
پولیس نے موقع پر پہنچ کر زخمی افراد کو لنڈی کوتل ہیڈ کوارٹر ہسپتال منتقل کر دیا، 5 زخمیوں کی حالت تشویشناک ہونے پر پشاور منتقل کیا گیا ہے جبکہ پولیس نے ابتدائی کارروائی میں دونوں فریقین کے 4 افراد کو گرفتار کر لیا۔
Tag: پولیس
-

دو فریقین کی خونخوار لڑائی میں 14 افراد زخمی،5 کی حالت تشویش ناک
-

چمن :17 قیدیوں کے فرار ہونے کے بعد جیل عملے کی تبدیلی کے بعد نیا عملہ تعینات
چمن میں سب جیل سے سنگین جرائم میں ملوث 17 قیدیوں کے فرار ہونے کے بعد جیل عملے کی تبدیلی کے بعد نیا عملہ تعینات کر دیا گیا۔
باغی ٹی وی: واضح رہے کہ عید کی صبح سنگین جرائم میں ملوث 17 قیدیوں نے سب جیل کی حفاظت پر مامور اہلکار سے اسلحہ چھین کر اسے تشدد کا نشانہ بنایا تھا اور 3 اہلکاروں کو زخمی کر کے گیٹ کا تالا فائرنگ سے توڑ کر فرار ہو گئے تھے،پولیس نے قریبی سرحدی علاقوں میں آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں ایک مفرور قیدی کو ہلاک اور 2 کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا تھا جبکہ 1 قیدی نے رضاکارانہ گرفتاری دے دی تھی واقعے کا مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کردی گئیں اس واقعے پر ایس پی نے جیلر سمیت 3 پولیس افسروں اور ایک اہلکار کو معطل کر دیا تھا-
ضلع شیرانی میں چیک پوسٹ پر فائرنگ،4 اہلکار شہید
ایس پی چمن محمدنعیم خان اچکزئی نے بتایا کہ فرار ہونے والوں میں قتل اور دیگر سنگین جرائم کے قیدی شامل تھے جیل سیکورٹی پر 25اہلکار تعینات ہوتے ہیں تاہم عیدگاہوں کی اضافی سیکیورٹی کیلئے جیل اہلکاروں کی ڈیوٹیاں لگائی گئی تھیں۔ مفرور قیدیوں میں 7 کا تعلق قلعہ عبداللہ، 5کا چمن ایک کا مظفرگڑھ اور ایک کا تعلق افغانستان سے ہے۔دوسری جانب گزشتہ ایس پی چمن نعیم خان اچکزئی نے جنگ کو بتایا کہ سرکار کی مدعیت میں جیل توڑنے کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے جبکہ کوئیک رسپانس فورس سمیت پولیس سیکیورٹی انچارج کو بھی تبدیل کردیاگیاہے انکا کہنا تھا کہ مفرور قیدیوں کے سرحد پار فرار ہونے کے خطرے کے پیش نظر سرحدی علاقوں میں مسلسل کوئیک رسپانس آپریشن ہے-
سی ٹی ڈی کا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن،ٹی ٹی پی کا اہم کمانڈر گرفتار
وزیراعلئ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے چمن جیل پر حملے اور 17 خطرناک قیدیوں کے فرار کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے واقعہ کی اعلی سطحی تحقیقات کا حکم دیا ہے وزیراعلئ نے ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ سے واقعہ کی رپورٹ طلب کر لی اور ہدایت کی ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے فرار قیدیوں کی گرفتاری کے لیئے مشترکہ کاروائی کریں تاہم اب نیا عملہ تعینات کر دیا گیا ہے-
اس حوالے سے جیل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تقریباً ایک صدی قدیم جیل کی تعمیر کے بعد مرمت نہیں ہوئی، بیرکس کے چاروں اطراف لگا حفاظتی جنگلہ کئی بار قیدی دھکا دے کر گرا چکے ہیں جیل کے اندر سی سی ٹی وی کیمرے بھی نہیں ہیں، جیل اور بیرکس کی حفاظت کے لیے واچ ٹاورز تک نہیں بن سکے، بلوچستان حکومت اور محکمۂ داخلہ کو کئی بار صورتِ حال سے آگاہ کیا تھا واقعے کے دن ایک افسر اور دو اہلکار جیل سیکیورٹی پر تعینات تھے۔
دیوار سے نہ لگایا جائے اور نہ ہی سخت رد عمل پر مجبورکیا جائے،وزیراعلیٰ بلوچستان …
دوسری جانب پولیس نے سب جیل سے سنگین جرائم میں ملوث 17 قیدیوں کے فرار ہونے کا مقدمہ درج کر لیا ہے مفرور قیدیوں کے خلاف مقدمہ سرکار کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔
-

