Baaghi TV

Tag: پولیس

  • شکار پور:کچے کے علاقے میں کامیاب آپریشن، لاہور اور پشاور سے اغوا کی گئی لڑکیاں بازیاب،2 ڈاکو ہلاک

    شکار پور:کچے کے علاقے میں کامیاب آپریشن، لاہور اور پشاور سے اغوا کی گئی لڑکیاں بازیاب،2 ڈاکو ہلاک

    شکار پور پولیس نے کچے کے علاقے میں کامیاب آپریشن کر کےلاہور پشاور سے اغوا کی گئی2 لڑکیوں کو بحفاظت بازیاب کرالیا-

    ترجمان سندھ پولیس کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق مغویہ 11 سالہ حورم سعید پٹھان کو پولیس نے بحفاظت بازیاب کرالیا ہے اورآپریشن کے دوران مرکزی ڈاکو عبدالوحید عرف ملا سمیت 2 ڈاکو ہلاک ہوگئے ہیں، آئی جی سندھ نے پشاور سے تعلق رکھنے والی 11 سالہ بچی حورم سعید پٹھان کے اغوا سے متعلق سوشل میڈیا پر چلنے والی خبروں کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی شکارپور کو بچی کی باحفاظت بازیابی کی ہدایت جاری کی تھی جس پر شکار پور میں کچے کے علاقے کوٹ شاہو میں 2 روز قبل آپریشن کا آغاز کیا گیا تھا آپریشن کے نتیجے میں 22 مئی کو لاہور کی رہائشی نوکری کے جھانسے میں اغوا ہونے والی لڑکی جنیفر عامر مسیح جبکہ 23 مئی کو پشاور سے تعلق رکھنے والی حورم سعید پٹھان کو پولیس نے باحفاظت بازیاب کرالیا اور آپریشن کے دوران دو اغوا کار ڈاکو عبدالوحیدعرف ملا اور یاسین بنگلانی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

    آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کامیاب آپریشن پر ڈی آئی جی لاڑکانہ ناصر آفتاب، ایس ایس پی شکار پور محمد کلیم ملک اور آپریشن میں حصہ لینے والی پوری پولیس ٹیم کو شاباش دیتے ہوئے افسران اور جوانوں کے لیے نقد انعامات اور تعریفی اسناد کا اعلا ن کیا ہے،انہوں نے کہا کہ سندھ پولیس کے افسران اور جوانو ں نے بہادری، پیشہ ورانہ مہارت، جرأت اور جوانمردی کامظاہرہ کرتے ہوئے مغوی بچیوں کو بحفاظت بازیاب کرایاجو قابل تحسین اقدام ہے شکارپور پولیس اور آپریشن میں شریک افسران اور جوانوں نے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر معصوم بچیوں کو بازیاب کیا، جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سندھ پولیس کے آپر یشنز پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گے اور عوام کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

  • برطانیہ میں بچوں کے جنسی استحصال کااسکینڈل، 7 افغان باشندے گرفتار

    برطانیہ میں بچوں کے جنسی استحصال کااسکینڈل، 7 افغان باشندے گرفتار

    برطانیہ کی نورفولک پولیس نے ایک بڑے آپریشن کے دوران غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہونے والے افغان گروپ کے 7 ارکان کو بچوں کے جنسی استحصال کے سنگین الزامات میں حراست میں لے لیا ہے۔

    برطانوی میڈیا کے مطابق پولیس نے ان ملزمان کو ناروچ اور ڈمبرٹن کے مختلف پتوں پر چھاپے مار کر گرفتار کیا ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ پولیس کی اس کارروائی کا تعلق 2 لڑکیوں سے ہے جو ان جرائم کے وقت نابالغ تھیںان مظلوم لڑکیوں کے ساتھ اگست 2023 اور مئی 2025 کے دوران ناروچ کے علاقوں میں یہ گھناؤنے واقعات پیش آئے تھےملزمان کو عدالت میں جج کے روبرو پیش کیا گیا، جہاں پولیس نے ان کے غیر قانونی طور پر برطانیہ میں داخل ہونے کے طریقوں سے پردہ اٹھایا۔

