Baaghi TV

افریقی ملک میں ہم جنس پرستی پر درجن سے زائد حکومتی عہدیددار گرفتار

مغربی افریقہ کے ملک نائجر میں ہم جنس پرستی کے خلاف ایک نیا اور سخت قانون نافذ کیے جانے کے بعد کم از کم 16 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

’رائٹرز‘ کے مطابق، ایک عدالتی عہدیدار نے بتایا کہ گرفتار ہونے والوں میں کسٹمز اور پولیس فورس کے بڑے افسران کے ساتھ ساتھ عام شہری بھی شامل ہیں نائجر میں پہلے ہم جنس شادیوں پر تو پابندی تھی لیکن اس طرح کے تعلقات پر سزائیں مقرر نہیں تھیں، مگر اب نئے قانون کے تحت حکومت نے جیل لمبی قید کی سزائیں اور بھاری جرمانے نافذ کر دیے ہیں ہم جنس پرستوں کے خلاف یہ آپریشن ابھی جاری ہے اور اب ان جگہوں کو نشانہ بنایا جائے گا جہاں ایک ہی جنس کے لوگ ساتھ رہتے ہیں، جیسے کہ فوج کی بیرکس اور کالجوں کے ہاسٹل۔

نئے قانون کے سرکاری دستاویزات کے مطابق اگر کوئی شخص ہم جنس پرستی یا اپنی ہی جنس کے کسی فرد کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کا قصوروار پایا گیا تو اسے 5 سے 10 سال تک جیل کی سزا کاٹنی پڑے گی اور ساتھ ہی 1 کروڑ سے 10کروڑ فرانک یعنی پاکستانی روپے کے حساب سے لاکھوں روپے کا بھاری جرمانہ بھی دینا ہوگا اگر کوئی لوگ آپس میں ہم جنس شادی کرتے ہوئے پکڑے گئے تو ان کو 10 سے 20 سال تک قید کی سخت سزا دی جا سکتی ہے اس کے علاوہ ہم جنس پرستوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں چلانے والوں پر 5کروڑ سے50 کروڑ فرانک تک کا جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

رائٹرز نے اس پورے معاملے پر جب نائجر کی حکومت کے ترجمان سے بات کرنے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا،واضح رہے کہ نائجر سے پہلے اس کے پڑوسی افریقی ممالک سینیگال اور برکینا فاسو بھی پچھلے کچھ مہینوں میں ہم جنس پرستی کے خلاف اسی طرح کے سخت قوانین پاس کر چکے ہیں۔

More posts