ضلع شیرانی میں چیک پوسٹ پر فائرنگ،4 اہلکار شہید
بلوچستان کے ضلع شیرانی میں قانون نافذ کرنے والے ادارے کی چیک پوسٹ پر فائرنگ کے نتیجے میں 4 اہلکار شہید ہو گئے۔
پولیس حکام کے مطابق دہشت گردوں کی جانب سے ضلع شیرانی کے علاقے دانہ سر میں واقع چیک پوسٹ پر حملہ کیا گیا ہے فائرنگ کے نتیجے میں 4 اہلکار شہید ہو گئے جوابی فائرنگ کے نتیجے میں ایک حملہ آور مارا گیا –
ترجمان بلوچستان حکومت بابریوسفزئی کے مطابق دہشتگرد حملے میں ایک ایف سی اور تین پولیس اہلکار شہید ہوگئے، فائرنگ کے تبادلے میں ایک دہشت گرد ہلاک ہوگیا دہشتگرد بزدلانہ حملے سے امن وامان خراب کرنا چاہتے ہیں، دہشتگردوں کوکسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔ سیکیورٹی فورسز کے قربانیوں پر پوری قوم کو فخر ہے۔
پولیس کی جانب سے حملہ آور دہشت گردوں کی گرفتاری کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔
سوئیڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی،قائم مقام صدر کاعالمی پارلیمانوں سے رابطے کیلئے خط …
وزیرِ اعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے سیکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گرد بزدلانہ کارروائیوں سے سیکیورٹی فورسز کے حوصلے پست نہیں کر سکتے سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں قوم کے لیے مشعلِ راہ ہیں سیکیورٹی فورسز پختہ عزم و حوصلے کے ساتھ ملک و قوم کا تحفظ یقینی بنا رہی ہیں۔
کولمبیا میں 2 طیارے پرواز کے دوران ٹکرا گئے،ویڈٰیو
-

مری ، بد ترین ٹریفک جام
ملکہ کوہسار مری میں ہزاروں سیاحوں اور ان کی گاڑیوں کے داخلے کی وجہ سے اس وقت بدترین ٹریفک جام ہے، سیاحوں کی بڑی تعداد سڑکوں پہ دربدر بھٹک رہی ہے جب کہ انتظامیہ و پولیس مکمل طور پر ناکام دکھائی دے رہی ہے۔ٹریفک پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مری میں عیدالاضحیٰ کے تین دنوں میں اب تک 50 ہزار سے زائد گاڑیاں داخل ہوئی ہیں اور 38 ہزار آؤٹ ہوچکی ہیں۔ٹریفک پولیس حکام کے مطابق چیف ٹریفک آفیسر تیمور خان بھی صورتحال کا جائزہ لینے اور حالات کو سنبھالنے کے لیے بذات خود مری پہنچ گئے ہیں۔
نگران وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے بھی نے مری میں سیاحوں کی مشکلات کا نوٹس لے لیا ہے اور فوری طور پر کمشنر راولپنڈی کو پہنچنے کی ہدایت کردی ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے مقامی انتظامیہ اور پولیس کو ہدایت کی ہے کہ سیاحوں کو تمام سہولتیں فراہم کی جائیں۔
ترجمان ٹریفک پولیس کے مطابق 12 ہزار سے زائد گاڑیاں اس وقت بھی مری کی مختلف سڑکوں پر چیونٹی کی رفتار سے رینگتی ہوئی پارکنگ تلاش کر رہی ہیں مری، جھیکا گلی، لوئر ٹوپہ مال روڈ اور ویو فورتھ روڈ سمیت قرب و جوار میں ٹریفک بری طرح سے بلاک ہے، مال روڈ مری میں لوگوں کے جم غفیر کی وجہ سے تل دھرنے کی بھی جگہ نہیں ہے۔
مقامی انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے بطور خاص مری کے لیے تیار کیے جانے والے ٹریفک پلان پوری طرح سے ناکام دکھائی دے رہے ہیں۔ -

