Baaghi TV

Tag: پیپلزپارٹی

  • سندھ میں بڑی پیشرفت، پیپلزپارٹی، جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم کے بیک ڈور رابطے

    سندھ میں بڑی پیشرفت، پیپلزپارٹی، جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم کے بیک ڈور رابطے

    سندھ میں بڑی سیاسی پیش رفت، پیپلزپارٹی، جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم کے بیک ڈور رابطے ہوئے ہیں۔

    باغی ٹی وی کے ذرائع کے مطابق مجوزہ میثاق کراچی پرسیاسی جماعتوں کے ساتھ مشاورت ہوئی، گزشتہ دنوں پیپلزپارٹی رہنمائوں نے ادارہ نور حق کا دورہ کیا۔جماعت اسلامی کے ساتھ ملاقات کا یک نکاتی ایجنڈا کراچی تھا، جماعت اسلامی کے ساتھ ملاقات میں میئر کراچی مرتضی وہاب، وزیر بلدیات سعید غنی، وقار مہدی شریک ہوئے۔ذرائع کے مطابق مجوزہ میثاق کراچی پر پیپلزپارٹی کی ایم کیو ایم رہنمائوں سے بھی ملاقات ہوئی ہے، پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم وفود کی ملاقات سندھ اسمبلی چیمبر میں ہوئی۔پیپلز پارٹی کا وفد جلد ہی پی ٹی آئی، اے این پی، جے یو آئی سے بھی رابطے کرے گا، مجوزہ میثاق کراچی میں شہر قائد کے مسائل پر وسیع تر اتفاق رائے کی کوشش کی جائے گی۔انسداد تجاوزات کے خلاف حکومتی گرینڈ آپریشن پر سیاسی جماعتوں سے مشاورت کی گئی، جس پر پی پی وفد نے کہا کہ شہر کی بہتری کے لیے حکومتی اقدامات سیاست کی نذر نہ ہوں۔حکومتی وفد نے کہا کہ مرکزی شاہراہوں کو ٹھیلے، پتھاروں سے صاف کرنا چاہتے ہیں۔

    سیالکوٹ: لیبر ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ورکرز میں ڈیتھ اور میرج گرانٹ کے چیک تقسیم

    پنڈی بھٹیاں: تجاوزات کے خلاف بھرپور آپریشن، بازار کلیئر

    گھوٹکی پولیس کی کامیاب کارروائی، ساتویں جماعت کا مغوی بچہ بازیاب

  • پیپلزپارٹی ارکان کی اکثریت حکومتی اتحاد  سے نکلنے کی رائے دیدی

    پیپلزپارٹی ارکان کی اکثریت حکومتی اتحاد سے نکلنے کی رائے دیدی

    پیپلزپارٹی کے سی ای سی اجلاس میں ارکان کی اکثریت نے فوری طور حکومتی اتحاد سے نکلنے کی رائے دی ہے۔

    باغی ٹی وی کےذرائع کا کہنا ہے کہ ارکان کی اکثریت کے ن لیگ کی حکومت چھوڑنے کے حق میں دلائل دیئے۔ اراکین کی اکثریت چاہتی ہے ن لیگ کے ساتھ اتحاد پیپلز پارٹی کی ساکھ کو تباہ کر رہا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ ارکان کی اکثریت نے فوری طور حکومتی اتحاد سے نکلنے کی رائے دی ہے۔ ن لیگ پی پی کو اہمیت نہیں دیتی تو اتحاد میں رہ کر کیا کریں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ارکان نے سوالات کیے کہ ہم سے نہ ہی مشاورت کی جاتی ہے اور نہ ہی آگاہ کیا جاتا ہے تو ہم کیسے اتحادی ہیں۔ کسی بھی قانون سازی پر اعتماد میں نہیں لیا گیا اور نہ ہی تعیناتیوں سے متعلق رائے لی جاتی ہے۔

    ذرائع کے مطابق اراکین نے کہا کہ اگر اتحاد میں رہے تو عوام میں کیسے جائیں گے، ن لیگ کے ساتھ اتحاد میں رہ کر ان کی غلطیوں میں شریک ہو رہے ہیں، عوام ابھی بھی حکومتی اتحاد سے متعلق ہم سے سوال کرتے ہیں۔

