پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی نے کہا ہے کہ پاکستان سپر لیگ کے اختتام کے بعد ملتان سلطانز کی نیلامی کی جائے گی تاکہ فرنچائز کے مستقبل سے متعلق معاملات کو حتمی شکل دی جا سکے۔
محسن نقوی نے کہا کہ رواں سال ملتان سلطانز کو پی سی بی خود آپریٹ کرے گا جبکہ فرنچائز کے ہیڈ کے نام کا اعلان آئندہ 8 سے 10 دن میں کر دیا جائے گاپاکستان سپر لیگ کے اختتام کے بعد ملتان سلطانز کی نیلامی کی جائے گی تاکہ فرنچائز کے مستقبل سے متعلق معاملات کو حتمی شکل دی جا سکے۔
یکم جنوری سے اسلام آباد میں بغیر ایم ٹیگ گاڑیوں کے داخلے پر پابندی ،محسن نقوی
محسن نقوی کے مطابق پی ایس ایل میں دو نئی ٹیموں کی شمولیت کیلئے 10 پارٹیوں نے بڈنگ کے مرحلے کیلئے کوالیفائی کر لیا ہے جبکہ 8 جنوری کو دو نئی ٹیموں کو فروخت کیا جائے گاعلی ترین اگر چاہیں تو پی ایس ایل کی نئی ٹیم خرید سکتے ہیں چیئرمین پی سی بی نے واضح کیا کہ جب نئی ٹیموں کے مالکان سامنے آ جائیں گے تب لیگ کی تاریخ کا حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
محسن نقوی نے کہاکہ جنوری پی سی بی کے لیے اہم مہینہ ہے، اور توقع ہے کہ ٹیمیں اچھی فروخت ہوں گی، نیوز چینلز سے درخواست کریں گے کہ وہ اس کھیل کے ایونٹس کی مکمل کوریج کریں۔ پاکستان کرکٹ اکیڈمی کو ریجن کی بہترین اکیڈمی بنانے کا ہدف ہے اور پاکستان شاہینز کو بھی مضبوط بنایا جائے گا،ریڈ بال ٹیم کے کوچ کا فیصلہ ابھی باقی ہے اور ٹیم اس پر کام کر رہی ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ سابق کپتان وسیم اکرم کو پاکستان سپر لیگ کا برانڈ ایمبیسیڈر مقرر کیا گیا ہے جو لیگ کیلئے فعال کردار ادا کریں گے،پی ایس ایل کو 26 مارچ کے بجائے 23 مارچ سے شروع کرنے کی تجویز ہے، اور تمام فرنچائزز کی رضامندی کی صورت میں یہی تاریخ فائنل کی جائے گی۔
کابل، طالبان انٹیلی جنس چیف کے معاون دھماکے میں ہلاک
چیئرمین پی سی بی نے بتایا کہ انڈر 19 اور شاہینز ٹیم پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ نوجوان کھلاڑیوں کو مستقبل کی بین الاقوامی کرکٹ کیلئے تیار کیا جا سکے کھلاڑیوں کے میڈیکل معاملات کیلئے بیرون ملک سے ڈاکٹر بلائے گئے ہیں، جبکہ انڈر 19 کرکٹرز کو پی سی بی خود سپورٹ کرے گا اور انہیں وظیفہ بھی دیا جائے گا۔
محسن نقوی نے بھارت کے ساتھ ہونے والے کسی بھی مقابلے سے متعلق واضح کیا کہ سب کچھ برابری کی سطح پر ہوگااگر بھارتی ٹیم ہاتھ ملانے سے گریز کرتی ہے تو پاکستان کی طرف سے بھی اس میں کوئی دلچسپی نہیں،ھارتی انڈر 19 ٹیم کے رویے پر آئی سی سی سے رابطہ کیا جائے گا اور اس حوالے سے آئی سی سی کو خط لکھا جا رہا ہے۔







