Baaghi TV

Tag: پولیس

  • جیکب آباد میں پسند کی شادی کا معاملہ، لڑکی کے والد کا ویڈیو بیان جاری

    جیکب آباد میں پسند کی شادی کا معاملہ، لڑکی کے والد کا ویڈیو بیان جاری

    جیکب آباد میں پسند کی شادی کے بعد لڑکے کا گاؤں کو جلانے کے واقعے پر لڑکی کے والد کا بیان سامنے آگیا۔

    لڑکی کے والد رفیق چنہ کا کہنا ہے کہ میری دو بچیوں کو ملزمان اسلحے کے زور پر رات اغوا کرکے لے گئےتھے، ایک بیٹی کی عمر 14سال اور دوسری کی عمر 4 سال ہے، میں پولیس افسران سے اپیل کرتا ہوں کہ میرے ساتھ انصاف کیا جائے۔

    رفیق چنہ نے کہا کہ بیٹیاں بھی میری گئیں، فائرنگ بھی مجھ پر اور میرے گاؤں پر ہوئی، میری بیٹی کی عمر 14سال ہے تو اس کی شادی کیسے ہو سکتی ہے، ہمیں پتہ ہی نہیں برڑو برادری کے گھروں کو آگ لگی ہے، ہم کیوں ان کے گھروں کو آگ لگائیں گے؟، انہوں نے خود آگ لگائی اور جھوٹی ایف آئی آر ہم پر درج کرائی ہے۔

    واضح رہے کہ برڑو برادری کے گھر جلانے پر چنہ برادری کے 32 ملزمان پر مقدمہ درج کیا گیا ہے اور 5 افراد گرفتار کیے گئے ہیں، جیکب آباد میں پسند کی شادی پر مسلح افراد نے درجنوں گھروں کو آگ لگادی تھی،ایس ایس پی جیکب آباد فیضان علی کے مطابق ابتدائی تفتیش کے مطابق گاؤں صدیق آرائیں اورگاؤں غازی خان چنہ کے جوڑے نے حیدرآباد کی عدالت میں پسند کی شادی کی تھی، پسند کی شادی کرنے پر ملزمان نےگاؤں کو آگ لگائی۔

  • پنکی کو بچانے کیلئے بعض نامعلوم قوتیں متحرک؟ اہم شواہد غائب ہونے کاانکشاف

    پنکی کو بچانے کیلئے بعض نامعلوم قوتیں متحرک؟ اہم شواہد غائب ہونے کاانکشاف

    مبینہ منشیات فروش خاتون پنکی کو بچانے کے لیے بعض نامعلوم قوتوں کے متحرک ہونے کا انکشاف سامنے آگیا-

    تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ گارڈن تھانے میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج دستیاب نہیں، ذرائع کے مطابق ملزمہ کو تھانے کب لایا گیا اور کب وہاں سے روانہ کیا گیا، اس حوالے سے کوئی باقاعدہ ریکارڈ موجود نہیں، جس پر پولیس حکام نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اُس وقت بجلی موجود نہیں تھی، اسی وجہ سے ریکارڈنگ نہیں ہو سکی تاہم ذرائع کے مطابق معاملے نے کئی نئے سوالات کو جنم دے دیا ہے اور شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اہم شواہد غائب کیے گئے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق ملزمہ پنکی کا مبینہ آن لائن کوکین سپلائی نیٹ ورک اب بھی سرگرم ہے، البتہ کارروائیوں کے بعد اس کے کارندوں نے رابطے کے نمبرز تبدیل کر لیے ہیں،مبینہ طور پر منشیات خریدنے والوں کو پیغامات ارسال کیے گئے جن میں کہا گیا کہ میڈم پنکی کا سابقہ نمبر بند ہو چکا ہے اور اب سروس ان کے دوست فراہم کر رہے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق مبینہ پیغامات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کراچی میں 24 گھنٹے اور ہفتے کے ساتوں دن کوکین دستیاب ہے پیغامات میں گولڈن اسٹف 25 ہزار روپے فی گرام جبکہ سلور اسٹف 15 ہزار روپے فی گرام فروخت کیے جانے کا بھی ذکر کیا گیا ہے اس کے علاوہ مبینہ خریداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ رقم اب فیاض کمیونی کیشنز کے اکاؤنٹ میں منتقل نہ کی جائے کیونکہ مذکورہ اکاؤنٹ بلاک ہو چکا ہے، نیٹ ورک نئے مالیاتی ذرائع اور رابطہ نمبرز کے ذر یعے اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    دوسری جانب قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے اس معاملے پر باضابطہ اور تفصیلی مؤقف تاحال سامنے نہیں آیا-