    ہونے والے ملزمان 5 چھوٹی کشتیوں کے ذریعے، ایک لاری میں چھپ کر اور ایک بندرگاہ کے راستے غیر قانونی طور پر برطانوی حدود میں داخل ہوئے تھے پولیس نے یہ بھی واضح کیا کہ ان ملزمان میں سے کوئی بھی نورفولک میں قائم پناہ گزینوں کی سرکاری رہائش گاہوں میں مقیم نہیں رہا ہے۔

    خواتین کے تحفظ کی برطانوی وزیر نٹالی فلیٹ نے ان واقعات کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انہیں انتہائی گھناؤنا قرار دیا اور متاثرہ لڑکیوں اور ان کے اہلخانہ کے ساتھ گہری ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ ان ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں سخت ترین سزا کا سامنا کرنا پڑے گا، کیونکہ غیر ملکی مجرموں کے لیے برطانیہ میں کوئی جگہ نہیں ہے۔

  • لاہور: بچوں کو بھکاری مافیا کو فروخت کرنے والا گروہ گرفتار

    لاہور: بچوں کو بھکاری مافیا کو فروخت کرنے والا گروہ گرفتار

    لاہور پولیس نے معصوم بچے کو بھکاری مافیا کے ہاتھوں فروخت کرنے والے گروہ کو گرفتار کرلیا۔

    پولیس کے مطابق 15 کال پر فوری ایکشن کرتے ہوئے ریس کورس پولیس نے ایک نومولود کو چند گھنٹوں میں جوڑے پل نارتھ کینٹ چنگڑ محلہ سے بازیاب کروایا،ملزمان دانش، شہزاد اور دانش مسیح نہر کنارے پنکچر لگانے کا کام کرتے تھے اور نومولود بچہ اغوا کر کے پیسوں کے عوض فروخت کرنے کے لیے لے جا رہے تھے۔

    ایس پی سول لائنز چوہدری اثر علی نے کہا کہ گداگری کے لیے بچہ خریدنے والے ملزمان بھی گرفتار ہوئے ہیں، ملزمان کو بھیک مانگنے کے لیے نومولود بچہ درکار تھا نومولود خریدنے والے ملزمان میں مریم اور شہزاد شامل ہیں مقدمہ درج مزید تفتیش جاری ہے، نومولود کو چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے حوالے کیا اور وار ثان کی تلاش جاری ہے،ایس پی سول لائنز نے ایس ایچ او ہاشم رضا اور ٹیم کو شاباش دی اور کہا کہ معصوم کی خرید و فروخت میں ملوث گروہ کے خلاف کارر وائیاں جاری ہیں۔

  • شوبزاور سیاسی شخصیات انمول پنکی کی کسٹمرز نکلیں

    شوبزاور سیاسی شخصیات انمول پنکی کی کسٹمرز نکلیں

    منشیات فروش انمول عرف پنکی کے کیس میں تحقیقاتی ٹیم نے مجموعی طور پر 16 مختلف اکاؤنٹس کا سراغ لگا لیا،کیس کی انتہائی حساس اور اہم دستاویزات سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ میں پیش کر دی گئیں۔

    دستاویزات کے مطابق انمول پنکی کے اکاؤنٹس میں کروڑوں روپے منتقل کرنے والوں میں حکمران اتحاد کے ایم این اے صادق افتخار، ان کی اہلیہ اور پاکستان شوبز انڈسٹری کے نامور اداکار منیب بٹ، اداکارہ میرا اور ماڈل سارہ کے نام سامنے آ گئے ہیں، گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران 6 مختلف اکاؤنٹس کا استعما ل کرتے ہوئے تقریباً 3 کروڑ روپے کا لین دین کیا گیا جب کہ تحقیقاتی ٹیم نے مجموعی طور پر 16 مختلف اکاؤنٹس کا سراغ لگا لیا۔