    کرینہ کپور نے سیف کو کیوں چھریاں ماریں؟ہسپتال رپورٹ،مزید سوالات

    ن لیگ کی حمایت،پی ٹی آئی کے جنید اکبر بلا مقابلہ چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی منتخب

    عافیہ صدیقی، حکمرانوں نے غفلت کا مظاہرہ کیا،تابش قیوم

  • پیپلزپارٹی، حکمران جماعت ن لیگ سے ایک بار پھر ناراض

    پیپلزپارٹی، حکمران جماعت ن لیگ سے ایک بار پھر ناراض

    حکومت کی جانب سے یکسر نظر انداز کرنے پر پیپلزپارٹی، ن لیگ سے ایک بار پھر ناراض ہوگئی۔

    پی پی ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی حکومت کی جانب سے یکسر نظر انداز کرنے پر ناراض ہے، قومی اسمبلی میں کورم توڑنے کا مقصد ناراضگی کا اظہار تھا جب کہ پیپلزپارٹی اہم معاملات پر مشاورت نہ ہونے پر شدید برہم ہے۔ حکومت اہم معاملات پر پیپلزپارٹی کو اعتماد میں نہیں لے رہی، دریائے سندھ سے لنک کینال کے معاملے پر مشاورت نہیں ہوئی اور پی ٹی آئی سے مذاکرات پر بھی پیپلزپارٹی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

    پی پی ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی سے مذاکرات شروع کرنے پر پی پی سے مشاورت نہیں ہوئی جب کہ ن لیگ سے زیادہ مذاکرات کا تجربہ رکھنے والی جماعت پیپلزپارٹی ہے لہذا پی ٹی آئی سے مذاکرات پر اعتماد میں لینے پر معاملات زیادہ بہتر ہوتے۔ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ پی پی قیادت پر موجودہ صورت حال میں پارٹی کا شدید دباؤ ہے۔ پیپلزپارٹی کے سینیٹرز اور ایم این ایز شدید بد دلی کا شکار ہیں جب کہ پیپلزپارٹی کی قیادت وزیراعظم سے ملاقات کی خواہش مند ہے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ بلاول بھٹو اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کی خواہش لے کر اسلام آباد پہنچے ہیں، بلاول بھٹو کی رواں ہفتے اسلام آباد میں اہم ملاقاتوں کا امکان ہے۔

    افغانستان سے بڑے پیمانے پر اسلحہ اسمگل کرنے کی کوشش ناکام

    ٹرمپ حلف برداری،روسی صدر کا چینی ہم منصب سےٹیلفونک رابطہ

    بھارتی لابی متحرک، ٹرمپ اور مودی ملاقات اگلے ماہ کروانے کی کوششیں

    امداد کی61 گاڑیوں پر مشتمل قافلہ کرم پہنچ گیا

  • پیپلزپارٹی کا حکومتی پالیسیوں کی کھل کر مخالفت کرنے کا فیصلہ

    پیپلزپارٹی کا حکومتی پالیسیوں کی کھل کر مخالفت کرنے کا فیصلہ

    پاکستان پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے درمیان جنگ مزید شدت اختیار کر گئی.

    پی پی نے حکومتی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے رہنمائوں کو اہم ہدایات جاری کردی ہیں۔ ذرائع سے ملنے والی اطلاع کے مطابق پی پی قیادت نے رہنمائوں کو حکومتی پالیسیوں پر تنقید کی اجازت دے دی ہے اور ہدایت کی ہے کہ آئندہ حکومت کی غلط پالیسیوں پر تنقید کی جائے۔ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی قیادت نے پارٹی رہنماوں کو گائیڈ لائنز دے دی ہیں، وفاق، پنجاب میں حکومت کی غلط پالیسیوں پر کھل کر تنقید ہو گی۔ پارٹی نے قیادت کو حکومتی پالیسیوں پر تحفظات سے آگاہ کیا اور مشورہ دیا تھا کہ حکومتی پالیسیوں پر خاموشی حمایت کے مترادف ہے لہذا اس معاملے پر تنقید کی جائے۔پی پی ذرائع نے بتایا کہ حکومت کی غلط پالیسیوں پر خاموشی سیاسی طور نقصان دہ ہے، حکومت کے غلط کاموں، ناقص پالیسیوں کا نزلہ پی پی پر گرے گا اور پیپلزپارٹی کسی بھی برائی کا ملبہ خود پر گرنے نہیں دے گی۔ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی نے مرکزی، صوبائی رہنماں کو وفاقی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کے حوالے سے اہم ہدایات بھی جاری کردی ہیں۔