  • منشیات کیس میں گرفتار خاتون نرگس کا شوہر بھی پولیس اہلکار نکلا

    منشیات کیس میں گرفتار خاتون نرگس کا شوہر بھی پولیس اہلکار نکلا

    کراچی کے علاقے قائد آباد سے گرفتار خاتون منشیات سپلائر نرگس کے حوالے سے اہم انکشافات سامنے آگئے ہیں.

    تفتیشی ذرائع کے مطابق ملزمہ اپنے شوہر اور بیٹے کے ساتھ مل کر مبینہ طور پر منشیات کا خاندانی نیٹ ورک چلا رہی تھی گرفتار ملزمہ نرگس کا شوہر وکیل خان ریٹائرڈ پولیس اہلکار ہے، جو ماضی میں بھی منشیات کے مقدمے میں گرفتار ہو چکا ہے، جبکہ ان کا بیٹا طاہر خان بھی اس مبینہ نیٹ ورک میں سرگرم کردار ادا کرتا رہا۔

    ذرائع کے مطابق ماں، باپ اور بیٹے پر مشتمل یہ گروہ کراچی کے مختلف علاقوں میں منشیات سپلائی کرنے میں ملوث تھا، جبکہ پوش علاقوں کے علاوہ جیلوں تک بھی منشیات پہنچانے کا انکشاف ہوا ہے ملزمہ کا بیٹا طاہر خان جیل اہلکاروں سے رابطے میں تھا اور انہی روابط کے ذریعے مبینہ طور پر جیل کے اندر منشیات سپلائی کی جاتی تھی۔

    تفتیشی حکام کے مطابق کوئٹہ سے فضل ولی نامی شخص اس گروہ کو منشیات فراہم کرتا تھا، جسے کراچی لا کر گھر میں چھپایا جاتا اور بعد ازاں مختلف علاقوں میں سپلائی کیا جاتا تھا،ملزمان نے ضلع ملیر میں مبینہ طور پر تین گھر بھی حاصل کر رکھے تھے، جہاں سے نیٹ ورک کی سرگرمیاں چلائی جاتی تھیں قانون نافذ کرنے والے ادارے اس منشیات نیٹ ورک کے مزید کرداروں اور سہولت کاروں کے حوالے سے تحقیقات کر رہے ہیں۔

  • بنوں پولیس کی کارروائیاں، 5 خطرناک دہشتگرد ہلاک

    بنوں پولیس کی کارروائیاں، 5 خطرناک دہشتگرد ہلاک

    بنوں میں فتح خیل پولیس چوکی واقعےکے بعد پولیس کی کارروائیاں جاری ہیں۔

    خیبرپختونخوا پولیس کے مطابق آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید اور ڈی آئی جی بنوں سجاد خان کی خصوصی ہدایات پر چوکی فتح خیل واقعے کے بعد انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز شروع کیے گئےآرپی او کے مطابق پولیس کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران 5 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیاہلاک دہشت گرد سکیورٹی فورسز، سی ٹی ڈی اور شہریوں پر حملوں میں ملوث تھے۔

    کامیاب آپریشن میں چوکی فتح خیل واقعے کے ماسٹر مائنڈ زرولی کا بھتیجا حیات اللہ کو ہلاک کردیا گیا، جو دیسی ساختہ بم بنانے کا ماہر تھا اور چوکی کو تباہ کرنے کے لیے بم رکشے میں نصب کیا تھا ہلاک دہشت گرد کے ٹھکانے سے آئی ای ڈی بنانے والا سامان، بال بیرنگ، پرائما کارڈ اور بارود بھی برآمد ہوا، ہلاک دہشت گرد حیات اللہ بدنام زمانہ ٹارگٹ کلر بھی تھا او متعدد سنگین وارداتوں میں مطلوب اشتہاری تھا۔

    اسی طرح آپریشنز میں چوکی پر حملے میں ملوث خارجی اسد یار اور خارجی نعمت اللہ بھی مارے گئے ہیں اور مؤثر حکمت عملی کے تحت مارے جانے والے دہشت گردوں میں اہم دہشت گرد کمانڈر منصور بھی شامل ہے۔