    سینیٹ قائمہ کمیٹی داخلہ میں پیش کی گئی دستاویزات کے مطابق گزشتہ 18 مہینوں کے دوران 6 مختلف بینک اکاؤنٹس میں مجموعی طور پر 2 کروڑ 94 لاکھ 67 ہزار روپے منتقل کیے گئے، اس رقم کی منتقلی میں 21 خواتین اور 117 مرد شامل ہیں، جن میں ایم این اے صادق افتخار، ان کی اہلیہ سمیت اداکار منیب بٹ، اداکارہ میرا اور ماڈل سارہ کے ناموں نے سب کو حیران کر دیا ہے۔

    ملک کے مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش اور ژالہ باری کی پیشگوئی

    بیسل امیکا نامی خاتون کے ایک اکاؤنٹ میں 85 لاکھ 62 ہزار روپے منتقل ہوئے، صداقت اللہ نامی شخص کے اکاؤنٹ میں 16 لاکھ 50 ہزار روپے ڈالے گئے، ہانی فرقان کے اکاؤنٹ میں 77 لاکھ 50 ہزار اور محمد سمیر کے اکاؤنٹ میں 63 لاکھ 75 ہزار روپے منتقل کیے گئے اسی طرح ظفرعلی کے اکاؤنٹ میں 27 لاکھ 80 ہزار منتقل ہوئے، اسکائے اوورسیز نامی اکاؤنٹ میں 10 لاکھ روپے منتقل ہوئےرقم منتقلی ذیشان اور سہیل نامی افراد کے ذریعے کی جاتی تھی۔

    پنجابی گلوکارہ شادی سے انکار پر قتل ، لاش نہر سے برآمد

    کراچی پولیس چیف آزاد خان نے سینیٹ کمیٹی کو کیس پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پنکی کیس میں لا انفورسمنٹ والوں کے نام بھی سامنے آئے ہیں، پنجاب میں 2018 سے 2024 تک 5 کیسز بنائے گئے، سندھ پولیس نے اب تک 4 کیسسز بنائے ہیں، پنکی کے پرانے گھر سے بھی کوکین برآمد ہو ئی ، ملزمہ کے فون کا بھی فرانزک کرایا گیا ہے، نادرا اورایف آئی اے کو بھی خطوط لکھے گئے ہیں۔

  • خاتون کا آشناکے ملکر شوہر کا قتل، لاش نہر میں پھینک دی

    خاتون کا آشناکے ملکر شوہر کا قتل، لاش نہر میں پھینک دی

    بھارت:ایک خاتون نے اپنے عاشق کے ساتھ مل کر شوہر کو قتل کر دیا۔

    یہ سنسنی خیز واقعہ بھارتی ریاست گجرات میں پیش آیا،بھارتی میڈیا کے مطابق احمد آباد کرائم برانچ نے کئی ماہ کی تفتیش کے بعد قتل کی سازش کو بے نقاب کرتے ہوئے مرکزی ملزمان کو گرفتار کر لیا،مقتول شانتی گیری گوسوامی کی لاش نہر سے ملی تھی جسے ابتداء میں حادثاتی موت قرار دیا گیا تاہم بعد میں تحقیقات سے معلوم ہوا کہ اسے ایک باقاعدہ منصوبے کے تحت قتل کیا گیا تھا۔

    تحقیقات میں سامنے آیا کہ مقتول کی بیوی جاگرتی گوسوامی پہلے اپنے شوہر سکھ دیو گیری گوسوامی کے ساتھ رہتی تھی اور ان کے 2 بچے بھی تھے، لیکن بعد میں وہ اپنے دیور شانتی گیری کے ساتھ فرار ہو کر اس سے شادی کر کے الگ رہنے لگی۔

    شانتی گیری ٹرک ڈرائیور تھا اور اکثر کئی دن گھر سے باہر رہتا تھا، اسی دوران جاگرتی کے کانتی لال عرف بھارت بھائی سباریا نامی شخص کے ساتھ تعلقات قائم ہو گئے دونوں نے پہلے 25000 روپے دے کر ایک شخص کو قتل کی ذمے داری سونپی مگر وہ خوفزدہ ہو کر قتل کیے بغیر ہی شانتی گیری کی تصویر بھیج کر رقم وصول کر کے فرار ہو گیا۔