ملک بھر میں ٹریفک حادثاث میں 10 افراد جاں بحق اور خواتین اور بچوں سمیت 55 افراد زخمی ہوگئے
چنیوٹ میں جھنگ روڈ پر تیز رفتار 2 موٹرسائیکل آپس میں ٹکرا گئے جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور 2 زخمی ہوگئے۔
شیخوپورہ میں سرگودھا روڈ پر 2 موٹرسائیکیں ٹکرانے سے 4 افراد زخمی ہوگئے۔
وزیر آباد میں دریائے چناب کے قریب ٹرک کی 2 موٹر سائیکل سواروں کو ٹکر سے 2 افراد جاں بحق اور ماں بیٹی زخمی ہوگئے۔
چیچہ وطنی کے تھانہ صدر کی حدود نیشنل ہائی وےپر ٹریفک حادثے میں ایک شخص جان سے گیا جبکہ خواتین سمیت 9 افراد زخمی ہوگئے۔
جہلم کے علاقے دینہ میں جی ٹی روڈ پر مسافر وین کی کار کو ٹکر سے بچے سمیت 8 افراد زخمی ہوگئے۔
خیبرپختونخوا کے شہر کرک میں انڈس ہائی وے پر میٹھاخیل کے قریب کار کی موٹر سائیکل کو ٹکر سے 2 نوجوان جاں بحق ہوگئے۔جبکہ سوات میں 2 موٹر سائیکل سوار حادثے کا شکار ہو کے جاں بحق ہو گئے،
سندھ کے شہر سیہون میں انڈس ہائی وے روڈ پر ٹائر برسٹ ہونے سے کار الٹ گئی، جس کے نتیجے میں ایک بچی موقع پر ہی دم توڑ گئی، 3 خواتین سمیت 7 افراد زخمی ہوگئے۔
قاضی احمد میں قومی شاہراہ علی آباد تیز رفتار کار کی گدھا گاڑی کو ٹکر سے ایک شخص جاں بحق اور 3 زخمی ہوگئے۔
بلوچستان کے شہر قلات میں کوئٹہ سے قلات جانے والی مسافر وین منگچر کے قریب قومی شاہراہ پر ٹائر برسٹ ہونے کی وجہ سے الٹ گئی جس کے نتیجے میں 20 افراد زخمی ہوگئے۔
حادثے میں جاں بحق اور زخمی افراد کو مقامی اسپتالوں میں پہنچادیا گیا۔ -

عید کی چھٹیاں گزارنے شہریوں کی بڑی تعداد مری پہنچ گئی
عید کی چھٹیاں گزارنے کے لئے شہریوں کی بڑی تعداد ملکہ کوہسار مری پہنچ گئی
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مری میں مزید 850 گاڑیاں داخل ہوئی ہیں،مری میں مجموعی طور پر 17 ہزار 298 گاڑیاں داخل ہوئیں ،11 ہزار سے زائد گاڑیاں مختلف راستوں سے مری سے نکال دی گئی ،5 ہزار 400 گاڑیاں اب بھی مری میں بدستور موجود ہیں،مری میں 8 ہزار گاڑیوں کی گنجائش ہے،ملکہ کوہسار مری میں 3700 گاڑیوں کی پارکنگ کی گنجائش ہے، راولپنڈی اور اسلام آباد سے مزید گاڑیوں ملکہ کوہسار مری میں داخل ہو رہی ہیں مری کے داخلی راستوں پر راولپنڈی پولیس اور ٹریفک پولیس کے جوان تعینات کر دیئے گئے مری میں ٹریفک کا لوڈ ہونے کی وجہ سے ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہو رہی ہے
ایس پی صدر ڈویژن محمد نبیل کھوکھرنے ملکہ کوہسار مری میں مختلف مقامات پر سکیورٹی و ٹریفک انتظامات کی جائزہ لیا، ایس پی صدر عید کے تینوں روز مری میں موجود رہ کر تمام انتظامات کی نگرانی کرتے رہے،، سیاحوں کے محفوظ و خوشگوار سفر کو یقینی بنانے کے لیے راولپنڈی پولیس تمام اقدامات اٹھا رہی ہے۔
خواجہ سرا بھی اب سکول جائیں گے، مراد راس
خواجہ سرا کے ساتھ ڈکیتی، مزاحمت پر بال کاٹ دیئے گئے
پشاور پولیس کا رویہ… خواجہ سرا پشاور چھوڑنے لگے
-