    مزید بتایا گیا کہ ہلاک دہشت گرد سیکیورٹی فورسز، سی ٹی ڈی اور پولیس اہلکاروں سمیت معصوم شہریوں پر حملوں میں مطلوب تھے۔

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے بنوں میں 5 دہشت گردوں کو جہنم واصل کرنے پر کے پی پولیس کی ستائش کی ہےوزیر داخلہ نے بھارتی اسپانسرڈ دہشت گردوں کے مذموم عزائم ناکام بنانے پر پولیس کو خراج تحسین پیش کیا ہےمحسن نقوی کا کہنا ہےکہ دہشت گردوں کے خلاف خیبرپختونخوا پولیس کی کارروائیاں قابل ستائش ہیں، قوم کو پولیس کے بہادر سپوتوں پر فخر ہے۔

  • انمول عرف پنکی کے انکشافات، ملک بھر میں بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن، 11 افریقی باشندوں سمیت 24 افراد گرفتار

    انمول عرف پنکی کے انکشافات، ملک بھر میں بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن، 11 افریقی باشندوں سمیت 24 افراد گرفتار

    انمول عرف پنکی کے انکشافات کے بعد ملک بھر میں بڑے پیمانے پر قانون نافذ کرنے والے ادارے حرکت میں آگئے ہیں اور 24 افراد کو گرفتار کیا کرلیا گیا ہے۔

    قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ’کوکین کوئین‘ انمول عرف پنکی کے انکشافات کے بعد مختلف شہروں میں کارروائیاں شروع کردی ہیں کراچی، راولپنڈی اور قصور سمیت متعدد علاقوں سے دو درجن سے زائد افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے تحقیقات کے دوران یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ گرفتار کیے گئے افراد میں 11 افریقی باشندے بھی شامل ہیں جو منشیات اسمگل کر کے اسے پاکستان میں انمول عرف پنکی تک پہنچاتے تھے، ان افریقی باشندوں نے پاکستانی خواتین سے شادیاں بھی کر رکھی تھیں۔

    قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس نیٹ ورک سے وابستہ مزید افراد کو بھی جلد گرفتار کیا جاسکتا ہے، جس کے لیے تحقیقات کا دائرہ پھیلایا جا رہا ہے۔

    دوسری جانب کراچی کی سٹی کورٹ نے انمول عرف پنکی کے خلاف درج 12 سے زائد مقدمات میں 22 مئی تک جسمانی ریمانڈ میں پولیس کی تحویل میں دے دیا ہے۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر پیش رفت رپورٹ بھی طلب کر لی ہے۔

  • انمول عرف پنکی کیس: اعلیٰ افسران کی کمیٹی کے اجلاس میں اہم فیصلے

    انمول عرف پنکی کیس: اعلیٰ افسران کی کمیٹی کے اجلاس میں اہم فیصلے

    منشیات کے الزام میں قید خاتون انمول عرف پنکی کے کیس کے حوالے سے اعلیٰ افسران کی کمیٹی کا پہلا اجلاس منعقد ہوا، جس میں کیس سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق اجلاس ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان کی زیر صدارت ہوا جس میں ڈی آئی جیز اسد رضا، اظفر مہیسر، عامر فاروقی، شیراز نذیر اور ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو نے شرکت کی اجلاس میں ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے کیس کی پیشرفت پر تفصیلی بریفنگ دی۔

    کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ ایف آئی اے اور اے این ایف سمیت متعلقہ اداروں کو خطوط ارسال کیے جائیں گے تاکہ تحقیقات میں تعاون حاصل کیا جا سکے،علاوہ ازیں انمول کے مبینہ منشیات نیٹ ورک سے وابستہ افراد اور استعمال کرنے والوں کو مقدمے میں گواہ بنایا جائے گا، جبکہ رضاکارانہ طور پر بیان دینے والے افراد کو بھی بطور گواہ شامل کیا جائے گا جبکہ مبینہ کارٹیل کے بینک اکاؤنٹس کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا، رقوم کی منتقلی اور ڈیلرز نیٹ ورک کی نشاندہی کے لیے ٹیکنیکل وسائل استعمال کیے جائیں گے۔