    کرم کے کشیدہ علاقوں میں کرفیو نافذ

    وزیر اعلیٰ پنجاب اسکالرشپ پروگرام 100 ارب تک بڑھانے کا اعلان

    کراچی انٹر بورڈ کا اسکروٹنی فیس میں 50 فیصد رعایت کا اعلان

  • پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی

    پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی

    گورنر ہاؤس لاہور میں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی کوآرڈی نیشن کمیٹیوں کا اجلاس ختم ہو گیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق اجلاس میں رحیم یار خان اور ملتان کی ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ کمیٹیوں کی سربراہی پیپلز پارٹی کو دینے اور منتخب ارکان اسمبلی کو مساوی فنڈز دینے پر اتفاق کیا گیا۔ اجلاس کے آغاز میں ہی پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ ن پر دو ٹوک موقف واضح کر دیا، پیپلز پارٹی نے موقف اختیار کیا کہ مسلم لیگ ن اتحادی حکومت کے معاملات کو آگے نہیں بڑھانا چاہتی تو واضح کردے ہم اپنا آئندہ کا لائحہ عمل خود طے کر لیں گے۔دوسری جانب مسلم لیگ ن نے موقف اختیار کیا کہ اجلاس میں مختلف امور پر اتفاق رائے ہو گیا ہے، پیپلز پارٹی کے تحفظات کو دور کر کے ہم معاملات کو آگے بڑھائیں گے۔ذرائع کے مطابق ضلعی سطح پر مختلف کمیٹیوں میں پیپلز پارٹی کو نمائندگی دی جائے گی، پوسٹنگ ٹرانسفر میں پیپلز پارٹی سے مشاورت پر اتفاق کیا گیا۔اجلاس میں کہا گیا کہ گورنر پنجاب اور وزیراعلیٰ کے درمیان کوئی اختلاف نہیں۔گورنر ہاؤس میں ہونیوالے اجلاس میں گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان، پیپلز پارٹی کے رہنما راجہ پرویز اشرف، مخدوم احمد محمود، علی حیدر گیلانی، ندیم افضل چن، حسن مرتضیٰ شریک تھے۔سلم لیگ کی جانب سے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، اعظم نذیر تارڑ، سپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان، سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب اجلاس میں شریک تھے۔

    کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟

    بلاول بھٹو کی مسیحی کمیونٹی کو کرسمس مبارک باد

  • سابق سفیر حسین حقانی کا احتجاج میں ہلاکتوں پر  پی ٹی آئی کے جھوٹ پر مبنی دعووں پر ردعمل

    سابق سفیر حسین حقانی کا احتجاج میں ہلاکتوں پر پی ٹی آئی کے جھوٹ پر مبنی دعووں پر ردعمل

    کراچی:امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی نے احتجاج میں ہلاکتوں پر پی ٹی آئی کے جھوٹ پر مبنی دعووں پر ردعمل دیا ہے-

    باغی ٹی وی : سوشل میڈیا صارف نے لکھا کہ میم بازی، فوٹو سازی، ٹک ٹاک گری – دوسرا دن ہے، دو ٹوک نام، پتہ، شانختی کارڈ نمبر اور تصویر کے ساتھ یہ اپنے مرنے والوں کی کوئی جامع فہرست جاری نہیں کر سکے تو باقی پچیس کروڑ زندوں کو کیسے سنبھالیں گے؟