فرانس،پولیس کے ہاتھوں نوجوان کی موت،پر تشدد احتجاج،917 گرفتار
فرانس میں پولیس کے ہاتھوں ایک نوجوان کی موت کے خلاف فرانس کے کئی شہروں میں احتجاج جاری ہے، پر تشدد احتجاج کے بعد پولیس نے کاروائی کی ہے اور احتجاج، جلاؤ گھیراؤ میں ملوث 917 افراد کو گرفتار کر لیا ہے،پر تشدد مظاہرین نے عوامی املاک، تھانوں، دکانوں پر حملے کئے، پیرس کے کئی علاقوں میں کرفیو ہے اور عوام کے جمع ہونے پر پابندی ہے، حالات قابو میں رکھنے کے لئے فرانس میں 45 ہزار پولیس اہلکار تعینات کئے گئے ہیں،
فرانس میں پولیس کے ہاتھوں نوجوان کے قتل کے بعد فرانس یوں سمجھیں بند ہو گیا،ہر طرف احتجاج، جلاؤ گھیراؤ، مظاہرے، غرض فسادات پھوٹ پڑے، فرانس میں احتجاج کے بعد پبلک ٹرانسپورٹ معطل کر دی گئی ہے،کئی گاڑیوں کو، اور ٹرینوں کو بھی مظاہرین نے آگ لگائی ہے،

27 جون کو سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں دکھایا گیا ہے کہ ایک پولیس افسر ایک 17 سالہ نوجوان کو گولی مار رہا ہے، اسی دن اس قتل کے خلاف مظاہرے ہوئے جن میں سے کچھ پرتشدد ہو گئے۔ وہ ابھی تک جاری ہیں اور پورے ملک میں پھیل رہے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ اس وقت ہوئی جب نوجوان اپنی کار کو روکنے کے حکم پر عمل نہیں کیا جس پر اہلکار نے نوجوان پر گولی چلائی، جو بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔
وکلاء کی ایک ٹیم نے 17 سالہ نوجوان کی شناخت ناہیل ایم کے نام سے کی، جو الجزائر اور مراکش سے تعلق رکھتا تھا۔وکلاء نے پولیس کے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا جس میں پولیس کا کہنا تھا کہ نوجوان نے گاڑی رکنے کی بجائے بھگا لی تھی،
پولیس کے ہاتھوں قتل ہونیوالے نوجوان کی والدہ مونیہ نے فرانسیسی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں پولیس کو نہیں بلکہ ایک شخص کو قتل کا زمہ دار ٹھہراتی ہوں، حالیہ ہفتوں میں یہ دوسرا موقع ہے کہ نوجوان کو پولیس نے گولی مار کر قتل کیا، خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق فرانس میں پولیس کے ہاتھوں گزشتہ سال ٹریفک کے دوران 13 افراد ہلاک ہوئے، جن میں سے زیادہ تر افراد سیاہ فام یا عرب نژاد تھے۔
مظاہرین نے عمارتوں بینکوں کو آگ لگا دی گئی اور رکاوٹیں کھڑی کر دیں،میکرون نے جمعہ کو کہا کہ کل 492 عمارتوں کو نقصان پہنچا، 2,000 گاڑیاں جل گئیں اور 3,880 مقامات پر آگ لگائی گئی،فرانسیسی صدر نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کو باہر نہ جانے دیں،