    کراچی کی سٹی کورٹ نے انمول عرف پنکی کے خلاف درج 12 سے زائد مقدمات میں 22 مئی تک جسمانی ریمانڈ میں پولیس کی تحویل میں دے دیا ہے۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر پیش رفت رپورٹ بھی طلب کر لی ہے۔

    ہفتے کے روز ملزمہ کی عدالت پیشی کے موقع پر ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی اور ملزمہ نے پولیس پر زبردستی بیانات دلوانے اور جھوٹے مقدمات بنانے کے بھی الزامات لگائے۔ جس پر تفتیشی افسر نے ملزمہ کے تمام الزامات کو مسترد کر دیا۔

    گزشتہ روز پریس کانفرنس کے دوران ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے بتایا تھا کہ تفتیش کے دوران پنکی کے موبائل فون سے 869 نمبرز ملے ہیں اور ایک بینک اکاؤنٹ میں تین کروڑ روپے کی ٹرانزیکشنز سامنے آئی ہیں ملزمہ کے نیٹ ورک کا حصہ 9 بائیک رائیڈرز میں سے آٹھ کا تعلق پنجاب سے ہے، اور پولیس نے نیٹ ورک سے جڑے چار اہم ناموں کو ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل کرنے کی درخواست کر دی ہے۔

    پولیس کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق انمول عرف پنکی مختلف تھانوں میں درج متعدد مقدمات میں نامزد اور مفرور قرار دی جا چکی ہے۔ ریکارڈ کے مطابق اسے پہلی مرتبہ 2018 میں کراچی میں اور 2024 میں لاہور میں گرفتار کیا گیا تھا، تاہم اثر و رسوخ اور مالی معاملات کے باعث اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوسکی تھی۔

    تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ملزمہ کراچی سے لاہور تک پھیلے اربوں روپے مالیت کے منشیات نیٹ ورک کی مرکزی کردار ہے تفتیشی حکام کے مطابق اس نیٹ ورک میں اس کے قریبی رشتہ دار، خصوصاً اس کے بھائی بھی شامل ہیں، جبکہ منشیات کی ترسیل کے لیے خواتین بائیک رائیڈر ز کا استعمال کیا جاتا تھا۔

    ذرائع کے مطابق تفتیشی رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملزمہ نہ صرف منشیات کی سپلائی بلکہ کوکین کی تیاری میں بھی مہارت رکھتی تھی اور اس نے مبینہ طور پر منشیات کا اپنا الگ “برانڈ” متعارف کرا رکھا تھا۔

  • متعدد تھانوں کی پولیس کو لاکھوں روپے ماہانہ ادا کرتی تھی،منشیات فروش پنکی کا انکشاف

    متعدد تھانوں کی پولیس کو لاکھوں روپے ماہانہ ادا کرتی تھی،منشیات فروش پنکی کا انکشاف

    منشیات فروشی کے الزام میں گرفتار انمول عرف پنکی نے تفتیش کے دوران بتایا ہے کہ ایک افسر نے میرے بھائی کو متعدد بار پکڑا اور رشوت لے کر چھوڑ دیا۔

    ابتدائی تفتیش کے مطابق پنکی نے کراچی میں ماہانہ 2 کروڑ روپے سے زائد کی منشیات فروخت کرنے کا انکشاف کیا ہےتفتیش میں پنکی کے زیرِ استعمال 2 موبائل سمز افضل اور صابرہ بی بی کے ناموں پر رجسٹرڈ نکلیں، متعدد تھانوں کی پولیس کو لاکھوں روپے ماہانہ ادا کرتی تھی، پولیس اہلکار نے میرے رائیڈرز کو حرا ست میں لے کر 1 کروڑ کی مجموعی رشوت لی۔

    ملزمہ انمول عرف پنکی کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکار نے اتنا تنگ کیا کہ اسے قتل کروانے کی منصوبہ بندی بھی کی، پولیس اہلکار کے قتل کے لیے کرائے کے قاتلوں کی مدد لینے کا بھی سوچا لاہور سے منشیات بھیجنے کے لیے انٹر سٹی بسوں کا استعمال کیا جاتا ہے، میرا شناختی کارڈ بلاک ہوا تو سمیر کے نام پر بینک اکاؤنٹ کھلوایا۔