    پولیس کے مطابق منصوبہ ناکام ہونے کے بعد جاگرتی اور کانتی لال نے مل کر شانتی گیری کو گھر میں گلا دبا کر قتل کر دیا،بعد ازاں لاش کو چھپانے کے لیے دیپک عرف منّا نامی ایک اور شخص کی مدد لی گئی جو مبینہ طور پر جاگرتی کیساتھ تعلق میں تھا، تینوں ملزمان لاش کو گاڑی میں ڈال کر نہر میں پھینک آئے تا کہ واقعہ حادثہ معلوم ہو۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق تحقیقات کے دوران سچ سامنے آنے پر کرائم برانچ نے 18 مئی کو جاگرتی گوسوامی اور کانتی لال سباریا کو قتل، سازش اور شواہد مٹا نے کے الزام میں گرفتار کر لیا جبکہ دیگر ملزمان سے بھی پوچھ گچھ جاری ہے۔

  • انمول عرف پنکی 3 روز ہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

    انمول عرف پنکی 3 روز ہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

    منشیات کے جرم میں گرفتار انمول عرف پنکی کو مختلف مقدمات میں عدالت نے 3 روز کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔

    پولیس حکام کے مطابق ملزمہ کو سخت سیکیورٹی حصار میں سماعت کے لیے سینٹرل جیل کے جوڈیشل کمپلیکس پہنچایا گیا، جہاں اسے درخشاں اور گزری تھانوں میں درج 8 مقدمات کے سلسلے میں جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو پیش کیا گیا، پولیس نے عدالت سے انمول عرف پنکی کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی تاکہ مقدمات سے متعلق مزید تفتیش اور شواہد اکٹھے کیے جا سکیں۔

    واضح رہے کہ ملزمہ کے خلاف کراچی کے مختلف تھانوں میں منشیات فروشی کے متعدد مقدمات درج ہیں، پنکی شہر کے پوش علاقوں میں بھی آن لائن منشیات فروخت کرتی تھی، منشیات کا نیٹ ورک غیر قانونی طور پر معروف آن لائن شاپنگ برانڈ کا نام بھی منشیات کی ترسیل میں استعمال کرتھا جس جس کی ویڈیو سامنے آگئی۔

    منشیات کا نیٹ ورک غیر قانونی طور پر معروف آن لائن شاپنگ برانڈ کا نام بھی منشیات کی ترسیل میں استعمال کرتا رہا،منشیات منگوانے والے ایک کسٹمر نے کچھ ماہ قبل ایک خفیہ ویڈیو بھی بنالی تھی رائیڈرز اس بات سے لاعلم ہوتے تھے کہ پارسل میں منشیات موجود ہے،ویڈیو میں رائیڈر سے کسٹمر کو پارسل وصول کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

    رائیڈر نے پارسل دینے کے بعد صرف ڈلیوری چارجز وصول کیے پارسل کے اندر ایک پیکٹ سے آئس برآمد ہوتے ہوئے بھی دیکھی جا سکتی ہے۔

  • صحافیوں کا روپ دھار کر حساس معلومات اکٹھی کرنے والے دو مبینہ جاسوس گرفتار

    صحافیوں کا روپ دھار کر حساس معلومات اکٹھی کرنے والے دو مبینہ جاسوس گرفتار

    تہران پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ صحافیوں کا روپ دھار کر حساس معلومات اکٹھی کرنے والے دو مبینہ جاسوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے-

    ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نے کہا ہے کہ تہران پولیس نے دارالحکومت کے مغربی اور شمالی علاقوں میں کارروائی کرتے ہوئے دو ایسے افراد کو گرفتار کیا ہے جو مبینہ طور پر صحافیوں کے بھیس میں جاسوسی کر رہے تھے ان افراد پر الزام ہے کہ وہ حساس فوجی اور انٹیلی جنس مراکز سے متعلق خفیہ معلومات اکٹھی کر کے ایران مخالف نیٹ ورکس کو منتقل کر رہے تھے۔