کیا فائرنگ کی تحقیقات ہوگی؟
فرانس کے وزیر داخلہ نے ٹویٹر پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کے نگران ادارے نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، پیرس پولیس کے سربراہ لارینٹ نوز نے بات کرتے ہوئے کہا کہ افسر کے اقدامات سے "سوالات اٹھتے ہیں”، حالانکہ انہوں نے مشورہ دیا کہ افسر کو خطرہ محسوس ہوا ہو گا۔اس کے بعد سے اس افسر پر قتل کا الزام لگایا گیا ہے اور اب وہ حراست میں ہے ،فرانسیسی صدر میکرون نے کہا ہے کہ احتجاج میں اضافہ سوشل میڈیا کی وجہ سے ہوا صدر نے سوشل میڈیا سائٹس سے اپنے پلیٹ فارم پر موجود تمام حساس نوعیت کی ویڈیوز ہٹانےکا مطالبہ کیا ہے ،خیال رہے کہ گزشتہ دنوں فرانسیسی پولیس نے پیرس کے نواحی علاقے میں پوچھ گچھ کے دوران نائل نامی ایک نوجوان کار سوار کو گولی مار دی تھی، سینے میں گولی لگنے سے نوجوان موقع پر ہی ہلاک ہوگیا تھا، جس کے بعد سے شہری سڑکوں پر نکل آئے اور توڑ پھوڑ ، جلاؤ گھیراؤ اور احتجاجی مظاہرے شرو ع کردیے ،فرانس کی حکومت نے پرتشدد مظاہروں کو روکنے کے لیے رات 8 سے صبح 8 بجے تک کرفیو نافذ کر دیا ہے، کرفیو کا اطلاق تمام چھوٹے بڑے شہروں اور قصبوں پر ہو گا پیرس کی میونسپلٹیز میں بھی کرفیو کا اعلان کیا گیا ہے اور لوگوں کے جمع ہونے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے پیرس سمیت مختلف شہروں میں جگہ جگہ نوجوانوں اور پولیس اہلکاروں کے ساتھ جھڑپیں کرنے پر ایک ہزار سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے
راہول گاندھی کو بھارتی پارلیمنٹ نے نااہل قرار دے دیا
صدرکے ساتھ کوئی بامعنی مشاورت نہیں کی گئی، صدر کا وزیر اعظم کو خط میں شکوہ
عمران خان کا افغان بچیوں کی تعلیم پر پابندی بارے طالبان کی مذمت کرنے سے انکار
قومی اسمبلی؛ قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی نے ایل سیز کھولنے کی سفارش کر دی -

سوشل میڈیا کے زریعے آپریٹ ہونے والا ون ویلر گینگ گرفتار
لٹن روڑ پولیس کی کاروائی ، سوشل میڈیا کے زریعے آپریٹ ہونے والا ون ویلر گینگ گرفتار کر لیا گیا
ملزمان نے خطرناک ناموں سے سوشل میڈیا گروپ بنا رکھے تھے سوشل میڈیا کے زریعے رات کو قرطبہ چوک اکٹھے ہوتے تھے مین فیروزپور روڑ پر ون ویلنگ کیا کرتے تھے گزشتہ شب و۔ن ویلنگ کے دوران قرطبہ چوک سے گرفتار ہوئے مقدمہ درج کیا گیا ،ملزمان کی خطرناک ویلنگ اور ویڈیو سے علاقہ میں خوف و ہراس پھیل گیا ،گرفتارملزمان میں بابر علی،حسنین، شازم،مصطفی، محسن،مبین، محمد عابد،اقبال، محمد شان، فہد رشید، احتشام اور مومن شامل ہیں،ایس پی سول لائنز نے بروقت کاروائی پر ایس ایچ او لٹن روڑ اور ٹیم کو شاباش دی اور کہا کہ ون ویلنگ کرنے والوں کو فوری گرفتار کیا جا رہا ہے
دوسری جانب نشتر کالونی انویسٹی گیشن پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان آشیانہ روڈ پر فائرنگ کا تبادلہ ہوا، زیر حراست ملزم حماد عرف شمشاد کے 5 ساتھیوں نے پولیس پر فائرنگ کی، قتل کے مقدمہ میں زیر حراست ملزم کو دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کیلئے لے جایا جارہا تھا،ملزمان کی فائرنگ سے کانسٹیبل معظم کو چھاتی پر فائر لگا جو بلٹ پروف جیکٹ کی وجہ سے محفوظ رہا،اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے زیر حراست ملزم حماد عرف شمشاد ہلاک ہو گیا،ہلاک ہونے والا ملزم قتل و ڈکیتی کے متعدد مقدمات میں ریکارڈ یافتہ تھا،ملزم کے فرار ساتھیوں کی تلاش کے لیے پولیس کی ناکہ بندی،ایس ایس پی انویسٹی گیشن کا کہنا ہے کہ فرار ساتھی جلد پولیس کی گرفت میں ہونگے،ایس ایس پی انویسٹی گیشن ڈاکٹر انوش مسعود نے ملزم کے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کا ٹاسک دیا تھا،
تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال
عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان
عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں
پاکستانیوں کے پاس اندھا پیسہ، پرتگال میں مبشر لقمان نے کیا دیکھا؟
انڈین کرکٹ ٹیم پاکستان کیوں نہیں آرہی ؟ بھارتی ہائی کمشنر نے مبشر لقمان کو کیا بتایا۔
-