    جس پر حسین حقانی نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ سانحہ کارساز 2007 میں پیپلزپارٹی کے 180 افراد خالق حقیقی سے جا ملے تھے،پارٹی لیڈر نے سب کے جنازوں میں شرکت کی اور دو دن میں نام ،شناختی کارڈ اور تصویریں جمع کر لیں،پیپلز پارٹی کے پاس اس وقت کوئی صوبائی حکومت بھی نا تھی-
    ppp
    واضح رہے کہ آج سے 16 سال قبل 18 اکتوبر 2007 کو پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن اور ملک کی پہلی خاتون وزیراعظم سندھ کی بیٹی بےنظیر بھٹو آٹھ سال کی طویل خودساختہ جلا وطنی کی زندگی گزارنے کے بعد جب 18 اکتوبر کو دوپہر ایک بج کر 45 منٹ پر کراچی پہنچیں تو ان کے استقبال کے لیے ملک بھر سے آنے والے لوگوں کا اتنا بڑا جلوس تھا کہ انہیں کراچی ایئرپورٹ سے کارساز تک پہنچنے میں 10 سے زائد گھنٹے لگے۔

    جب ان کا جلوس شاہراہ فیصل پر کارساز پل کے قریب پہنچا تو یکے بعد دیگرے دو دھماکے ہوئے، جن میں 180 سے زائد لوگ مارے گئے جبکہ 500 سے زائد زخمی ہوئے لاشوں اور زخمیوں کو کراچی کے مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا،شام کے وقت کارساز کے قریب محترمہ بے نظیر بھٹو کے ٹرک کے انتہائی نزدیک یکے بعد دیگرے دو زور دار دھماکے ہوئےہر طرف لاشیں اور انسانی اعضا بکھر گئے،اٹھارہ اکتوبر2007 کا سانحہ کار ساز اس وقت تک کی سب سے بڑی دہشت گردی تھی جس میں 170 افراد ہلاک ہوئے جن کی اکثریت سندھ سے تعلق رکھنے والوں کی تھی۔

    حسین حقانی 2008ء سے 2011ء تک امریکا میں پاکستان کے سفیر رہے،یوسف رضا گیلانی نے انہیں سفیر مقرر کیاسیاسی کردار کا آغاز اسلامی جماعت طلبہ، جامع کراچی، کے صدر کے طور پر کیا بعد میں صحافت سے وابستہ رہے امریکی جامعہ میں استاد بھی رہے 2011 میں ان پر پاکستان کے فوجی سربراہان کے خلاف صدر آصف علی زرداری کی طرف سے امریکی ایڈمرل ملن سے مدد مانگنے کا پیغام بھیجنے کا الزام لگا جس پر ان سے استعفی لے لیا گیا۔

  • احتجاج اور انتشار میں تفریق کرنی ہو گی، سحر کامران

    احتجاج اور انتشار میں تفریق کرنی ہو گی، سحر کامران

    پیپلز پارٹی کی رہنما سحر کامران نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کا مؤقف ہمیشہ سے واضح ہے، احتجاج بنیادی جمہوری حق ہے لیکن احتجاج اور انتشار میں تفریق کرنی ہو گی،الجہاد کے نعرے الارمنگ ہیں، احتجاج کو احتجاج رہنا چاہئے، اجازت لیں اور پرامن احتجاج کریں، اپنے سپورٹر کویقین دلائیں کہ پرامن احتجاج ہو گالیکن جو الجہاد کے نعرے لگ رہے ہیں احتجاج کے نام پر ،یہ صورتحال صحیح نہیں ہے،ایک طرف جہاد کے نعرے،اس طرح کی صورتحال میں کھل کر بات کرنی چاہئے، ہم سب پاکستانی ہیں، سب کو امن عزیز ہے، سب کو ذمہ دار شہری کا کردار ادا کرنا ہے، بیلا روس کے وفد نے پاکستان کا دورہ کرنا ہے، مذاکرات ،بات چیت اور مفاہمت سے ہی معاملات سلجھتے ہیں ، تحریک انصاف کو اپنے رویئے میں اعتدال اور بہتری لانے کی ضرورت ہے، اگر سیاسی جماعتوں کو سائیڈ پر رکھ کر کہیں کہ اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کریں گے تو یہ درست نہیں، عمران خان کی حکومت میں پارلیمان چلتا رہا، طریقہ کار یہی ہے کہ دلوں میں وسعت پیدا کریں، تنگی،انتشار نکال دیں،میرے علم میں مذاکرات کے بارے میں کچھ نہیں ہے، گفتگو، بات چیت یہ آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے، پارلیمنٹ میں تحریک انصاف سمیت سب جماعتیں ساتھ بیٹھتی ہیں،گفتگو کرتے ہیں، کچھ چیزوں پر اتفاق ہوتا ہے، یہ واحد راستہ ہے، الجہاد کے نعرے لگانے کا کوئی فائدہ نہیں