    تسنیم کے مطابق تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ گرفتار افراد نے بیرونِ ملک رابطے کے لیے سیٹلائٹ انٹرنیٹ کے ذریعے روابط قائم کیے تھے، کاررو ا ئی کے دوران اسٹارلنک کا ایک ریسیور بھی برآمد کر کے قبضے میں لے لیا گیا ان افراد کے دیگر ساتھیوں اور ممکنہ معاون نیٹ ورکس کی شناخت کے لیے تکنیکی اور انٹیلی جنس بنیادوں پر تحقیقات جاری ہیں جبکہ معاملے کی مزید تفتیش بھی کی جا رہی ہے۔

    تسنیم کی ایک اور رپورٹ کے مطابق ایرانی پولیس نے 13 ہزار ڈالر کی رشوت مسترد کرتے ہوئے دماوند میں 3 سٹار لنک ڈیوائسز ضبط کر لیں یہ علاقہ ایران کے دارالحکومت تہران سے تقریباً 66 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے دماوند میں پولیس نے انٹیلی جینس معلومات پر ایک رہائشی عمارت پر چھاپہ مارا اور تین غیر قانونی اسٹار لنک سیٹلائٹ انٹرنیٹ ڈیوائسز برآمد کرلیں اس موقع پر افسران کو 13 ہزار ڈالرز کی رشوت کی پیشکش بھی گئی تاہم افسران نے اسے مسترد کردیا۔

  • کم کارڈیشین کے برانڈ  کے  ملبوسات کی کھیپ میں 84 لاکھ ڈالر کی کوکین اسمگل کرنے والا ڈرائیور گرفتار

    کم کارڈیشین کے برانڈ کے ملبوسات کی کھیپ میں 84 لاکھ ڈالر کی کوکین اسمگل کرنے والا ڈرائیور گرفتار

    برطانیہ میں ایک پولش ٹرک ڈرائیور کو کم کارڈیشین کے معروف ملبوساتی برانڈ ’اسکِمز‘ کی کپڑوں کی کھیپ میں لاکھوں ڈالر مالیت کی کوکین اسمگل کرنے کے جرم میں 13 سال 6 ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

    برطانیہ کی ایک عدالت نے پولینڈ سے تعلق رکھنے والے 40 سالہ ٹرک ڈرائیور جیکب یان کونکل کو 84 لاکھ ڈالر سے زائد مالیت کی کوکین اسمگل کرنے کے جرم میں 13 سال 6 ماہ قید کی سزا سنا دی،منشیات کو ٹرک کے خفیہ خانوں میں چھپایا گیا تھا جبکہ اصل تجارتی سامان قانونی تھا-

    چیلمزفورڈ کراؤن کورٹ میں مقدمے کی سماعت کے دوران بتایا گیا کہ ملزم نے کم کارڈیشین کے معروف برانڈ ’اسکِمز‘ کے زیرِ جامہ اور ملبوسات پر مشتمل کھیپ میں منشیات چھپا رکھی تھیں یہ سامان نیدرلینڈز سے برطانیہ منتقل کیا جا رہا تھا۔

    برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی (NCA) کے مطابق کونکل گزشتہ سال ستمبر میں ایسیکس کے علاقے ہاروچ پورٹ پر اس وقت گرفتار ہوا جب وہ ’ہُک آف ہالینڈ‘ سے فیری کے ذریعے برطانیہ پہنچا بارڈر فورس حکام نے اس کے بھاری مال بردار ٹرک کو ایکس رے مشین سے اسکین کیا، جس کے دوران خفیہ طور پر چھپائی گئی منشیات کا پتا چلا۔