    ابتدائی تفتیش کے مطابق پنکی نے بتایا کہ منشیات کی رقم موبائل ایپ سے بھیجی اور وصول کی جاتی ہے، رقم کی منتقلی کے لیے بینک اکاؤنٹ ذیشان کے نام سے بھی کھلوایا گیا، سابق شوہر کے 2 بھائی بطور ایڈووکیٹ کام کرتے ہیں، پولیس سے بچنے کے لیے سابق شوہر منشیات وکلا بھائیوں کے چیمبرز میں رکھتا ہے۔

  • انمول عرف پنکی گینگ کا مرکزی ممبر گرفتار

    انمول عرف پنکی گینگ کا مرکزی ممبر گرفتار

    کراچی :پولیس نے گلستان جوہر میں کارروائی کے دوران انمول عرف پنکی گینگ کے ایک مرکزی کارندے ذیشان کو گرفتار کر لیا ہے۔

    تفتیشی حکام کے مطابق گرفتار ملزم ذیشان اس پورے نیٹ ورک کے اکاؤنٹس اور مالی معاملات سنبھالنے کا ذمہ دار تھا اور اس سے ہونے والی ابتدائی تحقیقات میں کئی چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں منشیات کی خرید و فروخت کے لیے ادائیگیوں کا ایک پیچیدہ نظام بنایا گیا تھا جس میں آن لائن ایپس اور موبائل بیلنس کی آڑ میں رقم منتقل کی جاتی تھی جبکہ ایک نجی کمیونیکیشن فرنچائز کو بھی لین دین کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔

    پنکی کے خلاف تحقیقات کا دائرہ اب لاہور تک پھیل چکا ہے جہاں وزیر اعلیٰ پنجاب نے اس نیٹ ورک کے حوالے سے خفیہ اداروں سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہےسی سی ڈی لاہور نے بھی باقاعدہ تفتیش کا آغاز کر دیا ہے اور امکان ہے کہ پنکی کو قانونی کارروائی کے لیے لاہور منتقل کیا جائے گا۔

    دوسری جانب ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی کی عدالت میں پولیس نے ایک نئی رپورٹ جمع کرائی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ یہ گروہ پوش علاقوں اور نجی تعلیمی اداروں میں کم عمر بچوں کو نشانہ بناتا ہے اسکولوں اور کالجوں میں منشیات کا جال پھیلانے کے لیے زیادہ خریداری کرنے والوں کو رعایتی پیکج بھی دیے جاتے تھے عدالت نے اس رپورٹ کو ریکارڈ کا حصہ بنا لیا ہے جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں میں اس نیٹ ورک کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے مزید تفتیش انتہائی ضروری ہے۔

    ادھر کراچی میں تفتیشی حکام کو ملزمہ کے بھائی شوکت کی تلاش ہے جس کا مجرمانہ ریکارڈ حاصل کر لیا گیا ہے اور اس کے خلاف پہلے ہی منشیات فروشی کا مقدمہ درج ہے ملزمہ پنکی کے مبینہ شوہر سابق پولیس افسر رانا اکرام کو بھی اس کیس میں شامل تفتیش کرنے کے لیے طلب کر لیا گیا ہے دوران تفتیش منشیات کی فراہمی کے انتہائی انوکھے طریقے کا بھی پتہ چلا ہے جس کے مطابق یہ 6 رکنی گروہ جس میں ایک خاتون اور پانچ مرد شامل ہیں، گرفتاری سے بچنے کے لیے گاہک سے براہ راست نہیں ملتا تھا-

    پولیس حکام کے مطابق گروہ کا کارندہ کسی سنسان گلی یا مقام کا انتخاب کر کے وہاں پتھر کے نیچے منشیات چھپا دیتا تھا اور پھر خریدار کو اس مقام کی لوکیشن بھیج دی جاتی تھی،پنکی ایک گرام کوکین 15 سے 20 ہزار روپے میں فروخت کرتی تھی جبکہ پنکی منشیات کالین دین آئن لائن کرتی تھی،پولیس اب ملزم ذیشان کے بینک اکاؤنٹس اور آن لائن ڈیٹا کی مدد سے اس پورے گروہ کے دیگر سہولت کاروں تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے۔

    واضح رہے کراچی میں گارڈن پولیس نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے منشیات فروش خاتون انمول عرف پنکی کو گرفتار کیا تھا جب کہ گزشتہ روز پنکی کے بھائی کے خلاف لاہور میں مقدمہ سامنے آیا ہے۔