    واضح رہے کہ تحریک انصاف نے 24 نومبر کو احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے، اور حکومت سے اجازت نہیں لی، بشریٰ بی بی متحرک ہیں تو وہیں علی امین گنڈا پور بھی سرکاری وسائل ایک بار پھر احتجاج میں جھونکنے کے لئے تیار ہیں.

    کم عمری کی شادیاں بچوں کو ذہنی اور جسمانی نقصان پہنچاتی ہیں،سحر کامران

    پیپلز پارٹی کسانوں ،محنت کشوں کے حقوق کا تحفظ کر رہی ہے،سحر کامران

    ایوان میں وزرا کی مسلسل غیر حاضری،غلط جوابات،سحر کامران پھٹ پڑیں

    پاک عراق پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کا سحرکامران کی زیر صدارت اجلاس

    پاکستان اور روس کے کثیرالجہتی تعلقات مثبت راستے پر گامزن ہیں: سحرکامران

  • بلاول سے ملاقات کے بعد منظور وٹو خاندان   ایک بار پھر پیپلز پارٹی میں شامل

    بلاول سے ملاقات کے بعد منظور وٹو خاندان ایک بار پھر پیپلز پارٹی میں شامل

    لاہور:چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو سے ملاقات کے بعد منظور وٹو خاندان سمیت ایک بار پھر پی پی پی میں شامل ہو گیا ہے

    منظور وٹو کی پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری سے ملاقات ہوئی ہے، اس موقع پر انہوں نے خاندان سمیت پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا،سابق اراکین قومی اسمبلی خرم وٹو اور روبینہ شاہین وٹو بھی پی پی پی میں شامل ہو گئے ہیں، سابق رکن پنجاب اسمبلی معظم وٹو، جہاں آراء وٹو اور آمنہ قصوری بھی پی پی پی میں شامل ہو گئے ہیں

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وٹو فیملی کو پاکستان پیپلزپارٹی میں شمولیت پر خوش آمدید کہا،اس موقع پر راجہ پرویز اشرف، حسن مرتضی، شہزاد سعید چیمہ اور چوہدری سجاد الحسن موجود تھے

    دوسری جانب پیپلز پارٹی شعبہ خواتین کی مرکزی صدر و ایم پی اے فریال تالپور سے روبینہ خالد اور سعدیہ دانش کی ملاقات ہوئی ہے،فریال تالپور سے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی نئی سربراہ روبینہ خالد نے کراچی میں ملاقات کی،فریال تالپور سے روبینہ خالد نے اہم ذمہ داری کے لیے اعتماد پر قیادت کا شکریہ ادا کیا ،فریال تالپور سے گلگت بلتستان قانونساز اسمبلی کی پہلی منتتخب خاتون ڈپٹی اسپیکر سعدیہ دانش نے بھی ملاقات کی ،فریال تالپور سے ملاقات کے دوران سعدیہ دانش نے گلگت بلتستان کی سیاسی صورتحال پر بریفنگ دی ،فریال تالپور کا کہنا تھا کہ خواتین کا قائدانہ عہدوں پر فائز ہونے سے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا خواب حقیقت میں بدلتا ہوا نظر آرہا ہے،چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پاکستانی خواتین کی معاشی خودمختاری اور بھبود و ترقی کے لیے پرعزم ہیں،صدر مملکت آصف علی زرداری کا ویژن خواتین کے حقوق کا تحفظ اور معاشرے سے صنفی امتیاز کا خاتمہ ہے.