    تحقیقات میں معلوم ہوا کہ ٹرک میں موجود 28 پیلیٹس پر مشتمل ’اسکِمز‘ برانڈ کی کھیپ مکمل طور پر قانونی تھی اور نہ ہی برآمد کنندہ یا درآمد کنندہ کا اسمگلنگ سے کوئی تعلق تھا۔ تاہم ٹرک کو خصوصی طور پر تبدیل کیا گیا تھا اور پچھلے ٹریلر کے دروازوں میں خفیہ خانے بنائے گئے تھے دورانِ سفر کونکل نے ایک مقام پر رک کر تقریباً 90 پیکٹوں پر مشتمل 198 پاؤنڈ کوکین حاصل کی اور انہیں خفیہ خانوں میں چھپا دیا۔

    ابتدائی طور پر ملزم نے منشیات سے لاعلمی ظاہر کی، تاہم بعد میں اس نے جرم قبول کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ اسے اسمگلنگ کے عوض 4 ہزار 500 یورو ادا کیے جانے تھےنیشنل کرائم ایجنسی کے آپریشنز مینیجر پال آرچرڈ نے کہا کہ منظم جرائم پیشہ گروہ اکثر قانونی تجارتی سامان کی آڑ میں منشیات منتقل کرنے کے لیے بدعنوان ڈرائیوروں کا استعمال کرتے ہیں، کونکل جیسے ڈرائیور کلاس اے منشیات کو مکمل طور پر قانونی کھیپ میں چھپا کر سرحد پار منتقل کرتے ہیں اس کارروائی کے ذریعے بڑی مقدار میں کوکین قبضے میں لے لی گئی، جس سے اسمگلنگ نیٹ ورک کو بھاری مالی نقصان پہنچا ہے۔‘

  • سان ڈیاگو میں واقع اسلامی مرکز پر فائرنگ، مشتبہ حملہ آوروں سمیت 5 افراد ہلاک

    سان ڈیاگو میں واقع اسلامی مرکز پر فائرنگ، مشتبہ حملہ آوروں سمیت 5 افراد ہلاک

    امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان ڈیاگو میں واقع اسلامک سینٹر میں پیر کے روز ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم 3 افراد ہلاک جبکہ 2 مشتبہ حملہ آور بھی مارے گئے۔

    امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق دو مسلح حملہ آوروں نے اسلامک سینٹر میں داخل ہوکر اندھا دھند فائرنگ کی، مسجد کی حفاظت پر مامور گارڈ نے نمازیوں اور بچوں کو بچانے کی کوشش کی تاہم وہ بھی فائرنگ کی زد میں آ کر جان کی بازی ہارگیا واقعے میں مجموعی طور پر پانچ افراد ہلاک ہوئے جن میں دو مشتبہ حملہ آور بھی شامل ہیں، جب کہ کئی افراد زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیے گئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر قابو پا کرعلاقے کو محفوظ قرار دے دیا ہے۔

    حکام اس واقعے کو ابتدائی طور پر نفرت انگیز جرم قرار دے کر تحقیقات کر رہے ہیں سان ڈیاگو پولیس چیف اسکاٹ واہل نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ کلیئرمونٹ کے علاقے میں واقع اسلامک سینٹر سے فائرنگ کی اطلاع موصول ہونے پر پولیس نے کارروائی کی، جہاں مرکز کے باہر 3 افراد کی لاشیں ملیں، مسجد کے ڈائریکٹر امام طحہٰ حسن کے مطابق جاں بحق افراد میں ایک سیکیورٹی گارڈ اور اسلامی اسکول کے 2 عملے کے ارکان شامل ہیں، پولیس نے تاحال مقتولین کی شناخت ظاہر نہیں کی۔

    پولیس چیف کے مطابق 2 مشتبہ حملہ آور، جن کی عمریں 17 اور 19 برس بتائی گئی ہیں، قریب ہی کھڑی ایک گاڑی کے اندر مردہ پائے گئے ابتدائی تحقیقا ت کے مطابق دونوں نے خود کو گولیاں مار کر زندگی کا خاتمہ کیا،یک مشتبہ شخص نے ایک مالی پر بھی فائرنگ کی، تاہم وہ محفوظ رہا اسلامک سینٹر کو نشانہ بنائے جانے کے باعث ہم اس واقعے کو اس وقت تک ہیٹ کرائم تصور کر رہے ہیں جب تک اس کے برعکس شواہد سامنے نہ آئیں۔