مردان فائرنگ،2 افراد جاں بحق
مردان کاٹلنگ جمال گڑھی میں فائرنگ کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق جبکہ ایک شخص شدید زخمی ہو گیا،ریسکیو 1122 کے مطابق اطلاع موصول ہوتے ہی ریسکیو1122 ایمبولینس اور میڈیکل ٹیم موقع پر پہنچ گئی۔ ریسکیو1122 میڈیکل ٹیم نے 2 افراد کو ہسپتال منتقل کر دیا جبکہ زخمی کو فوری طورپر لوکل ٹرانسپورٹ کے ذریعے منتقل کیا گیا ،جانبحق افراد میں اشتیاق ولد روشن ملک عمر 40 سال اور زوار ولد سردار علی عمر 30 سال ہے دونوں افراد جمال گڑھی کے رہنے والے ہے،۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق مقتولین گھر کے باہر دکان پہ بیٹھے تھے کہ اچانک موٹر سائیکل سواروں نے اندھا دھند فائرنگ کر کے 2 افراد کو جاں بحق اور ایک کو زخمی کر کے فرار ہو گئے،تاحال فائرنگ کی وجہ معلوم نہ ہو سکی،
-

نمازِ عید کے دوران سنگین مقدمات میں مطلوب درجن سے زائد قیدی فرار
پاک افغان سرحدی علاقے چمن میں موجود سب جیل سے نمازِ عید کے دوران سنگین مقدمات میں مطلوب 15 قیدی فرار ہوگئے۔
سب جیل چمن میں قیدی نماز عید کیلئے نکالنے کے دوران فرار ہوئے۔ بیرک نمبر 4 سے نکالے جانے والے قیدیوں نے پولیس اہلکار سے اسلحہ چھین لیا۔ فرار ہونے کے دوران ملزمان نے پولیس پر فائرنگ کی جس سے ڈپٹی جیلر سمیت 2 اہلکار زخمی ہوگئے۔
جیل ذرائع کے مطابق حملے کے بعد مجموعی طور پر تقریباً 15 قیدی فرار ہوئے۔ پولیس حکام نے بتایا کہ پولیس کی جوابی فائرنگ سے فرار ہونے والا ایک قیدی مارا گیا،پولیس کا کہنا ہے کہ فرار ہونے والے قیدی سنگین مقدمات میں گرفتار کیے گئے تھے۔ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر ملزمان کی تلاش شروع کردی ہے۔
پولیس حکام نے یہ بھی بتایا ہے کہ افغان سرحد سے صرف تقریباً تین کلومیٹر دور چمن کے مصروف علاقے تاج روڈ پر یہ سب جیل واقع ہے۔ یہاں عدالتوں میں پیش کیے جانے والے انڈر ٹرائل قیدیوں کو عارضی طور پر رکھا جاتا ہے۔