    لاہور ہائیکورٹ نے طلبا کو الیکٹرک بائیکس تقسیم کرنے سے روک دیا

    مریم نواز کا آٹھ سو کا سوٹ،لاہوری صحافی نے عظمیٰ بخاری سے مدد مانگ لی

    مریم نواز تو شجر کاری مہم بھی کارپٹ پر واک کرکے کرتی ہے،بیرسٹر سیف

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    مہنگائی،غربت،عید کے کپڑے مانگنے پر باپ نے بیٹی کی جان لے لی

    پسند کی شادی کیلئے شوہر،وطن ،مذہب چھوڑنے والی سیماحیدر بھارت میں بنی تشدد کا نشانہ

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

  • نواز لیگ کی حکومت کے ساتھ اتحاد میں نہیں ہیں،مرادعلی شاہ

    نواز لیگ کی حکومت کے ساتھ اتحاد میں نہیں ہیں،مرادعلی شاہ

    کراچی:وزیراعلیٰ سندھ سید مرادعلی شاہ نے کراچی میں امن و امان کی موجودہ صورتحال کا ذمہ دار نگران حکومت کو قرار دے دیا۔

    باغی ٹی وی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نےمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نگران حکومت کی وجہ سے کراچی کا امن بگڑا، انتخابات کے دوران کچے کے حالات خراب ہوئے، سندھ میں پیپلزپارٹی کی 15 سال کی حکومت کے دوران ہم نے کچے کے حالات بھی بہتر کئے،نواز لیگ کی حکومت کے ساتھ اتحاد میں نہیں بلکہ ان کی حمایت کرتے ہیں، بانی پی ٹی آئی نے 9 مئی کا واقعہ کرایا، جس کی وجہ سے پوری دنیا میں پاکستان کی بدنامی ہوئی۔

    قبل ازیں گورنرسندھ کامران ٹیسوری کا کہنا تھا کہ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) پاکستان کا مستقبل ہے جس سے شایدکچے، پکے کے ڈاکو پریشان ہیں،کراچی کا امن و امان ایس آئی ایف سی اپنےکنٹرول مین لے لے کیونکہ کراچی کا امن پورے ملک کی معیشت لے کر چلے گاا پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں کو دعوت ہے امن کیلئے معاہدہ کریں، ایسا معاہدہ جس سے لوگوں کی جان مال روزگار کا تحفظ ہو، آئیں سندھ کو مثالی صوبہ بنانے کیلئے مل کر کام کرتے ہیں، جس کے پاس جانا ہو چل کرجانے کو تیار ہوں۔

    درگاہ شاہ نورانی جانے والا زائرین سے بھرا ٹرک کھائی میں جاگرا،11 افراد جاں بحق

    وزیراعظم کا بحرینی فرمانروا اور ملائیشین وزیر اعظم سے ٹیلیفونک رابطہ،دورہ پاکستان کی دعوت

    6 ججوں کے خط پر ازخود نوٹس کی پہلی سماعت کا تحریری حکم نامہ …

  • ضمنی انتخابات :ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان  مشاورت کا عمل مکمل

    ضمنی انتخابات :ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان مشاورت کا عمل مکمل

    لاہو: مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان ضمنی انتخابات کے حوالے سے مشاورت کا عمل مکمل ہوگیا –

    پنجاب میں 21 اپریل کو قومی اسمبلی کے دو اور صوبائی اسمبلی کے 14 حلقوں میں ضمنی انتخاب ہوں گے ، پیپلز پارٹی نے پنجاب اسمبلی کی دو اور قومی اسمبلی کی ایک نشست کے علاوہ تمام حلقوں میں مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں کو سپورٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی این اے 148، پی پی 266 اور پی پی 268 میں اپنے امیدوار میدان میں اتارے گی، جبکہ ن لیگ پیپلز پارٹی کو صرف یوسف رضا گیلانی کی خالی کردہ نشست این اے 124 پر سپورٹ کرے گی پیپلز پارٹی ن لیگ کو این اے 148، پی پی 266 اور پی پی 268 کےعلاوہ تمام حلقوں میں سپورٹ کرے گی، این اے 148 سے پیپلز پارٹی کے سید علی قاسم گیلانی، پی پی 266 سے علمدار قریشی اور پی پی 268 سے ممتاز چانگ میدان میں اترے ہیں، تعاون کے بدلے مسلم لیگ (ن) یوسف رضا گیلانی کی خالی کردہ نشست پر پیپلز پارٹی کے امیدوار کو سپورٹ کرے گی۔