    پولیس کے مطابق ابتدائی طور پر ایک خاتون نے اپنے کم عمر بیٹے کے گھر سے فرار ہونے کی اطلاع دی تھی،اس کا بیٹا ذہنی دباؤ کا شکار اور خودکشی کے رجحانات رکھتا تھا جبکہ گھر سے متعدد آتشیں اسلحہ بھی غائب تھا نوجوان کے ساتھ ایک اور شخص موجود تھا جو فوجی طرز کے لباس میں ملبوس تھا۔

    تحقیقات کے دوران پولیس کو ایک نوٹ بھی ملا جو مبینہ طور پر نوجوان نے چھوڑا تھا، تاہم حکام نے اس کے مندرجات ظاہر کرنے سے انکار کیا ہے مشتبہ افراد کی گاڑی سے اسلام مخالف تحریریں بھی برآمد ہوئی ہیں جبکہ ایک ہتھیار پر ‘ہیٹ اسپیچ’ کے الفاظ درج تھے۔

    واقعے کے بعد قریبی اسپتال شارپ میموریل ہاسپٹل نے ایمرجنسی اقدامات نافذ کرتے ہوئے زخمیوں کے علاج کی تصدیق کی۔

    واقعے کی تحقیقات میں فیڈرل بیورو آف انویسٹیگیشن بھی مقامی پولیس کی معاونت کر رہی ہےوائٹ ہاؤس حکام کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو واقعے پر بریفنگ دی گئی ہے، انہوں نے اس حملے کو انتہائی افسوسناک صورتحال قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اس معاملے کا سنجیدگی سے جائزہ لے رہی ہے۔

  • کوٹ لکھپت:پولیس اہلکار  ہنی ٹریپ میں پولیس ملوث نکلا

    کوٹ لکھپت:پولیس اہلکار ہنی ٹریپ میں پولیس ملوث نکلا

    لاہور کے علاقے کوٹ لکھپت میں پولیس اہلکار ہنی ٹریپ میں پولیس ملوث نکلا خواجہ سراؤں کے ساتھ مل کر شہری کو تشدد کا نشانہ بنایا اور نقدی چھین لی-

    پولیس اہلکار دو خواجہ سراؤں نے قصور کے شہری کو ٹریپ کر کے اپنے فلیٹ پر بلایا، جہاں انہوں نے ساتھی خواجہ سراؤں کے ساتھ مل کر شہری پر تشدد کیا اور چالیس ہزار نقدی چھین لی بعد ازاں شہری کو واش روم میں بند کر دیا گیا کچھ دیر بعد فلیٹ پر چار پولیس اہلکار آئے اور خواجہ سراؤں نے شہری کو ان کے حوا لے کیا پولیس اہلکاروں نے شہری کو دھمکیاں دے کر شناختی کارڈ کی کاپی اور 11 ہزار نقدی چھین لی۔ ڈی آئی جی آپریشنز لاہور نے واقعہ پر فوری نوٹس لیتے ہوئے ایس پی ماڈل ٹاؤن کو معاملے کی جانچ کا حکم دیا۔

    خفیہ تحقیقات اور شواہد کی بنیاد پر پولیس نے خواجہ سراؤں سمیت چار کانسٹیبلز کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گرفتار اہلکاروں میں وقاص، سلیمان، عمیر اور عرفان شامل ہیں، جبکہ خواجہ سراؤں میں ماہی، خوشی اور کشمالہ کو بھی گرفتار کیا گیا ڈی آئی جی آپریشنز کے ترجمان کے مطابق ملزمان شہری کو ہراساں کر کے رقم اور قیمتی اشیاء چھیننے میں ملوث تھے واقعہ کا مقدمہ نمبر 2462/26 شہری بلال احمد کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔

    ڈی آئی جی آپریشنز نے ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت محکمانہ اور قانونی کارروائی کا حکم دے دیا ہے، جبکہ واقعہ میں ملوث دیگر افراد کے کردار کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