    لاہور پولیس کا دعویٰ ہے کہ 2022 میں شاداب کالونی میں لگژری گاڑی سے پنکی کا بھائی ملزم ریاض بلوچ منشیات دینے اترا تو پولیس نے قابو کرلیا، اس کے ساتھ موجود اس کی بہن انمول عرف پنکی گاڑی دوڑا کر نکل گئی، پنکی کے بھائی ریاض بلوچ پر لاہور میں 7 جنوری 2022 کو مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

  • انمول عرف پنکی کا 3 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

    انمول عرف پنکی کا 3 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

    ڈی آئی جی ساؤتھ کے مطابق منشیات فروش انمول عرف پنکی کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا گیا ہے، جس کے بعد پولیس نے ملزمہ کو تفتیش کے لیے اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔

    ڈی آئی جی ساؤتھ نے بتایا کہ گزشتہ روز عدالت نے ملزمہ کی جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کردی تھی، ملزمہ کو آج دوبارہ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں پیش کیا گیا،گزشتہ روز عدالت نے ملزمہ کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کر دی تھی، تاہم آج دوبارہ عدالت کے روبرو جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی گئی،انہوں نے کہا کہ عدالت نے دلائل سننے کے بعد ملزمہ کا 3 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا ہے۔ ان کے مطابق انمول عرف پنکی کے خلاف ماضی میں درج مقدما ت کی تفصیلات بھی اکٹھی کر لی گئی ہیں۔

    جسمانی ریمانڈ کی منظوری کے بعد پولیس ملزمہ کو جیل سے لینے کے لیے روانہ ہو گئی ہے۔

    یاد رہے کہ کراچی میں گارڈن پولیس نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے منشیات فروش خاتون کو گرفتار کیا تھا، ملزمہ کے قبضے سے کروڑوں روپے مالیت کی کوکین اور دیگر نشہ آور اشیا برآمد ہوئی تھیں۔

  • کراچی: گل پلازا کے قریب ایک اور مارکیٹ میں آتشزدگی

    کراچی: گل پلازا کے قریب ایک اور مارکیٹ میں آتشزدگی

    کراچی کے مصروف ترین تجارتی علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع ایک اور مارکیٹ میں اچانک آگ بھڑک اٹھی-

    عینی شاہدین اور ریسکیو حکام کے مطابق آگ لگنے کا واقعہ مکی مسجد کے قریب فرنیچر مارکیٹ کی عمارت کے میزنائن فلور پر پیش آیا جہاں بجلی کے میٹر نصب تھےبجلی کے میٹروں میں لگنے والی اس آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے شدت اختیار کر لی اور عمارت کی بیسمنٹ کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا آتشزدگی کی اطلا ع ملتے ہی فائر بریگیڈ کی گاڑیاں موقع پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیوں کا آغاز کر دیا گیا۔

    فائر بریگیڈ حکام کا کہنا ہے کہ جس عمارت میں آگ لگی وہاں بڑی مقدار میں فرنیچر اور دیگر تجارتی سامان موجود ہے جس کی وجہ سے آگ بجھانے کے عمل میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا امدادی ٹیموں نے فوری طور پر عمارت کو خالی کرانے کے لیے آپریشن شروع کیا تاہم ریسکیو ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ خوش قسمتی سے آتشزدگی کے وقت عمارت کے اندر کوئی شخص موجود نہیں تھا جس کے باعث کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    فائر فائٹرز نے عمارت کے بیسمنٹ میں لگی آگ پر قابو پالیا فائر فائٹنگ آپریشن میں سات فائر ٹینڈرز اور دو واٹر باؤذرز نے حصہ لیاعلاقے میں بجلی کی فراہمی معطل کر دی گئی ہے تاکہ امدادی کاموں میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو، پولیس اور رینجرز کی نفری نے بھی جائے وقوعہ پر پہنچ کر سڑک کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا ہے تاکہ فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کو آنے جانے میں آسانی رہے۔

    ابھی تک آگ لگنے کی حتمی وجہ سامنے نہیں آ سکی ہے تاہم ابتدائی طور پر اسے شارٹ سرکٹ کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہےانتظامیہ کا کہنا ہے کہ آگ مکمل طور پر بجھانے کے بعد ہی نقصانات کا درست اندازہ لگایا جا سکے گا اور کولنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد عمارت کے معائنے کی اجازت دی جائے گی۔